Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 39)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

السلام علیکم۔اندر داخل ہوتے سوہان نے آنکھیں موند کر لیٹے ہوئے زوریز کو سلام کیا

وعلیکم السلام ۔۔جواب میں زوریز نے بنا اپنی آنکھوں کو کھولے اُس کو اُس کے سلام کا جواب دیا

“کیا ہوا ہے؟”کہیں کوئی زیادہ پین تو نہیں ہورہا؟ اُس کے اِتنے ٹھنڈے ری ایکشن پر سوہان کو فکر ہوئی تبھی اپنا بیگ سائیڈ پر رکھتی اسٹول پر اُس کے سامنے بیٹھی۔

“میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے” اور نہ اپنے ضروری کام چھوڑ کر یہاں آنے کی ضرورت تھی۔ ۔زوریز نے بے رُخی سے کہا تو سوہان جان گئ کہ بندہ سنجیدگی کی حد تک ناراض ہے۔

“میں صبح آنے والی تھی پر

“پر راستہ طویل تھا اِس وجہ سے شام ہوگئ۔ زوریز اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولا تو سوہان اُس کو دیکھتی رہ گئ جو آج اُس کو دیکھ تک نہیں رہا تھا۔

“آپ ناراض ہوگئے ہیں جبکہ ناراض ہونا تو میرا بنتا تھا۔ سوہان نے کہا تو زوریز نے پٹ سے اپنی آنکھوں کو کھول کر اُس کو دیکھا

“آپ کس خوشی میں مجھ سے ناراض ہوتی؟ زوریز نے ترچھی نگاہوں سے اُس کو دیکھا

“آپ کو کیا ضرورت تھی ہیرو بن کر میرے سامنے کھڑے ہونے کی لگ گئ نہ گولی اور پہنچ گئے ہسپتال کے بیڈ پہ۔ ۔سوہان نے وجہ بتائی

“تو آپ کیا چاہتی تھی بزدل بن کر کھڑا ہوتا یہ دیکھتا کہ آپ کو گولی کیسے لگتی ہے؟پھر کیسے آپ کے جسم سے خون بہتا ہے؟”کیسے آپ خون میں لت پت ہوتیں ہیں؟ “یہ تماشا میں دیکھتا پھر آپ شاید خوش ہوتیں مگر میں مرجاتا تب۔ زوریز نے شاید پہلی بار اُس پہ کوئی طنز کیا تھا یا ایسے غُصے کا اِظہار کیا تھا”اور جو اُس نے باتیں کی اُس کو سن کر سوہان میں ہمت نہیں بچی تھی کہ وہ کچھ اور زوریز سے کہتی۔

سامنے آنے سے اچھا تھا زبانی کہتے۔ ۔سوہان کچھ توقع بعد بولی

“آپ اِتنی انجان نہ بنے۔ ۔۔زوریز کو اُس کی بات پسند نہیں آئی

“آپ نے کچھ کھایا ہے؟ “میں سوپ بناکر لائی تھی۔ سوہان نے بات کا رُخ بدلا

“صبح سے بھوکا ہوں۔ ۔زوریز نے بتایا

“آریان نے آپ کو بھوکا کیسے رہنے دیا؟”اور کیا آپ نے اُس سے کہا تھا کہ مجھے یہاں آنے نہ دے؟ ایک خیال کے آتے ہی سوہان نے اُس سے پوچھا

“نہیں کیوں؟زوریز ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولا

“مجھے یہاں آنے نہیں دے رہا تھا”اور پھر اندر داخل ہوکر آپ کا رویہ دیکھ کر مجھے لگا شاید آپ نے منع کیا ہو۔ ۔سوہان نے شانے اُچکاکر کہا

“یہ پنگا آپ پر بھاری پڑنے والا ہے مسٹر زوریز دُرانی۔ ۔ “

“سوہان کی بات پر زوریز کے دماغ میں بے ساختہ آریان کا کہا گیا جُملا یاد آیا تھا جس پر اُس نے گہری سانس خارج کی تھی۔

“میں خفا تھا مگر میں خفگی کے باوجود آپ سے قطعاً تعلق نہیں ہوسکتا یہ بات آپ میری ہمیشہ یاد رکھیے گا۔ ۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا تو سوہان خود کو تھوڑا ان کمفرٹیبل محسوس کرنے لگی” ایک جِھجھک تھی جو اچانک اُس کو ہونے لگی تھی۔

“سوپ؟زوریز نے اُس کو بُت بن کر کھڑا دیکھا تو یاد کروایا

“ہاں سوری میں لاتی ہوں۔ ۔سوہان اپنے سر پہ ہاتھ مارتی بولی تو زوریز اُس کا چہرہ تکنے لگا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“آج فاحا گاؤں جارہی تھی” اُس گاؤں جہاں جانے کا اُس نے کبھی سوچا تک نہیں تھا” وہ گاؤں کہ اگر اُس پر اللہ کی زمین تنگ بھی ہوجاتی تو وہ پناہ لینے وہاں نہ جاتی پر ایک واعدے نے جیسے اُس کو مجبور کیا تھا کہ وہ اُس گاؤں جائے جہاں کے لوگوں نے اُس کو دھتکارا تھا” آج وہاں کے لوگ اُس کو عزت بخش رہے تھے” مگر فاحا کا دل اور دماغ اُن کے لیے خالی تھا وہ کوئی بھی خوشی محسوس نہیں کرپارہی تھی اور نہ ایسا کچھ محسوس کرنے کی اُس کو کوئی خُواہش تھی” وہ اگر یہاں آئی تھی تو اپنا ایک مقصد لیکر آئی تھی جس کو ہر حال میں اُس کو پورا کرنا تھا” چاہے اُس کے لیے اُس کو جو کچھ کرنا پڑے”لیکن اِن سب کے علاوہ اُس کو ابھی اپنے نتیجے کے آنے کا انتظار تھا کیونکہ اُس کی ساری خُواہشات اب اُس پر مبنی تھیں اگر وہ پاس نہیں ہوتی تھی تو سب نے یہی کہنا تھا کہ فاحا کچھ بھی نہیں کرسکتی” فاحا ایک ناکارہ قسم کی لڑکی ہے” مگر فاحا کو بتانا تھا پوری دُنیا کو کہ بیٹیاں کسی سے کم نہیں ہوتیں” اگر اُن کا باپ اُن کے سروں پر اعتماد سے بھرا ہاتھ رکھ دے توں وہ سب کچھ کرسکتیں ہیں” جس سے والدین کو بیٹا نہ ہونے پر کوئی افسوس نہ ہو۔

“نوریز ملک کی گاڑیاں شہر کی حدود کو کراس کرتیں اب اُن کے گاؤں پہنچ گئ تھیں”جس پر پیچھلی سیٹ پر میشا کے ساتھ بیٹھی فاحا ونڈو کی طرف رُخ کیے اپنی سوچو میں مگن ہوتی اپنے آپ سے لڑنے میں مصروف تھی اِتنا کہ اُس کو گاڑی رُکنے تک کا پتا نہیں چلا تھا۔ ۔

“فاحا اُٹھو۔ میشا نے اُس کو کندھوں سے جھنجھوڑا تو وہ جیسے ہوش میں آئی

“راستہ اِتنا جلدی ختم ہوگیا؟فاحا کو حیرت ہوئی

“اُجالے میں نکلے تھے اور اب دیکھو ہر جگہ اندھیرے کا راج ہے۔ ۔گاڑی سے اُتر کر میشا نے اُس کو جواب دیا

“یہ رہی ہماری حویلی۔ ۔نوریز ملک نے سامنے کی طرف دیکھ کر مسکراکر اُن سے کہا جس پر فاحا نے ایک اچٹنی نظر وہاں ڈالی تھی لیکن میشا نے اُن کی بات ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دی تھی

“رشید اِن کا سامان حویلی پہنچادوں۔ ۔۔نوریز ملک نے اپنے آدمی سے کہا

“اِس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

“نہیں شکریہ

وہ دونوں ایک ساتھ بولیں

“کیوں کیا ہوا؟ نوریز ملک نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھا

“کچھ نہیں ہوا بس یہ ہمارا سامان ہے اور ہم خود اندر لیکر جائینگے۔ میشا نے سنجیدگی سے کہا

“تم دونوں کیوں؟ “یہاں ملازم ہیں نہ وہ کرلینگے۔ نوریز ملک نے اُس کو سمجھایا

“ہمیں عادت ہے اپنا بوجھ خود اُٹھانے کی”اِس لیے آپ کو کسی اور کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔۔میشا اُن کی پہنچ سے اپنا بیگ دور کرتی بے تاثر لہجے میں بولی

“میشا بیٹے ضد کیوں کررہی ہو؟نوریز ملک نے نرم لہجے میں اُس کو سمجھانا چاہا

“آپ کو ضد لگتی ہوگی مگر یہ ضد نہیں ہے” بچپن سے اپنا سارا سامان اُٹھانے کے ہم عادی ہیں” اور آگے بھی اِن شاءاللہ اپنا کام خود کرینگے ہمارے ہاتھ صحیح سلامت ہیں”کسی اُور کی مدد کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔اور اب آپ اِس بات کو یہی پر ختم کردے۔ میشا دو ٹوک لہجے میں کہہ کر اپنے بیگ پر گرفت مضبوط کی تو فاحا نے بھی اپنا بیگ گھسیٹا

“تم لوگوں نے مجھے ابھی تک معاف نہیں کیا؟نوریز ملک نے سنجیدگی سے پوچھا

“ہم نے آپ کو معاف کیا”کیا ایسا کچھ ہم نے آپ سے کہا؟ اِس بار فاحا نے اُن سے سوال کیا

“میرے ساتھ آئیں ہوں تو مجھے لگا شاید۔ نوریز ملک اِتنا کہتے چُپ ہوگئے تھے

“ہم یہاں آ تو ضرور گئے ہیں پر آپ کو معاف بلکل بھی نہیں کیا کیونکہ آپ کا جُرم ہماری نظر میں ناقابلِ معافی ہے۔۔”اِس لیے معافی کی اُمید تو آپ ہم سے نہ رکھے تو بہتر ہوگا۔ ۔ میشا نے سنجیدگی سے کہتے فاحا کو اپنے ساتھ آنے کا اِشارہ دیا تھا اور نوریز ملک بس اُن دونوں کی پشت کو دیکھتے رہ گئے جو دونوں خود ہی حویلی میں داخل ہونے لگیں تھیں۔

السلام علیکم آگئیں میری بچیاں۔ ۔وہ دونوں جیسے ہی حویلی کے داخلی دروازے کے پاس پہنچی تو چار سے پانچ عورتیں کھڑی تھیں جن سے وہ انجان تھیں۔

“تم دونوں جب حویلی میں داخل ہوگی تو ایک بزرگ خاتون تم دونوں کو دیکھ کر شفقت بھرے انداز میں ملینگی اور اُن کی محبت کا جواب تم دونوں نے محبت سے دینا ہے’کیونکہ وہ رشتے میں وہ ہماری دادی لگتیں ہیں۔ ۔۔

“سلام کرنے والی جو عروج بیگم تھیں”اُن کو دیکھنے کے بعد فاحا نے گردن موڑ کر فاحا کو دیکھا تھا اور فاحا نے میشا کو پھر”جب کانوں میں سوہان کا جُملا یاد آیا تو دونوں اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاتیں اُن کی طرف بڑھیں تھیں جس سے عروج بیگم گویا نہال سی ہوگئ تھیں۔ “جبکہ فائقہ بیگم اور اسمارہ بیگم جو ایکسرے کرتی نظروں سے سامنے کی طرف دیکھ رہیں تھیں اُن کو ایسے اعتماد کے ساتھ داخل ہوتا دیکھ کر دونوں کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا” وہ تو یہ سوچے ہوئے تھیں کہ وہ جو بھی ہوگیں ڈری سہمی سی اندر آئے گیں مگر اُن کی سوچو پر جیسے پانی پِھیردیا گیا تھا۔

“آپ دونوں میشا اور فاحا ہو نہ؟ “سوہان کہاں ہے؟عروج بیگم باری باری دونوں کا ماتھا چومتی محبت سے گویا ہوئی

“فاحا کو کیسے پہچان لیا آپ نے؟ فاحا کو حیرت ہوئی

“چھوٹی گُڑیا فاحا ہی ہوسکتی ہے اور آپ کا تو نام بھی میں نے رکھا تھا”پھر ہم کیسے نہ پہچانتے۔عروج بیگم نے کہا تو اُن کے اندازِ گفتگو پر فاحا کو جانے کیوں اسیر ملک یاد آگیا تھا”جس پر اُس نے اپنا سرجھٹک کر اُس کا خیال اپنے دماغ سے نکالنے کی کوشش کی۔

“کیا تم لوگوں کو سلام کی تمیز نہیں۔ ۔فائقہ بیگم نے چُھبتے لہجے میں اُن کو مُخاطب کیا تو فاحا نے چونک کر اُن کو دیکھا جبکہ میشا نے اُن کو دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا۔

“یہ سوچ کر وہاں مت جانا کہ وہاں کے سب لوگ تم دونوں کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوجائے گے اور تم دونوں کے لیے اپنی بانہیں کُھلے گے” وہاں ایک کو اگر تم دونوں کی آمد اچھی لگے گی تو دو لوگوں کو جلن ہوگی”تم لوگوں سے کوئی بدتمیزی سے بھی پیش آسکتا ہے پر جواب میں تم دونوں نے اُن سے ایسے بات کرنی ہے جیسے حساب بھی چُکتا ہوجائے اور اُن کے علاوہ کسی اور کو اپنی بے عزتی کا احساس بھی نہ ہو۔

“آپ نے کب سلام کیا ہمیں؟”خیر السلام علیکم ۔۔۔۔سوہان کی باتوں کو یاد کیے فاحا نے معصومیت سے کہا تو اُس کی ایسی ڈرامے بازی پر فائقہ بیگم نے کلس کر اُس کو دیکھا تھا”مگر اسمارہ بیگم نے طنز مسکراہٹ سے فائقہ بیگم کو دیکھا” جن کی حالت دیکھنے لائق تھی “نورجہاں بیگم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ لوگ چاہے جو بھی کرجاتیں اِن لڑکیوں کو شکست دینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔

“آپ دونوں اندر جاکر آرام کریں”صبح کو سہی سے باتیں ہوگیں۔”اور یہ سامان نیچے رکھ دے ہم کسی سے کہہ کر آپ کے کمروں میں منتقل کروا دینگے۔ عروج بیگم اپنے ازلی نرم لہجے میں اُن کو دیکھ کر بولیں

“کیا تین کمرے الگ ہیں؟”میشا نے اُن سے سوال کیا۔

“ہاں ہمیں اُمید ہے آپ کو اپنا کمرہ پسند آئے گا اور اگر کوئی بدلاؤ کروانا چاہو تو ہمیں بتادیجئے گا سب آپ کی پسند کے مُطابق ہوجائے گا۔ ۔عروج بیگم نے مسکراکر کہا

“فاحا اور میشو آپو ایک کمرہ استعمال کرتیں آتیں ہیں” پہلے گھر میں بھی ہم دونوں ساتھ ہوتیں تھیں۔۔فاحا نے عروج بیگم کی بات سن کر بتایا

“وہ گھر تھا یہ حویلی ہے”اور یہاں کمروں کی کوئی کمی نہیں ہے”اِس لیے ایسے کوئی چونچلے نہیں ہوگے۔فائقہ بیگم نے اُس کو گھور کر کہا

“ہم آپ کو ایک کمرہ دیکھاتے ہیں پھر آپ وہ کریں جیسا آپ کو بہتر لگتا ہے۔ ۔۔”فائقہ بیگم کو تنبیہہ نظروں سے دیکھتی عروج بیگم نے مسکراکر اُن دونوں سے کہا تو میشا اور فاحا دونوں نے سراثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

واہ کمرہ تو بڑا نائیس ہے۔ فاحا کمرے میں داخل ہوتی ارد گرد کا جائزہ لیتی ہوئی بولی” جدید طرز سے بنا یہ کمرہ نہایت خوبصورت تھا جہاں موجود ہر چیز اپنی مثال آپ تھی۔ ۔

“ٹھیک ہی ہے بس اور تم یہاں کی قیمتی چیزوں سے مرعوب نہ ہونے لگ جانا”جانے کتنوں کی لاشوں کی قبروں کے اُپر تکمیل ہوئی ہے یہ حویلی۔ ۔اپنا بیگ سائیڈ پر رکھتی میشا نے سرجھٹک کر کہا

“بات تو آپ کی سوچنے لائق ہے” اور فاحا ایسی چیزوں سے مرعوب نہیں ہوتی فاحا تو یہ سوچ رہی تھی” یہاں رہنے والوں کی تعداد کتنی ہوگی؟فاحا پرسوچ لہجے میں اُس سے بولی

“کل صبح پتا چل جائے گا۔ “دادی نے کہا نہ کہ ابھی آرام کرو تو تم آرام کرو۔ ۔میشا نے جواباً کہا

“کیا وہ ہماری دادی تھی؟فاحا متجسس ہوئی کیونکہ سوہان کی بات وہ بھول گئ تھی۔

“ہاں۔ میشا نے مختصر جواب دیا

“آپ خوش نہیں نہ یہاں آکر۔ فاحا کو اُس کا پھیکا سا انداز پسند نہیں آیا

“یہ مرد لوگ نہ ہم عورتوں کو جانے کیا سمجھتے ہیں کہ” ہماری اپنی کوئی پہچان ہماری اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی” ہم تو ایک کٹھ پتلی ہوتیں ہیں اُن کی نظروں میں جس کو یہ لوگ جہاں چاہے کرسکتے ہیں” اب دیکھو نہ سالوں پہلے ہمارے اپنے سگے باپ نے یوں ہمیں بے گھر کردیا تھا اور آج اِتنے وقت بعد وہ بیٹیاں کہہ کر کہہ کر تھک نہیں رہا پر ہمیں اب اُن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ۔میشا بیڈ پر بیٹھتی سنجیدگی سے بولی جبھی اُن کے کمرے کا دروازہ نوک ہوا

“یہاں کوئی پروائیویسی ہے یا نہیں۔ میشا سخت بدمزہ ہوئی

“میں دیکھتی ہوں۔ ۔۔فاحا نے اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کیا اور خود دروازے کی طرف آئی

“بی بی جی دادی صاحب نے کہا ہے اگر کچھ کھانے کو چاہیے تو بتادو” پہلے نہیں پوچھا اُنہوں کیونکہ وہ سمجھی تھیں کہ آپ کو راستے میں نوریز ملک صاحب نے کِھیلایا ہوگا۔۔”حویلی کی ملازمہ موؤدب انداز میں کھڑی ہوتی اُس سے پوچھنے لگی تو فاحا نے مڑ کر میشا کو دیکھا کہ دو جواب اب تم خود

“بھوک نہیں مجھے۔میشا نے سنجیدگی سے انکار کیا

“ہمیں کچھ چاہیے ہوگا تو خود مینیج کرلینگے اور میرا نام فاحا ہے” بی بی جی نہیں۔ میشا کے جواب کو سُن کر فاحا نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا تو وہ سرہلاتی وہاں سے چلی گئ۔

“سوہان خود تو نہیں ہمیں اِس جنجال پورہ میں ڈالا دیا۔ ۔میشا کو یہاں آکر سکون نہیں مل رہا تھا

“کیا ہوگیا ہے آپو ابھی ہمیں یہاں آئے گھنٹہ نہیں ہوا اور ابھی سے آپ بیزار ہوگئ ہیں۔ ۔فاحا نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا

“لائیٹ آف کردو مجھے سونا ہے۔ میشا نے اُس کی بات اگنور کرکے کہا

“فریش نہیں ہوگی؟فاحا نے پوچھا

“فریش ہوکر یہاں آئی ہوں اور تم زیادہ سوال مت کرو جو کہا ہے وہ کرو۔ میشا نے زچ ہوکر کہا تو فاحا نے ویسا ہی کیا جیسا اُس کو میشا نے کرنے کا بولا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تمہاری نالائقی کی وجہ سے ہم نے اچھا خاصا کیس اُس زوریز پر کیا ہوا واپس لے لیا۔ سجاد ملک غُصے سے فون پر اُس آدمی سے بولے جن کو اُنہوں نے ہائیر کیا تھا

“مجھے لگا تھا آپ خوش ہوجائے گے۔ جواب میں وہ منمنایا تھا۔

“بہت خوش ہوا بدبخت دل چاہ رہا ہے تمہاری کھوپڑی گولیوں سے بھون دوں۔۔سجاد ملک تو گویا تپ اُٹھے تھے

“اب آپ کیا چاہتے ہیں؟اُس نے پوچھا

“یہ دو تو بچ گئیں جب تک یہاں گاؤں میں ہیں”تم کیسے بھی کرکے اُس پہلی کا کام ختم کرو۔۔سجاد ملک نے سنجیدگی سے دو ٹوک کہا

آپ پریشان نہ ہو”وہ یہاں اکیلی ہے بلکل اکیلی اور اُس کا مسیحا تو سمجھے ایک دو ماہ تک کسی کام کا نہیں رہے گا تو میں اُس بیریسٹر کو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”اُس نے جیسے اپنی بات کا یقین دِلوانا چاہا تھا

“ایسا ہونا چاہیے تمہارے پاس بس آج کی رات ہے اگر تم نے کام نہیں کیا تو سمجھو تم سے کام نہیں ہو پارہا اور ناکام انسان میرے کسی کام کا نہیں ہے۔ ۔سجاد ملک غُصے سے کہہ کر بنا اُس کی کوئی بھی بات سُنے کال کاٹ دی تھی

❤
❤
❤
❤
❤
❤

“کیا اب آپ جارہی ہیں؟زوریز نے سوہان کو دیکھ کر پوچھا جو ساری رات ہوسپٹل میں اُس کے ساتھ رُکی ہوئی تھی اور اب شاید اُس کا اِرادہ یہاں سے جانے کا تھا جس کو بھانپ کر زوریز نے پوچھ لیا

“ہاں مجھے اب جانا ہے” کچھ ضروری کام ہے۔ ۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر بتایا

“ویٹ کریں آریان آئے تو آپ کو چھوڑ آئے گا آپ کے گھر”اور آپ کو کہی بھی آنا جانا ہو”اُس کو کال کیجئے گا۔ “شام تک آپ کی سیکیورٹی کا بندوبست بھی ہوجائے گا۔ ۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا

“زوریز میں اپنی گاڑی میں آئی تھی کل اور مجھے سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ سوہان نے اُس کی بات پر انکار کیا

“آپ کو سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے” یہ بات آپ پہلے بتاچُکی ہیں اور میں سُن چُکا ہوں اور پہلے آپ کی باتوں میں آگیا تھا اب نہیں آنے والا اب آپ وہ کریں گی جو میں کہوں گا۔ زوریز کے لہجے میں کوئی راعت نہیں تھی۔

“پر زوریز بات یہ ہے کہ میں کل یا پڑسو گاؤں چلی جاؤں گی کل وہاں میشا اور فاحا کو بھی بھیج دیا تھا اب خود بھی جاؤں گی۔”تو وہاں مجھے سکیورٹی کی تو ضرورت نہیں پڑے گی نہ؟ سوہان نے بتایا تو زوریز الرٹ ہوا تھا۔

“آپ گاؤں جائے گی؟زوریز کو جیسے یقین نہیں آیا

“ہاں کل یا پڑسو تک تمہیں ڈسچارج بھی مل جائے

“مجھے ایک ہفتے تک ڈسچارج نہیں ملنے والا تو لہٰذا آپ ایک ہفتے تک اپنے گاؤں جانے کا اِرادہ ملتوی کردے۔ ۔۔اُس کی بات کاٹ کر زوریز بضد ہوکر بولا تو سوہان حیرانگی سے اُس کو دیکھنے لگی

“ایک ہفتے تک؟”مگر میری ڈاکٹرز سے بات ہوئی ہے اور اِس ہوسپٹل میں زیادہ وقت کسی بھی پیشنٹ کو ایڈمٹ نہیں کیا جاتا اور آریان نے بھی کہا تھا آپ کو دوائیوں کی سمیل سے سخت الرجی ہے۔ ۔”آپ کا دم گُھٹتا ہے وغیرہ اُس نے مجھے یہ سب بتایا اور کہا کہ آپ کل کا دن ہی بڑی مشکل سے یہاں رہے ہو” ورنہ آپ کو جیسے ہوش آیا تھا آپ اپنے گھر جانے کی رٹ لگائے ہوئے ہو۔ ۔سوہان نے ساری بات اُس کے گوش گُزار کی

“اِس آریان کی تو ایسی کی تیسی۔ ۔۔زوریز تپ اُٹھا

“کچھ کہا آپ نے؟ سوہان نے اُس کو بڑبڑاتا دیکھا تو پوچھا

“دیکھے سوہان میری حالت کافی کرٹیکل ہے میں بہت نازک صورتحال سے گُزر ہورہا ہوں” آپ کو شاید نظر نہیں آرہا میں خود سے اُٹھ تک نہیں سکتا اُس کے لیے مجھے دو سے تین سہاروں کی ضرورت ہے اور اگر ایسے میں ڈسچارچ گھر گیا تو آریان تو مجھ سے بیزار ہوجائے گا۔ “یہاں تو پھر بھی اِتنی فیمیل نرسز ہیں جو

“فیمیل نرسز؟زوریز جو سنجیدگی سے اُس کو اپنی حالت بتارہا تھا سوہان کے ٹوکنے پر اُس نے اپنے چہرے پر اُس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کیا تو گڑبڑا سا گیا

“میں نے نرسز کے ساتھ فیمیل بھی لگایا؟زوریز کو جیسے خود پر یقین نہیں آیا مگر سوہان کی نظریں یقین دلوانے کے لیے کافی تھیں

“آپ نے فیمیل نرسز کہا۔ ۔۔سوہان کی طنز نظریں زوریز پر جمی ہوئی تھیں

غلطی سے ہوگیا میں نے تو ہاسپٹل کے اسٹاف کی بات کرنا چاہی تھی” یہاں کہ ڈاکٹرز ہوگے تو مجھے جو تکلیف ہوگی میں اُن کو بتادوں گا۔۔زوریز نے وضاحت کی” مگر بُرے وقت پر کیونکہ عین اُسی وقت وہاں ایک فیمیل نرس چہرے پر مسکراہٹ سجاتی ہوئی آئی تھی۔

“ہیلو سر اب آپ کیسے ہیں؟”مجھے آپ کے بھائی نے بتایا کہ آپ کو شرٹ چینچ کروانے میں میری مدد چاہیے۔ ۔نرس نے کہا تو زوریز کے چہرے کی ہوائیاں اُرگئ تھیں”جبکہ سوہان نے حیرت سے زوریز کو دیکھا

“یہ اگر مجھے مسکراکر دیکھ رہی ہے تو اِس میں میری کیا غلطی؟زوریز کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیسے سوہان کو بتائے کہ یہ آریان کی چال ہے اُس کے خلاف۔

“رائٹ۔ ۔۔سوہان کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے جبکہ زوریز نے بے ساختہ اپنا خشک پڑتا گلا صاف کیا تھا۔

“سر مے آئے؟نرس نے زوریز کا دھیان اپنی طرف کروانا چاہا تو زوریز چہرے پر زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائے سوہان کو دیکھنے لگا جس کا پورا چہرہ سرخ پڑگیا تھا

“میں اگر خوبصورت ہوں تو اِس میں میری کیا غلطی؟زوریز کے اِس جُملے نے جیسے جلے پر نمک کا کام کیا تھا اور سوہان نے بنا کوئی لحاظ کیے اور بغیر اُس کی کنڈیشن کا سوچے پاس پڑے پانی کا گلاس اُٹھائے اُس کے چہرے پر گِرایا تھا”نرس کا ہاتھ اپنے منہ پر پڑا تھا” زوریز اپنے شرٹ کو دیکھ رہا تھا جہاں چہرے سے گِرتا پانی اُس کی شرٹ کو بھگو گیا تھا۔ “اور سوہان ایک اچٹنی نظر زوریز پر ڈالتی وہاں سے واک آؤٹ کرگئ تھی۔

“سوہان میری بات تو سُنیں۔۔ہوش میں آکر زوریز نے اُس کو آواز دے کر روکنا چاہا مگر سب بے سود سوہان کو جانا تھا سو وہ چلی گئ۔ ۔

“میں آپ کی شرٹ بدل وادوں؟نرس نے کہا

“سسٹر آپ تو مجھے معاف رکھے اور جائے یہاں سے۔ ۔۔زوریز تپ کر اُس کو دیکھنے لگا تو” لفظ سسٹر پر نرس کو غشی سی طاری ہوگئ تھی۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“میشا کی آنکھ صبح پانی کی بوچھاڑ سے کُھلی تھی۔ “جس پر وہ ہڑبڑا کر اُٹھی تو نظر سامنے فاحا پر گئ جس کے ہاتھ میں پانی کا جگ تھا اُس کی کارستانی کا سوچ کر میشا کو اُس پر تاؤ آیا۔

“فاحا کی بچی یہ کیا حرکت ہے؟میشا بیڈ سے اُٹھتی غُصے سے اُس کو گھورنے لگی۔

صبح کے گیارہ کا وقت ہوگیا ہے اور سلام ہے آپ کی نیند کو جس پر ابھی تک خلل بڑی مشکل سے پڑا ہے۔۔۔فاحا نے جواباً طنز کیا

“تو عقل کی اندھی ایسے کون جگاتا ہے کسی کو۔۔میشا اپنی حالت کو دیکھ کر بولی

“میں جگاتی ہوں کیوں کیا کوئی مسئلہ ہے؟فاحا نے کمر پر ہاتھ ٹِکاکر کہا کیونکہ صبح سے وہ نارمل انسانوں کی طرح میشا کو جگانے کی کوشش کرچُکی تھی مگر مجال تھی جو میشا اُٹھتی۔

“تمہیں تو میں اب بتاتی ہوں۔۔میشا خطرناک تیوروں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو فاحا خالی جگ اُس کی طرف پھینکتی باہر کو ڈور لگانے لگی تھی۔”

“بھاگتی کہاں ہو تمہیں تو آج مجھ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔۔۔”میشا بھی جگ نیچے پھینکتی اُس کے پیچھے پیچھے بھاگتی تپ کر بولی مگر باہر بھاگتے ہوئے فاحا کو سمجھ نہیں آیا اب وہ کس سمت جائے کیونکہ یہ حویلی اُس کو بھول بھولیے سے کم نہ لگی تھی۔۔”بھاگتے بھاگتے اُس کو اچانک سیڑھیوں کی لمبی قطار نظر آئی تو وہ وہاں کی طرف بڑھی

“فاحا میں کہتی ہوں رُک جاؤ یہ جو بغیر کھائے تم میری بھاگنے کی ایکسر سائیز کروا رہی ہو نہ اُس کا حساب الگ سے ہوگا۔۔فاحا کے بھاگنے کی اسپیڈ تیز دیکھ کر میشا کو مزید اُس پر تاؤ آیا تھا جس کے بھاگنے کی اسپیڈ آج کچھ زیادہ تیز تھی جیسے کوئی جوش چڑھا ہو بھاگنے کا۔

“ایکسر سائیز اچھ

“بھاگنے والے انداز سے سیڑھیاں اُترتی فاحا نے مڑ کر اُس کو جواب دینا چاہا تھا جس پر اُس کا تصادم اچانک سے کسی کے ساتھ ہوا تھا جس سے وہ خود گِرنے والی تھی”مگر میشا جو اب اُس کے قریب آگئ تھی جلدی سے اُس کو گِرنے سے بچالیا تھا مگر فاحا کے چہرے کی رنگت پیلی زد ہوگئ تھی کیونکہ اُس کے دھکے سے فائقہ بیگم زمین بوس ہوئیں تھیں اور وہی اپنا پاؤں پکڑ کر اُنہوں نے واویلہ مچادیا تھا جس وجہ سے حویلی کے سب افراد وہاں جمع ہوگئے تھے۔۔”میشا نے اُن کی چیخ و پکار پر کان میں اُنگلی ٹھونسے بیزاری سے اُن کو دیکھا تھا”کیونکہ وہ سیڑھیوں کی بس آخری زینے سے گِڑی تھی جس سے کوئی بھی گِرتا اُس کو زیادہ چوٹ نہ آنی تھی۔

“اللہ خیر کریں کوئی سیریس انجری تو نہیں نہ آئی؟”اُونچائی بُرج خلیفہ جتنی سے آپ گِری ہیں اللہ آپ پر رحم کرے۔ ۔میشا نے چہرے پر مصنوعی فکرمندی کے تاثرات سجائے پوچھا تو فائقہ بیگم جو چیخنے میں مصروف تھیں کاٹ کھاتی نظروں سے اُن دونوں کو دیکھنے لگی جس پر فاحا نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے اُن کو دیکھا اور میشا نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کیونکہ وہ اُس کو کل کے رویے کی وجہ سے ایک آنکھ نہیں بھائی تھیں۔۔۔”جبکہ اُن دونوں کے چہرے پر مسکراہٹیں دیکھ کر فائقہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اُن دونوں کا حشر نشر کردیتی جنہوں نے اپنے پہلے ہی دن اُن کو صبح صبح رات کے تارے دیکھا دیئے تھے۔”البتہ وہاں آتیں نورجہاں بیگم نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *