Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 18)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 18)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“کلاس میں آنے کے بعد ایشال نے “زوہان کو تلاش کرنا چاہا جو اُس کو آج”عیشا کے ساتھ بیٹھا ہوا نظر آیا۔۔
“یہ لڑکی کون ہے؟ایشال نے اپنی دوست علینا سے سوال کیا
“کزنز ہیں یہ سب آپس میں۔۔”اور تمہیں پتا ہے جوائنٹ فیملی سسٹم ہے۔۔۔علینا نے اُس کے کان کے پاس جُھک کر رازدرانہ انداز میں بتایا تو وہ اُن دونوں پر ایک اچٹنی نظر ڈالے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئ۔۔”کچھ منٹس بعد اقدس بھی کلاس میں داخل ہوئی تھی”کیونکہ آج پہلی کلاس اُس کی تھی۔۔”اُس کو یہاں دیکھ اُن پانچوں کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی”یہ اُن کے لیے کسی سرپرائز سے کم نہ تھا۔۔”کیونکہ ایز آ لیکچرار وہ کس یونی میں ہے یہ بات”اقدس نے المان تک کو نہیں بتائی
“السلام علیکم ایورن ون ہمارا نام اقدس اسیر ہے”اور آج آپ سب کی نیو لیکچرار بھی۔۔۔اقدس ڈائس کے پاس کھڑی ہوتی اُن کو اپنا تعارف کروانے لگی تو سب نے اُس کو اُس کے سلام کا جواب دیا
“یہ ہمیں انگلش یا کوئی اور کلاس میں پڑھائے گی؟”ہلانکہ جیسے اِن کی لینگویج ہے ویسے میں اِن کو اُردو پڑھانا چاہیے تھا۔۔علینا نے ایشال کے کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں کہا تھا۔۔”جو اِس وقت زوہان کو دیکھ رہی تھی”جس کی نظریں”اقدس”پر تھی”وہ جان نہ پائی کہ لیکچر کے بجائے”زوہان لیکچر دینے والی کو اِتنا غور سے کیا دیکھ رہا تھا؟”پہلے حوریہ”اُس کے بعد عیشا اور اب یہ میم۔۔۔”ایشال کے اعصاب جھنجھلا اُٹھے تھے
“دوسری طرف خود پر اقدس کو کسی کو نظروں کا ارتکاز اچھے سے محسوس ہورہا تھا۔۔”اُس نے ایک طائرانہ نظر پوری کلاس میں ڈالی پھر زوہان کو دیکھا تو اُس کو پہلے سے خود کی طرف دیکھتا پایا پہلے پہل اُس نے”زوہان کو اِگنور کیا لیکن وہ باز نہ آیا تو اپنی کلاس کو اسٹاپ کرتی وہ زوہان کی طرف بڑھنے لگی۔۔”جو اُس کا انداز دیکھ کر زندگی میں پہلی بار ہڑبڑا گیا تھا
کیا دیکھ رہے ہو؟اُس کے پاس کھڑی ہوکر اقدس نے سنجیدگی سے سوال کیا تو وہ کنفیوز ہوتا کھڑا ہوا
“وہ میں۔ ۔۔زوہان سے کچھ بولا نہیں گیا
“وہ میں کیا؟ اقدس کی سنجیدہ نظریں اُس پر مرکوز تھی۔”اور کلاس میں بیٹھے اسٹوڈنٹس کی بھی
“وہ میں آپ کو دیکھ رہا تھا۔ ۔بے اختیار اُس کی زبان سے پھسلا”اقدس کا خود کے ساتھ ایسا انداز پہلی بار دیکھ کر اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہے جبکہ اُس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑتی دیکھ کر باقی اُن چاروں کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ کا احاطہ تھا
“کیا کہا؟ اقدس نے اُس کو گھورا
“میرا مطلب وہ میں پڑھ رہا تھا۔ ۔۔زوہان نے جلدی سے بہانا تراشا
“کیا پڑھ رہے تھے؟سنجیدگی سے اگلا سوال کیا گیا
“آپ کو۔ ۔ایک بار اُس کی زبان نے دغابازی کی تو کلاس میں اسٹوڈنٹس کا قہقہہ چھوٹ گیا تھا”جبکہ ایک ایشال تھی جس نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زبردستی سے کس لیا تھا
“المان اسیر
عیشا آریان
سکندر عاشر
“رایان آریان
اور اسپیشلی آپ زوہان زوریز آپ پانچوں کلاس سے باہر جاؤ۔۔بازو سینے پر باندھتی اقدس نے اُن کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا جس پر وہ جو مسکرانے میں مصروف تھے”حیرت سے گنگ ہوتے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے”اُن کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اقدس نے بھلا اُن کو کس جُرم کی پاداش میں سزا کا حُکم سُنایا تھا
“لیکن آپو ہمارا کیا قصور؟المان احتجاجًا بولا” وہ اِس وقت فراموش کرگیا تھا کہ سامنے کھڑی اُس کی بہن ابھی کے لیے اُس کی بہن نہیں بلکہ میم تھی
I’m your mam,got it.
اقدس نے تنبیہہ کرتی نظروں سے المان کو دیکھ کر کہا تو وہ بیچارا شرمندہ سا ہوگیا
“پیاری میم ہمارا کیا قصور ہے؟رایان نے معصومیت کے تمام رکارڈ توڑ کر سوال کیا
“کلاس کے دوران یوں ہونٹوں پر مسکراہٹ کا کیا مطلب اخذ کرے ہم؟اقدس نے اِس بار اپنی توپوں کا رُخ رایان پر کیا
“لیکن میم کلاس تو آپ نے اسٹاپ کرلی تھی”اور تفتیشی پولیس آفسرنی بنی ہوئیں تھیں۔۔سکندر نے بھی اپنا بولنا ضروری سمجھا تھا
I agree with you.
کندھا تھپتھپاکر عیشا نے سکندر کو اپنے ہونے کا یقین دلوایا
“آل رولز ایکوئل ٹو آل۔۔اِس لیے آپ لوگ ہماری کلاس سے آؤٹ ہوجائے۔۔۔اقدس نے عیشا کو گھور کر کہا
“جیسا آپ کہو۔۔”ہم بھلا کون ہوتے ہیں”آپ کے حکم سے انحراف کرنے والے۔۔۔المان نے فرمانبردار ہونے کا ثبوت دیا ساتھ میں زور کا ٹھوکا بھی رایان کی کمر پر مارا
“اوئی ماں میری کمر۔۔اپنی کمر پر ہاتھ رکھتا رایان درد سے بُلبُلا اُٹھا تو پورا کلاس قہقہقوں سے گونج اُٹھا
“انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ پوری کلاس کو کلاس سے بے دخل کیا جائے۔۔عیشا نے بہت سنجیدہ انداز میں کہا تو اُس کی بات پر جن نظروں سے”اقدس نے اُن کو دیکھا ایسے میں وہ بیچارے گڑبڑا سے گئے
Every czns,please come out with me.
سٹپٹائے لہجے میں کہتی عیشا باہر کو بھاگی تھی۔۔”اور وہ چاروں بھی باری باری کلاس سے نکلنے لگے تو اقدس نے اُن کے جانے کے بعد دوبارہ سے کلاس شروع کی
“یار یہ کزنز اور بہنیں جب ٹیچر بنتی ہیں تو سب سے پہلے بینڈ اپنے کزن کی بجاتی ہیں۔۔”اور انصاف کے چکر میں اُن کی ہوا ٹائیٹ کرجاتے ہیں۔۔باہر نکلتے عیشا نے سرجھٹک کر کہا تھا
I totally agree with you.
زوہان اُس کی بات کے جواب میں بولا تو عیشا کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا اور وہ حیرت سے زوہان کو دیکھنے لگی جو ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں پھسائے چل رہا تھا
“خُدا کی قدرت ہے بھئ”جو آج زوہان زوریز نے ہم ناچیز کی بات سے اتفاق کیا ہے۔۔عیشا ہنس کر بولی تو رایان بھی ہنس پڑا
“کلاس سے باہر نہیں نکالنا چاہیے تھا۔۔سکندر نے بھی کہا
“ویسے توں اُن کے چہرے کو غور سے دیکھ کیوں رہا تھا؟المان نے پرسوچ لہجے میں زوہان سے پوچھا
“کیا تم لوگوں نے غور نہیں کیا؟زوہان نے اُلٹا اُن سے سوال کیا
“نہیں کیونکہ امی حضور ہماری پولیس میں ہیں”لیکن تفتیش بھری نظریں وراثت میں ہمیں ملنے کے بجائے تمہیں مل گئ تھیں۔۔رایان نے اُس کے کندھے سے اپنا کندھا ملاکر چلتے کہا
“آج اُنہوں نے اپنے چہرے کی سائیڈ پر نمایاں ہوتے نشان کو چُھپالیا تھا۔۔”اور ایسا اُنہوں نے پہلی بار کیا ہے تو مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ اقدس آپو نے ایسا کیوں کیا؟زوہان کا انداز پرسوچ تھا
“اگر ایسا ہے تو کلاس جب ختم ہوجائے گی اور آپو اقدس اپنے آفس جائے گی تو تب ہم پوچھ لینگے۔۔۔عیشا شانے اُچکاکر بولی تبھی اُس کا پاؤ کسی چیز سے اٹکا تھا اور گِرنے لگی تھی”جب پاس گُزرتی لڑکی کا سہارہ لیتی وہ خود کو گِرنے سے بچا گئ تھی”لیکن وہ لڑکی دھڑام سے نیچے گِری پڑی تھی
“تم ٹھیک ہو؟زوہان نے جلدی سے آگے بڑھ کر عیشا سے پوچھا”جبکہ پوچھنا اُس کو کسی اور سے چاہیے تھا
“اندھی ہو کیا؟وہ لڑکی جبکہ اُپر اُٹھتی عیشا کو گھور کر بولی
“آئے ایم ناٹ اندھی۔۔”یو آر اندھی۔۔عیشا بھی جواباً اُس کو گھور کر بولی
“واٹ؟وہ لڑکی حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی
“سوری ٹو سے پر ہماری کزنز کی انگلش کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے۔۔المان نے عیشا کو طنز نظروں سے دیکھ کر اُس کو بولا
“تمہاری ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہوگی۔۔۔عیشا کا دماغ گھوم گیا تھا
“ریئلی لیکن مظاہرہ تو ایسا کچھ تم کررہی ہو۔۔”یہاں بھی اور کلاس میں بھی کوئی ایسا سین تھا۔۔۔المان باز نہ آیا تھا
“میری انگلش پر غور و فکر کرنے سے اچھا ہے”تم خود پر غور کرو۔۔”لندن جانے کی تیاری میں ہو نہ تو تمہیں انگلش ضرور سیکھنی چاہیے۔۔”کیونکہ وہاں کوئی تمہارا اُردو گانا سُننے سے تو رہا۔۔۔عیشا نے کہا تو اِس بار ہر کوئی چونک کر المان کو دیکھنے لگا جو اپنی جگہ خود بھی کچھ حیران تھا
“مطلب مان انگریزی سونگ سِنگ کرے گا؟رایان عادت سے مجبور اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اُن سے پوچھنے لگا
“لندن میں میرا نہیں خیال کہ کوئی اُردو سونگ سُنتا ہوگا۔۔۔سکندر نے بھی اپنی رائے کا اِظہار کیا
“لیکن انگریزی گانے کا تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔المان تھوڑا پریشان آواز میں بولا
“موصوف بول تو ایسے رہا ہے جیسے اِس کے جانے کی دیر ہے”اور لندن والے ایک بڑا سا سِنگنگ کُنٹریکٹ اِس کو دینگے۔اور اب اِس کو یہ فکر لاحق ہوئی ہے کہ وہ انگریزی گانا گائے کا کیسے؟”اپنی آواز کو وہاں سیٹ کیسے کرے گا؟”ابے گونچو تُجھے تو وہاں پہلے کلاسس لینی ہے نہ کونسا کسی کانسرٹ میں گانا سِنگ کرنا ہے۔۔”عیشا بھگو کر اُس پر طنز کے تیر پِھیرتی آخر میں اُس کی عقل پر ماتم کیا
“مجھے سب پتا ہے”تمہیں کچھ بھی ایکسپلین کرنے کی ضرورت نہیں۔۔المان اُس کی باتوں کو سن کر اپنی جگہ پہلو بدلتا رہ گیا تھا”جبھی خود کو کمپوز کرتا ہوا اُس کو بولا
“نظ
“گائیز چُپ کرجاؤ تم دونوں۔۔”ہر وقت کی “توں توں میں میں بھی اچھی نہیں۔۔رایان نے اُن دونوں کو ٹوکا
“میرے خیال سے ہمیں اپنی دوسری کلاس میں جانے کی تیاری کرنی چاہیے۔۔زوہان نے کہا
“پہلی ختم ہوجائے تب نہ۔۔۔سکندر نے کہا تو باقیوں نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کی تھی









“اِتنا کچھ ہوگیا ہے اور توں اُس کے باوجود پرسکون ہے۔۔۔علینا حیرت سے ایشال کا چہرہ تکتی بولی”جس نے ابھی اُس کو صبح کا سارا واقعہ سُنایا تھا
“میں سکون میں کیوں نہ رہوں؟”کونسا میں نے کچھ کیا ہے۔۔”جو کچھ بھی کیا ہے۔۔”وہ آتش لُغاری نے کیا ہے۔۔ایشال کا اعتماد قابلِ دید تھا
“ایش یونی میں موجودہ لوگ اندھے نہیں ہیں۔۔”اُن سب نے تمہیں حامد پر وار کرتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔علینا نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا
“کبھی کبھار آنکھوں دیکھا بھی کچھ سچ نہیں ہوتا۔۔”تم کچھ وقت تک وقت انتظار کرو۔۔”پھر جس طرح جنگل میں آگ پِھیلتی ہے”یہاں یونی میں یہ بات ہر ایک کے منہ میں ہوگی کہ”دا سن آف آفاق لُغاری
“یار تم لوگوں کو پتا ہے۔۔”آتش لُغاری یہاں یونی میں آیا تھا اور اُس نے بہت بے رحمی سے حامد پر وار کیا ہے۔۔ایشال ابھی کچھ کہنے والی تھی”جب اُس سے پہلے وہاں ایک لڑکی نے آکر بتایا تو علینا خاصی حیران نظروں سے ایشال کو دیکھنے لگی”جس کے چہرے پر عجیب قسم کی مسکراہٹ تھی
“کیا تم نے مجھ سے جھوٹ بولا؟علینا نے آس پاس سے ہوتے شور سے اکتا کر ایشال سے سوال کیا
“میں جھوٹ نہیں بولتی تم سے۔۔ایشال نے شانے اُچکاکر اُس سے کہا”تو علینا بس اُس کو دیکھتی رہ گئ جو اُس کی سمجھ سے باہر تھی۔








اقصیٰ بے بی کو اُن کے فادر لینے آئے ہیں۔۔پروفیسر نے ابھی کلاس دینا شروع کی تھی جب پیون نے آکر اُن سے کہا تو لفظ” بے بی”پر پورا کلاس کھی کھی کرنے لگا
“اقصیٰ بے بی کون ہے؟ پروفیسر نے پوری کلاس میں نظریں ڈورائی
“اقصی بے بی تو نہیں البتہ عیشا بے بی موجود ہے اِن کو لے جائے۔ ۔۔المان نے عیشا کی طرف اِشارہ کرکے کہا تو اسٹوڈنس کا قہقہقہ چھوٹ گیا تھا
“تم خود ہوگے بے بو۔ ۔عیشا نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو گھورا
“اچھا پر حرکتیں تو تمہاری اپنی ایسی ہیں۔۔۔المان باز کہاں آنے والا تھا
“سائلنس۔۔۔پروفیسر نے اُونچی آواز میں اُن کو تنبیہہ کیا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو گھوریوں سے نواز کر چُپ ہوگئے تھے








“سر آپ کے لیے فون ہے۔۔۔آتش اپنے کمرے میں بیٹھا ڈرنک کرنے میں مصروف تھا”جب ایک ملازم نے آکر اُس کو بتایا
“تم سب سے میں نے کتنی بار کہا ہے”میرے کمرے میں تب تک نہ آیا کرو”جب تک میں خود آواز دے کر نہ پُکاروں۔۔۔۔آتش اُس کو گھور کر سنجیدگی سے بھرپور آواز میں بولا
“کال ضروری تھی تو تبھی۔۔۔ملازم بیچارا گڑبڑا سا گیا
“کس کی کال ہے؟آتش نے پوچھا
“بڑے صاحب کا۔۔۔اُس نے بتایا تو آتش نے سیل فون پاس لینے کا اِشارہ کیا
“ہیلو
“تم نے کیا کردیا ہے یہ؟”آتش تم دونوں کو کونسی لینگویج سمجھ میں آتی ہے؟دوسری طرف آفاق لُغاری اُس پر بھڑس پڑا تھا
“میرے پیچھے جو جاسوس لگے ہوئے ہیں”اُنہوں نے آپ تک خبر پُہنچادی کول۔۔۔آتش ہنس پڑا
“میں بہت سنجیدہ ہوں آتش۔۔”تمہاری ٹِکٹ میں نے بُک کروالی ہے تم آج کی فلائیٹ سے پاکستان سے باہر جانے والے ہو۔۔۔آفاق لُغاری نے دو ٹوک لہجے میں اُس سے کہا
“ڈیڈ میری کوئی غلطی نہیں”سارا کچھ کرنے والا وہ حامد تھا۔۔”اور میں آتش ہوں”آتش لُغاری کسی سے ڈرتا نہیں ہوں میں۔۔۔آتش نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا
“تم ڈرتے ہو یا نہیں”فلحال میں ایسی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ تمہاری بہادری کے قصیدے سُنوں۔۔”ایک گھنٹے بعد کی فلائٹ ہے تمہاری جلدی سے اپنی تیاری پکڑو۔۔آفاق لُغاری اُس کی کوئی بھی بات سُننے کے موڈ میں نہ تھے
“میں یہاں سے کہی نہیں جاؤں گا۔۔”آپ کو ہوگا ڈر دو ٹکے کی پولیس کا لیکن مجھے نہیں ہے۔۔آتش بھی اپنی بات پر ڈٹ کر کھڑا ہوا
“مجھے پولیس کا ڈر نہیں ہے”تمہارے اُپر آئے دن بنتے اسکینڈلز اور تمہاری اِس حرکت نے آگ میں پیٹرول کا کام کیا ہے۔۔”الیکشن قریب ہے اور میں اِس وقت کوئی بھی رسک افورڈ نہیں کرسکتا۔۔”یہ بات تم اپنے ذہن میں اچھے سے بیٹھا لو۔۔آفاق صاحب نے کہا
“ٹھیک ہے میں آپ کی بات کو مان لیتا ہوں۔۔”لیکن میں زیادہ دیر یہاں سے دور نہیں رہوں گا۔۔”کیونکہ آلریڈی میری زندگی کے قیمت سال آپ نے ضائع کرلیئے ہیں۔۔آتش نے کہا
“اگر تمہیں پاکستان سے دور نہ رکھتا تو ایش اور تم ایک دوسری کی جان لے لیتے۔آفاق لُغاری نے کہا
“ایسی بھی کوئی بات نہیں تھی”ہم کوئی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہ تھے۔۔آتش نے سرجھٹکا
“ایش تو ابھی بھی تمہارے خون کی پیاسی ہے”برحال تم بس یہاں سے جانے کی تیاری پکڑو۔۔”اور تب تک نہ آنا جب تک میں یہاں سب کچھ فِگر آؤٹ نہ کرلوں۔۔آفاق لُغاری نے کہا
“فِگر آوٹ کیا کرنا ہے؟”میں نے سب کچھ آپ کو بتاچُکا ہوں۔۔آتش بیزارگی سے بولا
“تمہیں کچھ نہیں پتا”چھوٹی چھوٹی چیزیں ہمارے لیے کس قدر بڑے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔۔آفاق صاحب نے سرجھٹک کر کہا تو آتش نے گہری سانس اپنے اندر کھینچی
“اچھا ویسے ایک بات پوچھنا تھی۔۔اپنی بیئرڈ پر ہاتھ پھیر کر آتش نے کہا
“پوچھو۔۔آفاق لُغاری نے کہا
“اب اِس وقت ہوٹل کے کونسے روم میں ہیں؟”آئے مین آپ کو اپنی سرگرمیوں پر بھی زرا نظرثانی کرنی چاہیے۔۔”یو نو نہ الیکشن قریب ہے اور میرا مفید مشورہ آپ کو یہی ہوگا کہ خود پر ایسا کوئی رسک نہ لے۔۔”یو آلسو نو دیٹ نہ کہ میڈیا والے ہر وقت ہماری تانک میں ہوتے ہیں۔۔۔اگر پھر آپ کو نازیبا حالت میں کسی کے ساتھ دیکھ لیا تو۔۔”یو نو نہ واٹ آئے مین؟آتش نے بات کے احتتام پر اُن کو تپانا ضروری سمجھا تھا جس میں سو فیصد وہ کامیاب بھی ہوچُکا تھا
“آتششششش
آفاق صاحب نے دانت پیس کر کھینچ کر اُس کا نام لیا تھا
“بائے بائے انجوائے یوئر ڈے۔۔آتش اپنے مقصد میں کامیاب ہوا تو اُس کو گونا سکون سا ملنے لگا تھا تبھی کال ڈراپ کرتا زندگی سے بھرپور انگرائی لی تو نظر سامنے ہونک زدہ کھڑے ملازم پر پڑی
“تم ابھی تک یہاں کھڑے ہو؟آتش نے اُس کو کڑے تیوروں سے گھورا جو ابھی تک بے یقین سا تھا کہ”سامنے بیٹھے شرٹ لیس آتش نے اپنے باپ سے ایسی گفتگو کی ہے
“مم مم
“بکری کی طرح “میں میں کرنا بند کرو”اور جاؤ یہاں سے۔۔اُس کو ہکلاتا دیکھ کر آتش نے اُس کو جانے کا بولا
“آپ کو پیکنگ نہیں کروانی؟ملازم نے کہا
“نہیں۔۔آتش نے انکار کیا
“تو کیا آپ خالی ہاتھ جائینگے؟وہ مزید حیران ہوا
“ہاں میں خالی ہاتھ جاؤں گا۔۔”اینی پروبلم؟آتش نے آخر میں اُس سے سوال کیا
“لیکن آپ پہنے گے کیا وہاں؟وہ ابھی تک کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا
“لندن میں لوگ کپڑے نہیں پہنتے۔۔۔آتش نے بڑی سنجیدگی سے بتایا تو وہ سٹپٹاتا اُس کے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
“اُس کے جانے کے بعد آتش بھی اپنی جگہ سے اُٹھتا فریش ہونے کی نیت سے واشروم چلاگیا تھا۔








“تم لوگ اپنا سامان باندھ لو۔۔”کچھ دنوں کے لیے تم سب حویلی میں رہو گے۔۔۔۔میشا نے”کمبائن اسٹڈی کرتے”سکندر”زوہان”عیشا اور رایان سے کہا
“ارے واہ لیکن کیوں؟”رایان نے پرجوش ہوکر پوچھا
ہاں پُھوپھو اقدس آپو”مان اور ماہا بھی یہی ہیں پھر ہم وہاں کیوں؟سکندر کو بھی یہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا
“مجھے اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے گھر سے دور رہنا پڑے گا۔۔”سوہان بھی زوریز جیجو کے ساتھ شہر سے باہر جانے والی ہے”کسی میٹنگ کے سلسلے میں۔۔”باقی رہا آریان تو وہ بھی میرے ساتھ آئے گا۔۔ایسے میں یہ تینوں اکیلے تو یہاں ہونے سے رہے جبھی اپنے ننہال جائے گے۔۔”اور تم بھی اِن کے بغیر الون رہو گے تو اچھا ہے تم بھی اپنے ننھال جاؤ۔۔میشا نے سارا کچھ اُس کو تفصیل سے بتایا
“لیکن خالہ جان ہم یہاں رہ سکتے ہیں۔۔اِس میں مسئلے والی تو کوئی بات نہیں۔۔زوہان کو یہ کچھ خاص سمجھ میں نہیں آیا
“ہاں اور اگر بات اکیلے رہنے کی وجہ سے ہے تو ہم عاشر ماموں کی طرف بھی تو جاسکتے ہیں۔۔۔عیشا نے بھی اپنی رائے کا اِظہار کیا”کیونکہ اُس کو گاؤں جانا کچھ خاص پسند نہیں ہوتا تھا
“وہاں تم لوگ نہیں رہ سکتے۔۔۔”تم تین ہو اور کوئی خالی کمرہ وہاں نہیں۔۔۔میشا نے”سکندر کی موجودگی میں محتاط انداز میں کہا”تاکہ وہ بُرا نہ مان جائے
“کتنے دن قیام کرنا ہوگا؟عیشا نے بیزای سے پوچھا
یہی کوئی تین چار دن۔۔۔میشا نے بتایا
“اقدس آپو والوں کے لیے جو ماموں جان نے اپارٹمنٹ لیا ہے”وہاں رہنا پاسبیل نہیں کیا؟”مطلب گاؤں ہی جانا۔۔سکندر کچھ سمجھ نہیں پایا تھا
“تم لوگ اِتنے شوق سے وہاں جاتے ہو”اور جب میں بول رہی ہوں”تو سب کی شکلیں لٹک سی گئ ہے۔۔”بچے تو ترستے ہیں”اپنے ننھال دودھیال جانے کے لیے۔۔میشا نے اِس بار اُن سب کو گھور کر کہا
“بول تو آپ ایسے رہی”جیسے وہاں ہمارے استقبال کے لیے لائنیں جمع ہوتی ہے۔۔”بس ایک خالہ ہوتیں ہیں۔۔عیشا نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا
“تمہاری زبان آجکل کچھ زیادہ چلنے لگی ہے۔۔۔میشا نے اُس کو گھورا
“جاندار ہے چلے گی تو سہی نہیں۔۔عیشا نے اُس کی بات ہوا میں اُڑائی
“جلدی بس تم سب جانے کی تیاری پکڑو۔۔۔میشا آخری بار کہتی لاؤنج سے چلی گئ تو وہ بھی دوبارہ اپنے کام میں جُت گئے”جو اِس وقت پڑھنا تھا۔۔








“آج وہ بہت سالوں بعد پاکستان آیا تھا۔۔”کیونکہ آج ایک بار پھر پاکستان کو اُس کی ضرورت تھی”تو کیسے ممکن تھا کہ وہ پاکستان نہ آتا۔۔”چاہے اُس کا تعلق پاکستان سے پہلے کبھی نہ تھا۔چاہے اُس کی پیدائش بھی پاکستان میں نہیں ہوئی تھی”لیکن اُس کو محبت تھی پاکستان سے” جس کو اُس نے اپنا بنالیا تھا”اور اب اُس کو عشق تھا اپنے وطن سے اُس کی مٹی سے”کیونکہ اِس مُلک نے اُس کو بہت کچھ دیا تھا۔۔
“غزلان جیسا دوست دیا تھا۔۔”سیدھی راہ پر چلنے کے لیے مسیحا بن کر اُس کی زندگی میں”بالاج سکندر اور عریش اشرف آئے تھے”جنہوں نے اُس کو ثابت قدم رکھا اُس کو زندگی کے کسی موڑ پر بھٹکنے نہ دیا تھا۔۔”اور ایک بات کہ اُس کو یہاں اُس کی کرلی گرل ملی تھی”یہاں سے تعلق اُس کا گہرا تھا۔۔”یہی سب سوچتے ہوئے اُس نے اپنے چہرے پر ماسک سہی کیا اور اپنا سرجھکاکر اپنے ساتھ چلتے ہوئے چھ سالہ بچے کو دیکھا جو کوئی اور نہیں تھا”بلکہ ایک پردہ نشین اور اُس کی کرلی گرل کی محبت کی نشانی اُن کا بیٹا تھا۔۔”زاویان زاویار اسحاق خانزادہ تھا۔۔”جس نے اپنے نین نقش “بالوں کا رنگ آنکھوں کا رنگ تو اپنے باپ سے چُرایا تھا پر مزاج اُس کو ابھی سے آدھا آدھا اپنے ماں باپ سے ملا تھا۔۔”کبھی خوش مزاج اپنی ماں جیسا تو کبھی سرد مزاجی میں اپنے باپ کے جیسا “اور اِس وقت وہ اُس کے ہاتھ کو پکڑے اپنی گول مٹول آنکھوں کو گُھوماتا ایئرپورٹ کا پوری طرح سے جائزہ لے چُکا تھا”اُس کی آنکھوں میں ایک چمک سی تھی
زاوی۔۔۔۔زانوں کے بل اچانک وہ اُس کے سامنے بیٹھا
“یس مسٹر پردہ نشین۔۔۔وہ اُس کی طرف متوجہ ہوا تو بھوری آنکھوں نے اُس کو گھورا
I’m your dad.
“زاویار نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا”ایک دُنیا تھی جو اُس سے ڈرا کرتی تھی”اور ایک یہ اُس کا بیٹا تھا جو مجال تھی جو اُس کے روعب میں آتا
That’s time you covered your face,so you are pardanasheen,lutrum putrum
“زاویان نے اپنی آنکھوں کو گُھماکر کہا
“یہ ضروری ہے۔۔زاویار نے کہا
“واٹ ایور مجھے کرلی گرل نے کہا تھا جب جب آپ ماسک لگاؤ”میں آپ کو تب تب”پردہ نشین بولوں تاکہ پھر آپ کو اُس کی یاد ستائے اور مجبوراً آپ کو اُن کو بھی یہاں بُلوانا پڑے گا۔۔زاویان شانے اُچکاکر بولا
“وہ تمہاری ماں ہے۔۔۔”یوئر موم۔۔زاویار نے تپ کر کہا
“آے نو۔۔زاویان نے جواباً فوراً سے کہا
“اگین اُس کو”کرلی گرل مت بولنا اپنی کرلی یہاں کوئی اور تلاش کرو۔۔۔زاویار نے جلے کٹے انداز میں کہا
“یہ میری کرلی گرل اور زاوی کا معاملہ ہے میں اُس کو جو چاہے کہہ سکتا ہوں۔ زاویان اپنی جگہ بضد رہا
“میری بیوی کو کرلی گرل مت کہنا وہ تمہاری ماں ہے۔۔”گاٹ اِٹ۔۔۔زاویار نے جتایا
“آپ بھی تو اُس کو بولتے ہو۔۔زاویان بُرا مان گیا
“میں بول سکتا ہوں”کیونکہ میری بیوی ہے وہ۔۔۔زاویار نے باور کروایا
“میں بھی بول سکتا ہوں”کیونکہ وہ میری ماں ہے۔۔”یو گاٹ اِٹ۔۔زاویان بھی ترکی پر ترکی بولا
“زاوی۔۔۔۔زاویار نے ضبط سے اُس کا نام لیا”جیسے اکثر وہ “راحت کا لیا کرتا تھا
“ُپردہ نشین۔۔۔زاویان آگے آتا اپنا ماتھا اُس کے ماتھے سے ٹکراتا ہوا بولا تو زاویار نے ہلکا سے اپنا ماتھا اُس کے ماتھے پر مارا
“ویری بیڈ۔۔اپنا ماتھا سہلاتا زاویان اُس کو تاسف سے دیکھنے لگا
“بی سیریس اور میری بات سُنو۔۔۔زاویار نے سنجیدگی سے کہا
سیریس لوگ کچھ بھی نہیں سُنا کرتے”بکاز وہ سیریس ہسپتال کے بیڈ پر ہوتے ہیں”کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔۔”زاویان نے اُس کی بات پر شانے اُچکاکر بولا
“مجھے کچھ کام ہے یہاں”تم یہی رہنا جب تک میں نہ آؤں۔۔۔زاویار اُس کی بات پر سرجھٹک کر بولا
کال می”آپ”۔۔یہاں وہاں دیکھتا زاویان بولا
“مجھے کچھ ضروری کام ہے یہاں برائے مہربانی آپ اپنی تشریف کا ٹوکرا کہی اور نہ لیجئے گا۔۔زاویار نے دانت پیس کر کہا
“OK OK I understand,you can go now.
“زاویان نے گویا اُس پر احسان کیا”زاویار اُس کا ماتھا چومتا وہاں سے چلاگیا۔۔’جبکہ چھ سالہ زاویان وہاں اِس نئے”مُلک نئ جگہ میں تنہا پرسکون کھڑا تھا۔۔
“دوسری طرف “آتش لُغاری ببل چباتا ایئرپورٹ پہنچا تو اُس کی نظر ایک خوبصورت بچے پر پڑی”جو بازوں سینے پر باندھے بریف کیس کے اُپر بیٹھا یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔۔۔”آتش نے اُس کے آس پاس کسی اور کو نہ دیکھا تو کچھ سوچتے ہوئے اُس نے اپنے قدم اُس کی طرف بڑھائے
“ایسا نہیں تھا کہ اُس کو بچوں سے کوئی خاص لگاؤ تھا بس آج اُس کو اچھائی کا کیڑا کاٹنے لگا تھا”یا پھر اُس کے تارے گردش میں تھے”جو وہ اُس بچے تک پہنچا
لِٹل چیمپ کیا تم کھوگئے ہو؟آتش زانوں کے بل اُس کے پاس بیٹھتا پوچھنے لگا تو اُس نے اپنی بھوری گول مٹول آنکھوں کو گُھومایا تھا جیسے اُس کو ایسا سوال پسند نہیں آیا تھا’یا اُس کو کسی اجنبی کا یوں مُخاطب ہونا پسند نہیں آیا تھا
“بلکل بھی نہیں “میں کونسا بچہ ہوں جو کھوجاؤں گا؟”میرا ڈیڈو کھوگیا ہے۔۔”کیا آپ نے اُس کو کہی دیکھا ہے؟وہ سیم میرے جیسا نظر آتا ہے۔۔”لیکن اُن کا چھ فٹ سے نکلتا قد”کسرتی بازوں اور چوڑا سینہ ہے”آنکھوں کا رنگ بھورا ہے”جبکہ چہرے کی رنگت ہماری طرح گوری ہے۔۔۔ایک نظر اُس پر ڈالتا وہ بتانے لگا
“واؤ تو یعنی تمہارا باپ بچہ ہے جبھی وہ کھوگیا ہے۔۔آتش اُس کے جواب پر سمجھنے والے انداز میں بولا
“میں نے ایسا تو نہیں کہا کہ میرے ڈیڈو بچے ہیں”وہ اگر چائلڈ ہوتے تو اُن کا میرے جتنا چائلڈ نہ ہوتا۔۔۔وہ خاصے ناگوار لہجے میں بولا
“نام کیا ہے تمہارا؟آتش نے ہاتھ آگے کرکے اُس کے بھورے بالوں کو بگاڑا
Zaawyaan son of zaawyaar ishaaq khanzada.
“اُس نے بتایا جبھی کسی نے اُس کو بانہوں میں اُٹھایا تو بغیر دیکھے وہ جان گیا کہ ایسی جُرئت کرنے والا کون ہوگا”تبھی اُس کے معصوم خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ نے احاطہ کرلیا تھا
“تو یہ تمہارا بیٹا ہے۔۔۔آتش سیدھا کھڑا ہوتا پوچھنے لگا جس کے چہرے پر بلیک ماسک تھا۔۔”اگر زاویان کے چہرے پر مسکراہٹ نہ ہوتی تو وہ کچھ اور سمجھا
“تم نہیں آپ۔۔۔۔جواب میں سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں باور کروانے والے انداز میں وہ محض اِتنا بولا
“واٹ ایور یہ تمہارا بیٹا ہے؟آتش نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر اپنا سوال دوہرایا تو ماسک سے نمایاں ہوتیں آنکھوں نے آتش کو گھورا تھا
“نہیں تو میں آپ کا بیٹا ہوں”بھول گئے بابا آپ نے مجھے آج سے چھ سال قبل دبئ کی خوابناک سڑکوں پر تن تنہا چھوڑ دیا تھا”گُلابی کلر کا بے بی کاٹ تھا اور گُلابی رنگ کا تولیہ بھی “میں بغیر کپڑوں کے اُس میں لپیٹا ہوا تھا۔۔”تب اِنہوں نے وہاں سے مجھے اُٹھایا تھا۔۔”اور اب یہ مجھے واپس آپ کو لوٹانے آئے ہیں۔۔”کیونکہ میری وجہ سے اِن کو اِن کی بیوی نے گھر سے کیک آؤٹ کرلیا ہے۔۔۔”اور کہاں ہے یہ جس کا بیٹا ہے وہاں اُس کو دے آؤ۔۔”میرے موم ڈیڈو کنفیوز ہیں”میں اُن دونوں میں سے کس کا بیٹا ہوں۔۔۔”اِن سے بات کرتا ہوں تو یہ کہتے ہیں”چِک چِک کرنے کے لیے تمہاری ماں کافی ہے۔”تم خاموش رہا کرو۔۔”اپنی ماں کے بیٹے ہو جبھی اُس کے جیسے ہو۔۔”اور موم کہتی ہے کہ سڑی ہوئی شکل اپنے باپ سے لی ہے”آخر کو اُس کے جو بیٹے ہو۔۔”ہلانکہ اب اُن کی کنفیوز دور ہوگئ ہے جبھی میں دبئ سے پاکستان فلائے کر آیا۔۔۔وہ آتش کے سوال کے جواب میں بولنے پر آیا تو نان سٹاپ بولتا چلاگیا۔۔”جس پر آتش کا منہ پہلی بار حیرت کی زیادتی سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا وہ اِس چھٹانگ بھر بچے کو دیکھتا رہ گیا”جیسی زبان قینچی سے زیادہ تیز چل رہی تھی”اِس دُنیا میں اُس کے علاوہ بھی کوئی اور بول سکتا ہے وہ بھی ایک بچہ۔۔”یہ بات آتش لُغاری کے لیے ناقابلِ یقین تھی۔”کیونکہ پہلے پہل تو وہ حددرجہ سنجیدگی کا مُظاہرہ کررہا تھا پھر اچانک اپنے باپ کو دیکھ کر اُس میں جانے کیا انرجی آگئ تھی جو خاموش نہ رہ پایا تھا۔۔”جبکہ اُس کے برعکس ماسک میں چُھپائے چہرہ جو “زاویار اسحاق کا تھا اُس نے زاویان کی بیگ سے پانی کو بوتل کو پکڑئے اُس کے منہ کے قریب کیا تھا۔۔”بغیر سانس کے جو بولا تھا تو ظاہر ہے اُس کا منہ خُشک ہوگیا ہوگا”جس کا خیال کرتا زاویار اُس کو پانی پِلانے لگا
“میں نے یہاں لانے سے قبل آپ کو کیا کہا تھا کہ اپنی ماں جیسی زبان کا استعمال نہ کرنا۔۔”اگر مجھے ایسی بے تُکی باتوں کو سُننا ہوتا تو تمہارے بجائے کرلی گرل کو نہ لاتا۔۔۔خشمگین نظروں سے اپنے چھ سالہ بیٹے کو دیکھتا زاویار تاسف سے بولا تھا
“دیکھ لو ابھی تک کنفیوز ہیں کہ میں کس کا بیٹا ہوں۔۔زاویار پانی کی بوتل کو اپنے ہونٹوں سے دور کرتا آتش سے بولا تو بے اختیار اُس نے جھرجھری سی لی تھی۔
“مجھے جانا ہے۔۔۔اناؤسمنٹ ہونے لگی تو آتش اُن دونوں باپ بیٹے پر نظر ڈال کر بولا”کیونکہ اُس کی فلائٹ کا وقت ہوگیا تھا
“خُدا حافظ۔۔۔زاویان نے اُس کی پشت کو دیکھ کر کہا
“چلو اب۔۔۔زاویار اُس کو نیچے اُتار کر بولا
“ہم کہاں جانے والے ہیں اب؟زاویان نے پوچھا
“اپنے گھر۔۔۔زاویار نے مختصر بتایا”وہ دونوں اب باتیں کرکے ایئرپورٹ سے باہر نکل آئے تھے”جہاں آلریڈی اُن کے کیب کھڑی تھی
“نانو کے پاس نہ” آئے ایم ویری ایکسائٹڈ۔ ۔۔۔زاویان پرجوش ہوا
“اپنا گھر یعنی جو اپنا ہے”آپ کے نانو یا کسی اور کو ابھی ہمارے پاکستان آنے کا نہیں پتا”اور نہ میرا کوئی اِرداہ ہے”اُن کو بتانے کا۔۔۔زاویار نے اِس بار تفصیل سے بتایا اور اب کیب میں بیٹھ گئے تھے دونوں
“مطلب ہانٹڈ ہوم۔ ۔۔زاویان نے منہ کے زاویئے بگاڑے تھے
“ایسا کس نے کہا؟زاویار نے اُس کو گھورا
“کرلی گرل نے بتایا تھا”اور اب تو خیر سے سالوں بعد وہ ہوم کُھلے گا”مجھے ایسا لگ رہا اُس گھر میں اب جن”بھوت آتما”سب کچھ آگیا ہوگا”یہ سب خالی گھر میں ہی شفقٹ ہوتے ہیں۔۔”اور خیر سے وہ گھر بڑا بھی ہے تو ہر کوئی آرام سے اپنی فیملی کے ساتھ ایڈجسٹ ہوگیا تھا۔”کیونکہ آپ کا وہ گھر قبرستان سے بس تھوڑا دور ہے”میں بتارہا ہوں”اگر ایسا ویسا کچھ ہوا نہ تو میں نے رات میں چپک کر آپ کے ساتھ سونا ہے۔۔۔زاویان نے ایک سانس میں کہا
“ایسا کچھ نہیں زاوی۔۔”ویسے بھی وہاں میں خود اکیلا رہتا تھا۔۔زاویار نے اُس کو ٹوکا
“اکیلے نہیں ایک فوج ہوا کرتی تھی”اور اب تھوڑئی نہ وہ ہمارے انتظار میں کھڑی ہوگی۔۔زاویان اپنی جگہ بضد تھا۔۔”لیکن اِس بار زاویار نے اُس سے بحث نہیں کی تھی”کیونکہ جانتا تھا بحث میں کبھی”اُس نے راحت کو مات نہ دی تو “اُس کے سپوت کو کیسے دے گا؟”جبکہ دوسری طرف زاویان کھڑکی سے باہر دیکھتا جن بھوت کو بھاگنے کے ترتیب سوچنے لگا








“وہ لوگ حویلی پُہنچ گئے تھے”جہاں اُن کا استقبال فاحا نے بہت اچھے سے کیا تھا۔۔۔”اور یہاں آکر سب بہت خوش بھی تھے”لیکن عیشا بوریت کا شکار ہوئی تھی۔
“مامی جان “ماموں جان نہیں کیا حویلی میں؟سکندر نے اسیر کو نہ پاکر فاحا سے پوچھا
“وہ دیر کرتے ہیں آنے میں کام بہت ہوتا ہے اُن کو۔۔فاحا نے بتایا
“توں اُن کی ہیلپ نہیں کرواتا؟سکندر نے المان کو گھورا
“مجھے زمینوں کے بارے مجھے کچھ پتا نہیں۔۔المان نے شانے اُچکاکر بتایا
“آپ لوگ بتائے کچھ کھاؤ گے؟فاحا نے ایک نظر”المان پر ڈال کر اُن سے پوچھا
“خالہ ہم مہمان تو نہیں آپ بے فکر رہے”ہمیں کچھ چاہیے ہوگا تو بول دینگے خود ہی آپ کو۔۔۔عیشا نے کہا تو فاحا مسکرائی
“ویسے یہ ماہا نظر نہیں آرہی کہاں ہے؟سکندر نے اچانک پوچھا
“ٹیبل کے نیچے چُھپی ہوئی ہے”غور سے دیکھو نظر آجائے گی۔۔جمائی لیتے رایان نے بتایا
“وہ کوئی چھوٹی بچی تو نہیں۔۔۔سکندر نے اُس کو گھورا
“بلکل وہ کوئی چھوٹی بچی نہیں”لیکن تمہارا سوال کافی بچوں والا تھا کہ نظر نہیں آرہی تو گونچوں وہ یہاں ہوگی تو نظر آئے گی نہ۔۔۔رایان نے اُس کی عقل پر ماتم کرکے بتایا
“میں نے بھی وہ پوچھا کہ کہاں ہے؟سکندر تپ کر بولا
“لڑو نہیں دونوں”وہ لان میں ہے۔۔۔فاحا نے اُن کو لڑتا دیکھا تو بتایا
“شکریہ شکریہ۔اِتنا کہتا سکندر اپنی بیگ سے ایک بوکس نکالا
“اِس میں کیا ہے؟عیشا کو اشتیاق ہوا
“وہ اِس میں چاکلیٹس ہیں”میں اسپیشلی ماہا کے لیے لایا ہوں۔۔۔سکندر نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے کہا تو ہر کوئی تعجب سے اُس کو دیکھنے لگا
“اللہ اکبر
“اللہ کی شان
“مولا کی قدرت
“یہ میری گُناہگار آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں؟
“زندگی میں یہ دن بھی دیکھنا تھا۔
“سکندر کا بس اِتنا کہنا تھا”اور فاحا” عیشا”المان”رایان اِن تینوں کے منہ سے بے ساختہ پِھسلا تھا
“کیوں کیا ہوا؟سکندر اُن کے تاثرات کو دیکھتا اپنی جگہ پہلو بدلتا رہ گیا
“سکی تم واقعی میں یہ ماہی کے لیے لائے ہو؟فاحا نے پوچھا
“جی مامی جان بس وہ میں جب آیا تھا تو اُس کو ناراض کچھ زیادہ کرلیا تھا تو سوچا اِس بار کٹی سے بٹی کرلوں۔۔سکندر نے بہانے کرتے ہوئے بتایا
“ماشااللہ آؤ ہم بھی چلتے ہیں۔۔عیشا فوراً سے کھڑی ہوئی
“ہاں ہاں”میں بھی تمہارے ساتھ ہوں۔۔رایان بھی اُٹھ کھڑا ہوا تھا”سکندر بُری طرح سے خود کو پھستا ہوا محسوس کرنے لگا
“میں اکیلے جانا چاہتا ہوں۔۔۔”پلیز مجھے اِجازت دو۔۔سکندر مسکین شکل بناتا اُن سے اجازت طلب ہوا
“اچھا سہی ہے جاؤ۔۔عیشا نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اُس کو جانے کا بولا تھا”شکر کا سانس بھرتا سکندر وہاں سے تیز قدموں کے ساتھ نکل پڑا تھا
“وہ لان میں آیا تو ماہا لان میں موجود اُس کو ایک کُرسی پر بیٹھتی ہوئی نظر آئی”جس پر سکندر کو اپنا کام آسان ہوتا معلوم ہوا”درحقیقت وہ ماہا سے بدلا لینا چاہتا تھا”اُس بات کا جب ماہا نے اُس کے چہرے پر پانی گِرایا تھا اور اب اپنے پلان موجب سکندر آس پاس کا جائزہ لیتا ایک احتیاطی نظر ہوش واحوس سے بیگانہ اپنے سیل فون میں مگن ماہا کو دیکھا”جو پوری طرح سے گیم کھیلنے میں محو تھی”اُس کی محویت کا فائدہ اُٹھاتا سکندر نے ہاتھ میں پکڑا بوکس کا ڈھکن کھولا تو نظر چپکلی پر پڑی جس کو بڑی محنت اور مشقت کے ساتھ پکڑ کر اِس بوکس میں ڈالا تھا۔۔اور اب اُس پر شیطانی مسکراہٹ ڈالتا سکندر نے ماہا کے پاؤں کو دیکھا جو چپل کی زحمت سے آزاد تھے۔۔”سکندر دبے دبے قدموں کے ساتھ دو قدم آگے بڑھاتا وہ بوکس ماہا کے پاؤں کے اُپر اُلٹ دیا تو چپکلی سیدھا ماہا کے گورے پاؤ کے اُپر بڑے آرام سے ایڈجسٹ ہوگئ۔۔۔”سکندر اب راؤنڈ ٹو پر آتا سامنے کھڑا ہوا اور موبائل فون کا کیمرہ آن کیا تاکہ ماہا کی دلخراش چیخیں اپنے فون میں محفوظ کرپائے وہ ایسا کرنا چاہتا تھا تاکہ پھر بعد میں اُس کو تنگ کرنے میں آسانی ہو اور ایسے وہ اپنے کام بھی ماہا سے نکلواسکتا تھا۔۔
“جبکہ ماہا جو گیم کِھیلنے میں مصروف تھی اُس کو اپنے پاؤں کے پاس کچھ عجیب بھاری پن محسوس ہوا تو ناچاہتے ہوئے بھی اُس نے اپنی نظروں کا رخ اپنے پاؤں پر کیا تو نظر چپکلی پر پڑی جو بڑے آرام سے بیٹھی ہوئی تھی”اُس کو شاید اُس کے پاؤ میں وہ سکون ملا تھا جو کبھی کسی دیوار میں چپکنے سے نہ ملا ہو۔۔”اور حیرت انگیز طور پر یہ نظارہ دیکھ کر ماہا ڈری یا چیخی نہیں تھی بس پاؤ کو ایک جھٹکا دیا تو چپکلی دور جا پُہنچی اور ماہا دوبارہ سے اپنی گیم میں مگن ہوگئ۔۔۔”اور سکندر جو سیل فون کا کیمرہ آن کیے کسی اور چیز کے انتظار میں تھا”اپنے اِتنے مشقت شدہ کام میں ماہا کا ایسا ٹھنڈا ری ایکشن دیکھ کر وہ بے یقین نظروں سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگا جہاں کوئی بھی تاثر نہیں تھا۔۔”وہ جانتا تھا لڑکیاں ایسی چیزوں کو دیکھ کر پورا گھر سر پر اُٹھالیتی تھیں”لیکن ماہا نے کچھ ایسا نہیں کیا تھا۔۔”اپنی محنت پر یوں پانی بھر بالٹی کو گِرتا دیکھ کر سکندر کو تاؤ آیا تھا اور وہ دانت پیس کر ماہا کو گھورنے لگا
