Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 35)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“مان

“میرا بیٹا کہاں ہے؟”حویلی میں داخل ہوتی فاحا اُونچی آواز میں المان کو پُکارنے لگی تھی۔ ۔”ماہا کافی حیرت سے فاحا کو دیکھ رہی تھی۔ ۔”جبکہ اسیر کی نظر سامنے گئ تھی۔ ۔”جہاں وہ بلیک گول گلے والی شرٹ اور پینٹ میں ملبوس سرجھکائے کھڑا تھا۔ ۔”اُس کو دیکھ کر فاحا جلدی سے اُس کی طرف آئی تھی

“مان میرا بچہ۔ ۔”اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتی وہ والہانہ انداز میں چومنے لگی تھی۔ ۔

“مان بھائی؟ ۔۔”ماہا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا تھا

“کہاں تھے تم اتنے سال؟ “کیا اپنی ماں کا خیال نہیں آیا۔ ۔”اُس کے چہرے پر دیوانہ وار ہاتھ پھیرتی فاحا نے شکوہ کُناہ لہجے میں سوال کیا تو وہ خاموش رہا تھا

“مان بھائی۔ ۔۔”ماہا بھاگ کر اُس کے سینے لگی تھی۔ ۔”لیکن جیسی گرم جوشی اور بے قراری اُن دونوں میں تھی۔ ۔”ویسی المان میں نہ تھی۔ ۔”وہ ایسے کھڑا تھا جیسے کوئی مجسمہ ہو

“خاموش کیوں ہو؟ “کچھ بولو نہ؟ “تمہاری آواز سُننے کو کان ترس گئے ہیں۔ ۔”اُس کو کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر فاحا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تو المان کی نظر اسیر پر پڑی جو خاموش کھڑا تھا۔ ۔”المان فاحا اور ماہا کو دیکھتا۔۔”اُس کی طرف آیا ۔تھا۔

“کیسے ہو؟ “لیا دیا سا انداز تھا اُس کا

“آپ کا بیٹا ہے یہ۔۔”کیسے بات کررہے ہیں۔۔”فاحا کو اسیر کا انداز پسند نہ آیا۔ ۔”سالوں بعد وہ آیا تھا اور اُس کے ساتھ ایسا رویہ وہ کیسے برداشت کرتی وہ۔ ۔

“ہم اپنے کمرے میں آرام کرنا چاہتے ہیں۔۔”المان جو اسیر کے سینے سے لگنے کی وجہ سے اُس کی طرف آیا تھا۔ ۔”اُس کا ایسا پھیکا انداز دیکھ کر وہ سنجیدگی سے بولا

“مان بھائی آپ ری ایکٹ ایسے کررہے ہیں۔ ۔”جیسے صبح کے گئے اب واپس آئے ہیں۔۔”ہم پورے چھ سال پانچ ماہ بعد آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ ۔”کہاں تھے؟ “کیسے تھے؟ “کیا کررہے تھے؟ “یہ سوالات ہم سب کے دماغ میں ہیں۔”اور آپ آرام کرنا چاہتے ہیں۔۔”آئے مین آپ کے لیے کوئی بڑی بات نہیں؟ “سب کے ساتھ ساتھ ماہا کو بھی المان کا ایسا کہنا حیرت میں مبتلا کرگیا تھا

“تھک گیا ہوگا۔ ۔”تم بھی آرام کرو۔ ۔”ہمارا مان تو واپس آگیا ہے نہ تو کل صبح بات ہوگی۔۔۔”فاحا المان کے سپاٹ چہرے کو دیکھتی مسکراکر بولی۔۔”دل تو اُس کا بھی چاہ رہا تھا کہ المان کو پاس بیٹھائے ہر ایک ایک بات پوچھے لیکن المان نے جو آتے ہی آگے دیوار کھڑی کردی تھی۔۔”اُس کو توڑنے کی کوشش کسی نے نہ کی

“جزاک اللہ۔ ۔۔”المان سرجھکاکر کہتا وہاں سے چلاگیا

“یہ مان بھائی اجنبیوں کی طرح برتاؤ کیوں کررہے ہیں؟ “ناراض تو ہمیں ہونا چاہیے۔۔۔”پھر وہ کیوں ایسا کررہے ہیں؟ “ماہا کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تھا

“ماہی مان گھر تو واپس آگیا ہے نہ تو پہلے جیسا بھی سب ہوجائے گا۔ ۔”تم بس اُس کے آنے کی خوشی مناؤ۔۔فاحا نے اُس کی بات کے جواب میں کہا تو وہ محض سراثبات میں ہلا پائی تھی۔

“آپ بھی کمرے میں آئے۔ ۔۔”ماہا کے جانے کے بعد اسیر نے فاحا کو دیکھ کر کہا جو وہی ہال کے بیچوں بیچ کھڑی تھی

“آپ کو پتا ہے فاحا کو ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے۔ ۔”کہ ہمارا مان آگیا ہے۔ ۔”اور وہ کتنا بدلا بدلا سا ہوا ہے نہ۔ ۔”کمزور بھی کافی لگا۔۔”ورنہ وہ تو کزن پلٹن سے بڑا لگتا تھا۔ ۔”اب لگ رہا ہے مان اُن سے چھوٹا لگے گا۔ ۔”اسیر کی بات پر فاحا پہلے مسکراکر پھر پریشان ہوکر بولی

“ایسی بات نہیں ہے۔ ۔اسیر نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر کہا

“ہمارا دل تھا کہ اُس کو سامنے بیٹھائے دیکھے۔ ۔”لیکن وہ تو اپنے کمرے میں چلاگیا۔۔فاحا اُفسردگی سے بولی

“صبح مل لیجئے گا۔ ۔”باتیں کرلیجئے گا۔ ۔”ابھی آرام کریں۔ ۔”سارے دن کی تھکن ہوگی۔ ۔”اسیر اُس کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھر کر بولا

“فاحا کی تھکن تو اِتنے سال بعد اپنے بیٹے کو دیکھ کر اُترگئ۔۔۔”اولاد تو ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ۔”بس کچھ باتیں ہیں۔ ۔”جن کا جواب چاہیے۔ ۔فاحا نے اُس کو دیکھ کر کہا

“ابھی آئے آپ۔ ۔۔”اسیر نے محض اِتنا کہا

“ہم دیکھ آئے نہ شاید اُس کو کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔ ۔”کمرے کی حالت تو ویسی ہے۔ ۔”جیسے روز استعمال ہوتا ہے۔ ۔”لیکن اُس کو کچھ کھانے پینے کو اگر چاہیے ہو تو وہ وہاں نہیں ہے۔ ۔۔”فاحا فکرمندی سے بولی

“آپ دیکھ آئے۔ ۔”ایسا کریں کھانے کی ٹرے اُس کے کمرے میں رکھ آئے۔ ۔”اُس کو فاحا کی بات دُرست لگی تو جواباً کہا جس پر وہ مسکراکر سرہلاتی المان کے کمرے کی طرف بڑھ گئ تھی۔ ۔”پیچھے اسیر گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔ ۔”لیکن سرجھٹک کر اُس نے اپنے اپنی جیب سے سیل فون نکالا اور واٹس اپ ایک لنک جوائن کیا جو “ماہا نے اُس کو سینڈ کی تھی۔ ۔”یہ لنک کزن پلٹن کا بنایا ہوا گروپ کا تھا۔ ۔”جس میں سالوں سے کوئی آپس میں باتیں نہ کررہا تھا اور ماہا نے اسیر کو بھی ایڈ کیا تھا لیکن ہر وقت اُن کی بے تُکی باتوں سے تھرتھراتے اپنے سیل فون سے زچ ہوتا وہ گروپ لیو کرگیا تھا۔ ۔”لیکن آج وہ خود اُس گروپ کو جوائن کرتا ایک میسج اُن سب کے لیے چھوڑا۔ ۔”پھر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“عیشا صبح ساڑھے سات بجے کافی سے لطف اندروز ہوتی اپنے نمبر پر آتیں ہر ایک کا میسجز چیک کررہی تھی۔ ۔”جب اچانک گروپ میں ایک میسج پر اُس کی نظر پڑی تو وہ چونک سی گئ۔ ۔۔”جس میں لکھا ہوا تھا

“Almaan is back.

“ایک بار

دو بار

جانے کتنی بار وہ اُن الفاظ کو پڑھنے لگی۔۔”اُس کو حیرت نہ ہوئی تھی۔ ۔”اور نہ کوئی خوشی۔۔”اُس کو کوئی بھی احساس اپنے اندر جاگتا محسوس نہیں ہوا تھا۔ ۔”وہ بس بے تاثر نگاہوں سے چیٹ کو دیکھتی گروپ سے خود کو لیو کرگئ تھی۔۔

“میں تمہیں یہ بتانے آیا تھا کہ ہمارے راستے الگ ہیں۔ ۔”ہم کبھی ایک راہ کے مسافر نہیں ہوسکتے۔ ۔۔”مجھے نہیں پتا کہ بابا سائیں نے میرے لیے تمہارا انتخاب کیوں کیا؟ “لیکن مجھے بس اِتنا پتا ہے ایز آ لائیف پارٹنر کے طور پر میں تمہیں امیجن بھی نہیں کرسکتا۔۔۔”میں نے آج اگر تم سے نکاح کیا تو بس والدین کی ضد کے آگے کیا۔ ۔”ورنہ میں کبھی اِس نکاح پر راضی نہیں ہوتا۔ ۔”مختصر یہ کہ تم میرا انتظار مت کرنا۔۔”اگر کبھی زندگی میں کوئی شخص تمہارے پاس آئے تو نکاح میں ہونے کا سوچ کر اُس کا ہاتھ مت جھٹکنا۔۔”کیونکہ تم جب چاہو گی میں اِس بے نام رشتے سے تمہیں آزاد کردوں گا “

“کانوں میں یہ آواز گونجی تو بے ساختہ اپنے جبڑے بھینچ کر اُس نے اپنا سیل فون ٹیبل پر رکھ کر کافی کا لمبا گھونٹ بھر کر اپنے اندر اُتارا

“خوشی ایک گُڈ نیوز ہے۔۔۔”وہ اپنا لیپ ٹاپ اُٹھائے آفس کے لیے نکلنے لگی تھی۔ ۔”جب گھر کے سارے افراد ہال میں جمع ہوئے اور زوہان نے اُس کو دیکھ کر کہا۔ ۔”نیوز کوئی بھی ہو وہ جان گئ کہ اُس نیوز سے زوہان بڑا خوش ہے۔ ۔”کیونکہ جب وہ خوش ہوتا تھا تو اُس کو” عیشو نہیں بلکہ خوشی پُکارتا تھا۔

“مان واپس آگیا ہے۔ ۔”سوہان اُس کے پاس آتی بتانے لگی

“اچھا میں آفس کے لیے نکل رہی ہوں۔ ۔”میری ایک بہت امپورٹنٹ میٹنگ ہے۔۔”عیشا اُس کے گلے مل کر بولی

“ہم سب گاؤں جارہے ہیں۔ ۔”تم آفس سے آف کرو۔ ۔”ہمارے ساتھ چل رہی ہو۔ ۔”میشا اُس کی بات سن کر بولی

“نو موم میں آفس جانے والی ہوں۔ ۔”میری اہم میٹنگ ہے۔ ۔”عیشا نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔ ۔”تبھی جمائی لیتا رایان سیڑھیاں اُترتا ہال میں آیا اور سب کو ایک ساتھ جمع دیکھ کر معاملا سمجھنے کی کوشش کرنے لگا

“عیشو ہمارا گاؤں جانا اُس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ۔”میشا نے اپنی بات پر زور دیا تو ٹیبل سے فروٹ باسکٹ سے ایپل اُٹھاکر منہ کو لگاتا رایان کبھی میشا کو دیکھتا تو کبھی جُوالہ مکھی بنی عیشا کو جو وائٹ پینٹ شرٹ کے اُپر سیم وائٹ کوٹ پہنا ہوا تھا۔ ۔”اسٹریٹ بال ایزیوزئل کندھے کے دائیں بائیں طرف تھے۔ ۔”اُس کو ایسے لباس میں سنجیدہ دیکھ کر ہر کوئی پریشان ہوتا تھا۔ ۔”لیکن ایک رایان تھا جو جب سے آیا تھا اُس کو ایسے حُلیے میں دیکھ کر بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹتا تھا۔ ۔”کیونکہ اُس نے عیشا کو اِتنا سیریس امیجن تک نہیں کیا تھا۔ ۔

“تو آپ لوگ جائے نہ؟ “مجھے کیوں فورس کررہے ہیں؟ “عیشا چڑ سی گئ۔ ۔

“معاملہ کیا ہے؟ “رایان نے زوہان کے ساتھ کھڑے ہوکر اُس سے پوچھا

“مان واپس آگیا ہے۔ ۔”زوہان نے بتایا

“اچھ

“بے خیالی میں کچھ کہتے کہتے رایان اچانک سے چونک کر اُس کو دیکھنے لگا

“کیا کہا ابھی تم نے؟ “ایپل کھانا بھولتا وہ پھر سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“المان واپس آگیا ہے۔ ۔۔”خالو نے بتایا۔ ۔”پھر صبح ماہی نے بھی کال کی تھی۔ ۔”زوہان نے تفصیل سے بتایا

“اور مان نے؟ “اُس نے خود نہیں بتایا؟”رایان نے پوچھا

“اُس کی طرف سے تو گہری خاموشی کا راج ہے۔ ۔”زوہان نے ٹھنڈی سانس خارج کرکے بتایا تو قدم پیچھے لیتے رایان نے فروٹ باسکت سے کیلا اُٹھایا پھر واپس زوہان کے ساتھ کھڑا ہوتا اُس کو کھانے لگا تو زوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھا جو لاہور رہنے کے بعد کافی فوڈی ہوگیا تھا۔ ۔

“تم آجکل کچھ زیادہ کھانے نہیں لگے؟ “زوہان بولے بغیر نہ رہ پایا

“یہ پکڑنا۔ ۔”رایان نے جواب میں کیلے کا چھلکا اُس کی طرف بڑھایا تو وہ اُس کو گھورنے لگا

“اچھا سوری۔ ۔”اپنا ہاتھ واپس کھینچتا اُس نے یہاں وہاں دیکھ کر ڈسٹ بن تلاش کیا پھر چھلکا ٹیبل پر رکھ کر اُس نے اورینج اُٹھائی

“دراصل پڑھنے کے دوران رات دیر تک جاگنا پڑتا تھا۔ ۔”تو ایسے میں بھوک بھی زیادہ لگتی تھی تو بس کھانے کی عادت ہوگئ ہے۔ ۔”رایان نے اب اُس کی بات کا جواب دیا

“میں نے سُنا تھا کہ محبت میں انسان کی بھوک مٹ جاتی ہے۔ ۔”وہ کھانا پینا کم کردیتا ہے۔۔”زوہان اُس کے تاثرات کو بغور دیکھ کر بولا

“نمک کہاں ہوگی؟ “یہ بہت کھٹی ہے۔ ۔”رایان چہرے کے عجیب تاثرات بناتا اور آنکھیں میچ کر اُس سے بولا تو زوہان اُس کو دیکھتا رہ گیا۔ ۔”جس کو اِس وقت بس کھانے کی پڑی تھی۔

“کھٹی ہے تو نہ کھاؤ۔۔”زوہان اُس کو دیکھ کر طنز ہوا

“تم کچھ کہہ رہے تھے۔۔۔”رایان اُس کی بات پر بولا

“میں کچھ نہیں تھا کہہ رہا۔۔۔”زوہان نے اپنا سر نفی میں ہلاکر کہا

“بتا نہ۔۔”رایان نے اسرار کیا

“میں یہ بول رہا تھا کہ میں نے سُنا تھا کہ محبت میں انسان کی بھوک مٹ جاتی ہے۔ ۔”وہ کھانا پینا کم کردیتا ہے۔۔”زوہان پھر سے کہا

“سُنی سُنائی باتوں میں صداقت ون پرسنٹ ہوتی ہے۔”اور مشاہدے میں پھر تجربے میں بھی بہت فرق ہوتا ہے۔۔”رایان جواب دیا۔۔”اور ایک بار پھر فروٹ باسکٹ کی طرف بڑھا

“میں نے یہاں اِتنی بڑی بات تمہیں بتائی۔۔”تمہارے سامنے اِتنا ٹینس ماحول چل رہا ہے۔۔”اور تم کو بس اِس وقت کھانے کی پڑی ہے۔۔”زوہان بس یہی بول پایا

“توں نے جو بات بتائی وہ خود مان کو بتانی چاہیے تھی۔ ۔”باقی یہ تو روز کا معمول ہے۔ ۔”رایان شانے اُچکاکر لاپرواہ انداز میں بولا تو زوہان نے گردن ترچھی کرکے فروٹ باسکٹ کو تھا جو اب خالی تھا۔ ۔”آہستہ آہستہ وہاں موجود ہر چیز رایان کھاچُکا تھا۔ ۔

“تو تم نہیں آنے والی؟ “میشا نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا

“نہیں۔ ۔”عیشا مختصر بولی

“تم آتی تو اچھا تھا۔ ۔”فاحا کو خوشی ہوتی۔ ۔۔سوہان اُس کو دیکھ کر نرمی سے بولی

“میں ضرور آتی پر آج پاسبل نہیں۔ ۔”عیشا نے سنجیدگی سے کہا

“یہ ڈرامہ کب ختم ہوگا۔ ۔؟”رایان زوہان کو دیکھ کر پوچھا

“یہ تمہیں ڈرامہ لگ رہا ہے؟ “زوہان کو جیسے افسوس ہوا

“سوری میرے کہنے کا مطلب تھا کہ یہ سیریس ڈسکشن کب ختم ہوگی؟ “نو بجنے والے ہیں اور ناشتے کا کوئی نام ونشان ہی نہیں۔۔”آئے ایم ہنگری اور کسی کو پرواہ تک نہیں۔ ۔رایان نے نروٹھے پن سے کہا تو زوہان کا ہاتھ میکانکی انداز میں اُس کے پیٹ پر گیا تھا

“یہ جو ابھی تم نے میری آنکھوں کے سامنے کھایا۔ ۔”وہ سب کہاں گیا؟ “زوہان حیرت کی انتہا کو چھو کر بولا

“کھایا پیا ہضم ہوا اور اب تم نظر نہ لگادینا۔ ۔۔”رایان نے سرجھٹک کر بتایا تو وہ بس اُس کو دیکھتا رہ گیا

“ٹھیک ہے تم آفس جاؤ اپنے۔۔”اِس بار خاموش کھڑے آریان نے اُس سے کہا

“واپس آکر خالی گھر میں یہ اکیلی کیا کرے گی؟”میشا کشمکش میں مبتلا ہوتی بولی

“میں یہی رہتی ہوں۔۔۔”سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“میں کوئی چھوٹی بچی نہیں۔۔”اپنا خیال میں بخوبی رکھ سکتی ہوں۔ ۔”عیشا کو سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک بات کو اِن لوگوں نے اِتنا بڑا ایشو کیوں بنایا ہوا ہے

“جو بھی لیکن ہو تو ایک لڑکی ذات نہ۔ ۔”میشا نے اُس کو گھورا

“واٹ ایور۔ ۔کوفت سے بڑبڑاتی وہ باہر کی طرف بڑھ گئ۔ ۔

“اِس لڑکی کا جانے کیا بنے گا۔ ۔”میشا پریشانی سے بولی

“مان آگیا ہے واپس تو لگے ہاتھوں رُخصتی کی بھی بات کردے۔ ۔”کب تک یہاں رہے گی۔ ۔”جائے اور جاکر اپنا میاں سنبھالے۔ ۔”رایان اپنی رائے دیتا بولا تو سب نے جن نگاہوں سے اُس کو دیکھا اُس پر وہ دل مسوس کرتا رہ گیا

“میں گاڑیاں ڈرائیور سے نکالنے کا کہتا ہوں۔۔۔”زوہان سنجیدگی سے کہتا باہر کی طرف لپکا

“ناشتہ کسی نے نہیں کرنا کیا؟”رایان نے سب کو گاؤں جانے کی تیاریوں میں دیکھا تو پوچھا

“آؤ تمہیں میں ناشتہ کرواتی ہوں۔۔”سوہان نے مسکراکر اُس کو اپنی طرف آنے کا کہا تو وہ فوراً اُس کی طرف جانے لگا۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“صبح اقدس کی آنکھ دیر کُھلی تھی۔۔”اُس نے انگرائی لیتے بیڈ کی دوسری سائیڈ دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔۔”لیکن اپنی جیولری ڈریسنگ ٹیبل پر اور بڑا ڈوپٹہ جو اُس کے جوڑے کا تھا جس کو پہنے ہوئے ہی وہ سوگئ تھی وہ صوفے پر پڑا دیکھا تھا چونک اُٹھی تھی۔۔”اُس کو اچھے سے یاد تھا اُس نے کچھ بھی اُتارا نہ تھا۔۔

“تو کیا یہ سب آتش نے؟”یہ خیال بجلی کی تیزی سے اُس کے دماغ میں آیا تھا۔۔”لیکن وہ وہاں نہ تھا جس پر وہ شکر کا سانس لیتی بیڈ سے اُٹھ کر اپنے بیگ کی طرف بڑھی۔۔”وہاں سے ایک مناسب جوڑا نکال کر وہ واشروم کی طرف بڑھ گئ تھی۔۔”بیس منٹ بعد جب وہ فریش ہوتی باہر آئی تو کمرے میں ایشال کو دیکھ کر چونک گئ۔۔”جو بلیک نائٹی میں ملبوس تھی جو اُس کے پاؤں کے چھو رہی تھی۔

“ہوگئ آپ کی صبح؟”ایشال نے کافی خوشگوار لہجے میں اُس کو دیکھ کر پوچھا

“جی۔۔اقدس نے مختصر بتایا

“ناشتہ میں نے تمہارے لیے سیٹ کروایا ہے نیچے۔۔”آکر کھالوں اور تمہیں تمہاری تنہائی مُبارک ہو۔۔”ماشااللہ سے اِس سونے کے پنجرے میں تم بھی قید ہوچُکی ہو۔۔”آج تمہارا پہلا دن تھا تو سوچا میں تمہیں کمپنی دے دیتی ہوں۔۔”پھر تو میں بھی اپنے کام سے گھر سے باہر جاؤں گی۔۔”ایشال نے بیڈ پر چت لیٹ کر اُس سے کہا تو اپنے گیلے بالوں کو تولیے سے آزاد کرواتی وہ اُلجھن زدہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔”اُس نے جو کچھ اُس سے بولا تھا وہ سب باتیں اُس کے سر پر سے گُزریں تھیں

“ہم آپ کی بات کا مطلب جان نہیں پائے۔۔اقدس نے سنجیدگی سے کہا

“کیسے سمجھو گی ابھی تمہارا پہلا دن ہے نہ۔۔”ایشال ہنس کر بولی

“آنٹی کہاں ہیں؟”اقدس نے “وردہ لُغاری مطلق پوچھا

“میری موم سوشل ورکنگ وومن ہیں۔۔”گھر میں کم اور باہر زیادہ ملتیں ہیں۔۔”کبھی کبھار تو پہچان ہی نہیں پاتی کہ یہ میری ماں ہے۔۔”خیر اور جو ہمارے ڈیڈ محترم ہیں وہ کل رات کے فنکشن کے بعد دوسری کنٹری جاچُکے ہیں۔۔”اُن کو اپنا کوئی ضروری کام تھا وہاں۔۔”اور اب آتے ہیں تمہارے شوہر نامدار کی طرف وہ تو پہلے بھی گھر میں ٹکتا نہیں تھا۔۔”اور اب خیر سے اپنے اِتنے اسپیشل ڈے پر بھی وہ نہیں یہاں تو میرا خیال سے تمہیں اُس کے آنے کا ایک دو ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔۔”کافی موڈی ہے وہ۔۔”ایشال کے ایک ہی بار میں اُس کو تفصیل سے بتایا تو اقدس کو حیرت ہوئی

“تو یہاں کوئی بڑا نہیں؟”اقدس نے پوچھا

“ناپ۔۔”ایشال نے اپنا سر نفی میں ہلایا

“آپ سب ساتھ میں نہیں ہوتے؟ “آئے مین باہر تو ضروری کام سے جایا جاتا ہے ورنہ تو لوگ اپنے گھروں میں ہوتے ہیں۔ ۔”اقدس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیسا ری ایکٹ کرے

“مسٹر لُغاری اور مسز لُغاری کو آئے دن ضروری کام ہوتے ہیں۔ ۔”خیر یہاں ملازمین بہت ہیں۔ ۔”کچھ چاہیے ہو تو اُن سے مانگ سکتی ہو۔ ۔”یا پھر میرا مفید مشورہ مان کر تم بھی موم کے ساتھ رہا کرو۔ ۔”بور رہنے سے اچھا ہوگا۔ ۔”اُن کے ساتھ رہو گی تو طرح طرح کے لوگ ملے گے تمہیں۔ ۔”پارٹیز میں جاؤ گی تو پارٹیز انجوائے کرو گی۔۔”وائن شائن پیو کی۔۔”ڈانس وغیرہ کرو گی۔”تاش کھیلوں گی۔۔”گوس اپ ہوگا۔۔”فل انجوائمنٹ ہوگی۔۔”ایشال نے کہنی کے بل لیٹ کر اُس کو اپنے مفید مشوروں سے نوازا تو گِرنے کے ڈر سے اقدس نے پاس پڑے اسٹول کا سہارا لیا تھا۔۔”وہ اُس پر بیٹھتی ایشال کو دیکھنے لگی جو اپنے ناخنوں کو کھرچ رہی تھی۔

“ہمیں اکیلے رہنے کی عادت نہیں۔۔”ہماری حویلی کے افراد بہت ہوتے ہیں۔۔”جن سے باتیں کرتے ہوئے وقت کے گُزرنے کا پتا نہیں چلتا تھا۔۔”ویسے بھی ہماری حویلی میں گاؤں کے لوگوں کی آمد رفت ہر وقت جاری ہوتی ہے۔”ہماری اُن میں کچھ سہلیاں بھی ہوتیں ہیں۔۔”اقدس اُس کو دیکھ کر بتانے لگی

“ہممممم تمہارے والدین نے ویسے بڑی زیادتی کی ہے تمہارے ساتھ جو یہاں تمہاری شادی کروائی۔۔”ایشال نے افسوس کا اِظہار کیا

“یہاں کوئی آتا جاتا نہیں؟”ایک خیال کے تحت اقدس نے پوچھا

“موم ڈیڈ میں سے کوئی گھر میں ہوتا تو اُن کے فرینڈز آتے ہیں۔ ۔”البتہ آتش اپنے دوستوں کو کبھی گھر میں نہیں لاتا وہ باہر ہی اُن سے میل جول رکھتا ہے۔۔”ایشال نے بتایا

“اور آپ کے دوست؟ “اقدس نے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“میرا کوئی دوست نہیں۔ ۔”چار دن سے زیادہ میری کسی سے بنتی نہیں۔ ۔”ایک بیسٹ فرینڈ تھا سینڈی اُس کو آتش نے مارا تھا اُس کے بعد وہ مجھ سے اپنی فرینڈشپ ختم کرچُکا تھا۔۔ایشال نے بتایا

“اُس نے آپ کے دوست کو کیوں مارا؟”اقدس کو سمجھ میں نہیں آیا

” مجھے جو چیز پسند ہوتی ہے۔ ۔”میں جس کے بہت کلوز ہوتی ہوں۔ ۔”یا جو میرے دل کے قریب ہوتا ہے۔ ۔”اُن کو میری زندگی سے نکالنا آتش کا فیورٹ مشغلہ ہے۔ ۔”ایشال نے بتایا

“یہ کیا بات ہوئی؟ “آپ اُس کی چھوٹی بہن ہو۔۔”اقدس کو جیسے یقین نہ آیا

“یہی بات ہے۔۔۔”جب میں بارہ تیرہ کی تھی تب میرا ایک ڈوگی ہوتا تھا اُس کو آتش نے زہر دے کر مار دیا۔ ۔”میری ایک کیوٹ ممنا ہوتی تھی۔ ۔”اُس کو آتش نے ٹیرس سے نیچے پھینک دیا۔ ۔سو وہ مرگئ۔ ۔”میرے جو فیورٹ کِھلونے ہوتے تھے اُس کو آتش توڑ دیا کرتا تھا۔۔”اور سب سے بڑی بات میری جو آیا تھی نہ نگہت بُوا اُس کو آتش نے ضد کرکے یہاں سے نکلوادیا۔ ۔”اُس سے میں ہر بات شیئر کرتی تھی لیکن وہ چلی گئ تو میں لونلی لونلی سی گئ”بچپن سے اُس کو نہ مجھ سے خدا واسطے کا بیڑ ہے۔ ۔”ایشال نے اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کو بتایا

“آپ نے کبھی اُس کی شکایت نہ کی؟۔”اقدس کو افسوس ہوا

“میرے موم ڈیڈ کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ ۔”ہمیں وہ ملازموں کے ہاتھوں چھوڑدیا کرتے تھے۔ ۔”قسمت سے اگر ہوتے تو میں جب اُن سے شکایت لگاتی تو جواب میں کہتے اگنور کرو بڑا بھائی ہے تمہارا تمہاری ایک چیز ٹوٹی تو ویسی دو اور خرید لو۔ ۔”ایشال کے چہرے پر عجیب قسم کی مسکراہٹ آگئ تھی

“آتش نے کبھی تمہیں سوری نہیں کیا؟ “اقدس نے پوچھا

“آئے ہِیٹ ہم ویری مچ۔ ۔”مجھے اُس کا سوری نہیں چاہیے۔ ۔”اُس کے سوری کا اچار تھورئی نہ ڈالنا تھا۔ ۔”ویسے بھی وہ مسٹر کول آتش لُغاری ہے۔ ۔”جو غلط ہوکر بھی غلط نہیں ہوتا۔ ۔”وہ کسی کو سوری بولے ایسا اُس کی ڈکشنری کے کسی صحفے پر نہیں لکھا۔ ۔ایشال نے سرجھٹک کر بتایا

“لیکن وہ غُصہ نہیں کرتا۔۔”ہم نے نوٹ کیا ہے۔ ۔”کل رات والا واقعہ اُس کو یاد آیا تو تھوڑی ہچکچاہٹ سے پوچھا

“آتش کے غُصے کی انتہا نہیں ہوتی تھی۔ ۔”وہ پورا جھنگلی بن گیا تھا۔ ۔”لوگوں کو بلاوجہ مار کر اُس کو خوشی محسوس ہوتی تھی۔ ۔”مطلب بچپن سے وہ بہت چیختا چلاتا تھا۔”جب کوئی اُس کا کام اُس کی مرضی سے نہ کرتا یا پھر دیر لگاتا تھا۔۔”چیختا چلاتا چیزوں کو توڑتا پھوڑتا ۔”اُس کے دماغی حالت تبھی سے تھوڑی بگڑی ہوئی تھی۔ ۔”لیکن پھر وہ اُن چیزوں کو عادی بن گیا تھا۔ ۔”پھر ڈیڈ کو خیال آیا کہ اُس کا ایک بِیٹا ہے جو ذہنی طور پر بیمار ہوتا جارہا ہے تو جب آتش سولہ کا تھا تو کسی اچھے ڈاکٹر سے اُس کا علاج کروایا۔ ۔”دو یا تین ماہ اُس کا ٹریٹمنٹ تھا۔ ۔”پھر جب وہ واپس آیا تو کافی بدلاؤ سا تھا اُس میں۔۔”یعنی پہلے وہ ہنستا نہ تھا۔۔”بات تو سمجھو کرتا ہی نہ تھا۔۔”ہوں ہاں کہ علاوہ مجال تھی جو وہ اپنے منہ سے کچھ اور الفاظ نکالتا۔ “لیکن پھر اچانک سے اِتنی باتیں کرنے لگا کہ ہر ایک کی ناک پر دم کرکے رکھتا وہ اینگری مین سے ہنس مکھ باتونی سا بن گیا۔۔”جس طرح وہ کول کہتا ہے پھر واقعی میں کول بھی بن جاتا۔۔”میں تب سے یہی سوچتی ہوں کہ اُس کی دماغی حالت پہلے خراب تھی یا اب خراب ہے۔۔ایشال نے پہلے حیران ہوکر”پھر الجھن آمیز لہجے میں اُس کو بتایا

“یہ کیسے تو کیا اُس کو اب غُصہ بلکل بھی نہیں آتا؟ “اقدس کو یقین نہ آیا

“میں بہت کوشش کرتی ہوں کہ اُس کو غُصہ آئے۔ ۔”لیکن پتا ہے اگر مرد اپنے غُصے پر قابو پانا سیکھ جائے تو یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔ ۔”وہ پھر ہر چھوٹی بڑی بات کو مثبت سوچ رکھ کر اگنور کرتا ہے۔ ۔”آتش بھی غُصے پر ضبط کرنا جان گیا ہے۔ ۔”لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر وہ اپنا آپ کھودیتا ہے۔ ۔”ایشال نے بتایا

“کونسی ہیں وہ چیزیں؟ “اقدس نے بے چینی سے پوچھا

“خیریت ہے؟”بیویاں یہ جاننے کی کوششوں میں ہوتیں ہیں کہ کیسے اپنے شوہر کے غُصے کو کنٹرول میں لائے۔ ۔”اور یہاں تم یہ جاننے کے لیے بے چین ہو کہ اُس کو غُصہ کس وجوہات پر آتا ہے۔ ۔ایشال اب ٹھٹک سی گئ

“ایسی بات نہیں دراصل ہم اِس لیے جاننا چاہتے تھے۔ ۔”تاکہ وہ کام ہم نہ کریں۔ ۔”اقدس اپنے تاثرات پر قابو پائے بولی

“وہ اپنی چیزوں کے لیے خطرناک حد تک پوزیسیو ہے۔ ۔”پھر چاہے وہ یہ تکیہ ہی کیوں نہ ہو۔ ۔ایشال نے شانے اُچکاکر بتایا تو اقدس جیسے ساری بات جان گئ۔

“کسی اور چیز پر نہیں آتا؟ “اقدس نے پوچھا

“آتا ہے لیکن ضبط کرجاتا ہے۔ ۔”پر اپنی چیزیں کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر اُس کا ازلی غُصہ عود آجاتا ہے۔ ۔ایشال نے ہاتھ جہاڑ کر بتایا اور ابھی وہ اُٹھ کر جانے لگی تھی کہ فرش پر خون کی سوکھی بوندوں کو دیکھ کر وہ چونک اُٹھی۔۔”یکایک نظر پھر ڈریسنگ ٹیبل پر موجود چُھری پر بھی گئ جس میں خون لگا ہوا تھا۔ ۔”یہ سب دیکھ کر اُس نے اقدس کو دیکھا جو سہی سلامت تھی۔ ۔”اُس کا دھیان پھر آتش کی طرف گیا

“تم نے آتش کو کچھ کیا ہے کیا؟ “ایشال نے سنجیدگی سے اُس کو مُخاطب کیا تو وہ جو اپنے خیالوں میں تھی چونک کر ایشال کو دیکھنے لگی

“نن نہیں تو کیوں؟ “ناچاہتے ہوئے بھی اقدس ہکلائی تھی

“یہ خون کس کا ہے؟”اور نائیف یوں خون میں کیوں ہے؟ “ایشال نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا

“یہ خون نہیں انار ہے۔ ۔”یقین نہیں آتا تو ٹیسٹ کرکے دیکھ لے۔ ۔۔”اُس کے ایسے انداز میں پوچھنے پر پہلے پہل وہ گھبرا سی گئ۔ ۔’لیکن جلدی خود کو سنبھال کر اُس نے بہانا بناکر اُس سے کہا تو ایشال نے ہزار منہ کے زاویئے بنائے تھے

“نو تھینکس۔۔”اِتنا کہتی وہ جانے لگی۔ ۔”لیکن پھر دروازے پر ہاتھ رکھ کر وہ پلٹ کر اُس کو دیکھنے لگی

“وہ جیسا نظر آتا ہے۔ ۔”ویسا ہے نہیں اُس نے اپنی اصل پہچان کو خود پر خول چڑھاکر چُھپالیا ہے۔۔”اب اگر تم اُس کو کُرید کر اُس کا خول ہٹانے کی کوشش کرو گی تو اپنا نقصان کروگی۔ ۔”بتیس سال کا ہے وہ دیکھنے میں کم عمر نظر آتا ہے لیکن خود سوچ کر بتاؤ کونسا ایسا مرد ہے جو اپنی عمر کے اِس حصے میں دماغ گُھمانے والی باتیں کرتا یے۔۔۔ایشال نے سنجیدگی سے کہا تو اقدس چپ رہی اُس کو سمجھ نہیں آیا یہ بات اُس نے اُس سے ایسے کیوں کہی تھی؟”

اللہ نے دماغ اُس کو زیادہ دیا ہے۔۔”ایشال کے جانے بعد وہ بڑبڑائی تھی

“اگر مرد باتونی ہو تو وہ باتونی ہی رہتا ہے۔ ۔”عمر چاہے جو بھی ہو۔ ۔”اب آریان خالوں کی مثال سامنے ہے۔ “کبھی سیریس نہیں ہوتے۔ ۔”اقدس کو آریان کا خیال آیا تو سرجھٹک کر بولی

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“المان کے کمرے میں اِس وقت گہری خاموشی کا راج تھا۔ ۔”کمرے میں چار افراد تھے۔ ۔”اُس کے باوجود کسی نے بھی بات کرنے میں پہل نہ تھی۔ ۔”ایک طرف بیڈ پر یلو گول گلے والی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس المان سرجھکائے خاموش بیٹھا تھا تو دوسری طرف صوفے پر سکندر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ ۔”اور ایک زوہان جو دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ ۔”پھر ایک رایان تھا جو چاہنے کے باوجود کچھ بول نہیں پارہا تھا۔ ۔”اُن کی زندگی کا یہ پہلا دن تھا جب وہ یوں اکھٹے تھے اور کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ ۔”وہ چاروں جب ساتھ ہوتے تو ہمیشہ ہلا گُلا لگا رہتا تھا۔ ۔”پورے کمرے کا نقشہ ہی بدل کے رکھ لیتے تھے۔۔”یہاں گُزارا وہ آخری دن اُن کو یاد آیا جب اُنہوں نے المان کو زچ کیا تھا۔ ۔”جب اُنہوں نے بہت مستی کی تھی۔ ۔پھر آج جانے کیسے جھجھک تھی جو اُن کے آڑے آرہی تھی۔”وہ پہلے کی طرح جھپی مارے ایک دوسرے کے گلے نہیں لگے تھے۔ ۔”اور نہ اُس سے کوئی سوال کیا تھا۔”جانے کیا وجہ تھی شاید اب وہ پہلے کی طرح ٹین ایجر نہ رہے تھے۔ “بڑے ہوگئے تھے اور اب “اُن کو احساس ہوا جیسے وہ مچیور بن گئے ہیں۔ ۔”اور اُن کی اِن میچیورٹی نے اُن کو ایک دوسرے سے بہت دور کردیا تھا۔ ۔”وہ سالوں بعد یوں خاموش ہوکر ملے گے۔ ۔”ایسا تو کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔ ۔”ایک طرف المان سوچ رہا تھا کہ وہ یوں خاموش کیوں تھے؟ “تو دوسری طرف اُن تینوں کو المان کی اِس قدر سنجیدگی کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ ۔”سنجیدہ وہ پہلے بھی رہتا تھا۔ ۔”لیکن آج اُس کی سنجیدگی میں ایک الگ روعب سا تھا۔ ۔”وہ کھل کر کوئی بات اُس سے کرنے سے کترا رہے تھے۔۔”ایسے لگ رہا تھا جیسے اُس نے اپنے ماتھے پر نو لفٹ کا بورڈ لگایا ہے۔

” تم کافی چکنے ہوگئے ہو۔۔”یلو رنگ میں اُس کی رنگت لڑکیوں کی طرح چمکتی دمکتی دیکھ کر رایان جو ایکسرے کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا وہ بولے بغیر نہ رہ پایا۔ ۔”جبکہ اُس کے ایسے کمنٹ پر زوہان نے ایک نظر المان کو دیکھ کر سکندر کو دیکھا تو اُس نے بھی ایک نظر المان پر ڈالے جواباً گردن موڑ کر زوہان کو دیکھا جس پر اُس کی ہنسی چھوٹ گئ تھی۔ ۔”لیکن جلدی اُس نے اپنی ہنسی کو کھانسی میں بدل دیا تھا۔ ۔

“میرے کہنے کا مطلب تھا تم اِن چھ سالوں میں خالو اسیر کا عکس بن گئے ہو۔ ۔”رایان نے اچھے لفظوں کا چُناؤ کرکے اُس کی تعریف کی۔”لیکن پھر بھی خاموشی کا دورانیہ بڑھ گیا تھا۔”شاید المان اُن سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتا تھا

“مان بابا آپ سے ملنے ایک لڑکی آئی ہے۔۔”جینی نام بتایا ہے۔۔۔”ملازم اُس کے کمرے کا دروازہ نوک کرکے بتانے لگا تو المان بنا کسی کی طرف دیکھے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔”پیچھے اُن تینوں نے حیرت سے اُس کی پُھرتی کو دیکھا تھا۔”سب سے پہلے رایان میں غیرت سی جاگی کہ وہ بس اُس کا کزن یا دوست نہیں بلکہ بہنوئی بھی ہے تبھی فرش پر زور سے پاؤں مارتا وہ بھی کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔”پیچھے اب بس سکندر اور زوہان تھے۔۔

“یہاں بیٹھ کر مکھیاں مارنے سے اچھا ہے۔۔”جینی کو دیکھ لے کہ وہ کون ہے اب۔۔۔سکندر نے سوچ میں گُم زوہان کو دیکھ کر کہا تو وہ سراثبات میں ہلاتا دروازے کی طرف بڑھا تو سکندر بھی اُس کے پیچھے گیا۔۔”ابھی وہ ہال میں جانے لگے تھے کہ ریلنگ کے پاس رایان کو دیکھ کر وہ اُس کی طرف آئے۔۔”زوہان رایان کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو سکندر دائیں طرف پھر ریلنگ کے نیچے دیکھا جہاں ہال میں المان کے ساتھ کافی ماڈرن لڑکی کھڑی مسکرا کر کوئی بات کررہی تھی۔۔

“یہ لڑکا جو گُل چھڑے اُڑا رہا ہے نہ وہ میری بہن کا آدھا شوہر ہے۔۔”پورا شوہر بننے کی باری آئی ہے تو کسی اور لڑکی کے ساتھ پکڑاگیا ہے۔۔”رایان نے المان پر نظریں جمائے اُن دونوں سے کہا

“تمہاری وہ بہن ہماری بھی کچھ لگتی ہے۔۔”اُن دونوں نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“تو تم نالائقوں نے اب تک اُس کے لیے کیا کیا ہے؟۔”اپنے دونوں ہاتھ کھڑے کرکے اُن کے سر پر تھپڑ مار کر رایان نے دانت پیس کر کہا وہ دونوں کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *