Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 42)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 42)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
دیبا میری بچی کہاں تھی تم اِتنا وقت۔۔اسیر تیز قدموں کے ساتھ سیڑھیاں اُترنے لگا تو اُس کے کانوں میں نورجہاں بیگم کی آواز پڑی
“امی میں اب آپ کے پاس رہوں گی کہی چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔۔۔سیڑھیوں کے پاس کھڑے اسیر کو گہری نظروں سے دیکھتی دیبا نے نورجہاں بیگم کو اپنی بات کا یقین دِلانے لگی
“اوو بی بی زمانہ بدنام کو اِس حویلی میں رکھ کون رہا ہے؟”جاؤ دفع ہوجاؤ وہاں جہاں سے آئی ہو۔۔۔فائقہ بیگم نے سخت نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا”فاحا بھی نیچے آتی غور سے دیبا کو دیکھنے لگی جو سادہ سے جوڑے میں ملبوس تھی۔۔۔
“چچی جان کیا ہوگیا ہے آپ کیوں کررہی ہیں میرے ساتھ ایسے۔۔۔دیبا نے مصنوعی افسردگی بھرے تاثرات چہرے پر سجائے کہا
“زیادہ میری خوشامدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو کہا ہے وہ کرو اور یہاں سے چلتی بنو۔۔۔۔فائقہ بیگم نخوت سے سرجھٹک کر بولی
“اسیر
دیبا کو کوئی اور راہ نظر نہیں آئی تو وہ اسیر کی طرف بڑھی جو سرد تاثرات سجائے لب بھینچ کر کھڑا تھا
“ہماری طرف آنے کی جرئت مت کرنا۔۔۔اسیر نے سرد لہجے میں اُس سے کہا تھا تو اچانک دیبا کی نظر فاحا پر پڑی جو خود اُس کو دیکھ رہی تھی”لیکن دیبا کو فاحا کا اسیر کے اِتنے پاس کھڑا ہونا سمجھ میں نہیں آیا تھا یہ چہرہ اُس کے لیے نیا تھا اور دل میں ہزار خدشات نے گھر کرلیا تھا مگر پھر فاحا کی عمر کا اندازہ لگاتی اُس نے خود کو تسلی کروائی تھی کہ جو اور جیسا وہ سوچ رہی ہے ایسا ممکن نہیں ہے۔۔۔
“تم کون ہو۔۔۔دیبا نے براہ راست آخر فاحا کو مُخاطب کیا تو وہ چونک اُٹھی
“میں؟فاحا نے اپنی طرف اِشارہ کیا تو اسیر نے گردن موڑ کر فاحا کو دیکھا
“آپ کا کام ہوگیا ہے اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔۔اسیر نے فاحا کو دیکھ کر اندر کی طرف جانے کا اِشارہ کیا
“میرا نام ف
“سُنا نہیں ہم نے کیا کہا آپ سے؟اسیر نے سخت نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر دوبارہ سے کہا تو وہاں کھڑے باقی سب لوگ ایک دوسرے کا چہرہ تکنے لگے۔
“لیکن وہ میرا نام پوچھ رہی ہے۔۔۔فاحا نے بتایا
“نام بتاکر شُناختی کارڈ بنوانا ہے؟اسیر نے طنز پوچھا
“نہیں تو وہ تو پہلے سے بنا ہوا ہے اور اُس کی مدت کو ختم ہونے میں بھی ابھی بہت وقت ہے۔۔۔۔فاحا اُس کا طنز سمجھے بغیر بتاتی گئ۔
“اپنے کمرے میں جاؤ پھر۔۔۔اسیر اُس کی بات سن کر سنجیدگی سے بولا تو فاحا جانے کے لیے پلٹی پھر ایک خیال کے تحت وہ رُک کر اسیر کو دیکھنے لگی پھر باری باری سب کو
“میں کیوں جاؤں اندر؟”مجھے تو یہی کھڑے رہنا ہے۔۔۔فاحا بازو سینے پر باندھتی مضبوط لہجے میں بولی تو اسیر سمجھ نہیں پایا کہ اچانک فاحا کو کس کیڑے نے کاٹ لیا
“کیونکہ ہم آپ سے بول رہے ہیں۔۔۔اسیر نے اُس کو آنکھیں دیکھائی
“آپ کون ہوتے ہیں؟”فاحا پر حُکم چلانے والے فاحا اپنی مرضی کی مالک ہے”فاحا کا جہاں دل چاہے گا وہ وہاں رہے گی”کوئی اُس کو اپنی بات منوانے پر دباؤ نہیں ڈال سکتا۔۔۔۔فاحا میں آخر عقل آئی تو اُس نے دو ٹوک لہجے میں کہا
“امی یہ ہے کون جو اِتنا بے تکلف ہونے کی کوشش کررہی ہے؟دیبا سے جانے کیوں فاحا کو برداشت کرنا مشکل لگا وہ جان نہیں پائی کہ کسی کی باتیں نہ سُننے والا اسیر ملک فاحا کی ایسی بے تُکی باتیں کس خوشی میں سُن رہا تھا۔
“یہ فاحا ہے نوریز بھائی صاحب کی تیسری بیٹی۔۔۔نورجہاں بیگم نے بتایا تو اُس کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی
“اچھا یہ وہ ہے جس کی پیدائش پر بیچاری اسلحان چچی کو طلاق ہوئی تھی”نوریز چچا نے بتایا تھا کہ منحوس ہے۔۔۔دیبا سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دیتی بولی تو فاحا خاموش ہوگئ تھی۔”صنم بیگم کو دیبا کی بات سن کر افسوس ہوا تھا البتہ اسیر نے ضبط سے اُس کو دیکھا وہ جان گیا کہ دیبا نے فاحا کو اپنے طنز کا نشانہ کیوں بنایا ہوا ہے
“جی میں وہ ہوں مگر آپ کون ہیں؟”جس کو اُس کے گھروالے یہاں رکھنے پر نالاں ہیں؟”میں تو یہاں کل سے ہوں لیکن آپ کو نہیں دیکھا پورا دن گُزر گیا دادو نے بھی آپ کا تعارف نہیں کروایا اور نہ کسی نے آپ کا ذکر کیا اور اب جب آپ آئی ہیں تو ہر کسی کے چہرے کے تاثرات پر ناگواریت چھاگئ ہے۔۔۔”فاحا خود کو مضبوط کرتی چہرے پر مسکراہٹ سجائے دیبا سے بولی تو اُس کی شکل دیکھنے لائق ہوگئ تھی باقی سب حیرت سے فاحا کا مُنہ تکنے لگے۔۔”ریلنگ کے پاس کھڑی میشا جو دور سے نیچے کا منظر دیکھ رہی تھی اپنی بہن کی گوہر افشانی پر اُس کا دل چاہا بھنگڑا ڈالے اگر وہ خود کو مضبوط نہ کرتی تو کوئی بعید نہیں تھا کہ میشا دیبا کا منہ توڑدیتی مگر انجانے میں فاحا نے دیبا کو میشا کے ارتکاب سے بچالیا تھا۔۔۔”فاحا کی ایسی بات پر ایک اسیر تھا جو حیران نہیں ہوا تھا کیونکہ فاحا سے وہ ہر قسم کی اُمید رکھ سکتا تھا وہ جانتا تھا فاحا اپنی باتوں سے لوگوں کو لاجواب کرنے کا ہُنر جانتی ہے۔۔
“تم ہوتی کون ہو مجھے باتیں سُنانے والی امی بابا کہاں ہیں اُن کو کہے اِس بدبخت کو ابھی دفع کریں۔۔۔دیبا غُصے سے پاگل ہوئی
“فاحا ڈارلنگ یہاں آجاؤ کیوں بیچاری آنٹی کا بی بی شوٹ کروانے کے چکروں میں ہو۔۔۔میشا نے مسکراہٹ دبائے فاحا کو آواز دی تو ہر کوئی اُپر نظریں اُٹھائے میشا کو دیکھنے لگا جو بس فاحا کو دیکھ رہی تھی۔
“تم خود ہوگی آنٹی۔۔۔دیبا نے اپنی توپوں کا رُخ اُس کی طرف کیا
“ہم وہ ہیں جن سے جلتا ہے زمانہ
“اور اِس زمانے میں ہوتا ہے جاہلانہ آپ کا شُمار
دیبا کی بات پر میشا خالص شاعرانہ انداز میں بولی تھی جبھی حویلی میں سجاد ملک”نوریز ملک اور فاروق ملک داخل ہوئے تھے۔۔”اُن کو دیکھ کر ساری عورتوں نے اپنا سرجُھکالیا تھا اور سائیڈ پر کھڑی ہوئیں تھیں۔۔۔
“یہ ایسے کیوں کھڑی ہوگئیں ہیں جیسے کنیزیں ہو۔۔۔فاحا کو اُن کا اچانک سے ایسے کھڑا ہونا سمجھ میں نہیں آیا تھا۔۔۔
“جو عورتیں اپنے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھاتیں اُن کے سر ہمیشہ جُھکے ہوئے ہوتے ہیں۔۔۔اسیر اُس کی بات پر غُصہ ہونے کے بجائے تحمل سے بولا تھا
“زیادہ بولنے والی لڑکیوں کو یہ زمانہ غلط کہتا ہے۔۔۔فاحا کو اسیر سے ایسے جواب کی توقع نہیں تھی”لیکن کچھ سوچ کر آہستہ آواز میں اُس سے بولی
“کم بولنے والی لڑکیوں کو یہ زمانہ مغرور کہتا ہے”اور اگر زیادہ بول کر وہ اپنا دفع کرلیتی ہیں تو اِس میں کچھ غلط نہیں ہوتا”سامنے والے آپ پر اپنا زور تبھی بڑھاتا ہے جب آپ اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ کر اُن کے دباؤ میں آجاتے ہیں۔۔۔”کہنے کو یہ اپنے شوہروں کی فرمانبردار زوجہ ہیں”مگر اِن کی حیثیت اپنے شوہروں کی نظروں میں حویلی میں موجود ملازمہ کی حیثیت سے زیادہ نہیں ہے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا تو فاحا نے دل میں رب کا شکر ادا کیا کہ وہ اُن جیسی نہیں ہے”اور وہ اُس بات پر ایمان لانے لگی کہ بیشک اللہ جو کرتا ہے اُس میں اُس کی کوئی نہ کوئی مصلحت چُھپی ہوتی ہے۔۔۔
I feel beautiful I feel strong and I feel confident in who I am.
“صنم بیگم اسمارہ بیگم فائقہ بیگم اِن سب کو دیکھ کر فاحا کے دماغ میں بے ساختہ یہ لائنز آئیں تھیں۔۔۔
“یہ بدذات یہاں کیا کررہی ہے؟سجاد ملک کا دماغ گُھوم گیا دیبا کو دیکھ کر
“میں لایا تھا دیبا کی طلاق ہوگئ ہے۔۔۔نوریز ملک نے بتایا تو وہ غُصے سے اُس کو دیکھنے لگے
“دیبا اپنے کمرے میں جاؤ جو تمہارا ہوتا تھا۔۔۔فاروق ملک شاید اُس کی آمد سے آگاہی رکھتے تھے تبھی سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا تو وہ سجاد ملک اور اسیر پر ایک نظر ڈالتی اُپر کی طرف بڑھی تھی جہاں میشا سے بھی اُس کا سامنا ہوا
“تمہاری میں یہ مسکراہٹ نوچ لوں گی۔۔۔ریلنگ کے پاس کھڑی میشا کو دیکھ کر دیبا نے اُس کو وارن کیا تھا
“جواب میں تمہارے سر پر موجود میں سفید بال کاٹ دوں گی۔۔۔میشا نے خاصے پرسکون لہجے میں کہا تو دیبا آگ برساتی نظروں سے اُس کو گھورتی وہاں سے چلی گئ۔
“ہائے میشا تیری قسمت یار تیری تو لائیف انٹرسٹنگ ہونے والی ہے بولے تو فُل ایکشن تھیرل انٹرٹینمنٹ کے ساتھ”ویسے بھی کافی دنوں سے ہاتھوں کی کُھجلی بھی کم نہیں ہوئی۔۔۔۔جاتی ہوئی دیبا کو دیکھ کر میشا انگڑائی لیتی ہوئی خود سے بولی۔
“تم دونوں میرے کمرے میں آؤ۔۔سجاد ملک نے روعب سے نوریز ملک اور فاروق ملک سے کہا
“پہلے کھانا کھالیا جائے؟فاحا کو بھوک ستانے لگی تو بول پڑی جس پر سجاد ملک نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا تھا جبکہ نوریز ملک مسکرائے تھے
“فاحا ڈارلنگ کچن کا رستہ دیکھا ہوا نہ تو اپنا اور میرا کھانا کمرے میں لاؤ تب تک میں سوہان کو کال کرتی ہوں۔۔۔میشا فاحا کو فلائنگ کس کرتی ہوئی بولی تو فاحا کو سمجھ میں نہیں آیا کہ میشا کیوں اُس پر اِتنا مہربان ہوگئ تھی جو ایسے چاشنی بھرے لہجے میں مُخاطب کررہی تھی۔
سُنو لڑکی یہاں سب سے پہلے مرد حضرات کھانا کھاتے ہیں۔۔سجاد ملک نے میشا کو مُخاطب کیے روعبدار آواز میں کہا
“گُڈ کیری آن اینڈ فاحا می ویٹنگ۔۔۔میشا سجاد ملک کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال کر آخر میں فاحا سے کہتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ تھی”پیچھے سجاد ملک بیج وتاب کھاتے رہ گئے۔
“دیکھا تم نے تمہاری بیٹی کتنی بداخلاق اور بدتمیز ہے۔۔۔سجاد ملک نے نوریز ملک کو دیکھ کر اپنے غُصے کا اِظہار کیا تو اُن کی بات سن کر فاحا خاموش سے اُپر کی طرف بڑھ گئ
“نیا ماحول ہے آہستہ آہستہ ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگے گا اُن کو آپ غُصہ نہ ہو اور پلیز اُن سے ایسی کوئی بات مت کیجئے گا جس سے وہ خفا ہوجائے”میں نہیں چاہتا کہ یہاں اُن کو کسی چیز کی کمی کا احساس ہو۔نوریز ملک نے جواباً اُن کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“اگر یہ کہنے کی ہمت سالوں پہلے آپ نے کرلی ہوتی تو آج حالات کچھ مختلف ہوتے۔۔۔اسیر نے نوریز ملک کی بات پر سنجیدگی سے کہا تو اُن کو چپ لگ گئ تھی
“میں اپنے کمرے میں انتظار کررہا ہوں تم دونوں کا۔۔۔سجاد ملک ایک نظر اسیر پر ڈال کر اُن سے کہہ کر وہاں سے چلے گئے۔۔۔
“آپو
کمرے میں داخل ہوکر فاحا نے میشا کو مُخاطب کیا جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی خود کا جائزہ لینے میں بزی تھی۔
ہمممم۔۔۔میشا نے مصروف لہجے میں اُس کو جواب دیا
“آپ کو یوں بات کرنی نہیں چاہیے تھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔فاحا نے نروٹھے پن سے اُس کو دیکھ کر کہا
God is really creative I mean just look at me every time۔
“میشا نے جیسے اُس کی بات سُنی ہی نہ تھی بس مرر میں مسکراکر خود کو دیکھ کر شانِ بے نیازی سے اُس سے بولی
“میں سیریس ہوں۔۔فاحا ناراض ہوئی
“کھانا نہیں لائی ساتھ میں نے کہا تھا تم سے؟”اور تمہیں بھی تو بھوک لگی تھی نہ؟میشا نے پھر سے اُس کی بات کو نظرانداز کیا
“آپو یار کیا ہوگیا ہے؟فاحا نے منہ بنایا اِس بار
“مجھے یہاں کے لوگ اسٹار پلس کے ڈرامے سے کم نہ لگے۔۔”یعنی کتنے سازشی لوگ ہیں۔۔میشا نے گہری سانس بھر کر کہا
“ہاں وہ تو ہے اور آپو زندگی میں موجود پریشانیاں ایک طرف لیکن ہم نے ایک پیور زندگی گُزاری ہے “جھوٹ اور سازشوں سے پاک۔۔۔فاحا بھی اُس کی بات سے متفق ہوئی
“اچھا یہ بتاؤ کہ آج کیا خالی پیٹ سونے کا اِرادہ ہے کیا؟میشا نے اُس کو دیکھ کر سوال کیا
“آپو رات کا کھانا تو میں نے بنانا تھا مگر میرا ہاتھ جل گیا اور میرا نہیں خیال کہ ابھی تک کسی نے پکا لیا ہوگا۔فاحا نے پرسوچ لہجے میں کہا
“اففف کیا مصیبت ہے یہاں تو کوئی پیزا بھی آرڈر نہیں کرسکتا۔۔۔میشا سخت بدمزہ ہوئی
“اچھا آپ پریشان نہ ہو”میں دیکھتی ہوں کچھ۔۔۔فاحا نے اُس کو تسلی کروائی جس سے میشا کی باچھیں کُھل گئیں
“اللہ تمہاری جیسی بہن ہر کسی کو دے آمین۔۔۔میشا اُس کے واری صدقے ہوئی
“لیکن اللہ آپ جیسی بہن کسی کو نہ دے۔۔جواب میں فاحا اُس کو زبان دیکھاتی کمرے سے نو دو گیارہ ہوئی تو میشا کا منہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔۔
“بڑی ناشکری عورت ہو تم۔۔۔میشا نے تپ پر پیچھے سے ہانک لگائی تھی مگر فاحا کب کی جاچُکی تھی۔۔۔

“دیبا سے پوچھا وہ کیوں اور کہاں گئ تھی؟سجاد ملک نے سنجیدگی سے فاروق صاحب کو دیکھ کر پوچھا
“بھائی صاحب اسیر اُس سے عمر میں چھوٹا تھا وہ ساری زندگی اُس کے ساتھ گُزارنے پر امادہ نہیں تھی”وہ کسی اور کو پسند کرتی تھی”لیکن ہمارے بار بار اصرار کرنے پر اُس نے شادی پر حامی بھرلی جبکہ وہ پسند کس اور کو کرتی تھی۔۔۔فاروق صاحب نے کہا تو سجاد ملک کو اُن کی بات پر غُصہ آیا
“تمہاری بات میں صداقت کہی بھی نہیں ہے”فاروق میری بات غور سے سُن لو دیبا اب ہمارے خاندان پر بدنامی کا داغ ہے اِس لیے وہ یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔سجاد ملک نے دو ٹوک لہجے میں اپنا فیصلہ سُنایا
“معذرت کے ساتھ لیکن بھائی صاحب دیبا میری اکلوتی بیٹی اور میری وارث ہے میں اُس کو یہاں سے نکال کر کہاں لے جاؤں گا”لیکن اگر آپ کو اُس کی موجودگی کھٹک رہی ہے تو ٹھیک ہے آپ میرے حصے کی جائیداد میرے نام کردے میں اُس کو لیکر یہاں سے چلا جاؤں گا”یا وقت آگیا ہے کہ حویلی کا بٹوارہ کیا جائے۔۔۔فاروق صاحب نے جو کہا وہ سجاد ملک اور نوریز ملک کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھا”کمرے میں داخل ہوتے اسیر نے بھی اپنے چچا کی بات کو سُن لیا تھا جبھی اندر داخل ہوگیا
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا؟”یہ کیا بول رہے ہو اِتنی بڑی بات تم نے کر کیسے لی؟سجاد ملک تقریباً اُن پر چیخے تھے
“اگر یہاں آپ کو میری بیٹی کی موجودگی پسند نہیں ہوگی تو ایک باپ ہونے کی خاطر مجھے کچھ تو کرنا ہوگا نہ۔۔۔فاروق صاحب نے سنجیدہ انداز میں کہا
“تم دیبا کے گُناہوں پر پردہ ڈال رہے ہو”جبکہ غیرت ہوتی اگر تم میں تو اُس کا قتل کردیتے۔۔۔سجاد ملک نے گویا اُن کو لُلکارا
“جو غیرت اپنے خونی رشتوں کے خلاف کردے اُن سے دور کردے”ایسی غیرت سے میں بے غیرت اچھا آپ جو بھی کہے مگر دیبا جیسی بھی ہے میری بیٹی ہے”میں اُس کو سِوائے معاف اور سمجھانے کے کچھ اور نہیں کرسکتا۔۔”اگر آپ کو دیبا یہاں پسند نہیں تو بٹوارہ ہونا چاہیے “پر اگر دیبا کے ہونے سے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں تو میں بٹوارہ کبھی نہیں چاہوں گا کیونکہ یہ ملکوں کی بدنامی ہوگی۔۔۔۔فاروق صاحب نے گویا بات کو ختم کردیا اُنہوں نے سجاد ملک کی ایسی رگ کو دبایا تھا جس سے وہ پھڑپھڑا بھی نہیں پارہے تھے۔۔۔”اِس درمیان نوریز ملک کو ایک بار پھر اپنی کوتاہیاں یاد آنے لگیں تھیں اُن کو احساس ہورہا تھا کہ باپ کیا ہوتا ہے”باپ کے نام پر تو وہ ایک داغ تھے کیونکہ باپ کی کوئی بھی زمیداری اُنہوں نے پوری نہیں کی تھی اور ایک اُن کے بھائی تھے جن کو اپنے دل میں بیٹی کے لیے چاہے جتنی بھی رنجشیں تھیں مگر کسی اور کو اُس کے خلاف بولنے کا موقع قطعاً نہیں دیا تھا۔۔۔
“ٹھیک ہے میں خاموشی اختیار کرلیتا ہوں لیکن دیبا سے کہنا میرے سامنے نہ آئے۔۔۔سجاد ملک نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا
“آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔فاروق صاحب نے کہا
“ہاں اب جاؤ تم دونوں اور نوریز تم بھی اپنی بیٹیوں کو اخلاقیات کے درس دو تو اچھا ہے اُن کو ضرورت ہے۔۔۔سجاد ملک نے آخر میں طنز لہجے میں نوریز ملک سے کہا جو کافی چُپ سے تھے۔
“اُنہوں نے ایسا بھی تو کچھ نہیں کیا”ظاہر ہے بھوک تو ہر انسان کو لگتی ہے تو وہ کھانے کی بات تو کرینگے دوسرا ضروری تو نہیں نہ ہم کھانا نہ کھائے تو تب تک کوئی اور بھی نہ کھائے۔۔۔نوریز ملک تلخی لہجے میں بولے اُن کا مزاج اچانک سے بِگڑ گیا تھا جس کو اسیر نے صاف محسوس کیا تھا۔
“ہم نے اُن کے کمرے میں کھانا بِھجوادیا تھا آپ پریشان نہ ہو۔۔۔اسیر نے پہلی بار لب کُشائی کی
“یہی کام رہ گیا تھا کرنے کے لیے جس کو کرنا اب تم شروع ہوگئے ہو۔۔۔سجاد ملک تو تپ اُٹھے
“ایسی کوئی بڑی بات بھی نہیں ہے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا
“تمہارا شکریہ اسیر۔۔نوریز ملک نے تشکرانہ نظروں سے اسیر کو دیکھا
“فاحا کا ہاتھ جل گیا تھا اگر وقت ملے تو اُن سے پوچھ لینا۔۔۔اسیر نے بتایا تو وہ پریشان ہوئے
“ہاتھ کیسے جل گیا اور کسی نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟نوریز ملک اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے
“آپ یہاں نہیں تھے تو کیسے پتا لگتا؟اسیر نے اُلٹا اُن سے سوال کیا
“میں فاحا کو دیکھتا ہوں۔۔نوریز ملک اِتنا کہتے کمرے سے باہر چلے گئے ۔
“دیبا یہاں رہے گی تو اقدس کے قریب ہونے کی کوشش کرے گی اور وہ تو پہلے ہی ماں کو یاد کرتی ہے لپٹ جائے گی اُس سے اِس لیے میری مانو دوسری شادی کرلو تاکہ سارا قصہ ختم ہوجائے۔۔۔سجاد ملک نے سب کے جانے کے بعد رازدارنہ انداز میں اسیر سے کہا
“ایک تُجربہ کافی تھا دوسرا کرنے کی ضرورت نہیں اور ہماری بیٹی سمجھدار ہے وہ بس ہماری بیٹی ہے کسی دیبا کی نہیں۔۔اسیر نے بے لچک انداز میں جواباً کہا تو سجاد ملک نے نخوت سے اپنا سرجھٹکا







“مجھے لگا تھا اب یہاں آپ نہیں آئے گیں۔۔۔زوریز ڈسچارج ہوکر گھر آگیا تھا اور جب اُس نے اگلے دن سوہان کو اپنے گھر میں دیکھا تو اُس کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
“میں گاؤں جانے والی ہوں آج تو سوچا آپ سے ملتی ہوئی جاؤں۔۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بتایا
“اچھا مگر میرے ہائیر کیے ہوئے گارڈز کو واپس بِھجواکر آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔زوریز کے لہجے میں ناراضگی کی جھلک تھی
“میں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں زوریز۔۔سوہان نے اپنی بات پر زور دیا
“مگر مجھے تسلی نہیں ہوتی۔۔زوریز نے کہا
“آپ کو تسلی کیوں نہیں ہوتی؟سوہان نے بلآخر پوچھ لیا
“کیونکہ جو دل میں رہتے ہیں اُن کا خیال ہر وقت دماغ میں سوار رہتا ہے۔۔۔زوریز بے ساختہ بولا تھا اور اُس کے لہجے میں جانے ایسا کیا تھا جو سوہان جیسی کانفڈنٹ لڑکی پزل ہونے لگی تھی۔
“آپ کی شرٹ خراب ہوگئ ہے آریان کہاں ہے؟”کیا آپ نے اپنے لیے کوئی نرس نہیں رکھا ہوا؟سوہان نے بات کو بدل کر پوچھا تاکہ زوریز کا دھیان دوسری طرف ہوپائے
“آریان نے رکھنے نہیں دیا وہ کہتا ہے اُس سے زیادہ میرا کوئی خیال نہیں رکھ سکتا اگر رکھ پائے تو میرے سامنے کرنا۔۔۔۔زوریز نے اُس کی بات کے جواب میں کہا
“لیکن وہ ہے کہاں؟سوہان نے پوچھا
“آفس گیا ہے ارجنٹ کام پڑگیا تو چلاگیا۔۔۔زوریز نے بتایا
“آپ کو اکیلا چھوڑ کر؟سوہان کو حیرت ہوئی
“میں اکیلا تو نہیں آپ میرے ساتھ موجود ہیں۔۔۔زوریز مبہم سا مسکرایا
“اگر میں نہ آتی تو؟سوہان نے پوچھا
“تو آپ کا خیال ہوتا۔۔زوریز نے دل کی گہرائی سے کہا تھا
“میرا خیال آپ کا کام نہیں کرسکتا تھا۔۔۔سوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا
“تو کیا آپ خود رکھ سکتیں ہیں؟زوریز نے پوچھا
“کیا؟سوہان نے بے ساختی کے عالم میں پوچھا
“میرا خیال۔۔زوریز نے بتایا
“جس حدتک رکھ پائی ضرور کیونکہ آپ یہاں میری وجہ سے ہیں۔۔سوہان نے سنجیدگی سے جواب دیا
“میں یہاں اپنی وجہ سے ہوں آپ کی وجہ سے نہیں۔۔۔زوریز نے جھٹ سے کہا
“سبب تو میں بنی نہ۔۔۔سوہان نے سرجھٹکا
“بے سبب تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔زوریز نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا
“میں آپ کے کپڑے وارڈروب سے نکال دیتی ہوں پھر گھر میں جو کُک ہے اُس سے کہتی ہوں وہ آپ کی مدد کرے۔۔۔سوہان اُٹھ کر اُس کو بتانے لگی
“اُس کو زحمت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ کام آپ خود بھی کرسکتیں ہیں۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان نے اُس کو گھورا تھا۔
“کچھ غلط تو نہیں کہا بس شرٹ بدلوانے میں کیا حرج؟زوریز نے یہاں وہاں دیکھ کر کہا تو سوہان اُس کو دیکھ کر اپنا سر نفی میں ہلاتی وارڈروب کی طرف بڑھی تو ایک چیز اُس کے پاؤں کے پاس گِری جس پر سوہان نے چونک کر سرجُھکا کر دیکھا جہاں نیچے کوئی سفید رنگ کا رومال تھا اور اُس رومال کو دیکھ کر سوہان حیرت سے وہ رومال دیکھتی پلٹ کر زوریز کو دیکھا جس کی نظریں چھت پر تھیں۔۔۔
