Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 09)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

میرا معاملہ الگ ہے میرے ہاتھوں میں جب کُھجلی ہوتی ہے تو اُس کا مطلب کسی کی پیٹائی ہونی ہوتی ہے۔۔۔میشا نے کہنے کے ساتھ ہی ہاتھ کی مُٹھی بنائے اُس کو پنج مارنا چاہا مگر آریان جلدی سے اپنا چہرہ سائیڈ پہ کرتا اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑلیا تھا

ناٹ آ گُڈ شاٹ پر تم دوبارہ کوشش کرنا” ٹرائے اگین۔۔۔۔۔آریان دانتوں کی نُمائش کرتا بولا

تمہیں تو میں کیفے کے باہر دیکھوں گی یہاں میری جاب ہے جبھی تمہارا لحاظ کررہی ہوں۔۔۔۔میشا وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

تو یہ تمہارا لحاظ ہے ماشااللہ چشم بدور۔۔۔۔آریان تو غش کھانے کے در پہ ہوا”جو مسلسل بے عزت کرنے بعد بول رہی تھی کہ میں تمہارا لحاظ کررہی ہوں اور اگر یہ لحاظ تھا بھی تو بے عزتی جانے کیا ہوگی اُس کی؟”یہ سوچتے ہی آریان کو جھرجھری سی آئی تھی

افففف افف۔۔۔۔میشا زچ ہوئی

تمہارا ٹائٹل میں نے سوچ لیا ہے۔۔۔۔آریان پرجوش لہجے میں بولا

کونسا ٹائٹل؟میشا کافی میکر کو دیکھ کر بولی

مس اففف افف۔۔۔آریان مزے سے بولا

گیٹ آؤٹ۔۔۔میشا نے اُس کو باہر کا راستہ دیکھایا

ابھی تو جارہا ہوں مگر پھر ملینگے۔۔۔۔آریان نے اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں کو کنپٹی تک لائے اُس کو سلوٹ کیے کہا

“جب تمہارے کانوں میں کھجلی ہوگی۔۔۔۔میشا طنز ہوئی

کانوں میں کُھجلی؟آریان سمجھ نہیں پایا

ہاں کانوں میں کُھجلی ہوگی اب تمہارے جو غائب میری گالیاں سن کر ہوگی۔۔۔میشا نے دانت کچکچائے کہا

تم بہت مزاحیہ ہو ہماری خوب جمے گی جب مل کر بیٹھے گے دو مزاحیہ لوگ۔۔۔۔۔آریان اُپنا ہاتھ اُس کے گالوں تک لائے اُس کو چھوے بنا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرے مزے سے کہا

اور تم بہت چِھچھورے ہو”یقیناً میرے ہاتھوں تمہاری کُٹائی اچھی خاصی ہونی لکھی ہے۔۔میشا دوبدو بولی

اِتنی تم کوئی تھانیدارنی خیر ایک مُلاقات میں کتنا جان گئ ہو تم۔۔۔۔آریان بہت ڈھیٹ واقع ہوا تھا

گو ٹو ہیل۔۔۔۔۔۔میشا نے تھوڑا چیخ کر کہا

تم ساتھ چلو نہ ایسا نہ ہو کہ پھر میری یاد میں تم یہ گانا اکیلے خود گاتی آؤ”

“تیرے در پہ صنم

ہم چلے آئے

توں نہ آیا تو ہم

چلے آئے

چلےےےے آئے

چلے آئے

آریان نے باقاعدہ گانا گاء کر سُنایا

بے فکر ہوکے جاؤ کیونکہ تمہارے پیچھے میں تو کبھی نہیں آنے والی۔۔۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو آریان نے بُرا منہ بنایا تھا”اور میشا نے اُس کو اگنور موڈ پر کرلیا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آپ نے کیا سرپرائز دیا ہے ایک دم بیسٹم بیسٹ والا۔۔۔فاحا زور سے سوہان کو گلے لگائے بولی تو اُس نے مسکراکر فاحا کے ماتھے کا بوسہ لیا

کیسی ہو؟”اور کام کیسا چل رہا ہے۔۔۔۔سوہان نے پوچھا

سب بیسٹ اور دیکھیے گا جلدی میرا ریسٹورنٹ ہوگا اور ایک بڑا بوتیک جو میرے نام سے جانا جائے گا۔۔۔. فاحا نے پرجوش انداز میں کہا تو سوہان ہلکا سا مسکرائی

“اُس کے لیے تمہیں کوئی امیرزادہ پٹانا پڑے گا۔۔۔عاشر نے لقمہ دیا

جی نہیں۔۔۔فاحا نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا

عاشر کو چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہاں تھی تم”تم تو زیادہ اور اکیلی تو بلکل بھی نہیں آتی جاتی پھر؟سوہان کے لہجے میں تفتیش کے ساتھ فکرمندی تھی

میشا آپو کا ڈریس سِلنا تھا تو بٹن اور دھاگیں چاہیے تھے وہ لینے نکلی تھی”جبھی وہاں وقت لگ گیا۔۔۔۔فاحا نے گول مول سا جواب دیا”اپنی اور اسیر کی مُلاقات کا تضکرہ کرنا اُس نے ضروری نہیں سمجھا کیونکہ وہ کونسا اسیر کو جانتی تھی اُس کے لیے تو یہ تھا کہ وہ آج اُس شخص سے پہلی مرتبہ ملی ہے

میشو ہے کہاں؟سوہان صوفے پر بیٹھتی میشا کے بارے میں پوچھنے لگی

آپ نے یاد کیا اور ہم یہاں۔۔۔۔اچانک میشا کی آواز نے اُن تینوں کو چونکہ دیا تھا جو بھاگ کر بڑی گرمجوشی سے سوہان کے گلے لگی تھی

کیسی ہو؟”میرے آنے کا کیسے پتا چلا تمہیں؟اُس کا ٹھنڈا ری ایکشن دیکھ کر سوہان نے پوچھا

میں ٹھیک اور جیسا کہ اب تمہارا کام وہاں نہیں تھا واعدے کے مُطابق تم نے پریکٹس بھی یہی کرنی ہے اور جب تمہارا نمبر کل پاورڈ آف لگا تو میشو دا انٹلیجنس نے جان لیا کہ آپ یہاں آنے والی ہیں۔۔۔۔میشا نے بتانے کے درمیان خود کی تعریف کرنا ضروری سمجھا

افففف آپ کی خودساختہ سوچ۔۔۔۔۔فاحا نے ناک سیکڑی

تم تو جلتی رہنا۔۔۔میشا نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

یہاں آج لگتا ہے کچھ کھانے کو نہیں ملے گا۔۔۔عاشر نے اُن دونوں کا دھیان اپنی طرف کرنا چاہا

ارے آپ کے لیے تو میں نے گوشت کڑاہی کی ہے۔۔۔۔فاحا نے فخریہ انداز میں اُس کو بتایا

چکن کراہی ہوتا ہے۔۔۔میشا نے طنز نظروں سے اُس کو گھورا

چکن کی اُردو میں ٹرانسلیٹ گوشت نکلتا ہے اِس لیے آپ مجھے نہ پڑھائے اور آپو آپ کو پتا ہے کل سے میں انسٹی ٹیوٹ جانے والی ہوں۔۔۔۔میشا کو جواب دیتی فاحا آخر میں سوہان سے بولی جو مسکراکر اُن دونوں کو آپس میں بحث کرتا سُن اور دیکھ رہی تھی۔۔

کوئی نئ بات نہیں ہے تم آئے دن کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی اسکول میں کوکنگ کلاس لیتی رہتی ہو۔”کچھ نیا ہے تو وہ بتاؤ۔۔میشا نے ناک سے مکھی اُڑائی

اِس بار میں سیریس ہوں اور دیکھنا اِس انسٹی ٹیوٹ سے میں شیف سے ماسٹر شیف بن جاؤں گی۔۔۔۔فاحا فخریہ انداز میں بولی

“گائیز چکن کا مطلب تو مرغی ہوتا ہے ناکہ گوشت۔۔۔وہ آپس میں بحث کرنا پھر سے شروع ہوئیں تھیں جب عاشر اچانک سے بولا تو اُن دونوں کے ساتھ سوہان نے بھی اِس بار عاشر کو عجیب نظروں سے دیکھا

سیریسلی عاشر بھائی آپ کی سوئی مرغی اور چکن گوشت کے گرد اٹکی ہوئی ہے۔۔۔۔فاحا کو جیسے یقین نہ آیا

“نہیں وہ تو بس میں۔۔۔عاشر تھوڑا گڑبڑا سا گیا

میں فریش ہوجاؤں تم دونوں تب تک میز سجادو۔۔۔۔۔سوہان اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولی

دونوں کیوں یہ اکیلی جائے گی میں پڑھی لکھی ہوں اور گھر کی ساری زمیداری اِس کے زمے ہیں آخر کو اسکول نہ جانے کی سزا تو بنتی ہے نہ۔۔۔۔۔میشا نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے

دس منٹس میں ٹیبل سیٹ ہو۔۔۔جواباً سوہان اِتنا کہتی وہاں سے چلی گئ تھی اُس کی بات پر جہاں میشا کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا وہی فاحا اور عاشر دل اور منہ پورا کھول کر ہنسے تھے

ویری روڈ یار۔۔۔۔میشا منہ کے زاویئے بناتی اُٹھ کھڑی ہوئی

آؤ میں تم دونوں کی مدد کروالیتا ہوں پر آنٹی ساجدہ کہاں ہے ابھی تک نظر نہیں آئی؟عاشر بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن سے بولا

اپنے کمرے میں ہیں سورہی ہیں۔۔۔۔فاحا نے جواب دیا اور ایسے ہی وہ باتیں کرتے کچن میں داخل ہوگئے تھے

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آریان اپنے گھر میں داخل ہوا تو نظر پول سائیڈ پر بیٹھے اپنے بھائی پر گئ جس کے ایک ہاتھ میں کافی کا بڑا مگ تھا تو دوسرے ہاتھ کی اُنگلیاں تیزی سے لیپ ٹاپ کے کیبورڈ پر چل رہی تھی اور اُس کی پرسوچ نگاہیں اِس وقت لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جمی ہوئیں تھیں۔۔

السلام علیکم ۔۔۔۔کچھ سوچ کر آریان اُس کے برابر آکر بیٹھا اور سلام کیا

وعلیکم السلام ۔۔۔سنجیدگی سے بھرپور جواب دیا گیا جس میں کوئی گرمجوشی نہیں تھی جیسی عموماً ہوا کرتی تھی۔۔۔

کوئی ناراض ہے۔۔۔۔آریان اُس کے ہاتھ میں موجود کافی اپنے ہاتھ میں لیئے ایک بڑا سا گھونٹ پی کر بولا تو زوریز نے خاصی ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھا

سوری۔۔۔۔۔آریان نے دوسرا اور آخری لمبا گھونٹ پی کر مگ اُس کے سامنے واپس کیا

اپنی چیزیں تو تمہیں شیئر کرنا گُناہ لگتی ہیں مگر دوسروں کی چیز پر حق جلدی سے جمالیتے ہو۔۔۔۔زوریز نے سرجھٹک کر کہا تو آریان نے کان کی لو کُھجائی

اینگری مین اپنے غُصے کی وجہ بیان کرے کیونکہ میں جانتا ہوں ایک کافی کی وجہ سے تم مجھ پر اِتنا برس نہیں سکتے۔۔۔۔آریان وثوق سے بولا تو زوریز نے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو بند کیا اور اپنی نظریں اُس پر ٹِکائی

آج غالباً میں نے تمہیں ایک اہم میٹنگ میں بھیجا تھا اور تم نے کلائنٹ کو اکیلا بیٹھائے چھوڑدیا کیوں؟”تم جانتے تھے نہ کتنا اہم پراجیکٹ تھا یہ۔۔۔۔۔زوریز نے کہا آریان کے ہونٹوں پر ایک شریر قسم کی مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا کیونکہ زوریز کی بات پر اُس کی آنکھوں کے سامنے بھک سے میشا کا حجاب میں لپیٹا چہرہ آیا تھا

“میرے ہاتھ میں آپ کا لیپ ٹاپ ہے

کوئی اسلحہ تو نہیں

اِس کو زمین پر دے ماروں کوئی مسئلہ تو نہیں؟

جواب میں آریان نے اُس کا لیپ ٹاپ اپنی طرف کیے کہا تو ٹھوڑی پر ہاتھ کی مٹھی جمائے زوریز نے اُس کو سنجیدگی سے دیکھا تھا

“میرے ہاتھوں میں گرم کافی کا کپ ہے

کوئی اسلحہ تو نہیں

تمہارے خوبصورت چہرے پر گراؤں

کوئی مسئلہ تو نہیں؟

جیسے کو تیسا

زوریز نے بھی بڑی شرافت سے کافی کا مگ ہاتھ میں لیئے اُسی کے انداز میں کہا اور اِشارے سے لیپ ٹاپ واپس رکھنے کا کہا تو آریان کا منہ بن گیا تھا۔۔۔

“مستقبل میں لگتا ہے آپ فیض احمد فیض کی جگہ سنبھالنے والے ہیں۔۔۔۔۔آریان بے دلی سے لیپ ٹاپ واپس رکھتا اُس سے بولا

میری بات کا جواب نہیں دیا تم نے؟زوریز نے غیرضروری باتوں پر بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا

بیوٹی ود برین مل گئ تھی تو اُس سے گپ شپ کرنے لگ پڑا واپس آیا تو آپ کی مغرور کلائنٹ موجود نہ تھی ویسے کافی نان پروفیشنل لوگوں میں تمہارا اُٹھنا بیٹھنا ہے اگلی بار جس کو بھی ڈیل کرو پہلے مجھ سے ملوالیا کرو۔۔۔۔آریان نے اپنا کیا دوسروں کے سر پر ڈالا تو زوریز نے تاسف سے اُس کو دیکھا

اپنے کلائنٹ کو بیچ میں چھوڑ کر جانا تمہارے نزدیک کس پروفیشنل میں آتا ہے؟زوریز نے جاننا چاہا

چھوڑو نہ یار اُٹھو اور کھانا کھاکر سوجاتے ہیں وقت گُزرا ٹاپک بھی گُزر گیا۔۔۔”ویسے بھی لڑکیوں سے الرجک آپ ہو اور مشہور میں ہوگیا ہو آریان دُرانی دا بیگیسٹ پلے بوائے”ارے اُن کو کوئی بتائے میں تو معصوم ہوں جس کا چکر لڑکیوں سے نہیں ہوتا بس اپنے بھائی کو اُن سے بچانا ہوتا ہے۔۔۔۔آریان دُھائی دینے والے انداز میں بولا

بی سیریس آریان کل تمہاری دوبارہ اُس سے میٹنگ ہے اور میں اِس بار کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔زوریر نے سنجیدگی سے کہا تو آریان نے تابعداری سے سراثبات میں ہلایا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تم جاہل عورت ہو جب سے شادی کی ہے میرا تو جینا حرام ہوگیا ہے۔۔۔۔۔”

لالی اپنے کمرے سے باہر نکلی تو کانوں کے پردے پھاڑنے کی حد تک تیز آواز سن کر اُس نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کی یہ اُس کے بھائی کی آواز تھی”جس کو سُننا اُس کا روز کا معمول تھا اور اب تو پوری حویلی والوں کی عادت بن گئ تھی وہ دونوں میاں بیوی نہ جگہ کا خیال کرتے اور نہ آس پاس موجود لوگوں کا بس جو دل میں آتا منہ پھاڑ کر ایک دوسرے کو بول دیتے۔۔۔”شروع شروع میں”فائقہ بیگم نورجہاں بیگم نے اُن کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی مگر سب بے سود دیکھ کر اُنہوں نے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑدیا تھا

“تمہارا نہیں جینا تو میرا حرام ہوگیا ہے جو جانتے ہوئے بھی تم جیسے بی اے پاس لڑکے سے شادی کی جس کو بات کرنے کی تمیز نہیں آتی۔۔۔۔”اب کی جواباً اپنی بھابھی کی آواز سن کر اُس کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ آئی تھی۔۔

“شادی ایک ایسی زمیداری ہے ایک ایسا رشتہ ہے جہاں اپنا سب کچھ بھول کر”بس اپنی شادی شدہ زندگی میں لگانا پڑتا ہے چاہے پھر آپ کی اندرونی حالت جیسی بھی ہو مگر خود کے علاوہ ہر ایک کا سوچنا پڑتا ہے”خوشقسمت لوگ ہیں وہ جن کو شادی کے بعد پرسکون خوبصورت زندگی کسی اچھے ہمسفر کے طور پر ملتی ہے جو ہر راہ میں اُن کا ساتھ دیتا ہے۔۔۔”پر اِن ساری باتوں کو چھوڑ کر میرا یہی ماننا ہے کہ شادی کرنا ایک بُہت بُرا تجربہ ہے انسان کو شادی پر مفروضے اور مشاہدے کرنے ضرور چاہیے مگر تجربہ؟تجربہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پھر خود پر آپ کا خود کا اختیار مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے آپ کی زندگی کی ڈور کسی اور کے حوالے ہوتی ہے پھر وہ جو چاہے جیسے چاہے اُس ڈور کو کھینچتا ہے۔۔۔”اور آپ دوسروں کے محتاج ہوجایا کرتے ہو۔۔۔۔

ہال میں اپنے بھائی اور بھابھی کو کُتوں کی طرح لڑتا چھوڑ کر وہ سیدھا ٹی وی لاؤنج میں آئی تھی جہاں اُس کی ماں اِرد گرد سے کان لپیٹے ٹی وی پر ساس بہو کا ڈرامہ دیکھنے میں بزی تھی

ماں جی۔۔۔۔لالی نے ہولے سے اُن کو پُکارا

ہممم؟نظریں ٹی وی پر ٹکائے اُنہوں نے لالی کو جواب دیا

“بابا سے آپ نے بات کی؟لالی تھوڑا جھجھک کر پوچھنے لگی تو اِس بار فائقہ بیگم نے سخت ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھا تھا جس پر لالی نے اپنی نظریں ہاتھوں پر کرلی

ایک بار کی تھی نتیجہ میری بے عزتی نکلا تھا اور تم کیوں چاہتی ہوں تمہارا باپ مجھے بے عزت کرتا پِھرے۔۔۔فائقہ بیگم نے سختی سے کہا تو لالی شرمندہ ہوئی

ماں جی آگے پڑھنا میرا شوق ہے۔۔۔۔لالی محض اِتنا بولی

تم نے پڑھ لکھ کر کرنا کیا ہے؟”چپ کرکے بیٹھی رہو یہی آئی بڑی پڑھنے۔۔فائقہ بیگم نے نخوت سے سرجھٹکا

ماں

بڑی مالکن اسیر بابا کے کمرے کی صفائی اچھے سے کردی ہے کوئی اور کام ہے تو بتادے۔۔۔۔حویلی کی خادمہ ہاتھ باندھے فائقہ بیگم سے مُخاطب ہوئی تو لالی جو کچھ کہنے والی تھی رُک گئ تھی

“اسیر بھائی گاؤں واپس آگئے ہیں کیا؟لالی چونک کر صوفے سے اُٹھ کھڑی ہوئی

جی وہ تو کل رات آئے تھے۔۔۔خادمہ نے بتایا تو لالی وہاں سے سر پِٹ بھاگی تھی اور بریک سیدھا اسیر کے کمرے میں لگائی تھی۔۔

بھائی

دروازے کے پاس پہنچ کر لالی نے اسیر کو آواز دی تو وہ جو اپنی بندوقوں کو پرسوچ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا”دروازہ نوک ہونے پر مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں گُھٹنوں تک آتی پرنٹ شدہ خوبصورت قمیض جس کے ساتھ پلازوں پہنے”سر پر اچھے سے ڈوپٹہ پہنے لالی بھی اُس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

لالی آؤ باہر کیوں کھڑی ہو؟اُس کو دروازہ پر جم کے کھڑا دیکھ کر اسیر نے کہا تو لالی چہرے پر آتی آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑستی کمرے میں آئی

کوئی کام تھا؟اسیر نے اندازہ لگایا کیونکہ لالی بلاوجہ نہ تو اُس سے مُخاطب ہوتی تھی اور نہ کسی کام کے بغیر کوئی اُس کے کمرے میں آتا تھا

آپ بابا سے میرے مطلق بات کرے نہ۔۔۔۔۔نظریں قالین پر جمائے لالی نے کہا

تمہارا اِشارہ تمہاری شادی کے مطلق ہے؟اسیر اُس کے جُھکے ہوئے سر کو دیکھ کر اندازہ لگاتا بولا تو لالی نے سٹپٹاکر جھٹکے سے اپنا سراُٹھایا تھا اور بے یقینی نظروں سے اسیر کا وجیہہ چہرہ دیکھنے لگی جہاں کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔

بھائی کیا آپ کو لگتا ہے میں آپ کے کمرے میں اپنی شادی کی بات کرنے آؤں گی؟لالی نے افسوس سے کہا

بابا سے کیا بات کرنی ہے مجھے پھر وہ بتاؤ۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا

کالج سے میں دو سال پہلے فارغ ہوئی ہوں اور میں اب یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتی ہوں یہ بات میں بہت عرصے سے ماں جی سے کہتی آئی ہوں مگر ایک بار کے بعد اُنہوں نے بابا سے دوبارہ نہ کہا اگر آپ کہینگے تو شاید وہ راضی ہوجائے کیونکہ مجھے بہت پڑھنا ہے۔۔۔لالی نے عاجزی سے کہا تو اُس کی بات سن کر اسیر نے گہری سانس بھری

کس شہر کی یونی میں پڑھنا چاہتی ہو نام بتادو کل فارم تمہیں مل جائے گا۔۔۔۔جواب میں اسیر نے جو کہا وہ اُس کی سوچ کے اُلٹ تھا وہ تو یہ سوچے آئی تھی کہ کچھ وقت تو اسیر کو منانے میں لگ جائے گا مگر وہ تو اپنے مزاج کے مطابق اِس بار بھی بس اصل بات پر آیا تھا

بب بابا سے بات؟لالی حیرانگی سے نکل کر اُس سے پوچھنے لگی

وہ اب ہمارا مسئلہ ہے تم بس بتاؤ کہاں پڑھنا چاہتی ہو؟اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا

اسلام آباد کی یونی جو بھی ہو بس ماحول اچھا ہونا چاہیے۔۔۔اپنے بلیوں کھاتے دل کو کنٹرول میں کرتی لالی نے محخ اِتنا کہا

ماحول ہماری شخصیت پر اثرانداز نہیں کرتا لالی”آپ کا کردار اور آپ کا دل اگر صاف ہے تو ماحول جیسا بھی ہو اُس سے ہماری شخصیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا سب سے بڑی بات خود کو سنبھالنا ہوتا ہے اگر وہ کرلیا تو سمجھو سب ہوگیا اگر ماحول لوگوں پر اثرانداز ہوتے تو کوئی بھی گھر سے باہر نہ نکلتا۔۔۔۔اسیر نے ہنوز سنجیدہ انداز میں کہا تو لالی بے ساختہ آگے بڑھ کر اُس کے سینے لگی تھی۔۔

مجھے اگر پتا ہوتا آپ اِتنی جلدی مان جائے گے تو دو سال کبھی ضائع نہ کرتی۔۔۔لالی خود پر افسوس کرتی بولی

ہمیں تم سے غافل نہیں ہونا چاہیے تھا ہماری غفلت کا نتیجہ ہے یہ خیر ہماری بھی مجبوری تھی سؤ کام دیکھنے کو ہوتے ہیں اور نظیر سے تو ہم کوئی اُمید نہیں لگاتے۔۔۔۔اسیر اُس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر بولا تو لالی مسکراکر اُس سے الگ ہوئی

میں یہ خبر دادو کو سُنا کر آتی ہوں مجھے پتا ہے اب یونی جانے سے مجھے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔لالی پرجوش ہوکر بولی تو اُس کی خوشی دیکھ کر اسیر نے بھی پہلی بار اُس کو مسکراکر دیکھا

تم ہماری بہن ہو اگلی بار تمہارے لہجے میں منت “حسرت”نہیں بس حُکم ہونا چاہیے۔۔۔۔اسیر نے کہا تو لالی اِس بار محض گردن ہلا پائی تھی وہ چاہ کر بھی اُس سے یہ نہیں کہہ پائی کہ ایسا بہت کچھ ہے جو وہ بھائی سمجھ کر اُس کے ساتھ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔

“کچھ خُواب ہیں میری اِن آنکھوں میں

کچھ حسرتیں ہیں میرے دل میں

کچھ خواہشات ہے میری زندگی میں

جن کو پوری ہوتا دیکھنا میری

جستجو ہے۔۔۔۔۔

اپنی سوچو میں مگن لالی اُس کے کمرے سے باہر نکل آئی تھی اُس کا اِرادہ اب عروج بیگم کے پاس جانے کا تھا۔۔۔۔

❤

سچ میں اسیر نے خود سے اجازت دی تمہیں؟نورجہاں بیگم حیرت سے لالی کا چمکتا چہرہ دیکھ رہی تھی”جبکہ عروج بیگم کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ تھی

ہاں بلکل”اُنہوں نے تو یہ بھی کہا کہ میں اپنی ہر بات اُن سے منواسکتی ہوں۔۔۔لالی نے فخریہ انداز میں بتایا

“ظاہر ہے وہ تمہیں اِجازت کیوں نہیں دیتا کل کو اُس نے اپنی بیٹی کو بھی تو یونی میں بھیجنا ہے نہ۔”تمہارے لیے تمہارے بھائی کا دل اِتنا سخی نہیں ہے وہ بس اپنی بیٹی کے راستے صاف کررہا ہے تاکہ کل کُلاں کوئی اُس کو کسی قسم کا طعنہ نہ دے۔اسمارہ بیگم (نوریز کی تیسری بیوی)نے کمرے میں داخل ہوکر کہا” تو لالی نے بے ساختہ اپنے ہونٹ کُچلے

اقدس(اسیر کی چھ سالہ بیٹی) کا ذکر کہاں سے آگیا؟عروج بیگم نے سنجیدگی سے اُن کو دیکھا

ایسے ہی بول دیا۔۔۔۔اسمارہ بیگم نے سرجھٹکا

وہ تو بچی ہے ابھی۔۔۔۔۔لالی کی خوشی مانند پڑی

آج بچی ہے کل اسکول جائے گی پھر کالج یونی میں بیٹیوں کو بڑے ہونے میں وقت کتنا لگتا ہے۔۔۔۔۔اسمارہ بیگم سرجھٹک کر بولی

اِن کی باتیں سن کر اپنا دل خراب کرنے کی ضرورت نہیں اُٹھو اور اپنے شہر جانے کی تیاری کرو۔۔۔عروج بیگم اب کی اُن کو نظرانداز کرتی لالی سے بولی تو وہ سراثبات میں ہلاتی اُٹھ گئ۔۔۔۔

❤

اسیر اول تو تمہیں یہ کام کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی اور ایک تم ہو جو بڑی ڈھیٹائی سے بول رہے ہو کہ لالی کا ایڈمیشن اسلام آباد کی یونی میں کروا دیا ہے کیوں؟”اور کس کی اِجازت سے۔۔۔سجاد ملک خاصے تپے ہوئے انداز میں اُس سے جواب طلب ہوئے تھے

شرم کیسی ہے؟اور کیا آپ کو واقعی نہیں پتا یونی میں کیوں جایا جاتا ہے؟اسیر نے بڑے تحمل کا مُظاہرہ کیا تھا

“اسیر گُستاخ مت بنو۔”لالی یونیورسٹی نہیں جائے گی اور یہ ہمارا فیصلہ ہے جس کی مُخالف کرنے کا تمہارا کوئی حق نہیں ۔”ویسے بھی اُس کی یہ شادی کی عمر ہے ناکہ یونیورسٹی جانے کی۔۔سجاد ملک نے سختی سے اُس کو ٹوک کر کہا

“ہماری زندگی کا فیصلہ آپ نے کیا تھا جس کا نتیجہ ہر ایک کے سامنے ہے”اور ہم نے تجربہ بھی اچھا حاصل کیا ہے اب ایسا دوبارہ تجربہ ہم لالی کے لیے نہیں چاہے گے وہ ہماری بہن ہے ہمارا پورا حق ہے اُس پر”آپ کا یا کسی اور کے کہنے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا اور اگر بات کی جائے شادی کی تو لالی کی شادی کی پریشانی میں آپ مبتلہ نہ ہو جب ہمیں لگے گا اُس کی شادی ہوجانی چاہیے ہم کسی اچھی جگہ سے اُس کی شادی وہاں کردینگے۔۔۔۔۔اسیر بے لچک انداز میں بولا

اسیر گاؤں کا سردار میں نے تمہیں اِس لیے نہیں بنایا تھا کہ کل کو تم میرے مقابلے میں کھڑے ہوجاؤ لالی کی عمر چوبیس سال سے زیادہ ہے اور یہی عمر ہے

یہ عمر اُس کے پڑھنے لکھنے کی ہے ناکہ شادی کی۔۔۔۔”لالی ناسمجھ ہے ابا حضور آپ کو یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آرہی؟”اُس میں خوداعتماد کی کمی ہے ہماری نظر جب بھی اُس پر پڑتی ہے وہ عجیب سہمے ہوئے انداز میں رہتی ہے اور جیسا آپ لوگوں نے اُس کو ماحول دیا ہے اُس سے تو اگر کوئی جب لالی کو آواز دے تو ماشااللہ سے پھر لالی کو سامنے پڑی چیز بھی نظر نہیں آتی۔۔۔۔اسیر اُن کی بات درمیان میں کاٹ کر سرجھٹک کر بولا

لڑکیوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔۔۔سجاد ملک غُصے سے پاگل ہونے کے در پہ تھے

لڑکیوں کو ایسا نہیں ہونا چاہیے”اُن کا پورا حق ہے وہ سراُٹھاکر اور اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو جیئے ۔۔”اور ایک یہی وجہ ہے جو ہم چاہتے ہیں لالی یونی جائے دو لوگوں سے ملے جُلے اُن سے بات چیت وغیرہ کرے تاکہ اُس میں اعتماد بحال ہوسکے وہ خودمختار ہونا چاہتی ہے تو ہم بنائے گے اُس کو خودمختار۔۔۔۔اسیر اٹل لہجے میں گویا ہوا تھا

تمہیں کیا لگتا ہے میں بے وقوف ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ تم یہ سب کیوں کرنا چاہ رہے”اِس لیے نہ تاکہ کل تمہاری بیٹی بھی یہی سب کرتی پِھرے یہ تمہاری بہن سے محبت نہیں بلکہ ایک طرح سے دُشمنی ہے اصل مزے تو تم اپنی اُس اپائج بیٹی کے کروانا چاہ رہے ہو۔۔۔۔سجاد ملک نے حقارت بھرے لہجے کہا تو اسیر ملک نے بڑی مشکل سے اپنے اندر موجود اشتعال کو دبایا تھا مگر اُس کے ماتھے کی اُبھرتی رگیں اُس کے اندر کا خلفشار صاف بیان کررہی تھی بے ساختہ اُس نے ہاتھ آگے بڑھاکر ٹیبل پر موجود ہر چیز کو نیچے پھینک دیا تھا

“آپ کو ہماری بیٹی اِتنی ناپسند ہے تو براے مہربانی اُس کا ذکر مت کیا کرے کیونکہ آپ کے لہجے میں موجود جو حقارت ہے نہ وہ ہمیں بہت کچھ کرنے پر مجبور کردیتی ہے جو ہم کرنا نہیں چاہتے اور ایک آخری بات ہماری اقدس اپائج نہیں ہے۔۔۔۔۔”آپریشن کے بعد وہ ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔اسیر سرخ ہوتی نظروں سے اپنے باپ کو دیکھ کر باور کروانے والے لہجے میں بولا تھا جبھی ڈیڑے پر دو آدمی بھاگ کر آئے تھے

سردار جی غضب ہوگیا ہے نوریز ملک کے لیے ایک بہت بُری خبر ہے۔۔۔ایک آدمی بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولا تو اسیر اپنی شال دُرست کرتا اُن کی طرف پلٹا تھا

کیا بات ہے؟سجاد ملک نے سنجیدگی سے استفسار کیا

“فراز نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر شہر سے آئی لڑکی کا ریپ کرلیا ہے۔۔۔۔دوسرے نے جیسے اُن کے سروں پر دھماکا کیا تھا”اسیر نے لہورنگ ہوتی آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھا تھا جن کی خواہش ہوتی تھی کہ اُس کی اور لالی کی شادی ہوجائے

کیا بکواس ہے یہ۔۔۔۔۔سجاد ملک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے

یہ جھوٹ نہیں ہے مالک سچ ہے وہ لڑکی شہر کے کسی بڑے آدمی کی بیٹی ہے سُنا ہے وہاں جاکر وہ چھوٹے مالک پر کیس دائر کرے گی۔۔۔پہلے والے نے بتایا جبکہ اسیر جبڑے بھینچ کر وہاں سے نکلنے لگا جب سجاد ملک نے اُس کو مُخاطب کیا تھا۔

فراز بچہ ہے اسیر کوئی بھی فیصلہ یا قدم اُٹھانے کی ابھی تمہیں قطعیً کوئی ضرورت نہیں اور تم بے فکر رہو گاؤں میں یہ بات نہیں پھیلے گی اگر پھیلی بھی تو ہم سنبھال لینگے۔۔۔۔۔

“اپنے باپ کی بات پر شال کندھوں پر ٹھیک کیے اسیر نے ہر تاثرات سے پاک چہرے سے اُن کو دیکھا تھا۔۔۔

“حویلی میں ہماری جوان اور اب چھوٹی بیٹی رہنے والی ہے اُس سے کہیے گا اپنے قدم لیکر حویلی میں داخل نہ ہو کیونکہ اگر وہ حویلی میں داخل ہوا تھا ہم اُس کی ٹانگیں توڑ کر اُس کے دھڑ کو جھومر میں لٹکادینگے۔۔۔۔۔حویلی میں پنکھا نہ ہونے کے باعث اسیر نے لفظ”جھومر”کا استعمال کیا تھا

اسیر۔۔۔۔سجاد ملک نے کرخت آواز میں اُس کا نام لیا

اسیر ملک اپنے اصولوں کا پکا ہے اور جس کو آپ بچہ بول رہے ہیں وہ دو ماہ بعد اُنیس سال کا ہوجائے گا ہم نے آپ کے بھائی کو بہت ٹوکا روکا تھا کہ اُس کا بیٹھنا اپنی عمر کے بچوں سے نہیں ہے بلکہ گاؤں کے آوارہ لڑکوں میں ہے مگر آپ لوگ عادت سے مجبور ہیں” ساری تربیت بیٹیوں کے معاملے میں سنبھال کر رکھتے ہیں اور بیٹوں کو کُھلی چھوٹ دیتے ہیں اور بعد میں سینا پیٹتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو معصوم تھا۔۔۔۔۔اسیر خاصے طنز لہجے میں کہتا اِس بار رُکا نہیں تھا پیچھے سجاد ملک ڈھے سے گئے تھے وہ جانتے تھے اسیر اب کبھی فراز کو اپنے کزن کی نظر سے نہیں دیکھے گا بلکہ ایسے دیکھے گا جیسے قصائی بکرے کو دیکھتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *