Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 28)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

اب تم کون ہو؟میشا نے ناگواری سے پوچھا

“جلدی جان جاؤ گی اور دوبارہ ہم سے اِس ٹون میں بات مت کرنا۔۔۔اسیر کے لہجے میں صاف وارننگ تھی جس کو محسوس کیے میشا کا پورا چہرہ غُصے سے سُرخ ہوگیا تھا کیونکہ زندگی میں پہلی بار کسی نے اُس کے ساتھ ایسے بات کی تھی”اُس کو وارننگ دی تھی

“تم زرا اپنی ٹون سنبھال کر بات کرو کیونکہ اگر میرے ہاتھوں میں کُھجلی ہوئی تو یہ تمہاری صحت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔میشا نے اُس کو خبردار کرنا چاہا

“ہم تم جیسی زبان دراز لڑکیوں سے منہ لگنا پسند نہیں کرتے۔۔۔اسیر نے استہزائیہ مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ کر کہا تو اُس کے گال پر گڑھے نُمایاں ہوئے تھے جو اپنی حیرانگی میں فاحا دیکھ نہیں پائی اور میشا کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔

“آپ ہمارے گھر کے دروازے کے پاس کھڑے ہوکر فاحا کی بہن کے ساتھ ایسے بات نہیں کرسکتے۔۔۔فاحا حیرانگی سے نکل اسیر سے بولی تو اُس نے ترچھی نگاہوں سے فاحا کو دیکھا جو اُس کے ایسے دیکھنے پر گڑبڑا گئ تھی۔

“میری بہن کو یوں آنکھیں دیکھا کر تم ڈرا نہیں سکتے اگر ہمت ہے تو مجھ سے بات کرو”میری طرف دیکھ کر”کیونکہ تمہارے “ہم ہم سے تم ایک سے چار نہیں بن سکتے رہو گے ایک ہی انسان۔۔۔میشا نے اُس کو گھور کر طنز انداز میں کہا”کیونکہ اسیر کا لفظ”ہم”اُس کی سمجھ سے بالآتر تھا” جبکہ نوریز ملک حیرت سے اُن کو آپس میں لڑا جھگڑتا دیکھ رہے تھے”سوہان تو اُن سب سے یکسر بے نیاز کھڑی تھی۔

“آپ سے کیا بات کریں ہم؟”اور آپ جس گھر کو اپنا گھر انٹرڈیوس کروا رہی ہیں”یہ مقان کرائے کا ہے اور اگر ہم چاہے تو پل بھر میں یہ گھر تم لوگوں سے خالی کرواسکتے ہیں۔۔۔اسیر کے لہجے میں صاف دھمکی تھی جبکہ اُس کی آخری بات کو وہ نظرانداز کرگیا تھا

“تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا اور اگر ایسا ہوا بھی تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جس کا خون تمہاری رگوں میں ہے” اُس سے ہم ہر چیز کی توقع کرسکتے ہیں۔۔سوہان اسیر کی بات سن کر سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں بولی تو اسیر کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے ہاتھوں کی مٹھیاں اُس نے زور سے بند کی تھی جبکہ پورا چہرہ الگ سے سرخ ہوگیا تھا”اُس کو خود سے ایسے بات کرنے والوں کا انداز کہاں پسند تھا

ہم

“کیا آپ لوگ اِن کو جانتی ہیں؟اسیر کچھ سخت کہنے والا تھا مگر اُس سے پہلے فاحا نے بلآخر پوچھ لیا جس پر اسیر سرجھٹک کر خاموش ہوگیا تھا”وہ یہاں کبھی بھی نہ آتا مگر نوریز ملک جن کی حالت میں ابھی کچھ سُدھار آیا تھا”اُنہوں نے ضد کرکے اسیر کو یہاں اپنے ساتھ آنے پر مجبور کرلیا تھا”کیونکہ اُن کو یاد تھا کہ آج سوہان کی سالگرہ ہے یہی وجہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ آج کے دن سب کچھ اُن کے درمیان سہی ہوجائے

“ہمیں چھوڑو تم ایسا ری ایکٹ کیوں کررہی ہو؟”کیا تم اِس کو جانتی ہو؟میشا نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو اُس کی اور پھر سوہان کی خود پر نظریں محسوس کرتی فاحا نے بے ساختہ اپنا سر نفی میں ہلایا تھا جبکہ اُس کے ایسے عمل پر اسیر کی آنکھوں میں جانے کیوں ناپسندیدگی سے بھرا تاثر نُمایاں ہوا تھا”جبکہ فاحا تو یہ سوچ رہی تھی اچھا ہوا جو اُس نے اپنا سر نہ میں ہلایا اگر جو وہ ہاں کرتی تو اُن دونوں کے ہاتھوں اُس نے بچپنا نہیں تھا۔۔

“کیا میں اندر آسکتا ہوں۔نوریز ملک نے اُن کا دھیان اپنی طرف کروانا چاہا جن کو وہ یکسر فراموش کرچُکی تھیں۔۔۔

“آپ اندر نہیں آسکتے آپ جائے یہاں سے۔۔۔میشا نے حدردرجہ اِس بار سخت لہجہ اپنایا

“فاحا تم اندر جاؤ۔۔سوہان احساس سے عاری نظروں سے نوریز ملک کو دیکھتی فاحا سے بولی جو حیران پریشان ساری بات سمجھنے کی جدوجہد میں تھی۔

“پر آپو

“سُنا نہیں میں نے کیا کہا تم سے۔۔۔فاحا ابھی کچھ کہنے والی تھی جب سوہان نے سختی سے اُس کو ٹوک کر کہا جس پر فاحا کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی”سوہان تو اُس کی زندگی میں وہ ہستی تھی جس نے کبھی مذاق مزاق میں بھی اُس سے سخت آواز میں بات نہیں کی تھی”اگر میشا یا کوئی اور کرتا تو وہ اُن سے غُصہ کرجاتی تھی”اُس کو یاد تھا کیسے سوہان اُس کے لیے اپنی ماں سے بھی لڑنے کے لیے کھڑی ہوجایا کرتی تھی”اور آج اُس کا دو غیر آدمیوں کے سامنے سوہان کا ایسے بات کرنا اُس کو دُکھی کرگیا تھا تبھی بنا کچھ اور کہے وہ نظریں جُھکا کر جانے والی تھی جب اچانک اسیر ملک نے اُس کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا۔۔”یہ دیکھ کر جہاں وہ دونوں بے یقین نظروں سے اسیر ملک کی جُرئت کو دیکھ رہی تھیں وہی فاحا نے اپنی بھیگی پلکوں کو اُٹھائے اسیر کو دیکھا جس کے چہرے پر کوئی بھی تاثر نہیں تھا۔

“تم فاحا سے ساری سچائی چُھپاکر اُس کو اُس کے حق سے محروم نہیں رکھ سکتی۔۔۔ نظریں ہنوز فاحا پر جمائے اسیر نے سوہان سے کہا تھا جس کو سن اور سمجھ بھی گئ تھی۔

“دیکھو تم جو کوئی بھی ہو وی ڈونٹ کیئر مگر یہ ہم تینوں کا آپسی معاملہ ہے بہتر ہے جو تم اِس میں مُداخلت نہ کرو ورنہ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا۔۔میشا کے ہاتھوں میں ہلکی سی کُھجلی ہونے لگی جس سے وہ پریشان ہوتی اسیر کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ کر بولی تھی۔

“آج سے بیس سال پہلے آپ نے ہمیں اپنے گھر کی دہلیز سے خالی ہاتھ واپس لوٹایا تھا”اور آج میں آپ کو اپنے گھر سے واپس جانے کا کہتی ہوں”کل آپ نے میری ماں کی فریادیں “میشو کی چوٹ فاحا کا معصوم چہرہ”اُس کا رونا نہیں دیکھا تھا آج میں نے خود کو اندھا کرلیا ہے آپ جو چاہے جیسے چاہے”وضاحت دے معافی مانگے ہم میں سے کسی ایک کو فرق نہیں پڑتا ہم بس آپ کا یہ مکرہ چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے۔۔۔سوہان فاحا کو اسیر سے دور کرتی دو ٹوک انداز میں نوریز ملک سے بولی تھی جن کا سر اُس کی بات پر شرم اور ندامت پچھتاوے کے احساس سے جُھک گیا تھا۔

“تمہیں شاید پتا نہیں کہ بڑوں سے کیسے بات کی جاتی ہے۔۔اسیر کو سوہان کا بات کرنے کا انداز ایک آنکھ نہیں بھایا تھا

“بہت سہی کہا تم نے ایسا ہی ہے تو اب اچھا نہیں بدتمیز لوگوں سے منہ لگنے سے اچھا تم لوگ اپنی تشریف واپس لے جاؤ۔۔میشا نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اُس سے کہا

“یہ بات اگر فاحا کہے گی تو ہم چلے جائے گے”ہمیں جاننا ہے کہ تم دونوں فاحا سے یہ سب کیوں چُھپانا چاہتے ہو۔۔اسیر فاحا کے روبرو کھڑا ہوتا اُن سے بولا تو فاحا جو خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے میں تھی چونک کر اسیر کو دیکھنے کے بعد سوہان اور میشا کو دیکھنے لگی

“فاحا وہ کرتی ہے”وہ کہتی ہے جو ہم اُس سے کہتے ہیں۔۔میشا اُن دونوں کے درمیان آکر کھڑی ہوئی

“لگتا ہے کباب میں ہڈی بننے کا بہت شوق ہیں تمہیں۔۔اسیر کو میشا کافی گُستاخ لگی تھی۔

“آپ کباب ہونگے مگر مجھے ہڈی اور میری بہن کو کباب بننے کا کوئی شوق نہیں۔۔میشا نے تپانے والی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اُس سے کہا تو اسیر اُس کو تند نگاہوں سے گھورتا سامنے سے ہٹاگیا تھا

آپ

اسیر فاحا کو دیکھتا کچھ کہنے والا تھا جب غُصے میں آکر میشا اُس کو پنج مارنے والی تھی”مگر اسیر بغیر دیکھے اُس کا ہاتھ درمیان میں روک گیا تھا جس پر فاحا کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں

“یہ ہاتھ اگر کسی اور کا ہوتا تو ہم کب کا توڑ چُکے ہوتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسیر ملک عورت ذات پر ہاتھ اُٹھانا اپنی توہین سمجھتا ہے۔۔اسیر ایک جھٹکے سے اُس کا ہاتھ چھوڑتا باور کروانے والے انداز میں بولا تھا

“آپ خاموش کھڑے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟”اپنے بھتیجے کو لیکر یہاں سے جائے۔۔سوہان اِس بار چیخی تھی

“سوہان

“میرا نام اپنی زبان سے کبھی مت لیجئے گا میں بدتمیزی کرنا نہیں چاہتی مگر آپ مجھے محبور کررہے ہیں پلیز ایسے نہ کریں اور جائے۔۔۔نوریز ملک کی بات درمیان میں کاٹتی سوہان پاگل ہونے کے در پہ تھی

“آپ کو ہماری خوشیاں پسند نہیں تبھی ہماری زندگی خراب کرنے واپس آگئے ہیں” یہ جانتے ہوئے بھی ہمیں آپ سے کتنی نفرت ہے۔ ۔میشا بھی سوہان کا بھرپور ساتھ دیتی اُن سے بولی

“آپ کیا ابھی تک نہیں سمجھی کہ یہ شخص کون ہے؟اسیر کو فاحا کا اِتنا لاتعلق ہونا سمجھ نہیں آیا اُس کو لگتا تھا جیسے نوریز ملک اُس کا باپ ہے یہ جان کر فاحا کی دل میں رحم ضرور آئے گا کیونکہ اُس کے لحاظ سے جتنا وہ فاحا کو جانتا تھا وہ ایسے کرے گی”مگر بات یہ تھی کہ اسیر نے ابھی فاحا کو جانا نہیں تھا۔۔۔

“نہیں۔۔۔فاحا نے اپنا سر نفی میں ہلایا تو اسیر بس اُس کو دیکھتا رہ گیا

“جگ جہاں کی معصوم جو ٹھیری۔۔اسیر بیحد آہستہ آواز میں بڑبڑایا

“فاحا بیٹا یہاں آؤ۔۔نوریز ملک”سوہان اور میشا سے مایوس ہوتے فاحا سے بولے جس نے اُن کے مُخاطب ہونے پر سوہان کو دیکھا تھا

“سوچ کیا رہیں ہیں جائے۔۔اسیر اُس کے سامنے کھڑا ہوتا اصرار کرنے لگا جس پر فاحا نے اپنے لب کُچلے

“یہ بندہ کتنا عجیب ہے ہم سے توں تراں کرکے بات کررہا ہے اور ہماری چھوٹی بہن کو”آپ”کہہ کر عزت بخش رہا ہے۔۔میشا کو اسیر کا بار بار فاحا کو آپ کہہ کر مُخاطب ہونا ہضم نہیں ہوا تھا جبھی سوہان سے کہا جو اُس کی اِس بات پر خاموش اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔”وہ سمجھ نہیں پائی اگر میشا کی طرح فاحا بھی اسیر سے پہلی بار ملی تھی تو اسیر میشا سے جہاں اِتنا چڑ رہا ہے وہاں وہ اِتنے حق اور روعب سے فاحا سے کس وجہ سے بات کررہا ہے؟”اور فاحا کیوں اُس کی اِتنی ہڈ دھرمی برداشت کررہی تھی۔۔

“آپ کون ہیں؟بنا اپنے قدم نوریز ملک کی طرف بڑھائے فاحا نے نوریز ملک سے سوال کیا

“میں نوریز ہوں”نوریز ملک تمہارا باپ۔۔۔”یہاں آؤ میری بچی۔۔نوریز ملک اپنی بانہیں پِھیلاکر اُس سے بولے تو فاحا کی آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئیں تھی وہ حیرت اور بے یقینی کا پُتلا بنے نوریز ملک کو یک ٹک بے مقصد دیکھے گئ تھی۔۔۔”اُس کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ اُس کی زندگی میں کوئی انسان اچانک آکر اپنے باپ کی حیثیت سے متعارف کروائے گا”باپ کیا ہوتا ہے؟”باپ کون ہوتا ہے؟باپ کا چیپٹر تو وہ اپنی زندگی میں کب کا بند کرچُکی تھی اور ایسا بند کرچُکی تھی کہ پیچھے پلٹ کر پھر کبھی واپس کھول کر نہیں دیکھا تھا

“آپ مجھ سے ایسے بات کیوں کرتیں ہیں؟”میں بھی تو آپ کی بیٹی ہوں نہ۔۔۔”آٹھ سالہ فاحا نے اپنے ازلی معصوم لہجے میں اسلحان سے سوال کیا جو پودوں کو پانی دے رہی تھی

“بات سُن اپنے دماغ سے یہ خناس نکال دے کہ میں تیری ماں ہوں”توں میری زندگی میں وہ منحوسیت لیکر آئی ہے جس کو میں جب جب سوچتی ہوں”میرے غُصے کا غلاف تجھ پر اور بڑھ جاتا ہے اِس لیے میرے سامنے مت آیا کر ورنہ تیرا وہ حال کروں گی”ماں لفظ بھول جائے گی۔۔اسلحان نفرت انگیز نظروں سے اُس کا معصوم چہرہ دبوچ کر بولی تو فاحا کا پوری جسم کانپ گیا تھا جبکہ پورا چہرہ آنسوؤ سے تر بدر ہوگیا تھا وہ جان نہیں پائی تھی آخر اُس کو کس جُرم کی سزا دی جارہی تھی۔

“اگر میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں تو کیا ہوں۔۔فاحا نے روتے ہوئے اُن سے سوال کیا

“توں منحوس ہے فاحا توں بہت بڑی منحوس ہے تیری وجہ سے تیرے باپ نے مجھے طلاق دی”میں در در کے ٹھکرے کھانے پر مجبور ہوئی رُل گئ صرف اور صرف اِس لیے کہ اِس دُنیا میں توں آئی۔۔”توں کیوں آئی فاحا توں کیوں آئی تیری کیا ضرورت تھی اگر آئی بھی تو تُجھے مرجانا چاہیے تھا توں مری کیوں نہیں میرا جینا اجیرن کرنے کے لیے تیرا زندہ ہونا ضروری تھا کیا؟اسلحان پاگلوں کی طرح اُس کو جِنھجھور کر کہنے لگی تو فاحا کا رونا سسکیوں میں بدل گیا تھا۔ ۔

“باپ؟فاحا کے لب آہستگی سے پھڑپھرائے تھے مگر پاؤں گویا ایک جگہ جیسے منجمند ہوگئے تھے”ایک باغی آنسو اُس کی آنکھ سے پِھسلا تھا جس پر سوہان تڑپ کر اُس کی طرف بڑھی مگر فاحا نے ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو روک دیا تھا”جس پر وہ لب بھینچ کر اُس کو دیکھتی رہ گئ تھی۔۔

“ہاں میں تمہارا بابا ہوں فاحا”اپنے اِس بدنصیب باپ کو معاف کردو اور میرے ساتھ چلو۔۔۔نوریز ملک کی اپنی آنکھوں میں آنسوؤ آگئے تھے۔

“بابا

معافی؟

فاحا عجیب کیفیت سے دوچار ہوتی الفاظ دوہرانے لگی۔

Are You Ok?

اسیر وہ سہی نہیں لگی”مگر اُس کے سوال پر فاحا ہنسی تھی اور ہنستی چلی گئ تھی۔۔۔”اِتنا کہ اُس کا پورا چہرہ آنسوؤ نے بھگو دیا تھا وہ ہنستی ہنستی خود تو رونے لگ گئ تھی ساتھ میں سوہان اور میشا کو بھی پریشان کرگئ تھی”آخر وہی تو ہوا تھا جو وہ نہیں چاہتی تھی۔

“فاحا۔۔نوریز ملک اُس کی طرف بڑھنے لگے تو فاحا نے نظریں اُٹھائے اُن کو دیکھا تو چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آئی

“آپ میرے بابا ہیں؟فاحا چلتی ہوئی اُن کے روبرو کھڑی ہوئی

“ہاں میں تمہارا بابا ہوں ایک بار اپنے باپ کو پیار سے پکارو تو۔ ۔نوریز ملک نے آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر فاحا نے اپنی سسکی کا گلا گھونٹا تھا

“مگر آپ نے تو کبھی ہمیں پُکارا نہیں؟”اور نہ ہماری پکار پر آئے۔ فاحا کی بات نے اُن کو کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔۔

“آپ میرے بابا ہیں آپ کو یاد ہے میری پیدائش کی تاریخ؟”آپ کو یاد ہے جب میں نے پہلی بار بولنا سیکھا تھا؟”آپ کو یاد ہے کب میں نے رینگتے رینگتے چلنا شروع کیا تھا؟”اور کیا آپ کو پتا ہے کس کی اُنگلی کے سہارے میں چلنا سیکھا کرتی تھی؟”چلنا سیکھتے سیکھتے کتنی بار گِر کر اُٹھی تھی آپ کو پتا ہے فاحا نے کب پہلی بار اسکول جوائن کیا اور کب اسکول کو خبرآباد کہا”اسکول میں اُس نے کن کن چیزوں کا سامنا کیا تھا آپ کو پتا ہے فاحا کو کیا کھانا پسند ہوتا ہے اور کیا کھانا پسند نہیں؟”آپ کو پتا ہے کہ میرا فیورٹ کلر کیا ہے؟”میرا موڈ کب کیسے ہوتا ہے”کیا آپ کو یہ پتا ہے؟”فاحا نے کب کب آپ کو یاد کیا”کہاں کہاں اُس کو آپ کی کمی اُس کو محسوس نہیں ہوئی۔۔فاحا نے ایک کے بعد ایک دیگر جانے کتنے سوالوں کی بوچھاڑ اُن پر کرڈالی تھی جس پر نوریز ملک کو اپنا زندگی میں کیا جانے والا خسارہ بُری طرح سے یاد آیا تھا۔

“نہیں ویٹ آپ کو کیسے پتا ہوگا؟”میں بھی کتنی پاگل ہوں فاحا کی زندگی میں آپ آئے کب تھے آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی کب تھی کہ وہ زندہ ہے یا مرچُکی ہے۔۔۔فاحا ہذیاتی انداز میں چلا اُٹھی

“ایسے مت کہو بیٹا ایسے مت کہو۔۔نوریز ملک کو لگا جیسے کسی نے اُن کا دل مٹھی میں جکڑلیا ہو

“مجھے پتا چلا تھا میری پیدائش پر میرا پہلا نام رکھنے والے آپ تھے۔”منحوس یہی نام رکھا تھا نہ آپ نے؟فاحا نے کہنے کے بعد آخر میں اُن سے سوال کیا تو نوریز ملک نے بے ساختہ اپنا سر نفی میں ہلایا تھا وہ تینوں جبکہ چُپ چاپ کھڑے تھے

“انکار کیوں کررہے ہیں مجھے آپ کی حامی بھرنے پر کوئی دُکھ کوئی رنج نہیں ہوگا”کیونکہ فاحا اُس دوؤر سے نکل آئی ہے جبکہ اُس پر کسی چیز کا اثر ہوا کرتا تھا”فاحا نے سوچ لیا تھا اُس کا کوئی باپ نہیں ہے اور یہ آج کیا سوچ کر آپ معافی مانگنے آئے ہیں یہ کوئی فلم ہے کہ ایٹ دا لاسٹ میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا فلم کی ہیپی اینڈنگ ہوجائے گی۔۔”آپ کو آج اپنی پڑی ہے بیس سالوں سے جو میں نے سفر کیا ہے جن تکلیفوں کو میں نے برداشت کیا ہے”جن خواہشات پر فاتحہ پڑھی ہے جب جب آپ کے کردہ گناہ پر روئی تھی تڑپی تھی سسکی تھی”تب آپ کیوں نہیں آئے؟”آج کیوں آئے کسی تہوار پر یا عید کے موقعے پر ہمیں سرپرائز دے کر خوش کیوں نہیں کیا؟”کبھی یہ جاننے کی ضرورت آپ نے محسوس کیوں نہیں کی کہ اِس بھری دُنیا میں میری تین بیٹیاں ہیں جن کی کفالت کرنا آپ کے ذمے ہے جن کی ہر ضروریات کو پورا کرنا آپ کے ذمے ہیں”جن کو ہر بُری نظروں سے بچانا ایک باپ ہونے کی صورت میں آپ پر فرض بنتا ہے۔۔”تب آپ کہا تھے جب فاحا کے اسکول میں پیرینٹس میٹنگ ہوا کرتی تھی اور وہ اُس دن اسکول نہیں جایا کرتی تھی”جب ہمارا پارک جانے کو دل کرتا تھا تو آپ کیوں نہیں آئے کہ آؤ اپنے بابا کے ساتھ پارک کی سیر کر آتے ہیں۔۔”ہمارے ساتھ کوئی ایک دن آپ نے کیوں نہیں گُزارا؟”بچپن میں ہمارے ساتھ ویکیشن کیوں نہیں منائی ویکیشن کے دن ہمیں کہیں گُھومانے کیوں نہیں لے گئے آپ؟”ہمارے ساتھ کوئی گیم کیوں نہیں کھیلی ہمارے ساتھ ٹی وی کیوں نہیں دیکھی”روکھا سوکھا کھانا ہمارے ساتھ کیوں نہیں کھایا؟”آپ کہاں ہوتے تھے جب ہم بیمار ہوتے تھے”جب ہمیں آپ کی ضرورت ہوا کرتی تھی ہماری زندگی کے نازک اور اہم باب میں آپ شامل نہیں تھے ہماری کسی بھی پُکار پر آنا تو دور لیکن جواب دینا تک آپ نے ضروری نہیں سمجھا اور جب آج اپنے دل کو سمجھا لینے کے بعد ہم موو آن کرگئ ہیں تو آپ کا کہنا ہے کہ مجھے معاف کردو اور ہمارے ساتھ چلو یہ کہاں کا انصاف ہوا؟”یعنی قتل کرنے کے بعد آپ مظلم سے کہتے ہو مجھ سے غلطی سے قتل ہوگیا ہے مجھے اب تم معاف کردو جبکہ وہ تو مرچُکا ہے آپ کا معافی مانگنا اور نہ مانگنا ایک برابر ہے۔۔۔فاحا بولنے پر آئی بولتی چلی گئ وہ بولی تھی تو ہر ایک کو چُپ لگ گئ تھی اور نوریز ملک جو سوچ رہے تھے فاحا اُن کو معاف کردے گی اُس کی ایسی دل دُہلانے والی باتیں سن کر اُن کو اپنا آپ زمین میں دُھنستا ہوا محسوس ہورہا تھا”اور اسیر تو لاجواب سا اُس کی پشت کو دیکھ رہا تھا اُس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ فاحا جیسی جھلی لڑکی اِس قدر گہری باتیں بھی کرسکتی تھی اُس کو تو لگا تھا فاحا ایموشنل پُھول ہوگی جو جلدی سب کچھ بھول کر اپنے باپ کے سینے سے جا لگے گی مگر اُس نے تو جیسے اپنی زندگی کے بیس سالوں کا ایک ایک دن “ایک ایک پل کا حساب مانگا تھا”جو نوریز ملک اپنی ساری دولت اور ساری شُہرت لگاکر بھی دینا چاہتے تو کبھی دے نہ پاتے اور نہ وقت کو پیچھے کی جانب دھکیل کر اُن کا کل “اُن کا بچپن خوبصورت بناسکتے تھے یا اُن کو ہر آسائش دے کر اُن کو خواہش کو پورا کرسکتے”نوریز ملک کو فاحا نے اچھے سے بتایا کہ جو چیزیں اُن کو آسان لگ رہی ہیں وہ اِتنی آسان ہے نہیں وہ اگر اُن کو معاف کر بھی دیتی تو اُن کے رشتے میں ایک جھجھک اور ہچکچاہٹ تاعمر رہنی تھی “وہ بابا بابا کرتیں اُن کے آگے پیچھے ہر وقت گھوم نہیں سکتیں تھی اور نہ اپنے تیئے اپنے باپ کو خوش کرنے کے جتن کرسکتیں تھیں”وہ معاف کردینے کے بعد بھی عام بیٹیوں کی طرح اُن سے لاڈ نہیں کرسکتیں تھیں اور نہ اُن کو وہ مقام دے سکتیں تھیں جو ہر بیٹی اپنے آپ کو دیا کرتی ہے۔”کیونکہ یہ سچ تھا اپنی زندگی کا ایک بہت اور اہم حصہ وہ گُزار چُکی تھیں وہ اپنے باپ کے سہارے بنا جینے کی عادی تھیں اب اُن کا ہونا اُن کے لیے سِوائے تکلیفوں کے کچھ بھی نہیں تھا۔۔”اب چاہے کچھ بھی ہوجاتا اُن کی زندگی میں سب کچھ نارمل نہیں ہوسکتا تھا یہ بہت مشکل کام تھا کچھ بھی آسان نہیں تھا اُن کے لیے تو بلکل بھی آسان نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *