Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 02)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 02)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
آریان تم کہاں ہو؟میشا نے آریان کو نیچے نہیں دیکھا تو آواز دے کر پوچھا”کیونکہ اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ گھپ اندھیرے کی وجہ سے آریان اُس کو نظر نہیں آرہا یا پھر وہ تھا ہی نہیں
“آریان کیا تم زندہ ہو؟میشا نے پھر سے اُس کو آواز دی
“ہاں ابھی تک زندہ ہوں لیکن اگر تم بیوہ بننا نہیں چاہتی تو جلدی سے میری مدد کرو۔۔اچانک آریان کی آواز سُن کر میشا کا دل اُچھل کر حلق تک آیا تھا”آریان کی آواز بہت بھاری تھی اور جب وہ اُونچی آواز میں بات کرتا تو ایسا لگتا جیسے گرج رہا ہو”پر اگر آہستہ آواز میں بات کرے تو ٹھیک تھا”دوسرا اُس کو اپنے سامنے کسی اور کی اُونچی آواز برداشت کہاں ہوتی تھی یا اُس نے کب کسی کو اِتنا موقع دیا تھا کہ کوئی اُس کے سامنے اِتنا بولے یا ایسے بولے
“تم ہو کہاں ڈفر؟میشا تھوڑا مزید جُھک کر کھڑکی کے نیچے دیکھنے لگی۔
“وہی ہوں جہاں تمہاری بٹن جیسی آنکھیں نہیں پُہنچ پارہی اندھی نہ ہو تو۔۔آریان کی تپی ہوئی آواز سُن کر میشا کو تاؤ تو بہت آیا تھا لیکن یہ وقت تحمل مظاہری کرنے کا تھا تبھی اُس نے جانے کیسے خود پر ضبط کیا تھا
“اگر آج کے دن کسی کریم کا استعمال کرلیتے تو زیادہ نہیں تو اندھیرے میں تمہاری شکل ہی نظر آجاتی۔۔میشا نے طنز آواز میں اُس سے کہا
“جتنے گز بھر کر تم نے اپنے چہرے پر میک اپ تھوپا ہے نہ اُس کے باوجود اور اُس کے ساتھ تمہاری شکل اِتنی گوری نہیں لگ رہی تھی جتنا میں اِس وقت رات کی تاریخی میں بغیر کسی مصنوعی چیز کے گورا لگ رہا ہوں۔۔آریان نے سوچا جان جاتی ہے تو چلی جائے لیکن پُھلجڑی چھوڑنے کا موقع نہ جائے
“ہاں ہاں تم تو چاند کی طرح چمک رہے ہو اب بتاؤ گے بھی یا نہیں کہ ہو کہاں تم؟میشا طنز بولی
دو نمبری پولیس آفیسرنی پائمپ کے پاس لٹکا ہوا ہوں اگر وہ نظر آجاتا تو اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر میری مدد کرو۔۔آریان نے دانت کچکچاکر اُس سے کہا
“واٹ پائمپ؟میشا حیرت سے بڑبڑاتی تھوڑا مزید جُھکی تو اُس کو آریان پائمپ کو پکڑے لٹکتا ہوا نظر آیا یعنی اُس میں کوئی بعید نہیں تھا کہ اگر یہاں پائمپ نہ ہوتا تو آریان کی ہڈیوں کو آج ٹوٹنے سے کوئی بھی بچا نہیں سکتا تھا
“اگر دیدار کرلیا ہو تو مجھے بچانے کی سوچو میں مزید پائمپ کے آسرے لٹک نہیں سکتا۔۔آریان سراُٹھاتا اُس کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ کر بولا وہ دونوں بھی اپنی دُنیا کے عجیب قسم کا جوڑا تھا”جہاں دولہن (skeleton) کو سنبھالتی گِر پڑی تھی تو کبھی دولہا (skeleton) کے ڈر سے کھڑکی پھلانگتے ہوئے گِر پڑا تھا اور اب پائمپ کے آسرے تھا جس کی چکنائی سے بار بار اُس کے ہاتھ پھسل رہے تھے
“میرے ہاتھ اِتنے بھی لمبے نہیں جو تم تک پہنچ پائے۔۔میشا نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا
“قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں تو تمہارے ہاتھ کیوں ٹیڈی ہیں؟”کیا تم قانون کے ساتھ وفادار نہیں؟”یا بس دس بیس فٹ کی زبان پالی ہوئی ہے جو مجھ تک تو کیا آس پاس ہر کسی تک ُپہنچ رہی ہے۔۔آریان جھنجھلاہٹ سے بھری آواز میں اُس سے بولا
اگر ایسا ہوتا تو تمہارا بھائی لائیٹیں مارتا ہوا ضرور آتا اور اگر واقعی میں تم چاہتے ہو تمہیں پائمپ سے لٹکتا ہوا کوئی نہ دیکھے تو مجھ سے زرا عزت سے بات کرو۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“جان بچ گئ تو کہی سے کسی عزت کو ڈھونڈ کر تمہارا شکریہ ادا کروں گا لیکن یار ابھی تو بچاؤ میرا سانس خُشک ہورہا ہے۔”اور پتا نہیں کس منحوس نے اِس پائمپ کو دھویا اِتنا نرم ہے کہ بار بار میرا ہاتھ پھسل رہا ہے۔آریان اُس سے کہتا آخر میں پائمپ کو گھورتی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
“تمہارا کوئی حال نہیں میں کچھ کرتی ہوں۔۔میشا سرجھٹک کر اُس سے کہتی بیڈ سے چادر کو پکڑا۔۔”پھر کھڑکی کے پاس اُس کو مضبوط سے باندھتی باقی کا ایک سِرا نیچے پھینکا
“اِس کو پکڑ کر اُپر آنے کی کوشش کرو۔۔میشا نے جلدی سے اُس کو کہا
“کیا تم پاگل ہو؟”یا فلمیں زیادہ دیکھتی ہو میں اِس کو پکڑ کر کیسے آسکتا ہوں؟آریان کو میشا کا آئیڈیا بے تُکہ سا لگا اُس کو ڈر لگ رہا تھا اگر وہ چادر کو پکڑے گا تو کہی گِر پِڑ کر شادی کی پہلی رات شہید نہ ہوجائے
“جس طرح پائمپ کو اپنی محبوبہ سمجھ کر مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے ٹھیک ویسے اِس چادر کو بھی اپنی گرل فرینڈ سمجھ کر چپک جاؤ اور اُپر آنے کی کوشش کرو۔۔میشا نے دانت پہ دانت جمائے اُس سے کہا
“دیکھو اگر اب تم ایسی باتیں کروگی تو مجھے شرم آئے گی۔۔آریان اِس کرٹیکل حالت میں بھی باز نہیں آیا تھا۔
“اگر شرم زیادہ محسوس ہورہی ہے تو اُس میں ڈوب کر مرجاؤ۔۔میشا کا دل چاہ رہا تھا وہ اپنا سر دیوار پہ دے مارے عجیب صورتحال میں وہ پھسی ہوئی تھی”یہاں ایک طرف سارے دن کی تھکاوٹ سے اُس کا بدن چور تھا اور وہ آرام کرنا چاہتی تھی تو دوسری طرف ایک آریان تھا جو زندگی اور موت کے درمیان کھڑا ہونے کے باوجود بھی مسخراپن کرنے میں لگا ہوا تھا۔
“خیر میرا اِرادہ تمہیں بیوہ کرنے کا بلکل بھی نہیں ہے ابھی تو ہم دونوں کو مل کر بیس تیس بچے پیدا کرنے ہیں۔۔آریان کلمہ پڑھ کر چادر کو مضبوط سے پکڑے شوخ لہجے میں بولا تو میشا کا دل چاہا چادر کو جہاں اُس نے مضبوطی سے باندھا تھا وہاں سے اُس کو کھول کر آریان کو اُونچائی سے گِرائے جو کافی ڈھیٹ ہڈی تھا
“اِس کے سہارے اُپر آنے کی کوشش کرو۔۔میشا نے اُس کی بات کو اگنور کیا
“ہائے کُوالٹی وارئٹی کا یہ ایک فائدہ ہوتا ہے کہ آپ اچھے کپڑے والی چادر کو باندھ کر اچھے سے جھولا جھول کر اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرسکتے ہو۔۔آریان واقعی میں چادر سے چپکتا ایک پاؤ اپنا زور سے دیوار پہ مار کر یہاں وہاں جھولنے لگا تو میشا کا منہ حیرت کے مارے پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا جو کسی بچے کی طرح جھولا جھول ایسے رہا تھا جیسے واقعی میں کوئی جھولا ہو یہاں اُس کے جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور وہاں اُس کو یہ چیز ایک ایڈوینچر کی پڑی تھی
“کیا تم پاگل ہو؟”اگر چادر پھٹ گئ نہ تو لیتے رہنا تم جھولا۔۔میشا نے اُس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا
“پاگل ہوں تبھی تو تم سے پہلی نظر میں پیار کیا ورنہ خود سوچو اور اپنے آپ کو آئینے میں دیکھو کہ کیا کوئی عقلمند انسان اپنے ہوش وحواسو میں رہ کر تم سے پیار کرسکتا ہے؟آریان اُپر چڑھنے کی آہستہ آہستہ کوشش کرتا اُس سے بولا
“تمہیں اُپر ہی آنا ہے اِس لیے مجھے مجبور مت کرو کہ میں اپنے ہاتھوں کی کُھجلی تمہاری پیٹھ کو مار کر ختم کروں۔۔میشا نے اُس کو وارن کیا
“جو آج تم نے میرے ساتھ کیا ہے نہ وہ اچھا بلکل بھی نہیں تھا”تمہاری وجہ سے میری ہڈیاں ٹوٹنے والی تھیں۔آریان نے کہا
“تو تمہیں کس نے کہا تھا کھڑکی کے پاس کھڑے ہونے کو اِتنا بڑا کمرہ تھا لیکن نہیں تم نے تو تیسمار خان کی نقلی کاپی بننا تھا۔۔میشا نے اُس کو اب بس تھوڑا دور دیکھا تو سیدھی ہوکر کھڑی ہوگئ
“اِس وقت تو مجھے اپنا آپ دھوم تھری والا عامر خان لگ رہا ہے۔۔آریان نے فخریہ انداز میں اُس کو بتایا اور اپنا ہاتھ اُپر کیا جو میشا نے آگے بڑھ کر تھام کر اُس کو ایک جھٹکا دیا تو اُس کا خود کا پاؤ پھر سے لہنگے میں اِٹکا تھا اور دوبارہ سے گِری تھی لیکن اِس بار اُس کو چوٹ پہلے کی نسبت زیادہ آئی تھی کیونکہ ایک تو اُس کا سر زور سے فرش پر لگا تھا دوسرا آریان کا بھاری وجود بھی اُس پہ گِرا تھا۔
“میرا سر۔۔میشا کراہ اُٹھی
“دیکھو اگر سر پہ گہری چوٹ آئی ہے تمہاری تو اور یاداشت چلی گئ ہے تو سب کچھ بھول جانا لیکن یہ مت بھولنا کہ آج ہمارا نکاح ہوا ہے وہ بھی تازہ ترین فریش سا۔۔آریان اُس کا گال تھپتھپا کر اپنی طرف متوجہ کرکے بولا تو میشا نے تنگ ہوکر ایک لات اُس کے پیٹ پہ مار کر دور کیا تو وہ اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھتا سائیڈ پہ گِرا پڑا تھا بلآخر آریان میشا کے ارتکاب کا حصہ بن چُکا تھا۔
“نہایت ہی کوئی بدتمیزی قسم کے انسان ہو بجائے میری طبیعت پوچھنے کے تمہیں بس یہ پڑی کہ میں نکاح نہ بھول چُکی ہوں۔۔میشا نے اُٹھ کر اُس کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا لیکن جواب میں آریان وہی لیٹتا ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہونے لگا کیونکہ اُس کو اپنا پائمپ سے لٹکنا یاد تو نہیں آیا تھا ہاں البتہ میشا کا گِر کر عجیب وغریب حُلیہ ضرور یاد آیا تھا” جس پر اُس کی ہنسی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا تو دوسری طرف میشا کو لگا شاید وہ اپنی کچھ دیر قبل ہوئی حالت کے بارے میں سوچ کر ہنس رہا ہے” اِس لیے جہاں پہلے اُس کو ہنسنے کا موقع نہیں ملا تھا اب وہ بھی ہنس پڑی تھی”لیکن دونوں ہی ایک دوسرے کی ہنسی سے انجان تھے اگر اُن کو وجہ پتا لگ جاتی تو کوئی شک نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک بار پھر لڑنے لگ جاتے۔


السلام علیکم ۔۔۔۔سوہان بیڈ پہ بیٹھی زوریز کا انتظار کررہی تھی جب وہ کمرے میں آتا اُس کو سلام کرنے لگا۔
وعلیکم السلام ۔۔۔زوریز کو دیکھ کر سوہان اپنے پاؤ سمٹ کر بیٹھ گئ۔۔
“کیسی ہیں آپ؟زوریز کو کچھ اور سمجھ نہیں آیا تو بات کرنے کے غرض سے حال احوال پوچھنا شروع کیا
“میں ٹھیک آپ کیسے ہو؟سوہان شاید اُس سے زیادہ نروس تھی تبھی جواباً بتانے کے بعد اُس سے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں اور آپ کو یہاں اپنے کمرے میں دیکھ کر اور بھی ٹھیک ہوگیا ہوں۔۔زوریز اُس کا حنائی والا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بولا تو سوہان ہولے سے مسکرائی تھی۔
“کبھی کبھی مجھے آپ پاگل لگتے ہو۔۔سوہان نے بتایا
“کیوں نہیں لگوں گا پاگل ہوں بھی آپ کے لیے نہ۔۔زوریز فورن سے بولا تھا جس پر سوہان کو جیسے چُپ لگ گئ تھی۔
“کیا ہوا؟اُس کو پھر سے کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر زوریز نے پوچھا
“ایک بات پوچھنی تھی آپ سے۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر کہا
“جی پوچھے؟زوریز نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“آپ پاکستان کیوں آئے؟”مطلب آپ کا سب کچھ تو لندن میں تھا نہ؟یہاں تو آپ کی اچھی یادیں نہ تھی تو پھر؟سوہان کو جو سوال بہت وقت سے ستارہا تھا آج وہ پوچھ لیا
“میں یہاں کبھی نہ آتا اگر آپ بغیر مجھے بتائے پاکستان نہ آتی تو۔۔زوریز نے کہا
“مجھے لگا تھا آپ کا میرے ساتھ وقتی لگاؤ ہے جو میرے اِس طرح جانے سے ختم ہوجائے گا۔۔سوہان نے کہا تو اُس کے ہاتھ پہ زوریز کی گرفت مضبوط ہوئی تھی۔
“آپ سے وقتی لگاؤ ہوتا تو نکاح نہ کرتا اور نہ آپ کے یوں جانے سے میں ہرٹ ہوتا۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا
“مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اِس بات کا شکوہ کبھی مجھ سے نہیں کیا۔۔سوہان نے محض اِتنا کہا
“شکوے بہت تھے لیکن جب یہاں آپ کو پہلی بار دیکھا تو سارے شکوے خودبخود ختم ہوگئے۔ ۔”آپ کے ساتھ بِتایا ہوا پل بہت خوبصورت ہوتا ہے جو میں کسی ناراضگی کی نذر کبھی کرنا نہیں چاہوں گا۔ ۔زوریز نے کہا تو سوہان نے اپنا دوسرا ہاتھ اُس کے ہاتھ کے اُپر رکھا
“تو کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں میری وجہ سے آئے ہیں؟ سوہان نے سب کچھ جانننے کے بعد بھی پوچھا
“جی میں یہاں آپ کی وجہ سے آیا ہوں اور میں ابھی تک جان نہیں پایا کہ آپ نے مجھے اپنا مان کر اپنا سب کچھ اگر بتادیا تھا تو پھر یوں بے اعتنائی کیوں کی؟جب بات کُھلی تو زوریز نے بھی پوچھ لیا
“مجھے بس سہی نہیں لگتا تھا ایسا لگتا تھا کہ میں آپ کے قابل نہیں ہوں اور شاید آپ نے مجھ پر ترس کھایا ہو۔ ۔سوہان کے اندر کہی نہ کہی آج بھی کمتری کا احساس تھا
“جب میرے اندر آپ کے لیے احساسات جاگے تھے تو میں آپ کے ماضی سے انجان تھا۔۔”اور میں نے آپ کو دل سے چاہا ہے کوئی ترس نہیں کھایا۔ ۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا اُس کو سوہان کی یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔
“اچھا چھوڑو پُرانی باتوں کو میری منہ دیکھائی سامنے کرو۔ ۔۔سوہان نے ماحول میں چھائی سنجیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کی
“ضرور۔ ۔زوریز اُس کے ہاتھ پہ عقیدت سے بھرا بوسہ لیتا اُٹھ کر وارڈروب کی طرف آیا
“کیا لائے ہو؟ زوریز نے فائلز اُس کے سامنے کی تو سوہان نے پوچھا
“پہلے آپ کا حق مہر ادا کیا ہے رہی بات منہ دیکھائی کی تو اُس میں زوریز دُرانی نے اپنی ساری پراپرٹی آپ کے نام ٹرانسفر کردی ہے۔ ۔زوریز نے بتایا سوہان کی آنکھیں بے ساختہ اشکبار ہوئیں تھیں وہ بے یقین سی تھی اُس کو یقین نہیں آیا کہ زوریز اُس کے لیے اِتنا کچھ کرسکتا ہے۔
“زوریز مجھ پر تمہارے پہلے سے بہت احسان ہیں اور اب یہ جو تم نے منہ دیکھائی میں دیا ہے وہ میں نہیں لے سکتی۔ ۔سوہان نے گہری سانس بھر کر خود کو پرسکون کرنے کی خاطر اُس سے کہا
“احسان نہیں کیا میں نے آپ پر کوئی شوہر اگر بیوی کے لیے کچھ کرتا ہے تو اُس میں اُس کی چاہت اور محبت ہوتی ہے احسان کا کوئی عنصر نہیں ہوتا”اور رہی بات پراپرٹی کی تو وہ ویسے بھی آپ کی ہے۔ ۔زوریز نے اُس کی آنکھوں میں اُترتی نمی کو اپنے پوروں سے صاف کیے کہا
“کیوں کرتے ہو۔؟سوہان نے بے بسی سے اُس کو دیکھا وہ ہمیشہ اُس کے سامنے بے بس ہوجایا کرتی تھی۔
“محبت؟ زوریز جیسے جان گیا
“ہاں محبت۔۔سوہان نے اپنا سراثبات میں ہلایا
“اگر بتاکر ہوئی ہوتی تو آپ کو ضرور بتاتا۔ ۔زوریز کان کی لو کھجاکر بولا تو اُس کے انداز پر سوہان بے ساختہ مسکرا پڑی تھی۔
“یہ آپ اپنے پاس رکھے۔۔سوہان نے پراپرٹی کے کاغذات اُس کو تھمائے
“کیوں؟ زوریز اُلجھ کر اُس کو دیکھنے لگا
“میں سنبھال نہیں پاؤں گی۔سوہان نے جیسے بہانا تراشا
“کیوں سنبھال نہیں پائے گی؟زوریز نے پوچھا
“کیونکہ آپ اچھے سے چیزوں کو سنبھالنا جانتے ہو۔”اور میں چاہتی ہوں یہ بھی آپ کے پاس ہو نام پر تو ویسے بھی میرے ہے پھر اُس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کے پاس ہے یا میرے پاس۔۔سوہان نے سادہ انداز میں کہا
“لیکن یہ آپ کا ہے۔۔”اور میں چاہوں گا یہ آپ کے لاکر میں رہے۔۔زوریز بھی اپنی جگہ بضد تھا۔
“پر میں تو ایسا نہیں چاہتی نہ اور میرا نہیں خیال کہ آپ کبھی میری کسی بات پہ انحراف کرے گے۔۔سوہان نے آخر میں اُس کو ایموشنل بلیک کیا جس میں وہ کامیاب بھی ٹھیر گئ تھی۔
“اچھا سہی جیسے آپ کہو۔۔زوریز نے بلآخر ہار مان لی
“شکریہ اور میں زرا چینج کر آؤں۔۔سوہان نے مسکراکر کہا
“میں مدد کرواتا ہوں۔۔زوریز اُٹھ کر اُس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر بولا جو سوہان نے تھام بھی لیا







“وہ جو سارا دن ایک جگہ بیٹھ کر تھک گئ تھی کمرے میں جیسے ہی اُس کو لایا گیا تو وہ بیڈ پر بیٹھتی بیڈ کراؤن سے ٹیکا لگا کر سوگئ تھی اب آنکھ اُس کی کسی کھٹکے کے احساس سے کُھلی تھی۔جس پر وہ یکدم سیدھی ہوئی تو نظر عاشر پر پڑی جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔
“سوری میری وجہ سے آپ کی نیند خراب ہوئی۔۔عاشر کو افسوس ہوا
“سوری کی کوئی بات نہیں پتا نہیں کیسے میری آنکھ لگ گئ تھی۔۔لالی نے کہا
“آپ تھک گئ ہیں شاید۔۔عاشر نے اُس کے چہرے کو دیکھ کر مبہم مسکراہٹ سے کہا
“ہاں ایک جگہ بیٹھ بیٹھ کر کمر اکڑا گئ تھی۔۔لالی نے اعتراف کیا
“ایک بات کہنا چاہوں گا میں آپ سے۔۔عاشر نے کہا
“جی؟لالی اُس کی طرف متوجہ ہوئی
“میں جانتا ہوں آپ بڑے گھر میں پلی بڑھی ہیں جہاں آپ کی ہر خواہش منٹوں میں پوری ہوجاتی ہوگی”لیکن یہاں حالات تھوڑے مختلف ہیں”ہمارا یہ گھر زیادہ بڑا نہیں ہے سفید پوش گھرانہ ہے”لیکن میں آپ سے واعدہ کرتا ہوں آپ کو یہاں کسی بھی چیز کی کمی محسوس ہونے نہیں دوں گا۔”میری پوری کوشش یہ ہوگی کہ آپ کو ہر لحاظ سے یہاں خوش کر پاؤں تاکہ آپ کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا نہ ہو۔۔عاشر اُس کو دیکھ کر ٹھیرے ہوئے لہجے میں بولا تو لالی دھیرے سے مسکرائی تھی۔
“آپ نے سہی کہا عاشر میں بڑے گھر میں پیدا ہوئی ہوں”اور اُس میں بھی کوئی شک نہیں کہ میری ہر خواہش کو پورا کیا جاتا تھا”میرا بھائی مجھ پہ جان چھڑکتا تھا لیکن عاشر بعض اوقاف ہم لڑکیوں کی زندگیوں میں ایسا کچھ ہوجاتا ہے جو ہم اپنے جان چھڑکنے والے بھائی کو بھی نہیں بتاسکتے۔۔”میں وہاں اکیلی بیٹی تھی مجھے بچپن میں سب کا پیار ملا لیکن جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئ سب کے رویئے بدلتے گئے۔”مجھے وہاں ایک چیز کی شدید طلب ہوتی تھی۔”پہلا سکون”جو مجھے وہاں کبھی نہیں ملا اور عاشر انسان کا سکون محلوں میں نہیں ہوتا اور نہ سکون ہمارے آس پاس ہوتا ہے”بلکہ سکون تو ہمارے اپنے دل میں ہوتا ہے جو میرا اپنی حویلی میں نہیں لگا وجہ بس اِتنی ہے کہ وہاں کا ماحول مجھے کبھی بھایا نہیں۔”اُس ماحول سے بیزار ہوکر بھائی تو اکثر شہر جاکر خود کو پرسکون کرلیا کرتے تھے لیکن مجھے حویلی میں رہ کر سب کچھ برداشت کرنا ہوتا تھا۔۔”میں نے اپنی زندگی میں جتنی شادیاں دیکھی وہ کمپرومائز سے بھرپور تھی جس کا انجام بھی بہت بھیانک نکلتا تھا۔”پہلے اسیر بھائی کی شادی جو کامیاب نہ ہوپائی اُس کی وجہ میں یہ سمجھی کہ شاید ایج ڈفرنس تھا لیکن پھر میرے دوسرے بھائی کی شادی بھی کوئی خاص نہیں چلی تھی آئے دن لڑائی جھگڑا گالی گلوچ ہوتا تھا ہلانکہ اُن دونوں کی شادی محبت کی تھی لیکن اُس میں ایسا کچھ نہیں تھا جس سے آپ کا دل بھی چاہے کہ واقعی شادی ایک خوبصورت رشتہ ہے۔”پر جب آپ نے مجھ سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بنانا چاہتے ہیں تو میرے دل میں خیال آیا تھا کہ جیسے اب میں اُس قید سے رہا ہوجاؤں گی جس سے آزاد ہونے کے خواب میں نے جانے کب سے سجائے تھے۔”میری نظر میں دُنیاوی آسائشوں کی کوئی ویلیو نہیں ہے۔۔”میں یہاں آکر بہت خوش ہوں خود کو پرسکون اور تروتازہ محسوس کررہی ہوں۔۔”اِس لیے آپ اِس ٹینشن سے آزاد ہوجائے کہ میں یہاں خوش نہیں رہ پاؤں گی یا پھر کسی چیز کی کمی محسوس ہوگی”میں یہاں وہ سب کرسکتی ہوں جو میں کرنا چاہتی ہوں”میں یہاں بے خوف ہوکر جی سکتی ہوں۔۔”کیونکہ مجھے پتا ہے آپ مجھ پر کوئی بیجا روک ٹوک نہیں کرینگے۔۔لالی آج بولنے پر آئی تو اپنے اندر موجود سارا غبار نکال کر باہر کیا تھا اور اُس کی ساری بات عاشر نے غور سے سُنی اور سمجھی بھی تھی۔
“آپ کو دیکھ کر یقین سا آگیا کہ عورت کا دوسرا نام کمپرومائز ہوتا ہے”جہاں وہ خود کو مار کر دوسروں کے لیے جیتی ہے”لیکن میں پھر بھی کہوں گا میں ایسی کوئی نوبت نہیں آنے دوں گا جس سے آپ کو لگے کہ اب آپ کو ایڈجسٹ ہونے کے لیے کمپرومائز تھوڑا بہت کرنا چاہیے۔۔عاشر نے کہا
“اور میں بھی یہی کہوں گی کہ ایسا میں کبھی نہیں سوچو گی کیونکہ ایک عورت بس پیار کی بھوکی ہے۔”اگر اُس کا شوہر ایمانداری سے اُس کے ہر دُکھ درد اور سکھ چین میں ہمقدم ہوگا تو بیوی کو کسی اور چیز کی طلب نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی جھونپڑی میں بھی ہنسی خوشی رہ لے گی۔۔”اپنی ایک الگ خوبصورت دُنیا بناکر۔۔لالی نے مسکراکر اُس کو دیکھ کر پختگی سے کہا تو عاشر بھی جواباً مسکرایا
“ویسے آپ نہ لڑاکوں ہیں اور نہ کم گو۔۔عاشر نے مسکراہٹ دبائے کہا
“میں آپ کو کیا لڑاکوں لگی تھی؟لالی کو حیرت ہوئی
“بلکل ہماری پہلی مُلاقات میں جس قدر آپ نے مجھے باتیں سُنائی تھیں اُس لحاظ سے میں نے آپ کو لڑاکا تسلیم کرلیا تھا۔عاشر نے سر کو خم دے کر کہا
“اب ایسی بھی کوئی بات نہیں اُس دن آپ نے مجھے کنفیوز ہی ایسا کردیا تھا اور خود کو آپ بھول گئے ہیں۔۔لالی بس اپنے پہ الزام لگتا ہوا دیکھ کر احتجاجاً بولی
“ہاں تو فرسٹ ڈے میں ہر کوئی یونی میں ایسا کرتا ہے آپ کچھ زیادہ بُرا مان گئ تھیں۔۔۔عاشر نے کہا
“ہاں تو میں کونسا جانتی تھی۔۔لالی یہاں وہاں دیکھ کر بولی
“اچھا چھوڑو پُرانی باتوں کو آپ چینج کرکے آرام کیجئے۔۔عاشر نے اُس کا گال تھپتھپا کر کہا
“جب بات خود پہ آرہی ہے تو سوجاؤ ویری اسمارٹ۔۔لالی اُس کو دیکھ کر تاسف سے بولی تو عاشر کھسیانا سا ہوگیا۔۔
