Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Last Episode)Part 2
Rate this Novel
Ishq Meharban (Last Episode)Part 2
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
“آپ آج اپنے گاؤں جائے گی؟عاشر لالی کو کالج کے گیٹ کے پاس چھوڑتا اُس سے پوچھنے لگا۔
“جی بہت وقت سے نہیں گئ نہ تو آج جاؤں گی اپنے بھائی کو بتایا ہے وہ شام تک لینے آئے گے۔”پھر اگلے ماہ پڑھائی کا زیادہ وزن ہوگا جس کی تیاری میں وہاں نہیں کرپاؤں گی۔۔لالی نے تفصیل سے جواب دیا
“ہمممم سہی میں نے بھی بُوا سے بات کرلی ہے”وہ بھی کچھ دِنوں تک آپ کے گاؤں آجائے گی۔عاشر نے کہا تو لالی نے رُک کر اُس کو دیکھا
“عاشر میرا نہیں خیال میرے گھروالے آپ کے لیے راضی ہوگے”ہمارے یہاں خاندان سے باہر کوئی شادی نہیں کرواتا میں بھی نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کسی مصیبت میں پڑے۔۔لالی اُس کو دیکھ کر ہچکچاہٹ سے بولی
“مجھے اُمید کی کرن دیکھا کر اب آپ ایسی باتیں کررہی ہیں؟عاشر کو جیسے اُس کی بات پسند نہیں آئی
“اُس دن کے بعد میں نے آپ کی بات کے بارے میں بہت سوچا پھر اپنے گاؤں اور گاؤں کے رہنے والوں کی روایت کے بارے میں سوچا تو مجھے سِوائے اندھیرے کے کچھ اور نظر نہیں آیا تھا ایسے میں میرے پاس ایسی باتیں کرنے کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ہے کیونکہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ جب میرے بابا کو آپ کا پتا لگے گا تو وہ جانے کیسا رد عمل پیش کریں۔۔لالی سرجھکاکر بولی
“سب سے پہلے آپ ڈرنا چھوڑدے کیونکہ بغیر امتحان دیئے کوئی پاس نہیں ہوتا اور جو ہوگا دیکھائے جائے گا ویسے بھی لالی فیل ہونے کے ڈر سے اِنسان امتحال ہال میں بیٹھنا نہیں چھوڑتا سو رلیکس سب ٹھیک ہوگا اِن شاءاللہ تم بس اطمینان رکھو۔۔عاشر نے نرم لہجے میں اُس کو سمجھاتے ہوئے کہا جو لالی کو سمجھ بھی آرہا تھا پر وہ اپنے اُس ڈر کا کیا کرتی جو اُس کے اندر کُنڈلی مار کر بیٹھا ہوا تھا کیونکہ جتنا وہ اپنے گھروالوں کو جانتی تھی اُس کا ایک فیصد بھی عاشر نہیں تھا جانتا تبھی اِتنا پرسکون تھا
“اُمید ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ سب ٹھیک ہوگا جو بھی ہوگا۔”بس اللہ اُس کو ہمارے حق میں بہتر کرے۔۔لالی نے کہا
“اِن شاءاللہ ایسے ہی ہوگا۔۔۔عاشر نے مسکراکر کہا تو جواباً لالی بھی مسکرائی تھی۔






“دیکھو اقدس غور سے مجھے دیکھو میں تمہاری ماں ہوں اسیر تمہیں مجھ سے الگ کرنے کی کوشش کررہا ہے تم اُس کو بتاؤ کہ تمہیں میرے پاس یعنی اپنی ماں کے پاس رہنا ہے۔۔۔دیبا اقدس کو زبردستی اپنے ساتھ لگاتی بولی تو وہ حیرت سے بس اُس کو دیکھنے لگی جو پاگلوں کی طرح بس ایک بات دوہرانے میں لگی ہوئی تھی۔
“آپ ہماری ماں ہو؟اقدس غور سے اُس کو دیکھتی ہوئی بولی
“ہاں میں تمہاری ماں ہوں آؤ اپنی مما سے پیار سے کرو۔۔اقدس کی بات پر وہ جھٹ سے بولی
“آپ اسٹرینجر ہو آپ ہماری مما نہیں ہوسکتیں اگر آپ ہماری مما ہوتیں تو ہم سے ملنے ضرور آتیں اور یہاں تو آپ کی کوئی تصویر بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔”اور اگر ہم آپ کی بیٹی ہیں بھی تو آپ کیوں کبھی ہم سے ملنے نہیں آئی؟اقدس نے سوال اُٹھایا
“کیونکہ اسیر بہت بُرا انسان ہے وہ نہیں تھا چاہتا کہ میں تم سے ملوں۔۔دیبا نے خود کو اچھا ظاہر کرنے کے لیے اسیر کو بُرا کہا
“ہمارے بابا بہت اچھے انسان ہیں ہم اُن کے خلاف کچھ نہیں سُنے گے”بُری تو آپ خود ہیں تبھی تو ہمارے بابا کو بُرا بھلا بول رہی۔۔۔۔اقدس کو اُس کا یوں اسیر کے لیے بولنا پسند نہیں آیا تھا تبھی ناگواری سے بولی تو دیبا کو اُس کی بات پر غُصہ تو بہت آیا تھا لیکن اُس کو دبانے میں ہی مصلحت جان کر وہ اُس کے پاس آئی
“اقدس میری جان بات کو سمجھو کیا آپ نہیں چاہتی کہ آپ کے بابا اور مما دونوں ساتھ ہو؟دیبا نے اُس کا برین واش کرنا شروع کیا
“چاہتے ہیں۔۔اقدس نے اپنا سراثبات میں ہلایا
“ٹھیک ہے پھر اپنے بابا سے کہو کہ آپ کو مما کے ساتھ رہنا ہے اُن کے ساتھ نہیں۔۔دیبا نے کہا
“ہم اُن سے ایسے نہیں بول سکتے وہ ہمارے بابا ہیں۔۔اقدس چیخی عین اُس وقت اسیر حویلی میں داخل ہوا تھا۔
“اقدس کیا ہوا؟اُس کو چیختا سُن کر وہ پریشان ہوا
“بابا۔۔۔اقدس نے اسیر کو آتا دیکھا تو بھاگ کر اُس کے گُھٹنوں کے ساتھ لگی تو ایک نظر دیبا پر ڈال کر وہ ساری بات سمجھنے کی کوشش کرتا اقدس کو گود میں اُٹھانے لگا
“کیا ہوا ہماری اقدس کو وہ تو ہمارا بہادر بچہ ہے پھر؟اسیر اُس کے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کرتا پوچھنے لگا
“بابا کیا یہ ہماری مما ہیں؟اقدس نے دیبا کی طرف اِشارہ کیے اسیر سے پوچھا
“جی۔۔اسیر نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا جس پر دیبا کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی تھی۔
“یہ پھر ہم سے ملنے کیوں نہیں آئی تھی؟”آپ کو پتا ہے نہ ہم نے بہت یاد کیا تھا اِن کو۔۔اقدس اُداس ہوتی بولی
“تمہاری مما مجبور تھی بیٹا۔۔دیبا نے مداخلت کی
“بابا کہتے ہیں ایسی کوئی مجبوری نہیں ہوتی جس سے والدین اپنی اولاد سے کنارہ کش ہوجائے۔۔۔اقدس نے اپنی عمر سے زیادہ بڑی بات کردی تو دیبا اپنی جگہ ہل بھی نہیں پائی تھی اُس کو سب کچھ اپنے ہاتھوں سے کسی ریت کی طرح پھسلتا محسوس ہوا
“آپ نے ہماری باتوں کو یاد کیا ہمیں جان کر خوشی ہوئی اور آپ کی مما یہی رہنے والی ہیں تو آپ اگر چاہے تو اُن سے بات کرسکتی ہیں پر کبھی خود کو اپنی ماں کا عادی مت بنائیے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ پھر سے وہ کسی مجبوری کے تحت آپ کو چھوڑ کر نہ چلی جائے۔۔اسیر نے کہا تو دیبا اُس کو گھورنے لگی۔
“بابا کیا میں اپنی مما کو گلے سے لگاؤں؟اقدس نے پوچھا تو اسیر کتنے پل اُس کا معصوم چہرہ تکنے لگا وہ اقدس پر دیبا پر سایہ پڑنے بھی نہیں دینا چاہتا تھا لیکن جس طرح دیبا نے ایک پل میں اُس کو اپنے بارے میں بتاکر غلط کیا تھا ایسے میں وہ اگر اقدس کو روکتا یا ٹوکتا تو ہوسکتا تھا کہ وہ اُس سے دور ہوجاتی یا اپنے دل میں اپنے باپ کے لیے خلش رکھنے لگتی۔
“اگر آپ کا دل ہے تو ضرور۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہہ کر اُس کو نیچے اُتارا تو ابھی اقدس دیبا کے پاس جانے والی تھی جب کسی کی چیخوں نے ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
“بابا۔۔اقدس ڈر کر اسیر سے لگی تھی۔
“کچھ نہیں ہوا آئے ہم آپ کو آپ کے کمرے میں چھوڑ آتے ہیں۔۔اسیر پریشانی سے اُپر کی طرف دیکھتا اقدس کو پچکارنے لگا تو وہ اُس کی گردن میں اپنا چہرہ چُھپانے لگی۔
“اقدس مجھے دو۔۔دیبا نے آگے بڑھ کر کہا
“تمہارے اِس دکھاوے کے پیار سے ہماری معصوم بچی پھسل سکتی ہے لیکن ہم نہیں اِس لیے ہم بس اِتنا کہے گے کہ تم ہماری بچی سے دور رہو اُس کو مینٹلی ٹارچر کرنے کا تم نے سوچا بھی تو ہم سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔اقدس کا خیال کیے اسیر نے دھیمے مگر سخت لہجے میں دیبا سے کہا
“مجھے جو کرنا ہوگا وہ میں کروں گی اور روک سکتے ہو تو روک کر دیکھ لینا۔۔دیبا نے طنز نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“اسیر تم یہاں کھڑے ہو اندر آؤ دیکھو شیراز کو کچھ ہوگیا ہے۔۔۔صنم بیگم کی حواس باختہ آواز سن کر اسیر دیبا کو نظرانداز کرتا سب سے پہلے اقدس کو اُس کے کمرے میں چھوڑا پھر ایک مُلازمہ کو اُس کا خیال رکھنے کی ہدایت کرتا وہ شیراز کے کمرے میں آیا تھا جہاں اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا اور وہ بے سُدھ سا بیڈ پر لیٹا ہوا تھا پاس ہی اسمارہ بیگم نے اُس کے پاس بین کرنا شروع کردیا تھا۔
“شیراز کے منہ سے جھاگ؟ اسیر کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ اچانک سے کیا ہوگیا؟ “نوریز ملک کا نابینا ہی سہی لیکن ایک بیٹا بچا تھا جو آج وہ بھی اللہ کو پیار ہوگیا تھا۔
“شیراز اُٹھو کیا ہوگیا ہے۔۔اسمارہ بیگم جھنجھوڑ کر اُس کو جگانے کی کوشش کرنے لگی۔”جیسے وہ اُن کی اِس حرکت پر اُٹھ کر بیٹھ جائے گا۔
“چچی جان آپ ہمیں پوری بات بتائے کیا ہوا ہے شیراز کو؟”وہ تو بلکل سہی تھا۔۔اسیر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اسمارہ بیگم سے مخاطب ہوا جو اپنے حواس کھو بیٹھی تھیں۔
“میں بتاتی ہوں تمہاری ماں نے شیراز کو زہر دیا ہے اور اب اپنے کمرے میں خود کو لاک کیا ہوا ہے۔۔نورجہاں بیگم نے بتایا تو پاؤں کے نیچے زمین کھسکنا کس کو کہتے ہیں یہ بات آج اسیر کو بخوبی پتا لگی تھی۔” وہ ساکت سا پہلے شیراز کا وجود دیکھنے لگا پھر روتی سسکتی اسمارہ بیگم کو دیکھنے لگا
“ہمیں یقین نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتیں بھلا وہ کیوں کرے گی ایسا؟اسیر کا سرخودبخود نفی میں ہلنے لگا”وہ کیسے یقین کرتا کہ اُس کی ماں نے پھر سے قتل کیا ہے۔
“پاگل ہوگئ ہے تمہاری ماں میرا بیٹا مرچُکا ہے اُس کی لاش تمہارے سامنے ہے”ماتم جیسا ماحول ہے وہ یہاں نہیں ہے اُس کے باوجود تمہیں یقین نہیں آرہا واہ کیا بات ہے؟اسمارہ بیگم اُس کو دیکھ کر استہزائیہ لہجے میں بولی تو اسیر اُلٹے قدموں سے باہر کی طرف بھاگا تھا۔۔
“اماں۔۔۔اسیر فائقہ بیگم اور سجاد ملک کے مشترکہ کمرے میں آتا اُن کا دروازہ پیٹنے لگا”لیکن سب بے سود
“دروازہ کھولے ورنہ ہم دروازہ توڑ دینگے۔۔اسیر چیخ کر وارن کرنے لگا جہاں اندر سے کسی بھی چیز کی آواز اُس کو سُنائی نہیں دے رہی تھی۔
“ٹھیک ہے اگر ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔۔۔اسیر آہستگی سے بڑبڑاتا کچھ قدم پیچھے ہوا پھر پوری قوت سے دروازہ کو لات مار اُس نے دروازہ کھولا تو سامنے والا منظر دیکھ کر بے ساختہ اُس نے دیوار کا سہارہ لیا تھا۔”کیونکہ سامنے فائقہ بیگم فرش پر اُلٹی لیٹی ہوئیں تھیں”آنکھیں کُھلی ہوئی اور ساکت تھیں جبکہ منہ سے سفید جھاگ نکل رہا تھا اُس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا وہ یقین نہیں کر پارہا تھا کہ اِتنی جلدی اُس کی ماں اِتنا بڑا قدم اُٹھا چُکی تھیں۔۔
“یہ کیا کردیا آپ نے؟”اپنی آخرت برباد کردی آپ نے”اور ایک بار ہمارا بھی نہیں سوچا۔۔۔اسیر کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوگئیں تھیں سامنے والا منظر اُس کے لیے ناقابلِ یقین اور ناقابلِ برداشت تھا۔”









“کچھ وقت بعد
آج فائقہ بیگم کو اِس دُنیا سے گئے ہوئے دو ماہ کا عرصہ ہوگیا تھا۔”حویلی میں آجکل عجیب سناٹے جیسا راج ہوا کرتا تھا۔”جہاں ایک طرف فائقہ بیگم نے خودکشی کی تھی وہی دوسری طرف اپنے بیٹے کی موت پر اسمارہ بیگم کو آئے دن اٹیک ہوتا تھا۔’وہ اب اپنے ہوش وحواسو میں نہیں تھی رہتی۔”نوریز ملک نے خود کو کمرے کی چار دیواروں میں قید کردیا تھا”پچھتاوے کی دلدل نے اُن کو اپنی لپیٹ میں ایسے لے لیا تھا جس سے وہ کبھی آزاد نہیں ہوسکتے تھے۔
“دوسری طرف لالی گاؤں آئی تھی تو اُس پر گویا قیامت ٹوٹ پڑی تھی ایک طرف باپ اور بھائی کا جیل میں ہونا تو دوسری طرف ماں کی موت نے جیسے اُس پر سکتہ طاری کردیا تھا”اُس کو یقین تک نہیں آرہا تھا اِتنے کم وقت میں حویلی میں اِتنا سب کچھ ہوچُکا تھا “البتہ اسیر نے خود کو گاؤں کے کاموں میں اُلجھا دیا تھا اور اُس نے اقدس کو بھی واپس بورڈنگ اسکول بھیج دیا تھا کیونکہ وہ نہیں تھا چاہتا کہ آجکل حویلی میں جو کچھ ہونے لگا تھا اُس کا اثر اقدس اپنے کچے دماغ میں لے۔

“کیسی ہیں آپ؟عاشر نے آج کال کرکے لالی سے حال دریافت کرنا چاہا
“بے یقین سی۔۔۔لالی نے کھوئے ہوئے لہجے میں بتایا
“خود کو سنبھالے۔۔عاشر کو افسوس ہوا
“کیسے سنبھالوں؟”عاشر اِتنا سب کچھ اچانک سے ہوگیا مجھے یقین نہیں آرہا میری ماں اِتنی سمجھ بوجھ والی ہوکر ایسا کیسے کرسکتی ہیں”وہ خودکشی جیسا حرام فعل کیسے انجام دے سکتیں ہیں؟”اور میرے باپ بھائی اِن کے بارے میں سوچتی ہوں تو میرے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں یعنی کوئی اِتنا بڑا بے رحم جابر کیسے ہوسکتا ہے؟لالی کو ایک بار پھر رونا آگیا تھا۔
“آپ کے رونے سے کچھ بدل نہیں جائے گا”اِس لیے خود کو تکلیف نہ پُہنچائے۔۔۔عاشر کو اُس کو یوں جان کر پریشانی ہوئی
“عاشر میں
“لالی کون ہے فون پر؟اپنے آنسوؤ کا گلا گھونٹتی لالی کچھ کہنے والی تھی جب اپنے پیچھے اسیر کی آواز سن کر سیل فون چھوٹ کر فرش پر گِرا تھا۔۔”اسیر کو دیکھتی لالی کا چہرہ وحشت کے مارے لٹھے مانند سفید پڑگیا تھا۔۔”وجود میں کپکپی سی طاری ہوگئ تھی۔”دوسری طرف عاشر نے بھی اسیر کی آواز کو سُنا تھا پھر یوں کال کٹ ہونے پر وہ پریشان ہوگیا تھا”اُس نے دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی تو نمبر بند آنے لگا۔
“ہم نے کچھ پوچھا ہے لالی کون ہے عاشر؟اسیر نے سخت لہجہ اپنایا تو لالی نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچا تھا۔
“بھائی وہ
لالی سے کچھ بولا نہیں گیا خوف کے مارے اُس کو اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
“کیا وہ میں؟اسیر کچھ قدم چل کر اُس کے پاس آیا
“میرا کلاس فیلو ہے پپپ پسند کرتا ہے مجھے۔۔۔لالی نے اپنی آنکھوں کو زور سے میچ کر بتایا اُس کو ڈر تھا کہی اسیر ایک تھپڑ ہی نہ اُس کے چہرے پر رسید کردے”کتنے مان سے اُس نے ہر ایک کی مخالفت مول کر اُس کو یونی بھیجا یقین کیا تھا اعتماد کے سنگ اُس کو آزادی دی تھی تو جواب میں اُس نے کیا کردیا تھا؟
“اور تم؟سنجیدگی سے بھرپور اگلا سوال
“بھائی وہ
“جو پوچھا ہے محض اُس کا جواب دو۔۔۔لالی کچھ کہنا چاہتی تھی”جب اسیر نے اُس کی بات کو درمیان میں کاٹ کر پوچھا
“شاید میں بھی۔۔۔اپنے ہاتھ کی اُنگلیوں کو آپس میں مسلتی لالی نے ایسے بتایا جیسے کوئی جرم سرزند ہوگیا ہو
“وہ جو کوئی بھی ہے اُس کو کہو اپنے والدین کو یہاں بھیجے رشتے کی بات کرنے۔۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں کہا تو لالی نے حیرت سے سراُٹھا کر اسیر کو دیکھا
“جی؟لالی کو لگا شاید اُس کو سُننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے
“شہر میں رہ کر کیا کانوں میں مسئلہ ہوگیا ہے؟اسیر نے پوچھا تو وہ شرمندہ سی ہوگئ
“سوری بھائی۔۔۔لالی نے ندامت سے چور لہجے میں اُس سے کہا
“سوری کیوں؟اسیر نے پوچھا
“میں نے آپ کا اعتبار توڑا یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ نے بہت مان سے مجھے یونی بھیجا تھا۔۔۔لالی سے نظریں اُٹھانا محال ہوگیا تھا۔
“کیا تم نے چُھپ کر اُس سے نکاح کیا ہے؟اسیر نے پوچھا
“بلکل بھی نہیں بھائی۔۔۔لالی نے فورن سے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا
“کیا کوئی غیراخلاقی باتیں کیا کرتے ہو سیل فون پر؟اگلا سوال
“یہ کیسی باتیں کررہے ہیں بھائی؟لالی کو عجیب سا لگا
“اگر اِن دونوں میں سے کوئی بھی کام تم نے نہیں کیا تو میرا یقین تم پر برقرار ہے۔۔”پسند کرنا کوئی جُرم کی بات نہیں ہوتی یہ رائٹ اگر لڑکوں کو ہے تو لڑکیوں کا بھی ہے اور اُن کو یہ رائٹ اُن کا دین دیتا ہے جس میں مداخلت کرنے والے ہم کوئی نہیں ہوتے۔۔”عاشر سے کہو اپنی فیملی کے ساتھ آئے پھر اگر رشتہ مناسب لگا ہمیں تو آگے کے مراحل طے ہوگے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا تو لالی کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا اُس کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب اِتنا آسانی سے ہوجائے گا۔
“آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔لالی نے تشکر سے بھری نظروں سے اسیر کا وجیہہ چہرہ دیکھا جہاں آجکل تھکن کے تاثرات ہوئے کرتے تھے
“ہممم اپنا فون اُٹھاؤ اور کمرے میں جاؤ۔۔۔اسیر نے کہا تو لالی نے ویسے ہی کیا”اپنا گِرا سیل فون اُٹھائے اُس نے اپنے قدم کمرے کی جانب بڑھائے تھے۔
“کتنا ڈبل اسٹینڈر ہے تمہارا اسیر کل جب میں نے کسی کو پسند کیا تھا تو میرے کردار کو داغدار کیا گیا تھا تم شادی کے بعد مجھے میرا حق تک نہیں دے رہے تھے اور جب یہی سب تمہاری اپنی بہن کررہی ہے تو یہ اُس کا رائٹ بن گیا جو دین نے اُس کو دیا ہے واہ کیا بات ہے۔۔۔اسیر وہی کھڑا اپنی سوچو میں گُم تھا جب دیبا کی آواز نے اُس کو سوچو سے باہر نکالا
“تمہارا اور ہماری بہن کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔”ہماری بہن تمہاری طرح سہی غلط کا فرق نہیں بھولی اور اگر بات کی جائے حق کی تو اگر تم ہر کام غلط طریقے اور غلط نیت سے نہ کرتی تو ہم اپنی ساری زندگی تمہارے ساتھ رہ کر ضائع ضرور کرتے لیکن بات یہ ہے کہ ہمارے موقع دینے پر بھی تم نے ہمیں دھوکہ دیا ہماری بیٹی کے پیدا ہوتے ہی اُس کو چھوڑدیا اور بھاگ گئ اپنے چاہنے والے کے ساتھ” تو بہتر یہی ہوگا کہ خود کو ہماری بہن کی جگہ پر نہ رکھو اور نہ اُس کو اپنی جگہ پر۔۔۔اسیر نے اُس کی بات پر سنجیدگی سے بھرپور آواز میں کہا تو دیبا کا پورا چہرہ سُرخ ہوگیا تھا
“میرا بھی رائٹ تھا کہ میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے تجویز کرتی۔۔دیبا دانت پیس کر بولی
“ہاں بلکل تمہارا حق تھا لیکن ایک ماں کے پاس ایسا کوئی حق نہیں ہوتا کہ وہ اپنی نومولود بچے کو چھوڑ کر اپنے کسی یار کے پاس چلی جائے۔۔”اور تم تو ہماری معصوم اقدس کو پیدا ہونے سے پہلے سے ختم کرنا چاہتی تھی نہ سب یاد ہے ہمیں اِس لیے ہمارا منہ مت کُھلواؤ”تم نے سب کچھ اِس لیے کیا تاکہ ہر ایک کے سامنے ہمیں غلط ٹھیرا پاؤ لیکن اپنے مقاصد میں تم کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔۔اسیر طنز نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو دیبا کا بس نہیں چلا کہ وہ کیا کر گُزرتی لیکن اسیر اب ایک نظر اُس پر ڈالتا وہاں روکا نہیں تھا۔۔۔”پیچھے دیبا اپنے کل کے بارے میں سوچنے لگی تھی جو وہ کرچُکی تھی وہ واقعی غلط تھا لیکن یہ بات وہ ماننا چاہتی نہیں تھی۔

“ماضی!
“آپ کو لگتا ہے یہ کام کرجائے گا؟دیبا غور سے ہاتھ میں پکڑی بوتل کو دیکھ کر نورجہاں بیگم سے بولی
“بلکل کام کرجائے گا لیکن دو سے زیادہ گولیاں مت ڈالنا۔۔۔نورجہاں بیگم نے اُس کو بتایا
“دو سے زیادہ کیوں نہیں؟دیبا نے پوچھا
“دو سے زیادہ دو گی تو ہوسکتا ہے وہ گہری نیند میں چلاجائے اور ہمیں اُس کو سُلانا نہیں بلکہ تمہیں اپنا مقصد پورا کرنا ہے”جس کے لیے تم یہ سب کررہی ہو۔”شادی کو ایک سال ہوگیا ہے تمہاری لیکن وہ اسیر کبھی تمہیں وہ حق نہیں دے پایا جس کی تم حقدار ہو اور اب آج بھی تم اپنا حق لینے میں کامیاب نہ ہوپائی تو ساری زندگی بیٹھی رہو گی ایسے۔۔۔نورجہاں بیگم اُس کو دیکھ کر بتانے لگی۔
“اِس بات کا بدلہ میں اسیر سے اچھے سے لوں گی۔”آپ دیکھنا اگر آج مجھے کامیابی ملتی ہے تو وہ کبھی اُس بچے کو اپنا نہیں مانے گا وہ مجھ پر بہتان لگائے گا غُصہ ہوگا اور پھر طلاق دے گا اور جب ڈی این اے ٹیسٹ پر سب کچھ واضع ہوگا تو اُس کو گاؤں والے پاگل سمجھے گے اور بہتان لگانے کے جُرم میں اُس کو کڑی سے کڑی سزا ملے گی۔۔۔دیبا کی سوچ بہت دور تک تھی۔
“اِن شاءاللہ ایسے ہی ہوگا بس تم کام صفائی سے کرنا تاکہ کسی کو شک نہ ہو خاص طور پر اسیر کو۔۔۔۔نورجہاں بیگم نے کہا
“ملازمہ سے کہوں گی آپ پریشان نہ ہو اور میں جاتی ہوں”سلمان میری کال کا انتظار کررہا ہوگا۔۔اپنے کام سے فارغ ہوتی دیبا نے اُن سے کہا
“ویسے اگر تم سلمان سے بات اسیر کے سامنے نہ کرتی تو شاید ہوسکتا تھا کہ وہ تمہیں قبول کردیتا۔۔۔نورجہاں بیگم اُس کی بات سن کر پرسوچ لہجے میں بولی
“امی میں اُس کی غیرت کو للکارنا چاہتی ہوں اُس کا صبر آزمانا چاہتی ہوں تاکہ وہ کوئی سخت قدم اُٹھائے مگر وہ اسیر ایسا موقع ہاتھ میں آنے نہیں دیتا بہت تیز ہے۔۔نورجہاں کی بات پر دیبا تپ کر بولی
“بس جلدی اللہ تمہیں اولاد سے نوازے۔۔۔نورجہاں بیگم نے کہا
“اگر آج کامیاب ہوجاؤں تب نہ۔۔دیبا نے کہا تو نورجہاں بیگم نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کی۔
“اور اُس دن نورجہاں بیگم اور دیبا واقعی میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے تھے”کیونکہ جو اُنہوں نے پلان بنایا تھا اسیر بدقسمتی سے پھنس گیا تھا”اور کچھ ماہ بعد دیبا کو اپنے اُمید سے ہونے کا پتا لگا تھا جس پر حویلی میں خوشیوں کا سماں بن گیا تھا”لیکن دیبا جو چاہتی تھی وہ نہیں ہوا تھا اِس بار کیونکہ اسیر نے اپنی اولاد کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے قبول کرلیا تھا اُس نے دیبا سے کوئی بھی سوال نہیں کیا تھا بلکہ اُس نے سوچ لیا تھا کہ اب اپنے آنے والے بچے کی خاطر وہ دیبا کے ساتھ نارمل رہنے کی کوشش کرے گا پر دیبا کو یہ گوارا نہیں تھا تبھی اُس نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو ہر ممکن کوشش کرکے ختم کرنا چاہا تھا پر ایسا نہیں ہوا تھا۔۔”اور اسیر نے اُس سے واعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اُس کے بچے کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچائے گی تو وہ خود اُس کو رشتے سے آزاد کردے گا اور وہ جو چاہے گی ویسا ہوگا جس پر خود پر جبر کرکے دیبا نے یہ نو ماہ کا وقت گُزر لیا تھا پر اقدس کے پیدائش کے دن بغیر اُس کو ایک نظر بھی دیکھے وہ ہوسپٹل میں سلمان کے ساتھ روانہ ہوگئ تھی۔۔۔”اُس کے جانے کے بعد اسیر کو بہت کچھ جھیلنا پڑا تھا دوسرا معصوم اقدس کی پرورش بھی اُس کے ذمے تھی حویلی والوں نے تو بیٹی کا سن کر منہ بنالیا تھا اور عروج بیگم کی طبیعت بھی تب سہی نہیں رہتی تھی اِس لیے جو کچھ بھی تھا وہ اسیر نے کیا وہ اپنی بچی کو ملازموں کے حوالے نہیں تھا کرسکتا دیبا سے چاہے اُس کو محبت نہیں تھی پر اقدس اُس کو اپنی جان سے زیادہ پیاری تھی۔۔۔”جو نین نقش میں کچھ اُس پر گئ تھی۔





حال:
“ازکیٰ پاکستان آکر زوریز کے رشتے کی بات ساجدہ بیگم سے کردی تھی اور ساتھ میں آریان کا رشتہ بھی میشا کے لیے ڈال دیا تھا جس پر حیرت انگیز طور پر میشا نے کوئی بھی واویلا نہیں مچایا تھا وہ مان گئ تھی جس پر سوہان اور فاحا اپنی جگہ حیران تھیں”البتہ آریان کو ابھی تک یقین نہیں آیا تھا وہ تو سمجھا تھا کہ میشا ایک دو بار پھر سے اُس کا منہ توڑنے کی کوشش کے بعد جاکر راضی ہوگی لیکن اُس کا ایسے آسانی سے مان جانا اُس سے ڈائجسٹ نہیں ہورہا تھا لیکن جو بھی تھا زوریز کی طرح وہ بھی بہت خوش تھا اُن دونوں کی خوشیوں کا ٹھکانہ کوئی نہیں تھا اور نہ کوئی اندازہ لگا سکتا تھا کہ دُرانی برادرز جو شادی کے نام سے اِتنا دور رہا کرتے تھے وہ کیسے آج بات پکی ہونے پر خوش ہورہے تھے گرلز الرجک زوریز دُرانی کیسے رخصتی کا سُن کر لڑکیوں کی طرح سُرخ ہوئے جارہا تھا۔
“جُمعے کے دن میشا کا نکاح اور رخصتی دونوں تھیں تو سوہان کا بھی نکاح اور رُخصتی دونوں تھا کیونکہ اِس بار زوریز سب کے سامنے اُس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا تھا۔”جس پر اعتراض کسی نے بھی نہیں کیا تھا کیونکہ اُس میں اعتراض اُٹھانے والی کوئی بات تھی بھی نہیں۔
Rimsha Hussain Novels![]()
“یہ اپنے پاؤ آپ زرا نیچے اُتارے۔۔فاحا نے گھور کر میشا سے کہا جو جوتوں سمیت صوفے پر آلتی پالتی مارے لیٹی ہوئی تھی۔
کیوں اُتاروں؟میشا نے ڈبل گھوری سے اُس کو نوازہ
“کیونکہ صوفہ خراب ہورہا ہے آپ کو نظر نہیں آرہا؟فاحا نے کمر پر ہاتھ ٹِکائے اُس کو دیکھ کر کہا
“وہ دیکھو سامنے۔۔۔میشا نے ٹی وی کی جانب اِشارہ کرکے اُس کو بتایا
“کیا دیکھوں؟فاحا کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا
“وہ لڑکی بھی تو ڈرامے میں یوں صوفے پر بیٹھی ہے نہ بغیر جوتوں کو اُتارے”اُس کی ماں تو نہیں بول رہی اُس کو کچھ پھر تمہیں کیا مسئلہ ہے جو بڑی بہن سے بدتمیزی کررہی ہو۔۔میشا نے اُس کو شرمندہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی
“کیونکہ اُس لڑکی کے اُٹھنے کے بعد اُس کی ماں کو صوفہ صاف نہیں پڑے گا کرنا لیکن آپ کے اُٹھنے کے فوری بعد مجھے یعنی فاحا کو صوفہ کلین کرنا پڑے گا۔فاحا نے اُس کو جتاتی نظروں سے دیکھ کر کہا
“نہیں تم مجھے ایک بات بتاؤ کیا تمہیں او سی ڈی کی کوئی خاص بیماری ہے جو ہر وقت صفائی صفائی کرتی رہتی ہو۔۔۔میشا نے زچ ہوکر کہا
“آپ ایسا ہی جان لو اور جلدی سے اُٹھے ویسے بھی فاحا کو بہت کام کرنے ہیں آج۔۔۔فاحا نے عجلت کا مُظاہرہ کیا
“کونسا کام ہے تمہیں؟میشا نے اُس کو گھورا
“ہے بس کام آپ کو کیوں بتاؤں؟فاحا نے آرام سے کہا جبھی گیٹ پر بیل ہوئی تھی۔
“فاحا دیکھے گی۔۔۔فاحا خوشی سے اُچھل پڑی
“خیریت ہے کونسا باہر تمہاری بارات کھڑی ہے جو تم یوں خوشی سے اُچھل کود رہی ہو۔۔۔میشا کو اُس کا انداز عجیب سا لگا
“یہی سمجھے آپ۔۔فاحا اُس سے اِتنا کہتی باہر کو بھاگی اور باہر آکر جیسے ہی دروازہ کھولا تو اپنے سامنے اسیر کے ساتھ اقدس کو کھڑا دیکھ کر اُس کا چہرہ خوشی سے جگمگا اُٹھا تھا۔
“بابا یہ ہیں ہماری نیو مما؟اقدس نے فاحا کو دیکھ کر اسیر سے سوال کیا
“جی یہ ہیں آپ کی نیو مما بتائے کیسی لگی؟اسیر نے مسکراکر جواب دینے کے بعد اقدس سے سوال کیا تو فاحا نے جُھک کر اُس کو اپنی بانہوں میں بھرا تھا
“بہت اچھی لگیں مجھے۔۔۔اقدس نے خوشی خوشی بتایا تھا۔
“اچھا اب آپ اندر جاؤ آپ کے بابا کو آپ کی نیو مما سے کوئی بات کرنی ہے۔۔۔اسیر نے کہا تو اقدس نے سراثبات میں ہلایا اور اندر کی طرف بھاگی
“کیسی بات؟فاحا نے پوچھا
“آپ خوش ہیں؟اسیر نے اُس سے پوچھا
“خوش کس بات پر؟فاحا نے ناسمجھی سے سوال کیا
“ہم نے اپنا اور آپ کا نکاح بھی جُمعے کو کروانے کا سوچا ہے ساتھ میں لالی اور عاشر کا بھی۔۔۔اسیر نے بتایا
“کیا واقعی میں عاشر بھائی کا بھی ہوگا؟فاحا کا چہرہ خوشی سے کِھل اُٹھا
“ہم نے ہمارے نکاح کی بھی بات کی تھی۔۔۔اسیر کو اُس کا بس عاشر کے نکاح کا سُن کر خوش ہونا پسند نہیں آیا
“جی وہ بھی فاحا نے سُنا اور اُس کو کوئی اعتراض نہیں وہ خوش ہے۔۔۔فاحا نے نظریں جُھکاکر بتایا
جان کر خوشی ہوئی اور آپ ہمیں اب یہ بتائے کہ گاؤں میں اسسٹنٹ کمشنر آپ کیسے بنی یعنی اِن چیزوں میں آپ کو سپورٹ کس نے کیا؟”گاؤں میں کوئی بھی اسسٹنٹ کمشنر نہیں بنتا”اور ہمارے گاؤں کی آپ بنے گی یو تو اور حیرانگی کی بات ہے۔۔۔اسیر کو اچانک خیال آیا تو پوچھ لیا
“ٹھیک ویسے بنی جیسے آپ بغیر محبت کے ایک بچہ پیدا کرگئے۔۔۔فاحا نے اُس کی آخری بات کو اگنور کرکے بتایا تو اسیر نے اُس کو گھورا
“ہمیں واقعی میں جاننا ہے”اور یہ میشا کا کیا چکر ہے ہم نے جب اُس کا ڈیٹا نکلوایا تھا تو یہی جاننے کو ملا تھا کہ وہ ماسٹرز کرنے والی ہے پھر اے ایس پی کیسے بنی۔اسیر نے جاننا چاہا
“ہم بہنوں کا دماغ بہت تیز ہے آپ نہیں جان پاؤ گے اور ہماری پہنچ بھی بہت دور تک ہے۔۔۔فاحا نے اِتراکر بتایا
“جی جی آپ تینوں بہنوں کو تو آنسٹائین نے اپنا دماغ وراثت میں دیا تھا۔۔اسیر طنز ہوا
“ایک بیریسٹر کی بہن جس نے ریپ کیس پہلی پیشی میں جیتا تھا اُس کی بہن کی صلاحیتوں پر آپ کو شک نہیں ہونا چاہیے۔۔۔فاحا نے شانِ بے نیازی سے کہا تو اسیر خاصی پرشوق نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا وہ آج فاحا کا یوں اعتماد سے بات کرتا ہوا دیکھ کر خوش ہوا تھا”اُس کو خوشی ہوئی تھی کہ حالات جیسے بھی تھے لیکن اُنہوں نے اپنا اعتماد نہیں کھویا تھا بلکہ وہ آج اپنے پیروں پر کھڑیں تھیں اور ہر کسی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات وہ بخوبی کرسکتیں تھیں۔۔۔”کیونکہ چاہے بندے انسان کو چھوڑ بھی دے لیکن اُن کا رب اُن کو نہیں چھوڑتا۔
“آپ اپنی چادر لائے تاکہ نکاح کا جوڑا خریدنے جائے۔۔۔کچھ توقع ہونے بعد اسیر نے سرجھٹک کر اُس سے کہا وہ جانتا تھا باتوں میں وہ فاحا سے جیت نہیں سکتا تھا اور اُس کو اپنا یہ ہارنا پسند تھا۔
“کیا ہم شاپنگ کرنے جائے گے؟فاحا خوش ہوئی
“جی بلکل اب جلدی کریں اور اقدس کو ساتھ لائیے گا۔۔۔اسیر نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر اُس سے کہا
“جی میں ابھی جاکر اُس سے کہتیں ہوں۔۔۔فاحا پرجوش ہوکر کہتی اندر کی طرف بھاگی تھی۔۔
