Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 48)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 48)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
فاحا کو ایسی کوئی خوشقہمی نہیں ہے۔۔فاحا خود کو مضبوط ظاہر کرتی اسیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
“تو فاحا کو ایسی خوشفہمی رکھنی چاہیے۔ ۔اسیر کا انداز آج قدرے بہت مختلف تھا جس کو فاحا ہضم نہیں کرپا رہی تھی۔
“آپ جائے اِس سے پہلے میشا آپو آجائے۔ ۔فاحا بار بار دروازے کی طرف دیکھتی اُس سے بولی
“آجائے ہم کیا آپ کی افلاطون بہن سے ڈرتے ہیں۔ ۔اسیر نے اُس کی بات ہوا میں اُڑائی
“وہ منہ توڑنے میں وقت نہیں لگاتی۔ ۔فاحا نے اُس کو ڈرایا
“ہمیں پہلے ہمارے سوال کا جواب چاہیے۔ ۔اسیر نے سنجیدگی کے عالم میں کہا
“کونسے سوال کا جواب؟فاحا زچ ہوئی
“آپ نے ہم سے شادی سے انکار کیوں کیا؟اسیر نے پوچھا
“وجہ فاحا آپ کو بتاچُکی ہے لہٰذا آپ اُس کو اب مزید تنگ نہ کریں۔ ۔فاحا نے اُس کو دیکھ کر جواباً کہا
“فاحا نے انکار جن اعتراضات پر کیا ہے ہم اُس کو رد کرتے ہیں۔ ۔اسیر نے آرام سے کہا
“آپ کے رد کرنے سے ہمارا فیصلہ بدل نہیں جائے گا ویسے بھی میرے انکار پر آپ کو اِتنا بُرا کیوں لگ رہا ہے؟ “جبکہ یہ انکار فاحا سے پہلے آپ نے کیا تھا تو خوش ہوجائے یا پھر میں یہ سمجھوں کہ میرے انکار سے آپ کی سوکالڈ انا جاگی ہے۔ ۔۔فاحا نے اُس کو دیکھ کر میٹھا سا طنز کیا تھا جس پر اسیر جان گیا کہ میشا کے ساتھ ساتھ اُس کی عروج بیگم سے ہوئی گفتگو فاحا بھی سُن چُکی ہے تبھی اُس کا اِتنا روکھا انداز تھا
“ہاں آپ نے سہی اندازہ لگایا ہے آپ کے علاوہ ہمیں کوئی اور نہیں سمجھ سکتا یہی وجہ ہے کہ ہم نے اب آپ سے شادی کرنے کا سوچا ہے۔ ۔اسیر نے وہ کہا جس کا اُس نے کبھی سوچا تک نہیں تھا”اپنے آپ پر وہ خود بھی حیرت زدہ تھا کہ اُس نے آخر فاحا کے انکار کو اِتنا سر پر سوال کیوں کرلیا تھا
“یہ اچھی زبردستی ہے۔ ۔”اپنے دل کی آواز کو نظرانداز کرتی فاحا اُس کو گھورنے لگی
“ہے تو سہی لیکن ہم آپ کو خود کے ساتھ ناانصافی نہیں کرنے دے سکتے”آپ کا کوئی حق نہیں کہ ہمیں یعنی سردار اسیر ملک کو ریجیکٹ کریں وہ بھی تین بار۔ ۔۔اسیر نے کہا تو اِس بار فاحا نے من ہی من میں میشا کو کوسا
“آپ میرے ساتھ زور زبردستی نہیں کرسکتے” یہ میری زندگی ہے”اور میں جو چاہوں” جیسا چاہوں جس کو چاہوں ریجیکٹ کرسکتی ہوں ۔فاحا سرجھٹک کر بولی
“ہاں لیکن ہم اپنے ساتھ آپ کو یہ ظلم کرنے نہیں دے ۔۔سکتے۔ اسیر نے کہا تو فاحا نے تھکی ہوئی سانس بھر کر اسیر کو دیکھا
“یہاں جانے کا کتنا لے گے آپ؟فاحا نے بڑے تحمل سے پوچھا
فقط آپ کی ایک ہاں۔ ۔۔اسیر دلفریب لہجے میں بولا تو فاحا کی آنکھیں اُبل کر باہر آنے کے در پہ تھیں۔
“آپ کے رنگ ڈھنگ تو کچھ منٹس میں بدل گئے ہیں۔ ۔فاحا بے یقین تھی
“ہاں آپ کہہ سکتیں ہیں اور ابھی تو ہم جارہے ہیں”لیکن ہمیں اب آپ کا جواب” ہاں” میں چاہیے۔ ۔اسیر سنجیدگی سے دو ٹوک لہجے میں کہتا اپنے قدم اُس کے کمرے سے باہر نکالے”پیچھے فاحا جانے کتنی دیر تک جہاں تھی وہاں کی وہاں کھڑی ہوتی رہ گئ۔ ۔
Rimsha Hussain Novels![]()
ویسے تمہیں مہمان نوازی کرنا بلکل بھی نہیں آتی۔ ۔آریان میشا کے ساتھ نہر کے پاس بیٹھا افسوس بھرے لہجے میں گویا ہوا
“اگر تم چاہتے ہو میں تمہیں اِس پانی میں نہ پھینکو تو خاموش رہو۔ ۔میشا نے گھور کر اُس کو دیکھ کر کہا جو کسی پرچھائی کی طرح ہر جگہ اُس کے ساتھ موجود ہوتا تھا۔
“میں سیریس ہوں اور تمہیں سیریس ہوکر میری بات کو سُننا چاہیے۔ ۔آریان نے جلدی سے کہا
“اچھا تو ایسا کیا ہے تمہاری بات میں؟میشا نے گویا اُس پر احسان کیا
“اممم تم اپنی بہنوں کو یہاں آنے کا کہو۔ ۔آریان نے پرسوچ ہوکر اُس سے کہا
“یہاں کیوں؟میشا ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی
“تم اُن سے کہو باقی میں زوئی کو خود کال کرکے یہاں آنے کا کہتا ہوں۔ ۔۔آریان نے پرسکون ہوکر کہا
“میری پہلے تم بات سُنو زرا غور سے یہ شہر نہیں گاؤں ہے اور یہاں یوں لڑکا لڑکی کو ایک ساتھ دیکھ کر معیوب سمجھا جاتا ہے اور جو تم ٹپر اکھٹا کرنے کا سوچ رہے ہو مہربانی کرکے اُس کو سوچنا بند کردو۔۔میشا نے طنز ہوکر کہا
“گاؤں کے لوگ یہاں نہیں ہیں اور یہاں کوئی پروائیویسی نہیں ہوتی کیا جہاں ہم دلوں کی بات کرسکے؟آریان بدمزہ ہوتا بولا
“پروائیویسی ہوتی ہے نہ بہت ہوتی ہے لیکن اپنے گھر میں یوں گاؤں کے بیچوں بیچ تمہیں کوئی پروائیویسی نہیں ملنے والی۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“ہاں تو اب تم مجھے بے گھر ہونے کا طعنہ دوں گی؟”میں نہ آریان دُرانی ہوں اگر چاہوں تو یہ پورا گاؤں خرید سکتا ہوں۔۔آریان جذباتی سا ہوگیا
“ہاں خرید لو پھر پتا ہے کیا اسیر ملک پورے گاؤں کو تمہاری قبر بناکر دفن کردے گا۔۔”اُس کی خاموشی کو تم نے ہلکے میں لے رکھا ہے”یہاں آتے جاتے لوگوں سے اُس کا پوچھو ایسا تعارف ملے گا نہ تمہیں کہ انگلیاں دانتوں کے درمیاں کرجاؤ گے۔۔۔میشا نے اُس کو ڈرانے کی کوشش کی جو بچپن سے نا صرف غُصہ کرکے لوگوں کو ڈراتا تھا بلکہ اُن کا حال بے حال کرجاتا تھا۔
“مجھے تو وہ بہت خاموش سا نفیس انسان لگا۔۔آریان کو جیسے میشا کی بات پر یقین نہ آیا
“ہونہہہ خاموش نفیس انسان”وہ سُلجھا ہوا شاید تمہیں لگا ہو ورنہ وہ خاموش رہ کر اپنے اندر ایک طوفان سموئے ہوتا ہے طوفان بھی وہ جو ہر کسی کو اپنے لپیٹ میں کرجائے۔ ۔میشا سرجھٹک کر بولی
“اچھا چھوڑو اپنے کزن کی تعریفوں میں پُل باندھنا میں کوئی اور بات کرنے جارہا تھا اور تم اُس کی تعریفوں میں لگ پڑی۔ ۔آریان کو اب اسیر سے جلن محسوس ہونے لگی۔
“میں کرتی ہوں سوہان کو کال اور خبردار جو تم نے کوئی ایسا ویسا سین بنایا بھی تو۔۔میشا اپنے موبائل میں سوہان کا نمبر ڈائل کرتی اُس سے بولی
“نہیں کرتا میں کچھ ایسا ویسا تم بس وہ کرو جلدی سے جو کہا ہے”اور ہاں اپنے چنگیز خان سے کہنا اِس گاؤں کا سردار ہے تو حویلی کا علاوہ کوئی پرسکون جگہ ہے اُس کے پاس ہے یا نہیں”یا بس یونہی نام کا سردار ہے۔۔آریان نے منہ کے زاویئے بناکر کہا
“میری بات سُنو تم نے مجھے پہلے سوہان کا کہا میں اُس کو آنے کا کہہ رہی ہوں”لیکن نہ تو میرے پاس اُس اسیر بشیر کا نمبر ہے اور نہ میں اُس کو یہاں آنے کا کہنے والی ہوں گاٹ اِٹ۔۔میشا اُس کو آنکھیں دیکھا کر بولی تو آریان بول کر پر پچھتایا تھا۔”اور بس خاموش سا میشا کو دیکھنے لگا جو اب سوہان سے بات کرنے میں لگی ہوئی تھی۔
Rimsha Hussain Novels![]()
یہ کیا ہے؟فاحا نے راستے میں مُلازمہ کو روک کر سلام کیا
“جی وہ یہ پانی ہے اور میں اسیر بابا کو یہ دینے کے بعد اُن لیے لیموں پانی بنانے لگوں گی۔۔۔مُلازمہ نے اُس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا
“اچھا کہاں ہیں وہ؟فاحا نے سرسری لہجے میں اُس سے پوچھا
“ہال میں بیٹھے ہیں اور زمینوں کے کاغذات دیکھ رہے ہیں۔۔مُلازمہ نے بتایا
“اچھا آپ پانی پِلانے کے بعد کوئی اور کام کرو فاحا اُن کو لیموں کا پانی دے آئے گی۔۔فاحا نے کسی خیال کے تحت کہا
“جی آپ؟وہ حیران ہوئی
“ہاں کیوں کیا کوئی مسئلہ ہے؟فاحا کو اُس کا اِتنا حیران ہونا سمجھ میں نہیں آیا تھا
“نہیں مسئلے والی کیا بات ہونی ہے اگر آپ بنائے گیں تو میں نے بس ویسے ہی پوچھا۔۔وہ سنبھل کر کہتی سائیڈ پر ہوئی
“یہ بس مجھے دو لیموں پانی دینا ہے تو خالی پانی کیوں دینا؟فاحا نے کہا تو مُلازمہ خاموش رہی اب وہ بھلا کیا کہتی “جب اُس سے بے نیاز فاحا اُس کے ہاتھ سے گلاس لیتی باورچی خانے جانے لگی تاکہ اسیر کے لیے لیموں پانی تیار کرسکے”وہ آج اسیر سے بات کرنا چاہتی تھی”اُس کو لگا تھا اُس دن اسیر نے خوامخواہ اُس کو پریشان کرنے کے لیے ایسی باتیں کی ہوگیں جس کو وہ آج کلیئر کرنا چاہتی تھی۔
“یہ لیں۔۔لیموں پانی بنانے کے بعد فاحا اسیر کے پاس آکر گلاس بڑھاکر بولی تو اسیر نے سراُٹھا کر اُس کو دیکھا جو اُس کے یوں دیکھنے پر اپنی نظروں کا زاویہ بدل چُکی تھی۔
زباں خاموش مگر نظروں میں اجالا دیکھا
اس کا اظہار محبت بھی نرالا دیکھا
توقیر احمد
“شکریہ۔۔اسیر اُس کے ہاتھ سے لیموں پانی کا گلاس لیتا محض اِتنا بولا
“فاحا کو آپ سے بات کرنی ہے۔۔فاحا نے اُس کو لیموں پانی پیتا دیکھا تو کہا
“آپ غلطی سے اِس میں نمک کے بجائے چینی ڈال چُکی ہیں۔۔۔اسیر اُس کی بات کے جواب کے بجائے گلاس خود سے دور کرتا بولا
“میں نے غلطی سے نہیں خود نمک کے بجائے چینی ڈالی ہے۔۔فاحا نے بتایا
“کیوں؟اسیر کا سوال بے ساختہ تھا
“کیونکہ فاحا چاہتی تھی کہ آپ کا مذاج زیادہ نہیں تو تھوڑا ہی لیکن میٹھا ہو۔۔اُس کی بات پر فاحا آہستگی سے بڑبڑائی تھی۔
“کچھ کہا کیا آپ نے؟اسیر نے غور سے اُس کو دیکھا
“آپ کچھ کہہ رہے تھے؟فاحا نے بات کا رُخ بدلا
“ہاں وہ ہم کہہ رہے تھے کہ لیموں پانی میں چینی کون ڈالتا ہے؟اسیر حیران ہوا تھا کیونکہ آج سے پہلے اُس نے کبھی لیموں پانی میں چینی کا مکسچر نہیں تھا سُنا
“لیموں پانی میں چینی کون نہیں ڈالتا؟”ہر کوئی ڈالتا اور لیموں پانی دو طرح سے بنایا جاتا ہے ایک نمک سے تو دوسرا چینی سے۔۔”اور فاحا گرمیوں میں لیموں بناتی ہے تو اُس میں نمک ایڈ کرتی ہے ورنہ وہ اکثر چینی کا استعمال کرتی ہے۔۔۔فاحا نے اُس کو بتایا تو اسیر کو بے ساختہ جھرجھری سی آئی تھی۔
“تم
“فاحا آؤ میرے ساتھ۔۔۔اسیر فاحا سے کچھ کہنے لگا تھا جب وہاں سوہان آتی فاحا سے مُخاطب ہوئی
“کہاں؟فاحا نے دیکھ کر پوچھا
“میشا نے ایک جگہ کا کہاں ہے وہی جانا ہے ہم نے۔۔سوہان نے بتایا
“دونوں اکیلی نہیں جاسکتی”یہ گاؤں ہے جہاں ہمارے دُشمن بھی ہوتے ہیں۔۔سوہان کی بات پر اسیر نے سنجیدگی سے کہا
“آپ کے ہیں ہمارے تو نہیں نہ۔۔فاحا یکدم بول اُٹھی
“خاندان تو ایک ہے نہ۔۔اسیر نے اُس کو گھورا
“ہمیں اپنا دفاع کرنا آتا ہے’خیر تمہارا شکریہ اور فاحا تم جلدی کرو۔۔سوہان اسیر کو جواب دیتی آخر میں فاحا سے بولی
“رُکو جہاں جانا ہے ہم چھوڑ آتے ہیں۔۔اسیر کچھ سوچ کر اُٹھ کھڑا ہوا
“تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے”ہمیں وقت بھی لگ سکتا ہے کیونکہ وہاں آریان بھی ہوگا۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا
“پھر تو ہمارا وہاں ہونا اور بھی ضروری ہے۔۔کہنے کے ساتھ ہی اسیر اُس کے برابر سے گُزرا تو سوہان اُس کی پشت کو گھورنے لگی۔
“اِن میں اِتنا اٹیٹیوڈ کیوں ہے؟فاحا کو اسیر کا انداز قطعیً نہیں بھایا
“خُدا جب حُسن کے ساتھ مال دولت سب کچھ دے دیتا ہے تو اٹیٹیوڈ اِنسان میں خودبخود آجاتا ہے۔۔سوہان اُس کی بات کے جواب میں بولی جس پر فاحا لاجواب سی ہوگئ



“کیا ہوا ہے جو مجھے یہاں جلدی میں آنے کا کہا؟زوریز آریان کی بتائی ہوئی جگہ پر آتا سوال گو ہوا
“ایک سرپرائز ہے میرے پاس تمہارے لیے۔۔آریان نے پرجوش ہوکر اُس کو بتایا تو زوریز نے اُس کے ساتھ کھڑی میشا کو دیکھا جس نے اُس کے ایسے دیکھنے پر اپنے شانے اُچکادیئے تھے”کہ وہ بھی نہیں جانتی کسی سرپرائز کے مطلق
“کیسا سرپرائز؟زوریز نے پوچھا
“اپنے پیچھے دیکھو۔۔۔آریان نے مسکراہٹ دبائے کہا تو زوریز نے مڑ کر دیکھا جہاں بڑی سی گاڑی میں اسیر کے ساتھ سوہان اور فاحا یہ لوگ نکلے تھے۔۔۔
“یہ سرپرائز تو نہیں کونسا زوریز اُس کو پہلی بار یا سالوں بعد دیکھا ہے۔۔میشا نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا”تب تک وہ لوگ اُن کی طرف آچُکے تھے
السلام علیکم ۔۔۔زوریز نے ہمیشہ کی طرح سلام کرنے میں پہل کی
وعلیکم السلام ۔۔اُس کے سلام کا جواب تینوں نے دیا تھا۔
“اگر آپ کو غُصہ نہ آئے تو ایک بات کہوں؟آریان نے پہلے اسیر سے اِجازت چاہی
“کہو؟اسیر نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“آپ کے پاس کیا کوئی پروائیویٹ پلیس ہے جہاں ہم سب آرام سے بیٹھ سکتے ہیں۔۔اسیر کے کہنے پر آریان بول اُٹھا
“”ہم سے مُراد؟اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا
“ہم سے مُراد ہم سب۔۔آریان نے جلدی سے بتایا
“جگہ ہے لیکن وہاں ہماری کزنز میں سے آپ کے ساتھ کوئی نہیں آئے گا۔”اگر سوہان زوریز کے ساتھ جانا چاہے تو وہ الگ بات ہے۔۔اسیر نے کہا تو آریان کی شکل دیکھنے لائق ہوگئ تھی۔
“ہم کیوں نہیں جاسکتے؟فاحا نے اُس کو گھورا
“کس حیثیت سے جائے گی؟اسیر نے اُس کو آنکھیں دیکھائی
“ہمارے جیجا جی ہیں دونوں۔۔۔فاحا نے کہا تو آریان اُس کے واری صدقے ہوا
“صرف آپ کی ایک بہن نے خوفیہ نکاح کیا ہو
“ہمارا نکاح خوفیہ ہوتا تو اِس بات آپ کو پتا نہ ہوتا۔۔۔اسیر جو فاحا سے کچھ کہنے والا تھا اُس کی بات کا مطلب کا سمجھے زوریز بیچ میں سنجیدہ لہجے میں بولا
“جو بھی لیکن یہ ہمارا گاؤں ہے اور یہاں یہ سب نہیں ہوتا۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا
“آپ بھی تو ہوگے ساتھ اگر ہم پر یقین نہیں تو۔۔آریان نے کیسے بھی کرکے اُس کو راضی کرنا چاہا
“تمہاری بات زیادہ ضروری ہے تو ہم ابھی شہر کی طرف چلتے ہیں۔۔میشا نے آریان کا ساتھ دیا تو وہ گِرتے گرتے بچا
“ہاں یہی سہی ہے”وہاں کوئی روعب جہاڑنے والا بھی نہیں ہوگا۔۔فاحا نے بھی اُن دونوں کی ہاں میں ہاں ہلائی
“ہماری گاڑی کو فالو کریں۔۔اسیر اُن پانچوں کو تیز گھوری سے نوازتا بولا تو آریان نے بیحد آہستہ آواز میں یاہوووو کا نعرہ لگایا تھا
“ہم جانے کیوں والے ہیں؟سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا
“بس ایک سرپرائز ہے۔۔۔آریان نے سسپینس پِھیلایا
“اب چلو اِس سے پہلے وہ آگے نکل جائے۔۔۔میشا نے کہا تو وہ جانے لگے تھے”جب زوریز نے سوہان کا ہاتھ پکڑ کر روکا ہوا
“کیا ہوا؟سوہان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“کل ہمارا سامنا آپ کے خاندان کے مردوں سے ہوگا تو میں یہ چاہوں گا آپ میرا ساتھ دے تب۔۔زوریز نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں کہا وہ سوہان کو اپنے اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔
“کیا اِس وقت یہ باتیں ضروری ہے؟سوہان نے سوال کیا
“میری بات غیرضروری نہیں جس کو آپ اگنور کرنے پر تُلی ہوئیں ہیں۔ ۔زوریز بھی دوبدو بولا
“کل کی کل دیکھی جائے گی ابھی ہمیں اُن کے ساتھ جانا چاہیے۔سوہان نے گہری سانس بھر کر کہا تو زوریز نے اُس کا ہاتھ چھوڑدیا اور سوہان سمجھ گئ کہ بندہ ناراض ہوگیا ہے۔۔”کیونکہ چاہے وہ کچھ کہتا نہیں تھا لیکن اُس کا انداز ہر چیز کو بیان کردیتا تھا۔
Rimsha Hussain Novels![]()
“جگہ تو کافی اچھی ہے اور یہ گاؤں سے دور بھی ہے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اِتنی اچھی جگہ لاؤ گے۔۔میشا اِرد گرد کا جائزہ لیتی کافی ایمپریس ہونے والے انداز میں اسیر سے بولی تو آریان کی شکل ایسی بن گئ جیسے کوئی کڑوا بادام نگل لیا ہو۔
جگہ واقعی پیاری اور بیحد پرسکون ہے۔۔فاحا نے بھی میشا کی بات سے اتفاق کیا”کیونکہ جہاں وہ اِس وقت تھے وہ کسی کاٹیج کی طرح ڈیزائن کیا گیا تھا۔
ویسے آپ لوگوں کو ایک بہت نئ بات بتاتا چلوں جس کو سن کر کسی کو یقین نہیں آئے گا۔ ۔آریان نے اچانک کہا تو وہ لوگ سوالیہ نظروں سے آریان کو دیکھنے لگے۔
“اگر ایسا ہے تو مت بتاؤ کیونکہ یقین تو ہم نے کرنا نہیں۔۔میشا نے کہا تو فاحا ہنس پڑی تھی۔
“رنگ میں بھنگ مت ڈالو میں بہت سیریس ہوں۔۔آریان نے اُس کو گھورا
اگر ایسا ہے تو پلیز جلدی سے بتائے۔۔فاحا پرجوش ہوئی
“ہاں تو میں نے اِتنا کچھ اِس لیے کیا ہے کیونکہ آج دا بزنس ٹائیکون زوریز دُرانی ہمیں گانا گاء کر سُنائے گا۔۔آریان نے کہا تو اسیر کے علاوہ ہر کوئی زوریز کو دیکھنے لگا جو خود حیران تھا۔
“آپ کو گانا بھی آتا ہے؟فاحا کو خوشگوار حیرت ہوئی اُس کو کہاں اندازہ تھا کہ اِتنا سنجیدہ نظر آنے والا شخص کوئی گانا بھی گاء سکتا ہے
“پتا نہیں۔۔۔زوریز کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بیٹھے بیٹھائے آریان نے اُس کے لیے کیسی مصیبت کھڑی کردی ہے
“دیکھو میری جان میرے بھائی تمہیں یہ نہیں سوچنا کہ تم گاؤ گے کیسے کیونکہ تمہارا جو یہ بھائی ہے نہ چھوٹا سا پیار سا اُس نے سارا انتظام کردیا ہے”تم نے بس کھڑے ہوکر نہیں بیٹھ کر بھی گاء سکتے ہو۔۔۔آریان اُس کے پاس آکر بولا تو اُس کو زوریز کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگا
“کونسا گانا گاؤ گے آپ؟میشا کو بھی انٹرسٹ پیدا ہوا”اِس درمیاں سوہان بلکل خاموش کھڑی تھی۔
“یہ جگہ گاؤ سے دور ہے جتنا اُتنا ہمارے لیے خطرناک ہے تو ہم یہاں اِن تینوں کو زیادہ رُکنے نہیں دے سکتے۔۔اسیر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا”وہ نہیں تھا چاہتا کہ زیادہ دیر حویلی سے”سوہان میشا یا فاحا رہتیں
“ہاں ویٹ کریں میں بس اِبھی گِٹار لایا۔۔۔آریان نے کہا تو زوریز چونک کر اُس کو دیکھنے لگا
“گِٹار کہاں سے آیا تمہارے پاس؟زوریز کو تعجب ہوا
“بعد میں بتاتا ہوں نہ وقت کم ہے۔۔آریان آنکھ کا کونا دباکر کہتا وہاں سے تھوڑی دیر کے لیے رفو چکر ہوگیا اور جب واپس آیا تو اُس کے ہاتھ میں گِٹار تھا۔
یہ لو۔۔۔آریان نے خوشی خوشی گٹار زوریز کی طرف بڑھایا
“تمہیں پتا ہے مجھے یہ سب نہیں آتا۔۔زوریز نے دانت پیس کر اُس کو دیکھ کر کہا
“مجھے سب اچھے سے پتا ہے کہ اگر تم آج بزنس مین نہ ہوتے تو نامور گُلوکار ہوتے۔۔آریان نے ڈھیٹ پن کا ثبوت دیا اور باقیوں کو بھی سامنے بیٹھنے کا اِشارہ دیا تو سوہان کے علاوہ ہر کوئی بیٹھ گیا تو زوریز نے اُس کو دیکھ کر آخر گانا گانے کی ٹھان لی
قولی متی أشوفك انامتی
“زوریز نے جیسے ہی گانا شروع کیا تو جہاں سوہان نے آئبرو اُپر کیے اُس کو دیکھا اور فاحا گہرا مسکرائی تھی وہی میشا کے سر پہ سے گُزری تھیں یہ لائنز
“تمہارے بھائی کو کوئی اُردو گانا نہیں تھا کیا ملا؟میشا سخت بدمزہ ہوتی آریان سے بولی جو اُس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
“گوگل سے چیک کرلینا معنی ابھی بس ساز اور سُر کو محسوس کرو۔۔آریان نے کہا تو میشا نے اُس کو گھورا
“مجھے معنی بتاؤ۔۔۔میشا بضد ہوئی تو آریان نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا
مجھے بتاؤ ہم دوبارہ کب ملے گے۔۔۔آریان نے کہا
“شرم کرو۔۔میشا نے اُس کو دانت کچکچاتی نظروں سے دیکھا
“اِس کا یہ مطلب ہے۔۔آریان نے بھی اِس بار اُس کو گھورا
“ایسا تو
Tell me,when I’m going To see you again
میشا اُس کی بات کی نفی کرنے والی تھی جب سوہان کے پاس آتا مطلب بیان کرتا ہے زوریز کو سُن کر میشا کو چُپ لگ گئ تھی۔
عیانی الشوق نارہ ھایجہ فی قلبی
My eyes are longing and missing you..it got my heart on fire
“آپ کو آتا ہے گانا؟فاحا نے کسی خیال کے تحت اسیر سے پوچھا
“ہم گانے نہیں سُنتے۔۔جواب میں اسیر نے محض اِتنا کہا
میری آنکھوں میں تمھاری آرزو اور تمہاری یاد میرے دل کو جلا رہی ہے۔”یہ اِس لائن کا مفہوم تھا جو زوریز دُرانی نے گائی۔۔۔فاحا نے اُس کی بات کے جواب میں کہا
“جانتے ہیں۔۔اسیر بھی اُس کی طرف دیکھ کر بولا
أی یای یای یای
کمدیر انا نخبی حبك أنا
How can i hide my love for you
“زوریز سوہان کی آنکھوں میں دیکھ کر گانے لگا تو وہ جزبز ہوئی تھی”لیکن وہ چاہ کر بھی زوریز کو اِس بار کچھ کہہ نہیں پائی تھی۔
میں تمہاری محبت کو کیسے چُھپا سکتا ہوں
“زوریز کے معنی سمیت گانے کے بعد بھی فاحا الگ سے اسیر کو سُنانے لگی جو بہت غور سے اُس کو دیکھ رہا تھا۔
حالی مفضوح أنا من اللی بیا
Everyone knows that my love for you is too obvious
“سوہان کا پزل ہونا وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا تبھی جان کر اُس کے گرد چکر کاٹتا مزید اُس کو ستانے کے لیے جذب سے گانے لگا۔
یہ صاف واضع ہے، سب جانتے ہیں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں
“فاحا اِس بار اسیر سے نظریں چُراتی ہوئی بولی
أی یای یای یای
“تمہارے بھائی کی آواز بہت پیاری ہے کیا تمہیں یہ گانا آتا ہے؟میشا اُن لوگوں سے نظریں ہٹاتی آریان سے پوچھنے لگی۔
“مجھے شاعری کرنا آتی ہے کہو تو سُناؤں؟آریان اُس کی بات پر شوخ ہوا
بڑی مہربانی۔۔میشا تپ اُٹھی۔
خلینیی بلا بیك مہموم
Without you,I am so anxious
زوریز نے اِس بار سوہان کا ہاتھ پکڑے ڈانس کا اسٹیپ لیا تو اُس کا پورا چہرہ سرخ انار ہوا تھا۔
تمھارے بغیر میں بہت بے چین اور اداس ہو جاتا ہوں۔۔۔”کتنی گہرائی ہے نہ اِن لفظوں میں؟فاحا اسیر کو دیکھ کر بولی تو وہ مسکراکر سراثبات میں ہلایا تھا اور اُس کی حرکت پر فاحا کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
محال وأش باق غنفرح فی یوم
I don’t know if I gonna be happy again unless I see your face
زوریز کے اِن الفاظوں پر آریان نے میشا کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تھا جو جانے کیا سوچ کر میشا نے تھام لیا تھا۔
مجھے نہیں معلوم کہ میں کبھی دوبارہ خوش ہو پاؤں گا بھی کہ نہیں، جب تک کہ میں تمہیں نہ دیکھ لوں۔۔۔میشا اور آریان تو کبھی سوہان اور زوریز پر نظریں جماتی فاحا خود سے اسیر کو بتانے لگی جس کی ساری توجہ کا مرکز وہ تھی۔
اِیش بالدنیا غادی بغیابك نعیش
Without you the world nothing for me
تمہارے بغیر یہ دُنیا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی
“اِس بار اسیر نے کہا تو فاحا حیرت سے اُس کا چہرہ تکنے لگی جس کی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔۔
واخا نبغی ننسی قلبی ما یبغی
Even if I want to forget you my heart won’t allow to do this
یہاں تک کہ اگر میں تمہیں بھولنا چاہوں بھی تو بھی میرا دل مجھے ایسا نہیں کرنے دے گا (میں چاہ کر بھی تمہیں بھلا نہ پاؤں گا)
“میں تو ایویں بس سعد کی خوبصورت آواز کو سُنتی تھی یہ جانے بغیر کے اِن لفظوں میں کتنی گہرائی ہے۔میشا کافی حیرانگی سے آریان کو بولی تھی جو آج اپنی قسمت پر نازاں تھا۔
أی یای یای یای
عشقک جنون واکترا من الجنون
love for you is full of passionately and more than madness
“تمہاری محبت میرے لیے جنون اور دیوانگی سے کئ بڑھ کر ہے۔۔
“زوریز نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ لائن گائی تھی جس پر سوہان ہمیشہ کی طرح اپنی نظروں کو چُراگئ تھی۔
ما نویت فی یوم غنعیش بحالہ
I never thought, I would live something like that
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے ایسے بھی جینا پڑے گا
“ایک طرف زوریز تو دوسری طرف فاحا کی آنکھوں میں اِس بار بے بسی کا عنصر نُمایاں تھا۔
مادات العیون أرحمی ھاد العیون
With alluring eyes have mercy on that eyes
اپنی ان دلکش آنکھوں سے۔۔(میری) ان آنکھوں پر رحم کرو
اب آہستہ آہستہ زوریز اُس سے دور ہونے لگا تھا
ماشافت نوم غی اللیل ومو والو
They didn’t sleep whole night
جو رات بھر سو نہیں پاتیں
أی یای یای یای
زوریز گِٹار نیچے کرتا ایک نظر سوہان پر ڈالے جانے لگا تھا جب سوہان نے بے ساختہ آگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
خلینیی بلا بیك مہموم
Without you,I am so anxious
تمھارے بغیر میں بہت بے چین اور اداس ہو جاتی
محال وأش باق غنفرح فی یوم
I don’t know if I gonna be happy again unless I see your face
“مجھے نہیں معلوم کہ میں کبھی دوبارہ خوش ہوپاؤں گا بھی کہ نہیں۔”جب تک میں تمہیں نہ دیکھ لوں۔
اِیش بالدنیا غادی بغیابك نعیش
Without you the world nothing for me
“تمہارے بغیر یہ دُنیا میرے لیے کچھ نہیں ہے
تمہارے بغیر میں بہت اُداس ہوجاتا ہوں
واخا نبغی ننسی قلبی ما یبغی
Even if I want to forget you my heart won’t allow to do this
یہاں تک کہ اگر میں تمہیں بھولنا چاہوں بھی تو بھی میرا دل مجھے ایسا نہیں کرنے دے گا (میں چاہ کر بھی تمہیں بھلا نہ پاؤں گا)
أی یای یای یای
“اِس بار سوہان نے اپنی خوبصورت آواز میں گایا تو زوریز حق دق اُس کو دیکھنے لگا”وہ یقین نہیں کرپایا کہ ابھی گانا گانے والی سوہان تھی”کیونکہ وہ چاہے جو کچھ بھی سوچ سکتا لیکن سوہان گانا گاء سکتی تھی ایسا کچھ تو اُس کی سوچو میں کہی بھی نہیں تھا۔۔
“نیند بھی لبوں پر نام تیرا
“بن کر میں رہوں تیری پرچھائی أی یای یای یای
“حیرانگی کے عالم سے باہر نکل کر زوریز نے بے ساختہ اپنا ماتھا اُس کے ماتھے سے ٹکراکر آنکھوں کو بند کرکے اُس کو محسوس کرنے کی کوشش کی تھی۔
