Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 41)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

چُپ کیوں ہوگئ ہو اب”کیا سانپ سونگھ لیا ہے؟اُس کو کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر فائقہ بیگم نے ایک بار پھر طنز کیا

“ایسی بات نہیں ہے”فاحا کردے گی کچن کا کام اور سارا نقشہ ہی بدل دے گی کچن کا آپ پریشان نہ ہو۔ ۔۔فاحا نے جلدی سے کہا

“ہونہہ پریشان ہوتی ہے میری جوتی فائقہ بیگم ہوں میں اور ہاں تمہیں باورچی خانے کا نقشہ بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بس جو اور جتنا کہا جائے اُتنا کیا کرو زیادہ اپنی عقل استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔فائقہ بیگم نے سرجھٹک کر کہا

“باورچی خانہ کس طرف ہے؟فاحا نے پوچھا

“سامنے سے ٹرن لو اور ہاں سارا کام تم نے اکیلے کرنا ہے حویلی کی کوئی بھی ملازمہ مدد کو نہیں آئے گی اور اب جلدی سے تم رات کے کھانے کی تیار کرو مرد لوگ سب آتے ہوگے”اُن کو انتظار کرنا پسند نہیں ہوتا۔ ۔۔فائقہ بیگم نے کہا تو فاحا اپنا سراثبات میں ہلانے لگی۔ “اور فائقہ بیگم وہاں یہ سوچ کر کھڑی رہی کہ فاحا کام چوری کا مُظاہرہ ضرور کرے گی پر ایسا کچھ نہیں ہوا جس پر وہ اندر ہی اندر جل کر رہ گئ تھیں۔ ۔”اُن سے بے نیاز فاحا نے اپنا رُخ باورچی خانے کی طرف کیا تھا”جہاں تین سے چار ملازمائے موجود تھیں” کوئی باورچی خانے کی صفائی کررہی تھی کوئی برتن دھونے میں مصروف تھیں”باقی کی دونوں سبزیاں کاٹنے میں مصروف تھیں اِس میں فاحا کو اپنے لائق کوئی کام نظر نہیں آیا تھا۔ ۔

“آپ کو کچھ چاہیے تھا تو ہمیں بتادیتیں؟اُن کی نظریں ہاتھوں کو مسلتی فاحا پر پڑی تو کہا

“وہ میں

“تم سب کی سب یہاں سے جاؤ آج کا سارا کام یہ اکیلے کرے گی۔۔۔فاحا کے کچھ بھی کہنے سے پہلے فائقہ بیگم باورچی خانے میں داخل ہوتیں بولیں تو وہ چاروں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگی۔۔”اور فاحا یہ سوچنے لگی کہ آج وہ آرام سے جو چاہے کرسکتی ہے کیونکہ کچن اُس کی سوچ سے بھی زیادہ بڑا تھا۔۔

“اِتنی صفائی تو انسٹی ٹیوٹ کے باورچی خانے میں نہیں ہوتی جتنی چمک یہاں کی ہر ایک چیز رہی ہے”سہی کہتے ہیں لوگ کہ پیسا بولتا ہے۔۔فاحا اپنی سوچو کو تانے بانے جوڑنے لگی۔

“پر بی بی جی

“پر ور کرنے کا تم لوگوں کا کوئی حق نہیں ہے اِس لیے ابھی جاؤ یہاں سے باورچی خانے کے علاوہ حویلی میں اور بھی بہت سے کام ہوتے ہیں۔۔فائقہ بیگم اُن کی بات درمیان میں کاٹ کر سخت لہجے میں گویا ہوئیں تو وہ ہمدرد بھری نظروں سے پرسکون کھڑی فاحا کو دیکھ کر باری باری چلے گئے۔۔

“کوئی بھی چلاکی مت کرنا اور جلدی سے اب سارا پھیلاوا سمیٹو وقت کم ہے تمہارے پاس۔۔۔فائقہ بیگم نے اپنی توپوں کا رُخ فاحا کی طرف کیا

“ایسے ٹاسک فاحا کو روز ملتے ہیں اور پتا ہے کیا ہمیں مشکل سے مشکل چیز دس سے بیس منٹ تک پکانی ہوتیں تھیں۔۔۔فاحا نے فائقہ بیگم کی بات پر پرجوش ہوکر بتایا تو وہ عجیب نظروں سے فاحا کو دیکھنے لگیں اُن کو فاحا کا ایسے نارمل ری ایکٹ کرنا سمجھ میں نہیں آرہا تھا”پر اُن کو کون بتاتا کہ اگر وہ یہ کام میشا کو دیتیں تو اُن کو وہی سب دیکھنا پڑتا جن کی اُن کو خُواہش تھی۔وہ یہ نہیں جانتیں تھیں کہ انجانے میں اُنہوں نے کیسے فاحا کی خُواہش کو پورا کردیا تھا۔۔

“زبان کم اور ہاتھ زیادہ چلاؤ۔۔۔فائقہ بیگم اُس کو گھور کر کہتیں خود وہاں سے چلی گئ تو فاحا اِرد گرد کا جائزہ لیتی یہ سوچنے لگی کہ شروعات کہاں سے کریں؟

“ویسے آج تو فاحا کی سالوں پُرانی خُواہش پوری ہوگئ کہ ایک بڑا سا کچن ہو جہاں وہ اکیلی کھڑی ہوکر مختلف قسم کے لوازمات بنائے۔ ۔۔فاحا پرجوش انداز میں خود سے باتیں کرتی سنک کی طرف آئی جہاں مُلازمہ نے برتن آدھے دھو کر رکھے تھے۔”اُن کو دھونے کے بعد اُس نے کھانا پکانے کا سوچا پر اُس کو خیال آیا کہ فائقہ بیگم نے تو اُس کو بتایا نہیں کہ رات کے کھانے میں بنانا کیا ہے؟”اِسی بات کو سوچتی وہ فریج کی طرف آئی اور اُس کو کھول کر دیکھا جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔

“مچھلی گوشت”مرغی ایسے کرتی ہوں سب پکادیتی ہوں”اگر کسی نے اعتراض اُٹھایا تو کہہ دوں گی کہ فاحا کو اِنہوں نے کہا تھا کہ یہاں کے لوگ الگ الگ قسم کے لوازمات کھانا پسند کرتے ہیں” تبھی اُس نے یہ سب پکائی۔ ۔۔فاحا خود کو مطمئن کرتی کام میں جُت گئ اُس نے سوچ لیا تھا کہ خود کو کیسے بچانا تھا ویسے بھی ایک طرح سے وہ سہی تو تھی کونسا فائقہ بیگم نے اُس کو بتایا کہ کھانے میں کیا پکانا ہے تو ظاہر ہے نہ بتانے کی صورت میں اُس نے اپنی مرضی ہی کرنی تھی۔ ۔۔

“السلام علیکم ۔۔۔۔اسیر ملک آج دو دن بعد حویلی میں داخل ہوا تھا کیونکہ اقدس کو اُس کے اسکول چھوڑ آنے کے بعد اُس کو اپنے کسی ضرور کام کی وجہ سے شہر میں ٹھیرنا پڑگیا تھا”لیکن اِس دوران وہ حویلی سے غافل نہیں تھا ہر بات اُس کے علم میں موجود ہوتی تھی” اُس کو یہ بھی پتا تھا کہ نوریز ملک اپنی بیٹیوں سمیت حویلی میں آگیا تھا۔

وعلیکم السلام سردار جی آپ کے لیے پانی لاؤں؟اسیر کو حویلی میں دیکھ کر سب لوگ الرٹ ہوئے تھے

“ہاں ہمار

آآہ آآ

آپو

“اسیر ابھی کچھ کہنے والا تھا جب ایک چیخ نے اُس کا دھیان اپنی طرف کھینچا تھا”اور یہ آواز وہ اچھے سے پہچان گیا تھا۔

“فاحا؟اسیر نے بے ساختہ اُس کا نام لیا تھا

“باورچی خانے میں ہیں وہ۔۔ایک مُلازمہ نے بتایا تو اسیر حیرت سے اُس کو دیکھ کر جلدی سے کچن کی طرف بڑھ گیا تھا”جہاں فاحا نے چیخ چیخ کر اپنا گلا خُشک کردیا تھا۔

“کیا ہوا ہے آپ کو؟اسیر ایک ہی جست میں اُس تک پہنچ کر پوچھنے لگا تو فاحا بے یقین نظروں سے اسیر کو دیکھنے لگی اُس کو توقع نہ تھی کہ یہاں اُس کا سامنا اسیر سے بھی ہوسکتا ہے

“وہ

فاحا کی زبان تالو سے چپک گئ تھی۔

“وہ کیا ہمیں بتائے کیوں چیخ رہیں تھیں اِتنا زور سے؟اسیر نے دوبارہ سے پوچھا اِس بار اُس کے لہجے میں سختی کا عنصر صاف محسوس کیا جاسکتا تھا”جبھی فاحا نے سوں سوں کرتے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا جو جل گیا تھا۔۔

“اُس کا جلا ہوا ہاتھ پھر اپنے اور اُس کے علاوہ باورچی خانے میں کسی اور کو ناپاکر اسیر کے دماغ کی رگیں غُصے سے تن گئ تھیں۔۔۔

“نورا

“راشدہ

شاہدہ

کہاں ہو؟”سب کے سب۔

“اسیر نے دھاڑنے والے انداز میں سب مُلازماؤں کو آواز دی تو اُس کا ایسا انداز دیکھ کر فاحا کا حلق تک خُشک ہوگیا تھا۔۔۔

“جبکہ وہ لوگ ایک قطار میں اسیر کے آگے سرجُھکا کر کھڑے ہوگئے تھے۔

“تم لوگوں کو یہاں کیوں رکھا گیا ہے؟اسیر نے باری باری سخت نگاہ سے ہر ایک کو دیکھا

“کچن کے کاموں کے لیے۔۔۔۔اُنہوں نے بتایا

“تو باورچی خانے میں اِن کو اکیلا چھوڑ کر تم سب کہاں مرے ہوئے تھے؟اسیر کا لہجہ سخت سے سخت ہوگیا تھا۔

“سردار جی ہمیں تو فاحا بی بی نے کہا تھا۔۔ایک نے ہمت کا مُظاہرہ کیا”تو فاحا حیرت سے اُن کو دیکھنے لگی وہ جان نہ پائی کہ ملازمہ نے سارا الزام اُس پر کیوں ڈال دیا

“میں نے تو

“خاموش۔۔،فاحا اپنی صفائی میں کچھ کہنے لگی تھی”جبکہ اسیر نے اُس کو ٹوک کر سخت نگاہوں سے دیکھا تو اسیر کو دیکھتی وہ اپنا سرجُھکا گئ تھی۔۔

نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے

یقین کامل نہیں لیکن، گماں ہے پیار کرتا ہے

اسے معلوم ہے شاید میرا دل ہے نشانے پر

لبوں سے کچھ نہیں کہتا ، نظر سے وار کرتا ہے

“آج کے بعد یہ ہمیں یہاں نظر نہیں آنی چاہیے۔ ۔”اور آپ آئے ہمارے ساتھ۔ ۔اُن کو حُکم سُناتا فاحا کا دوسرا ہاتھ اپنی آہنی گرفت میں لیے اسیر اُس کو لاؤنج میں لایا تھا جہاں فائقہ بیگم اور اسمارہ بیگم پہلے سے موجود تھیں۔

“یہ باورچی خانے میں تھی آپ میں سے کسی نے روکا کیوں نہیں؟”ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے اور آپ لوگوں نے حویلی کے کاموں میں لگادیا۔۔۔۔اسیر جانتا تھا فاحا پہلے ہی دن ایسا کچھ نہ کرتی ضرور اُس کو کسی نے مجبور کیا ہوگا تبھی بے لچک انداز میں اُن سے بولا

“میرا ہاتھ نہیں ہے اِس میں اپنی ماں کو یہ آنکھیں دیکھاؤ۔۔اسمارہ بیگم نے سرجھٹک کر کہا

“اماں حضور۔اسیر نے جواب طلب نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا جو خُجلت کا شکار ہوئی تھی۔”اِس درمیان فاحا بلکل خاموش کھڑی تھی۔

“اپنی مرضی سے گئ تھی یہ۔۔۔فائقہ بیگم نے سنبھل کر کہا تو اسیر نے فاحا کو دیکھا جس کا ہاتھ ابھی تک اُس کے ہاتھ میں قید تھا۔

“صبح کو یہ میری وجہ سے گِرگئ تھیں تو ابھی سزا کے طور پر کہا کہ دو دن تک کچن کا سارا کام میرے ذمے ہوگا۔۔۔اسیر کے دیکھنے پر فاحا نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا تو فائقہ بیگم اپنی جگہ پہلو بدلتی رہ گئ تھیں وہ سمجھی تھی فاحا بات کو گول مول کردے گی”مگر اُس نے تو سب کچھ بتادیا تھا۔”جس کو جان کر اسیر کو اپنی ماں پر افسوس ہوا

“یہ برنال۔۔۔مُلازمہ برنال لائی تو فاحا کے لینے سے پہلے اسیر نے اُس کے ہاتھ سے لی

“آپ سے بعد میں بات ہوگی۔۔فائقہ بیگم کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہتا وہ فاحا کا جلا ہوا ہاتھ دیکھنے لگا

“میں خود کرلوں گی۔۔۔فاحا نے جِھجھک کر کہا

“ہم کردیتے ہیں”یہ بتائے آپ کی ڈون سسٹرز کہاں ہیں؟”جن کے پیچھے اکیس ملکوں کی پولیس پڑی ہے؟اسیر کے لہجے میں آخری طنز وہ واضع جان گئ تھی جس پر اُس کا منہ بھی بن گیا تھا”مگر کہا کچھ نہیں بس اُس کو دیکھنے لگی جو بڑی توجہ سے اُس کے ہاتھ پر برنال لگا رہا تھا۔

“نظر رکھیے گا دونوں پر کیونکہ اسیر ملک کی ایسی توجہ میں دوسری بار دیکھ رہی ہوں”ایسی فکر وہ بس اقدس کی کرتا ہے جو اُس کی بیٹی ہے پر اِس لڑکی کے لیے کیوں پریشان ہورہا ہے؟”یہ سوچنے والی بات ہے۔۔۔اسمارہ بیگم استہزائیہ مسکراہٹ چہرے پر سجاتی فائقہ بیگم سے بولیں جو خود جلتی نگاہوں سے سامنے والا منظر دیکھ رہیں تھیں”اُن کو یقین نہیں آیا کہ اسیر بھی کچھ ایسا کرسکتا ہے۔

“تمہیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے”کہاں میرا بیٹا اور کہاں یہ چھٹانگ بھر کی لڑکی۔۔۔فائقہ بیگم نے اپنے دل کا غبار اسمارہ بیگم پر نکالنا چاہا

“اب آرام کرنا اور یہی لگاتیں رہنا آرام ملے گا۔۔اسیر برنال لگانے کے بعد اُس سے بولا تو فاحا نے سر کو جنبش دے کر اُس کے ہاتھ سے برنال لینے لگی”اور اسیر یہ سوچنے لگ پڑا کہ کہی وہ اپنی زبان شہر تو نہیں چھوڑ آئی۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

“میں بھی آرہی تھی نیچے تم بتاؤ کیا ہوا تمہیں۔۔۔فاحا ابھی دروازہ کھول کر کمرے میں آنے لگی تھی”جب چہرے پر فیشل رگڑتی میشا نے اُس کو دیکھ کر بتانے کے بعد پوچھا

“کچھ نہیں بس تھوڑا ہاتھ جل گیا تھا اب ٹھیک ہے۔۔”اُنہوں نے برنال لگادی۔۔۔فاحا نے بیحد آہستہ آواز میں کہا

“اُنہوں نے؟میشا نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا پھر اچانک اُس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا

“اسیر بشیر کی بات تو نہیں کررہی؟میشا نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو فاحا جو اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی سراُٹھاکر تاسف سے میشا کو دیکھا

“اُن کا نام صرف اسیر ہے تو آپ زرا احترام سے اُن کا نام لیا کریں بڑے ہیں وہ ہم سے۔۔۔”فاحا نے اُس کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تو میشا نے آنکھیں گُھمائی

“اندر آؤ اور مجھے بتاؤ کہ کچن میں کیا کرنے گئ تھی تم؟میشا اُس کو کمرے میں آنے کا کہتی پوچھنے لگی تو فاحا نے اپنے اور فائقہ بیگم کے درمیان ہونے والی ساری بات اُس کے گوش گُزار کردی جس کو سن کر میشا کو غُصہ آیا

“تمہیں کیا ضرورت تھی اُن کے حُکم کی پیروی کرنے کی۔۔۔میشا نے کڑے چتونوں نے اُس کو گھور کر سوال کیا

“میں اور کیا کرتی؟فاحا منمنائی

“تم کچھ نہ کرتی میرے پاس آتی میں دیکھ لیتی سب۔۔میشا اپنا چہرہ صاف کیے جواباً بولی

“مجھے کیا تھا پتا کہ میرا ہاتھ جل جائے گا۔۔۔فاحا نے منہ بناکر کہا

“دیکھو فاحا وہ چیزیں نہ کرو جس سے اِن کو تسکین حاصل ہوتی ہے”تمہیں کیا سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ لوگ ہمیں نیچا دِکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔میشا نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا

“سوری۔۔۔فاحا سے کچھ اور نہ بن پایا تو سوری بول دیا

“تمہارے سوری کا میں نے اچار نہیں ڈالنا “خیر سائیڈ ٹیبل پر تمہارا موبائیل اور میری یو ایس بی پڑی ہے۔۔وہ اُٹھا کر موبائیل میں جو ڈاکیومینٹس ہیں وہ یو ایس بی میں موو کرو۔۔”میں تب تک نہانے جارہی ہوں۔۔۔میشا نے سرجھٹک کر اُس کو دیکھ کر کہا

“ہاں میں کرتی ہوں آپ جائے۔۔۔فاحا نے کہا تو میشا واشروم کی طرف بڑھ گئ اور فاحا نے ایک ہاتھ سے موبائیل اور یو ایس بی لیکر بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔”پر جب یو ایس بی اُس نے موبائیل میں کنیکٹ کرنا چاہا تو وہ نہیں ہوپایا شاید ایک ہاتھ کو استعمال میں لانے کی وجہ سے اُس نے سہی نہیں کیا تھا۔

“آپو آپ کی یو ایس بی خراب ہے کنیکٹ نہیں ہورہی۔۔۔فاحا نے تنگ ہوکر میشا سے کہا

“یو ایس بی سہی ہے بلکل اور جو کہا ہے وہ کرو بہانے مت کرو۔۔۔دوسری طرف میشا نے اُونچی آواز میں اُس سے کہا

“کسی اور سے مدد لیتی ہوں۔۔۔فاحا خود سے بڑبڑاتی دونوں چیزیں لیکر کمرے سے باہر نکل گئ تو تصادم اسیر سے ہوا

“آپ کو ایک جگہ چین نہیں کیا؟اسیر نے طنز پوچھا

“ضروری کام ہے اور ایک کمرے میں قید بھی تو نہیں رہ سکتی۔۔۔فاحا نے جھٹ سے کہا

“کیسا کام؟اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا

“یہ یو ایس بی موبائیل میں کنیکٹ نہیں ہورہی”فاحا کو ضروری کام ہے ڈاکیومنٹس کا۔فاحا نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیے بتایا تو اسیر ایک نظر اُس پر ڈالتا وہ چیزیں اُس کے ہاتھ سے لی

“لکھا تو آرہا ہے یو ایس بی کنیکٹڈ۔۔اسیر ہوم اسکرین کو دیکھتا اُس سے بولا

“لکھا تو آرہا ہے پر مائے فائلز میں ظاہر نہیں ہورہا مطلب اگر ہمیں کچھ موو آن ہو تو کیسے کریں؟فاحا نے تفصیل سے اُس کو بتایا

“بندہ مائے فائلز کو اپڈیٹ کرلیتا ہے۔۔۔اُس کا موبائل چیک کرنے کے بعد سیر نے طنز کہا

“مائے فائلز اپڈیٹ بھی ہوتا ہے کیا؟جواب میں فاحا نے بھرپور حیرت کا مُظاہرہ کیا تو اسیر اُس کو دیکھتا رہ گیا

“پورا موبائیل اپڈیٹ ہوتا ہے۔۔۔اسیر نے سرجھٹک کر بتایا

“موبائل کا تو پتا ہے پر مائے فائلز اکیلا اپڈیٹ ہوتا ہے یہ اب پتا لگا ہے۔۔۔فاحا نے جلدی سے بتایا

“ہمارے پیچھے آئے۔۔۔اسیر نے کہا اور اپنے قدم کمرے کی طرف بڑھائے

“وہاں سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر نارنجی رنگ کی یو ایس بی پڑی ہوگی وہ ہمیں اُٹھا کر دیں۔۔۔اپنے کمرے میں آکر اسیر نے اُس سے کہا

یہاں تو کوئی نارنجی رنگ کی یو ایس بی نہیں پڑی۔۔فاحا ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی اُس کی چیزوں کو دیکھتی اسیر سے بولی

“ہمیں وہ یہاں دور سے نظر آرہی ہے پر آپ کو نہیں آرہی نظر؟اسیر نے خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو فاحا نے پھر سے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی ہر چیز کا جائزہ لیا مگر اُس کو نارنجی رنگ کی یو ایس بی کہی بھی نظر نہیں آئی جس سے وہ پریشان ہوئی

“ہائے اللہ کہی فاحا نابینا تو نہیں ہوگئ۔۔۔فاحا کو اپنی بینائی پر شک ہونے لگا

“نارنجی رنگ کی نہیں ہے کوئی اور ہے۔۔۔فاحا نے آہستہ آواز میں اُس کو بتایا تو اسیر خود چل کر وہاں آیا اور ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی یو ایس بی اُٹھاکر اُس کے سامنے کی۔

“یہ آپ کو نظر نہیں آئی؟اسیر نے یو ایس بی اُس کے سامنے لہراائی پھر پوچھا تو اُس کے ہاتھ میں موجود یو ایس بی دیکھ کر فاحا آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورنے لگی

یہ یو ایس بی نارنجی نہیں گُلابی رنگ کی ہے فاحا کو لگا تھا کہ اُس کی نظر کمزور ہوگئ ہے ہمیں کیا پتا تھا کہ آپ کلر بلائینڈ ہیں۔۔۔فاحا نے کہا تو اُس کی بات سن کر اسیر چونک کر اپنے ہاتھ میں موجود یو ایس بی کو دیکھنے لگا جو بقول فاحا کے گُلابی رنگ کی تھی اور اُس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ گُلابی رنگ کی تھی بس اسیر کو کلرز کی پہچان نہیں تھی۔۔

“یو ایس بی تو ہے نہ کلرز سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔اسیر کچھ توقع بعد بولا

“اگر فرق نہیں پڑتا تو آپ سیدھا یہ کہتے نہ کہ فاحا ڈریسنگ ٹیبل سے یو ایس بی اُٹھا کر دو”یہ کیوں کہا کہ نارنجی رنگ کی یو ایس بی اُٹھا کر دو”اب مجھے تو یہی لگا کہ یو ایس بی کا انبار ہوگا جس میں سے مجھے بس ایک نارنجی کلر تلاش کرنا ہے۔۔۔فاحا نان سٹاپ بولتی گئ اور اسیر بس ضبط سے اُس کو دیکھتا رہ گیا تھا۔

“آپ کا کام کرنا چاہیے تاکہ یہاں سے آپ اپنی تشریف لے جائے۔۔۔اسیر نے جیسے بات کو ختم کرنا چاہا

“ہاں تو میں یہاں کونسا آپ کے ساتھ گپے ہانکنے لگی ہوں۔۔۔فاحا نے سرجھٹک کر کہا

“آپ کی یو ایس بی موجود ڈاکیومنٹس فون میں ڈالنے ہیں یا فون کے یو ایس بی میں؟مائے فائلز اپڈیٹ کرنے کے بعد اسیر نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“یو ایس بی میں موو کرنے ہیں۔۔فاحا نے بتایا تو اسیر ایسے کرنے لگا جب اُس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی

“کون؟اسیر نے بنا دیکھے پوچھا تبھی کوئی اور آندھی طوفان کی طرح اُس کے کمرے میں آیا

“اسیر توں یہاں بیٹھا ہے اور نیچے ایک قیامت برپا ہوگئ ہے۔۔۔فائقہ بیگم ہانپتی آواز میں اسیر سے بولی تو وہ الرٹ ہوا اور فاحا بھی فائقہ بیگم کو دیکھنے لگی۔

“کیا ہوا ہے؟اسیر سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر پوچھا”فاحا بھی سارا معاملہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگی جو اُس کی سمجھ میں آنا تو تھا نہیں

“نیچے دیبا آئی ہوئی ہے۔۔۔”کلموہی جانے کہاں سے منہ کالا کرنے کے بعد آئی ہے اور تم میری بات کان کھول کر سُن لو کہ خبردار جو کسی کے بھی کہنے پر یہاں رہنے دیا بھی تو۔۔۔۔۔۔فائقہ بیگم نے دو ٹوک انداز میں کہتے جیسے اُس کے سر پہ بم گِرایا تھا جس پر وہ بغیر کوئی اور بات سُنتا باہر کی طرف لپکا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *