Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 01)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 01)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“سارے مہمانوں کے جانے کے بعد ہر کوئی اپنی دولہن کو اپنے سنگ لیکر گیا تھا۔ ۔”جہاں ہر ایک نے اُن کا خوش اسلوبی سے استقبال کیا تھا۔۔”ایک طرف صنم بیگم اور عروج بیگم نے اسیر اور فاحا کا کیا تھا تو دوسری طرف عاشر اور لالی کا بوا اور حاشر نے اچھے سے استقبال کیا تھا۔ ۔”تیسری طرف ازکیٰ نے اُن چاروں کا اچھے سے ویلکم کیا تھا۔

اسیر اپنے کمرے میں آیا تو سامنے والا منظر دیکھ کر اُس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا تھا”سامنے فاحا دولہن کے لباس میں ملبوس اپنی گود میں اقدس کو بیٹھائے فروٹس کھانے میں خود بھی مصروف تھی تو ساتھ میں اقدس کو بھی کِھیلا رہی تھی”لیکن جو بات اسیر کو حیران کرگئ تھی وہ تھا بیڈ کا حشر جہاں بیڈ شیٹ بے ترتیب تھی تو کشن قالین کو سلامی دے رہے تھے” ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی جن بھوت یہاں آکر کملی ڈانس کرگئے تھے”اُس کو اگر فاحا سے مشرقی قسم کی لڑکیوں کی طرح انتظار میں بھی بیٹھے رہنے کی اُمید نہ تھی تو جو وہ دیکھ رہا تھا اُس کی بھی وہ توقع نہیں کررہا تھا۔
“یہ کیا ہورہا ہے؟ اسیر نے بلآخر اُن کو اپنی موجودگی کا احساس کروا ہی دیا تھا۔
“پیٹ پوجا۔ ۔فاحا نے بنا دیکھے اُس کو جواب دیا تھا تو اسیر نے صبر کا گھونٹ بھر کر اپنی شال کندھوں سے اُتار کر صوفے پہ ڈالی اور تھوڑا اُن کے قریب جاکر کھڑا ہوا۔
“غالباً آج آپ کی شادی ہوئی ہے۔ ۔اسیر اُس کے سر پہ کھڑا طنز انداز میں بولا
“یقیناً آپ کے ساتھ ہوئی ہے۔ ۔فاحا ایپل کو منہ میں لیتی کرچ کرچ کرنے لگی تو اسیر کا پورا چہرہ لال ہوگیا تھا۔
“اقدس اپنے بابا کے پاس آئے۔۔اسیر فاحا کو گھورتا پیار سے اقدس کو دیکھ کر بولا جو پہلے اُس کی موجودگی میں بھاگ کر لپٹ جاتی تھی آج تو ایک بار بھی دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا۔
“بابا جان ہم فروٹس کھارہے ہیں اور آپ کہتے ہو نہ کھانے کے دوران اُٹھا نہیں جاتا۔ ۔اقدس نے اپنے چھوٹے ہاتھوں سے چہرے پر گِرتے بالوں کو پرے کیے اسیر سے کہا
“ہاں لیکن آپ کے سونے کا وقت ہوگیا ہے جتنا کھانا تھا آپ نے کھالیا اب آپ ریسٹ کریں۔ ۔اسیر نے گویا اُس کو پچکارنے کی کوشش کی
“توبہ توبہ آپ تو اپنی بیٹی کے نوالے گِننے میں لگے ہوئے ہیں۔ ۔فاحا نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگایا تھا۔
“یہ ہماری بیٹی ہے اور ہمیں پتا ہے اقدس کے لیے کیا اور کتنا کھانا سہی ہے۔ ۔اسیر نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“لیکن بابا ہم آج اپنی نئ مما کے ساتھ سوئے گے۔ ۔اقدس فاحا کے ساتھ چپک کر بولی
“اقدس آپ کو اپنے روم میں سونا ہے۔ ۔اسیر نے نرمی سے کہا وہ جان نہیں پایا کہ فاحا نے ایسا بھی کیا جادو کردیا”اقدس پر جو وہ کم وقت میں اِتنا کلوز ہوگئ تھی اُس سے۔ ۔
“لیکن آج یہاں اقدس سوئے گی۔ ۔اقدس اپنی جگہ بضد تھی
“اگر اقدس کا دل یہاں سونے کا چاہ رہا ہے تو آپ کیوں ظالم باپ کا رول ادا کررہے ہیں۔ ۔فاحا نے بھی بلآخر بول دیا
“ہمیں اپنی بیٹی عزیز ہے ہم اُس کے کوئی دشمن نہیں یہ ہماری بیٹی ہے۔ ۔اسیر کو جانے کیوں بلاوجہ غُصہ آگیا تھا وہ اقدس کو خود کے علاوہ کسی اور کے ساتھ کلوز ہوتا دیکھ نہیں پارہا تھا ہلانکہ اُس کو خوش ہونا چاہیے تھا”لیکن جب سے وہ دُنیا میں آئی تھی اسیر نے اپنی زندگی اپنی مسکراہٹ ہر چیز اقدس سے وابستہ کردی تھی اور اب جب وہ تھوڑا فاحا کے قریب ہونے لگی تھی تو اسیر بے چین سا ہوگیا تھا”جبھی تو وہ اپنی بیٹی کو شیئر تک نہیں کرپا رہا تھا۔ ۔
“فاحا کو پتا ہے کہ اقدس آپ کی بیٹی ہے” سوہان آپو نے ہمیں جہیز میں نہیں دی اور فاحا آپ کی معلومات میں اضافہ کرتی جائے کہ آپ نے کہا تھا شادی کے بعد اقدس ہماری بیٹی بھی ہوگی اِس لیے ایسا رویہ روادار نہ رکھے۔ ۔فاحا نے اُس کو اِس بار گھورا
“یہ آپ ہم سے کس لہجے میں بات کررہی ہیں؟اسیر حیرت سے اُس کو دیکھنے لگا جو شادی کی پہلی رات اُس سے لڑنے کی تیاری میں تھی
“آپ کن نظروں سے فاحا کو دیکھ رہے تھے؟فاحا دوبدو بولی
“سوال کے بدلے سوال نہیں ہوتا۔ ۔اسیر چڑ پڑا
“آپ کی بات کا فاحا کے پاس کوئی جواب نہیں۔ ۔’خیر اگر آپ نے کچھ کھانا ہے تو بتائیے گا۔ ۔فاحا کو اچانک خیال آیا تو اُس سے کہا
“ہمیں آرام کرنا ہے اگر آپ کی اِجازت ہو تو کرلے؟ اسیر بالوں میں ہاتھ پھیر کر اُس سے بولا
“کرلے آرام فاحا کوئی لیڈی کانسٹیبل تھوڑئی ہے جس کو آپ کے سونے پر اعتراض ہوگا۔ ۔فاحا نے گویا اُس پر احسان کیا
“کہاں سوئے ہم؟ اسیر نے پوچھا
“جہاں آپ کا دل چاہے۔
“ہمارا دل چاہ رہا ہے ہم اپنے بیڈ پر سوئے لیکن آپ کا یہ پھیلا ہوا لہنگا کوئی اور داستان سُنا رہا ہے۔ ۔اسیر نے بڑے تحمل کا مُظاہرہ کیا تھا۔
“اُپس سوری۔ ۔فاحا نے بے ساختہ لب دانتوں تِلے دبائے تھے
“اقدس بابا کے پاس آؤ تاکہ آپ کی نئ مما اپنا لہنگا کیری کر پائے۔۔اسیر نے آگے بھر کر اقدس کو اپنی بانہوں میں بھرا اور چٹاچٹ اُس کے گالوں پر محبت سے بوسہ لیا
“ویسے آپ نے فاحا کو دیکھ کر کوئی رومانٹک لائن نہیں بولی۔۔۔فاحا کو اچانک خیال آیا تو اپنے دونوں ہاتھ کمر پر ہاتھ ٹِکاتی اسیر سے جواب طلب ہوئی
“ایسے کھڑی ہوئیں ہیں تو یقین جانے چائے کا کپ لگ رہی ہیں۔ ۔اسیر اُس کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائے بولا تو فاحا ہونک بنی اُس کو گھورنے لگی۔
“فاحا آپ کو چائے کا کپ لگ رہی ہے تو خود آپ کیا ہو؟ فاحا کا دل چاہا وہ اسیر کو بھسم کردے۔
“یہ تو اقدس کے بابا جان ہیں۔۔اقدس نے اسیر کے گالوں پر پیار کرتے ہوئے بتایا تو اسیر کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا
“اللہ اللہ اقدس آپ کتنی جلدی پارٹی بدل دیتی ہو۔ ۔فاحا کی شکل رونے جیسی ہوگئ تھی۔
“وہ ہم تو آپ دونوں کی طرف ہیں پارٹی کب بدلی۔ ۔اقدس جھٹ سے بولی
“میں جارہی ہوں۔ ۔فاحا اپنے دونوں ہاتھوں سے لہنگے کو تھام کر تھوڑا فرش سے اُپر اُٹھاتی واشروم کی طرف جانے لگی جب اسیر نے اُس کی کلائی کو اپنی گرفت میں لیا
“کہاں جارہی ہیں؟اسیر نے پوچھا
“واشروم جوائن کرینگے؟فاحا نے بڑی سنجیدگی سے بتانے کے بعد پوچھا تو اسیر نے سٹپٹا کر اُس کا ہاتھ چھوڑدیا تھا جس پر فاحا مسکراتی دباتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوتی اپنے حجاب سے پِن نکالنے لگی۔
“اقدس اب آپ سونے کی کوشش کریں۔ ۔اسیر اقدس کو بیڈ کے بیچوں بیچ سُلاتا اُس پر بلینکٹ سہی کرتا ہوا بولا تو اقدس نے مسکراکر کروٹ بدل لی تھی۔
“ہماری کوئی ہیلپ چاہیے۔ ۔؟اسیر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑا ہوتا آئینے میں اُس کا عکس دیکھ کر بولا”وہ آج پہلی بار فاحا کو بے حجاب کسی بھی ڈوپٹے کے بغیر دیکھ رہا تھا ورنہ اُس نے اُن تینوں بہنوں کو ہمیشہ اپنا سر ڈھانپتے ہوئے دیکھا تھا”میشا بھی چاہے کوئی پہنچی ہوئی چیز خود کو سمجھتی تھی اور اُس میں اعتماد بھی بہت تھا اور وہ فاحا اور سوہان کے برعکس زیادہ جینز پہنتی تھی لیکن حجاب پھر بھی اُس کے سر پہ موجود ہوتا تھا۔ “فاحا کی بھی جو بات اسیر کو زیادہ پسند تھی وہ اُس کا حجاب پہننا تھا چاہے وہ خود کو جتنا بھی لاپرواہ یا بے نیاز شو کرواتی لیکن وہ اپنی حدود سے اچھی طرح سے واقف تھی۔
“بالوں سے پِن نکال دے۔ ۔فاحا نے کوئی نخرہ کیئے بنا کہا تو اسیر نے اُس کے چہرے سے نظریں ہٹائے فاحا کے بالوں کو دیکھا جو جوڑے میں مقید تھے اور اُس کے اِطراف جتنی پنز تھی اسیر کو لگ رہا تھا جیسے اُس کے سر پہ اِتنے بال بھی نہیں ہوگے جتنی پنز فاحا بالوں میں لگا کر گھوم رہی تھی۔
“شیور”لیکن آپ اسٹول پہ بیٹھ جائے ورنہ کھڑا رہنے کی وجہ سے تھک جائے گی۔ ۔۔اسیر نے مسکراکر کہا تو فاحا نے اسٹول کو قریب کھینچا اور اُس پہ بیٹھ گئ تو اسیر ایک ایک کرکے اُس کے بالوں سے پِن نکالنے لگا جس میں اسیر کو بہت زیادہ وقت لگا تھا اور چڑچڑاپن بھی اُس کو ہونے لگی تھی لیکن کہا کچھ بھی نہیں تھا بلآخر وہ فاحا کے سر سے پنز کو نکال گیا تو فاحا کے بال جوڑے کی قید سے آزاد ہوتے گئے تھے۔
“آپ کے بال تو کافی بڑے ہیں ہمیں اندازہ نہیں تھا۔ ۔اسیر نے اُس کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر کہا تو فاحا جو اپنے ہاتھوں سے چوڑیاں اُتار رہی تھی چونک کر مرر میں اسیر کو دیکھنے لگی جس کی نظریں اُس کے بالوں میں اٹکی ہوئی تھی۔
“کیا آپ کو بڑے بال پسند ہوتے ہیں؟فاحا نے پوچھا
“ہاں تبھی تو ہم اقدس کے بال نہیں کٹواتے وہ تنگ ہوتی ہے پھر بھی۔۔۔اسیر نے کہا تو اُس کی نظروں میں اُبھرتی ستائش فاحا کو بیحد اچھی لگی
“سُن کر اچھا لگا کہ آپ کو فاحا کی کوئی چیز پسند آئی۔”فاحا اسٹول سے اُٹھ کر اُس کے سامنے کھڑی ہوتی بولی
“آپ کو ہم میں کیا پسند ہے؟اسیر نے جانے کیوں ایسا سوال کردیا جس کا اندازہ اُس کو خود بھی نہیں تھا۔
“فاحا کو۔؟اُس کے سوال پہ فاحا سوچ میں پڑگئ
“کیا زیادہ مشکل سوال پوچھ لیا ہے؟اسیر نے طنز پوچھا
“فاحا کو آپ کا اٹیٹیوڈ نہیں پسند بس ایک چیز پسند ہے۔۔۔فاحا ایک قدم اور اُس کے قریب ہوتی بولی تو اسیر نے اُس کو دیکھا جو اُس کے کندھوں تک بھی مشکل آرہی تھی۔
“کیا پسند ہے ہم نے بھی وہ پوچھا ہے۔ ۔اسیر نے کہا
“آپ کی شال۔ ۔فاحا نے بتایا
“ہماری شال؟اسیر ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا
“جی جب آپ اپنی شال ایک کندھے سے دوسری طرف کرتے ہیں تو فاحا کو اچھے لگتے ہیں۔ ۔فاحا نے اِس بار تھوڑا شرما کر کہا اُس کو اسیر سے اب کی تھوڑی جِھجھک محسوس ہوئی شاید دونوں کے درمیان بدلتے رشتے کا احساس اُس کو اب ہوا تھا۔
“ہمیں بھی آپ کی ایک چیز اچھی لگتی ہے۔ ۔اسیر نے مسکراہٹ دبائے کہا تو فاحا متجسس ہوئی
“کیا؟فاحا نے جاننا چاہا
“آپ کا یہ تِل۔۔اسیر نے اُس کے ٹھوڑی کے پاس بنے تِل پر انگھوٹا پھیرا
“یہ تِل؟فاحا کو یقین نہ آیا
“جی یہ تِل۔۔اسیر نے بتایا
“لیکن میں نے تو کبھی آپ کی نظریں اِس تِل پہ محسوس نہیں کی۔ ۔فاحا کہنا کچھ اور چاہتی تھی لیکن منہ سے پھسل کچھ اور گیا تھا۔
“ہم کیا کوئی تاروں ہیں جو ہر وقت آپ کے اِس تِل کو دیکھتے رہتے؟اسیر نے اُس کو گھورا
“فاحا کا مطلب تھا کہ آپ نے تو کبھی ہمارے تِل کی تعریف نہیں کی اور نہ ایسا کوئی احساس دِلوایا۔ ۔فاحا گڑبڑا کر بولی
“کیونکہ تب ہمارا آپ پر ایسا کوئی حق نہیں تھا۔ ۔اسیر نے شانے اُچکاکر جواب دیا
“اور اب؟فاحا نے بے ساختہ پوچھا
“اب تو حق ہر لحاظ سے ہے۔ ۔اسیر نے کہا تو فاحا کی پلکیں شرم سے جِھک گئیں تھیں”گالوں پہ شرم کے مارے گُلال بِکھر گیا تھا۔
“آپ کو فاحا سے محبت ہے؟اپنے اندر مچلتا سوال فاحا ہونٹوں پر لائی
“ہمیں فاحا کی محبت سے محبت ہے۔ ۔اسیر نے پہلے والا جواب دیا تو فاحا بے ساختہ ہنس پڑی وہ اگر الگ تھی تو اُس کا شوہر بھی کوئی سیدھا نہیں تھا جیسے کو تیسا ملا تھا تبھی تو اِظہار کرنے کا انداز بھی نرالہ تھا۔
“آپ کو فاحا سے پیار کب ہوگا؟فاحا نے پوچھا
“جب فاحا ہمیں ہم دونوں کا مکسچر والی بیٹی دے گی”جس کے گالوں میں ڈمپلز ہوگے ہماری طرح اور تھوڑی پہ تِل ہوگا آپ کی طرح” بات وہ آپ کے انداز میں کرے گی تو” ترزِ گفتگو ہمارے جیسے ہوگا۔ ۔”اصول پرست ہماری طرح ہوگی تو جگ جہاں کی معصوم آپ کی طرح ہوگی۔ اسیر نے گہری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو فاحا جو ایڑیوں کے بل اُپر ہوتی کان اُس کے ہونٹوں کے پاس کیے بڑے غور سے سُن رہی تھی جب ساری بات سمجھ آئی تو اُس کا پورا چہرہ دھواں دُھواں ہوگیا تھا۔ “وہ بنا اسیر سے نظریں ملائے اُس کو دھکا دیتی واشروم کی طرف بھاگی تھی” اور اُس کی ایسی اسپیڈ پر اسیر کا بے ساختہ قہقہقہ کمرے میں گونجا تھا جو واشروم کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی فاحا نے بھی بخوبی سُن لیا تھا جس پر اُس کے ہونٹوں پر بھی تبسم کِھلا تھا اور وہ پھر اپنا سرجھٹک کر سنک کے پاس کھڑی آئینے میں اپنا خوبصورت عکس دیکھنے لگی اُس کا ہاتھ بے ساختہ اپنی ٹھوڑی پہ موجود تِل پہ گیا تھا وہ بہت غور سے اُس کالے تِلے کو دیکھ رہی تھی یہ دیکھ کر اُس کو یاد نہیں آیا کہ اپنی اکیس سالہ زندگی میں اُس نے کب اِس تلے کو اِتنے انہاک سے دیکھا تھا جیسے وہ آج اِس وقت دیکھ رہی تھی۔ “کبھی بھی تو نہیں لیکن آج اُس کو اپنا یہ تِل بہت بھایا تھا۔جس کی وجہ اسیر ملک تھا۔
“گالوں پر ڈمپلز آپ کی طرح”ٹھوڑی پر تِل میری طرح” بات وہ میری طرح کریں لیکن اندازِ گفتگو اُس کا آپ جیسا ہوگا۔ “اصول پسند ہر ایک کا خیال رکھنے والا آپ کی طرح ہو تو دل میں مضبوط اِرادے بنانے والا میری طرح۔ ۔”فاحا کی طرح دل پھولوں کی طرح نرم رکھنے والا تو کبھی تیز تلوار کی طرح آپ کے جیسا۔۔”ظاہری طور پر آپ کی طرح ظالم تو مضبوط میرے جیسا اِتنا کہ غموں کو بھی ہنس کر جھیل دے۔۔”ہم دونوں کا مسکچر بیٹی نہیں بیٹا بھی ہوسکتا ہے۔۔فاحا آئینے میں اپنا عکس دیکھتی کہہ کر خود ہی اپنا چہرہ ہاتھوں میں چُھپائے شرما گئ تھی۔






کمرہ مین جلدی سے فوکس کرو”ہاں ہاں جلدی سے فوکس کرو یہ دیکھو ناقابلِ یقین چیز کہ یہاں لیڈی انسپکٹری جو پلس میں بولڈ خاتون بھی ہے وہ آج گھونگھٹ میں اپنا چہرہ چُھپائے مشرقی لڑکیوں کے رکارڈ توڑ رہی ہے۔ ۔۔آریان نے جو ڈر ڈر کر پہلی بار اپنے ہی کمرے میں پاؤ رکھا تھا اُس کو لگا تھا شاید اُس کا استقبال کافی بُرے انداز میں ہوگا کیونکہ وہ میشا سے ہر چیز کی توقع رکھتا تھا لیکن اُس کو لال ڈوپٹے میں اپنا چہرہ چُھپائے بیٹھا دیکھنا اُس کے لیے یقین کرنا مشکل سا تھا۔
“میشااااا
میشوووووو
ڈارلنگ اوہ دِلربا
آر یو دیئر؟ میشا کو چُپ سا کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر آریان کو اچنبھا ہوا تبھی اُس کے ہاتھوں میں کُھجلی کروانے لیے ایسے ناموں سے پُکارنے لگا لیکن میشا کی طرف سے کوئی بھی جواب اُس کو موصول نہیں ہوا تھا۔تو آریان تفتیش ہوئی
“یااللہ یہ کہی فوت تو نہیں ہوگئ” شادی کی خوشی تو مجھے بھی بہت ہے لیکن اللہ کا شکر ہے میں فوت نہیں ہوا۔ ۔آریان آہستہ سے چلتا ہوا بیڈ کے قریب ہوا
“میشو رانی کیا ہوگیا ہے کوئی ناراضگی ہے کیا؟”خُدارا اِس چُپی کی مار مجھے نہ مارو ورنہ میں لُٹ جاؤں گا برباد ہوجاؤں گا تباہ ہوجاؤں گا”بس فنا ہوجاؤں گا۔۔آریان ڈرامائی انداز میں کہتا بیڈ پر اُس کے سامنے بیٹھ گیا
“اوو تو تم چاہتی ہو میں تمہارا گونگھٹ اُٹھاؤ تو نو پروبلم میں یہ نیک کام ابھی کرلیتا ہوں۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی آریان نے اُس کا گھونگھٹ اُپر کرنے لگا
“آہ آہ امی
گھونگھٹ اُٹھنے پر جو آریان یہ تصور کر بیٹھا تھا کہ میشا کا پیار سے چہرہ نظر آئے گا لیکن اپنے سامنے اِسکلیٹو (skeleton)دیکھ کر اُس کے ہوش اُر گئے تھے جو بہت ڈراؤنا سا تھا اور اُس کو دیکھ کر آریان بے ساختہ بیڈ سے نیچے گِر پڑا تھا۔”دوسری طرف پردے کے پیچھے کھڑی میشا جو خود کو حجاب اور ہیوی جیولری سے آزاد کیے کب سے اُس کا ڈرامہ برداشت کررہی تھی۔”آریان کی چیخ پر وہ پردے سے باہر نکلتی زور سے قہقہقہ لگانے لگی کیونکہ اُس کی سوچ سے زیادہ آریان کی حالت خراب ہوئی تھی۔
“یہ کیا تھا۔۔آریان اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتا میشا کو گھورنے لگا
“اِس کو آسان اُردو میں ڈھانچہ کہا جاتا ہے۔۔میشا نے بڑی معصومیت سے بتایا
“بہت ہی کوئی بیہودہ مذاق تھا۔۔آریان اُٹھ کر اپنے ہاتھ جہاڑ کر ناگواری سے بولا تو اُس کا ایسا شدید ردعمل دیکھ کر میشا کی ہنسی کو بریک لگی تھی اور وہ آنکھیں چھوٹی کیے آریان کو دیکھنے لگی جس کے چہرے کے تاثرات خطرناک حد تک سنجیدہ تھے۔
“میں نے مذاق کیا تھا اور مذاق کو مذاق میں لو تو اچھا ہوگا۔ ۔”زیادہ میرے سامنے ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کوئی تمہیں۔ ۔میشا دانت پیس کر اُس کو دیکھ کر کہا
“تمہارا یہ مذاق آج ضروری تھا؟”آج ہماری اسپیشل نائٹ تھی اور تمہیں ایسے بے تُکے خیالات آتے کیسے ہیں؟آریان بازو سینے پر باندھ کر اُس سے جواب طلب ہوا
“آج تم کچھ زیادہ نہیں بول رہے؟ میشا بھی اُس کے انداز میں کھڑی ہوتی بولی
“میں زیادہ بول رہا ہوں اور جو تم نے کیا اُس کے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا؟ آریان تو جیسے تپ اُٹھا
“اوو تو تمہارا مطلب ساری غلطی میری ہے؟ “میری کیا غلطی بھئ؟” تمہیں دیکھنا چاہیے تھا نہ جس کے ساتھ تم رومانس کررہے ہو وہ تمہاری بیوی ہے یا کوئی (skeleton) میشا نے سارا الزام اُس پر ڈالا
“میں نے نہیں دیکھا کیونکہ یہ ڈھانچہ سیم ٹو سیم تمہاری طرح لگ رہا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ تمہارا جڑواں بھائی تھا اور تم نے اِس کو مار مار کر یہاں تک پُہنچایا ہے۔ ۔آریان نے دانت کچکچاکر کہا
“واٹ میری طرح؟میشا باقاعدہ چیخ پڑی تھی۔
“ہاں بلکل تمہاری طرح لیکن بیچارا بلاوجہ تمہارے ہاتھ آگیا اور تم نے اِس کو اِس وجہ سے مارا کہ یہ تمہارے ساتھ دُنیا میں کیوں آیا؟ “تمہیں تمہارے علاوہ اِس کا آنا اچھا نہیں لگا اور بیچارے کو اِس حال میں پہنچاکر اپنے سنگ لیکر گھوم رہی ہے شیم آن یو۔۔آریان نے سہی معنوں میں اُس سے حساب بے باک کیا تو میشا نے بازو چڑھائے
“یہ ڈھانچہ اب میں نے تمہارے سر پہ نہ مارا تو میں بھی میں نہیں۔ ۔میشا نے خطرناک تیوروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو آریان گڑبڑا کر راہِ فرار تلاش کرنے لگا۔
“دیکھو میشو رانی میں تمہارا شوہر ہوں اور میرا ادب کرنا تم پہ فرض ہے تم کیوں خود کو جہنمی بنا رہی ہو۔ ۔آریان نے اُس کو ڈرانا چاہا لیکن میشا اُس کی باتوں میں کہاں آنے والی تھی اُس نے ڈھانچہ لیا اور آریان کی طرف آنے لگی تھی کہ اُس کا پاؤ لہنگے میں اٹکا اور وہ دھڑام سے زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔”جس پر آریان جو کھڑکی سے کود کر خود کو میشا سے بچانے کی کوشش کررہا تھا اُس کو یوں بے ڈھنگے انداز میں گِرتا دیکھا تو پہلے زور سے اپنی آنکھوں کو میچا تھا لیکن پھر ایک آنکھ سے میشا کو دیکھا جس کے بالوں کا جوڑا جانے کیسے اُس کے گِرنے سے کُھل گیا تھا اور سارے بال کسی آبشار کی طرح اُس کے چہرے پہ گِرتے کسی ڈائن کا روپ اختیار کرگئے تھے”میشا نے قالین سے اپنا سراُٹھایا تو اُس کا پورا چہرہ بالوں کی آر میں چُھپا ہوا تھا بس لال رنگ کی لپ اسٹک سے سجے ہونٹ اُس کے ظاہر ہورہے تھے۔آریان نے اپنی ایک آنکھ سے اُس کا مکمل طور پر جائزہ لے لیا تھا اور اُس کا قہقہقہ چھوٹ گیا تھا۔،
“ہاہاہاہا او مائے گوڈ کیا لگ رہی ہو یار۔۔”اب دیکھا نہ شوہر کی نافرمانی کرنے کا انجام
آہ آہ بچاؤ
“آریان جو زور سے قہقہقہ لگاتا اُس کا مذاق اُڑانے میں مصروف تھا۔۔”وہ جہاں تھا اُس کو فراموش کیے کھڑکی سے اپنے ہاتھ اُپر اُٹھائے تو کلابازی کھانے کے اسٹائیل میں وہ بھی کھڑکی سے گِر پڑا تو یہ آخری الفاظ اُس کے منہ سے برآمد ہوئے۔۔”دوسری طرف کھڑکی سے اچانک آریان کو غائب ہوتا دیکھ کر میشا بھی اپنے گِرنے کا غم بھلائے اپنا لہنگا دونوں ہاتھوں سے سنبھالے گِرتی پڑتی کھڑکی کی طرف بڑھنے لگی اُس کو بس ایک بات کی فکر تھی کہ کہی وہ اپنی شادی کی پہلی رات بیوہ نہ ہوجائے۔
