Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 13)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 13)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
جی ہم دونوں ہیں اور آجکل لوگوں کو کہاں آس پڑوس کا ہوش ہوتا ہے”وہ تو بھول گئے ہیں کہ پڑوسیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔۔۔۔۔وہ دونوں میشا کو دیکھتے بولے تو اُن کی جانب پلٹتی میشا نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی تھی۔
بلکل سہی کہا آپ نے مگر آپ دونوں اب آگئے ہیں نہ اُن کو یاد کروائیے گا پڑوسیوں کے حقوق۔۔۔میشا نے اپنے لفظوں پر خاصا زور دیا
ہم ہیں نہ اور ہمارے ہوتے ہوئے آپ کو کسی تیسرے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی ویسے آپ کی باقی کی دو بہنیں کہاں ہیں؟وہ صحن کے آس پاس نظریں گُھمائے جیسے اُن کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے تھے۔۔
یہی ہیں”مگر آپ لوگوں کے لیے میں کافی ہوں کسی دوسرے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی”خیر یہاں آنے سے پہلے تیل گرم کروایا تھا؟میشا نے ڈنڈا ہاتھ میں لیے اُن سے پوچھا
تیل گرم کس لیے؟ایک نے ناسمجھی والے انداز میں اُس سے پوچھا
اِس لیے۔۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی میشا نے زوردار ڈنڈا اُس کے بازو پر مارا تو اُس کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔۔۔
آہ آہ
“یہ کک کیا؟اپنے ساتھی کو چیختا دیکھ کر دوسرے نے حیرت سے اُس کو دیکھ کر پوچھا جبکہ لہجے میں لڑکھڑاہٹ صاف ظاہر تھی
اکثر لڑکیاں کپڑوں کی دُھلائی کرتیں ہیں یا پھر گھر کی صفائی سُتھرائی پھر آتی ہے دا لیجنڈ میشا جو لوگوں کی دُھلائی کرتی ہے”اور دماغ کا صفایا۔۔۔۔میشا نے اپنا انٹرو کروانے کے بعد اُس کی پیٹھ بھی دُھو ڈالی تھی وہ بیچارا نیچے بیٹھتا چلاگیا
کوئی بھی کام کرنے سے پہلے انسان بڑوں سے مشورہ کرلیتا ہے تم دونوں بھی یہاں آنے سے پہلے کسی سے پوچھ لیتے تو زیادہ نہیں تو گھر میں کسی سے ہلدی والا دودہ تیار رکھنے کا ضرورت کہتے۔۔۔۔میشا نے باری باری اور زیادہ اُن کو ڈنڈا مارا مگر جب تیسری بار مارنے والی تھی تو ایک نے درمیان میں روک لیا
لڑکی ہونے کا لحاظ کررہے تھے تیرا مگر وہ حال ہوگا تیرا کہ زندگی بھر یاد رکھے گی۔۔۔۔اُس نے غُصے سے بے حال ہوتے کہا تو میشا نے گول گھوم کر ایک لات اُس کے سینے پر ماری جس پر ڈنڈے پر اُس کی گرفت چھوٹ گئ۔۔”دوسرا جبکہ حیرت سے اُس کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے بھی خوف کا سایہ نہیں لہرایا تھا”اُس کا اعتماد قابلِ دید اور قابلِ تعریف تھا وہ لڑ ایسے رہی تھی جیسے اِن چیزوں کی خاص نالج ہو اُس کو۔۔
میشا کو کوئی مار پائے ماں نے ایسا ابھی بیٹا ہی پیدا نہیں کیا۔۔۔۔”اور اب شکل گُم کرو تم دونوں اپنی۔۔۔ ایک بار پھر اُن پر وار کرتی میشا نے ہاتھ جھاڑ کر کہا تو وہ گِرتے مِرتے دروازہ کھول کر باہر ایسے بھاگے جیسے سالوں بعد قیدی کو رہائی ملتی ہے”یہ سارا منظر اُپر چھت پہ کھڑی سوہان نے صاف دیکھا تھا اور یہ دیکھ کر اُس کی نظروں کے سامنے اُن کا ماضی آگیا تھا






کچھ سال قبل
آپ کو پتا ہے امی فاحا نے جو اسکول میں جو اسپیچ کی تھی وہ کتنی سیڈ اور اُس میں الفاظ کتنے گہرے تھے۔۔۔بیس سالہ سوہان نے صحن میں موجود پودوں کو پانی دیتی اسلحان سے کہا
سوہان اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔جواب میں اسلحان سنجیدگی سے محض اِتنا بولی تھی
ساجدہ آنٹی آپ کا آج تک ایسا رویہ دیکھ کر حیرت زدہ ہے کہ کوئی ماں اپنی اولاد سے اِتنا فاصلہ کیسے رکھ سکتی ہے؟”اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلحان کے اندر وہ دل نہیں جو ہر ماں کے پاس ہوتا ہے کیونکہ بچہ پیدا کرنے میں بڑا کمال نہیں ہوتا کمال تب ہوتا ہے جب آپ اپنے بچوں کو اچھی پرورش اور ایک اچھی زندگی دے سکوں۔”جس میں اچھا ماحول بھی آتا ہے۔۔۔۔سوہان نے کہا تو اسلحان نے لب بھینچ کر اُس کو دیکھا جس کے خوبصورت چہرے پر کوئی بھی تاثر نہیں تھا جو وقت سے پہلے بڑی ہوچُکی تھی
اگر میرے اندر ماں کا دل نہ ہوتا تو آج میں دوسری شادی کرلیتی تم سب کو ویسے چھوڑتی جیسے تمہارے باپ نے تم تینوں کو ٹھکرایا تھا۔۔۔اسلحان نے کہا تو سوہان کے چہرے پر یکطرفہ مسکراہٹ آئی تھی
اِتنا اگر ہمارے لیے کیا ہے تو فاحا کو اچھا ماحول بھی دے ورنہ جو ماحول ہمارے ارد گرد بنا ہوا ہے اُس سے فاحا اپنی شخصیت کو کھودے گی”اہم بات ماحول کی ہوتی ہے۔۔۔”انسان جو دیکھتا ہے وہ کرتا ہے جو سُنتا ہے اُس کو حقیقت مان لیتا ہے اگر مان نہ بھی جائے تو اُس کے بارے میں سوچتا ضرور ہے۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں اُس سے کہا
مگر اسلحان کے کچھ بھی کہنے سے پہلے باہر کا دروازہ زور سے بجا تھا۔۔۔”جس میں سوہان نے دروازے کو دیکھا تھا مگر اسلحان کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا
میں دیکھتی ہوں۔۔۔۔سوہان اِتنا کہتی جانے لگی جب اسلحان نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا
تم اندر جاؤ میں دیکھ لوں گی۔۔۔۔اسلحان نے اُس کو اندر جانے کا کہا
میں یہی ہوں اور آپ خوفزدہ کیوں ہیں اِتنا؟سوہان بغور اُس کا چہرہ دیکھ کر بولی
ہر بات پر بحث کرنے نہ لگ جایا کرو تم۔۔۔اسلحان نے سختی سے اُس کو مُخاطب کیا جب دروازہ اور زور سے بجایا گیا تو اسلحان اُس کو وہی چھوڑتی خود دروازے کی طرف بڑھی تھی
جی کیا کام ہے؟دروازے کے پاس ایک بار پھر کچھ لفنگے دیکھ کر اسلحان نے اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی
سلام میڈم۔۔۔وہ سرتا پیر اُس کو دیکھتا سلام کرنے لگا مگر جو اُس کے ساتھ دو آدمی تھے اُن کی نظریں صحن میں کھڑی بیس سالہ سوہان پر تھی۔۔”اور اُن کی نظروں میں جانے ایسا کیا تھا جو وہ اندر کی طرف بھاگ گئ تھی۔۔۔۔”وہ بہادر تھی بہت بہادر تھی پر شاید ابھی اِتنا بہادر نہیں تھی بنی جو مردوں کی ایسی نظروں کا مُقابلہ کرپاتی
وعلیکم السلام کام بتائے؟اسلحان نے سنجیدگی سے کہا
اندر تو آنے دے
آہ آہ
وہ آدمی اسلحان کو دھکا دیتا زبردستی گھر میں گُھسنے لگا تھا جب اُس کی آنکھ میں زور سے ایسا کچھ لگا کہ وہ اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھتا درد سے بُلبُلا اُٹھا تھا جس سے اُس کے آدمی اُس کی طرف متوجہ ہوئے تھے مگر اسلحان نے چونک کر پلٹ کر دیکھا جہاں سوہان نہیں تھی یکایک اُس کی نظریں چھت پر گئ جہاں فاحا کے ساتھ قہقہقہ لگاتی سترہ سالہ میشا ہاتھ میں غلیل کو گُھمارہی تھی ساری ماجرہ سمجھ آنے پر اسلحان نے اُس کو گھورا تھا مگر دور ہونے کے سبب میشا نے اُس کو دیکھا نہیں تھا اُس کا ٹارگیٹ تو اب کوئی اور تھا دیکھتے ہی دیکھتے اپنی غُلیل کا نشانہ لیئے میشا نے دوسرے آدمی کے بنا بالوں والے سر پر پہ پتھر زور سے لگایا تھا
“ہاہاہا میشا تو چھاگئ۔۔۔۔نشانہ جگہ پہ لگنے پر میشا نے قہقہقہ لگایا تھا
فاحا کو بھی سیکھنی ہے۔۔۔۔فاحا نے منمناتے کہا
اچھا لو۔۔”۔۔میشا نے غلیل اُس کی طرف بڑھائی
مجھے پکڑنا نہیں آتی اور اگر غلطی سے امی کو لگ گیا تو پھر؟دینے کے لینے پڑجائے گے۔۔۔فاحا نے پریشانی سے کہا
دینے کے لینے نہیں لینے کے دینے ہوتا ہے اور میشو دا گریٹ تمہارے ساتھ کھڑی ہے اِس لیے بہنا نو پریشانی والی بات کرینگے اُونلی انجوائے کرینگے کسی کا سر پھاڑ کر تو کسی کی آنکھ پھوڑ کر۔۔۔میشا نے مزے سے کہا
اِتنے سے پتھر سے چاکلیٹ بھی نہ ٹوٹے اور آپ سر پھاڑنے والی ہے؟فاحا اُس کے ہاتھ میں موجود پتھروں کو دیکھ کر بولی
اِس کو کانفڈنس کہتے ہیں۔۔۔۔میشا نے مزے سے کہا
آپ کے اِس کے کانفڈنٹ کا الگ لیول ہے مگر ابھی مجھے سیکھائے یہ غُلیل۔۔۔فاحا منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی
ہاں پکڑو یہ۔۔۔۔میشا نے کہا
پکڑی ہوئی ہے۔۔۔۔فاحا نے غُلیل اُس کے سامنے لہرائی
ایسے نہیں جو وی بنی ہوئی ہے اُس کو پکڑو۔۔۔۔۔میشا نے اپنا سر نفی میں ہلایا اِس بات سے انجان کے نیچے ایک الگ جنگ شروع تھی
پکڑ لیا۔۔۔۔فاحا نے بتایا
ایسے پکڑو کہ ربرز پیچھے کی طرف ہو پھر اُس میں پتھر ڈال کر کھینچ کر نشانہ بناؤ کہ کسی کی آنکھ پھوڑدو۔۔۔میشا نے ماہرانہ انداز میں اُس کو گائیڈ کیا اور فاحا نے ایسا ہی کیا مگر اُس کا پتھر کسی کی آنکھ نہ پھوڑ پایا بس اُس کے پاؤ کے پاس گِر پڑا
پتھر بھی بول رہا ہے کس کے ہاتھ لگا ہوں بہن مجھے معاف کردو۔۔۔۔میشا خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو فاحا کا منہ اُترگیا
اچھا یہاں آؤ۔ ۔۔۔میشا نے اُس کو اپنے پاس کھڑا کیا اور اُس کا رُخ سامنے کی طرف کیے غُلیل اُس کے ہاتھوں میں سہی سے پکڑائی اور اُس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھا پھر نِشانہ تیسرے آدمی کی طرف کیا جو اسلحان سے جانے کیا بکواس کیے جارہا تھا۔۔۔
ون
ٹو
تھری
ریڈی
تھری کے ہوتے ہی میشا نے فاحا کے ساتھ مل کر اُس کی آنکھ بھی پھوڑ ڈالی تھی جس پر اُس کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ آئی
ویسے میشو آپو ہم نے اِن انکل کو غلیل کیوں ماری؟”ایسے تو اللہ گُناہ دیتا ہے۔۔آدمی کی آنکھ پھوڑنے کے بعد فاحا کو خیال آیا تو میشا نے اُس کو گھورا
میری چڑیا جتنا دل رکھنے والی بہن آپ کو نہیں لگتا کہ یہ سوال کرنے میں آپ کو تاخیر سرزند ہوئی ہے۔۔۔۔میشا نے بھگو کر طنز کیا
مگر آپو میں تو چھوٹی ہوں بہت بیٹا کیسے دے سکتی ہو؟فاحا نے ناسمجھی سے کہا میشا ہونک بنی اُس کا چہرہ تکنے لگی
بڑی جلدی ہے بیٹا دینے کی”باپ کا خون نہ ہو تو۔۔۔آخری لائن میشا آہستہ آواز میں کہی تھی
میں نے کب کہا ابھی آپ نے بولا۔۔۔۔۔”سرزند دینے میں تاخیر ہوئی ہے اور اُردو میں تو سرزند بیٹے کو کہا جاتا ہے فاحا کو اُس کی اُردو ٹیوٹر نے یہی بتایا تھا۔ ۔۔۔۔فاحا نے کہا تو میشا کا دل چاہا اپنا ماتھا پیٹ لے
وہ سرزند نہیں ہوتا اُردو بنانے کی دُشمن فرزند ہوتا” جس کو بیٹا کہا جاتا ہے۔ ۔۔”اچھا ہوا ادب اُردو کے لکھاری مرچُکے ہیں ورنہ آج کارنر میں بیٹھے رو رہے ہوتے۔ ۔اور اب چلو ہم نے نیکسٹ اسٹیپ لینا ہے۔ ۔۔۔میشا سرجھٹک کر اُس سے بولی تو فاحا اُس کے ہم قدم ہوئی ۔
وہ دونوں باہر آئیں تو میشا کی نظر لاؤنج میں سنجیدہ بیٹھی سوہان پر گئ تو اُس نے بے ساختہ تھکی ہوئی سانس خارج کی
سوہان۔۔۔۔میشا نے اُس کو مُخاطب کیا
ہمممم کیا ہوا؟سوہان جیسے گہری نیند سے جاگی
Just a few bad chapters
Doesn’t mean that
Your story is over…
So smile and move on
Because……
The best is yet to come !
تم خود کہتی ہو انسان اپنے اِرد گرد ہونے والے واقعات سے سیکھتا ہے۔ ۔۔۔ماحول وہ اہم جزا ہوتا ہے جو اچھے انسان کو بُرا بنانے کا سبب بھی بنتا ہے اگر تم فاحا میں اعتماد بحال کرنا چاہتی ہو تو پہلے خود کو پُراعتماد بنانا ہوگا کیونکہ جس طرح بیٹیاں ماں کی پرچھائی ہوتیں ہیں اُسی طرح چھوٹی بہنیں وہ سب کرنا چاہتی ہیں جو اُن کی بڑی بہنیں کرتیں ہیں۔ ۔۔۔سنجیدگی سے اپنی بات کہہ جانے کے بعد میشا وہاں رُکی نہیں تھی بلکہ فاحا کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے وہ باہر چلی گئ تھی۔ ۔۔جبکہ اُس کے لفظوں نے سوہان کو گہری سوچو میں ڈوبا دیا تھا۔ ۔۔







حال!
اُن آدمیوں سے دو دو ہاتھ کرلینے کے بعد میشا گھر آئی تو اپنے پیٹ پر ڈوپٹہ باندھے فاحا اُس کو یہاں سے وہاں ٹہلتی نظر آئی
میں تو ابھی زندہ ہوں پھر یہ تم نے کس کی فوتگی میں کپڑا باندھا ہے؟میشا نے حیرت سے فاحا کو دیکھا
ہمیں کونسا کسی کی فوتگی میں جانا ہوتا ہے وہ تو میرے پیٹ میں درد ہے جبھی پیٹ باندھا ہے۔ ۔۔۔فاحا نے صوفے پر بیٹھ کر اُس کو بتایا تو میشا الجھن بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی کیونکہ وہ ابھی تک فاحا کی بات سمجھ نہیں پائی تھی
اگر پیٹ میں درد ہے تو پیٹ درد کی دوا لو یہ پیٹ پر کپڑا باندھنے والا کیا لوجک ہے بھئی؟میشا نے سرجھٹک کر پوچھا
آپ کو نہیں پتا کیا جس طرح اگر کسی کے سر میں سردرد ہوتی ہے تو وہ اپنا سر باندھ لیتا ہے مطلب وہاں ڈوپٹہ باندھتا ہے تاکہ سردرد کم ہو ویسے ہی میں نے سوچا پیٹ درد کے لیے بھی ایسا کرکے دیکھو۔۔۔۔فاحا نے کان کی لو کُھجاکر بتایا
“میری بہن تم کسی حکیم کی حکیمہ کیوں نہیں بن جاتی مطلب ایسا دماغ ایسے خیالات تمہارے دماغ میں آتے کیسے ہیں۔ ۔۔۔؟میشا نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا تھا
بس کبھی غرور نہیں کیا۔ ۔۔فاحا قدرے شرماکر بولی
یہ لو میشو۔ ۔۔۔میشا کے مزید کچھ کہنے سے پہلے سوہان نے وائپر اور میلا کپڑا ساتھ میں پانی کی بالٹی ایک ساتھ میشا کے سامنے رکھنے لگی تو وہ چونک کر اُس کو دیکھنے لگی۔
یہ کیا ہے؟ میشا وائپر کو ایسے دیکھنے لگی جیسے کوئی انوکھی چیز اُس کے ہاتھ لگی ہو
اِس کو وائپر بولتے ہیں اور یہ صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ۔۔۔سوہان نے بتایا
ہاں تو مجھے کیوں دے رہی ہو؟”اپنی اِس چہیتی لاڈلی بہن کو دو جس نے اسکول نہ جانے کے بعد خود کو اِس عذاب میں ڈالا تھا اگر اُس وقت یہ میری بات مان کر اسکول جاتی تو گھر کا کوئی بھی کام کبھی بھی اِس کو کرنا نہ پڑتا میں تو خاص ملازمہ بھی اِس کو رکھ کر دے دیتی۔۔۔۔میشا فاحا کو دیکھ کر بولی تو سوہان نے آِئبرو اُپر کیے اُس کو ایسے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو” سیریسلی؟
خیر اِتنی اچھی تو آپ کبھی نہ تھیں۔ ۔۔۔فاحا نے منہ بسور کر کہا
مسوری دال۔ ۔۔میشا نے اُس کو گھورا
تمہیں اپنی جاب پر جانا ہوگا اُس سے پہلے ساری صفائی کرجاؤ فاحا کی طبیعت سہی نہیں ہے اور مجھے کشف کا کیس ریڈ کرنا ہے جو مصروفیت ہونے کی وجہ سے میں پڑھ نہ پائی تھی۔۔”مجھے سب جاننا ہے اُس شخص کے بارے میں جس نے ایسا جُرم کیا ہے۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا
“ایک دن صفائی نہیں ہوگی تو کونسا بڑی بات ہوجائے گی ویسے بھی دیکھو کتنا چمکا رکھا ہے فاحا نے گھر ایسے اگر یہاں سال بھر صفائی نہ بھی ہوئی تو یہاں دھول مٹی کا نام ونشان نہیں ہوگا۔ ۔۔۔میشا دانتوں کی نُمائش کیے بولی
جہاں صفائی نہیں ہوتی وہاں فرشتے نہیں آتے اِس لیے ڈرامے بازی نہ کرے آپ۔ ۔۔۔فاحا نے کہا تو میشا ضبط سے اُس کو دیکھنے لگی
فاحا تم بیٹھ جاؤ۔۔۔سوہان نے فاحا کو دیکھ کر نرمی سے کہا
سُنو بہن میں بھی تمہاری سگی بہن ہوں بس میں کسی بونس کی طرح نہیں ملی تھی۔۔۔میشا نے احتجاج کیا
میشو ایک دن صفائی کرنے سے کیا ہوگا؟”کچھ بھی نہیں سارا گھر تو فاحا نے اکیلے سنبھالا ہوا ہے اگر آج اُس کی طبیعت خراب ہے تو ہمیں کرنا ہوگا نہ۔۔”یہ تو نہیں کہ ہر حال میں فاحا نے کرنا ہوگا مت بھولو اُس کو اپنا پڑھنا بھی ہوتا ہے جو ازحد ضروری ہے۔۔سوہان نے اِس بار اُس کو سمجھانے والے انداز میں کہا جس پر میشا نے ناچار اُس کے ہاتھ سے وائپر لیا
بہت بھاری ہے خیر لگانا کہاں ہے؟میشا وائپر کو پکڑے بولی
یقین جانے آپ سے بھاری نہیں ہے اور اگر آپ چاہے تو اپنے چہرے پر لگاسکتیں ہیں۔۔۔فاحا نے مسکراہٹ ضبط کیے کہا
اگر تم چاہتی ہو تمہارا درد پیٹ تک رہے تو چُپ رہو ورنہ میں جو کروں گی نہ اُس سے تمہارا جوڑ جوڑ درد کرنے لگے گا۔۔۔میشا نے اُس کو تنبیہہ کی تو فاحا سٹپٹائی
“اگر وائپر واقعی میں بھاری ہے تو ایسا کرو یہ بالٹی ہے اور یہ کپڑا ہے نیچے فرش پر پونچا لگاؤ۔۔۔۔سوہان نے وائپر واپس اُس کے ہاتھ سے لیا
کس سے دوں؟میشا نے نے تُکہ سوال کیا
ہاتھوں سے اور نیچے بیٹھ کر۔۔ ۔فاحا نے بتایا
کیری آن۔۔۔۔سوہان اُن دونوں کو دیکھتی وہاں سے چلی گئ۔۔۔
سب سے پہلے میشا چہرے کے عجیب زاویئے بناتی بیٹھ کر کپڑا پانی میں بھگو دیا ابھی وہ کپڑا واپس نکالنے لگی تھی جب فاحا بول اُٹھی
اِس کپڑے کو بالٹی میں نچوڑے۔۔
ایسا کرو خود آجاؤ۔۔۔۔میشا نے تپ کر کہا تو فاحا نے بے ساختہ اپنا سر نفی میں ہلایا
تو چُپ کرو اور ٹی وی پر کوئی ڈرامہ لگادو۔۔۔۔میشا نے اُس کو آنکھیں دیکھائے کہا
بیمار بہن سے کام کروا رہی ہیں قیامت کے دن اِس کا الگ سے حساب ہوگا اور میں کوئی نہیں صبح صبح ڈرامہ لگانے والی یہ شیطان کا کام ہوتا ہے اور جہاں صبح صبح اللہ کا کلام نہیں ہوتا وہاں برکت نہیں ہوتی۔۔۔۔فاحا ٹیوی پر تلاوت لگاتی بولنے لگی
تم نہ میری بڑی بہن نہ بنا کرو۔۔۔میشا نے اُس کو گھورا
آپ بھی نہ چھوٹو والی حرکتیں نہ کیا کریں بڑی ہوجائے اب۔۔۔فاحا دوبدو اُس سے کہتی واپس اپنی جگہ پہ آئی جبکہ میشا نے کوئی جواب نہیں اور زور سے پونچھا فرش پر رگڑنے لگی تو اُس کا انداز دیکھ کر فاحا حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی۔ ۔”مگر اُس سے بے نیاز میشا اپنے کام میں محو تھی اور جب اُس کو پونچے والا کپڑا زیادہ گیلا ہونے کے بعد باعث بھاری محسوس ہوا تو اُس نے جہاں فرش کی صفائی کی تھی وہی اُس کپڑے کو نچوڑا تو فاحا کی آنکھیں اُبلنے کی حدتک کُھلی تھیں جبکہ منہ بھی پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا”جو بھی تھا اُس کو میشا سے ایسی پھوہر پن کی اُمید ہرگز نہ تھی
آپ کی صفائی کا کیا فائدہ اور ایسے صفائی کون کرتا ہے؟ مطلب سیریسلی میشو آپو۔ ۔۔۔فاحا غش کھانے کے در پہ تھی
تم چُپ رہو اور مجھے میرا کام کرنے دو اور تم سچ سچ بتاؤ کتنا وقت ہوگیا ہے جو تم نے وائپر نہیں لگایا افففف غضب خُدا کا کتنی دھول مٹی ہے۔ ۔۔۔”میرے ہاتھوں کا حشر نشر ہوگیا ہے۔ ۔۔۔میشا اپنے ہاتھوں کو گھورتی اُس سے بولی پھر دماغ میں اُس کے جانے کیا سمایا جو اُٹھ کر اپنے جوتے والا پاؤ کپڑے پر رکھا اور اُس سے پونچا لگانے لگی تو فاحا نے بے ساختہ اپنا ماتھا پیٹا تھا
آپو۔۔۔فاحا سے کچھ بولا نہیں گیا
میری مانو دوسرا کپڑا تم بھی لاؤ اور ایسے کرو یقین جانو ایسے محسوس ہوگا جیسے اسکیٹنگ کررہی ہو۔”میں بھی بدھو ہوں یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا میرے دماغ میں۔۔۔میشا نے مزے سے کہا تو فاحا جھٹ سے اپنی جگہ سے اُٹھی”میشا کی مثال آج وہ تھی کہ کام ایسا کرو دوبارہ کوئی آپ کو کام کرنے کا نہ بولے
“آپو میشو آپ بیٹھ جائے میں کرلوں گی آپ نے جتنا پونچا لگایا اُتنا آج کے لیے کافی تھا باقی کا پونچا اپنے سسرال میں لگائیے گا کیونکہ میری آنکھیں یہ سب مزید دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ۔۔۔فاحا جھرجھری سی لیکر اُس کو پرے ہٹاکر بولی
میں کرتی ہوں نہ۔ ۔۔میشا نے کہا
نہیں پلیز۔۔۔۔فاحا نے باقاعدہ اُس کے سامنے ہاتھ جوڑے تو میشا کندھے اُچکاتی وہاں سے ہٹ گئ۔۔۔۔”جبکہ فاحا نیچے دیکھتی گہری سانس لی اور جلدی سے کام میں لگ گئ۔۔۔۔۔”
اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ خود کو صاف کرتی کچن میں ناشتہ بنانے چلی گئ تھی جبکہ میشا نے صبح کے نو بجے بعد ڈرامہ لگادیا تھا جو تھا”ناگن
“دس بیس منٹ بعد ناشتہ بناکر فاحا نے میشا کے آگے کیا اور سوہان کو بھی بُلایا اور پھر وہ تینوں ایک ساتھ ناشتہ کرنے لگی۔ ۔پر میشا سوچو میں گُم تھی کچھ۔ ۔
“یہ میں دھو دوں گی۔ ۔۔ناشتے کے بعد فاحا برتن سمیٹنے لگی تو سوہان نے اُس کے ہاتھ سے لیے اور خود کچن میں چلی گئ تو فاحا مسکراتی اپنی ایک کتاب لیے پڑھنے میں لگ گئ۔ ۔۔”ساتھ اُس کے میشا بیٹھی ہوئی تھی
فاحا امیجن کرو ہم جنگل میں ہیں اور وہاں اگر میرے پاؤ پر ناگ ڈس دے تو تم کیا کرو گی؟کسی خیال کے تحت میشا فاحا کو دیکھتی اُس سے بولی
میں آپ کا پاؤں کاٹ دوں گی سمپل۔۔۔۔کتاب پہ نظریں جمائے فاحا نے بلاتکلف کہا تو میشا کی آنکھیں پھٹنے کی حدتک کُھلی تھیں
سیریسلی تم میرا پاؤ کاٹ دو گی؟میشا کو جیسے یقین نہیں آیا
ہاں زہر پوری ٹانگ سے جسم میں پھیل جائے اور آپ جاں بحق ہوجائے اِس سے اچھا نہیں کہ آپ کا پاؤ کاٹا جائے نہ رہے گا بانس اور نہ بجے کی بانسری۔۔۔۔فاحا کا انداز خاصا پرسکون تھا۔
پاؤ کاٹ کر تم کیا مجھے محتاج بنانا چاہتی ہو؟میشا بیہوش ہونے کے در پر تھی
افکورس اب آپ کی جان سے زیادہ مجھے آپ کا پاؤ عزیز تھوڑی ہے جو آئے دن کسی نہ کسی ٹیبل یا دروازے کے درمیان آجاتا ہے۔۔۔۔فاحا سرجھٹک کر بولی تو میشا نے دانت پیسے
ڈراموں میں نہیں دیکھتی کیا کہ کیسے لوگ وہاں اپنا منہ لگا کر زہر نکالتے ہیں۔۔۔۔میشا نے اُس کی عقل پر ماتم کیا
وہ ڈرامہ ہے تو ظاہر سی بات ہے وہاں ڈرامہ ہی ہوگا اور پاؤ میں منہ لگانے سے زہر باہر نہیں نکلتا اُلٹا جو حاتم تائی کی قبر پر لات مار کر اپنی سی وہ کوشش کرتا ہے تو اُس کی جان کے لالے بھی پڑجاتے ہیں۔۔۔”پاؤں پاؤں ہوتا ہے ٹماٹر نہیں جو منہ لگانے سے اُس کا سارا رس ہمارے منہ میں آجائے گا۔۔۔۔فاحا اب کی کِتاب بند کرتی بولی تو میشا کا دل چاہا وہ فاحا کا گلا دبادے
“تمہیں کیا لگتا ہے یہ ڈرامے بنانے والے بیوقوف ہیں؟ میشا نے دانت پیسے
“یار آپو آپ خود سوچو ناگ جب ڈستا ہے تو اُس کی زبان انسان کے کسی جسم میں لگ جاتی ہے اور ناگ اِتنا زہریلا ہوتا ہے کہ وہ انسان اُسی وقت مرجاتا ہے۔۔اور جہاں ناگ ڈستا ہے تو ڈسکنے کی ایک چھوٹی جگہ نظر آتی ہے اگر آپ کی بات کے مُطابق وہاں کوئی منہ لگائے بھی تو وہ ٹھیک جگہ پر تو نہیں لگے گا نہ “اور نہ وہ زہر کھانے کی چیز جیسا ہوتا ہے جو نکالا جاسکے میں تو نہیں مانتی اِس لوجک کو۔ ۔۔ہاں اگر زہر نکالنے والا اگر اُس پاؤں کو آم سمجھ کر چوسے تو ہوسکتا ہے بچنے کے چانس نکل پائے۔ ۔۔۔فاحا نے پرسوچ لہجے میں کہا تو میشا نے ایک تھپڑ اُس کی پیٹھ پر مارا جس پر وہ منہ بسورتی رہ گئ۔ ۔۔۔۔
