Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 32)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 32)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“اچھا ہوا آپ یہاں ہو میں بھی اپنے آدمیوں سے یہاں آپ کو لانے کا کہنے والا تھا۔ ۔آتش گھر آیا تو آفاق لُغاری کو دیکھ کر کافی خوشگوار لہجے میں بولا
“گُستاخ یہ باپ سے بات کرنے کا طریقہ ہے؟ “آفاق لُغاری کو آتش کا یوں مخاطب کرنا ایک آنکھ نہ بھایا تھا
“خیریت ہے۔ ۔”اُردو کے کافی بڑے بول بول رہے ہیں۔ “شہنشاہ جلال الدین اکبر ڈرامہ تو نہیں دیکھ لیا؟ “آتش نے اُن کا تپا ہوا لہجہ جیسے محسوس ہی نہیں کیا تھا اُس کی سوئی تو بس” گُستاخ” لفظ پر اٹک گئ تھی
“لڑکی کا کیا بنا؟ “وہ بتاؤ۔۔۔آفاق لُغاری کا آج اُس سے بحث کرنے کا موڈ نہ تھا
“میں نے اُس کو ہینڈل کردیا۔۔۔”آتش نے بتایا
“زندگی میں کوئی اچھا کام تم نے بھی کرلیا۔۔”یہ بتاؤ وہ ہماری بات مان جائے گی اب؟”آفاق لُغاری کو اُس کی بات سن کر خوشی ہوئی
“کریکشن میں بچپن سے اچھا کام کرتا ہوں۔۔”اور آپ پر احسانات ایسے میں بہت بار کرچُکا ہوں۔۔”اب بس آپ میرا منہ نہ کُھلوائے۔۔۔آتش نے جتاتی نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا
“وہ ہماری بات مان جائے گی نہ؟”آفاق لُغاری سیخ پا ہوئے
“کیا ایسا کبھی ہوا کہ آتش لُغاری کسی چیز کی ٹھانے اور وہ چیز نہ ہو۔۔”آتش فخریہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
“تو اگر اُن کے علاقے میں کوئی پوسٹ میں ایش کو دینی چاہوں تو اسیر ملک سپورٹ کرے گا؟”آفاق لُغاری نے پوچھا وہ ہر جگہ اپنا روعب جمانا چاہتے ہیں۔۔”سب لوگوں پر حکومت کرنا چاہتے تھے۔۔
“میں نے اُس لڑکی کو راضی کرلیا۔ ۔”لیکن ووٹس کے لیے نہیں بلکہ خود سے شادی کرنے کے لیے۔ ۔”اُتوار کو ہماری دعوت رکھی ہے اُس نے خیر سے بہت مہمان نواز ہے ہم پر تو بلکل بھی نہیں گئ۔ ۔آتش نے اُن کو دو پل کی خوشی دینے کے بعد اپنی ڈھٹائی کا ثبوت دیا تو آفاق لُغاری کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا۔ ۔”اُن کو یقین نہ آیا کہ اُن کا بیٹا ایسا کارنامہ انجام دے چُکا ہے۔ ۔”یعنی اُنہوں نے اُس کو کام کونسا کرنے کا بولا تھا اور وہ کر کیا آیا تھا۔ ۔
“کیا ہوا سانپ کیوں سونگھ گیا آپ کو؟”اُن کو خاموش دیکھ کر آتش نے خود ہی مُخاطب کردیا
“سوچ رہا ہوں کہ ایسا کونسا گناہ میں نے کردیا جو تم میرے گھر پیدا ہوئے۔ ۔۔”آفاق لُغاری نے دانت پیس کر کہا تو آتش کا فلک شگاف قہقہقہ گونج اُٹھا تھا۔
“جو چیز آپ میں ہے نہیں اُس کو استعمال کر کیوں رہے ہیں؟ “خیر میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ۔”دراصل میری پیدائش سے پہلے آپ کے سارے کرتوتوں کا پھل خُدا نے میری شکل میں دیا ہے۔ ۔”اب آپ مانتے نہیں وہ الگ بات ہے۔۔۔آتش نے اُن کی بات پر فوراً کہا
“نہیں میں جانتا ہوں تم میرے گُناہ کی سزا ہو۔۔آفاق لُغاری نے اُس کو گھور کر کہا
“ہاں پر یوں اِظہار نہ کرے۔۔’آپ کو پتا نہیں ورنہ میرے اندر بھی ایک کیڑا ہے جو کبھی کبھار شرمانے پر مجبور کردیتا ہے۔ ۔آتش شرمانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا
“نالائق تمہیں اپنی بے عزتی محسوس نہیں ہورہی جو میں کررہا ہوں۔ ۔”آفاق لُغاری کا صبر جواب دے گیا
“بے عزتی محسوس کرنے والی چیز تھوڑئی ہوتی ہے وہ تو اگنور کرنے کی چیز ہوتی ہے۔ ۔”اور آپ تو پھر بھی باپ سماں ہیں۔ ۔”آپ کی کوئی بے عزتی دل پر کیسے لے سکتا ہوں۔۔۔آتش نے اُن کی بات ہوا میں اُڑائی
“آتش میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اُس سے پہلے مجھے بتاؤ کہ یہ شادی کا کیا معاملہ ہے؟”آفاق لُغاری نے کڑے چتونوں سے اُس کو دیکھ کر اپنا سوال کیا
“بتیس سال کا ہوگیا ہوں۔۔’میری عمر کے لڑکوں کو پانچ پانچ یعنی دس بچے ہوتے ہیں۔۔”اور ایک میں ہوں جو چھڑا چھانٹ گھوم رہا ہوں۔۔”اِس لیے جو چیز آپ کو سوچنی چاہیے تھی وہ میں نے سوچ لی۔۔”آتش نے آرام سے بتایا
“اِس بات سے میں کیا مطلب اخذ کروں میں؟”آفاق لُغاری کا چہرہ لال بھبھو ہوگیا تھا
“ایک تو آپ کو ہر بات تفصیل سے بتانا پڑتی ہے۔۔”یار ڈیڈ میں نے اُس کو پرپوز کیا۔۔”پھر وہ زرا شرمائی لُجائی۔۔”تھوڑا ہچکچائی اُس کے بعد خالص لڑکیوں والا مشغلہ چونچلا اپنا کر ناں ناں ناں”کرنے لگی۔۔”لیکن میں بھی”میں تھا راضی کروا کر ہی دم لیا۔۔۔”آتش نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھ کر اُن کو تفصیل سے بتایا
“وہ لڑکی کہاں ہے؟”آفاق لُغاری نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر سوال کیا
“اپنے گھر بیٹھی۔۔”سُہانے سپنے دیکھ رہی ہوگی کہ آتش لُغاری آئے گا۔۔”مجھے ڈولی میں بیٹھا کر لے جائے گا۔۔آتش نے مزے سے بتایا
“تم نے اُس کو فام ہاؤس سے باہر نکالا۔۔؟”آفاق لُغاری کے رہے سہے بھی اوسان خطا کرگئے۔۔۔
“ہاں کیونکہ آپ نے کافی اخلاف سے غیر حرکت کری تھی۔”یہ تک نہ سوچا کہ گھر میں آپ کی اپنی بیٹی بھی موجود ہے۔۔”جو جوان ہے دن رات آورگردیاں کرتیں ہیں۔۔”اگر آپ راہ چلتی دوسروں کی بیٹی میں نظر ڈالے گے کہ تو کوئی آپ کی بیٹی پر بھی نظر ڈال سکتا ہے۔۔”بس پھر وہی بات میں نے بڑوں والی سوچ رکھی بڑاپن کا مُظاہرہ کیا اور باحفاظت اُس کو اُس کے آشیانے چھوڑ آیا۔۔”ساتھ میں پرپوز بھی کر ڈالا۔۔آتش کی باتوں کو سن کر وہ دانت کچکچاکر رہ گئے تھے۔
“اندازہ ہے اپنی بہن کے بارے میں کیسی گفتگو کررہے ہو؟”غیرت نام کی کوئی چیز ہے تم میں؟”آفاق لُغاری ملامت بھری نظروں سے اُس کو دیکھا
“غیرت وہ نہیں ہوتی جو بس اپنی ماں بہن پر آئے۔۔۔”اصل غیرت وہ ہوتی ہے جو ہر عورت کے لیے جاگے۔”ویسے بھی میں آتش ہوں خود سے کم ہمت رکھنے والوں سے مقابلہ کرنا اپنی توہین سمجھتا ہوں تو کیسے ممکن تھا کہ ایک لڑکی کو ہتھیار بناتا۔۔”میں تو بھئ اُس کو اپنی دولہن بناؤں گا۔۔”آتش نے ہاتھ کھڑے کیے کہا
“اب تم اسیر ملک کی بیٹی سے شادی کروگے اور وہ تمہیں دے گا اپنی بیٹی کا ہاتھ؟”آفاق لُغاری نے طنز لہجے میں اُس سے کہا وہ جان نہ پایا کہ آج اُس کو شادی کا شوق کیسے لاحق ہو۔۔”ورنہ جیسے اُس کے کرتوت تھے اُنہوں نے فاتحہ پڑھ لی تھی کہ آتش بھی کبھی اپنی زندگی میں سیریس ہوکر شادی کے بارے میں سوچ سکتا ہے
“یہ میری انسلٹ ہے اب۔۔”بھلا کوئی بھی باپ مجھ اپنی بیٹی دینے سے انکار کیوں کرے گا؟”میں کون ہوں یہ بات ہر کوئی اچھے سے جانتا ہے۔۔”آتش کے لہجے میں غرور جھلکنے لگا تھا
“وہ اسیر ملک ہے۔۔”میرا نہیں خیال وہ ہمیں اپنی بیٹی دے گا بھلا اُس کا ہم سے رشتہ کیا ہے۔۔”اِن ملکوں کا ویسے بھی کچھ پتا نہیں چلتا خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے وہ۔۔”اُن کے کچھ روائج ہوتے ہیں۔۔”ہماری طرح نہیں ہوتے کہ جو پرپوزل آیا تھا اپنا مفاد جان کر ڈن کردیا۔۔”آفاق لُغاری نے اِس بار سنجیدگی سے اُس کو کہا
“اچھی بات ہے وہ رشتہ کرتے ہیں ڈیل نہیں لیکن خیر انکار کی کوئی گنجائش نہیں لڑکا لڑکی راضی ہیں۔۔”ابا حضور بھی راضی ہوگے۔۔”آتش نے سرجھٹک کر کہا
“تم
“ڈیڈ مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔وہ ابھی آپس میں باتوں میں لگے ہوئے تھے کہ ہیل کی “ٹِک ٹک کرتی ایشال گھر میں داخل ہوتی آفاق لُغاری سے مخاطب ہوئی تھی
“نہ کوئی ہائے نہ ہیلو۔۔”بس یوں منہ اُٹھاکر چلی آئی کہ بات کرنی ہے۔۔”آتش اُس کو گھور کر بولا کیونکہ اُس کو ایشال کی مُداخلت پسند نہ آئی تھی کیونکہ ایسے اُس کی بات اب درمیاں میں لٹکنے والی تھی
“تمہارے باپ کے گھر میں اینٹری نہیں ماری۔۔”اِس لیے اپنی بکواس بند رکھو۔۔ایشال نے غیض وغضب کی کیفیت میں اُس پر بھڑکتے ہوئے کہا تو آفاق لُغاری نے اُس کو گھورا
“خیر گھر تو واقعی میرے باپ کا ہے۔۔آتش زوردار ہنسی ہنس کر بولا تو ایشال اپنی جگہ پہلو بدلتی رہ گئ۔۔”آخر وہ کیوں بھول جاتی تھی کہ سامنے بیٹھا شخص اُس کا بھائی تھا
“تم بات کرو۔۔”آفاق لُغاری نے اُس سے کہا تو ایشال کو یاد آیا وہ کیا کہنے والی تھی۔
“میں شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔”لڑکا میں نے دیکھ لیا ہے۔۔،اُس کے لیے آپ کو یا موم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، آپ بس وقت دے تاکہ وہ اپنی فیملی کو لیکر آئے۔۔”بیک گراؤنڈ کی ٹینشن نہ لے ہماری ٹکر کا ہے۔۔”اُس کے فادر کا مارکیٹنگ کا بزنس ہے اور وہ کمپنی پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی ہے جس کی برانچز دوسرے شہر میں بھی ہے۔۔۔ایشال نے ایک ساتھ سارا کچھ بتایا تو آفاق لُغاری بے یقین نظروں سے اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھنے لگے جس نے”وہ بات کُھلے الفاظ میں بول دی تھی جو بیشتر بیٹیاں اپنی والدین سے کرتے ہوئے ہزار بار سوچا کرتیں تھیں۔۔”شرم و حیا سے سوچنا تک تو دور کرنے کا بھی نہ تھیں
“ایسا کانفڈنٹ لیول اگر میرے پاس ہوتا تو یقیناً میری دس بیس بیویاں ہوتیں۔۔۔”آتش تو اُس کا اعتماد دیکھ کر دنگ رہ گیا
“تم دونوں کا دماغ اپنی جگہ پر ہے یا نہیں؟”آفْاق لُغاری نے باری باری دونوں کو گھور کر کہا جنہوں نے آج شاید،مل کر قسم اُٹھائی تھی کہ اُن کا میٹر شاٹ کرکے رہنا ہے
“اِس کے پاس دماغ نہیں
“اِس کے پاس دماغ نہیں
“دونوں نے ہم آواز میں بول کر ایک دوسرے کی طرف اِشارہ کیا
“ایش تمہاری شادی میری مرضی سے ہوگی۔۔”آفاق لُغاری نے اُس کو دیکھ کر کہا تو آتش نے اُنگھوٹے کی مدد سے اپنی آئبرو مسلی تھی۔
“نو ڈیڈ اپنی زندگی کا اِتنا بڑا فیصلہ میں آپ کو لینے نہیں دوں گی۔۔”میری شادی میری مرضی سے ہوگی۔۔”میں آپ کی کسی سیاست کا حصہ نہیں بنوں گی۔۔”یہاں رہ کر مجھے آکسیجن کی مقدار کم محسوس ہوتی ہے۔۔”میں کُھل کر زندگی کو جینا چاہتی ہوں۔۔”اور آپ رُکاوٹ نہیں بنے گے۔۔”مجھے وہ فیملی چاہیے تھی جہاں رشتوں کی اہمیت ہو۔۔”جہاں کہ فیملی میمبرز ایک دوسرے کو وقت دیتے ہو۔۔”اور فائنلی میں نے وہ تلاش کرلیا ہے۔۔”ایشال اٹل لہجے میں گویا ہوئی تو اپنے کپڑے جہاڑتا آتش اُٹھ کھڑا ہوا
“گُڈ اسپیچ کل اُن کو ڈنر پر بلواؤ۔۔”مل بیٹھ کر بات ہوگی۔۔”ابھی میں جارہا ہوں سونے گُڈ نائٹ۔۔اپنی بات کہنے کے بعد جمائی لیتا آتش اپنا رُخ اپنے کمرے کی طرف کرگیا
“اب تو آپ کے چہیتے نے بھی بول دیا۔۔”اُمید ہے آپ کو کوئی مسئلا نہیں ہوگا۔۔”آتش کے جانے کے بعد ایشال نے طنز لہجے میں اُن سے کہا
“ایش میرے بچے تمہارا رشتہ کسی مارکٹنگ والے سے نہیں ہوگا۔۔”بلکہ اُس سے کرواؤں گا میں جو سیاست میں اُٹھتا بیٹھتا ہو۔۔۔”آفاق لُغاری قطعیً رضامند نہ تھے۔۔”اُن کا دماغ سہی معنوں میں خراب ہوگیا تھا کہ دونوں بچوں کو اچانک سے بیٹھے بیٹھائے شادی کا شوق کیسے لاحق ہوگیا
“زوریز دُرانی سے آپ رشتیداری کرنا پسند نہیں کرے گے؟”ایشال نے آئبرو اُپر کر اُن سے سوال کیا
“زوریر دُرانی؟”آفاق لُغاری چونک سا گیا
“سب سے بڑی کمپنی کا مالک تو وہ ہے۔۔”زوہان دُرانی اُس کا اکلوتا بیٹا ہے۔”اُمید ہے اب آپ اِس پرپوزل پر غور ضرور کرینگے۔۔”ایشال داؤ کا ایک آخری پتہ پھینک کر وہاں سے چلی گئ۔۔”پیچھے آفاق لُغاری گہری سوچ میں ڈوب چُکے تھے
“تم یہاں میرے کمرے میں کیا کررہے ہو؟”ایشال اپنے کمرے میں آئی تو وہاں آتش کو بیڈ پر آرام سے لیٹا دیکھ کر کڑے چتونوں نے اُس کو دیکھ کر سوال کیا
“وہ لڑکا کون ہے جس سے تمہیں شادی کرنی ہے؟”اور کیا سی آئے سی سے تعلق رکھتا ہے یا کسی اور مخلوق سے واسطہ بنایا ہے جو مجھے یعنی آتش لُغاری کو بھنک تک نہ پڑی کہ اُس کی بہن کا سیریس افیئر چل رہا ہے کسی مرد کے ساتھ۔۔۔”اُس کا سوال اگنور کرکے آتش نے سوال کیا تو وہ بیزارگی سے اُس کو دیکھنے لگی
“یہ تمہارا میٹر نہیں اِس لیے دور رہو۔۔۔۔ایشال نے سنجیدگی سے کہا
“یہ دیکھو۔۔۔”آتش نے اپنی ٹانگ اُپر نیچےکرکے اُس کو دِکھایا تو سمجھ نہیں پائی ایشال کہ اب اِس کا کیا مطلب ہوا
“میری ٹانگ کافی لمبی ہے۔۔”ہر جگہ گھس جاتی ہے تو کیسے ممکن ہے تمہارے معاملات میں نہ گُھسے شرافت سے اُس کا نام بتا دو۔۔”مجھے اُس کا سارا بائیو ڈیٹا جاننا ہے۔۔۔”آتش نے کہا تو ایشال نے تاسف سے اُس کو دیکھا
“اپنی یہ لمبی ٹانگ میرے معاملات سے دور رکھو تو اچھا ہوگا۔۔”ورنہ کاٹ کر رکھ دوں گی۔۔ایشال نے انگشت کی اُنگلی اُٹھاکر اُس کو وارن کیا
“بنانے والے نے دو ٹانگوں کے ساتھ بھیجا ہے۔۔”ایک نہیں تو دوسری ٹانگ گھسالوں گا۔۔”اُس کی تم فکر نہ کرو۔۔”بس مجھے میرے سوال کا جواب دو۔۔”آتش نے اُس کی کسی بھی بات کا اثر لینا ضروری نہ سمجھا
“وہ بھی توڑ کر ٹڈو کردوں گی۔۔”خود کو کافی مسخرا سمجھتے ہو لیکن مسٹر آتش لُغاری خبردار جو اِس بار تم نے مجھ سے کچھ چھین نے کی کوشش کی بھی تو۔۔ایشال کا لہجہ دھمکی آمیز تھا
“ایش آج میرا موڈ اچھا ہے تم سے لڑائی کرنے کا نہیں ہے اِس لیے جو سوال پوچھا ہے اُس کا سہی سے جواب دو۔۔”وہ لڑکا کون ہے جو اچانک سے تمہاری زندگی میں آگیا اور اب تم شادی کرنے چلی ہو۔۔”آتش کا لہجہ اِس بار خطرناک حد تک سنجیدہ تھا
“بیک گراؤنڈ میں اُس کا بتاچُکی ہوں۔۔”مل تب لینا جب وہ ڈنر پر آئے۔۔۔ایشال کے اکتائے لہجے میں کہا
“امپورٹنٹ اُس کا بیک گراؤنڈ نہیں۔۔”امپورٹنٹ اُس کا مزاج”اُس کی شخصیت ہے جو جاننا ضروری ہے تبھی فیصلہ ہوگا کہ اُس سے تمہاری شادی کردینی چاہیے یا نہیں۔۔۔”آتش نے کہا تو ایشال نے اپنی آنکھیں گُھمائی
“تمہیں زیادہ کونشئس ہونے کی ضرورت نہیں۔۔”میں تمہاری زمیداری نہیں ہوں۔۔”ایشال نے چبا چبا کر الفاظ ادا کیے
“تم ہماری زمیداری ہو۔۔”میں تمہارا بھائی ہوں تمہارا وارث ہوں۔۔”آتش نے اُس کی بات پر اُس کو گھورا
“واٹ ایور جاؤ یہاں سے۔۔”مجھے تمہیں کچھ نہیں بتانا۔۔ایشال نے سرجھٹک کر کہا
“تمہیں کیا لگتا ہے تم اگر بتاؤ گی نہیں تو مجھے پتا نہیں چلے گا؟”آتش پُراسرار سا مسکرایا
“نہیں مجھے پتا ہے تم بہت جینئس ہو۔۔”پھر یہاں مغز ماری کرکے اپنا ٹائیم ویسٹ کیوں کررہے ہو؟”تم دا گریٹ آتش لُغاری ہو جو اُڑتی ہوئی چڑیا کا بھی پر گِن لیتا ہے۔۔”آئے نو یو ویری ویل۔۔۔ایشال نے طنز نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو آتش نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا۔۔”وہ عمر میں اُس سے ایک یا دو سال بڑا نہیں تھا۔۔”پورے آٹھ سال بڑا تھا لیکن اُس سے زیادہ بڑی تھی دونوں کے درمیاں حائل دیوار۔۔”جو اُن کے بہن بھائی جیسا خوبصورت رشتہ بنانے نہیں دیتی تھی۔۔”ایک بُدگمانی تھی جس کو ختم کرنے کی کوشش کس نے نہ کی تھی۔۔۔







“مجھ سے اب بات نہ کرنا تم۔۔عیشا نے سخت لہجے میں زوہان کو دیکھ کر کہا
“عیشو کیا مسئلہ ہے؟”کیوں ہر وقت بلاوجہ غُصہ کرتی رہتی ہو۔۔”زوہان اُس کو دیکھ کر گہری سانس بھرتا رہ گیا
“تمہاری وجہ سے ہانی ہمارے ہاتھ آیا بڑا پراجیکٹ نکل گیا۔۔”تمہیں اندازہ ہے وہ ہماری کمپنی کے لیے کس قدر فائدیمند ہوتا۔۔”لیکن تمہاری غیرموجودگی کی وجہ سے بنی بنائی ہر چیز چوپٹ ہوگئ۔۔عیشا کے چہرے پر ناگواریت پھیلی ہوئی تھی۔۔
“نقصان اور فائدہ۔۔”یہ دونوں چیزیں بزنس کا حصہ ہیں۔۔”ہمیں اِن دونوں چیزوں کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے۔۔”ناکہ یوں ہائپر ہونا چاہیے۔۔زوہان نے ہمیشہ کی طرح تحمل کا مُظاہرہ کیا
“یہ بات میں جانتی ہوں۔۔”پر تم میری بات سمجھے نہیں۔۔”یہ لوسٹ جو ہوا ہے نہ وہ ہماری اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔”عیشا نے بتایا
“اُس کے لیے میں سوری کرچُکا ہوں۔۔”تم کہو تو آؤٹننگ پر باہر بھی لے جاتا ہوں۔۔’لیکن تم رلیکس رہو۔۔۔زوہان نے کہا تو عیشا نے گہری سانس خارج کی
“میں ٹھیک ہوں۔۔”بس ریسٹ کرنا چاہتی ہوں۔۔”عیشا نے سنجیدگی سے جواب دیا
“اچھا سُنو۔۔۔اُس کو اپنے کمرے کی طرف بڑھتا دیکھ کر زوہان نے آواز دی
“سُناؤ؟”عیشا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“گاؤں سے کال آئی تھی۔۔زوہان نے بتایا
“تو؟”عیشا جان نہ پائی
“اقدس آپو کا رشتہ آرہا ہے تو ہمیں گاؤں جانا چاہیے۔۔”ہم ہمیشہ ساتھ ہوتے تھے۔۔”اِس بار ہونا چاہیے ورنہ وہ لونلی فیل کرینگیں۔۔زوہان نے سنجیدگی سے اپنی بات بیان کی
“ہم جائے گے اُن کے پاس۔۔”عیشا نے جواباً کہا تو زوہان پرسکون ہوتا مُسکرایا تھا۔۔”جبکہ عیشا ایک نظر اُس پر ڈالے اُپر کی جانب بڑھ گئ تھی۔







“سکندر دعا کے ساتھ بیٹھا کل کا شیڈول ڈسکس کررہا تھا جب اُس کے سیل فون پر مسیج ٹیون بجی۔۔”جس پر وہ الرٹ ہوا کیونکہ یہ اُس کا پرسنل سیل فون تھا جہاں سوائے فیملی میمبرز کے کوئی اور اُس کو کال یا مسیج نہیں کرسکتا تھا۔۔”تبھی اُس نے مسیج اُپن کیا تو دیکھا زوہان کی طرف سے آیا تھا۔۔
“کل ہمیں گاؤں جانے کے لیے نکلنا ہے۔۔”اقدس آپو کے لیے رشتہ آرہا ہے کوئی اور ہمارا ہونا ضروری ہے۔۔”اگر ہوپائے تو اپنے پلانز کینسل کرنا۔۔۔”یہ مسیج پڑھ کر وہ زیر لب مسکرایا تھا۔
I’ll be there on time.
اُس کو رپلائے دیتا وہ دعا کی طرف متوجہ ہوا
“دعا ہمیں کل کے پلانز کینسل کرنے ہوگے۔۔”سکندر نے جوس کا گھونٹ بھر کر کہا
“وائے؟”یہ ویکنڈ ہم ویسٹ کیسے ہونے دے سکتے ہیں؟”پھر تم ہم دونوں بزی ہوجاتے ہیں۔۔۔دعا کو اچانک اُس کا ایسا کہنا سمجھ میں نہ آیا
“مجھے ضروری کام سے باہر جانا ہے تو کل پاسبیل نہیں۔۔”سکندر نے شانے اُچکاکر کہا تو وہ اُس کا منہ تکتی رہ گئ۔۔









“میں کیسے آسکتا ہوں؟”رایان زوہان کی بات پر پریشان ہوا
“کیوں اسلام آباد اِتنا دور بھی نہیں جو تم یہاں آ نہیں سکتے۔۔زوہان کو اُس کی بات سمجھ نہ آئی
“وہاں ہر کوئی مجھ سے خفا ہے۔۔۔رایان نے بتایا
“تو یہاں آکر اُن کی خفگی کو دور کردو۔۔”لیکن کل تمہیں کیسے بھی کرکے ہمارے ساتھ ہونا ہے۔۔”مان نہیں ہے لیکن اُس کی کمی کو ہم تینوں نے مل کر پورا نہیں کرسکتے تو ایٹلیسٹ کم ضرور کرنی چاہیے۔۔”اقدس آپو کو پتا ہونا چاہیے وہ نہیں تو ہم تینوں ہیں اُن کے ساتھ۔۔زوہان نے سنجیدگی سے کہا
“میں فلائٹ بُک کرواتا ہوں۔۔”کل آجاؤں گا۔۔”مجھے یاد ہے مان کی بات جب اُس نے جاتے ہوئے کہا تھا میری بہنوں کو اکیلا نہ کرنا۔”میں جارہا ہوں لیکن اطمینان ہے کہ میرے بعد میری بہنوں کے تین اور بھائی موجود ہیں جو اُن کی ڈھال بنے گے۔۔۔رایان نے کہا تو زوہان اُداس سا مسکرایا
“ٹھیک ہے پھر کل حویلی میں ملاقات ہوگی۔”پتا تو چلے اچانک سے یہ کس کا رشتہ آگیا جو اقدس آپو نے انکار بھی نہ کیا۔۔”زوہان نے پرسوچ لہجہ اپنایا
“کونسا نمونہ ہے کل پتا چل جائے گا۔۔”رایان نے کہا اِس بات سے بے نیاز کہ وہ جس کے بارے میں بول رہا تھا وہ کوئی”نمونہ نہ تھا۔۔”چلتا پِھرتا طوفان اور آگ کا شعلہ تھا۔۔”وہ شعلہ جب جانے کہاں کس پر بھڑک اُٹھے کسی کو کچھ پتا نہ چلتا تھا









“ساری تیاریاں ہوگئ ہیں؟”آتش نے سیل فون میں دیکھ کر مصروف لہجے میں اپنی ماں سے سوال کیا
“الموسٹ۔۔”بس یہ ڈرائیور سارا سامان گاڑی میں ڈال دے پھر چلتے ہیں۔۔”سفر بھی لمبا گُزرنے والا ہے۔۔وردہ لُغاری کیمرہ آن کیے اپنا چہرہ دیکھ کر اُس کو بتانے لگی
“سامان میں کیا کچھ ہے؟”آتش نے سوال کیا
“یہی بس پھل فروٹ”مٹھائیوں کے ٹوکرے اور شگن کا کچھ سامان جو تم نے کہا تھا کہ کپڑے وغیرہ بھی ہونے چاہیے ساتھ میں انگیجمنٹ رنگ بھی کیونکہ ہر چیز تیار ہے۔۔”وردہ لُغاری نے بتایا
“ہونہہ آپ کے شوہر کہاں ہیں؟”آتش نے ہنکارا بھر کر پوچھا
“کون؟”وردہ لُغاری کا پورا دھیان اپنے سیل فون میں تھا جس وجہ سے وہ اُس کی بات پر غور نہ کرپائی
“میرے خیال سے آپ کا ایک ہی اکلوتا شوہر ہے۔۔”جس کا نام آفاق لُغاری ہے۔۔”عمر یہی کوئی پچاس سے دو تین سال آگے ہوگی۔۔”قد کاٹھ میرے جتنا ہے۔۔”یہی گھومتے پِھرتے کل نظر آرہے تھے اب نہیں ہے۔۔”اب آپ عورت نہ ہوتیں تو میں سوچتا کہ خفیہ دو تین شوہر آپ نے مختلف شہر میں رکھے ہوگے اور اب آپ کو کنفیوزن ہیں کہ بات کس والے شوہر کی ہورہی۔۔”جیسے ڈیڈ نے خُفیہ بیویاں بنائی ہوئی ہیں۔۔”اُن پر ایسا سوال جچتا بھی ہے۔۔”اسلام نے اجازت بھی دی ہوئی ہے۔۔”آتش نے اپنی ہلکی گھنی بیئرڈ میں ہاتھ پھیر کہا تو وردہ لُغاری ہونک بنی اپنے خوبرو بیٹے کی گوہر افشانی سُننے لگی
“شرم کرو ماں سے ایسی نازیبا گفتگو کون کرتا ہے؟”وردہ لُغاری نے ملامت کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔۔”وہ کہاں ہیں؟”جبکہ تین چار دن پہلے میں نے اُن کو بول دیا تھا کہ ہمیں رشتے کی بات کرنے جانا ہے؟”آتش نے سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر سوال کیا
“سؤ کام ہوتے ہیں اُن کو۔۔”انہیں میں مصروف ہے آفاق۔۔”لیکن میں چل رہی ہوں نہ ساتھ پھر بس بات ختم۔”ویسے بھی یہ معاملات عورتیں دیکھتی ہیں تمہارا ساتھ آنا بھی ضروری نہیں۔”وردہ لُغاری نے اُس کو دیکھ کر جواب آیا
“میرا جانا آپ سے زیادہ ضروری ہے۔۔”اُن کو جتاکر کہتے آتش نے آفاق لُغاری کے پرسنل سیل فون پر ایک مسیج چھوڑا وہ جانتا تھا اب آفاق لُغاری ضرور آئے گے۔۔”
“چلو اب۔۔۔وردہ لُغاری نے کہا تو اپنے کارنامے سے مطمئن ہوتا وہ باہر جانے لگا کہ نظر لان میں باسکٹ بال کھیلتی ایشال پر پڑی جو اپنے رف حلیے میں اکیلے کھیلنے میں مصروف تھی۔۔
“تمہیں الگ سے انویٹیشن کارڈ دوں کہ آج ہمیں باہر جانا ہے۔۔”آتش نے اُس کو گھورتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ کر کہا
“تم مجھ سے بات کررہے ہو؟”بال کو پکڑتی وہ اُس کو دیکھ کر بولی
“ہاں بدقسمتی سے۔۔”آتش نے چبا چبا کر الفاظ ادا کیے
“کام کی بات پر آؤ پھر۔۔”ایشال نے کہا
“آج میرے رشتے کی بات ہوگی۔۔”تمہیں چلنا تھا پھر یہاں اِس حُلیے میں کیوں ہو؟”پانچ منٹ ہیں جلدی سے تیار ہوجاؤ”آتش نے سنجیدگی سے کہا
“Not interested.
ایشال نے نخوت سے سرجھٹک کر کہا
“سوچ لو۔۔”اگر تم نہ آئی تو تمہاری باری میں بھی میں نہیں ہوگا۔۔”اور شاید تمہیں اندازہ نہیں کہ لڑکے والے سب سے پہلے لڑکی کے بھائی کے بارے میں جانکاری لیتے ہیں۔۔”اُس کا ہونا لازم وملزم ہوتا ہے۔۔”اگر میں نہیں ہوا تو تمہارے سسرال میں تمہارا ایمپریشن کافی غلط پڑے گا اُن پر۔۔”سوچے گے کہ لڑکی نے ایسا بھی کیا کردیا جو اُس کا بھائی اپنی اکلوتی بہن کے ضروری دنوں میں شرکت کرنے نہ آیا۔۔”آتش نے شانے اُچکاکر کہتا جانے لگا۔۔”
“رُکو میں چلتی ہوں۔۔”بال کو دور پھینک کر گھاس سے اپنی جیکٹ اُٹھائے ایشال نے جھٹ سے کہا اور اُس کی طرف ڈور لگائی تھی۔۔”بلاشبہ آتش اپنی باتوں میں ہر ایک کو اچھے سے اُلجھایا کرتا تھا
“ایسے چلوں گی؟”آتش نے رُک کر اُس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا جو اپنے یوگا کرنے والے ڈریس میں تھی جس میں ایک چھوٹی بلیک شرٹ اور بلیک پینٹ تھی۔۔”بال اُس کے پونی میں مقید تھے۔۔”جبکہ پاؤں میں جاگنگ شوز تھے”اُس کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی نیند سے اُٹھی ہو
“کوئی اعتراض؟”میں تو سادگی میں بھی جلوے بکِھیرتی ہوں میری نہیں تم اپنی فکر کرو۔۔”اپنے ایسے حُلیے میں بھی تم سے زیادہ اچھا ایمپریشن پڑے گا میرا۔۔ایشال نے ایک ادا سے کہا تو اُس کی بات پر آتش اپنا سر نفی میں ہلاتا گاڑی کی طرف بڑھا تو اپنے بالوں سے پونی نکال کر اُن کو ہاتھ سے سہلاکر وہ جیکٹ پہن کر جھٹ سے ایک گاڑی میں بیٹھ گئ۔۔
_______________________
“تین چار گھنٹے کے قریب وہ مطلوبہ جگہ پُہنچے تو نظر سامنے کھڑی شاندار حویلی پر گئ جس کی گیٹ پر چوکیدار ہتھیار لیے کھڑے تھے۔۔”گاڑی سے آتش کافی روعبدار انداز میں نکلا تھا۔۔”اُس کے برعکس ایشال جمپ کھاکر اُتری تو حویلی کو دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں ستائش اُبھری
Wow,very beautiful.
ایشال تعریفی انداز میں بولے بغیر نہ رہ پائی
“اندر چل کر ایک جگہ گونگو کی طرح بیٹھ جانا۔۔”بلاشبہ جیسا تمہارا حلیہ ہے نہ ایسا لگ رہا ہے جیسے آتے ہوئے ہم نے کسی فقیرنی کو اُٹھایا ہے۔۔آتش اُس کو گھور کر کہتا اندر کی طرف بڑھا تھا جبکہ اُس کی بات پر ایشال نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو گھورا اور اپنے ہاتھوں کو ایسے کھڑا کیا جیسے اُس کا گلا دبانے کا اِرادہ ہو
“اُس دن بڑا بھائی بن رہا تھا اور اب اپنی قلو پترا نظر آنے والی بہن کو فقیرنی کا لقب دیتے ہوئے زرا شرم نہ آئی اِس کو۔۔آہستگی سے بڑبڑاتی ایشال بھی اندر جانے لگی تھی کہ نظر اچانک حویلی کی وسط پر کھڑے ایک شخص پر گئ جو ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں پھسائے دوسرے ہاتھ سے کسی سے فون پر بات کرنے میں تھا۔۔”ایشال کو غور کرنے کی ضرورت نہ تھی وہ بغیر غور کیے پہچان گئ کہ سامنے کھڑا انسان”زوہان اُس کی نیلی آنکھوں والا تھا۔
“اوو خُدایا یہ نیلی آنکھوں والا یہاں کیسے؟”اپنا رُخ جلدی سے پلٹ کر وہ پریشانی سے بڑبڑائی پھر نظر نیچے کیے خود کو دیکھا تو اُس کا منہ بگڑا
“فقیرنی بن کر آؤں گی تو کیا سوچے گے میرے بارے میں؟”کچھ دیر پہلے خود کو قلو پترا کہنے والی کو اب اپنا آپ”فقیرنی جیسا لگا تھا۔۔”انگلی دانتوں تلے دبائے وہ پریشان ہوئی کہ اب کیا کرے؟”جانا تھا بھی لیکن اب ایسے جانے کا اُس کا کوئی اِرادہ نہ تھا۔۔”اُس کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا۔۔”اُس کو یاد آیا کہ وردہ لُغاری نے کچھ کپڑے خریدے تھے جو وہ آتش کی ہونے والی بیوی کو دیتی۔۔”اُس نے بے ساختہ شکر کا کلمہ پڑھا”اور گاڑی سے سامان نکالتے گارڈز کی طرف تیزی سے آئی
“ایک منٹ۔۔وہ جو اب شاپنگ بیگز نکالنے والے تھے۔۔”ایشال کی آواز پر جلدی سے وہ سیدھے کھڑے ہوئے
“یہ مجھے دو اور اب جاؤ۔۔۔”سارے بیگز میں سے ایک بیگز کو پکڑتی وہ اُن کو جانے کا کہنے لگی تو وہ بغیر کچھ کہے وہاں چلتے بنے۔۔”جس پر ایک احتیاطی نظر وہ چاروں اطراف ڈوراتی گاڑی میں بیٹھ کر اُس کے دروازے لوک کیے
“چل ایش یہ کام بھی کرکے دیکھ۔۔”زندگی میں یہی کرنا تو رہ گیا تھا۔۔”سرگوشی نما آواز میں خود سے کہتی وہ گاڑی میں اپنے کپڑے بدلنے لگی۔۔”جس میں وہ ڈریس تھا جو اُس نے کبھی پہنے نہ تھے۔۔”لیکن آج مجبوری کے تحت اُس کو پہننے پڑ رہے تھے۔۔
“اُفف گز بڑھ کر ڈوپٹہ میں کیسے سنبھالوں گی؟”اور یہ جوگرز گاؤں آکر تو میں واقعی پینڈو جیسا گیٹ اپ کرنے لگی ہوں۔۔”ڈریس پہن لینے کے بعد وہ خود کو دیکھ کر تاسف سے بولی۔۔”لیمن کلر کے خوبصورت پرنٹڈڈ شلوار قمیض میں ملبوس وہ نیٹ کے بڑے سے ڈوپٹے کو پریشان کن نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔”اُس نے پہلی بار ایسا ڈریس پہنا تھا جو اُس پر کافی جچ رہا تھا۔۔’لیکن وہ کافی بیزار ہورہی تھی۔
“اُفف یہ گلا۔۔”ڈریس کا چھوٹا گلا اُس کو گرمی دینے لگا تھا۔۔”لیکن خود پر جبر کرتی وہ بیک ویوو مرر سے اپنے بالوں کو سنوارنے لگی۔۔”
پہنتے کیسے ہیں ڈوپٹے کو؟”اب اُس کو نئ فکر لاحق ہوئی
“سر پر پہنتے ہیں پاگل لڑکی۔۔اپنی عقل پر ماتم کرتی تہہ شدہ ڈوپٹہ بغیر کھولے جیسا آیا ویسے پہن کر گاڑی سے باہر نکلی
“ڈیئر ایش گاڑی میں کپڑے بدلنا بھی کسی ایڈوینچر سے کم نہیں۔۔”پہلے بھی یہ تمہیں ٹرائے کرنا چاہیے تھا۔۔”گاڑی کو دیکھتی وہ مسکراکر خود سے باتیں کرتی حویلی میں جانے لگی لیکن اِتنی بڑی حویلی دیکھ کر وہ جان نہ پائی کہ جانا کس طرف ہے۔۔”ابھی وہ دو قدم آگے چلی کہ سائیڈ پر اُس کو آتش کھڑا نظر آیا تو وہ جلدی سے اُس کے پاس جاکر کھڑی ہوئی
جی آپ کون؟”آتش نے ایک نظر ڈالے پوچھا۔۔”وہ جان نہ پایا کہ سامنے اُس کی اپنی بہن کھڑی ہے
“وہ فقیرنی جس کو سڑک سے اُٹھا لائے تھے۔۔”ایشال نے تپ کر جواب دیا جو جانی پہچانی آواز سن کر آتش نے غور سے اُس کو دیکھا
“یہ تم منٹوں میں پرویز سے پروین کیسے بن گئ؟”اور یہ کیا پہنا ہے؟”آتش نے کافی حیران نظروں سے اُس کو دیکھ کر سوال کیا
“نظر نہیں آرہا کپڑے ہیں”اور اب چلو۔۔۔ایشال نے بیزاری سے کہا
“سر سے پگڑی تو اُتارو۔۔”آتش نے کہا
“یہ ڈوپٹہ ہے۔۔”ایشال نے دانت پیس کر بتایا
“ایسے پہنتے ہیں؟”آتش کو ہنسی آئی تھی اُس کو عجوبہ بن کر دیکھ کر
“تمہیں بڑا پتا ہے۔۔”ایشال کو اُس کا مذاق اُڑانا پسند نہ آیا
“ایک منٹ ویٹ۔۔”اپنی فون کو واسکٹ کی جیب میں ڈالتا وہ اُس کے سر سے ڈوپٹہ نکالے کھول کر اچھے سے اُس کے گرد اوڑھایا تو ایشال کے بالوں میں تھوڑا کھینچاؤ آیا جس پر وہ اچھے سے بال اُس کے بال سیٹ کرتا ڈوپٹہ سر پہ پہنایا
“پرفیکٹ۔۔”اپنی کاروائی سے مطمئن ہوتا وہ اُس کو دیکھ کر بولا تو ایشال منہ کے ہزار زاویئے بناکر خود کا جائزہ لینے لگی
“ایسے پہنتے ہیں ڈوپٹہ۔۔اُس کے سر پر ہلکی سے چپت مار کر کہتا اُس کا ہاتھ پکڑے وہ اُس کو لیئے اندر کی طرف بڑھا
