Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 19)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

آپ کے پاس عقل ہے؟اسیر نے بڑے تحمل کا مُظاہرہ کیا

“عقل؟اپنے سوال کے جواب میں فاحا کو اسیر کا یہ سوال سمجھ نہیں آیا

آپ کی حیرانگی سے اندازہ ہورہا ہے جیسے آپ نے یہ لفظ آج پہلی بار سُنا ہے۔۔۔اسیر نے اُس پر طنز کیا

“آپ نے کبھی عقل کو دیکھا ہے؟جواب میں فاحا نے اُس کو دیکھ کر بڑے سنجیدہ انداز میں پوچھا

عقل کو دیکھا؟اِس بار اسیر تھوڑا حیران ہوا

“آپ کی حیرانگی سے اندازہ ہورہا ہے جیسے ساری عمر آپ بھی عقل دیکھنے سے محروم رہے ہیں۔۔فاحا نے پل بھر میں حساب بے باک کیا تو اسیر نے دانت کچکچاکر اُس کو دیکھا

آپ اب کوئی بات مت کیجئے گا ورنہ چلتی گاڑی سے آپ کو باہر پھینک دوں گا۔۔۔اسیر نے اُس کو وارن کیا

لاوارث نہیں ہوں میں۔۔۔فاحا کو اُس کی بات پسند نہیں آئی

چُپ ہوجائے پلیز۔۔۔اسیر کی بس ہاتھ جوڑنے کی کسر رہ گئ تھی۔۔

“اللہ نے زبان بولنے کے لیے دی ہے مگر پتا نہیں کیوں ہر کوئی خاموش رہنے کا کہتا ہے۔۔۔فاحا منہ بناتی آہستہ سے بڑبڑائی تھی۔۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

کلاس روم میں موجود ہر اسٹوڈنت پروفیسر کا لیکچر سُننے میں مصروف تھا مگر ایک عاشر تھا جس کی نظریں بار بار لالی پر بھٹک رہی تھی جو اپنے چہرے پہ گِرتی آوار لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑسنے میں تھی۔۔”یہی وجہ تھی وہ اپنا دھیان لیکچر میں نہیں لگا پارہا تھا۔۔۔

عاشر؟؟؟پروفیسر نے شاید اُس کی عدم دلچسپی محسوس کرلی تبھی اُس کو مُخاطب کیا”مگر عاشر کی طرف سے اُن کو کوئی جواب نہیں ملا

“عاشر۔۔۔۔۔اِس بار پروفیسر نے پین اُس کی طرف پھینکی تو عاشر ہوش میں آیا جبکہ کلاس میں ہلکی کھی کھی کی آواز پر عاشر خجلت کا شکار ہوتا اُٹھ کھڑا ہوا

جی پروفیسر؟عاشر اُن کی طرف متوجہ ہوا

“میں کیا پڑھا رہا ہوں؟اُنہوں نے سنجیدگی سے پوچھا

آپ کیا پڑھا رہے ہیں؟عاشر نے اُلٹا اُن سے سوال کیا تو کلاس میں موجود اسٹوڈنٹس نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا تھا۔۔۔

سائلنس اور آپ۔۔۔پروفیسر ایک سخت نظر پورے کلاس میں ڈال کر عاشر کو دیکھنے لگے جو اپنے کان کی لو کھجانے میں تھا

جی۔۔۔۔عاشر نے فرمانبرداری سے کہا تو پروفیسر تپ اُٹھا

آپ باہر جائے۔۔۔پروفیسر نے اُس کو باہر کا راستہ دیکھایا

باہر مگر کیوں؟عاشر سمجھ نہ پایا

کلاس لینے میں انٹرسٹ تو آپ کا ہے نہیں تو برائے مہربانی فالتو میں بیٹھ کر ہم پر احسان نہ کریں۔۔پروفیسر نے کہا تو عاشر شرمندہ ہوتا لالی کو دیکھنے لگا جو اپنے کتاب پر نظریں جمائے بیٹھی تھی اُس کی بے نیازی عاشر کو پسند نہیں آئی تھی جبھی پروفیسر سے بنا کوئی بحث کیے وہ کلاس روم سے باہر چلاگیا تھا۔۔۔۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

تمہیں نوریز کے ساتھ جانا چاہیے تھا آخر کو چھوٹا بھائی ہے تمہارا اور تم نے اُس کو ایسے اکیلا کورٹ جانے دیا۔۔۔۔عروج بیگم افسوس سے سجاد ملک کو دیکھ کر بولیں جو سگار پہ سُگار پھونکے جارہے تھے۔۔

“آپ جانتی ہیں آج تک ہم نے کبھی کورٹ کچھری کے جھملوں کو نہیں دیکھا تو آج کیسے ہم وہاں جاتے آپ بھی ٹینشن نہ لو ایک دو پیشی کے بعد فراز رِہا ہوجائے گا۔۔۔”سجاد ملک نے اُن کی تسلی کروائی

ہمارا دل نہیں مانتا ہمیں تو بے چینی ہورہی ہے تم ایک مرتبہ اُس کو کال کرکے دیکھو اور پوچھو کہ کیا ہوا؟عروج بیگم کے چہرے پر پریشانی سے بھرپور تاثرات تھے

“ابھی ہوسکتا ہے موبائل بند ہو میں پھر کال پر آپ کی بات کرواؤں گا فکر نہیں کرو”آج تک کسی نے ملک خاندان کا کچھ نہیں بگاڑ پایا تو پھر اب کیسے کوئی جُرئت کرپائے گا۔۔۔سجاد ملک کے لہجے میں غرور تھا”جبھی اُن کا سیل فون رِنگ کرنے لگا تو وہ اُن کی طرف متوجہ ہوئے جہاں اُن کے لیے کوئی خاص خبر نہیں تھی۔۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

کہاں جارہی ہو؟سوہان نے ہوسپٹل سے میشا کو جاتا دیکھا تو سنجیدگی سے پوچھا

کیا مطلب کہاں جارہی ہو؟”تمہیں کیا واقعی میں نہیں پتا کہ میں کہاں جارہی ہوں؟میشا نے سپاٹ تاثرات چہرے پر سجائے اُس کو دیکھا

کام ڈاؤن میشو۔۔۔سوہان نے اُس کو پرسکون کرنا چاہا

سوہان تمہارے اندر اِن کی ایکٹنگ پر نرم گوشہ بحال ہوا ہوگا مگر میرے اندر اِن کے لیے کوئی احساسات نہیں ہیں اِن کے گاؤں کے آدمیوں نے حویلی میں خبر پہنچا دی ہوگی اِس لیے تم بھی آؤ میرے ساتھ یہاں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔میشا نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھا

ڈاکٹر کا تو ویٹ کرو تاکہ پتا تو چلے اُن کو ہوا کیا تھا۔۔۔سوہان نے تحمل کا مُظاہرہ کیا

جوان بیٹے کو سزائے موت ہوئی ہے تو ظاہر سی بات ہے صدمہ لگ پڑا ہے تمہیں خوشفہم ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے غم میں نڈھال ہوئے پڑے ہیں۔۔۔میشا نے طنز کہا

مجھے ایسی کوئی خوشفہمی نہیں ہے میں جو بھی کررہی ہوں”وہ محض ایک انسانیت کے طور پر کررہی ہوں۔۔۔سوہان نے اِس بار سنجیدگی سے کہا

تمہارے لیے بھی اچھا یہی ہے اور میں کیفے جارہی ہوں۔۔۔میشا نے آخر میں بتایا

تمہیں تو گھر جانا تھا۔۔سوہان نے یاد کروایا

مینجر کا فون آیا تھا۔۔”آج کیفے میں کام زیادہ ہے میری وہاں ضرورت ہے۔۔میشا نے اپنے جانے کی وجہ بتائی

ٹھیک ہے دھیان سے جانا ہے۔۔سوہان نے کہا

ہممم اور تم بھی یہاں سے جلدی نکلنا”درد اور تکلیفوں کے علاوہ اِس شخص نے ہمیں کچھ بھی نہیں دیا۔۔۔میشا اِتنا کہہ دینے کے بعد وہاں سے چلی گئ تو سوہان نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کی

❤Rimsha Hussain Novels❤

کیفے پہنچ تو گئ تھی میشا مگر آج اُس کا دل نہیں چاہا کوئی بھی کام کرنے کا جبھی وہ کیفے پاس ایک دُکان پر کھڑی تھی اُپر چھت پر کچھ آدمی پانی سے بھرے ڈرمز کو سائیڈ پر کرنے کی کوشش کررہے تھے”جس کے نیچے میشا کھڑی پر توجہ میشا نے نہیں دی تھی اور عین اُسی وقت اُن آدمیوں سے وہ ڈرم پھسلا تھا جس پر اُن دونوں کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئ تھی۔۔

“میڈم جی پرے ہٹ جاؤ۔۔۔۔ایک نے اُونچی آواز میں کہا تو میشا بنا کچھ سوچے سمجھے اُس آواز کو سن کر سائیڈ پر ہوئی تھی۔۔”جب ڈرم نیچے گِرا تو وہ شاک کی کیفیت میں کبھی اُس کو دیکھتی تو کبھی اُپر۔۔”

ہائے اللہ اگر میں نہ ہٹتی تو؟میشا سے آگے سوچا بھی نہیں گیا تھا اور بے ساختہ اُس کو جھرجھری سی آئی تھی اور وہاں لوگوں کا رش جمع ہوگیا تھا۔۔

“تم ٹھیک ہو بیٹا؟

“چوٹ تو نہیں آئی کہی؟

باری باری ہر کوئی اُس کو دیکھتا پوچھنے لگا

“کیا ہوا ہے یہاں؟آریان اپنی گاڑی پارکنگ ایریا میں پارک کرتا باہر آیا تو ایک جگہ رش دیکھ کر اُس نے آدمی سے پوچھا

وہ جی میشا ہے نہ اُس پر ڈرم گِرنے والا تھا

“واٹ ڈرم؟آدمی ابھی اِتنا بولا تھا جب فکرمندی سے آریان اُس کی بات کاٹ گیا تھا۔

ہاں وہ مگ

میں دیکھتا ہوں۔۔۔آریان آدمی کی مزید کچھ سُنے وہاں کی طرف بھاگنے والا انداز میں جانے لگا جہاں میشا موجود تھی”آریان وہاں آیا تو سب لوگ باری باری وہاں سے جانے لگے تھے جن کو نظرانداز کیے آریان میشا کی طرف آیا

“میں نے سُنا تم پر ڈِرم گِرنے والا تھا تم ٹھیک تو ہو؟اور کس نے بچایا تمہیں؟آریان فکرمندی سے اُس کو دیکھ کر بولا آج اُس کے لہجے میں شوخ پن نہیں تھا

کیا مطلب کس نے بچایا؟کسی فلم کی شوٹنگ نہیں ہورہی تھی جو میں وہاں کھڑی ہوتی خود پر ڈِرم گرنے کے انتظار میں ہوتی ڈِرم اب گِرا کے جب گِرا اور عین موقعے پر کوئی اور(ہیرو)بچانے آجاتا خود ہی سائیڈ پر ہوگئ تھی۔۔۔۔اپنا بازو چیک کرتی وہ میشا اُس کو گھور کر بتانے لگی”پہلے ہی آج اُس کے مزاج میں سردپن تھا اُپر سے آریان کا سوال اُس کو نامعقول لگا تھا۔۔۔

“کیا ہوا ہے؟آریان کو وہ روز کی نسبت میشا کچھ اُلجھی ہوئی نظر آئی

تمہیں کیا؟پھاڑ کھانے والے انداز

“تم اِتنا روڈ کیوں ہو؟”میں یہاں اِتنے پیار سے تم سے بات کررہا ہوں اور تمہارا اٹیٹیوڈ ہی ختم نہیں ہورہا۔۔۔آریان نے اِس بار جواباً گھور کر اُس سے بات کرنے لگا

“تم میرے کون ہوتے ہو جو میں تمہیں بتاتی پِھیروں کے میری زندگی میں کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں۔۔۔میشا کا انداز ہنوز اکتاہٹ سے بھرپور تھا

تو طے ہے تم پیدائشی بداخلاق اور”بے مروت لڑکی ہو۔۔آریان تاسف سے سر دائیں بائیں ہلاکر بولا تو میشا کے سر پہ لگی اور تلوؤ بُجھی

“یہ تم نے بداخلاق اور بے مروت کس کو بولا؟میشا اُس کی طرف پلٹ کر گھور کر بولی تو آریان نے آج اُس کی آنکھوں کو قریب سے اِتنا غور سے دیکھنے لگا

“کیا تم روئی ہو؟آریان نے بغور اُس کو دیکھ کر پوچھا

روئے میری جوتی۔۔۔”ہونہہ۔۔میشا چوری پکڑنے جانے پر گڑبڑا گئ اُس کو اندازہ نہیں تھا کہ آریان اِتنی جلدی اُس کو ازبر کرجائے گا

“واہ تمہاری جوتی روتی بھی ہے خیر سے یونیک چیزیں ہیں تمہاری اور تمہیں پتا ہے کیا؟آریان مصنوعی حیرانگی کا اِظہار کرتا آخر میں ایک قدم اُس کی طرف بڑھائے بولا

کیا؟میشا نے بیزاری سے اُس کو دیکھا

تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں اِن میں ڈوبنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔آریان فسوں خیز لہجے میں بولا تو میشا کو اُس کے ایسے کمنٹ پر آریان پر تاؤ آیا تھا”

“تو ڈوب کر مرجاؤ نہ کفن دفن اور تذفین کا بندوبست میں کردوں گی اُس کے لیے تم فکرمند نہ ہو۔۔میشا نے دانت پیس کر کہا تو آریان خاصا بدمزہ ہوا تھا

یار کتنی بورنگ لڑکی ہو تم مطلب ایسا کون کرتا ہے؟”اچھا خاصا رومانٹک موڈ بن گیا تھا۔۔۔آریان کو جھرجھری سی آئی

تمہارے نہ اِس رومانٹک موڈ کی ایسی کی تیسی۔۔۔میشا سرجھٹک کر جانے لگی جب آریان ہمیشہ کی طرح اُس کے راستے میں حائل ہوا

“راستہ چھوڑو میرا۔۔۔میشا نے سنجیدگی سے کہا

“پہلے میری ایک بات کا جواب دو”تم آخر کیوں اِس طرح مجھے اوائیڈ کرتی ہو؟آریان نے جاننا چاہا

“میں تمہارے آگے جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔۔۔میشا نے جتایا

شادی کے بعد ہوجاؤ گی پابند ٹینشن کیوں لیتی ہو؟”آریان کو پھر سے دورا پڑا

بہت بدتمیز ہو تم۔ میشا نے اُس کو دیکھ کر دانت پیسے

“بہت ملیں گے تمہیں اداب و آداب والے

مگر یاد آئیں گی بدتمیزیاں ہماری”

آریان جواباً شاعرانہ انداز میں بولا تو میشا نے بڑی مشکل سے اپنے اندر امڈنے والے اشتعال کو دبایا تھا۔

❤Rimsha HUssain Novels❤

“تم یہاں کیسے؟یونیورسٹی سے عاشر اپنے گھر آیا تو وہاں فاحا کو دیکھ کر تھوڑا حیران ہوا

آنٹی شہر سے باہر ہیں اور آپو والے کورٹ میں ہیں تو میں یہاں آگئ فاحا کو اکیلے رہنا پسند نہیں ہوتا نہ۔۔۔فاحا نے اُس کو اپنی موجودگی کی وجہ بتائی

“تم انسٹی ٹیوٹ نہیں گئ تھی کیا آج؟عاشر صوفے پر رلیکس انداز میں بیٹھ کر اب اُس سے باتیں کرنے لگا

“فاحا ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف ہے۔۔۔فاحا نے بتایا

اچھا تو یہ بات ہے خیر میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔۔عاشر نے اِس بار رازدرانہ انداز میں کہا

“اچھا اور وہ کیا؟فاحا پرجوش ہوئی

“میں نے لالی کا تمہیں بتایا تھا نہ۔۔۔عاشر نے کہا

مجھے یاد ہے وہ۔۔۔فاحا جھٹ سے بولی

آج میں اُس کی وجہ سے کلاس سے باہر نکالا گیا۔۔۔۔عاشر نے بتایا

باہر کیوں کیا ہوا تھا؟فاحا کو اُس کی بات کچھ خاص سمجھ نہیں آئی تبھی پوچھا

“یار بتایا جو اُس کا بار بار چہرے پر سے بال ہٹانا مجھے پاگل کردیتا ہے۔۔۔”اور میں کسی اور کام میں دھیان نہیں دے پاتا۔”تم کوئی حل دو نہ اِس مسئلے کا۔۔۔عاشر نے کہا تو فاحا نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی

“آئیڈیا۔۔۔فاحا اچانک پرجوش ہوئی

کیسا آئیڈیا؟عاشر چونک اُٹھا

آپ نہ اُس کو بالوں والی ایک پِن گفٹ کریں جیسے سے اُس کے بالوں لٹیں اُس میں قید ہوجائے گی اور آپ کا دھیان بھی وہاں نہیں بھٹکے گا”پھر بتائے کیسا لگا فاحا کا آئیڈیا؟فاحا نے پرجوش لہجے میں بتانے کے بعد آخر میں اُس سے پوچھا تو عاشر جو بڑے غور سے اُس کو سُن رہا تھا اچھا خاصا بدمزہ ہوا تھا

“اِس سے زیادہ تمہیں کوئی اور فلاپ آئیڈیا نہیں ملا؟عاشر نے طنز کیا

اچھا مجھے کچھ اور سوچنے دے ویسے فاحا کو بھوک بھی لگی ہے آپ کچھ کھانے کو لائے کیا پتا اُس کے باوجود میرا دماغ سؤ اسپیڈ کا کام کرے۔۔۔فاحا نے منہ بسورے کہا

ہاں جاؤ کچھ پکا آؤ میں بھی بھوکا ہوں۔۔۔عاشر نے اُس کو اُٹھنے کا کہا تو فاحا نے اُس کو گھورا

اچھے بھائی لوگ اپنی مہمان بہنوں سے کام نہیں کروایا کرتے۔۔۔۔فاحا نے اُس کو مکھن لگانا چاہا

بھائیوں کا گھر ہمیشہ اپنی بہنوں کا ہوتا ہے اِس لیے وہ جب جی چاہے آ جا سکتی ہیں اور دل کھول کر کام بھی کرسکتی ہیں۔۔۔۔”اِس لیے تم جاؤ اور لذیذ لنچ تیار کرو آج ہم دل کھول کر کھانا کھائے گے اور کیا پتا تب تک وہ دونوں بھی آجائے۔۔۔۔عاشر نے اُس کی بات پر کان نہیں دھڑے

“اللہ اللہ توبہ ہے۔۔۔فاحا کا منہ بن گیا

میں نوٹ کررہا ہوں جیسے تم میشا کی طرح کام چور ہوتی جارہی ہو۔۔۔عاشر نے اُس کو گھورا

اب ایسا بھی نہیں پڑھ پڑھ کر فاحا بیچاری تھک جاتی ہے۔۔۔۔فاحا نے کہا تو عاشر نے آئبرو اُچکائے اُس کو دیکھا

“میں مدد کروادوں گا ابھی چلو۔۔۔عاشر نے گویا احسان کیا

“ٹھیک ہے مگر اُس سے پہلے میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔فاحا نے کہا

کونسی بات؟عاشر نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

“ریپ کی سزا کیا ہوتی ہے پاکستان میں؟فاحا نے پوچھا

“ایک بیریسٹر کی بہن ہوکر یہ سوال تم مجھ سے پوچھ رہی ہو۔۔۔عاشر نے اُس کی ناک دبائی

بتائے نہ۔۔۔۔فاحا نے ضد کی

“پاکستانی قوانین کے تحت پاکستان میں ریپ کی سزا یا تو سزائے موت ہے یا دس سے پچیس سال کے درمیان قید ہے۔ اجتماعی عصمت دری سے متعلق مقدمات کی سزا یا تو سزائے موت یا عمر قید ہے۔”گینگ ریپ میں لائیف” imprisonment “یا death penalty ہے۔۔

obviously overhang

لیکن عمر قید میں بارہ گھنٹے کے دن کو چوبیس گھنٹے کے دن میں consider کیا جاتا ہے تو آگے چوبیس گھنٹوں کا پورا دن 48 گھنٹوں میں consider جاتا ہے ایک دن کو دو دِنوں میں consider کیا جاتا ہے ایسے لائیف imprisonment سات سالوں کی ہوتی ہے”ویسے سزا چودہ سالوں کی بنتی ہے”اور ایک ہوتی ہے تاحیات عمر قید اُس میں ساری زندگی قید میں کاٹنی پڑتی ہے۔۔۔۔فاحا کی ضد پر عاشر نے اُس کو تفصیل سے جواب دیا جس کو فاحا نے بڑے غور سے سُنا تھا۔۔

“شکر ہے کہ سزائے موت کا آپشن بھی ہے”دوسرا کیس پر بھی ڈپینڈ کرتا ہے کہ وہ اسٹرونگ ہے یا نہیں۔۔۔فاحا نے باقاعدہ ہاتھ اُپر کیے پھر مزید کہا

“ہاں یہی ہے اگر کیس مضبوط تو death penalty ورنہ لائیف imprisonment۔۔۔۔عاشر نے جواباً کہا

ویسے قرآن میں ایسا نہیں ہوتا نہ اللہ نے ایسی سزا نہیں رکھی نہ قرآن میں؟فاحا پرسوچ لہجے میں اُس سے گویا ہوئی

“قرآن کریم میں سورت نور کی آیت نمبر ٢ میں واضح حکم ہے کہ زنا کرنے والے مرد عورت کو سو ١٠٠ کوڑے مارے جائینگے ۔

اگر لڑکی یا لڑکا شادی شدہ نہیں ہیں تو ١٠٠ کوڑے مارے جائینگے۔۔

لیکن اگر وہ شادی شدہ ہوں تو انہیں سنگسار کر دیا جائیگا ۔۔اور سنگسار کہتے ہیں کہ زانی مرد کو کھلے میدان میں لے جا کر پتھر مار مار کے مار دینا ۔۔

اور اگر زنا کرنے والی عورت ہو اور شادی شدہ ہو تو اس کو زمین میں گھڈا کھود کر اس میں پتھر مار مار کے قتل کر دینا ۔۔ یہ قرآنی حکم ہے ۔”عاشر نے بتایا تو فاحا کو جھرجھری سی آئی جس پر عاشر نے اپنی مسکراہٹ دبائی

اور اگر لڑکی کا اُس میں کوئی قصور نہ ہو تو؟فاحا نے کسی خیال کے تحت کے پوچھا

“تو صرف لڑکے جو ایسا کرے گا اُس کو یہ سزا ملتی ہے”اور یہ لڑکی کرے گی تو اگر وہ شادی شدہ نہیں ہے تو اُس پر سؤ کوڑے برسائے جائینگے اور اگر شادی شدہ ہے تو اُس کو سنگسار کیا جائے گا۔۔۔۔عاشر نے جیسے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا

“یعنی میں آج فیصلے کی اُمید نہ رکھوں؟فاحا نے کچھ توقع بعد کہا

پہلا دن ہے ہوسکتا ہے کچھ وقت اور لگے پھر دوسری سماعت پر کیس کا فیصلہ ضرور لے گی کورٹ اور کیا پتا آج فیصلہ لے کیونکہ جج صاحب سے اپنی میشا کی جان پہچان ہے۔۔۔عاشر ٹانگیں سیدھے کیے بولا

“ویسے میں اب سوچ رہی ہوں اگر یہ فیصلہ گاؤں والے لیتے تو اچھا تھا یعنی اب اُس کو سزائے موت ہوگی بھی تو وہ ایک بار میں مرجائے گا قید ہوگی تو ضمانت میں چھوٹ جائے گا پر جو کچھ گاؤں کے سردار کے بارے میں سُنا ہے وہ یقیناً اُس لڑکے پر سؤ کوڑے پڑوانے کا کہتا۔۔۔۔فاحا گہری سوچ میں ڈوب کر بولی

جو ہوتا ہے اُس میں اللہ کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اور ضروری بس کشف کا انصاف ہے جو اُس کو مل گیا تو وہی بڑی بات ہوگی۔۔۔عاشر نے کہا تو فاحا نے سراثبات میں ہلایا”پھر کچھ پکانے کی نیت سے اُٹھ کر کھڑی ہوئی

❤Rimsha Hussain Novels❤

نوریز ملک کو ہارٹ اٹیک آیا تھا جس کو جان کر سوہان بنا کچھ اور ڈاکٹر سے بات کیے ہسپتال سے باہر نکل آئی تھی”اور اُس کے نکلتے ہی ہسپتال کے باہر اسیر ملک اور اُس کے آدمیوں کی گاڑیاں رُکی تھیں۔۔۔۔”اُس نے سارا کچھ حویلی میں کال کرکے بتایا تھا اور یہ بات جب اسمارہ بیگم کو پتا چلی تو وہ رونے دھونے میں لگ پڑیں تھیں اِتنا کہ اُن کو سنبھالنا تک مشکل ہوگیا تھا

“ڈاکٹر نے اسیر ملک سے بائے پاس کا کہا تھا جو رات میں ہونا تھا اور وہ خود وہ یہی رکنے والا تھا جب تک حویلی سے کوئی اور آ ہی نہیں جاتا تھا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

سوہان نے اپنی گاڑی قبرستان کے پاس روکی تھی اور اُس کو سائیڈ پر کھڑا کیے وہ قبرستان میں قبروں کے پاس سے گُزرتی ایک قبر کے سامنے رُک گئ تھی جس کی تختی پر”اسلحان یعنی اُس کی ماں کا نام لکھا ہوا تھا۔۔۔”سوہان نے کتنی ہی دیر تک اُس پر نظریں جمائی ہوئیں تھیں پھر ایک باغی آنسو اُس کی آنکھ سے نکل کر گال پہ پھسلتا نیچے گِرنے والا تھا جب کسی نے اپنی ہتھیلی آگے کی تو وہ آنسو اُس کے ہاتھ پر گِرکر بے مول ہونے سے بچ گیا تھا۔۔۔”دوسری طرف خود کے پاس کسی اور کو کھڑا محسوس کیے سوہان نے گردن موڑ کر دیکھا تو کالے کوٹ پینٹ میں ملبوس زوریز دُرانی سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا

“آپ یہاں کیا کررہے ہو؟سوہان نے اُس پہ سے نظریں ہٹائے زندگی میں شاید پہلی بار ایک بے تُکہ سوال کیا تھا۔۔۔

“اپنے لیے قبر کی جگہ بُک کروانے آیا تھا۔۔۔”وہ سامنے والی جگہ مجھے بہت پسند آئی ہے کیونکہ وہاں ٹریز بہت ہیں”اچھا ہے گرمیوں میں قبر کے اُپر سورج کی تپش نہیں پہنچ پائے گی وہاں۔۔۔زوریز نے سنجیدہ لہجے میں غیرسنجیدہ جواب دیا تھا جس پر سوہان اپنی جگہ پہلو بدلتی رہ گئ تھی۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

نوریز ملک کو ہوش آیا تو اپنے سامنے سوہان یا میشا کے بجائے حویلی والوں کو دیکھ کر اُن کو مایوسی نے آ گھیرا تھا مگر وہ جانتے تھے جو اُنہوں نے کیا تھا اُس کے بعد وہ اِسی رویے کے مستحق تھے۔۔۔

“آپ ٹینشن نہ لو دوسری کورٹ میں اپنا کیس پیش کریں ہوسکتا ہے کچھ بھلا ہوجائے۔۔۔اُن کو ہوش میں آتا دیکھ کر صنم بیگم نے کہا جبکہ اسیر خاموش بیٹھا تھا۔۔

ہممم۔۔۔اسیر ملک نے محض ہنکارہ بھرا وہ اُن کو بتا نہیں پائے کہ آج ایک دن میں اُن کیا کچھ جاننے کو ملا تھا جس پر یقین پانا اُن کے لیے بیحد مشکل تھا۔

“ہمیں ایک بات سمجھ نہیں آئی کورٹ نے اِتنی جلدی فیصلہ لے کیسے لیا؟اسیر کا انداز پرسوچ تھا۔

“فراز کا اقبالِ جُرم اُن کو مل گیا تھا۔۔۔۔نوریز ملک نے سنجیدگی سے بتایا

ابا حضور نے تو کہا تھا فراز سیکیور ہے۔۔۔اسیر کا انداز طنز ہوگیا تھا

“بھائی صاحب نے مجھے اکیلا چھوڑدیا ورنہ مجھے اُن کی بہت ضرورت تھی پر افسوس میرے دونوں بھائیوں نے میرا ساتھ نہیں دیا۔۔۔۔۔نوریز ملک رنجیدگی سے بولے

“جن کو چھوڑنے کی عادت ہو وہ کسی اور کے چھوڑجانے کا افسوس کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔۔۔اسیر نے لگی لپیٹی کے بغیر کہا تو نوریز ملک کی زبان کو گویا قفل لگ چُکا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *