Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 10)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 10)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
تم یہ کافی واپس لے جاؤ مجھے مس بیوٹی کافی سرو کرے گی۔۔۔۔ایک ویٹر آریان کو کافی دینے آیا تو اُس نے کافی لینے سے صاف انکار کردیا
سر میری مانے آپ میشا سے دور رہے وہ منہ توڑنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتی۔۔۔وہ ویٹر اُس کے پاس تھوڑا جُھک کر رازدرانہ انداز میں بولا تو میشا جو دوسری ٹیبلز پر کافی سرو کرنے میں مصروف تھی تیکھی نظروں سے آریان کو دیکھا”جو آج براؤں گول گلے والی شرٹ کے ساتھ وائٹ جینز پینٹ پہنے ہوئے تھا بال لاپرواہی سے ماتھے پر گِرے پڑے تھے جبکہ آنکھوں میں ایک الگ تاثر تھا شرارت سا اور ہونٹ پر ایک شوخ سی مسکراہٹ جو اُس کی شخصیت کا خاصہ تھی۔۔۔۔۔
شکریہ میرے منہ کے لیے اِتنا فکرمند ہونے کی اب تم جاؤ اور جو کہا ہے وہ کرو ورنہ میں تمہاری شکایت مینجر کو لگاؤں گا۔۔۔۔آریان نے وارننگ بھرے لہجے میں کہا تو وہ بیچارہ گِڑبڑا سا گیا
ضرور میں جاتا ہوں۔۔۔۔۔وہ اپنی جاب بچاتا میشا کے پاس آیا
کافی واپس کیوں لائے ہو؟میشا ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔
وہ چاہتا ہے تم اُس کو کافی سرو کرو۔۔۔۔اُس نے بتایا جس کا نام ساجد تھا
میں اُس کے باپ کی نوکر نہیں ہوں۔۔۔۔میشا نے دانت کچکچائے کہا اُس کا کوئی اِرادہ نہیں تھا کہ وہ جاکر آریان سے ایک بار پھر بحث کرنے لگ پڑتی
دیکھو میشو اگر نہیں جاؤ گی تو دونوں کی جاب کو خطرہ ہوسکتا ہے اور تمہیں پتا ہے آجکل کوئی بھی جاب آسانی سے نہیں ملتی۔۔۔۔ساجد اُس کو سمجھانے والے انداز میں بولا
مگر یہ کمینہ مجھے زرا پسند نہیں۔۔۔میشا تلملائی تھی
تو تم نے کونسا اُس سے شادی رچانی ہے بس یہ کافی کا کپ اُس کی ٹیبل پر رکھنا ہے وہ خوش اور ہماری جاب بھی بچ جائے گی۔۔۔۔۔ساجد نے کہا تو میشا نے گہری سانس بھری پھر اُس کے ہاتھ سے کافی کا کپ پکڑے آریان کی ٹیبل کے پاس جانے لگی جو اُس کے ہی انتظار میں تھا
“دیکھنے والوں نے کیا کیا نہیں دِیکھا ہوگا
میرا دعویٰ ہے کے تُجھ سا نہیں دِیکھا ہوگا
جس طرح میں نے تیری راہ تکی ہے دن میں
ہاں جس طرح میں نے تیری راہ تکی ہے دن میں
یوں کسی نے بھی تیرا رستہ نہیں روکا ہوگا۔۔
ہاں بلکل کیونکہ اِس پوری دُنیا میں ایک واحد چِھچھوڑے تم ہو۔۔۔۔وہ اُس کے سامنے کافی پھٹخ کر رکھتی طنزیہ لہجے میں بولی تو آریان جو اُس کو آتا دیکھ کر اپنی سحرانگیز آواز کا سحر پھونک رہا تھا میشا کا ایسا کمنٹ سن کر حیرت کی زیادتی کے مارے اُس کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔۔
چھچھوڑا؟؟؟آریان تقریباً چیخ پڑا
جی چِھچھوڑا لیٹ می ٹرانسلیٹ اُردو اِن انگلش اینڈ اِنگلش اِن اردو۔۔میشا اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پہ رکھ کر تھوڑا اُس کے پاس جُھکی پھر بولنا شروع کیا”
لوچا”لفنگا “لوزر فلرٹی لفنٹر۔۔۔۔میشا چبا چبا کر لفظ ادا کرتی پیچھے ہوئی جبکہ اپنے لیے ایسے الفاظ سن کر بامشکل آریان خود کو بیہوش ہونے سے بچاگیا۔
“یہ غلط ہے میں اِتنا خوبرو شخص ہوں جس کو جانے کونسے ورڈز دے رہی ہو۔۔۔۔آریان احتجاجاً بولا
تم مجھے ایک بات بتاؤ۔۔۔میشا نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
کونسی؟وہ جی جان سے متوجہ ہوا
مجھے ایک بات پوچھنی ہے تم سے۔۔۔میشا نے دانت کچکچائے
ایک کیوں ہزار پوچھو میں یہی ہوں کونسا مجھے کھیتوں میں ہل چلانے جانا ہے۔۔۔۔کہنی میز پر ٹیکائے آریان وہاں اپنا سر رکھے بولا تو میشا نے صبر کا گھونٹ بھر کر اُس کو دیکھا
میرے ساتھ تمہاری کوئی پرسنل دُشمنی ہے یا تمہیں میری جاب چاہیے”جو میرے پیچھے پڑگئے ہو۔۔۔۔میشا نے کہا تو آریان سرتا پیر اُس کو دیکھنے لگا جو ویٹریس کے یونیفارم میں ملبوس تھی اور ہمیشہ کی طرح حجاب بھی پہنا ہوا تھا پر آریان کو اُس کی سوچ پر حیرانگی ہوئی تھی بھلا وہ کروڑوں کا مالک ویٹر کی جاب میں انٹرسٹ کیوں لے گا؟”وہ تو کھڑے کھڑے یہ پورا کیفے خرید سکتا تھا
میرے پاس تمہارے لائق ایک آفر ہے۔۔۔۔آریان اُس کی بات نظرانداز کرکے بولا
بتاؤ؟میشا نے اکتاہٹ سے اُس کو دیکھا
تمہاری ایجوکیشن کتنی ہے؟آریان نے پوچھا تو میشا نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا
دسویں پاس ہوں۔۔۔۔میشا نے ہونٹوں پر طنز مسکراہٹ سجائے جواب دیا تو آریان نے بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھا کیونکہ وہ اُس کو کہی سے بھی میٹرک پاس لڑکی نہیں لگی تھی۔
اور ایج؟حیرانگی سے باہر نکل کر اگلا سوال کیا گیا
تیس ہے مگر بونی ہوں تو اپنی عمر سے زرا کم لگتی ہوں۔۔۔”گیارہ بہنیں ہیں ہم اور میرا نمبر پہلا ہے۔۔۔۔میشا کُرسی گھسیٹ کر اُس کے پاس بیٹھتی بے تُکلف انداز میں بتانے لگی یہ سوچ کر کہ شاید آریان سے اب جان چُھڑ جائے
تیس سال؟نائیس ایج۔۔۔۔آریان کا ہاتھ اپنے دل پر پڑا تھا پھر اُس کو یاد آیا کہ وہ بھی تو “اٹھائیس سال کا ہے اِس لیے رلیکس ہوگیا
زیادہ ہے نہ؟میشا نے جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
بلکل بھی نہیں یہ تو میچیورٹی والی ایج ہوتی ہے”پتا ہے کیا میں نہ بہت امیچیور ہوں مگر لائیف پارٹنر نہ مجھے میچیور چاہیے اور آج تمہاری بات سن کر لگ رہا ہے جیسے میری تلاش پوری ہوگئ ہے تو میں کب آؤں سحرا پہنے تمہارے گھر؟آریان تیز گام بنتا بڑے پرجوش انداز میں بولا تو میشا نے دانت پہ دانت جمائے کافی کا کپ ٹیبل سے اُٹھائے اُس کی طرف گِرایا تھا جو اُس کی شرٹ پر اپنا نشان بنا گیا “مگر صد شکر تھا کہ اُن کی بحث کے چکر میں کافی ٹھنڈی ہوگئ تھی ورنہ آج آریان کی خیر نہیں تھی۔۔۔
“یہ کیا تھا۔۔۔۔آریان جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھتا اپنی شرٹ دیکھنے لگا”اُس کی آواز پر باقی لوگ بھی متوجہ ہوئے تھے
سسس سوری سس سر مممم مجھ سے غغغ غلطی سسسے ججج جانے ککک کیسے گگگ گِرگئ کککک کافی۔۔۔۔
(سوری سر مجھ سے جانے غلطی سے جانے کیسے گِرگئ کافی)میشا اپنے چہرے پر معصومیت بھرے تاثرات سجائے ہکلائے لہجے میں بولی تو آریان بس اُس کو دیکھتا رہ گیا جو معصومیت کا پیکر بنی ہوئی تھی۔۔۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔آریان تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
تھینک یو۔۔۔۔۔میشا نے آنکھیں پٹپٹائی
“سر کیا ہوا ہے۔۔۔۔مینجر فورن آریان کے پاس آیا تو میشا کی سِٹی گم ہوئی
کچھ نہیں۔۔۔آریان نے ٹالنے والے انداز میں کہا
آئے میں آپ کو واشروم تک چھوڑدیتا ہوں۔۔۔مینجر نے پیش کش کی
نِکر پہننے والا بچہ نہیں ہوں میں خود سے جاسکتا ہوں۔۔۔آریان نے تپ کے کہا تو مینجر بیچارہ بلاوجہ شرمندہ ہوا جبکہ میشا نے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی







حویلی میں اِس وقت عجیب سواگواریت والا ماحول بنا ہوا تھا”جب سے اُن سب کو فراز کی حرکت کا پتا لگا تھا تب سے ہر کوئی بے یقین تھا مگر اُس کی ماں “اسمارہ بیگم نے رو رو کر اپنا حال بے حال کیا تھا اُن کو بس یہی تھا کہ فراز پر یہ جھوٹا الزام ہے حقیقتاً ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔
اسیر۔۔۔۔اسیر حویلی میں داخل ہوتا اپنی شال کو فولڈ کرتا سیڑھیاں چڑھنے والا تھا جب فائقہ بیگم نے اُس کو آواز دے کر رُکا
جی؟اسیر نے پلٹ کر اُن کو دیکھا
میں کیا سُن رہی ہو تم اقدس کو حویلی میں لانے والے ہو؟فائقہ بیگم نے جانچتی نظروں سے اُس کا چہرہ دیکھا
آپ نے ٹھیک سُنا ہے اقدس اب یہاں رہے گی۔۔۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے جواب دیا تو فائقہ بیگم کے تاثرات بگڑے تھے”ایک دادی ہونے کی حیثیت سے فائقہ بیگم کو کبھی اُس سے کھینچاؤ محسوس نہیں ہوا تھا
دیکھو اسیر میری بات غور سے سُنو ضرورت کیا ہے؟”اقدس کو واپس بُلوانے کی؟وہ بورڈنگ اسکول میں ٹھیک ہے”ویسے بھی یہاں آئے گی تو اُس کو باتیں سُننے کو ملے گی۔”ویسے بھی حویلی میں سب کو یہی لگتا ہے کہ اقدس کی موجودگی میں عجب نحوست والا ماحول بن جاتا ہے۔۔۔فائقہ بیگم نے کہا تو اسیر کا میٹر شاؤٹ ہوا تھا مگر جو بھی تھا وہ اپنی ماں سے بدتمیزی نہیں کرسکتا تھا تبھی چُپ کرکے مڑنے والا تھا جب نظر داخلی دروازے سے آتے نوریز ملک پر گئ تو اُس نے فائقہ بیگم کو دیکھا
ہم نوریز ملک نہیں”جو کوئی ہماری اولاد کے بارے میں کچھ بھی کہے گا اور ہم اُس کو سچ مان لے گے۔۔۔۔”اسیر ملک ہیں ہم اگر کوئی ہماری اولاد کے بارے میں کچھ غلط کہے گا تو ہم گدی سے زبان کھینچ لینگے۔۔۔۔اسیر ایک ایک لفظ چبا کر سیڑھیاں چڑھنے لگا تو سامنے لالی سے ہوا جو سیڑھیاں اُتر رہی تھی
تمہیں آج شہر جانا تھا پھر یہاں کیا کررہی ہو؟اسیر اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا تو اُس کا ایسا انداز دیکھ کر لالی کا گلا خشک ہوا
وہ
میں نے جانے نہیں دیا یونی جاکر کرنا کیا ہے؟اُلٹا اپنی بھابھی کی طرح پڑھے لکھے ہونے کا طعنہ دے گی اور ہمارے سروں پر ناچے گی۔۔۔۔لالی کے کچھ کہنے سے پہلے فائقہ بیگم پھٹ پڑی تو اسیر نے بے ساختہ دو انگلیوں سے اپنا ماتھا سہلایا”اُس کو لگتا تھا جیسے عنقریب وہ اگر یہاں رہا تو پاگل ہوجائے گا۔۔۔۔
سامان پیک ہے تمہارا؟اسیر نے سیدھا مجرم کی طرح کھڑی لالی سے پوچھا
ج جی۔۔۔۔لالی نے اپنا سراثبات میں ہلاکر جواب دیا
نیچے آجاؤ ہم خود تمہیں ہاسٹل چھوڑ آئینگے۔۔۔۔اسیر نے کہا تو لالی کا چہرہ کِھل اُٹھا تھا مگر فائقہ بیگم کو تاؤ آیا تھا۔۔۔”نوریز ملک نے جبکہ اپنا بولنا ضرور نہیں سمجھا تھا
اسیر تم کب سے بیغرت بن گئے ہو اب کیا ہمارے خاندان کی لڑکیاں گھر سے باہر رہے گی”اور لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر پڑھے گی۔۔۔۔فائقہ بیگم کو تو جیسے یقین نہ آیا
آپ سے واپسی پر بات ہوگی خداحافظ۔۔۔۔اسیر سنجیدگی سے جواب دیتا باہر کے راستے چل دیا تھا اور لالی بھاگنے والے انداز میں اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔







تم گاؤں گئ کیوں تھی؟فاحا اپنے ساتھ لگی لڑکی کو دیکھ کر بولی جس سے مُلاقاتیں اُس کی انسٹی ٹیوٹ میں ہوتی تھی۔”اور وہاں آپس میں بہت فرینگ تھیں”اور جب اُس نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان بیان کی تھی وہ شاک میں چلی گئ تھی
“لڑکے پہچان جاؤ گی تم؟سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا
ہاں۔۔۔وہ اپنا چہرہ صاف کیے بولی
کشف یار۔۔۔۔میشا نے بھی تاسف سے اُس کو دیکھا”کشف کی حالت دیکھ کر اُس کو بھی بہت افسوس ہوا تھا
کشف ڈونٹ وری تمہیں انصاف ضرور ملے گا۔۔۔سوہان اُس کے ساتھ بیٹھتی سنجیدگی سے بولی تو کشف نے مشکور نظروں سے سوہان کا چہرہ دیکھا
تم لڑو گی میرا کیس؟کشف نے بڑی اُمید بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا جس پر وہ تینوں چونک پڑیں
“آپو کیسے؟فاحا حیران ہوئی
میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا رشتیداروں کی باتوں کے ڈر سے موم ڈیڈ یہ بات دبانے کے چکر میں ہیں اور پھر اُن کے سپورٹ کے علاوہ کوئی رپورٹ تک درج نہیں کررہا ایسے میں کون میرا کیس لڑے گا؟کشف اِتنا کہتی پھوٹ پھوٹ پر رونے لگی تو فاحا کی آنکھیں بھی بھر آئیں
“روؤ مت کشف پولیس تمہاری رپورٹ صرف درج نہیں کرے گی بلکہ ایکشن بھی لے گی اور ہاں میں تمہارا کیس لڑوں گی بس کچھ وقت کی مہلت دو مجھے۔۔۔۔سوہان نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دباکر پُریقین لہجے میں کہا تو کشف کو کچھ ڈھارس ملی
پر ایک مسئلہ ہے وہ گاؤں والے جو لوگ ہیں وہ بہت اصول پرست ہیں یعنی گاؤں میں جو واقعات ہوتے ہیں اُن کا فیصلہ بھی وہ خود کرتے ہیں کوئی پولیس یا باہر والا دخل انداز نہیں کرتا۔۔۔۔کشف نے آہستگی سے بتایا
تم اُن کے گاؤں کی نہیں ہو اِس لیے اُن کے جو اصول ہے تمہیں اُن کے بارے میں سوچنا نہیں چاہیے بس تم مجھے انفارمیشن ساری دے دینا میں اپنی ریسرچ بھی کروں گی۔۔۔۔سوہان نے جواباً کہا
ملکوں کا خاندان ہے پورے گاؤں میں اُن کا راج ہے اور تم تینوں بھی ملک ہو نہ تو کیا ایک ملک خاندان دوسرے ملک خاندان سے ٹکر لے گا؟کشف نے سوال اُٹھایا تو بے ساختہ میشا اور سوہان نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا
گاؤں کا نام؟میشا نے سنجیدگی سے پوچھا
گاؤں کا نام جو بھی ہے اور کشف ذات سے کچھ نہیں ہوتا ایک جیسی ذات ہے تو کیا ہم غلط کو سہی نظریے سے دیکھنے لگ پڑے؟’ذات کیا اگر ہمارا ایک خاندان بھی ہوتا تو ہم تمہیں سپورٹ کرتے کیونکہ یہ ذات پات کچھ نہیں ہوتا یہ صرف لوگوں نے ایک دوسرے کی پہچان کے لیے بنائی ہے۔۔۔فاحا نے کشف کے کہنے سے پہلے خود ہی سنجیدگی سے بولنا شروع کیا تو اُس کی بات پر سوہان نے گہری سانس بھری تھی مگر میشا مسکرائی تھی وہ جانتی تھی فاحا جھلی تھی مگر باتیں سمجھداری والی کیا کرتی تھی۔
تھینک یو سو مچ۔۔۔۔کشف نے تشکرانہ نظروں سے اُس کو دیکھا
کوئی بات نہیں ہے ویسے بھی فاحا اپنی دوست کے لیے اِتنا تو کرسکتی ہے۔اور آج تم یہی رہنا ویسے بھی رات بہت ہوگئ ہے۔۔۔فاحا نے کہا تو اُس کی اِس بات پر میشا کی آنکھوں میں چمک آئی تھی اور اُس نے کن اکھیوں سے سوہان کو دیکھا تھا جس کی نظریں بھی اُس پر گئ تھیں۔۔۔۔
سوہان کو میشا کا ایسے دیکھنا پہلے پہل سمجھ نہیں آیا پھر یکایک اُس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا. .
“”سوہان پلیز یہ مت بولو فاحا کو کیا چاہیے؟”فاحا کو چُپ کیوں لگی ہے؟”اگر ایسے ہی تم اِس سے مخاطب ہوئی تو جب یہ بیس کی ہوجائے گی تو بھی یہ بولے گی۔۔”آج فاحا یونی جائے گی”آج فاحا پروفیسر کو اسائمنٹ دیکھائے گی۔۔۔۔میشا نے دونوں کی نقل اُتارے کہا تو فاحا نے رونی صورت بنائے بولی
ایسا کچھ نہیں ہوتا ویسے بھی بڑے لوگ بچوں سے ایسے بات کرتے ہیں۔۔۔سوہان نے اُس کی بات پر انکار کیا
لگی شرط؟میشا نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا
کونسی؟سوہان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا
اگر جو میں بول رہی ہوں وہ غلط ہوا تو میں تمہیں آئسکریم کھلاؤں گی اپنے ہاتھوں سے اور اگر میں سہی تو تم مجھے رات کا ڈنر کرواؤں گی اپنے پیسوں سے”بتاو پھر منظور ہے؟میشا نے دانتوں کی نُمائش کیے کہا تو سوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھا”””
یہ سب یاد آتے ہی سوہان کو جھرجھری سی آئی تھی مگر یہ تو طے تھا میشا اب اُس کی جان چھوڑنے والے تو ہرگز نہ تھی۔۔







لالی ایک ہاتھ میں اپنی کتابیں پکڑے دوسری ہاتھ سے اپنی چادر کا کونہ پکڑے یونی میں داخل ہوئی تھی”یونی میں داخل ہوتے ہی اُس کا رہا سہا اعتماد بھک سے اُڑا تھا وہ تو جانے کیا کچھ سوچ کر آئی تھی کہ خود کو پُراعتماد ظاہر کرے گی تاکہ کسی کو بھی اُس پر باتیں بنانے کا موقع نہ ملے مگر یونی کا جیسا ماحول بنا ہوا تھا یہ دیکھ کر اُس کا دل چاہا تھا یہاں سے کہی دور بھاگ جائے کیونکہ سامنے کچھ اسٹوڈنٹس پڑھنے میں مصروف تھے تو کوئی لڑکا لڑکی ہاتھ میں ہاتھ ڈالے خوش گپوں میں مصروف تھے اور کچھ سرتا پیر اُس کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے یہی حال تو لالی کا بھی تھا اُن سب کی جیسی ڈریسنگ تھی وہ دیکھ کر لالی کو سب عجیب ہی تو لگ رہا تھا۔۔۔”وہ تو ننگے سر کبھی حویلی میں بھی نہیں گھومی تھی اور یہاں تو لڑکیاں جینز شرٹ میں ملبوس تھی ڈوپٹے کا نام ونشان تو دور دور تک نہیں تھا۔۔۔۔
یہ یونی کے نام پر میں کہاں آگئ؟اُن سب پر ایک چور نگاہ ڈالے لالی نے بے ساختہ دل میں سوچا تھا تبھی اچانک کوئی اُس کے سامنے کھڑا ہوا تو لالی کا دل اُچھل کر حلق میں آیا
یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔؟لالی خود کو کمپوز کرتی سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھنے لگی جو ایک کندھے پر یونی بیگ لٹکائے دوسرے ہاتھ سے بالوں میں ہاتھ پھیرے چیونگم چباتا خاصی دلچسپ نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا
میرا نام عاشر احمد ہے اور میں آپ کا سینئر ہوں۔۔۔عاشر نے گول مول سا جواب دیا اور وہ اُن لوگوں میں سے نہیں تھا جو یونی میں آکر اپنے سینئرز کے ہاتھوں اُلو بنتا وہ تو خود آج سب کو اُلو بنانے والا تھا اور لالی اُس کو شکار لگی تھی۔۔
اچ اچھا۔۔۔لالی متذبذب ہوئی
ہاں نہ تو آپ کو جب کسی چیز کی سمجھ نہ آئے تو مجھ سے پوچھ لینا۔۔۔۔آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔۔۔عاشر نے مزید کہا
شکریہ۔۔۔۔لالی اِتنا کہتی جانے والی تھی جب دوبارہ عاشر اُس کے راستے میں آیا
اپنا ڈپارٹمنٹ پتا ہے آپ کو کہاں ہے وہ؟عاشر نے چیونگم چبائے اُس سے پوچھا
نہیں۔۔۔۔لالی کا سر نفی میں ہلنے لگا”عاشر کا دل بلیوں کی طرح اُچھلنے لگا
ہاں تو کیسے جائے گی کلاس میں؟عاشر نے مسکراہٹ دبائے پوچھا
کسی سے پوچھ لوں گی۔لالی نے بتایا
ارے کسی سے کیوں؟میں ہوں نہ اب مجھے غور سے سُنئیے گا۔۔۔۔عاشر نے کہا تو لالی نے بے اختیار سراثبات میں ہلایا
یہاں سے سیدھا جانا ہے۔۔”عاشر نے اپنے بائیں طرف اِشارہ کیا “جہاں سیڑھیوں کی لمبی قطار تھی
پھر میرا ڈپارٹمنٹ ہوگا؟لالی نے تُکہ لگایا
ارے نہیں نہ یہاں سے سیدھا جانا ہے اُس کے بعد مُڑ جانا ہے۔۔۔۔عاشر نے نفی میں سرہلاکر کہا
کہاں مُڑنا ہے؟لالی کو سمجھ نہیں آیا
میرے کہنے کا مطلب تھا پھر جو راستہ آئے وہاں چلی جائیے گا بس پھر آپ کو آپ کی منزل مل جائے گی۔۔۔عاشر نے کہا تو لالی کو اب ساری بات سمجھ آئی
آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔لالی نے مشکور نظروں سے اُس کو دیکھا اور پھر اُس کے بتائے ہوئے راستے پر جانے لگی تو عاشر بھی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا آہستہ آہستہ اُس کے پیچھے جانے لگا۔۔۔۔
“لالی جب سیڑھیاں چڑھتی دائیں جانب گئ تو سامنے دروازے پر واشروم لفظ دیکھ کر اُس کی شکل رونے والے ہوگئ تھی۔۔۔
“اور جیسے ہی وہاں کھڑے اسٹوڈنٹس نے اُس پر ہنسنا شروع کیا تو اُس کی آنکھیں بھی نم ہونے لگی تھی وہ لب کُچلے نیچے فرش کو گھورنے لگی جبھی ہنستا ہوا عاشر بھی وہاں آیا
“ہائے کیسا لگا میرا مذاق؟عاشر اُس کے روبرو کھڑا ہوتا مزے سے پوچھنے لگا تو لالی نے اپنی بھیگی آنکھیں اُٹھائے اُس کو دیکھا تو عاشر کے مسکراتے لب سیکڑے تھے وہ حیرانگی سے اُس کو دیکھنے لگا جو اُس کی سوچ سے زیادہ کم عقل ثابت ہوئی تھی
آپ رو رہی ہیں۔۔۔۔؟عاشر کے اندر کہی ملال اُبھرا مگر لالی جواب دیئے بنا اپنی چادر کے پلوں سے آنکھیں صاف کرنے لگی
دیکھو روئے نہیں یونی میں ریکنگ کرنا عام سی بات ہے ہر نیو اسٹوڈنٹس کے ساتھ ہوتی ہے آپ کو چھوٹی سی بات پر رونا نہیں چاہیے اور میں نے بھی جسٹ مذاق کیا تھا۔۔۔۔عاشر نے وضاحت کرنا چاہی پر اُس کی بات پر تو لالی کو جیسے تاؤ آیا تھا
کیوں کیا مذاق؟میرا اور آپ کا مذاق ہے کیا؟لالی نے ناگواری سے پوچھا تو عاشر کا سر خودبخود نفی میں ہلنے لگا
میں آپ کے چچی کی بیٹی ہوں؟اگلا سوال
میرے بابا اکلوتے تھے۔۔۔۔عاشر کی زبان بے ساختہ پھسلی
میرا اور آپ کا کوئی مذاق نہیں اِس لیے دوبارہ مت کیجئے گا۔۔۔لالی نے وارن کیا
او ہیلو یہ یونی میں چلتا رہتا ہے
چلے گا کیوں نہیں اگر آپ چلائے گے تو زرا احساس نہیں آپ کو کسی کا۔۔۔۔لالی اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی
اِس میں احساسات کہاں سے آگئے؟عاشر عجیب نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا
کل اگر آپ نے مجھ سے ایسا کوئی مذاق کیا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔لالی نے سنجیدگی سے کہا
کل کیوں کروں گا ریکنگ تو فرسٹ ڈے پر ہوتی ہے
کیوں ہوگی اگر آپ نہیں کرینگے تو۔۔۔۔لالی نے دوبارہ سے اُس کی بات درمیان میں کاٹی
میں نہیں کروں گا آپ بس مجھے بخش دے۔۔۔عاشر نے بے ساختہ اُس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے
ہاتھ جوڑنے سے کیا ہوگا آپ کی وجہ سے میرا مذاق بنا نہ اگر کوئی آپ کے ساتھ کرے تو آپ کو پتا چلے۔۔ لالی نے سرجھٹک کر کہا
میرے ساتھ کوئی نہ کرے تبھی تو میں نے کیا۔۔۔عاشر نے فخریہ انداز میں کہا
جی تو پوری یونی میں ایک میں آپ کو نظر آئی اب ہٹے مجھے میرے ڈپارٹمنٹ جانا ہے۔۔۔۔لالی اِتنا کہتی سائیڈ سے گُزرنے لگی جب عاشر نے اُس کو روکا
اِس بار سہی والی جگہ پہنچاؤں گا ٹرسٹ می۔۔۔عاشر نے معصومیت سے کہا
میں خود تلاش کرلوں گی ویسے بھی آپ کو کیا پتا میرے ڈپارٹمنٹ کا۔۔۔۔۔لالی نے بے خیالی میں کہا تو عاشر نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا تھا
آپ کو نہیں لگتا آپ نے یہ بات کہتے ہوئے کافی دیر کردی ہے۔۔۔۔عاشر نے کہا تو لالی کو پہلے کچھ ٹھیک سے سمجھ نہیں آیا مگر جب سمجھ آیا تو اُس نے عاشر کو گھورا تھا
