Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 31)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

ہم کسی دیبا کو نہیں جانتے۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی اسیر نے کال کاٹ دی”اُس کا پورا چہرہ غُصے کی بدولت سرخ ہوگیا تھا”آج اُس کو وہ سب یاد آگیا تھا جس کو بُھلانے کی وہ اکثر کوشش کرتا تھا۔۔۔”وہ اپنی زندگی میں دیبا نامی مُصیبت کو کب کا ختم کرچُکا تھا پر آج اُس کی آواز سن کر اُس کا دماغ گھوم گیا تھا اُس کو غُصہ آگیا دیبا کی جُرئت پر کہ آج اُس نے اسیر ملک کو کال کرکے بات کرنے کا سوچ بھی کیسے لیا۔۔۔

“یا وحشت۔۔۔اپنے ہاتھ کے مُٹھی کو زور سے دوسرے ہاتھ پر مارتا وہ اپنے بیتے ہوئے کل کے بارے میں سوچنے لگا جس کے بارے میں اُس کو سوچنا پسند نہیں ہوتا تھا

❤

“آٹھ سال پہلے

“میری بات سُنو آپ۔۔۔بیس سالہ اسیر جو غُصے سے اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا سیڑھیوں کے عقب پر جب اُس نے اٹھائیس سالہ دیبا کو دیکھا تو سنجیدگی سے اُس کو مُخاطب کیا

“کیا ہے؟دیبا جو وہاں کھڑی کسی سے باتوں میں مصروف تھی اسیر کے ایسے مُخاطب کرنے پر سخت بدمزہ ہوتی بولی”جو وائیٹ شرٹ بلیک جینز پینٹ میں ملبوس کھڑا دیبا کو کچا کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا”اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ پاس کھڑی دیبا کو جلا کر بھسم کردیتا

“ہمیں آپ سے شادی نہیں کرنی ہمیں ابا حضور کو بول دیا ہے وہ ہماری بات سُننے کے روادار نہیں ہیں اِس لیے آپ خود انکار کردو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔اسیر اپنے ماتھے پر بکھرے بالوں پر ہاتھ پھیرتا اٹل انداز میں بولا تو دیبا نے آنکھیں سیکڑ کیے اُس کو گھورا

“عزت سے بات کرو پورے آٹھ سال بڑی ہوں تم سے۔۔۔دیبا نے دانت پیس کر کہا

“بڑی ہیں تو بڑوں والا کام بھی کرنا سیکھے”تھوڑا شرم حیا کا دامن پکڑے اور کہے کہ اسیر سے شادی نہیں کرسکتی۔۔اسیر بدلحاظی سے بولا

“میری تم ایک بات کان کھول کر سُن لو “وہ کوئی اور ہونگے جو تمہاری اُونچی آواز پر سرجُھکادیتے ہیں میں دیبا فاروق ملک ہوں”مجھ سے اُونچی آواز میں بات کرو گے تو گدی سے زبان کھینچ لوں گی۔۔دیبا اپنا موبائیل سائیڈ پر کرتی اُس کا بازو دبوچ کر بولی تو اسیر نے نفرت بھری نظروں سے اُس کا خوبصورت چہرہ دیکھا جہاں ہر وقت میک اپ کا بسیرا ہوتا تھا اور اِس چہرے سے اسیر کو عجیب قسم کی وحشت ہوتی تھی”جس وجہ شاید یہ تھی کہ جب سے اُس نے ہوش سنبھالا تھا اپنے نام کے ساتھ اُس نے دیبا کا نام سُنا تھا۔

“ہم یہاں آپ کی تقریر سُننے کے لیے نہیں ہیں کھڑے”آپ سے جو کہا ہے وہ کریں اگر نہیں کیا تو ہمارے پاس اور بھی آپشنز ہیں آپ سے جان چُھڑوانے کے لیے۔۔۔اسیر اُس کی بات کو ہوا میں اُڑاتا جتانے والے انداز میں بولا

“یہ غرور کس چیز کا ہے تم میں؟دیبا نے غُصے سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“جس کا بھی ہے یہ جان لیں آپ کے باپ کا نہیں ہے اِس لیے ڈائن جیسی شکل کرکے ہم سے سوال کرنے سے اچھا ہے ابا حضور سے کہہ دے کہ اسیر سے میں شادی نہیں کرنا چاہتی وہ ویل مینئرڈ ہے ویل ایجوکیٹڈ ہے کم ایج ہے اور وجاہت کا شاہکار ہے اُس کے برعکس میں ایک عام شکل و صورت کے ساتھ میٹرک فیل لڑکی ہوں اور اُس کی ماں کی عمر کے برابر ہوں”ہمارا کوئی جوڑ نہیں لہٰذا ہماری شادی کا شوشہ ختم کیا جائے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں اُس کو اپنی ساری بات سمجھائی اور اپنی طرف سے دونوں کے درمیاں حائل فرق کو بھی اچھے سے بیان کیا تو دیبا کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا اور منہ پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا وہ حیرت اور بے یقین نظروں سے اسیر کو دیکھنے لگی جس نے پل بھر میں اُس کی خوبصورتی کی ایسی کی تیسی کردی تھی اور اپنی شان میں بڑھ چڑھ کر بولا تھا

“تمہیں میں جان سے ماردوں گی وجاہت کے شاہکار کے کچھ لگتے۔۔۔دیبا غُصے پاگل ہوتی بولی تو اسیر نے جھٹ سے سائیڈ پر پڑا اُس کا سیل فون اُٹھایا تھا

“ہمیں مارنے سے پہلے ہماری آخری خُواہش سمجھ کر وہ کردے جو ہم نے آپ کو کرنے کو کہا ہے ورنہ اِس موبائیل میں جو کچھ پڑا ہے وہ ہم جان کر پوری حویلی والوں کو دیکھا دینگے اب آپ کی مرضی ہے۔۔اسیر چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ سجاکر بولا تو اُس کے گالوں پر اُبھرنے والوں گڑھو کو دیبا نے نفرت سے دیکھا

“تمہیں کیا لگتا دیبا فاروق مرے جارہی ہے تم جیسے آٹے کی بوری سے شادی کے لیے۔۔۔دیبا نے چبا چبا کر لفظ ادا کیا

“ہمارے پاس اِتنا فالتو وقت نہیں ہوتا جو آپ کے بارے میں تُکے لگاتے پِھرے یا اندازے کہ دیبا میڈم ہم خاکسار کے بارے میں کیا خیالات رکھتی ہیں۔۔۔اسیر نے بھگو کر طنز کیا جبھی وہاں نورجہاں بیگم کے ہمراہ فائقہ بیگم آئی

“کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو کیوں پوری حویلی کو اپنے سر پر اُٹھالیا ہے۔۔فائقہ بیگم نے دونوں کو باری باری دیکھ کر سوال کیا

“آپ اپنے بدتمیز بیٹے سے سوال کریں۔۔۔دیبا نے تپ کر کہا

“ادب سے بات کرو دیا۔۔۔۔نورجہاں بیگم نے سختی سے اُس کو ٹوکا

“اور یہ ڈوپٹہ کہاں ہیں تمہارا؟بغیر ڈوپٹے اور کُھلے بالوں کے ساتھ حویلی کے مردوں کے سامنے گھوم کر تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔فائقہ بیگم نے اُس کو بنا ڈوپٹے کے دیکھا تو طنز لہجے میں سوال کیا

“کل اِنہوں نے ایک ہارر مووی دیکھی تھی جس میں موجودہ چڑیل سے یہ کافی مرعوب ہوئیں تھیں جبھی آج خود کو اُن جیسا ڈریس اپ کرنے کی عدلی سی کوشش کی ہے دیبا باجی نے۔۔۔اسیر نے لفظ “دیبا باجی”پر خاصا زور دے کر ادا کیا جس پر دیبا سرتا پیر آگ بگولہ ہوئی تھی مگر نورجہاں بیگم نے فائقہ بیگم کو دیکھا تھا جو اسیر کی آخری بات پر خود اُس کو گھوریوں سے نواز رہی تھیں مگر یہاں پرواہ کس کو تھی

“اپنی ٹوٹی پھوٹی اُردو لیکر یہاں سے دفع ہوجاؤ اسیر ورنہ میں تمہارا سر پھاڑنے میں ایک لمحہ نہیں لگاؤں گی۔۔۔دیبا نے اُس کو خبردار کرنا چاہا

“اسیر ملک ہیں ہم کوئی مذاق نہیں اِس لیے آپ چُپ چاپ وہ کریں جو آپ سے کہا گیا ہے”اور شام تک ہمیں مثبت جواب چاہیے”تب آپ کو آپ کا یہ سیل فون ملے گا۔۔اسیر اِس بار اپنے چہرے پر سنجیدگی طارے کرکے کہتا رکا نہیں تھا بلکہ لمبے لمبے ڈُگ بھرتا وہ وہاں سے چلاگیا تھا

“کس قدر بدتمیز ہوگیا ہے اسیر۔۔۔نورجہاں بیگم کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا

“یہ تائی جان اور تایا جان کی بے جاں چھوٹ کا نتیجہ ہے جو وہ ہر ایک کے سر پر کھڑا ناچتا ہے اور سونے پر سُہاگہ موصوف کو شہر کی اعلیٰ یونی میں ڈال کر اُس کا مزاج ساتوں آسمان پر پہنچایا ہے۔۔۔دیبا نخوت سے سرجھٹک کر بولی

“ہونے والا شوہر ہے تمہارا احترام سے بات کرو۔۔۔فائقہ بیگم کو اُس کا انداز پسند نہیں آیا

“مجھے تو آپ معاف کریں آپ کے اِس گھمنڈی بیٹے سے شادی کوئی اندھی لنگڑی یا لولی کرسکتی ہے مگر دیبا فاروق اِتنی بے وقعت نہیں ہے کہ اسیر ملک پر زبردستی مسلط ہوجائے۔دیبا بھی مضبوط لہجے میں کہتی وہاں سے چلی گئیں پیچھے وہ دونوں رہ گئ تھیں

“ہمیں دوبارہ سے کچھ سوچنا چاہیے کیونکہ بچے راضی نہیں ہیں۔۔۔نورجہاں بیگم پریشانی سے بولی

“اِن کی شادی ہوکر رہے گی۔۔”سجاد ملک کا اٹل فیصلہ ہے۔۔۔فائقہ بیگم اُن کی بات پر سنجیدگی سے بولیں

“اسیر اپنی ضد کا پکا ہے اور آپ دونوں کی عمروں کا فرق بھی تو دیکھے۔۔۔نورجہاں بیگم نے ہچکچاہٹ سے کہا

“کچھ نہیں ہوتا تم بس اپنی بیٹی کو لگام دو”اسیر کو راضی کرنا ہمارا کام ہے۔۔۔فائقہ بیگم نے اُن سے کہا تو نورجہاں بیگم خاموش ہوگئیں تھیں۔۔

❤

“السلام علیکم دادو۔۔۔۔اسیر کسی طوفان کی طرح عروج بیگم کے کمرے میں آتا اُن کو سلام کرنے لگا جو اپنے کمرے میں موجود ابھی نماز سے فارغ ہوئیں تھی

“وعلیکم السلام بچے سب ٹھیک ہے؟”اور یہ کیا حال بنایا ہوا ہے اپنا۔۔۔عروج بیگم کو فکر ہوئیں

“ہمیں اُس دیبا پتیسا سے شادی نہیں کرنی ہمیں ابھی پڑھنا ہے اپنی زندگی میں آگے بڑھنا ہے اور اِس درمیان دیبا جیسا ڈھول اپنے گلے میں نہیں پال سکتے”اور وہ ہم سے عمر میں بھی اِتنا بڑی ہیں۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں اُن سے کہا

“یہاں بیٹھو اور اپنے بات کرنے کا انداز دیکھو اسیر یکسر مختلف ہے آج اور اپنا حُلیہ دیکھو تم زرا لگتا ہے کہ تم حویلی کے بڑے سپوت اسیر ملک ہو۔۔”جس کو آگے چل کر گدی پر بیٹھنا ہے۔۔۔اسیر ملک کو دیکھ کر عروج بیگم افسوس بھرے لہجے میں بولی”جو بکھرے بال اور سلوٹیں زدہ شرٹ میں کھڑا بے تاثر نظروں سے اُن کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

“دادو ہمیں نہ گدی کا شوق ہے اور نہ یہاں کے لوگوں سے مطلب”ہم یہاں اِس لیے نہیں آئے کہ ہمیں بلی کا بکڑا بنایا جائے”آپ تو بڑی ہیں نہ آپ کا فیصلہ حویلی والوں کے حرفِ آخری ہونا چاہیے پھر آپ کیوں چُپ ہیں؟”کچھ کہتی کیوں نہیں۔۔اسیر نے گہری سانس بھر کر خود کو پُرسکون کرنے کی کوشش کرتا اُن سے بولا

“دیبا بہت اچھی لڑکی ہے اسیر اور سب سے بڑی بات وہ ایک میچیور لڑکی ہے”آپ کی کزن ہے پھر اُن سے شادی پہ مضحکہ کیا ہے؟آٹھ سال کوئی بڑا فرق نہیں ہوتا اور چاہے وہ آپ سے بڑی ہے مگر وہ لگتی تو نہیں نہ اور آگے جاکر آپ کی شخصیت میں بھی روعب آئے گا آپ بھی بڑے ہوگیں تو عمر کا فرق چُھپ جائے گا۔۔۔عروج بیگم نے چہرے پر نرم مسکراہٹ سجائے اُس کو سمجھانے کی ایک کمزور سی کوشش کی

“ہم بڑے ہوگے تو فرق محسوس نہیں ہوگا ایسے بول رہی ہیں جیسے بس ہم بڑے ہوگے اُس دیبا باجی کا وقت تو گویا رُک جائے گا”ٹھیر جائے گا اور وہ ہم سے شادی کے بعد نوعمر نوخیز کلی بن جائے گیں۔۔۔اسیر طنز لہجے میں بولا تو اُس کی بات پہ ایسی پیچیدہ حالت میں عروج بیگم مسکرائے بنا نہ رہ پائی تھی

“ہماری بات کا یہ مطلب نہیں تھا ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ آپ اُس کو وقت دے اُن کے بارے میں سوچیں۔۔عروج بیگم نے نرم لہجے میں وضاحت دی

“آپ سیدھا یہ کیوں نہیں کہہ دیتیں کہ اسیر ہم تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔۔۔اسیر سپاٹ لہجے میں کہتا اُن کو دیکھنے لگا

“دیکھو اسیر یہ آپ کے والدین کا فیصلہ ہے اور اُس کا پاس آپ کو رکھنا پڑے گا۔۔عروج بیگم نے کہا

“دیبا اچھی لڑکی نہیں ہے دادو۔۔۔اسیر اِس بار چیخ اُٹھا

“اسیر شرم کرو بیٹا وہ آپ کی کزن ہے۔۔عروج بیگم نے سخت نظروں سے اُس کو دیکھا جس پر وہ اپنے جبڑے بھینچتا اُن کے کمرے سے چلاگیا”پیچھے عروج بیگم نے تھکی ہوئی سانس خارج کی تھی۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

“آپ منع کردینگے نہ تایا جان کو؟اگلے دن صبح سویرے دیبا نے فاروق صاحب کو دیکھ کر پوچھا جو اُس کی بات سن کر گہری سوچو میں ڈوب چُکے تھے”دیبا کی تو کل رات نیند اُرگئ تھی کیونکہ اسیر نے اُس کا سیل فون توڑ دیا تھا کیونکہ اُس صاحبزدے کو شام میں مثبت جواب نہیں ملا تھا اِس لیے اُس نے سوچ لیا تھا وہ اپنے باپ سے بات کرکے اِس معاملے کو نپٹ لے گی۔۔

“ایک بار سوچ لو دیا یہاں تم راج کرو گی۔”معمولی سے عمر کے فرق میں آکر جذباتی فیصلہ مت لو۔۔فاروق صاحب نے اُس کو سمجھانا چاہا

“بابا سائیں پلیز میں آپ کی بیٹی ہوں میرے بارے میں آپ سوچے اور وہ اسیر بہت بداخلاق ہر بات منہ پر مارنے والا انسان ہے وہ آج ایسا ہے تو آپ دیکھنا کل یہ ایک وحشی انسان بن جائے گا۔۔۔”اور میں ایک وحشی کے ساتھ اپنی زندگی نہیں گُزار سکتی۔۔دیبا نے سرجھٹک کر کہا

“ٹھیک ہے تم پریشان نہ ہو میں بات کرتا ہوں بھائی صاحب سے۔۔۔فاروق صاحب نے کہا تو دیبا کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔

“تھینک یو سو مچ آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔دیبا خوشی سے کہتی اُن کے کمرے سے باہر نکل گئ۔

“اسیر کا بچہ اُٹھ گیا ہوگا اُس کو بتادیتی ہوں ورنہ میرا دماغ کھاتا رہے گا۔۔۔کسی خیال کے کہتے دیبا خود سے بڑبڑاتی اپنے قدم اسیر کے کمرے کی طرف بڑھائے

“اُس کے کمرے کا دروازہ کُھلا دیکھ کر دیبا اندر داخل ہوئی تو اُس کو اسیر کہی بھی نظر نہیں آیا مگر اُس کے نفاست سے سیٹ ہوئے کمرے کو دیکھ کر وہ مرعوب ہوئی تھی وہ حویلی کے لوگوں سے اکثر سُنا کرتی تھی کہ اسیر ہر ماہ بعد اپنے کمرے کی سیٹنگ تبدیل کروایا کرتا تھا مگر اُس کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا کہ وہ اسیر کے کمرے میں آتی کیونکہ اسیر کو اپنے کمرے میں کسی کا بھی آنا پسند نہیں ہوتا تھا چاہے پھر وہ چھوٹا ہو یا بڑا جو بھی اگر اُس کی اجازت اور مرضی کے خلاف آتا وہ اُس کو جھڑک دیتا تھا پر جو بھی اُس نے آج اپنے قدم اُس کے کمرے میں جمائے تھے اور کمرے کا سلائیڈ ڈور کُھلا دیکھ کر وہ سمجھ گئ کہ اسیر کہاں اور کیا کررہا ہوگا تبھی دبے پاؤں چلتی وہ کمرے میں بنے اسیر کے جیم کرنے والی جگہ آئی یعنی کمرے کی بالکنی کے پاس

“جہاں وہ شرٹ لیس محض ایک ٹراؤزر پہنے اور پیروں میں جوگرز پہنے کانوں میں ایئر فون ڈالے ٹریڈمل پر ڈور رہا تھا اُس کا پورا چہرہ پسینے سے شرابور تھا جس سے لاپرواہ وہ آنکھیں موندے ہوئے تھا۔۔”اور اِس قدر کھویا ہوا تھا کہ دیبا کی موجودگی کا احساس تک نہیں اُس کو نہیں ہوا اور نہ خود پر اُس کی نظروں کا ارتکاز اُس نے محسوس کیا جو اُس کو ایسی حالت میں پاکر رُخ بدلنے کے بجائے بے شرمی کی حدود کو چھوتی سرتا پیر اُس کا ایسے جائزہ لینے لگی جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو اُور اُس کو ایسے دیکھ کر وہ بھول چُکی تھی کہ وہ کس کام سے یہاں آئی تھی یا ابھی اپنے باپ سے اُس نے اسیر سے شادی کرنے پر انکار کیا تھا کیونکہ وہ کسی اور چاہتی تھی مگر اِس وقت وہ اسیر کو یوں دیکھ کر اُس کا اسیر ہونے سے خود کو بچا نہیں پائی تھی۔

“بے شرم بہت دیکھے مگر ایسا لگ رہا ہے جیسے ٹاپ پر آپ کا نام رہے گا۔۔۔اسیر کی آواز سن کر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اور چونک کر اُس کو دیکھا جو تولیہ سے اپنا پسینا پونچھتا ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

“میں تو یہاں ضروری کام سے آگئ پر جو بھی اُس کو چھوڑو تم تو اسیر یار پورے مرد بن گئے ہو۔۔۔دینا بے باک نظروں سے اُس کو دیکھ کر آنکھ وِنک کیے بولی

“بکواس بند کرو اور نکلو ہمارے کمرے سے۔۔۔اسیر کا پورا چہرہ غُصے کے باعث سُرخ ہوگیا تھا جبکہ آنکھوں میں دیبا کے لیے نفرت کی جھلکیاں تھیں

“ارے ارے غُصہ کیوں ہورہے ہو میں تو تمہاری تعریف کررہی ہو اور تم ایسے مجھے جانے کا بول رہا ہو۔۔۔دیبا نے مصنوعی افسوس سے کہتے اُس کے روبرو کھڑی ہوئی

“تم کیوں چاہتی ہو ہم دھکا دے کر تمہیں کمرے سے باہر کریں۔۔۔اسیر نے بڑے تحمل کا مُظاہرہ کیا

“تم

کوشش بھی مت کرنا ورنہ ہاتھ جڑ سے اُکھیڑ دے گیں۔۔۔

دیبا اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتی کچھ کہنا چاہ رہی تھی جب اسیر اُس کا ہاتھ درمیان میں روکتا سخت لہجے میں بولا

“میں یہاں تمہیں خوشی خبری سے نوازنے آئی تھی مگر اب میں کیا کروں؟”میرا مائینڈ چینج ہوگیا ہے۔۔”مجھے ایسا لگ رہا ہے اب کہ تم بس نام کے اسیر نہیں ہوں بلکہ تمہاری شخصیت بھی لوگوں کو اسیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔دیبا اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر دلسوز لہجے میں بولی

“صبح صبح ہمارا تمہاری بکواس سُننے کا کوئی موڈ نہیں ہے ویسے بھی اپنی شکل دیکھا کر پورے دن کا بیڑا غرق کردیا ہے تم نے۔۔۔اسیر سلائیڈ ڈور کھول کر اپنے کمرے میں داخل ہوتا اُس سے بولا تو دیبا بھی اُس کے پیچھے پیچھے آئی”

غرور جچتا ہے تم پر اسیر ملک مگر مجھے تمہارا یہ غرور توڑنا ہے”تمہیں اپنی محبت میں مبتلا کرکے۔۔دیبا نے کہا تو پہلے اسیر اُس کو دیکھتا رہا مگر پھر ہنسنے پر آیا تو ہنستا چلاگیا اور دیبا بس پاگلوں کی طرح اُس کو ہنستا دیکھنے لگی جو اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کو سیریسلی نہیں لیتا تھا۔

“اسیر ملک کی محبت کو پانا آپ نے مذاق سمجھا ہے آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے موجود آئی ہوس کو میں صاف دیکھ سکتا ہوں مگر کزن ہونے کی حیثیت سے عزت کررہا ہوں اِس لیے جاؤ ہمارے کمرے سے ورنہ لحاظ کرنا تو ہم نے کبھی سیکھا نہیں۔۔۔اسیر اچانک سنجیدہ ہوتا دو ٹوک لہجے میں اُس سے بولا تو تزلیل کے احساس سے اُس کا پورا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا

“تمہیں بڑا تکبر ہے نہ سجاد ملک کے پہلے سپوت ہونے پر”اِس گاؤں کا سردار ہونے کا خواب سجایا ہوا ہے تم نے اپنی آنکھوں میں تو میری بات سُن لو اگر تم نے میری آنکھوں میں اپنے لیے ہوس دیکھ لی ہے تو تمہیں مجھ سے شادی تو کرنی پڑے گی اور میرے ساتھ تب تک رہو گے جب تک میرا دل تم سے اچاٹ نہیں ہوجاتا جب تب میرا تم سے دل نہیں بھرے گا تب تک میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔دیبا نے مضبوط لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا جو اسیر نے بڑی دلچسپی سے سنا

“اگر تمہارا ہوگیا ہو تو باہر کا دروازہ اُس طرف ہے۔۔۔اسیر نے باہر جانے کے راستے پر اِشارہ کیا

“کرلوں عیش تمہارا غرور اور یہ تکبر تو میں توڑ کر رکھ دوں گی اور ہاں تمہیں کسی کے منہ دیکھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گی”تمہاری رگوں میں خون کی طرح ڈروں گی اور تم میرے ہاتھوں کا کِھلونہ بنو گے دیکھ لینا۔۔۔دیبا کا پارا ہائے ہوا تھا جبھی جو اُس کے منہ میں آیا وہ بولتی چلی گئ تھی۔۔”اور اِس وقت وہ اسیر کو کوئی پاگل لگی تھی۔

“اففف آپ کی ایسی دل دُہلانے والی باتوں کو سُن کر ہم تو ڈر گئے “دیکھے ہمارے ہاتھ ہمارے پاؤ کانپ رہے ہیں۔۔”اسیر نے اُس کے آگے اپنے ہاتھ کھڑے کیے”ہمارا چہرہ آپ کی جُدائی کا سُن کر وحشت کے مارے نیلا اور پیلا مطلب مکسچر ہوگیا ہے اور اگر آپ ہمیں چھوڑ کر چلی گئ تو ہمارا کیا ہوگا؟ہم کیسے جیئے گے آپ کے بغیر آپ تو ہماری زندگی کا کُل اساساں ہیں۔۔”ہمیں تو اللہ نے پیدا ہی آپ کے ہاتھوں کا کِھلونا بننے کے لیے کیا ہے۔۔۔اسیر اپنے چہرے پر مصنوعی ڈر اور خوف طاری کرتا ایک بار پھر اُس کو تپا گیا تھا

“خود کو توپ چیز سمجھتے ہو نہ اور بہت شوق ہیں تمہیں دوسروں پر ہنسنے کا تمہارے چہرے سے یہ ہنسی نہ چِھین لی تو میرا نام دیبا فاروق نہیں تمہیں پتا نہیں میں تمہیں عرش سے فرش تک پھٹخ سکتی ہوں۔۔۔دیبا نے چبا چبا کر لفظ ادا کیا

“پر ہم تو آلریڈی فرش پر موجود قالین پر کھڑے ہیں”کیا کوئی دوسرا بھی فرش ہوتا ہے جس سے ہم انجان ہیں؟اسیر دُنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سجاتا آخر میں تشویش بھرے لہجے میں بولا

“اِس مہینے ہماری شادی ہوگی اور تم کچھ بھی نہیں کرپاؤ گے۔۔دیبا اِتنا کہتی وہاں سے جانے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی وہ باتوں میں اسیر کو کبھی ہرا نہیں سکتی۔۔

“ایسا کچھ نہیں ہوگا مارک مائے ورڈز۔۔۔اسیر نے پیچھے سے ہانک لگائی تھی مگر دیبا نے اِس بار اُس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا”اور اُس کے جاتے ہی اسیر کا چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ ہوگیا تھا۔۔”ہاتھوں کی رگیں تک اُبھرنے لگیں تھیں دیبا کی باتوں اور آنکھوں میں موجود تاثر نے اُس کو غُصے میں مبتلا تو بہت کیا تھا مگر جانے کیسے وہ خود پر ضبط کرگیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس کی کسی بات کو پکڑ کر دیبا اُس کو کمزور سمجھے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *