Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 21)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

آپ اکیلی آئیں ہیں؟فاحا جو رات کا کھانا ٹیبل پر سجارہی تھی”میشا کو اکیلے گھر میں داخل ہوتا دیکھا تو پوچھا

“کیوں کیا مجھے فوج کے ساتھ آنا تھا؟”میشا تھکے ہوئے انداز میں صوفے پر بیٹھ کر بولی تو اُس کو دیکھ کر فاحا نے جگ میں سے پانی گلاس میں انڈیلا اور اُس کی طرف آئی

“سوہان آپی ساتھ نہیں تھیں آپ کے تو اُن کا پوچھا تھا خیر آپ بتائے”کیا ہوا؟فاحا نے پانی کا کلاس اُس کی طرف بڑھائے پوچھا

کچھ نہیں۔۔۔میشا نے ٹالا

“کچھ تو ہوا ہے کیا کورٹ نے وقت لیا ہے؟فاحا نے تُکہ لگایا

“ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔”مُبارک ہو تمہیں کشف کو انصاف مل چُکا ہے تمہاری آپو کیس جیت گئ ہیں اُس خوشی میں تم کیک بیک کرو میں البتہ لمبی تان کر سوؤں گی۔۔۔میشا نے کہا تو فاحا حیرت سے میشا کا چہرہ تکنے لگی۔

“کیا واقعی میں کیس جیت گئ آپو وہ بھی ایک دن میں؟”فاحا کو جیسے یقین نہیں آیا

“تمہیں کیا لگتا میں مذاق کے موڈ میں ہوں؟”میشا نے ترچھی نظروں سے اُس کو دیکھا

“نہیں مگر آپ اِتنے روکھے لہجے میں بتارہی ہیں اور میٹھائی یا کیک وغیرہ بھی نہیں لائیں مطلب ایسا کون کرتا ہے۔فاحا منہ بناکر بولی

“میرے پاس پیسے نہیں تھے میٹھائی یا کیک وغیرہ کے جو میں وہ لاتیں تمہیں تو پتا ہے مہینے کی آخری تاریخوں میں غریب ہوجاتی ہوں میں خیر کل میری شفٹ دیر تک ہوگی”کیا پتا کام بن جائے پھر ہم اِس خوشی میں چھوٹی سی پارٹی آرگنائز کرینگے۔۔۔۔میشا نے بتایا تو فاحا خوش ہوگئ

“اوو یس آپو کی سالگرہ بھی تو آنے والی ہے نہ۔۔۔فاحا پرجوش لہجے میں بولی

“ہاں وہ بھی منائے گے بس تم سرپرائز خراب نہ کرنا۔۔۔”اور یہ پارٹی بس ہماری ہوگی جس میں ہم تینوں بہنیں ساجدہ آنٹی اور عاشر حاشر اور بُوا ہوگیں۔۔۔میشا نے اُس کو بتایا

ہاں پر کشف بھی آئے گی آپو کی ایک دو دوستوں کو بھی انوائٹ کرینگے بہت مزہ آئے گا۔۔۔فاحا کی خوشی قابلِ دید تھی

میرا جوڑا سِل لیا تم نے؟میشا کو اچانک خیال آیا تو پوچھا

“ہاں تھوڑا رہتا ہے پر کل پکا آپ کو دوں گی ویسے سوہان آپو رہ کہاں گئیں ہیں؟فاحا کو سوہان کی فکر ستانے لگی

“آ جائے گی ٹینشن نہ لو ویسے بھی وہ کوئی بچی نہیں۔۔۔میشا نے سرجھٹک کر کہا

“پتا ہے وہ بچی نہیں کھانا تیار ہے اور فاحا کو بھوک لگی ہے۔۔۔فاحا نے منہ بسورتے کہا

“انتظار کرو تیس منٹ تک آئی تو ٹھیک ہے ورنہ ہم شروع کرینگے کھانا۔۔۔میشا نے وال کلاک پر وقت دیکھ کر کہا

“پر ہم تینوں ہمیشہ ایک ساتھ کھانا کھاتیں ہیں”اور آج بھی ساتھ میں کھائے گے۔۔فاحا نے جیسے اُس کو یاد کروایا

“مرضی ہے بھائی تمہاری۔۔۔میشا اکتاہٹ سے کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی اور فاحا اِس سوچ میں پڑگئ کہ اچانک”میشا کے انداز کو کیا ہوا ہے

“اچھا سُنیں تو میں نے جو پیسے جمع کیے تھے وہ اِتنے ہوگئے ہیں کہ گاڑی کی پہلی قسط ہم باآسانی سے دے سکتے ہیں۔۔۔فاحا اُس کے پیچھے آتی بولی

“سوہان کو پتا لگے گا کہ تم پر اُلٹا غُصہ ہوگی ویسے بھی ہر ماہ اِتنے پیسے تمہارے پاس کہاں سے آئے گے کہ تم گاڑی کی قسطوں کو پورا کرتی پِھروں۔۔۔میشا نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر کہا

“میں مینیج کرلوں گی میں نے ریسٹورنٹ میں ایک جاب دیکھی ہے اُن کو میرے کھانے کا ذائقہ پسند ہے۔۔”وہ مجھ سے کھانا پکوانا چاہتے ہیں اور اگر وہاں کام نہ بھی بنا تو ایک کمپنی جہاں کام کرنے والوں کا لنچ بریک کا بندوبست کرنا ہے یعنی پچاس سے ساٹھ لوگوں کا کھانا بنانا پڑے اور وہ میں گھر بھی بناسکتی ہوں”اور آپ اندازہ نہیں لگاسکتی کتنا اچھا پکیج ملے گا مجھے۔۔۔فاحا نے پرجوش انداز میں کہا تو میشا اُس کو ایسے دیکھنے لگی جیسے اُس کو فاحا کی دماغی حالت پر شک گُزرا ہو۔۔۔

“مانا کے تم کوکنگ میں ایکسپرٹ ہو”گھرداری کرنا بھی آتی ہے تمہیں مگر پچاس لوگوں کا کھانا تم اکیلے نہیں بناسکتی اِس خیال کو اپنے دماغ سے ڈیلیٹ کرو اور کسی ریسٹورنٹ میں جاب دیکھو جہاں سیلری پکیج اچھا ہو اور آخری بات تمہارے پیپر میں اب کچھ وقت رہتا ہے تمہیں اُس کی تیاری بھی بہت اچھی کرنی ہے۔۔۔میشا نے اُس کو سمجھایا

“سہی مگر آج آپ اِتنا سیریس کیوں ہیں؟فاحا نے پوچھ لیا جبھی وہاں سوہان آئی۔۔۔

السلام علیکم ۔۔۔سوہان نے اُن دونوں کو دیکھ کر سلام کیا

وعلیکم السلام اور آپ کو بہت بہت مُبارک ہو۔۔۔۔فاحا بھاگ کر اُس کے گلے لگی۔۔

تمہارا بہت شکریہ۔۔سوہان میشا کا روٹھا ہوا چہرہ دیکھتی فاحا سے بولی

“فاحا آپ کے لیے بہت خوش ہے اب آپ بس جلدی سے فریش ہوجائے میں تب تک سالن گرم کر لاتی ہوں”آپ کو تو اندازہ بھی نہیں کہ فاحا کتنی ہنگری ہیں۔۔۔فاحا نے اُس کو دیکھ کر ایک سانس میں کہا

“مجھے بس پانچ منٹ دو۔۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر مسکراکر کہا “اور اپنے قدم کمرے کی طرف بڑھائے

“میں بھی آتی ہوں۔۔۔میشا جاتی ہوئی سوہان کو دیکھ کر فاحا سے بولی

“جلدی آئیے گا۔۔۔فاحا نے کہا تو وہ سرہلاتی سوہان کے پیچھے اُس کے کمرے میں آئی

“کیا تم نے اِتنی دیر ہوسپٹل میں ہونے کی وجہ سے لگائی؟میشا تیزی سے دروازہ کھول کر اُس کے پاس آتی بولی

“آہستہ بڑی بہن ہوں میں تمہاری اور بولتے ہوئے آواز کم کرلیا کرو اگر فاحا سُنے گی تو پھر میں کیا جواب دوں گی اُس کو؟سوہان نے سختی سے نہیں مگر گہرے سنجیدہ انداز میں اُس سے کہا تھا جس پر میشا تھوڑا شرمندہ ہوئی

“سوری پر مجھے میری بات کا جواب چاہیے”تم تین سال بڑی ہو اِس کا یہ مطلب ہرگز مت لینا کہ میں تمہارے روعب میں آجاؤں گی۔۔۔میشا نے سنبھل کر کہا

“ابھی مجھے ایسی خوشفہمی لاحق نہیں ہوئی اور میں امی سے ملنے گئ تھی۔۔۔سوہان نے سرجھٹک کر بتایا

“اُن کو بتایا اپنی کامیابی کا؟”اگر وہ ہوتیں تو بہت خوش ہوجاتیں۔۔”اُن کو پتا چلتا جس مرد نے جس وجہ سے اُن کو چھوڑا آج اللہ نے وہ وجہ اُن کے لیے ایک ناسور بنادیا ہے۔۔۔میشا یکطرفہ مسکراکر بولی

“میں اُن کو کچھ بتا نہیں پائی۔۔۔سوہان صوفے پر بیٹھ کر بولی

“کیوں؟میشا نے الجھن بھری نظروں سے اُس کو دیکھا

“کیونکہ وہاں زوریز دُرانی آگیا تھا۔۔۔سوہان نے بتایا

“وہ وہاں کیوں آیا تھا”مطلب قبرستان میں اُس کا کیا کام؟میشا کو حیرت ہوئی

“اپنے لیے قبر کی جگہ بُک کروانے آیا تھا۔۔۔”وہ سامنے والی جگہ مجھے بہت پسند آئی ہے کیونکہ وہاں ٹریز بہت ہیں”اچھا ہے گرمیوں میں قبر کے اُپر سورج کی تپش نہیں پہنچ پائے گی وہاں۔۔۔

“میشا کے سوال پر سوہان کو بے ساختہ زوریز کا جواب یاد آیا تھا جس پر اُس نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی۔۔۔

“وہ بہت چھوٹا تھا جب کار ایکسیڈنٹ میں اُن کے والدین کا انتقال ہوگیا تھا۔۔۔سوہان نے بتایا

“اُن کے والدین کی موت کا سُن کر کافی افسوس ہوا”یقیناً آپ کو یہ بات سرسری مُلاقات میں پتا لگی ہوگی۔۔۔میشا نے لفظ”ان”پر خاصا زور دیا اور آخر میں طنز کرنا بھی ضروری سمجھا

“ہممم۔۔سوہان نے ہنکارا بھرا آخری بات جبکہ اُس نے میشا کی نظرانداز کی

“ویسے سوہان تم دونوں پھر کسی ریسٹورنٹ گئے تھے یا کسی پارک میں؟میشا کو اچانک خیال آیا تو پوچھا

“ہم وہاں کیوں جانے لگے؟سوہان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

“کیا مطلب پھر تم دونوں قبرستان میں گپ شپ لگارہے تھے؟”آئے مین سیریسلی؟بات کرنے کے لیے وہ جگہ تم دونوں کو ملی تھی”مُردے لوگ بھی سوچ رہے ہوگے کے کہاں دفن کیا گیا ہے ہمیں جب زندہ تھے تبھی سکون سے سونے نہیں دیا اور جب مرچُکے ہیں تو یہاں بھی لوگوں کو چین نہیں۔۔۔میشا اپنی ٹون میں واپس آتی بولی تو سوہان نے کوفت سے اُس کو دیکھا

“میں نے ایسا کب کہا کہ میں اُن کے ساتھ گپ شپ کررہی تھی؟سوہان نے پوچھا

“جتنا وقت تم نے لگایا اِس سے مجھے اندازہ ہوگیا اور ضروری تو نہیں نہ کہ ہر بات بتائی جائے تب ہی آپ کو سمجھ آئے گی ورنہ نہیں۔۔۔میشا نے شانے اُچکاکر کہا

“باہر جاؤ مجھے فریش ہونا ہے اور ہر وقت ویلی نہ بیٹھا کرو فاحا کی کوئی مدد کیا کرو۔۔۔سوہان اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولی

“اللہ اللہ ویلی اور وہ بھی میشا؟”اِتنا سنگین الزام دن کے بارہ گھنٹے میں کام کرتی ہوں اور تم بول رہی ہوں میں ویلی ہوں کل سے تو میں اٹھارہ گھنٹے کام کروں گی یہ تو میرے ساتھ زیادتی ہے۔۔۔میشا احتجاجاً بولی

“غلطی ہوگئ مجھ سے اب پلیز مجھے تھوڑا وقت دو تاکہ میں اپنی حالت کو سُدھار لوں۔۔۔سوہان نے بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا

“ٹھیک ہے پر ایک بات بتاؤ تمہارا اور اُن کا کیا چکر ہے؟میشا نے شوخ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“اُن کا کِن کا؟سوہان انجان بنی

“دا بزنس ٹائیکون زوریز دُرانی کی بات کررہی ہوں میں کیا تم دونوں کی مُلاقاتیں خوشگوار ہوتیں تھی جو ایک دوسرے کے بارے میں اِتنا جانتے ہو۔۔۔میشا نے پوچھا

“عام سی باتیں ہر کوئی جانتا ہے تم بات کو بڑھاؤ نہیں۔۔۔سوہان نے اُس کو گھور کر کہا

“میں بڑھا نہیں رہی بس جاننا چاہتی ہوں”آگے تمہاری مرضی ویسے لڑکا کافی ہینڈسم “سمارٹ گُڈ لکنگ ہارٹ اور چارم پرسنائلٹی کا مالک ہے اُس کو اِگنور کرکے گوانا مت۔۔۔۔میشا نے شرارت سے اُس کو دیکھ کر کہا جس پر سوہان کے ماتھے پر بلوں کی ایک لکیر بن گئ تھی۔۔

“مجھ سے دوبارہ اِس قسم کی بکواس مت کرنا اور ابھی جاؤ تم یہاں سے۔۔۔سوہان نے سختی سے کہا تو میشا کے چہرے کی رنگت بھک سے اُڑی تھی وہ حیرت سے سوہان کا غُصے سے سرخ پڑتا چہرے دیکھنے لگی۔

“سس سوہان تم ٹھیک ہو؟میشا کو فکر ہوئی

میشا لِیو۔۔۔سوہان نے باقاعدہ ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو جانے کا کہا

“ٹھیک ہے میں جاتی ہوں وہ مجھے پہلی مُلاقات میں تمہارے لیے اچھا لگا تھا تبھی میں نے کہا آگے تمہاری مرضی۔۔۔میشا سنجیدگی سے کہتی اُس کے کمرے سے باہر نکل گئ اُس کے جاتے ہی سوہان نے اپنے کمرے کا دروازہ “ٹھاہ”کی آواز سے بند کیا تھا جس پر ٹیبل سجاتی فاحا کے ہاتھ سے پلیٹ چھوٹ کر نیچے گِری تھی۔۔۔

“اللہ اللہ یہ کیِسی آواز تھی؟فاحا نے بے ساختہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا اُس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا

“باہر گولہ باری ہورہی ہے اُس کی آواز تھی۔۔۔میشا نے طنز کہا

“ہیں واقعی؟فاحا حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی جس پر میشا کو تاؤ آیا

“تمہاری بہن کا دِماغ خراب ہوگیا ہے”اور لگتا ہے تمہارا بھی۔۔۔میشا اپنے لیے کُرسی گھسیٹ کر بیٹھتی تپے ہوئے انداز میں بولی

“میری بہن ہونے سے پہلے وہ آپ کی بہن ہے”کیونکہ میں آپ کے بعد دُنیا میں آئی ہوں اور کیا آپ بتاسکتی ہیں کہ وہ غُصے میں کیوں ہے اِتنی؟فاحا اُس کے پاس والی کُرسی پر بیٹھ کر پوچھنے لگی

“کچھ نہیں ہوا تم مجھے ایک سوال کا جواب دو۔۔۔میشا نے اُس کی توجہ دوسری طرف کروانی چاہیے”جو کی اُس کے لیے ایک آسان کام تھا

“سوال بتائے۔۔۔فاحا پوری طرف سے اُس کی جانب متوجہ ہوئی

“کہتے ہیں ایک عورت اپنی زندگی میں آنے والے دو مردوں کو کبھی نہیں بھولتی ایک جس سے اُس کو محبت ہو دوسرا جو اُس کو عزت دیتا ہے۔۔۔”کیا یہ سچ ہے؟تمہاری کیا رائے ہے اِس میں؟میشا نے بڑے سنجیدہ انداز میں اُس سے پوچھا

“سوال تو آسان ہے پر یار آپو ایسا کوئی مرد نہیں جس سے فاحا کو محبت ہو اور ایسا بھی کوئی نہیں جس نے فاحا کو عزت بخشی ہو تو میں آپ کو کیا جواب دوں؟فاحا نے پرسوچ لہجے میں جواب دیا تو میشا کو سمجھ نہیں آیا وہ اُس پر ترس کھائے یا ہنسے۔۔۔

“سہی کہا۔۔میشا نے سرجھٹکا

“ہاں نہ ایک عاشو بھیاں ہیں ہمارے جو سب کچھ ہیں ہمارے خیر آپ نے کیوں پوچھا؟فاحا نے جاننا چاہا

“کیونکہ مجھے لگتا ہے یہ تھیوری غلط ہے۔۔۔۔میشا نے کہا

“اچھا وہ کیسے؟فاحا نے پوچھا

“عورت اپنی زندگی میں آئے ہر مرد کو بھول سکتی ہے سِوائے اُس مرد کے جس نے اُس کو بھری محفل میں تنہا چھوڑا ہو”اُس کا ہاتھ تب جھٹکا ہو جب عورت کو اُس ہاتھ کی سب سے زیادہ ضرورت ہو عورت سب کچھ بھول سکتی ہے فاحا پر اپنی زندگی میں آئے بے وفا شخص کو نہیں۔۔۔میشا نے گہرے لہجے میں کہا

“جبھی آدھی دُنیا عورت کو بیوقوف کہتی ہے۔۔فاحا نے کہا تو میشا اُس کو گھورنے لگی۔

“اگر وہ بے وفا شخص کی یاد میں ڈوب جائے گی اُس کی بے وفائی کا ماتم منائے گی تو وہ کبھی آگے بڑھ نہیں پائے گی اور سوہان آپو کہتیں ہیں مستقبل بہتر بنانے کے لیے ماضی کی کڑوی یادوں کو بُھلانا پڑتا ہے۔۔۔فاحا نے کہا تو میشا اُس کے جواب پر لاجواب ہوئی تھی”پر وہ کچھ کہہ نہیں پائی کیونکہ سوہان وہاں آکر بیٹھ گئ تھی۔۔۔

“کباب بنایا ہے میں نے آپ کو پسند ہے نہ۔۔۔۔فاحا پلیٹ اُس کی طرف بڑھاکر بولی

“کباب کے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟میشا نے مشکوک نظروں سے اُس کو گھورا

“کیا ہوگیا آپ کو؟”اور مہینے کی آخری تاریخوں میں آپ غریب ہوجاتیں ہیں میں نہیں۔۔۔۔فاحا نے جواباً ڈبل گھوری سے اُس کو نوازہ تھا جس پر میشا اُس کو زبان دیکھاتی کھانا کھانے میں مگن ہوگئ

❤Rimsha Hussain Novels❤

نوریز ملک کا آپریشن خیریت سے ہوگیا تھا جس پر صنم بیگم نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا”اسیر نے بھی حویلی میں خبر پہنچادی تھی”اگلے دن سجاد ملک فائقہ بیگم اور اسمارہ بیگم کے ہمراہ شہر آگئے تھے۔۔۔۔

“آپ کا انتظار تھا چچا جان کو۔۔۔”مگر کافی لیٹ آئے ہیں آپ۔۔۔اسیر نے سجاد ملک کو دیکھ کر کہا

“گاؤں میں کام تھا تم بھی یہاں تھے تو سارا کچھ مجھے دیکھنے پڑرہا تھا تبھی نہیں آ پایا تھا۔۔۔سجاد ملک نے وجہ بتائی

“نذیر پھر کس کام کا ہے۔۔۔اسیر کو اُن کی بات محض ایک بہانا لگی

“چھوٹا بھائی ہے تمہارا جس کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کررہے ہو تم۔۔۔سجاد ملک نے ناگواری سے اُس کو دیکھ کر کہا

“ہم نے بس پوچھا ہے نوریز ملک بھی آپ کا چھوٹا بھائی ہے جنہوں نے فقط آپ کی وجہ سے اپنا گھر بھار چھوڑدیا تھا”پھر آپ کے ایسے رویے سے وہ کیا مطلب اخذ کریں؟اسیر نے اُن کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

“تمہیں کیا لگتا ہے تمہیں مجھ سے زیادہ فکر ہے نوریز کی؟سجاد ملک نے سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“ہمیں ایسی خوشقہمی نہیں ہے اور نہ ہم سوچتے ہیں”ہمیں اُن کی فکر نہ بھی ہوئی تو ہم نے اُن کا ساتھ دینا ہے بات یہاں آپ کی ہورہی ہے اِس لیے اُس کو گھماکر آپ ہم پر نہ ڈالے۔۔۔۔اسیر نے طنز لہجے میں کہا

“تم

“سہی بول رہا ہے اسیر آپ نے آج تک ہمارے لیے یا ہمارے بچوں کے لیے کچھ کیا ہے کیا؟”بس وہ سب کیا ہے جس سے ہمارا نقصان ہو آج ہمارا شیراز سہی ہوسکتا تھا اگر ہم مستقل شہر میں قیام پزیر کرتے”فراز پر یہ نوبت نہ آتی اگر آپ ایمانداری کا مُظاہرہ کرتے”معافی کیجئے گا مگر اِس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے نوریز ملک کی نسلیں کاٹ دی ہیں۔۔۔اسمارہ بیگم بھی گویا اُن پر بھڑک اُٹھی تھی۔۔”فائقہ بیگم اُن کی بات پر منہ پہ ہاتھ رکھ کر دیکھتی رہ گئ تھی جب سجاد ملک کا چہرہ غُصے سے سرخ پڑگیا تھا مگر اسیر ایسے کھڑا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہوا

“تمہاری گُستاخی کی سزا بہت خطرناک ہوسکتی ہے اسمارہ۔۔۔۔سجاد ملک نے اُٹھ کر اُن کو گھور کر کہا تھا

“زیادہ سے زیادہ کیا سزا ہوگی؟”نوریز ملک کے کان میری خلاف بھریں گے نہ تو کرلے جو کچھ آپ نے کرنا ہے مگر اب میں مزید خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرسکتی۔۔۔اسمارہ بیگم اپنے آنسوؤ صاف کرتیں مضبوط لہجے میں اُن سے بولی

تم

آج کے لیے اِتنا کافی ہے باقی حویلی میں یہی سے شروع کیجئے گا”یہ ہوسپٹل ہے ہمارا گاؤں نہیں اور یہاں لاؤڈلی بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔۔۔اسیر نے اُن کی آواز کو تیز ہوتا محسوس کیا تو بلاآخر ٹوک دیا تھا جس پر سجاد ملک نے خون آشام نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا”کبھی کبھار اب اُن کو اسیر پر بہت غُصہ آجاتا تھا مگر بڑا بیٹے ہونے کی وجہ سے وہ مجبوراً خاموش ہوجاتے تھے اُس سے کچھ کہتے نہیں تھے اگر کہہ بھی دیتے تو اسیر پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا تھا”اسیر کی مثال اُن لوگوں جیسی تھی جو سُنتا سب کی تھا مگر کرتا بس اپنی تھا

“اسیر تمہیں تمہارے چچا یاد کررہے ہیں۔۔۔۔صنم بیگم بھی وہاں آئی تو اسیر کو دیکھ کر بولیں

“رُکو پہلے میں مل آتا ہوں۔۔۔سجاد ملک نے اسیر کو اُٹھتا دیکھا تو کہا

“انہوں نے بس اسیر کو آنے کا کہا تھا۔۔۔صنم بیگم نے آہستگی سے کہا تو سجاد ملک نے غُصیلی نظروں سے اُن کو دیکھا اور واپس اپنی جگہ بیٹھ گئے”لیکن اسیر ایک نظر اُن پر ڈالتا نوریز ملک کے وارڈ کی طرف چلاگیا۔۔

“آپ نے یاد کیا؟اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا

“ہممم۔۔۔”میں تو اب ایک ماہ تک ناکارہ بیڈ پر رہوں گا پر تمہیں ایک کام سونپنا چاہتا ہوں۔۔۔۔نوریز ملک دیوار پر اپنی نظریں جمائے اُس سے بولے

“کیسا کام؟اسیر نے پوچھا

“تمہیں پتا ہے فراز کے خلاف کونسا وکیل تھا؟نوریز ملک نے پوچھا

“ہمیں نہیں پتا۔۔۔اسیر نے بتایا

“سوہان تھی۔۔۔نوریز ملک کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر تکیے میں جذب ہوا

“آپ کی بیٹی؟اسیر نے جانچتی نظروں سے دیکھ کر پوچھا”سالوں بعد اُس نے نوریز ملک کے منہ سے یہ نام سُنا تھا

“ہاں میری بیٹی جنہوں نے مجھے بتایا کہ میرا اُن پر کوئی حق نہیں۔۔۔۔نوریز ملک دُکھی لہجے میں بولے

“تو کیا آپ اپنا حق سمجھتے ہیں اُن پر؟”مگر کس حیثیت سے؟”ڈاکٹر نے تو کہا تھا آپ کو ٹینشن سے دور رکھا جائے مگر جب آپ نے خود شروع کیا ہے تو میں کہہ دیتا ہوں”اُن پر آپ کا کوئی حق نہیں اگر اتفاقً ملاقات آپ لوگوں کی ہوگئ تو ایسے اتفاق روز ہوا کرتے ہیں پھر ہم بھول بھی جاتے ہیں”آپ بھی یہ بھول جانا۔۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا

“وہ میری بیٹیاں ہیں۔۔۔نوریز ملک کو جیسے اسیر کی بات پسند نہیں آئی مگر اُن کی بات پر اسیر کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی جس کو دیکھ کر وہ شرمندہ سے ہوگئے تھے

“بیٹیاں کیا ہوتیں ہیں آپ کو پتا بھی ہے؟”بیٹیاں باپ کے لیے باعثِ سکون ہوتیں ہیں”دل کی راحت ہوتی ہے”اور آپ نے اللہ کی رحمت کو زحمت سمجھ کر ٹھکرے کھانے پر مجبور کردیا تھا اب اگر وہ اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ چُکیں ہیں کچھ کرچُکی ہیں تو آپ اُن کی زندگی میں مُداخلت نہ کرے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا

“وہ اکیلے کچھ بھی نہیں

“وہ اکیلے کچھ ہیں یا نہیں یہ آپ نہ سوچے پلیز کیونکہ جب سوچنا تھا تب آپ نے نہیں سوچا اور اب آپ کی باتوں سے ہر کوئی ہنس سکتا ہے اور کچھ نہیں کرسکتا اِس لیے کسی کو خود پر ہنسنے کا موقع نہ دے۔۔۔اسیر نے اُن کو ٹوک دیا تھا”

میں جانتا ہوں میں نے جو کیا وہ غلط تھا مگر میں اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔نوریز ملک پُختگی سے بولیں

“باہر سب کو لگ رہا ہے آپ فراز کی فکر میں نڈھال ہیں مگر یہاں کہانی کچھ اور ہے اور ازالہ کیسے کرینگے آپ؟”کیا آپ کا ازالہ اُن کا کل لوٹا سکتا ہے؟”آپ کو کیا لگتا ہے آپ کے ازالے سے سب ٹھیک ہوجائے گا؟”آپ جانتے کیا ہیں کہ اِن سالوں میں اُنہوں نے کیا کچھ سہا ہوگا؟اسیر بولنے پر آیا تو بولتا چلاگیا تھا

“اسیر جو تم مجھے آئینہ دیکھانا چاہتے ہو وہ مت دیکھاؤ کیونکہ مجھے اپنا چہرہ بہت بھیانک نظر آرہا ہے۔۔۔نوریز ملک ٹوٹے لہجے میں بولے

“آپ کو تو بس اپنا چہرہ بھیانک نظر آرہا ہے مگر کسی نے یہ بھیانک زندگی گُزاری ہے۔۔۔”بیس سال بعد اپنے گُناہ کی معافی مانگنا سراسر بیوقوف ہے”پتا ہے کیوں؟”کیونکہ آپ لوگوں کو ملانے والی قدرت ہے آپ کو اپنی غلطی کا احساس خود سے نہیں ہوا تھا”بلکہ اُن کو اُونچی مقام پر دیکھ کر آپ کو پچھتاوا اور رنجیدگی نے آ گھیرا تھا”کیا آپ کو یاد ہے بیس سال پہلے ایک ہسپتال میں اُن کے مطلق آپ نے کیا کہا تھا؟”اسیر نے سنجیدگی سے کہنے کے بعد آخر میں اُن سے پوچھا تو نوریز ملک کا چہرہ شرم کے مارے جُھک گیا تھا۔۔

“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اِن دونوں کا میں نے کرنا بھی کیا ہے خوامخواہ میرے سر پہ ناچے گی یہ دونوں آپ ٹھیک کہتی ہیں یہ بیٹیاں کسی کام کی نہیں ہوتی۔۔””

یہ الفاط اپنے وہ کیسے بھول سکتے تھے؟”اب تو شاید قیامت تک یہ الفاظ اُن کا پیچھا نہیں چھوڑنے والے تھے

“تمہیں ایک کام دینا چاہتا ہوں”جانتا ہوں تم اپنے علاوہ کسی اور کا کام نہیں کرتے مگر میری مجبوری ہے تمہارے علاوہ مجھے کسی اور پر یقین نہیں۔۔۔۔نوریز ملک اصل بات پر آئے

کیسا کام؟اسیر نے پوچھا

“مجھے یہ پتا کرکے دو کہ کیا وہ تینوں بہنیں اپنی ماں کے ساتھ یہی اسلام آباد میں رہتیں ہیں؟”اگر ہاں تو کس ڈیفنس میں اُن کا گھر ہے؟”یا وہ اب تک کس حال میں زندگی گُزارتیں آئیں ہیں۔۔۔۔نوریز ملک آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولے

“ہم پتا کروائے گے مگر اِس سے کیا ہوگا؟اسیر نے جاننا چاہا

“میں اپنے ٹھیک ہونے کے بعد ایک دن بھی ضائع نہیں کروں گا اور اُن کو گاؤں لے آؤں گا۔۔۔نوریز ملک پُختگی سے بولے

“وہ آجائیں گیں؟اسیر نے پوچھا

“اُن کو آنا ہوگا۔۔۔نوریز ملک نے کہا

“چچی اسلحان کیا وہ یہ ہونے دینگی؟”اور سوہان کے بارے میں جیسا آپ نے بتایا کیا وہ آئے گی؟”دو تو چھوٹی ہیں پر اُن میں سے جو آخری ہوگی ہمارا نہیں خیال وہ آپ کا چہرہ تک دیکھنا گوارہ کرے گی۔۔۔اسیر نے پرسوچ لہجے میں اُن سے کہا

“خُدارا اسیر اگر تم کوئی تسلی یا اُمید دِلانے والی باتیں نہیں کرسکتے تو ایسی نااُمید والی باتیں بھی نا کرو۔۔۔نوریز ملک اُس کی بات پر تڑپ کر بولے

“جس کو آپ نااُمید والی باتیں بول رہے ہیں”اُن کو ہم حقیقت کہتے ہیں”خیر ایک دو دن تک آپ کو اپنی بیٹیوں کے بارے میں ہر چیز پتا چل جائے گی۔۔۔۔اسیر نے سرجھٹک کر کہا تو نوریز ملک نے گہری سانس بھری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *