Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 08)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

تمہاری یہ مجال میں تمہیں جان سے ماردوں گی۔۔۔وہ لڑکی خود کو سنبھالتی غُصے سے بولی

اور میں اُن ہاتھوں کو توڑدوں گی جو میری طرف بڑھے گے۔۔۔۔میشا دوبدو بولی تھی

میشو چلو۔۔۔۔سوہان نے معاملہ رفع دفع کرنا چاہا

ہاں لے جاؤ اِس کو پاگل خانے میں رہنے کی اِس کو سخت ضرورت ہے۔۔۔وہ طنز انداز میں بولی

اُس سے پہلے تمہیں جہنم وصل نہ کروں۔۔۔۔میشا بھی جواباً طنز بولی

میشو۔۔۔۔سوہان نے اُس کو تنبیہہ کرتی نظروں سے دیکھنے لگی جس پر وہ سرجھٹک کر رہ گئ تھی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

میں نے کب کا اسکول چھوڑدیا تھا مگر آپ لوگوں نے کہا جاؤ اچھا فیل کرو گی۔۔۔۔۔گھر آکر فاحا ناراض لہجے میں بولی

تمہیں ضرورت کیا تھی اپنی کہانی پوری کلاس میں بتانے کی۔۔۔۔عاشر اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا

مجھے بھی اِسی بات پر غُصہ ہے۔۔۔۔۔میشا نے غُصیلی نظروں سے اُس کو دیکھا

کیونکہ یہ ٹاپک کا نام تھا کہ اپنی اسٹوری شیئر کرنی ہے۔۔۔۔فاحا نے جواباً سنجیدگی سے کہا

تو کوئی اور بتاتی یہ ضروری تھا کیا؟میشا تپ اُٹھی

میں نے فاحا سے کہا تھا یہ۔۔۔۔سوہان نے اپنی خاموشی توڑی

کیوں؟

کیوں؟

عاشر اور میشا ایک ساتھ پوچھ پڑے

کیونکہ یہ ضروری تھا۔۔۔۔سوہان آرام سے بولی

سوہان یہ پین فُل ہے ہمارے لیے اسپیشلی فاحا کے لیے۔۔۔۔میشا نے عجیب نظروں سے سوہان کو دیکھا تھا

پاور فُل ہونے لیے پہلے پین فُل ہونا بنتا ہے”فاحا میں یا تم” اپنے ماضی سے بھاگ نہیں سکتے فاحا نے آج اپنی کہانی پہلی اور آخری بار شیئر کی ہے کیونکہ یہ ضروری تھا وجہ یہ کہ اب زندگی میں جو تکلیف دہ عمل ہوتا ہے فاحا اُس سے گُزر گئ کیونکہ آج جو اُس نے باتیں کی ہیں وہ اُس کے دل پر بوجھ تھیں آج فاحا کے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا ہے فاحا کو اب کبھی جھوٹ کا سہارا لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی وہ ہمیشہ سچ بولے گی انسان کو خوابوں کی دُنیا میں نہیں بلکہ حقیقت پسند ہونا چاہیے کیونکہ حقیقت پسند انسان ہی زندگی کی تلخ حقیقتوں کو برداشت کر سکتا ہے خود میں سہن پیدا کرسکتا ہے فاحا کے الفاظ اگر تمہارے لیے تکلیف دہ تھے تو اُس سے زیادہ بولنا فاحا کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا جس کو وہ سر کرچُکی ہے اب فاحا کا پاسٹ کبھی اُس کے فیوچر میں مداخلت نہیں کرے گا اور نہ کمزور۔۔۔۔۔سوہان نے تفصیل سے سب کچھ اُن کے گوش گُزار کیا

“وہ سب تو ٹھیک پر فاحا نے اپنی زندگی کی پرسنل باتیں شیئر کی ہیں وہ بھی سب کے سامنے۔۔۔میشا کے لیے یہ کچھ ہضم کرنا آسان نہ تھا

آجکل پرسنل یا پرائیویٹ کچھ نہیں ہوتا کوئی چائے یا کیک بھی کھاتا ہے تو فیس اسٹوری”واٹس ایپ اسٹیٹس لگ جاتا ہے۔۔۔سوہان تمسخرانہ لہجے میں بولی

اور جنہوں نے فاحا کے بارے میں جانا وہ سب؟میشا نے پوچھا

فاحا کو کون جاتا ہے؟فاحا اسکول جاتی کب ہے سِوائے ایکزامز دینے کے؟”اور کیا آجکل لوگوں کے پاس اِتنا وقت ہے کہ اپنے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچے بھی۔۔۔۔ سوہان نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

پر سوہان فاحا کے گنتی کے جو چند دوست تھے اب تو وہ بھی گئے۔۔۔میشا نے کہا

تاعمر دوست لڑکوں کے ہوتے ہیں لڑکیوں کے نہیں “لڑکیوں کے دوست اسکول کے اسکول تک اور کالج سے کالج تک اور یونی سے یونی تک ہوتے ہیں”اُس کے علاوہ اگر تھوڑی بات چیت ہو بھی جائے تو لڑکی کی زندگی ایسی بن جاتی ہے جہاں دوستیاں نبھانے کا وقت نہیں نکلتا اور نہ گُنجائش اور اگر یونی کے بعد اتفاقً ملاقات کبھی”مال “سڑک”روڈ بس “ٹرین پر ہو بھی ہوجائے تو ایسے ملتے ہیں جیسے بس میں بیٹھے لوگ آپس میں تھوڑی بات چیت وغیرہ کرلیا کرتے ہیں اور پھر ہر کوئی اپنے راستے کا مسافر بن جاتا ہے”مگر لڑکوں کا ایسا کوئی سین نہیں ہوتا اُن کی دوستیاں وقت کے ساتھ پختہ ہوجاتی ہے کسی وجہ سے کبھی فاصلہ درمیان میں آ بھی جائے تو اتفاقً جب ملاقات ہوتی ہے تو ہائے ہیلو کہہ کر نکل نہیں جاتے بلکہ فورن نمبر ایکسچنج کرتے ہیں۔۔۔۔پھر اُن کے رابطہ دوبارہ سے استوار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔سوہان نے اب کی جیسے اُن کی بولتی بند کرلی تھی وہ اپنی بیس سالہ زندگی میں کچھ زیادہ ہی حقیقت پسندی کا مُظاہرہ کررہی تھی

“تم اپنی جگہ ٹھیک ہو خیر ہمیں اب ٹاپک چینج کرنا چاہیے۔۔۔۔عاشر گہری سانس بھر کر بولا جبھی باہر بیل ہوئی تھی

میں دیکھتی ہوں۔۔۔”فاحا اُن سب کو دیکھ کر کہتی اُٹھ کر دروازے کے پاس آئی

آپ کون؟سامنے ایک خاتون کو دیکھ کر فاحا نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

تم فاحا ہو نہ؟جواباً وہ اُس کو دیکھ کر مسکراکر بولی

جی مگر آپ کیسے جانتی ہیں مجھے؟فاحا کی آنکھوں میں اُلجھن در آئی

میں تمہاری خالہ ہوں۔۔۔۔وہ بولی

خالہ؟فاحا نے اُس کا لفظ دوہرایا

ہاں خالہ یعنی تمہاری ماں جیسی۔۔۔۔اُس نے بتایا جبھی سوہان بھی وہاں آئی

فاحا کس کے ساتھ باتوں میں لگی ہوئی ہو؟سوہان سیدھا فاحا سے مخاطب ہوئی تھی

کیسی ہو سوہان؟اُس نے اب سوہان کو مُخاطب کیا تو وہ چونک کر اُس کو دیکھنے لگی۔

آپ؟سوہان کے ماتھے پر سوچ کی پرچھائی چھائی

تمہاری آنٹی ساجدہ۔۔۔۔۔۔اُس نے نم نظروں سے اب کی اپنا تعارف کروایا تو یکایک سوہان کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا”جس پر اُس کے چہرے پر ایک سایہ آکر لہرایا تھا مگر جلدی سے اُس نے خود کو کمپوز کرلیا تھا

السلام علیکم آپ یہاں کیسی ہیں؟سوہان اُس کے گلے مل کر پوچھنے لگی فاحا جبکہ خاموش سی اُن کو ملتا دیکھ رہی تھی

میں ٹھیک ہوں”تم یہ بتاؤ اسلحان کہاں ہے؟ساجدہ نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیر کر پوچھا

جاب پر ہیں آپ آئے نہ اندر اور آپ واپس تو نہیں جائینگی نہ؟سوہان نے بے ساختہ پوچھا تو ساجدہ نے اپنا سر نفی میں ہلایا جس پر سوہان کو گونا سکون میسر ہوا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کچھ سال بعد۔۔۔۔۔۔

آئے محترمہ میں آپ کو چھوڑدیتا ہوں۔۔۔۔۔بیس سالہ فاحا سر پر حجاب اُوڑھے اور کندھوں پر اچھے سے چادر لپیٹے سڑک پر کھڑی تھی جب رکشے والے نے اُس کو دیکھ کر کہا

کہاں چھوڑ دیتا ہوں؟فاحا نے تعجب سے اُس کو دیکھا

گھر اور کہاں؟وہ شانے اُچکائے بولا

کس کے گھر؟اگلا سوال

آپ کو آپ کے گھر۔۔۔اُس نے بتایا

آپ کو میرے گھر کا کیسے پتا چلا”کیا آپ مجھے فالو کرتے ہیں۔۔۔۔فاحا کا منہ حیرانگی سے کُھل گیا تھا جس پر رکشے والا جانے کیوں گِڑبڑا سا گیا تھا

ارے نہیں میڈم آپ اپنے گھر کا ایڈریس بتائے گی تو میں چھوڑ آؤں گا۔۔۔۔وہ جلدی سے وضاحت دینے لگا

میں کیوں آپ کو اپنے گھر کا ایڈریس بتانے لگی؟”آپ میرے چچا کے بیٹے لگتے ہو؟فاحا اُس کو گھور کر بولی

ارے میڈم اگر آپ کو نہیں آنا تو بتادے ہمارا دماغ خراب کیوں کررہی ہو۔۔۔وہ زچ ہوکر کہتا جانے لگا

کیا مطلب میں آپ کا دماغ خراب کررہی ہو؟”میں کیا پاگل ہوں اور آپ کو شرم آنی چاہیے اکیلی لڑکی کو دیکھ کر اُس کو رکشے میں بیٹھنے کی آفر کرریے ہیں”کیا آپ کے گھر میں ماں بہن نہیں ہے۔۔۔۔فاحا تپ کر ایک سانس میں بولنے لگی

ارے بہن میں رکشے والا ہوں

رکشے والے ہیں تو کیا بس یوں ہی لڑکیوں کو تاڑتے رہینگے۔۔۔۔وہ کچھ کہنے والا تھا جب فاحا اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی جبھی وہاں ایک بائیک رُکی تو بائیک پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر فاحا کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے

آپ اب آئے ہیں میں کب سے آپ کا انتظار کررہی تھی دیکھے یہ مجھے رکشے میں بیٹھنے کا بول رہا ہے کیا میں ایسی ویسی لڑکی ہوں جو ہر راہ چلتے رکشے والے کے ساتھ بیٹھ کر چلتی پِھرتی رہوں گی۔۔ بائیک پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر فاحا شکایتی انداز میں بولنے لگی تو بائیک پر بیٹھے شخص نے رکشے والے کو جانے کا اِشارہ دیا تو وہ شکر کا سانس خارج کرکے نو دو گیارہ ہوگیا

عاشر بھائی اُس کو جانے کیوں دیا؟فاحا نے رونی صورت بنائی

فاحا جہاں تم کھڑی ہو وہاں تمہیں رکشے والے بیٹھنے کا تو کہینگے نہ۔۔۔۔عاشر اُس کا گلوز پہنے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیکر نرمی سے بولا

میں جبھی گھر سے باہر نہیں نکلتی اور کیا ہوتا جو آپ جلدی آجاتے۔۔۔۔فاحا نے کہا

کام سے گیا تھا پر خیر تم بیٹھو۔۔۔۔عاشر نے بتانے کے بعد کہا

آپ جانتے ہو میری کوکنک کلاس تھی آج اگر وقت پر نہیں گئ تو میری خیر نہیں۔۔۔۔فاحا اُس کے پیچھے بیٹھ کر بتانے لگی تو عاشر اپنا سر نفی میں ہلاتا بائیک اسٹارٹ کرنے لگا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کیا یہ آپ کے پورے ڈاکیومنیٹس ہیں؟ریلنگ چیئر پر تیس سالہ موجود شخص حجاب میں لپیٹے میشا کے خوبصورت چہرے کو دیکھ کر پوچھنے لگا

جی میرے پورے ڈاکیومنیٹس ہیں۔۔۔۔میشا نے جواب دیا

مگر آپ کہ ایجوکیشن تو بہت کم ہے ایسے میں کس بنا پر آپ کو یہ ہم جاب دے۔۔۔اُس نے اگلا سوال کیا

قابلیت کی بنا پر جو مجھ میں بہت ہے بچپن سے۔۔۔۔میشا نے جلدی سے بتایا

اچھا تو کیا کرلیتی ہیں آپ؟وہ تھوڑا رلیکس ہوا اور تھوڑا ٹیبل پر جُھکا

سب کچھ۔۔۔۔۔۔میشا نے اپنی بات پر خاصا زور دیا

مجھے خوش کرسکتی ہو؟یکایک اُس کی آنکھوں میں عجیب تاثرات آئے تو میشا نے ہونٹوں گول شیپ دیا

آپ کو خوش کیسے کروں”مجھے تو نہیں پتا۔۔۔۔میشا نے خاصے افسوس کا اِظہار کیا

ارے اِس میں کونسی مشکل بات ہے”بس دو گھڑی اپنی قُربت کے مُیسر کرنے ہوگے۔۔۔وہ اُس کے گلوز پہنے ہاتھوں کو دیکھ کر بولا

اوکے نو پروبلم۔۔۔۔میشا فورن مان گئ تو اُس کی باچھین کُھل گئ

حجاب اُتارو اپنا۔۔۔۔۔۔وہ شاید بریک لیس تھا”اِس لیے گاڑی کو اِتنا تیز چلا رہا تھا یا میشا کو دیکھ کر اُس کو جان ہی نہیں پایا تھا

یہ نیک کام آپ کردے۔۔۔۔میشا تھوڑا شرما کر کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی تو وہ خود کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کرنے لگا پھر جب ریلنگ چیئر پہ سیدھا ہوکر بیٹھا تو میشا بیحد آہستہ سے چلتی ہوئی اُس کے قریب آئی

کمینہ۔۔۔وہ اپنا ہاتھ اُس کے حجاب میں ڈالنے لگا تو میشا درمیان میں اُس کا ہاتھ روکتی ایک زور کا جھٹکا دیا تو کڑک کی آواز سے اُس آدمی کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کُھلی کی کُھلی رہ گئ وہ شاک کی کیفیت میں اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا جو ہِل جُل تک نہیں رہا تھا۔۔۔

ی یہ۔۔۔اپنے ہاتھ کو موو نہ کرتا دیکھ کر اُس سے کچھ بولا نہیں گیا

چٹاخ

یہ زور کی چپیڑ تھی میری۔۔۔۔۔۔میشا ایک زوردار تھپڑ اُس کے گال پر جڑکر دانت کچکچاکر بولی

کیا تم پاگل ہو؟وہ درد سے کراہ اُٹھا

کمینے اِنسان میں میشا ہوں میشا ہاتھ لگانے والے کا ہاتھ اور فضول بولنے والا کا منہ توڑنے والی تمہیں کیا لگا توں مجھے باقیوں لڑکیوں کی طرح دل بہلانے کا سامان بنائے گا اور میں بن جاؤں گی اِتنی سستی نہیں ہے میشا۔۔.مسلسل اپنی لاتیں اُس کے پیٹ پر مارے میشا بولنے میں مگن تھی پھر جب اپنا دل بھر گیا تو اپنا سارا سامان لیکر وہ اُس کے کیبن سے نکل گئ۔۔۔

سُنو۔۔۔باہر آکر ریسپیشن پہ کھڑی لڑکی کو اُس نے مخاطب کیا

جی؟وہ مسکراکر اُس کو دیکھنے لگی

یہ لو اپنے بوس کا علاج کروانا بیچارا کافی ناساز طبیعت کا ہوگیا ہے۔۔۔ایک نوٹ اُس کی طرف بڑھائے میشا بنا اُس کی کوئی بات سُنے چلی گئ تھی جبکہ وہ لڑکی کبھی جاتی ہوئی میشا کی پشت دیکھتی تو کبھی ہاتھ میں پکڑا”پانچ سؤ کا نوٹ جو میشا اُس کو تھماگئ تھی

آجکل پانچ سؤ میں کس کا علاج ہوتا ہے پاگل تھی کوئی۔۔۔۔وہ سرجھٹک کر بڑبڑاتی اپنے کام میں مصروف ہوگئ۔۔۔

آفس کی بلڈنگ سے باہر نکل کر میشا نے اپنے اُوپر چادر اچھے سے لپیٹ لی تھی…اور سیدھا پھر اپنی اسکوٹی کے پاس آئی جو اُس نے اپنی کمائی سے لی تھی تنکا تنکا جوڑ کر

ہائے میشو رانی تیری قسمت میں ویٹریس کی جاب لکھا ہے اور بھلا قسمت سے آجکل کون فرار ہوا ہے۔۔۔۔چادر کو واپس اُتارتی میشا اپنی اسکوٹی پر بیٹھ کر آہستگی سے بڑبڑائی تھی۔۔”اور گھر جانے کی نیت سے اُس نے اسکوٹی چلانا شروع کیا۔۔۔۔

❤

گھوڑی جیسی چال ہاتھی جیسی دُم

او ساون راجا کہاں سے آئے تم

چک دھم دھم چک دھم دھم

چک دھوم دھوم چک دھوم دھوم

میشا نے جیسے گھر میں قدم رکھا تو کانوں کے پردے پھاڑنے والی آواز نے اُس کا استقبال کیا تھا۔۔۔

فاحا؟؟؟؟

حجاب سے پِن نکالے وہ اُونچی آواز میں فاحا کو آواز دینے لگی مگر گانے کی آواز اِس حدتک تیز تھی کہ اُس میں میشا کو اپنی آواز دبتی محسوس ہوئی

کوئی لڑکی ہے جب وہ ہنستی ہے

بارش ہوتی ہے چھنک چھنک چھم چھم

فاحا یار میری شادی نہیں ہے اِس لیے گانا بند کرو اور پانی کا گلاس دو مجھے۔۔۔۔۔”اور کچھ کھانے کا بھی لانا۔۔۔۔میشا نے ایک اور کوشش کی مگر اُس کی آواز کچن میں موجود فاحا پر نہیں پڑی تھی۔۔

کوئی لڑکا ہے جب وہ گاتا ہے

ساون آتا ہے گھم گھم گھم

چک دھم دھم چک دھم دھم

اب کی میشا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا جبھی خود کچن میں آئی جہاں ڈانس کے اسٹیپ لیتی اپیرن پہنے فاحا کوئی نئ ڈِش بنانے میں مصروف تھی۔۔۔اُس کو ایسے مگن دیکھ کر میشا کو تاؤ جبھی دانت پیس کر پہلے اُس نے گانا بند کیا اور پھر اُس کے سر پہ کھڑی ہوئی

“میں نے پانی مانگا تھا تم سے اور یہاں تم گانے سُننے میں مصروف ہوں۔۔۔۔میشا نے اُس کو گھور کر کہا

اوونہہو میشو آپو مجھ سے بات نہ کرے میں حلیم بنا رہی ہو آپ کی آواز سے میں ڈسٹرب ہورہی ہو۔۔۔۔فاحا نے مصروف لہجے میں اُس کو ٹوک کر کہا تو میشا ایک تھپڑ اُس کے سر پہ مارا

سؤ آواز کے ویلیوم میں جو گانا چلایا ہوا تھا اُس سے ڈسٹرب نہیں ہورہی تھی اور اب میری آواز سے تم ڈسٹرب ہورہی ہو۔۔۔۔میشا تپ کر بولی

انٹرویو بُرا گیا کیا آپ کا۔۔۔۔۔چولہے کی آنچ دھیمی کرکے فاحا نے اپنا تُکا لگایا

ہاں بہت میرے نا ہونے والے بوس سے ہاتھ پائی بھی ہوئی۔۔۔میشا اسٹول پر بیٹھ کر بتانے لگی تو فاحا نے اُچھل کر اُس کو دیکھا

آپو ڈونٹ۔۔۔۔فاحا بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی

اب تو ہوگیا نہ۔۔۔۔میشا نے بڑی معصومیت کا مُظاہرہ کیا

آپو سیریسلی اِتنے بڑے بزنس مین سے آپ لڑائی کرکے آئی ہیں کیوں؟فاحا پوری طرح سے اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھی

سالہ بدتمیزی کررہا تھا۔۔۔”لگادی تھی پھر میں نے پھٹنی بڑا بول رہا تھا۔۔۔”دو گھڑیاں قُربت کی میسر کرنی ہوگی۔۔۔آخر میں میشا نے باقاعدہ اُس کی نقل کھینچی

بچنے کے چانسسز تھے؟فاحا کے چہرے پر پریشانی بھرے تاثرات تھے

بدقمستی سے۔۔۔۔میشا نے کافی غمگین لہجے میں بتایا جیسے اُس کے بچنے کا بہت افسوس ہوا ہو اُس کو

“یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔فاحا گہری سانس بھر کر بولی

مگر ہونے کو اب کون ٹال سکتا ہے۔۔۔اُس کی بات کا میشا نے ایک الگ اپنا مطلب نکالا

“میرا نہیں خیال ویٹریس کے علاوہ کوئی اور جاب آپ کے ہاتھ آئے گی۔۔۔۔فاحا سرجھٹک کر بولی

میں اُس میں خوش ہوں خیر یہ بتاؤ کھانا بن گیا ہے مجھے بہت بھوگ لگی ہے۔۔۔۔میشا نے دوسرا ٹاپک چِھیڑا

ہاں بن گیا ہے مگر ایک مصالحہ اور کچھ چیزیں نہیں ہیں اُس کے لیے مجھے دُکان جانا ہوگا تب تک آپ نگٹس سے کام چلالے۔۔۔۔اپیرن اُتارے فاحا نے اُس کو جواب دیا

بغیر مصالحے کے بنا لو یا اگر جارہی ہو تو میرے لیے ساٹھ والی پیپسی اور ڈیڑہ سؤ والی لیز چپس لانا۔۔۔۔میشا نے انگڑائی لیکر کہا تھا

ڈھائی سؤ نکالے پھر۔۔۔۔فاحا نے اپنا ہاتھ اُس کے آگے پھیلایا

شرم نہیں آئے گی دو ٹکے کی چیزوں کے لیے بڑی بہن سے پیسے بٹورتے ہوئے۔۔۔میشا نے لعن طعن کی مگر وہ بھی اُس کی بہن تھی

شرم آپ یہاں بیٹھ کر کرے میں تب تک مطلوبہ چیزیں لے آؤ گی اور پورے ڈھائی سؤ دیجئے گا۔۔۔۔فاحا نے آرام سے کہا

میرا سودا تو دو سؤ دس کا ہے چالیس ایکسٹرا تمہیں کس خوشی میں دوں؟میشا نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

اِتنا سفر کر پیدل جاؤں گی تو مجھے بھی تو کچھ حاصل ہو اور آپ بحث نہ کرے جلدی سے مجھے پیسے دت تاکہ میں جاؤں۔۔۔۔فاحا نے عجلت کا مُظاہرہ کیا

باہر پرس پڑا ہے میرا اُس سے لو۔۔۔میشا نے دل پر پتھر رکھ کر اُس سے کہا تو فاحا سر کو جنبش دیتی کچن سے باہر نکلی

❤
❤
❤
❤
❤

اوائل دسمبر کی خنک رات تھی”اور وہ اِس وقت اپنے گاؤں میں ہونے والی کسی شادی میں شرکت کرنے آئی تھی جو اُس کے لیے ایک بڑا مراحلہ تھا کیونکہ اُس کو ایسی تقریبوں میں دلچسپی نہیں ہوا کرتی تھی اور آج بھی وہ اپنی ماں کے بار بار اسرار کرنے پر آئی تھی۔۔۔۔

“خود پر چادر ٹھیک کیے وہ ہاتھوں کو باہم آپس میں مسلتی اسٹیج پر آئی جہاں صوفے پر گھونگھٹ اوڑھے ایک بچی بیٹھی ہوئی تھی جس کی عمر چودہ یا پندرہ سال کے درمیان ہوگی۔۔”اُس کو دیکھ کر لالی بے ساختہ مسکرائی تھی وہ سمجھی تھی شاید یہ بچی کی شرارت ہے۔۔۔

“لگتا ہے آپ کو شادی کا شوق ہے خیر بتاؤ دولہن کہاں ہے؟لالی اُس کے پاس بیٹھ کر اپنے ازلی نرم لہجے میں گویا ہوئی تو اُس نے اپنے چہرے سے گھونگھٹ تھوڑا سِرکایا تھا اور اُس کا میک اپ سے اٹا چہرہ دیکھ کر لالی کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔۔۔”کیونکہ جس کو وہ بچی کی شرارت سمجھے ہوئے تھی وہ پوری دولہن کی طرح تیار تھی

“میں ہوں دولہن۔۔۔۔وہ بولی تو لالی دھک سی رہ گئ”سامنے بیٹھی بچی کی آنکھوں کے تاثرات اُس کے اندر موجود خلفشار کا پتا بتارہے تھے

تم تو ابھی بچی ہو اور سہی نہیں ہے یہ”تم چودہ سال کی ہو یہ عمر شادی کی نہیں۔۔۔لالی سے ٹھیک بولا نہیں جارہا تھا اُس کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے

“آپ اِس گاؤں کی نہیں کیا؟اُس کے لہجے میں تحقیر پن سمٹ آیا تھا

ہوں۔۔۔۔لالی یکلفطی بولی

پھر حیران ہونا بننا بنتا نہیں آپ کا۔۔۔۔اُس نے طنز کیا یا عام لہجے میں کہا یہ بات لالی کے سمجھ میں نہیں آئی تھی

تمہاری امی کہاں ہے؟لالی نے اُس کی ماں کا پوچھا

اللہ کے پاس ۔۔وہ تکلیف دہ لہجے میں بولی

تمہارا نام کیا ہے؟اُس کے جواب پر گہری سانس بھر کر لالی نے اگلا سوال کیا

حاجرہ۔۔۔۔مختصر جواب دیا

تمہارے گھروالوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔لالی کو خود بھی بُرا لگ رہا تھا مگر جو پھر حاجرہ نے بتایا اُس پر لالی کو افسوس کے ساتھ غُصہ بھی آنے لگا

“ویسے اگر مولوی صاح رضامندی جاننے کے لیے آئے تو کیا مجھے”قبول ہے قبول ہے”کہنا پڑے گا۔۔۔۔حاجرہ سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔لالی نے اپنا سراثبات میں ہلایا

اگر میں قبول ہے نہ بولوں تو۔۔۔۔۔؟حاجرہ نے کسی اُمید کے تحت پوچھا

تو پھر یہ تمہیں جان سے ماردینگے۔۔۔لالی نے کہا تو حاجرہ کی آنکھوں میں درد ہلکورے کھانے لگا

میرا دل چاہتا ہے میں خودکشی کرلوں۔۔۔۔وہ زندگی سے سخت بیزار لگ رہی تھی

خودکشی حرام ہے۔۔۔۔لالی نے رسانیت سے اُس کو سمجھایا مگر حاجرہ کو بھی شاید کسی دوست کی تلاش تھی جس سے وہ اپنا بوجھ ہلکا کرسکے جبھی اپنے من میں موجود ہر بات وہ لالی کو بتاتی گئ تھی اور جب نکاح کا وقت ہوا تھا لالی اسٹیج سے اُتر گئ تھی مگر دولہا جو خود بھی چودہ یا پندرہ سال کا تھا اُس کو دیکھ کر لالی نے دُکھ بھری سانس خارج کی تھی۔۔۔۔۔

“کاش ایسا ہو کہ میں یہاں سے بہت دور چلی جاؤں اِتنا دور کہ پھر کبھی واپس آنے کا امکان نہ ہو کوئی”مگر لگتا ہے یہ حسرت میں اپنے ساتھ قبر تک لے جاؤں گی مجھے نہیں پسند یہ بے جا سختیاں اور یہاں کے ریت ورسمیں میں کُھلی ہوا میں سانس لینا چاہتی ہوں تاکہ خود کو ترو وتازہ محسوس کروں”میں ایک آزاد پنجھی بننا چاہتی ہوں مگر میں حویلی کی دیواروں میں قید ہوں اور یہ قید ایسی ہے جہاں رہائی پانا مشکل ہے۔۔۔۔”پر میں اپنے اُس دل کا کیا کروں جس کا وہاں دم گھٹتا ہے۔۔۔۔

اپنے اِطراف ہر ایک کو دیکھتی لالی حسرت بھرے انداز میں سوچ رہی تھی جبھی اُس کے پاس گاؤں کی ایک خاتون آئی تھی۔۔۔

آپ سردار کی بیٹی ہو نہ آؤ آپ کے ہاتھوں میں یہ دولہن کی مہندی لگاؤں تاکہ اگلا نمبر پھر آپ کا ہو خیر سے اب آپ بھی جوان ہو۔۔۔۔وہ خاتون پرجوش لہجے میں بولی تو لالی بدک کر ان سے دور ہوئی جیسے اُس کو ڈر ہو کہ شاید ایسا واقعی میں نہ ہوجائے

“مجھے شادی نہیں کرنی مجھے ابھی شہر جاکر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی ہے آپ دعا کرنا کہ بابا مان جائے اور میرا یونی میں ایڈمیشن ہوجائے۔۔۔۔لالی پہلے ہونک بن کر کہتی آخر میں درخواست کرنے لگی

لو جی گاؤں کی چھوکری کبھی شہر یونی گئ ہے جو آپ جاؤ گی۔۔۔۔وہ خاصے تعجب سے کہتی اُس کے برابر سے گُزر گئ تھی مگر اُس کے جُملے پر لالی کو مایوس ہوئی تھی۔ ۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

وہ ریڈ شرٹ اور وائٹ جینز پینٹ اور ساتھ میں سر پر میچنگ حجاب پہنے ایک ہاتھ میں اپنا سیل فون لیے دوسرے ہاتھ سے اپنا بریف کیس پکڑے ایئرپورٹ پر کھڑی کسی کو مسیج کرنے میں محو تھی۔۔”اُس کی خوبصورت پیشانی پر ایک لکیر اُبھری ہوئی تھی شاید وہ اکتاہٹ کا شکار تھی۔”کیونکہ سر نہ اُٹھانے کے باوجود وہ لوگوں کی خود پر نظریں اچھے سے محسوس کرسکتی تھی۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔۔شوخ آواز سن کر سوہان نے اپنا سراُٹھایا تھا جہاں عاشر دانتوں کی نُمائش کیے اُس کو دیکھ رہا تھا

“تمہیں پتا تھا میں آنے والی ہوں اور تمہاری وجہ سے میں نے کیب بُک نہیں کروائی اور تم پورے دس منٹ لیٹ ہو۔۔۔۔سوہان اُس کو دیکھ کر بیحد سنجیدہ لہجے میں بولی

جی جانتا تھا آپ آنے والی ہو پر ٹرسٹ می یونی کے کام میں کچھ ایشوز ہوگیا تھا جبھی یہاں آنے میں وقت لگ گیا۔۔۔۔عاشر اُس کے ہاتھ سے بریف کیس لیکر وضاحت دینے لگا

تمہارا ابھی یونی میں ایڈمیشن نہیں ہوا؟”ایک سال ضائع کرچُکے ہو اور کتنے کرنے کا اِرادہ ہے؟سوہان نے افسوس سے اُس کو دیکھا

“نہیں اور نہیں کرنا اب سیریس ہوکر اسٹڈی پر فوکس کرنا ہے”بائے دا وے آپ کے کیا اِرادے ہیں۔۔۔۔؟عاشر اُس کے ساتھ ایئرپورٹ سے باہر نکلتا بتانے کے بعد پوچھ بیٹھا

پریکٹس اُس کے بعد لائسنس کے لیے اپلائے کروں گی۔۔۔۔سوہان نے بتایا کیونکہ کچھ سال پہلے وہ اولیولیز کرنے کے بعد مُلک سے باہر تھی

آل دا بیسٹ ویسے بھی آپ کی ایک بہن بہت اچھے سے کافی سرو کرنا سیکھ گئ ہے اور دوسری شیف بننے کی پوری تیاریوں میں ہے اور ہاں فاحا سلائی کڑھائی کا کام بھی ساتھ میں سیکھ رہی ہے۔۔۔۔عاشر نے اُن دونوں کے بارے میں بتایا”سوہان کے لب پہلی بار مسکرائے تھے

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

گاڑی کیوں روکی؟گاڑی کی بیک سائیڈ پر بیٹھا اسیر ملک جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس”کندھوں پر بھوری شال اُوڑھے اور پاؤں میں پشاوری چپل پہنے موبائل فون میں بزی تھا”اپنی گاڑی کو اچانک رُکتا محسوس کیا تو کرخت آواز میں پوچھا

سردار جی ٹریفک ہے راستہ نہیں۔۔۔ڈرائیور نے بتایا تو اُس کی کُشادہ پیشانی پر لاتعداد بلوں کا اضافہ ہوا تھا اُس نے کوفت سے اپنے اِراد گرد نگاہ ڈالی تھی پھر کچھ سوچ کر وہ گاڑی سے اُترا تو گارڈز بھی یکدم الرٹ ہوئے تھے جو اُس کی گاڑی کے پیچھے کھڑی گاڑیوں میں بیٹھے تھے۔۔۔

پانچ منٹ ویٹ کرو پھر سگنل توڑ دینا۔۔۔اسیر گاڑی کے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوتا حکم صادر کرنے لگا تبھی کوئی تیز طوفان کی طرح اُس سے ٹکرایا تھا جس سے اُس کے ہاتھ میں موجود مہنگا سیل فون نیچے گِر پڑا تھا

سس سوری۔۔۔۔نیچے گِرا سیل فون دیکھ کر فاحا ڈر کر بولی تو اسیر ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر فاحا کو گھورنے لگا تھا

اندھی ہو؟اسیر نے تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھا

اندھی نہیں ہوں بس جلدی میں آپ کو دیکھ نہیں پائی۔۔۔۔۔فاحا جھٹ سے کہا تو اسیر کو اُس پر تاؤ آیا جس نے لمبے چوڑے مرد کو دیکھا نہیں تھا۔۔۔۔”بقول اُس کے وہ دیکھ نہیں پائی

کیسے دیکھتی جگ جہان کی آپ معصوم جو ٹھیری۔۔۔اسیر نے بھوگ کر طنز کیا

میں نے سوری بولا ہے آپ کو اور اگر فون کی اسکرین ڈیمیج ہونے کا آپ کو افسوس ہے تو آپ کا فون آپ کی وجہ سے گِرا ہے اگر آپ گرفت مضبوط رکھتے تو وہ نہ گِرتا۔۔۔۔فاحا نے جلدی سے اپنا دامن صاف کیا تو اسیر کی نظر اپنے سیل فون پر گئ جو ایک گارڈ نے اُٹھا لیا تھا۔۔۔۔

جی جی آپ سے کچھ نہیں ہوا ساری غلطی تو ہماری ہے”آپ تو جگ جہان کی معصوم ٹھیری۔۔۔اسیر ایک اچٹنی نظر اُس پہ ڈال کر بولا

تھینک یو۔۔۔۔فاحا تھوڑا رلیکس ہوئی”پر سر ابھی بھی جُھکا ہوا ہی تھا” مگر جانے کیوں اسیر کو اُس پہ غُصہ آیا”کیونکہ ایک طرف اُس کی بے نیازی تھی تو دوسری ہر کوئی اُن دونوں کو دیکھ کر ہارون پہ ہارون دیئے جارہا تھا

دوبارہ تم اگر ہمارے راستے میں آئی تو ہم تمہارا گلا دبادے گے۔۔۔اسیر اُس کے جُھکے ہوئے سر کو دیکھ کر وارننگ بھرے لہجے میں بولا تو اِس بار اُس کے”ہم”لفظ پہ اپنا سراُٹھاتی فاحا اُس کے پیچھے دیکھنے لگی جہاں گارڈز کی ایک لائن تھی جن کو دیکھ کر اُس کا سانس خُشک ہوا

یااللہ میری گردن تو پتلی سی ہے ایک یہ دبائے گے تو میرا کام تمام ہوجائے گا اِتنے سارے لوگوں کو زحمت دینے کی کیا ضرورت ہے؟وہ چور نگاہوں سے اُس کا وجیہہ چہرہ دیکھ کر دل میں بڑبڑانے لگی۔۔۔

“لڑکی کیا بڑبڑائی ہو۔۔۔اسیر کو اُس پر تاؤ آیا

کک کچھ بھی نہیں ہم تو اپسس سوری میرا مطلب میں تو جارہی ہوں آپ خوامخواہ ناراض کیوں ہورہے ہیں۔۔۔۔فاحا گڑبڑاکر سنبھل کر کہتی وہاں سے جانے لگی۔۔۔”اسیر بھی ایک آخری نظر اُس پہ ڈالے اپنی گاڑی میں دوبارہ بیٹھا تھا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

یہ لڑکا کون ہے؟”جو ایک ہفتے سے ہمارے کیفے میں آتا ہے مگر ہر روز الگ الگ لڑکیوں کے ساتھ آتا ہے۔۔۔۔میشا ٹرے میں کافی ڈالتی “سامنے بیٹھے بلو شرٹ اور وائٹ پینٹ پہنے آریان کو دیکھا جس کے گلے میں ایک لمبی چین تھی تو ہاتھوں میں مخلتلف قسم کے بینڈز تھے۔۔”جس پر وہ بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا مگر میشا ایک نظر اُس پر ڈالنے کے بعد سرجھٹک کر اپنے ساتھی سے پوچھنے لگی

آریان ہے”آریان دُرانی زوریز دُرانی کا نام تو سُنا ہوگا تم نے اُس کا چھوٹا بھائی ہے یہ۔۔۔اُس نے بتایا

میں نہیں جانتی۔۔”ضوریز کو۔۔میشا نے آنکھیں گُھمائی

ضوریز نہیں زوریز “زوریز دُرانی بزنس مین ہے ایک سال ہوا ہے اُس کو پاکستان آئے بہت قابلِ شخص ہے وہ پیسے کماتا ہے اور یہ اُس کا چھوٹا بھائی اپنی نت نئ گرل فرینڈز پر پیسے لوٹاتا ہے۔۔۔”آسٹریلیا کا بہت بڑا پلے بوائے رہ چُکا ہے اور وہی سب اب یہاں چل رہا ہے۔۔۔۔اُس نے تفصیل سے بتایا

بھائی کماتا ہے اور یہ لوٹاتا ہے کیوں؟”اِس کا بھائی روکتا ٹوکتا نہیں کیا اُسے؟میشا کو خاصا تعجب ہوا

بادشاہ کی جان طوطے میں زوریز دُرانی کی جان آریان دُرانی اور تم باتیں کم کرو اُس کو کافی دے آؤ۔۔۔وہ سرجھٹک کر بولا

ایک ہفتے سے تمہاری یاری ہے اُس کے ساتھ خود جاؤ۔۔۔۔میشا نے انکار کیا

میشا ضد نہیں کرو ہمارا ڈیلی کا کسٹمر ہے۔۔۔اُس نے کہا تو میشا ہزار منہ کے زاویئے بناتی ٹرے پکڑے اُس کی ٹیبل پر آئی تو آریان جو اپنی گرل فرینڈ سے بات کرنے میں تھا ویٹر کے بجائے ویٹر کے کپڑوں میں ویٹریس دیکھ کر اُس کو تھوڑی حیرت ہوئی جس کے چہرے سے لگ رہا تھا وہ کافی بہت بے دلی سے دے رہی تھی۔۔”مگر ایسے کپڑوں میں اُس کے سر پر حجاب آریان کو یونیک لگا۔۔۔

ہائے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔آریان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری جس پر کافی ٹیبل پر رکھتی میشا نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا تھا پر کہا کچھ نہیں۔۔۔”جو بھی تھا وہ اپنی اِس جاب سے بہت خوش تھی۔۔۔

بیوٹی اِن حجاب۔۔۔۔وہ کافی مگز رکھ کر جانے لگی تو آریان اپنے ساتھ آئی لڑکی سے ایکسکیوز کرتا میشا کے پیچھے پیچھے آیا

تمہارا نام کیا ہے؟آریان بہت بے تُکلفی والے انداز میں پوچھنے لگا جیسے سالوں کے دو بِچھڑے یار ملے ہو

میری زندگی کا ایک اصول ہے اور وہ یہ ہے کہ”میں زیادہ بولنے والوں کا منہ توڑدیا کرتی ہوں۔۔۔وہ جھٹکے سے پلٹ کر اُس کو گھور کر وارننگ بھرے لہجے میں بولی تو آریان ایک قدم پیچھے لیتا ہونٹوں کو گول شیپ دیئے سرتا پیر اُس کا جائزہ لیا

کافی غلط اصول بنایا ہوا ہے منہ تمہیں اُن کا توڑ دینا چاہیے جو فری میں منہ لگتے ہیں آؤ ہم ایک بار ٹرائے کرتے ہیں۔۔۔۔آریان اپنا چہرہ اُس کی طرف کیے بولا تو میشا عجیب نظروں سے اُس کو گھورنے لگی جو پہلی ہی مُلاقات میں حد سے زیادہ فری ہورہا ہے۔۔۔

تم نہ جہنم میں جاؤ۔۔۔میشا نے زچ ہوکر کہا تو آریان کی نظر ایک آرٹیفیشل پھول پر گئ تو کچھ سوچ کر وہ اپنے ہاتھ میں لیا

پہلے ایک بات کہوں؟آریان نے اجازت چاہی

پھوٹو اور پھر فوٹو۔۔۔۔میشا نے جان چُھڑوانے والے انداز میں کہا

ہیں؟؟؟

پھوٹو اور فوٹو کا مطلب؟آریان نے اپنے کان کی لو کُھجائی

پھوٹو مطلب جو بکواس کرنی ہے وہ جلدی سے کرو”اور فوٹو سے مُراد بکواس کرنے کے بعد یہاں سے دفع ہوجانا۔۔۔۔میشا نے تلملا کر کہا

اوو تمہارا مطلب عزت سے بے عزت ہونا۔۔۔آریان نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی تو میشا نے بڑے ضبط سے اُس کو دیکھا

اچھا سُنو مس بیوٹی”

میرے ہاتھ میں پھول ہے کوئی اسلحہ تو نہیں،آئے لو یو بولوں کوئی مسئلہ تو نہیں؟آریان اُس کو دیکھ کر جذب کے عالم میں بولا جس پر میشا نے ضبط سے اُس کو گھورا

میرے پاؤں میں فلیٹ کی چپل ہے کوئی ہیل والی سینڈل تو نہیں،تمہارے سر پر ماروں کوئی مسئلہ تو نہیں۔۔۔جوابً میشا اُس کو وارن کرتی بولی تو وہ بیچارہ گڑبڑا سا گیا کیونکہ کہنے کے ساتھ میشا نے اپنے پاؤں سے چپل اُتار کر ہاتھ میں پکڑی تھی

“گُستاخ آنکھیں

بے باک لہجہ

سُنا رہا ہے کسی

عشق کی داستان

آریان اُس کے ہاتھ سے چپل لیکر پاؤں کے پاس رکھتا ایک بار پھر گویا ہوا

“بے چین آنکھیں

لوفرانہ انداز

بیان کررہا ہے تمہارا

چِھچھوڑا پن

میشا بھی دوبدو بولی

واہ واہ دیکھنا تم جیسے آجکل کی جنریشن پروین شاکر اور فراز احمد کی شاعری پڑھتی ہے نہ آنے والے وقت میں نیو جنریشن ہماری شاعری پڑھے گی مطلب جہاں پروین شاکر کی جگہ تم لینے والی ہو اور فراز احمد کی جگہ میں”میں ایک شعر ادا کروں گا اور وہ تم اُس کے اپوزٹ شعر نکالو گی امیزنگ ہوگیا یہ تو۔۔۔۔۔آریان باقاعدہ تالی مار کر بولا

پتا ہے صبح سے میرے ہاتھوں میں بہت خارج ہورہی ہے۔۔میشا نے اپنا ہاتھ اُس کے آگے لہراکر ڈھکے چُھپے الفاظوں میں کچھ سمجھانا چاہا

آج پہلی تاریخ ہے نہ سیلری ضرور ملے گی حوصلہ مت چھوڑو۔۔۔۔آریان نے اُس کی بات کا مطلب سمجھنا ضروری نہیں سمجھا اور اُس کے لہرائے ہوئے ہاتھ پر ایک زور کی تالی ماری تو میشا نے ایک بڑا صبر کا گھونٹ بھرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *