Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 06)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 06)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“آج تو میں اِس کو چھوڑوں گی نہیں۔۔۔دیبا نے جب کمرے سے فاحا کو باہر نکلتا دیکھا تو وہ جلدی سے سیڑھیوں پر تیل گِرانے لگی تھی”تاکہ اُس کا پاؤ پھسل جائے جب سے اُس کو فاحا کے ماں بننے کا پتا لگا تھا تب سے وہ جیسے انگاروں پر لوٹ رہی تھی”سکون تو پہلے بھی اُس کی زندگی میں نہیں تھا لیکن اب وہ کسی اور کا بھی سکون تباہ کرنے کے چکروں میں تھی۔۔”ابھی بھی وہ جلدی سے اپنی کاروائی سے فارغ ہوتی پلر کے پاس جاکر چُھپ گئ تاکہ گرتی فاحا کی نڈھال حالت وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ پائے
“پتا نہیں اِن کو گھر میں ٹِکنا کیوں نہیں آتا؟”اِتنی بڑی حویلی ہے مگر مجال ہے جو شام سے پہلے حویلی میں آنے کی اُن کو توفیق ہوئی ہو۔۔”بھلا بندہ پوچھے حویلی میں کم سن جوان خوبصورت بیوی”ساتھ میں جو پریگننٹ بھی ہو اور ایک اہم بات جو معصوم بھی ہو اُس کو بھلا کون کافر یوں اکیلا چھوڑتا ہے۔۔فاحا اپنے کمرے کا دروازہ بند کرتی سیڑھیوں کی طرف آتی خود سے باتیں کرنے میں مگن تھی”اور دور کھڑی دیبا کی نظریں بس اُس کے قدموں پر تھی جو جانے کب پھسلن کا شکار ہوتے”وہ جو چاہتی تھی اُس کو ہونے میں ابھی بس تھوڑا وقت بچا تھا کیونکہ فاحا قدم بقدم چلتی ہوئی اُن دو سیڑھیوں کے بیحد نزدیک تھی”لیکن اُن کے پاس پہنچ کر وہ ہوا جو دیبا کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا خود سے باتیں کرتی فاحا نے اُن دو سیڑھیوں کو اپنا ایک بھی پاؤ رکھے بنا پھلانگ لیا تھا کیونکہ وہ اکثر ایسا کرتی تھی وہ اپنا پاؤ ایک ایک سیڑھی پر رکھ کر نہیں تھی چلتی بلکہ درمیاں میں دو سے تین کو پھلانگ لیا کرتی تھی یہ اُس کی عادت میں شُمار تھا جو پریگننٹ بننے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی تھی اور اب ارد گرد نگاہ ڈالے بنا وہ باورچی خانے میں چلی گئ تھی جبکہ دیبا ابھی تک ہونک بنی کھڑی تھی اُس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ بھی ہوسکتا تھا یا ہوچُکا ہے”اُس کو خود پر بھی تاؤ آیا کہ آخر بس دو سیڑھیوں پر تیل کیوں گِرایا ساری سیڑھیوں پر گِراتی تو اچھا تھا پر اُس نے ایسا اِس لیے کیا تاکہ کسی کو شک نہ ہو
“اِس سے زیادہ کم عمر دوشیزہ اسیر کو نہیں تھی ملی۔۔فاحا کی ایسی پچکانہ حرکت نے دیبا کو نئے حسد میں ڈالا تھا”اور ابھی وہ دوسرا منصوبہ بنانے میں لگی ہوئی تھی جب ایک چیخ نے اُس کا دھیان اپنی طرف کھینچا تھا جس پر اُس کی نظریں خودبخود سیڑھیوں کی طرف گئ جہاں نورجہاں بیگم اپنے دونوں پاؤ پر ہاتھ رکھے واویلہ مچانے میں لگی ہوئیں تھیں کیونکہ اُس نے جو جال بِچھایا تھا اُس میں فاحا تو نہیں البتہ دیبا کی اپنی ماں ضرور پھسی تھی
“امی آپ ٹھیک ہو؟دیبا جلدی سے اُس کی طرف لپکی تھی اور شور پر فاحا بھی باورچی خانے سے باہر نکلی تھی
“ارے کہاں رے جانے کس نے سیڑھیوں پر تیل گِرایا تھا میری تو ٹانگیں ٹوٹ گئ ہیں۔۔نورجہاں بیگم نے کہا تو فاحا نے چونکتے ہوئے سیڑھیوں کو دیکھا تھا پھر بے ساختہ اُس کی چھٹی حس بیدار ہوئی تھی اور اُس نے جانچتی نظروں سے دیبا کو دیکھا جس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا۔”یکایک فاحا کا ہاتھ اپنے پیٹ پر پڑا تھا اور وہ جیسے دیبا کا سارا کھیل سمجھ گئ تھی جس پر اُس کی آنکھوں میں جیسے کسی نے مرچیں چُھبی تھیں اپنی نفرت میں اور حسد میں دیبا اِس قدر آگے بڑھ جائے گی جو اُس کے وجود میں پلتے معصوم سے بچے کو مارنے کے در پہ تھی جو ابھی اِس دُنیا میں آیا تک نہیں تھا اور اُس کو ختم کرنے کی سازشیں ہورہی تھیں”لیکن وہ شاید بھول رہی تھی کہ جو عورت اپنے وجود میں پلتے بچے کو مارنے کی کوشش کرسکتی تھی تو کسی اور کا بچہ اُس کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہوگا؟”وہ تو دیبا کے لیے بس ایک چیونٹی ہوگا جس کو وہ جب چاہے اپنے پاؤ کے نیچے مسل سکتی تھی۔
“یہ کریڈٹ آپ اپنی بیٹی کو دے جس نے اسٹار پلس کے ڈراموں سے انسپائر ہوکر اُن کو بہت ہی سیریسلی لے لیا ہے۔۔فاحا نے قدرے اُونچی آواز میں کہا تھا حویلی کے ہال میں سب افراد آہستہ آہستہ جمع ہوتے گئے تھے”ہر کوئی معاملہ سمجھنے کی کوشش میں تھا۔۔”صنم بیگم نے نورجہاں بیگم کو گِرا ہوا دیکھا تو مدد کرنے کی نیت سے جلدی میں اُن کی طرف بڑھی تھی
“مطلب کیا ہے تمہارا ہاں؟دیبا نے اُس کا بازو سختی سے دبوچا تھا
“ہاتھ مت لگاؤ مجھے ورنہ میں تمہارے ہاتھ توڑ دوں گی”تمہیں کیا لگتا ہے یہ ایسی اسٹوپڈ سی فلمی کوششیں کروں گی”مجھے اور میرے بچے کو مارنے کی پلاننگ کروں گی اور اُس میں کامیاب بھی ہوجاؤ گی کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا تو تمہاری سب سے بڑی بھول ہے”تم نے مجھے بہت ایزی لیکر اپنے ساتھ بُرا کیا ہے۔۔فاحا اُس کا ہاتھ جھٹک کر پل بھر میں”آپ سے تم تک آ پہنچی تھی اور اُس کے یہ الفاظ حویلی میں داخل ہوتے اسیر نے بھی سُنے تھے۔
“فاحا بچے یہ آپ کیا بول رہی ہیں؟عروج بیگم سکتے میں آگئ تھی۔
“وہی جو سچ ہے یہاں حویلی میں فاحا اور اُس کے بچے کو نقصان پہچانے کی کوشش کی گئ ہے”میں نے اپنی بہنوں کے ساتھ ایک صاف زندگی گُزاری ہے جس میں یہ میلو ڈرامہ نہیں ہوتا اور نہ ایسی سازشوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے”پر آج تو میری قسمت اچھی تھی جو میں بچ گئ تھی نہیں تو کسی اور نے تو کچھ اور سوچا ہوا تھا۔۔فاحا کے بات کرنے کا انداز آج یکسر مختلف تھا”وہ بے لچک انداز میں نڈر ہوکر بول رہی تھی۔
“ہم نے چچا جان کی وجہ سے اور دادو آپ کی وجہ سے دیبا کو یہاں رہنے دیا تھا لیکن اِس حویلی میں اب اِس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔اسیر سنجیدگی سے بولا تو اُس کی آواز پر سب کی نظر اُس پر پڑی جو چہرے پر احساس سے عاری تاثرات سجائے کھڑا تھا
” تم مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتے کیونکہ یہ حویلی بس تمہاری نہیں ہے۔۔دیبا اُس کی بات پر بھڑک اُٹھی
“سہی ہے یہاں جو رہتا ہے رہے لیکن تم نہیں رہو گی اور اگر تم رہو گی تو فاحا یہاں ایک منٹ نہیں رہے گی وہ شہر چلی جائے گی۔۔فاحا جلدی ایک نتیجے پر پہنچ کر بولی
“کیا آپ کا دماغ سہی ہے؟اسیر نے اُس کو گھورا
“جس نے جو جیسا سمجھنا ہے وہ سمجھے فاحا کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن آج مجھے اور میرے بچے کو نقصان پہچاننے کی کوشش کی گئ ہے اور میں اپنے بچے پر کسی کی ایک آنچ بھی برداشت نہیں کروں گی۔”اور نہ یہاں رہ کر ایسا کوئی رسک لوں گی۔۔فاحا دو ٹوک انداز میں بولی تھی
“دروازہ کھولا ہوا ہے پھر جاؤ دیر مت کرو۔۔دیبا نے طنز نظروں سے اُس کو دیکھا
“جائے گی فاحا بلکل جائے گی لیکن اکیلے نہیں اقدس کو ساتھ لے جائے گی۔۔فاحا نے ایک اور دھماکا کیا
“وہ تمہاری نہیں میری بیٹی ہے۔۔۔دیبا نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا
“یہاں سے آپ نہیں جاؤ گی آپ اپنے کمرے میں جاؤ ہم آتے ہیں۔۔اسیر نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا
“فاحا جارہی ہے اپنے کمرے میں لیکن آپ کمرے میں تب تک نہ آنا جب تک اِس کو حویلی سے باہر نہ نکال لے۔۔۔فاحا اُس کو وارن کرتی احتیاط سے سیڑھیاں چڑھتی جانے لگی تھی”لیکن سب کے سامنے خود پر فاحا کا روعب اُس کو کچھ ہضم نہیں ہوا تھا۔”آج تو فاحا کے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے تھے لیکن جو بھی تھا اُس کا حق جتانے والا انداز اسیر کو بہت پسند آیا تھا۔
“میری بیٹی یہاں سے کہی نہیں جائے گی۔۔نورجہاں بیگم کو اب صوفے پر بیٹھایا گیا تھا جب اُن کی حالت تھوڑی سنبھلی تو وہ سنجیدگی سے بولی
“چچا جان نے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ یہاں سے چلے جائینگے لیکن اب لگتا ہے ہمیں اُن سے بات کرلینی چاہیے تاکہ وہ کوئی فیصلہ جلدی لے پائے۔۔اسیر اُن کی بات پر سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں بولا
“لو دیکھ لیا سب نے وہ منحوس فاحا تو آئی ہی حویلی کو توڑنے تھی اور اپنی کوششوں میں وہ کامیاب بھی ہوگئ اور مجھے حیرت تو تم پر ہوئی ہے”وہ ابھی ماں بنی نہیں اور یہاں تم پہلے ہی اُس کے جوڑوں کے غلام بن گئے ہو۔۔”واہ۔۔۔۔دیبا کا انداز تمسخر اُڑاتا ہوا تھا
“کون کیا ہے وہ ہمیں تم سے زیادہ پتا ہے اور ابھی اِتنا بول لیا ہے اب بس اپنا سامان باندھوں اور یہاں سے جانے کی تیاری پکڑو۔۔اسیر اُس کو دیکھ کر جواباً طنز بولا تھا
“اسیر تمہیں چاہیے فاحا کو سمجھاؤ وہ تو بچی ہے تم کیوں اُس کے ساتھ بچے بن رہے ہو؟صنم بیگم کو یہ سب سہی نہیں لگ رہا تھا
“وہ بچی نہیں ہے چچی ہمارے بچے کی ماں بننے والی ہے اور آج اُس نے کہا وہ دوبارہ بھی ہوسکتا ہے”اور اب فاحا تو کیا یہ رسک ہم بھی لینا نہیں چاہینگے کیونکہ جو آج ہوا ہے وہ کل بھی ہوسکتا ہے۔۔اسیر نے صنم بیگم کو دیکھ کر سنجیدہ انداز میں کہا تو وہ چُپ سی ہوگئیں تھیں
” تم بہت غلط کررہے ہو۔۔نورجہاں بیگم نے اُس کو باز رکھنا چاہا
“ہم جو کررہے ہیں وہ بلکل سہی ہے۔۔اسیر نے اُن کی بات پر فوری کہا تھا
“فاروق اور نوریز کو آنے دو پہلے پھر مل بیٹھ کر بات ہوگی۔۔۔عروج بیگم نے سنجیدگی سے کہا
“آپ کا یہ پوتا یہاں سے ایک ایک کو باہر کرے گا اور خود اِس حویلی پر راج کرنا چاہتا ہے۔۔نورجہاں بیگم نے اپنی بھڑاس نکالنی شروع کردی
“ہمیں اِس حویلی پر راج کرنے کا کوئی شوق نہیں” کوئی اگر حویلی کا بٹوارہ کرنا بھی چاہے گا تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔اسیر نے نورجہاں بیگم سے کہا
“اچھا یہاں اگر اپنے چچا کو بھی باہر کروگے تو یہاں بچے گا کون؟”تم اور نوریز بھائی صاحب؟”تمہارا باپ اور بھائی نے تو جو بویا وہ کاٹا ماں تمہاری بھی کسی سے کم نہ تھی وہ بھی چل بسی تو جو یہاں موجود ہیں اُن کو تو رہنے دو کیا اُن کو بھی باہر کرکے خود اکیلا تنہا رہ لو گے؟”کیا گارنٹی ہے تمہاری بیوی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ اِس حویلی کا وارث ہوگا؟وہ بیٹی بھی تو ہوسکتی ہے۔۔۔نورجہاں بیگم لنگڑا کر چلتی اُس پر حقیقت کھولنے لگی جو بے تاثر ہوکر اسیر سُنتا گیا تھا۔
“آپ کو ہماری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔اسیر نے جواب میں بس اِتنا کہا تھا کیونکہ وہ بحث کو طویل نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“ہم تو یہاں سے چلے جائینگے پر سوچا ہے تیرے بعد تیری اِس حویلی کا اور اِس گاؤں کا کیا ہوگا؟”کیونکہ تم ظاہر نہ بھی کرو تو پتا چلتا ہے کسی مرد کی ضرورت تمہیں بھی ہے۔۔نورجہاں بیگم کا انداز طنز سے بھرپور تھا
“اللہ نے چاہا تو سب بہتر ہوجائے گا۔۔۔”اور ہمارا اگر کوئی بیٹا ہوا تو وہ اِس حویلی اور گاؤں کو ٹھیک ویسے سنبھالے گا جیسا ہم نے سنبھالا ہے۔۔اسیر نے مضبوط لہجے میں کہا
“دیکھتے ہیں کہ تمہارا بیٹا ہوگا بھی کہ نہیں اور اگر ہوگا بھی تو کیا وہ تمہاری اُمیدوں پر پورا اُترے گا۔۔۔۔نورجہاں بیگم نے چیلنج کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“امی چلے یہاں سے دیوار پر سر پھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔دیبا نے سرجھٹک کر کہتے اُن کو سہارا دینے کے لیے آگے آئی
“اسیر آپ ہمارے کمرے میں آنا ضروری بات کرنی ہے۔۔عروج بیگم نے اسیر کو دیکھ کر کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ
“جی آپ نے کوئی بات کرنی تھی۔۔اسیر اُن کے کمرے میں داخل ہوکر بولا
“بیٹھو۔۔۔عروج بیگم نے اُس کو بیٹھنے کا بولا تو وہ بیٹھ گیا
“کچھ پریشان سی ہیں آپ؟اسیر نے بغور اُن کے تاثرات جانچے
“دیکھو اسیر اب ہم اپنی زندگی کے آخری مراحل پر ہیں۔۔عروج بیگم نے تہمید باندھنا شروع کی
“اللہ آپ کو لمبی زندگی دے ایسی باتیں نہ کریں۔۔اسیر اُن کی بات سن کر نرمی سے بولا
“موت برحق ہے بیٹا خیر ابھی ہم آپ سے کچھ اور کہنا چاہ رہے تھے”دیکھو اسیر نذیر جو تھا جیسا تھا پر آپ کا چھوٹا بھائی تھا اور اب اُس کی موت کے بعد آپ کا فرض ہے کہ اُس کے بچوں کی کفالت کرے۔۔۔عروج بیگم کی بات پر اسیر نے اُلجھن زدہ نظروں سے اُن کو دیکھا
“نزیز کی بیوی بچوں سمیت یہاں سے کب کا جاچُکی ہے اور یقین کرے وہ اگر حویلی میں نزیر کی بیوہ بن کر رہتی تو ہم اُن کا خیال ہر لحاظ سے کرتے۔۔اسیر کو جو بات سمجھ آئی وہ اُس نے کی
“اسیر نذیر کے دو بیٹے ہیں”پانچ سالہ وزیر اور تین سالہ ہادی اِن دونوں کو آپ حویلی میں لائے ضروری نہیں کہ ہانیہ(نذیر کی بیوی) اپنے شوہر کی موت کے بعد زندگی کو جینا چھوڑدے وہ ابھی جوان ہے اگر دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تو یہ اُس کا حق ہے پر دو بچوں سمیت یہ ناممکن ہے آپ شہر جاؤ اُس سے بات کرو اگر وہ بچوں سمیت یہاں آتی ہے واپس تو سہی ہے پر وہ دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تو سہی ہے وزیر اور ہادی کو ہمارے حوالے کرے دیکھو اسیر بات کو سمجھو جیسے حالات بن گئے ہیں ایسے میں کل تمہیں یہی بچے تمہارے کام آئے گے ہوسکتا ہے تمہاری بیٹی پیدا ہو اِس بار بھی لیکن حویلی کو دیکھنے والا تو مرد ہوگا نہ تمہارے کاموں میں بڑھ چڑھ کر تو لڑکے آئے گے نہ بیٹیاں تو باہر کے کاموں میں نہیں آئے گی۔۔۔عروج بیگم جانے کیا اُس کو باور کروانا چاہتیں تھیں
“تو آپ نے خود سے یہ فرض کرلیا ہے کہ ہمیں کبھی بیٹا نہیں ہوگا تو ہم بتادے بیٹے کی چاہ ہمیں ہے بھی نہیں”خُدا دے گا تو اُن کا شکرادا کرے گے”اگر نہ دے گا تو بھی اُن کا شکرادا کرنا بنتا ہے کیونکہ وہ خُدا ہے اُس کی شان اُس کی قدرت بہت بڑی ہے اور اُس کے کاموں میں مصلحت چُھپی ہوتی ہے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے جواباً کہا
“ہمیں غلط مت سمجھو ہم بس یہاں نذیر کی اولاد کو دیکھنا چاہتے ہیں آپ کے بھتیجے ہوگے وہ کوئی غیر نہیں۔۔عروج بیگم نے جیسے وضاحت دی
“ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہمیں پتا ہے یہاں اُن کا حق ہے اور اللہ نے ہمیں ایسا نہیں بنایا کہ ہم یتیموں کا حق کھائے”آپ جو چاہتی ہیں ویسا ہوگا لیکن ایک بات کے بارے میں آپ ضرور سوچئیے گا وہ ابھی چھوٹے بچے ہیں اگر اُن کو ہم یہاں لائے گے تو اُن کی زمیداری فاحا پر آجائے گی دادو وہ خود اکیس بائیس سال کی کم عمر بچی ہے چلے مان لیا ایک لڑکی کی عمر اکیس سال بہت ہوتی ہے پر فاحا کو اُن کی بہنوں نے کبھی اِتنا بڑا ہونے نہیں دیا اُس کو بہت لاڈ سے پالا ہے جس وجہ سے بچپنا اُس میں ابھی تک ہے اور سب سے بڑی بات وہ پریگننٹ ہے ہم اُس پر ڈبل سے ٹرپل ذمیداریاں نہیں ڈال سکتے وہ اگر اففف بھی نہیں کہتی تو ہم اُس کی خاموشی کا ناجائز فائدہ کبھی نہیں اُٹھائے گے آپ ایک بار سوچ لے پھر ہمیں بتائیے گا پھر ہم ہانیہ سے بات کرکے وزیر اور ہادی کو حویلی میں لائے گے اُن کو وہ سب دیا جائے گا جو وہ ڈیزرو کرتے ہیں بشرطیکہ یہ کہ اُن کی ماں اُن کے ساتھ ہو ماں نہیں تو آیا ساتھ ہو کیونکہ فاحا یہاں آیاگیری کرنے نہیں آئی اُس نے سی ایس ایس کا مشکل ترین امتحان پاس کیا تھا”یہاں اُس کی جاب بہت مشکل سے لگی تھی پر دیکھے وہ کیا کررہی ہے تین ماہ سے بس گھرداری کرنے میں لگی ہوئی ہے اقدس کو اُس نے شہر جانے نہیں دیا یہاں اُس کے کاموں میں خود کو مصروف رکھتی ہے ہمارا ہر کام ایسے کرتی ہے جیسے کوئی خلائی مخلوق ہو۔۔۔۔اسیر نے ابھی سے اُن سے ہر بات کلیئر کردی جس پر وہ بے ساختہ مسکرائی
“آپ کی فکر فاحا کے لیے دیکھ کر خوشی ہوئی پر یہاں ملازموں کی فوج ہے اگر ہانیہ نہیں آتی تو اُن دونوں کی وجہ سے فاحا کی ٹائیم لِمٹ خراب نہیں ہوگی اِس بات کی تسلی ہم آپ کو دے رہے ہیں۔۔۔عروج بیگم نے اُس کو ہر پریشانی سے آزاد کیا
“دیبا کا مسئلہ حل ہوجائے پھر ہم شہر جاکر ہانیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرینگے”ابھی ہمیں اجازت دے۔۔اسیر اِتنا کہتا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“سہی ہے پر دیکھنا اُن کی پرورش اگر آپ کے ہاتھوں میں ہوگی تو نقشِ قدم پر بھی وہ آپ کے چلے گے۔۔”عروج بیگم نے کہا
“اِن شاءاللہ ایسا ہی ہوگا۔۔۔اسیر محض اِتنا بولا تھا
“تم نے اقدس کو بس اِس سال کے لیے بورڈنگ نہیں بھیجا اگلے سال تو ڈالو گے نہ پھر اُن دونوں کو بھی ڈالنا۔۔عروج بیگم نے اُس کو جاتا دیکھا تو کہا
“اگر یہاں آئے گے تو اپنی اولاد سے کم توجہ نہیں دینگے۔۔اسیر اِتنا کہتا اُن کے کمرے سے باہر نکل گیا۔








“کچھ سال بعد
“آپ جوتوں سمیت پاؤ صوفے پر رکھ کر بیٹھی ہیں”کیا آپ میں شرم نہیں ہے؟پانچ سالہ ماہا اپنی کمر پر چھوٹے ہاتھ رکھ کر تیرہ سالہ اقدس کو گھور کر بولی تو اقدس جو پاپ کارن کھانے میں تھی اپنی چھوٹی بہن کی بات پر اُس کا چہرہ رونے جیسا ہوگیا تھا۔۔”جبکہ دوسرے صوفے پر جو سات سالہ المان اپنے ہاتھ میں فاحا کا فون پکڑے بیٹھا تھا اُس نے جب ماہا کی بات سُنی تو قہقہقہ لگانے لگا
“مما دیکھے ماہی کیا بول رہی ہے۔۔۔فاحا لاؤنج میں آئی تو اقدس نے فاحا کو اُس کی شکایت لگائی
“کیا بولا ہے۔۔۔فاحا اُن کا بکھرا سامان سمیٹ کر پوچھنے لگی
“آپو میں شرم نہیں ہے۔۔ماہا نے ناک منہ چڑھا کر بتایا
“ماہی غلط بات ہے سوری بولو بڑی بہن ہے اقدس آپ کی۔۔فاحا مصنوعی گھوری سے اُس کو نوازہ تھا
“کیا آپ نالاج ہیں؟اپنی ماں کی بات سن کر ماہا نے اقدس کو دیکھا جس نے ناراضگی سے اپنا منہ موڑ لیا تھا
“یہ شرم لفظ کی معنی کیا ہوتی ہے؟ماہا نے اُس کا کندھا ہلاکر سوال کیا
“شرم مطلب حیا۔۔۔اقدس نے ناراضگی کے باوجود اُس کو بتایا
“آپ میں حیا نہیں ہے۔۔۔ماہا نے پھر سے کہا تو اِس بار فاحا نے حیرت سے اُس کو دیکھا جو آج بہت بڑے بڑے الفاظ استعمال کررہی تھی
“ماہا۔۔۔۔فاحا نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا
“تم میں حیا ہے؟اقدس نے اِس بار اُس کو گھور کر سوال کیا
“نہیں۔۔اِتنا کہتی ماہا اپنے چھوٹے ہاتھ منہ پر جماتی کھی کھی کرنے لگی۔
“ماہی فاحا کے پاس آؤ اور بتاؤ ایسے الفاظ آپ کو کون سِکھا رہا ہے؟فاحا نے اُس کو اپنے پاس آنے کا کہا تبھی اسیر سیڑھیاں اُترتا کسی سے فون پر بات کرتا آنے لگا
“تم انتہا کے کوئی بے شرم انسان ہو ہم نے کہا ہے نہ دوبارہ اِس معاملے میں ہمیں کوئی بات نہیں کرنی تو بار بار کیوں فون کررہے”کیا تم میں شرم نہیں ہے۔۔ اسیر جانے کس سے فون پر دوسری طرف سُنا رہا تھا جس پر اقدس نے فاحا کو دیکھا تو جو اب اسیر کو گھورے جارہی تھی لیکن اُن دونوں سے بے نیاز ماہا بھاگ کر اسیر کی ٹانگو سے چپک گئ تھی جس پر اسیر نے جھک کر ایک ہاتھ سے اُٹھا کر اُس کو اپنی بانہوں میں بھرا تھا اور رابطہ منتقع کیا
“ہمارا لاڈلہ بچہ۔۔۔۔اسیر نے چٹاچٹ اُس کے گالوں کو چوما تھا جو اُس کی ڈریمر ڈاٹر تھی ڈیٹو اُس کی اور فاحا کی کاپی”بات کرتی تو اپنی ماں کی طرح اپنا نام ضروری لیتی اور ترزِ خطاب”ہم”بھی استعمال کرتی تھی اور بڑی بڑی آنکھیں اپنی ماں سے چُرائی تھیں تو دوسری چیز اپنے باپ سے لی تھی اور وہ تھے گال پر گہرے گڑھے اور اسیر کی خواہش مطابق اُس کی ٹھوری پر کالا تل بھی تھا
“اسیر فاحا نے آپ سے کتنی بار کہا ہے کہ بچوں کے سامنے بات کرتے ہوئے زرا خیال کیا کرے۔۔فاحا اُس کی گود سے ماہا کو لیکر نیچے اُتارتی بولی
“اب ہم نے کیا کردیا؟اسیر ناسمجھی سے اُس کو دیکھا
“آپ کی یہ بیٹی۔۔فاحا نے ماہا کی طرف اِشارہ کیا
“بہت پیاری ہے۔۔اسیر ماہا کے واری صدقے ہوا تو اپنی تعریف سن کر ماہا شرمانے لگی وہ پوری فلم تھی ایک
“جانتی ہوں ماشااللہ بہت پیاری ہے پر آپ جانتے ہیں کہ یہ ماہی ہر چیز آپ کی کاپی کرتی ہے تو آپ اِس کے سامنے سوچ سمجھ کر بولا کرے کیونکہ آج ماہی نے آپ کے الفاظ اقدس پر ٹرائے کیے ہیں۔۔۔فاحا نے کہا تو اسیر کی نظر اقدس پر پڑی جو اُس کے دیکھنے پر اپنا منہ موڑ گئ تھی۔
“کیا بولا ہے اقدس کو؟اسیر نے جاننا چاہا
“ماہا نے اقدس سے کہا ہے کہ اُس میں شرم نہیں ہے۔۔۔فاحا نے بتایا تو اسیر نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا تھا
“کیا ہوگیا ہے فاحا بچے ہیں اگر ایک دوسرے کو ایسے بول دیا تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔اسیر نے سرجھٹکا
“بچی ہے تبھی کہہ رہی ہوں ورنہ ایسے ورڈز کی بچوں کو عادت ہوجائے گی۔۔فاحا نے کہا
“اچھا اِس ٹاپک کو آج ہم یہی بند کرتے ہیں باہر سے واپس آئے پھر اِس بارے میں بات ہوگی۔۔۔اسیر جُھک کر اُس کے ماتھے کا بوسہ لیتا باہر کی طرف بڑھنے لگا
“آپ ہمیشہ ایسا کرتے ہو لیکن اِس بار آپ کو فاحا کی بات سُننا ہوگی۔۔فاحا نے اُس کو جاتا دیکھا تو پیچھے سے ہانک لگائی لیکن اسیر جاچُکا تھا۔
“چچی آپ کہاں گئ تھی؟ہانیہ چادر خود پر لپیٹی حویلی میں داخل ہوئی تو اقدس نے سوال کیا
“بیٹا وہ گاؤں میں گئ تھی ایک بھینس مرگئ تھی خاتون کی تو اُن کی مدد کرنے گئ تھی۔۔۔ہانیہ اُس کو دیکھ کر جواب دیا
“کس کی بھینس مرگئ تھی؟ماہا خُرما خُرما چلتی اُن کے پاس آئی
“ایک عورت کی۔۔۔۔ہانیہ نے بتایا
“کیسے مرگئ؟ماہا نے اگلا سوال کیا
“بیمار تھی نہ تو بس اللہ نے اُس کو اپنے پاس بلوالیا تھا۔۔ہانیہ اُس کا روئی جیسا گال چوم کر جواب دینے لگی
“بیمار کیسے ہوئی؟ماہا کی چھوٹی پیشانی پر بل نمایاں ہوئے تھے
“جیسے ہوتے ہیں۔۔۔ہانیہ اُس کے سوالوں پر مسکرائی تھی
“آپ کو اِس کے سامنے بات کرنا چاہیے ہی نہیں تھا پتا تو ہے اگر کچھ سُن لیتی ہے تو سوالوں کی بوچھاڑ کردیتی ہے”سوال کے جواب سے سوال نکال کر نیا سوال بناتی ہے۔۔فاحا ماہا کو گھور کر بولی
“تو کیا ہوا چھوٹی بچی ہے اور بچوں تو جاننے کا شوق ہوتا ہے۔۔”ویسے وہ عورت بہت رو رہی تھی کیونکہ اُن کے گھر کا خرچہ اِس بھینس کی وجہ سے ممکن ہوتا تھا۔۔ہانیہ افسوس بھرے لہجے میں اُس کو بتانے لگی
“اسیر آئے گے تو میں اُن سے بات کروں گی وہ ضرور اُن کی مدد کرینگے یا پھر کل گاؤں کی عورت جمع ہوگی تو اُن کا مسئلہ بھی حل کردوں گی۔۔فاحا کچھ سوچ کر بولی
“چچی کون رو رہا تھا؟ماہا نے ہانیہ کا دھیان اپنی طرف کروایا
“جس کی بھینس تھی وہ بہت رو رہی تھی۔۔ہانیہ نے مسکراکر جواب دیا
“وہ کیوں رو رہی تھی؟ایک اور سوال
“کیونکہ اُن کی بھینس جو مرگئ تھی۔۔ہانیہ نے پھر سے بتایا
“اچھا تو پھر وہ کہاں گئ؟ماہا کے دماغ میں جانے کہاں سے اِتنے سوال آرہے تھے جس کو سن کر فاحا اپنے بال نوچنے کے قریب تھی”ایک وقت تھا جو اُس کی باتیں اسیر کو اپنے بال نوچنے کے قریب کیا کرتی تھی فاحا اور ایک یہ وقت ہے جس میں آج اُس کی بیٹی بال نوچنے پر اُس کو مجبور کررہی تھی۔۔
“وہ اللہ کے پاس گئ ہے۔۔ہانیہ نے ہنس کر جواب دیا
“یعنی آسمان میں؟ماہا جیسے آہستہ آہستہ بات سمجھنے لگی تھی
“بلکل آسمان میں۔۔۔ہانیہ نے ہاں میں سرہلایا
“آسمان میں کہاں گئ ہوگی؟ماہا کے اِس سوال پر فاحا کا صبر جواب دے گیا تھا
“ماہا یہاں آؤ خبرادر جو کوئی اور سوال کیا بھی ورنہ کل میں آپ کو شہر نہیں لے جاؤں گی بس اقدس اور المان اپنی خالا سے ملے گا آپ نہیں۔۔۔فاحا نے اُس کو خاموش کرنے کے لیے حربا آزمایا جو کارآمد ثابت ہوا کیونکہ اُس کی بات پر ماہا ہونٹوں پر انگلی رکھے اقدس کے ساتھ بیٹھ گئ تھی جس پر فاحا ایک نظر اُن سب پر ڈالتی وہاں سے چلی گئ۔۔
“چچی آپ نے بتایا نہیں آسمان میں کہاں گئ ہوگی وہ؟فاحا کے جانے کے بعد ماہا نے اپنے ہونٹوں سے انگلی ہٹا کر سرگوشی نما آواز میں ہانیہ سے سوال کیا تو جہاں ہانیہ نے حیرت سے اُس چھوٹی پٹاخہ کو دیکھا تھا وہی اقدس نے اپنا سر پکڑ لیا تھا یہ جان کر کہ ماہا کی سوئی ایک بات پر اٹک ہوئی ہے۔”لیکن المان سیل فون میں گیم کھیلتا اپنی ہی دُنیا میں مگن تھا
