Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 11)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

آپ کو پتا ہے آپ بہت بدتمیز ہیں”آپ کو تو یہ بھی نہیں پتاکہ لڑکیوں کو ٹریٹ کیسے کیا جاتا ہے”اگر آپ سینئر ہوکر ایسی حرکتیں کرینگے تو جونیئرز پر کیسا ایمپریشن پڑے گا؟اُس کو دیکھ کر لالی نے افسوس کا اِظہار کیا

آپ کا فرسٹ کومپلیمنٹ میں تہہ دل سے قبول کرتا ہوں۔۔۔۔عاشر سر کو خم دے کر ڈھٹائی کی حدود کو چھو کر بولا تو لالی اپنا سر نفی میں ہلاتی وہاں سے چلی گئ تو عاشر بھی مسکراکر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ڈپارٹمنٹ کی جانب چلاگیا۔۔

❤

کسی نیک بندے کی مدد سے لالی اپنی کلاس میں آکر بیٹھی تو ٹھیک پانچ منٹ بعد اُس کو کلاس میں عاشر آتا دیکھائی دیا اُس کو اپنی کلاس میں دیکھ کر لالی کا ماتھا ٹھٹکا

ہائے۔۔۔عاشر اُس کے پاس والی سیٹ پر بیٹھتا مُخاطب ہوا تو لالی نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

آپ تو سینئر تھے۔۔۔۔۔لالی نے اُلجھن زدہ لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا

ہاں مگر پھر اچانک سے میں نے خود کو ایک سال نیچے کروالیا۔۔”آپ کی وجہ سے۔۔۔۔عاشر معصومیت کے تمام رکارڈز توڑ کر بولا

میری وجہ سے؟لالی کے سر پہ سے گُزری عاشر کی بات

ہاں نہ بکاز آف یو کیونکہ آپ جتنی انوسینٹ ہیں” ایسے تو آئے دن کوئی نہ کوئی آپ کو اُلو بناسکتا ہے تو سوچا کیوں نہ پڑھائی کے ساتھ نیکی کا کام بھی کرلیا جائے آپ کو پروٹیکٹ کرنے کا۔۔۔۔عاشر نے کہا تو لالی جو بڑے غور سے اُس کو سن رہی تھی ساری بات سُن لینے کے بعد منہ کے زاویئے بگاڑ کر عاشر کو دیکھا جس کے چہرے کی رنگت مسکراہٹ ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہوگئ تھی

کیا آپ کے پاس کسی بات کا سیدھا جواب نہیں ہوتا دینے کو؟اپنے چہرے پر گِرتی لٹ کو کان کے پیچھے اُڑستے لالی نے اُس سے سوال کیا

ہوتا ہے نہ بشرطیکہ سوال کا تعلق سیدھے جواب سے ہو۔۔۔۔عاشر نے بڑی سنجیدگی سے کہا تو لالی نے بڑے ضبط سے اُس کو دیکھا پھر سرجھٹک کر سیدھی ہوکر بیٹھ گئ۔۔

اپنے بارے میں کچھ بتاؤ نہ ویسے بھی پہلی کلاس میں ابھی وقت ہے۔۔۔۔عاشر نے اُس کو بات کرنے پر اُکسایا

میں کیا کوئی پاگل نظر آتی ہوں آپ کو جو اپنے بارے میں آپ کو کچھ بتاؤں گی۔۔لالی نے ترشی نگاہوں سے اُس کو دیکھا

اپنے بارے میں بتانے والا کیا کوئی پاگل ہوتا ہے؟عاشر نے مصنوعی حیرانگی کا مُظاہرہ کیا

آپ کو پتا ہوگا خیر میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی”آپ بھی نہ کرے۔۔۔لالی نے جیسے بات ختم کرنا چاہی

ہم کلاس فیلو ہیں تو آپ برملا مجھے اپنا نام بتاسکتی ہیں۔۔۔۔عاشر نے ایک بار پھر کہا

نام تو میں آپ کو اپنا کبھی نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔لالی نے اپنی طرف سے مضبوط لہجے میں کہا

تو اگر آپ نام نہیں بتائے گی تو کیا مجھے پتا نہیں چلے گا۔۔۔۔؟عاشر نے بڑی دلچسپی سے اُس کے چہرے کے اُتاؤ چڑھاؤ دیکھے

ظاہر سی بات ہے اگر میں نہیں بتاؤں گی تو آپ کو کیسے پتا چلے گا؟لالی نے اُس کی عقل پر جیسے ماتم کیا

ہممم ویسے پتا ہے کیا؟عاشر تھوڑا اُس کے پاس جُھکا

کیا؟لالی نے اپنی ایک آئبرو اُپر کیے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

آپ خود مجھے اپنا نام بتائے گی وہ بھی کھڑی ہوکر۔”یا یونہی بیٹھے بیٹھے۔۔عاشر نے چیلینج کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

اب لالی اِتنی بھی کوئی پاگل نہیں۔۔۔لالی نے بے خیالی میں سرجھٹک کر کہا تو عاشر نے بے ساختہ اُس کو دیکھ کر اپنا سر نفی میں ہلایا تھا

“کلاس میں پروفیسر داخل ہوا تو ہر اسٹوڈنٹ اُن کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔”جو اب اپنا تعارف کروانے کے بعد اب اُن سے تعارف لے رہا تھا۔۔۔۔”

“میرا نام لالی سجاد ہے۔۔۔۔لالی کی باری آئی تو اُس نے اپنا انٹرو کروایا جس پر عاشر کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔۔

نائیس نیم لالی سجاد۔۔۔۔عاشر نے پروفیسر کا دھیان دوسری طرف محسوس کیا تو اُس کے پاس جھک کر بولا تو لالی کے دماغ میں اچانک کچھ کلک ہوا

“”آپ خود مجھے اپنا نام بتائے گی وہ بھی کھڑی ہوکر۔”یا ہونہی بیٹھے بیٹھے۔۔””””

آپ سچ میں بہت بدتمیز ہیں۔۔۔۔۔لالی کا دل چاہا بھاگ کر کہی دور چُھپ جائے مگر اُس کے لقب پر عاشر ڈھٹائی سے مسکرایا تھا۔

“میں نے پرسنلی آپ کو اپنا نام نہیں بتایا تھا۔۔۔۔لالی نے اُس کو مُسکراتا دیکھا تو کہا

ہاں مگر آپ کا اِرادہ تو مجھ نام جاننے کے اعزاز سے ساری عمر محروم رکھنے کا تھا نہ پر دیکھے میں نے اعزاز حاصل کرلیا۔۔۔۔عاشر نے فخریہ انداز میں کہا تو لالی نے اِس بار کوئی بھی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا

اچھا ایک شعر عرض کروں؟کچھ توقع گُزرنے کے بعد عاشر نے فرمانبرداری سے پہلے اِجازت چاہی تو لالی نے عجیب نظروں سے اُس کو دیکھا

پر لالی کو کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر وہ خود ہی شروع ہوگیا۔۔۔

“وہ ملے بھی تو یونی کے فرسٹ ڈے پر

اب ہم پڑھائی کرتے یا محبت۔۔۔۔

کچھ بھی۔۔۔۔۔لالی کو جھرجھری سی آئی

ہاں نہ کچھ بھی۔۔۔۔عاشر نے مسکراکر کہا

بہت خراب اُردو ہے آپ کی۔۔۔۔لالی نے جتایا

اچھا اور وہ کیسے؟عاشر نے پوچھا

شعر غلط کہا آپ نے۔۔۔لالی نے بتایا

سہی بتاؤ پھر آپ؟عاشر نے جاننا چاہا

وہ ملے بھی تو کمرہ امتحان میں

اب ہم نقل کرتے یا محبت۔۔

لالی نے کہا تو عاشر کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آئی تھی مگر اب کی اُس نے لالی کو زچ نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

فاحا آج اپنی دوست کی بِلی کو گود میں اُٹھائے گھر جانے کی کوششوں میں تھیں پر اُس کو کوئی سواری نہیں مل رہی تھی یا یوں کہنا بہتر ہوگا کہ وہ اکیلے رکشہ یا کیب میں ڈرائیور کے ساتھ جانے کو تیار نہ تھی۔۔۔۔

تم یہاں کھڑی رہو میں میشو آپو کو کال کروں زرا۔۔۔فاحا نے بلی کو اپنے پاؤں کے پاس چھوڑے کہا پھر میشا کا نمبر ملانے لگی جو مصروف جارہا تھا۔۔۔”فاحا نے کئ بار کوشش کی مگر سب بے سود ثابت ہوا تھا پھر جب اُس کی نظر اپنے پاؤں پر پڑی تو چکراکے رہ گئ کیونکہ اُس کی بلی کا نام ونشان تک نہ تھا

“مومو۔۔۔۔بلی کا نام شاید اُس نے”مومو”رکھ لیا تھا تبھی پریشانی یہاں سے وہاں دیکھنے لگی پر وہ ہوتی تو نظر بھی آتی۔۔۔۔

مومو کہاں ہو فاحا کو پریشان نہ کرو۔۔۔۔فاحا اُونچی آواز میں اُس کو پُکارنے لگی جیسے ایک ماں میلے میں اپنے گُم ہوئے بچے کو تلاش کرتی ہے۔۔۔۔

ہائے اللہ میاں میں کہاں سے لاؤں گی پیسے؟اگر مومو گُم ہوگئ اور نہ ملی تو یقیناً عیشا نے اُس کے پیسے مانگنے ہیں بار بار بول جو رہی تھی آفریکی بلی ہے بہت مہنگی ہے” پاکستانی بُلی ہوتی تو میں دے بھی دیتی بھلا یہاں بلیوں کی کمی تھوڑئی ہے پر آفریکی بلی اور پاکستانی بلی کا آپس میں کیا جوڑ؟غیرملکی بلیاں تو پاکستانی لوگوں سے زیادہ صفائی پسند ہوتی ہیں اور کہاں پاکستانی بلیاں گٹر میں گِر بھی جائے تو خود کو اپنی زبان سے چاٹ کر صاف کرتیں ہیں۔۔۔۔فاحا یہاں سے وہاں جاتی بلی کو تلاش کرنے کے ساتھ بڑبڑانے میں بھی مصروف تھی نظریں مسلسل آس پاس ہر چیز کو بڑی باریکی سے دیکھ رہی تھی سِوائے سامنے مضبوط جسامت کے کھڑے اسیر کو”

“چلتے چلتے فاحا کا سر زور سے اسیر کے بازوں پر لگا تھا جس پر اُس کے ہاتھ میں جو پستول تھی وہ گِرکر فاحا کے پاؤں پر گِری تو وہ درد سے بُلبُلا اُٹھی تھی”

اسیر جو ایک ہاتھ سے موبائل فون کان سے لگائے دوسرے ہاتھ سے پستول پکڑے کسی سے باتوں میں مگن تھا اِس اچانک افتاد پر وہ چونک کر پلٹا تھا۔۔۔۔

آپ کو لگی تو نہیں؟اسیر نے فاحا کو اپنا پاؤں پکڑتا دیکھ کر نظریں اُس کے سرخ پڑتے چہرے پر جمائے پوچھا تو فاحا اپنا درد ضبط کرتی اُس کو دیکھنے لگی جس کا چہرہ احساس سے عاری تھا

“ربڑ کا پاؤں ہے فاحا کا اُس کو چوٹ کیسے لگ سکتی ہے۔۔۔۔۔فاحا نے بڑے صبر کا مُظاہرہ کیا

آپ شاید اپنی آنکھوں کا استعمال نہیں کرتیں”اِس لیے اپنا اور دوسروں کا نقصان کرتیں ہیں۔۔۔اسیر نے اُس کو دیکھ کر طنز کہا

مہمان گھر آکر کھانے سے انکار کریں یہ بول کر کہ وہ کھانا کھاکر آئے ہیں تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سچ میں کھانا کھاکر آئے ہیں”اِس لیے اگر فاحا نے کہا کہ اُس کو چوٹ نہیں آئی تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہوا کہ سچ میں اُس کو کوئی چوٹ نہیں آئی”اُس کو چوٹ آئی یے اور بہت آئی ہے۔۔۔۔اسیر کو گِرجتا دیکھ کر فاحا بنا سانس لیے بولی

پہلے آپ سانس لیں۔۔۔۔اسیر نے اُس کو گھور کر کہا تو فاحا نے واقع میں ایک لمبی سانس لی

میری مومو گُم ہوگئ ہے میں اُس کی تلاش میں آپ کو دیکھ نہیں پائی اِس میں فاحا کی کوئی غلطی نہیں۔۔”اور نہ فاحا کسی کا جان کر نقصان کرتی ہے فاحا تو کبھی جھوٹ بھی نہیں بولتی”کیونکہ اللہ کی پکڑ سخت ہوتی ہے اور ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہیے۔۔۔فاحا نے وضاحت دے کر کہا تو اسیر بس اُس کو دیکھتا رہ گیا

“فاحا کبھی غلط ہو کیسے سکتی ہے؟”وہ تو جگ جہاں کی معصوم جو ٹھیری۔۔۔۔اسیر اُس کو دیکھ کر سرجھٹک کر بولا تو فاحا خاصی حیران نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی

آپ کو کیسے پتا کہ میرا نام فاحا ہے؟”کہی میرے پیچھے آپ نے اپنے کالے کپڑوں والے بندے تو نہیں لگائے ہوئے۔۔۔۔فاحا مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو اسیر کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے

سُنو چھوٹی لڑکی

“جی میں سُن رہی ہوں آپ بتائے آپ کو کیسے پتا کہ میرا نام فاحا ہے؟اسیر اُس کو کچھ کہنے والا تھا جب فاحا اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی

“آج ہماری بات درمیان میں کاٹی ہے دوبارہ یہ گُستاخی کبھی نہ کرنا۔۔۔۔اسیر نے سختی سے اُس کو وارن کیا

کیوں کیا آپ شھنشاہ جلال الدین اکبر ہیں؟” اور یہ سڑک آپ کی سلطنت دیکھے اگر ہے بھی تو میں فاحا ہوں آپ کی کنیز نہیں اِس لیے مجھ سے ایسے بات نہ کریں کیونکہ جو فاحا سے ایسے بات کرتا ہے”فاحا کی بہن اُس کا منہ توڑ دیتی ہے اور میری بڑی بہن کہتی ہے مجھے جس کسی سے مسئلہ ہو میں اُن کو بتاؤں تاکہ وہ اُس کو سیدھا کردیں۔۔۔۔۔فاحا عادت سے مجبور اِس بار بھی بنا رُکے بولی تو اسیر نے بے ساختہ اپنا ماتھا سہلایا تھا وہ ٹینشن فری ہونے کے لیے اکثر شہر آتا تھا مگر اِس بار شہر آکر اُس کی ٹینشن میں اضافہ ہوگیا تھا”فاحا کا یوں نان اسٹاپ بولنا اُس کے سر میں درد کررہا تھا۔۔۔۔

بڑی بہنوں کو تو اپنی چڑیل بہنیں بھی پرستان کی پری لگتی ہیں۔۔۔اسیر بس سر جھٹک کر یہی بول پایا تھا

ہاں یہ تو

آپ مجھے چڑیل بول رہے ہیں؟فاحا کچھ کہتی کہتی رُک کر اسیر کو گھورنے لگی

جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے آپ کسی کو تلاش کرنے میں تھیں۔۔۔۔اسیر نے جان چُھڑوانی چاہی

پہلے آپ بتائے میرا نام کیسے جانتے آپ؟فاحا اپنی جگہ بضد تھی

تیس بیس منٹس سے تو آپ نے یہی رٹ لگائی ہوئی ہے کہ”فاحا یہ نہیں کرتی فاحا وہ نہیں کرتی”فاحا جھوٹ نہیں بولتی”بلا بلا تو نام تو پتا لگنا تھا نہ۔۔۔اسیر زچ ہوکر بولا تو فاحا لب دانتوں تلے دباتی بے اختیار اپنا ہاتھ سر پہ مارا

میں کچھ اور سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔فاحا نے بتایا

جی اندازہ ہوگیا اب آپ جائے۔۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا

آپ اِتنے کھڑوس کیوں ہیں؟”میری مومو گُم ہوگئ ہے اگر آپ کو پتا ہے یا آپ نے اُس کو کہی دیکھا ہے تو پلیز بتائے اللہ آپ کو چاندنی جیسی بیوی دے گا۔۔۔۔فاحا نے ملتجی لہجے میں اُس سے کہا

چاندنی کون؟اسیر نے کڑے چتونوں نے اُس کو گھور کر پوچھا اُس کی سوئی تو آخری لائن پر اٹک گئ تھی کیونکہ وہ تو اکثر چاند جیسی بیوی کی دعا سُن رکھی تھی”

“چاند سے جو آتی ہے چاندنی روشن سی۔۔۔فاحا نے مزے سے کہا تو اسیر نے بے اختیار اللہ سے صبر مانگا تھا

پلیز تم جاؤ۔۔۔۔اسیر کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ خود گاڑی میں بیٹھاکر اُس کو گھر چھوڑ آتا

کیسے جاؤ مومو کے بغیر؟” اور کسی سواری کے بغیر؟فاحا نے اہم مسئلہ بیان کیا

اپنے گھر کا ایڈریس بتاؤ ہمارا ڈرائیور تمہیں چھوڑ آئے گا اور ویسے بھی کیا پتا آپ کی مومو گھر چلی گئ ہو۔۔۔۔اسیر نے کہا تو فاحا سوچ میں پڑگئ

میں کیوں آپ کے ڈرائیور کے ساتھ جانے لگی؟”اگر میرا اغوا کرلیا تو پھر؟فاحا کو جھرجھری سی آئی

پھر آپ کی بہن ہے نہ اُس سے کہنا وہ اُس کا منہ توڑدے۔۔۔اسیر دانت پیس کر بولا کہاں اُس کے سامنے کسی کی چلتی نہ تھی اور کہاں آج مفت میں ایک لڑکی کے ساتھ کھڑا خُوار ہورہا تھا۔۔۔

ہاں سہی۔۔۔فاحا کو اُس کی بات ٹھیک لگی۔۔۔

آئے۔۔۔۔اسیر نے ایک طرف آنے کا اُس کو اِشارہ کیا تو فاحا وہاں آئی جہاں پانچ بڑی گاڑیاں لائن میں کھڑی تھی”اُن کو دیکھ کر فاحا کی آنکھوں میں ستائش اُبھری تھی۔

جب امیر ہوجاؤ گی تو سب سے پہلے ایسی بڑی بڑی کار لوں گی۔۔۔”پھر آپو اور میشو آپو کو پوری رات لونگ ڈرائیو پر لے جاؤں گی ویسے بھی امیر ہونے کے بعد پیٹرول کی پرواہ کس کو ہوتی ہے۔۔۔”فاحا خود بھی عیش کرے گی اور اپنی بہنوں کو بھی کروائے گی۔۔۔فاحا گاڑیوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں سوچنے لگی

“مگر امیر ہونے کے لیے اپنا ریسٹورنٹ اور بوتیک کا ہونا لازمی ہے۔۔۔”ہاں تو جب امیر ہوگی تو پہلے وہ دونوں چیزیں لوں گی اُس کے بعد کار لوں گی۔۔۔۔اپنے خیالی پِلاؤں پکاتی فاحا مطمئن ہوتی مسکرا پڑی

“اِس گاڑی میں بیٹھیں۔۔۔اسیر نے ایک بلیک گاڑی کی طرف اِشارہ کیا تو خیالوں دُنیا سے واپس آتی فاحا نے اُس کے اِشارے کا تعاقب کیا جہاں گارڈ اُس کے لیے دروازہ کھولنے والا تھا مگر فاحا نے ٹوک دیا

فاحا خود کھول سکتی ہے اُس کے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں۔۔۔”فاحا کی بات پر گارڈ نے اسیر کو دیکھا جس نے اِشارے سے اِس کو سائیڈ پر ہونے کا کہا تھا۔۔

“گارڈ سائیڈ پر ہوا تو فاحا پرجوش انداز میں گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی۔۔

ایک بار

دو بار

تین بار

اُس نے بہت کوشش کی دروازہ کھولنے کی مگر شاید فاحا کے کھولنے کا طریقہ غلط تھا جو دروازہ کُھل نہیں رہا تھا۔۔۔”اُس کے پیچھے کھڑے اسیر نے فاحا کی پشت کو دیکھ کر بے ساختہ اپنا سر نفی میں ہلایا تھا جو ہر ممکن کوشش کررہی تھی دروازہ کھولنے کی پر شاید دروازے نے قسم اُٹھائی تھی”کُھلنا ہے مگر فاحا کے ہاتھوں سے نہیں۔۔۔

“یہ کُھل کیوں نہیں رہا ہلانکہ میں نے اپنی زندگی کی بیس سالہ جمع کی ہوئی طاقت کا استعمال کیا ہے۔۔۔۔دروازہ نہ کُھلنے پر فاحا نے پریشانی سے گارڈ کو دیکھ کر کہا

اگر آپ اِجازت دے تو ہم اپنی اٹھائیس سالہ جمع کی ہوئی طاقت کے بدولت یہ دروازہ کُھولے؟اسیر کے صبر کا پیمانہ بھی شاید لبریز ہوچُکا تھا تبھی اُس نے طنز انداز میں فاحا سے کہا تو وہ منہ بسورتی سائیڈ پر ہوئی

“ویسے تم کھاتی پیتی نہیں کیا اِتنی بے جان کیوں ہو؟اُس کو سائیڈ پر کھڑا دیکھ کر اسیر نے پوچھا

کھاتی پیتی میں بہت ہوں”سارا دن کوکنگ کرنے کے دوران ٹیسٹ کرتی ہوں تو اپنا بنایا ہوا کھانا اِتنا لذیذ لگتا ہے کہ پھر پتا نہیں چلتا سارا ختم کرجاتی ہوں۔۔۔اسیر کے پوچھنے کی دیر تھی اور فاحا شروع ہوگئ جس پر اسیر نے کچھ اور کہنا ضروری نہیں سمجھا اور” اسیر کے دروازہ کھولنے سے پہلے گارڈ نے دروازہ کھولا تو فاحا ااندر داخل ہوتی وہاں بیٹھ گئ۔۔۔

چلو مان لیا میں بے جان ہوں مگر میں تو لڑکی ہوں نہ پر یہ لڑکے ہوکر اِتنے بے جان کیوں ہیں؟”اللہ ایسی محتاجی کسی کو نہ دے کہ گاڑی کا دروازہ بھی کوئی اور کھول کر دے۔۔۔۔اسیر کے لیے بھی گارڈ نے دروازہ کھولا تو فاحا دل میں سوچنے لگی مگر اُس کے آخری الفاظ جانے کیسے دغابازی کرگئے جو سیدھا اسیر کے کانوں میں پڑے تھے

“کیا کہا آپ نے؟اسیر نے سخت ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھا

میں نے کچھ کہا کیا؟فاحا نے اُلٹا اُس سے سوال کیا تو اِس بار اسیر ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچتا اپنا رُخ کھڑکی کی طرف کرلیا۔۔۔۔۔۔

“صاحب یہ۔۔۔۔۔گاڑی اسٹارٹ ہونے لگی تو گارڈ نے نیچے گِرا اُس کا پستول دینا چاہا پر اسیر نے اُس کو اگنور کیے شیشہ اُپر چڑھالیا تھا”پھر اپنا رُخ فاحا کی طرف کیا جو غور سے گاڑی کا جائزہ لے رہی تھی اُس کو دیکھ کر اسیر کو ایسا لگا جیسے وہ پہلے بھی اُس کو کہی دیکھ چُکا ہے مگر کہاں؟”یہ اُس کو کچھ یاد نہیں آیا

آپ کی زبان کچھ زیادہ نہیں چلتی۔۔۔۔اسیر کو فاحا کا جُملا یاد آیا تو طنز پوچھا

نہیں تو میری زبان تو ہر وقت میرے منہ میں رہتی ہے یہ دیکھے آہ۔۔۔فاحا نے کہنے کے ساتھ تھوڑی زبان باہر نکالے اُس کو دیکھائی تو اسیر اپنے بال نوچنے کے قریب ہوا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ایک دن بعد

پیسے میں دے رہی تھی نہ کیا ہوتا جو تم دونوں اکیلی آجاتی۔۔۔سوہان کیب کا دروازہ کھول کر باہر آتی اُن دونوں سے بولی کیونکہ آج میشا نے سالوں پُرانی شرط کے عیوض اُس سے ڈنر مانگا تھا جو سوہان دینے پر تیار بھی ہوگئ تھی۔۔

ہمیں ساتھ کھانے کی عادت ہے نہ۔۔۔۔فاحا نے مسکراکر کہا

اچھا تم دونوں اندر جاؤ میں تب تک ایک کال سُن کر آتی ہوں۔۔۔۔سوہان نے اپنی جیکٹ بازو میں ڈالے اُن سے بولی”نظریں اُس کی اپنے سیل فون کی اسکرین پر مرکوز تھیں

ہا

میشا ریسٹورنٹ کی طرف رُخ کیے کچھ کہنے والی تھی مگر سامنے ریسٹورنٹ سے باہر آتے شخص کو دیکھ کر اُس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔”دوسری طرف اُس کا کُھلا ہوا منہ دیکھ کر فاحا نے بھی سامنے آتے شخص کو دیکھا۔۔۔”بلیو ڈریس پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے ایک بازو پر بلیو کوٹ لٹکائے ہاتھ میں پکڑے سیل فون میں مصروف وہ جو کوئی بھی تھا بلا کا خوبصورت تھا۔۔۔۔”سرخ وسفید رنگت وجیہہ نقوش چہرے پر چھائی سنجیدگی اُس کی سحر انگیز پرسنائلٹی ہر دیکھنے والے کو اپنا مرعوب بناسکتی تھی

“وہ دونوں اُس کو دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھیں شاید یہ بات اُس کو بھی پتا چلی تھی جب اچانک سے اُس نے اپنی نظریں اُٹھائی تو عین اُسی وقت سوہان کی نظر بھی اُس پر گئ تھی

“یہ تمہیں دیکھ رہا ہے یا مجھے؟میشا نے آہستہ آواز میں فاحا سے پوچھا

میری لائی ہوئی بلی پالے خوشفہمیاں نہیں یہ آپو کو دیکھ رہا ہے۔۔۔فاحا نے پوری بالٹی اُس کی سوچ پر گِرائی

“سوہان؟؟؟؟وہ سوہان کے برابر کھڑا ہوتا اُس کو دیکھ کر بولا تو اپنا کوٹ دوسرے بازو پر منتقل کرتی سوہان بھی اُس کے روبرو آئی

زوریز دُرانی۔۔۔۔۔سوہان بھی سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر بولی تو”میشا نے گردن موڑ کر فاحا کو دیکھا تھا اور فاحا نے میشا کو۔۔۔۔

سوہان۔۔۔فاحا کی زبان پھسلی

زوریز دُرانی۔۔۔میشا بھی اُس کو دیکھتی بولی پھر دونوں نے دوبارہ اپنی نظریں اُن دونوں پر جمائی جو ایک دوسرے کے مُقابل کھڑے تھے”دیکھتے ہی دیکھتے فاحا اور میشا نے ہم آواز میں کہا

انٹرسٹنگ

انٹرسٹنگ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *