Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 22)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 22)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
سوہان کی آنکھ صبح دیر کُھلی تھی اور جب وہ سو کر اُٹھی تو اُس کا سیل فون مسلسل بج رہا تھا۔۔۔”وہ اپنے بال جوڑے میں مُقید کرتیں سیل فون کی اسکرین کو دیکھا تو کسی انون نمبر سے پچاس کالز لگیں ہوئیں تھیں”یہ دیکھ کر اُس کو تھوڑی حیرت ہوئی مگر پھر ایک خیال کے آتے ہی اُس نے کال بیک کرنا ضروری نہیں سمجھا”اُس کو لگا شاید کوئی ملک خاندان سے ہو۔۔”یہی سوچ کر وہ نمبر بلاک کرنے والی تھی”جب مسیج ٹون بجی۔۔۔”
“حضرت عبد الله بن عباس (رضی الله عنہ ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کےلئے جانے والی عورتوں پر اور ان لوگوں پر لعنت فرمائ جوقبروں کو سجدہ گاہ بنائیں اور جو قبروں پر چراغ جلائیں -“
“مسیج پڑھ کر اُس کو اُچنبھا ہوا یہ اُسی انون نمبر سے آیا ہوا تھا۔۔۔”جس کو وہ اگنور کررہی تھی۔۔”لیکن دوسری طرف والا بھی کوئی ڈھیٹ کا سردار ثابت ہوا تھا
“آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ لڑکیوں کا قبرستان آنا سہی نہیں ہے۔۔۔۔”
“کانوں میں زوریز کے الفاظ تازہ ہوئے تو اُس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ سر پہ مارا تھا۔۔۔
“زوریز دُرانی۔۔۔نمبر دیکھ کر وہ آہستہ سے بڑبڑائی تھی۔۔”اور جب اگین کال آنے لگی تو اُس نے کال ریسیو کرلی۔۔۔
“میں جانتی ہوں ہمیں قبرستان جانے کی اِجازت نہیں ہوتیں اور میں ویسے بھی ایک یا دو بار گئ ہوں تو آپ کو بار بار مجھے شرمندہ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔کال اُٹھاتے ہی سوہان نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا تھا۔
“آپ مجھ پہچان گئ؟دوسری طرح ریوالونگ چیئر پر جھولتے زوریز مبہم مسکراہٹ سے بولا تھا
“ؑبدقسمتی سے۔۔۔سوہان نے روکھے لہجے میں کہا
“ایسی بدقسمتی ہو تو خوشقسمت ہونے کی دُعا کون کرے گا؟زوریز پرسوچ لہجے میں بولا
“آپ کو کوئی ضروری کام تھا؟سوہان نے سنحیدگی سے پوچھا
“جی اپنے کیس کے مُطلق آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا آپ بتائے”آپ کب فری ہوتیں ہیں؟زوریز نے سنجیدگی سے پوچھا
“میں فِری نہیں ہوتیں۔۔۔سوہان نے بتایا
“اوو یعنی آنے والے سال میں الیکشن آپ جیتنے والی ہیں” چلو یہ تو بہت اچھی بات ہے ویسے الیکشن جیتنے کے بعد آپ سب سے پہلے پاکستان کے لیے کیا کرنا پسند کرے گی؟زوریز اُس کی مصروفیت کا سُن کر بولا تو سوہان نے اپنی آنکھوں کو بند کرکے کُھولا تھا
“آپ کا اپنا وکیل کہاں ہے؟سوہان نے پوچھا
“وہ اپنی بیوی اور اپنے بچوں کے ساتھ چھٹیوں پر ہے۔۔۔۔زوریز نے بتایا
“کیس کی فائل آپ میرے پاس بھیج دے۔۔۔”وہ دیکھ کر میں کوئی فیصلہ لوں گی۔۔۔سوہان نے کہا
“کیس مل بیٹھ کر ڈسکس کرتے تو اچھا تھا۔۔۔زوریز نے کہا
“میں گھر میں دیکھ لوں گی آپ بس فائل بھیج دینا باقی کا کام میرا ہے۔۔۔۔سوہان نے اُس کی پیش کش کو رد کیا
“آپ کے گھر کا ایڈریس؟زوریز نے پوچھا
“مجھے نہیں لگتا وہ مجھے بتانے کی ضرورت ہے”کیونکہ جس شخص کو میرا پرسنل سیل نمبر مل سکتا ہے اُس کو گھر کا ایڈریس بھی پتا ہوگا”اور مجھے تو اب یہ لگ رہا ہے جیسے آپ نے میرے فون میں کوئی چِپ چُپکائی ہوئی ہے۔۔۔سوہان نے تپ کر کہا
“اللہ اللہ آپ نے تو مجھے گینگسٹر بنادیا آپ کے سیل فون میں چِپ؟”کیا واقعی میں آپ کو ایسا لگتا ہے؟”مجھے تو اِن چیزوں کا پتا نہیں میں کوئی ISI کا بندہ تھوڑئی ہوں اور جو آپ نے کہا ویسا تو کبھی میں نے سوچا تک نہیں۔۔۔زوریز جلدی سے وضاحت کرتا بولا
“میں آپ سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتی آپ کیس کی فائل بھیج دے وہ دیکھ کر اگر مجھے لگا ہمیں ملنا چاہیے تو میں آپ کے آفس آجاؤں گی۔۔۔۔سوہان نے کہا
“ٹھیک ہے گُڈ لک۔۔۔زوریز نے سر کو خم دے کر کہا
“خُدا حافظ۔۔۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی سوہان نے کال کاٹ دی تھی۔۔۔
“زوریز سے بات کرنے کے بعد وہ باہر آئی تو گھر میں کوئی بھی اُس کو نظر آیا۔۔۔۔”بس لاؤنج کی ٹیبل پر ایک چِٹ اُس کو نظر آئی جس کو دیکھ کر سوہان اُس کی طرف آئی۔۔
“انسٹی ٹیوٹ میں آج سوئیٹ ڈِش کُمپیٹیشن ہے فاحا اِس لیے آج جلدی گھر سے نکل گئ ہے آپ کا دُعا کیجئے گا۔۔”میرے نمبرز اچھے آئے۔۔۔”اور آپ کے لیے میں نے انڈا بوائل کرلیا تھا کہی بھی جانے سے پہلے ناشتہ کرلیجئے گا”میشو آپو نے ایک ہسپتال میں نرس کی جاب دیکھ لی ہے وہ کیفے کے بعد وہی جایا کرے گی اب۔۔۔
“فاحا”
چِٹ پڑھ کر جہاں پہلے اُس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئ تھی مگر اُس کی آخری لائن نے سوہان کو پریشان کردیا تھا۔۔
“اففف میشا تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔سوہان چِٹ کو واپس رکھتی آہستہ آواز میں بڑبڑائی







ہمیں سروے کرکے تمہارا منہ بنا ہوا ہے باقیوں کو تو بڑی خوشی سے کافی سرو کرتی ہو۔۔۔۔”میشا جس کا موڈ آج ایک بار پھر آف تھا اور کسی بھی کام میں اُس کا دل نہیں لگ رہا تھا لیکن اُس کے باوجود وہ آج اپنی جاب پر آئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی آج بھی اگر وہ کام پر نہ آتی تو سیلری میں اُس کے پیسے کٹ جاتے پر آج وہ ایکٹو نہیں تھی جبھی ایک آوارہ لڑکا جو ہمیشہ اُس پر نظریں ٹِکائے بیٹھتا تھا آج جیسے ہی اُس کو موقع ملا وہ میشا کی کلائی دبوچ کر بولا تو اُس نے ایک اچٹنی نظر اُس پہ ڈال کر اپنی کلائی آزاد کروائی تھی”وہ چاہتی تو اُس کی ایسی جُرئت پر منہ توڑ سکتی تھی مگر بات یہ تھی کہ وہ ایسا چاہ کر بھی نہیں کرسکتی تھی کیونکہ یہ لوگ کیفے کے ریگولر کسٹمرز تھے جن کی عزت اُس کو ناچاہتے ہوئے بھی کرنا پڑ رہی تھی مگر دل میں اُس نے پکا اِرادہ کرلیا تھا کہ کیفے کے باہر اُس سے دو دو ہاتھ ضرور کرے گی۔۔۔
“آئیندہ آپ کو شِکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔۔میشا نے دانت پیس کر اُس کو دیکھ کر کہا
“ہممم سہی اور ذرہ اپنی اوقات میں رہا کرو تم۔۔۔۔وہ دوبارہ سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر بولا تبھی کیفے میں آریان داخل ہوا تھا اور اندر آتے ہی اُس کی متلاشی نظریں میشا کو ڈھونڈنے میں تھی جو جلد ہی اُس کو نظر آئی دور سے ہی وہ بحث کی نوعیت کا اندازہ لگاسکتا تھا تبھی اپنی آنکھوں سے گاگلز اُتارے وہ خون آشام نظروں سے اُس لڑکے کو دیکھنے لگا جس نے میشا کا ہاتھ اپنی گرفت میں پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔”آریان سے مزید دیکھنا برداشت نہیں ہوا تبھی اپنے قدم اُن دونوں کی طرف بڑھانے لگا
“ہاتھ چھوڑا میرا کمینے انسان ورنہ وہ حال کروں گی کہ تمہاری سوچ ہے۔۔۔۔میشا نے دبے دبے انداز میں اُس کو وارن کیا۔
“نہیں چھوڑتا دیکھتا ہوں تو کیا کرلیتی ہے بلیڈی کال گرل۔۔۔۔۔اُس شخص کا اِتنا کہنا تھا اور لمحے بھر میں میشا کا دماغ گُھوم گیا تھا جبھی بنا کچھ سوچے سمجھے وہ اُس آدمی کا سر بالوں سے دبوچے پوری قوت سے اُس کا چہرہ ٹیبل پر مارا تھا۔۔۔
“ایک زوردار آواز نے کیفے میں موجود ہر شخص کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔”وہ لوگ حیرت اور بے یقین نظروں سے میشا کو دیکھنے لگے جو بہت آرام سے کھڑی اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی اُس کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس نے کچھ کیا ہی نہ ہو مگر ایک آریان تھا جس کی نظریں جو اُس پر ہٹیں نہیں تھیں اور جب اُس نے میشا کا ایسا جلادی روپ دیکھا تو کتنے ہی پل وہ ساکت اور جامد کھڑا خود کو یقین دِلانے کی کوشش کروانے لگا کہ اُس نے ابھی جو دیکھا وہ کیا تھا؟کیفے میں چھائی ہلچل نے بھی اُس کو اپنی طرف متوجہ نہیں کیا تھا وہ تو بس آنکھیں پھاڑے اُس کو آدمی کو دیکھنے لگا جو نڈھال سا اپنے سر سے اور ناک سے نکلتے خون کو دیکھ رہا تھا۔۔۔”یہ دیکھ کر آریان کا گلا بے ساختہ خُشک ہوا تھا۔۔۔”وہ تو میشا کے سامنے آج ہیرو بننا چاہتا تھا پر جو منظر اُس کو دیکھا تھا اُس منظر نے اُس کی ساری ہیروگیری نکال دی تھی۔۔۔۔
“آریان پوری دُنیا میں تمہیں ایک یہی لڑکی ملی تھی دِل لگانے کے لیے جو مارنے مرنے پر اُتر آتی ہے۔۔۔۔۔آریان سامنے والا سین دیکھ کر خود کو کوسنے لگا
“سوچ لو کل کو شادی کے بعد ایسا نہ ہو کہ تمہیں سوتا دیکھ کر گلا دبادے کے تمہیں ماردے پھر میت کے پاس بیٹھ کر یہ بولے کہ مجھے اپنے علاوہ کسی اور کا سونا پسند نہیں اور جو میرے ساتھ سوتا ہے میں اُس کو ہمیشہ کے لیے گہری نیند سُلادیتی ہوں۔
اور جب کانوں میں زوریز کے الفاظ تازہ ہوئے تو جیسے اُن الفاظوں نے اُس کی رہی سہی پست پیچھے کردی تھی۔۔۔
“لوگوں کو ملتیں ہوگیں وراثت میں جائیدادیں مگر مجھے تو بھئی غُصہ ملا ہے اِس لیے میشا عرف میشو سے ٹکر لیتے وقت سوچ لیا کرو۔۔۔۔میشا نے وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا تھا تبھی وہاں کیفے کا مینجر آیا تھا۔۔۔
“مس میشا آپ میرے ساتھ آئے۔۔۔اُس نے میشا کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“ُپتا ہے آپ نے کیا کہنا ہے وہاں آنے پر یہی نہ میں نے تمہیں لاسٹ وارننگ دی تھی پر تم نہیں سُدھری کیونکہ تم میں سُدھرنے والی ہڈی نہیں تو بھئی میں ایسی ہی ہوں”آپ نے جاب سے نکال کر شوق پورا کرنا ہے تو کرلوں مگر اُس سے پہلے اِس مہینے کے پچیس دن میں نے کام کیا ہے اور باقی کے بچے دن بھی کام کروں گی اور اِس ماہ کی مجھے اپنی سیلری چاہیے پھر تم جانو اور یہ کیفے میں آتے آوارہ گھٹیاں کسٹمر۔۔۔۔”میشا کا کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔۔مینجر کو دیکھتی میشا نے ایک سانس میں اُس سے کہا تھا جس پر آریان کافی تعجب سے اُس کو دیکھنے لگا۔۔
“ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے یہ انڈرورڈ کی ڈون عرف ڈونی یا ایسے کسی خاندان سے اُس کا تعلق ہو”ویسے اٹیٹیوڈ تو کسی لیڈی گینگسٹر سے کم نہیں مگر میری مت کیوں ماری تھی جو اِس سے دل لگایا اب آریان وہ دن دور نہیں جب تیرا خوبصورت چہرہ میشا عرف مشی کے خوبصورت پیارے ہاتھوں سے ضائع ہوگا۔۔۔آریان اور اُس کی سوچ جوبن پہ تھی۔۔۔
“آپ نے میرا نُقصان کیا ہے ایسے میں بھول ہے آپ کی کہ آپ کو سیلری ملے گی۔۔۔مینجر نے اُس کو دیکھ کر سخت لہجے میں کہا
“کیا کہا زرا دوبارہ کہنا؟میشا کڑے تیوروں سے اُس کو گھورتی ایک قدم آگے آئی تو وہ بیچارہ گڑبڑا سا گیا
“میں نے کہا حساب کِتاب کے بعد آپ کو آپ کے پیسے مل جائے گے۔۔۔۔مینجر نے ہکلاہٹ سے کہا تو کیفے میں کھڑے لوگوں کی ہنسی چھوٹ گئ تھی
تمہارے لیے اچھا ہوگا۔۔۔۔میشا طنز مسکراہٹ سے کہتی واشروم کی طرف بڑھ گئ تھی
“آریان تیرا کیا ہوگا؟”کیا تُجھے اب محبت چھوڑ دینی چاہیے؟آریان کان کی لُو کُھجاتا آہستہ آواز میں بڑبڑایا تھا پھر ایکدم جیسے چونک پڑا
“بلکل بھی نہیں محبت میں ڈرنا تھوڑی ہوتا ہے تو کیری آن آریان جو ہوگا دیکھا جائے گا ویسے بھی اُس جنگلی بلی کو میں سنبھال لوں گا کوئی مشکل بات نہیں اِس میں۔۔۔۔آریان اپنے ڈھیٹ پن کا ثبوت دیتا وہاں جانے لگا جہاں میشا گئ تھی۔۔۔
“اور میشا ویٹریس کے یونیفارم سے آزاد ہوتی اپنے کپڑے پہن کر جیسے ہی باہر نکلی نظر آریان پر گئ
“تم یہاں؟میشا غُصے سے اُس کی طرف بڑھی تھی
“کیا ہوگیا ہے ڈرالنگ میں ہوں آریان۔۔۔۔آریان اِتنے بے تُکلف انداز میں اُس سے مخاطف ہوا جیسے روزانہ دونوں کی باتیں ایسے ہوا کرتیں تھیں۔۔
“ڈارلنگ؟میشا بونچارتی نظروں سے اُس کو گھورنے لگی
“ہاں تم میری ڈارلنگ ہو نہ بس جو آج اُس لڑکے کے ساتھ کیا کبھی وہ میرے ساتھ نہ کرنا۔۔۔آریان نے مسکین شکل بنائے کہا
“او تو وہ تم نے دیکھا؟میشا بازوں سینے پر باندھتی اُس کو دیکھ کر بولی
“ہاں دیکھا بلکل دیکھا”اور کتنے پل میں تو ایک جگہ کھڑا کا کھڑا ہوگیا تھا۔۔آریان نے بتایا
“تو میں یہ سمجھوں کہ تمہارے دل میں خوف بیٹھ گیا ہے؟میشا کے چہرے پر طنز مسکراہٹ آئی تھی دل کے کسی کونے میں اُس کو خوشی بھی ہوئی تھی یہ سوچ کر کہ شاید وہ اب اُس کی جان چھوڑدے
“ایسا دل نہیں رکھتے جو خوفزدہ ہوجائے میں تو یہاں تمہیں داد دینے آیا تھا یار کیا زبردست انداز ہوتا ہے تمہارا اب بھی دیکھو نہ کیسے پرسکون کھڑی ہو تمہیں یہ بھی ڈر نہیں کہ وہ لڑکا تمہارے خلاف پولیس میں کیس کرسکتا ہے۔۔۔آخر میں آریان نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی۔۔۔
“یو نو واٹ تمہاری طرح میں بھی ایسا دل نہیں رکھتی جو تھوڑی تھوڑی باتوں پر خوفزدہ ہوجائے۔۔۔”اب تم ہٹو میرے راستے سے کہی میرا میٹر دوبارہ سے شاؤٹ نہ ہوجائے۔۔۔۔میشا اُس کو گھور کر بولی
“اب ہمارے راستے تو ہمیشہ کے لیے ایک ہیں۔۔۔۔آریان دانتوں کی نُمائش کرتا اُس سے بولا تو میشا نے ایک پنج اُس کو مارنا چاہا تھا پر آریان بڑی مہارت سے جُھک کر اُس کے پیچھے کھڑا ہوگیا تھا جس سے میشا حیران ہوئی
“کیا میں یہ سمجھوں کہ تمہیں سیلف ڈیفنس آتا ہے۔۔۔میشا اُس کی طرف مڑ کر بولی
“ہاں تم کہہ سکتی ہو ویسے کیا یہ ممکن نہیں کہ اب ہمیں نارمل انسانوں جیسا برتاؤ کرنا چاہیے یعنی میں اٹھائیس سال کا خوبرو نوجوان اور تم تیس سالہ خوبرو خاتون ہو ہمیں ایسی پچکانی حرکتیں سوٹ نہیں کرتیں ہمیں سنجیدہ ہوکر اب کوئی ایک فیصلے پر پہنچ جانا چاہیے۔۔۔۔آریان گلا کھنکھار کر بولا
“میں تیس سال کی خاتون نہیں ہوں۔۔۔میشا نے جیسے اپنے لیے بس یہی سُنا تھا۔
ڈونٹ وری خوبرو ایڈ کیا ہے۔۔۔آریان نے اُس کو تسلی دی
“دیکھو مسٹر
“آریان دُرانی نام ہے میرا۔۔۔۔میشا کچھ کہنے والی تھی جب آریان اُس کی بات کاٹ کر اپنا ہاتھ بڑھاکر بولا
“واٹ ایور۔۔۔۔۔میشا نے سرجھٹکا
“ہاتھ دے ڈالو ویسے بھی تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ سے ٹچ نہیں ہوگا اِس لیے یہ مت سوچو کہ میرے لمس سے تمہاری رات کی نیند اور صبح کا سکون اُڑ جائے گا۔۔۔۔آریان اُس کے ہاتھوں کو دیکھ کر بولا تو میشا تپ اُٹھی
“میرا نام میشا ہے اور میں کوئی عام لڑکی نہیں اِس لیے سوچ سمجھ کر فلرٹ کرو۔۔۔۔میشا بلاخر اُس سے ہاتھ ملاتی بولی
“آریان ہوں میں جو فلرٹ نہیں محبت کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔۔۔۔آریان فخریہ انداز میں بولا
اچھا ایک بات پوچھوں؟میشا تھوڑا اُس سے نارمل ہوئی
“ایک کیوں ہزار پوچھو۔۔۔آریان خوش ہوکر بولا
تم کرتے کیا ہو؟میشا کی نظریں کسی ایکسرے کی طرح اُس کا جائزہ لینے لگی۔۔
“تم سے پاکستان کے قرضے جتنی محبت کرتا ہوں
“یہ محبت ہمیشہ زندہ رہے گی بھٹو کی طرح۔۔
“جواب میں آریان اُس کے پاس گُھٹنوں کے بل بیٹھ کر دلکش انداز میں بولا تو میشا کے سر پہ لگی اور تلوؤ پہ بُجھی
“تو طے پایا تم کبھی نارمل نہیں ہوسکتے اور نہ نارمل انسانوں جیسا انداز اپنا سکتے ہو۔۔۔۔میشا ایک تھپڑ اُس کے کندھے پر مارا جس سے آریان نے بچوں کی طرح مُنہ بنایا
“اِس کو پرپوز کرنا کہتے ہیں اور کیا تمہاری نظر میں اپنے دل کا حال بیان کرنا ابنارمل انسان کے زمر میں آتا ہے؟آریان اپنی جگہ سے کھڑا ہوکر بولا
“لِسن
آریان۔۔۔
آریان نے اُس کی بات درمیان میں اچک لی
ہاں جو بھی میں تمہارا پرپوزل پورے ہوش وحواس سے قبول نہیں کرتی۔۔۔میشا نے بیزاری سے کہا
مائے ڈارلنگ ایسا تو نہ کہو۔۔۔آریان ڈرامائی انداز میں بولا
“تم ایک نان سیریس انسان ہو۔۔۔۔میشا نے اُس کو گھور کر کہا
“بلکل اگر میں سیریس ہوتا تو کیفے کے بجائے ہسپتال کے کسی وارڈ میں ہوتا۔۔۔۔آریان باز نہ آیا تھا
“اچھا میں تمہیں ایک بات بتاتی ہوں جس کا تعلق ہمارے خاندان کی عورتوں سے ہے۔۔۔میشا نے کچھ سوچ کر کہا
“کیا اُن عورتوں میں تمہارا شُمار ہوتا ہے۔۔۔آریان نے پوچھا
ہاں۔۔۔میشا نے اپنے لفظ پر خاصا زور دیا
اچھا پھر بتاؤ۔۔۔۔آریان نے اُس کو اِجازت دی
دیکھو ہمارے خاندان میں یہ ہوتا ہے ایسا سمجھو جیسے ہمارے خاندان کی عورت کو یہ بُددعا ہے وہ جس لڑکے سے پہلی شادی کرتی ہے وہ لڑکا شادی کی پہلی رات جب کمرے میں آتا ہے تو وہ مرجاتا ہے۔۔۔میشا کہہ کر کِن آکھیوں سے اُس کو دیکھا
کوئی نہیں میں شادی کی دوسری رات کمرے میں آجاؤں گا اب جہاں اِتنا انتظار کیا ہے وہاں ایک رات کا اور سہی۔۔۔۔آریان نے گویا اُس کی بات ہٙوا میں اُڑائی تھی اور میشا اُس ڈھیٹ انسان کو گھورتی رہ گئ
تمہیں یہ مذاق لگ رہا ہے؟
یقین کرو بلکل بھی نہیں وہ تو میں نے اندازا لگایا ویسے بھی تمہاری بات سے یہی ثابت ہوتا ہے جس نے بھی بددعا دی ہے اُس کی مُدت شادی کی ایک رات تک ہے۔۔۔آریان نے مزے سے کہا تو میشا صبر کا گھونٹ بھر کر اُس کو دیکھتی رہ گئ وہ جان گئ آریان جیسی بلا سے اُس کو چُھٹکارا اِتنی آسانی سے ملنے والا نہیں تھا۔
Rimsha Hussain Novels![]()
“اسلحان چچی کا آج سے کچھ سال پہلے انتقال ہوگیا تھا اُن کو کینسر جیسا مرض لاحق ہوگیا تھا۔۔۔”اور اگر بات کی جائے آپ کی بیٹیوں کی تو وہ کسی خاتون کے ساتھ ایک ساتھ رہتیں ہیں۔۔۔”کل تک آپ کو میں اُن کی تصاویر دیکھادوں گا۔۔۔”گھر اِن کا کرائے کا ہے یہاں اُن کا اپنا گھر بھی تھا جو اُن کے بھائی نے لیکر دیا تھا”مگر جس مُحلے میں تھا وہاں کے لوگوں کا برتاؤ کافی خراب تھا”یہی وجہ تھی کہ اسلحان چچی اُن تینوں کو لیکر کرائے کے مقان میں رہنے آئیں تھیں اور اپنا گھر اُنہوں نے کرائے پر چڑھایا تھا جہاں اُتنی آمدنی ہوجاتی تھی کہ گھر کا گُزر بسر ہوجاتا کرتا “تعلیم کے اخراجات وہ اُن سے پورا کرتیں تھیں جو ان کے بھائی نے اُن کو جائیداد کا حصہ دیا تھا مگر وہ ختم ہوگئے تو اپنا گھر بیچ ڈالا اُنہوں نے اور وہ پیسے اسلحان چچی کے علاج میں لگے تھے اب وہ تینوں کماتیں ہیں تو کھاتیں ہیں ورنہ بھوکے پیٹ رہتیں ہیں۔۔۔۔”وہ کسی ڈیفنس میں نہیں رہتیں ایک چھوٹے سے محلے کے چھوٹے سے کرائے کے گھر میں رہتیں ہیں جہاں بجلی گیس کا بِل اُن کو پے کرنا ہوتا ہے کرایہ بھی وقت پر دینا ہوتا ہے اِس ڈر سے کہ کہی مکان مالک اُن کو گھر سے باہر نہ نکال دے”یہ زندگی وہ جیتی آئیں ہیں لیکن ایک بات وہ اپنے اِس حال میں خوش ہیں۔۔۔”گیس بند ہوجاتا ہے کوئی چیختا چلاتا نہیں۔۔”لائیٹ کا مسئلہ ہوجائے تو وہ چھت پر چلی آتیں ہیں۔۔۔۔اسیر ملک بیڈ پر لیٹے نوریز ملک کو اُن بہنوں کی زندگیوں کے بارے میں ایسے بتانے لگا جیسے کوئی شاگرد اپنے اُستاد کو سبق سُناتا ہے۔۔۔”اُس کی باتوں کو سُن کر نوریز ملک کو لگ رہا تھا جیسے اُن کا دل کسی نے مُٹھی میں جکڑ لیا تھا اُن کے ایک غلط فیصلے نے جانے کتنوں کی زندگیوں کی برباد کردیا تھا جس کا احساس اُن کو اب ہورہا تھا۔
“یہ کیا ہوگیا خُدایا۔۔۔۔نوریز ملک کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں۔۔۔۔۔
“اُن کو اُن کے حال پر چھوڑدے یہ ہمارا آپ کو مُفید مشورہ ہے۔۔۔۔اسیر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھتا اُن کو دیکھ کر بولا
“ایسا اب ممکن نہیں اسیر میں اُن سے ملوں گا اپنے ہر گُناہ “ہر زیادتی کا حساب دوں گا۔۔۔”اور اُن کو ایک خوشحال زندگی فراہم کروں گا دیکھنا تم سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا پھر۔۔۔۔نوریز ملک خود کو اُمید دِلاتے ہوئے بولے
“اسٹار پلس کا ڈرامہ نہیں ہے نہ اصل زندگی ہے اور اصل زندگی میں کوئی انسان خود پر ہوئے مُظالم کو بھول نہیں پاتا اور نہ اُس کا دل اِتنا بڑا ہوتا ہے کہ پل بھر میں آپ کو ہر بات کی معافی دے کر پرسکون ہوجائے “آپ کا اُن سے معافی کی اُمید رکھنا ایسے ہے جیسے آگ اور پانی ایک ساتھ برسات میں بجلی کا ہونا جس طرح یہ چیزیں ممکن نہیں ٹھیک ویسے معافی بھی ممکن نہیں پر آپ اپنی کوشش کرتے رہے۔۔۔۔۔اسیر شانے اُچکائے جواب دیا تھا
“تم کافی زیادہ حقیقت پسندانہ باتیں کرتے ہو پر کبھی خود کو میری جگہ پر رکھ کر سوچو۔۔۔۔نوریز ملک نے افسوس سے اُس کو دیکھ کر کہا
“ہم جہاں ہیں وہیں رہنے دے۔۔۔۔اسیر سنجیدگی سے بولا
“میرا ایک اور کام کرو تم سوہان سے ملو اُس کو میری حالت کا بتاؤ کیا پتا اُس کا دل پِگھل بھی جائے۔۔۔۔نوریز ملک نے آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر دوسرا کام دیا
“وہ بچی نہیں ہے اور ہم اُس سے مل کر بات کیا کرینگے؟”آپ ہمیں وہ کام نہ کرنے کا کہے جو ہم کر نہیں سکتے۔۔۔۔۔اسیر کا انداز دو ٹوک تھا۔۔۔
“پلیز اسیر منع نہیں کرو تم میری آخری اُمید ہو۔۔۔نوریز ملک نے گویا التجا کی
“وہ ہم سے کیوں ملے گی آپ یہ بتائے؟اسیر نے سوال داغا
تم کوشش کرکے تو دیکھو کیا پتا وہ تمہاری سُنے اگر وہ نہیں تو میشا اور پھر تیسری سے۔۔۔۔نوریز نے کہا تو لفظ”تیسری”پر اسیر کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ آئی
“اُس تیسری کا نام فاحا ہے۔۔۔اسیر نے بتایا تو نوریز ملک شرمندہ سے ہوگئے کیسے باپ تھے وہ جن کو اپنی اولاد کا نام تک معلوم نہیں تھا۔۔
“تم ملے ہو اُس سے؟نوریز ملک نے پوچھا
“ہم اُن سے کیوں ملنے لگے؟اسیر نے اُلٹا اُن سے سوال داغا
میں چاہتا ہوں تم باری باری اُن سے ملو درخواست ک
“ہم اسیر ملک ہیں اور ہم حُکم سُنانے کے عادی ہیں درخواست کرنا ہماری شخصیت کا خاصا نہیں ہے یہ ہماری شان کے خلاف ہے اور ہم اپنی شان کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔۔۔۔نوریز ملک کچھ کہنے والا تھا جب اُن کی ادھوری بات کا مطلب اخذ کرتا اسیر سنجیدگی سے بھرپور آواز میں بولا تھا۔۔
“یہ بہت بڑے الفاظ ہیں تمہارے اسیر زندگی بہت ظالم چیز ہے ایسے ایسے کام انسان کو کروانے پر مجبور کردیتی ہے جس کا اُس انسان نے کبھی سوچا تک نہیں ہوگا۔۔۔نوریز ملک اُس کی بات سن کر بولے
“ہم اپنی بات پر قائم رہنگے لکھ کر رکھ لے اسیر ملک اپنی بات کا پکا ہے۔۔۔۔”اور ہم سوہان سے ایک مرتبہ آپ کی خاطر بات ضرور کرینگے۔۔۔۔اسیر نے اُن پر جیسے احسان کیا
“فاحا سے نہیں؟نوریز ملک تھوڑا جِھجھک کر بولے
“وہ بچی ہوگی ہم بچی سے بات کرکے اپنا وقت ضائع کیوں کرے؟اسیر ملک نے کہا تو نوریز ملک کو چُپ لگ گئ اُن کے لیے اِتنا ہی کافی تھا کہ اسیر مان گیا تھا چاہے پھر سوہان سے بات کرنے کے لیے سہی۔۔۔
