Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Last Episode)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

اسیر لگتا ہے تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آئی” ارے میں بتارہی ہوں کہ تیرے بھائی اور باپ کو پولیس والوں نے گرفتار کردیا ہے”تجھے میں کوئی غیرت ہے کہ نہیں اُن کو جیل سے چُھوڑوانے جائے؟فائقہ بیگم کو جیسے اُن ملک سسٹرز کی حقیقت کا اور سجاد ملک کے جیل جانے کا پتا لگا تھا تب سے اُنہوں نے اپنی چیخوں سے پوری حویلی کو اُٹھا رکھا تھا اور جب اسیر کام سے فارغ ہوتا گھر لوٹا تو فائقہ بیگم نے اُس کو بھی باتیں سُنا دی تھی جو اسیر بڑے تحمل سے سُن رہا تھا۔

“اسیر کوئی وکیل نہیں جو اُن کو رہا کروائے گا۔ ۔اسمارہ بیگم نے طنز لہجے میں کہا اُن کے دل پر تو گویا کسی نے ٹھنڈی پُھواریں برسادی تھیں۔ ۔

“تم چُپ کرکے کھڑی رہو میں اپنے بیٹے سے بات کررہی ہوں۔ ۔فائقہ بیگم نے اُن کو گھورا

“اماں حضور چُپ آپ بھی کرجائے کیونکہ ہم ابا حضور کو رہا کروانے شہر ہرگز نہیں جائے گے۔ ۔اسیر کی گھمبیر آواز پورے ہال میں گونجی تھی ہر سوں جیسے سناٹا چھا گیا

“کیا کہا تم نے زرا پھر سے کہنا؟فائقہ بیگم بے یقین نظروں سے اسیر کو دیکھنے لگی۔

“عام سی زیادتیاں ہم اگنور کرتے رہے ہیں”جب اُن کی وجہ سے چچا جان نے اپنی بیٹیوں کو در در ٹھکرے کھانے پر مجبور کیا تھا تو ہم چھوٹے تھے بڑے ہونے کے بعد جب ساری سچائی پتا لگی تو بھی ہم نے بیچ میں بولنا اچھا نہیں سمجھا کیونکہ جن کی بیٹیاں تھیں وہ تو خوش وخرم تھے پھر ہم کون ہوتے تھے بولنے والے؟”پر اماں حضور اب جو ہماری کانوں میں باتیں پڑیں ہیں نہ وہ کسی دھچکے سے کام نہیں” یعنی جہاں والدین کو فرشتہ کہا جاتا ہے ویسے ہمارے والدین تو مونسٹر نکلے جو کسی کا بھی قتل کرنے اور کروانے سے گریز نہیں برتتے؟”ہمیں تو سمجھ نہیں آرہا ہم اپنا آپ آئینے میں کیسے دیکھے گے؟”ہم کس کی اولاد ہے اُن کی اولاد جن کے سینے میں دل کے بجائے پتھر موجود ہے”کیونکہ دل آپ دونوں میں سے کسی ایک کے پاس ہوتا تو اولاد جیسی نعمت کو ختم کرتے وقت یا تو دھڑکتا یا پھر کانپ اُٹھتا۔۔۔اسیر بولا نہیں بلکہ دھاڑا تھا جس سے حویلی کے درو و دیوار تک لرز اُٹھی تھیں وہ چاہے کم گو تھا زیادہ بولنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا لیکن جب وہ بولتا تھا تو واللہ ہر ایک کے چٹے کٹے کھول دیتا تھا اور یہ تک بھی نہیں سوچتا تھا کہ سامنے اُس کے کھڑا کون ہے؟

“کیسی باتیں کررہے ہو؟فائقہ بیگم کی ٹانگوں نے جواب دے دیا تھا وہ صوفے پر ڈھے ہوتیں بیٹھ گئ تھیں۔

“اولاد بیٹی ہو یا بیٹا یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے بھابھی اگر بیٹیاں ہو تو کوئی چاہے بیٹے کا طعنہ دے بھی ڈالے لیکن بانجھ نہیں بولتا مجھے دیکھے جس کو اللہ نے بیٹا بیٹی دونوں چیزوں سے محروم رکھا ہے یہ غم میرا بہت بڑا ہے جو ایک بے اولاد عورت ہی جان جاسکتی ہے کوئی اور نہیں” اور میں خود کو ہمیشہ سے یہ تسلی کرواتیں آتیں ہوں شاید اللہ اگر مجھے بیٹی دیتا تو اُن کا حال اُن تینوں بہنوں جیسا ہوتا اور اگر بیٹا ہوتا تو وہ اپنے باپ کی سوچ کا حامل ہوتا اور ایک ماں ہونے کی حیثیت سے اُس کی سوچ جان کر میں تڑپ اُٹھتی تو بس یہ خود سے کہتی کہ میں بے اولاد ہی سہی کیونکہ اولاد نہ ہونے پر تو صبر آجاتا ہے لیکن جن کی وجہ سے اپنا آپ بھلا کر پالا جائے وہ اگر نافرمان نکلے تو یہ دُکھ سب سے زیادہ بڑا ہوتا ہے اُس پر صبر نہیں آتا۔ ۔۔صنم بیگم رنجیدگی سے بولیں تو نوریز ملک جو ابھی حویلی میں آنے لگے تھے اُن کی بات سن کر اُن کو اپنا آپ زمین میں دھنستا ہوا محسوس ہونے لگا تھا۔”اُن کو نہیں تھا پتا کہ صنم بیگم اُن کے بارے میں ایسے خیالات رکھتیں ہیں۔۔۔

“آپ خود کو بے اولاد نہ کہو بلکہ فاحا کے ساتھ آئے کیونکہ یہاں دادو کے علاوہ ایک آپ ہیں جن کی محبت بہت پیور دیکھی ہم نے۔ ۔فاحا جو اپنے کمرے سے میشا کے ساتھ سامان گھسیٹتی ہوئی آرہی تھی صنم بیگم کی بات پر وہ اُن کے ساتھ لگتی ہوئی بولی

“اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں ضرور آتی۔۔صنم بیگم نم آنکھوں سے مسکرائی

“تم دونوں کو تو میں نہیں چھوڑنے والی۔ ۔فائقہ بیگم خطرناک تیور لیے فاحا کی طرف بڑھی تھی لیکن درمیان میں اسیر آگیا تھا جس وجہ سے وہ اُس کے پیچھے چُھپ سی گئ تھی۔

“ہوش میں آئے یہ حرکتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں۔ ۔اسیر نے اُن کو جھنجھوڑ کر کہا

“اسیر تم کیا چاہتے ہو؟”میں تمہاری طرح ہاتھ پر ہاتھ دھڑے بیٹھی رہوں؟”نہیں میں تمہاری طرح خودغرض نہیں ہوں میں ماں ہوکر نہیں جان پائی کہ میں اولاد کے نام پر سانپ پال رہی ہوں” والدین اِس لیے بیٹوں کی “خواہش کرتے ہیں تاکہ وہ اُن کے بوڑھاپے کا سہارا بنے لیکن یہاں تو تم نے اپنے رنگ ڈھنگ ہی بدل ڈالے ہیں” کافی مایوس کیا ہے اسیر تم نے مجھے کافی مایوس۔ ۔فائقہ بیگم افسوس سے اُس کا چہرہ تکتی ہوئیں بولیں

“بہت غلط بیانی سے آپ کام لے رہی ہیں” لیکن خیر ہم ہمیشہ کے لیے بابا حضور کو یا نذیر کو جیل میں چھوڑنے والی نہیں لیکن اُن کو اپنی غلطیوں کا اور کوتاہیوں کا احساس تو ہونا چاہیے نہ؟اور جب تک وہ نہیں ہوتا ہم اُن کی کوئی مدد نہیں کرنے والے۔ ۔اسیر کا انداز اٹل تھا۔ “فاحا بس اُس کو دیکھتی رہ گئ” پہلے اُس نے سُنا تھا صرف کہ اسیر ملک اپنے اصول کے سامنے کسی اور کو نہیں دیکھتا وہ ہمیشہ اچھائی کی بات پر ڈٹ کر کھڑا ہونے والا انسان تھا” لیکن آج اُس کو سُننے کے ساتھ ساتھ دیکھ بھی رہی تھی جو واقعی ثابت قدم پر چلنے والا شخص تھا۔ ۔”حق کی بات پر ہوتا تو کسی اور کی ایک نہ چلنے دیتا چاہے پھر سامنے اُس کا خونی رشتہ ہی کیوں نہ ہو وہ اگر ایک بار ٹھان لیتا تو پیچھے ہٹنے کا سوچتا بھی نہیں تھا۔”اور فاحا کو اِس وقت سمجھ نہیں آیا کہ وہ اسیر کی کِن کِن خوبیوں کو گِنے وہ لاجواب تھا اُس کے جیسا کوئی نہیں تھا اور نہ آگے چل کر کوئی ہوسکتا تھا۔

“تمہیں باپ پر رحم نہیں آرہا؟”بس یہ چھٹانگ بھر کی لڑکیاں نظر آرہی ہیں جنہوں نے ہمارا سکون غارت کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی اور اب یہ ہمارے گاؤں کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔ ۔فائقہ بیگم کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا

“ہمیں آپ کے گاؤں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے ہم ویسے بھی جانے والے ہیں۔۔فاحا نے سنجیدگی سے کہا

“آپ کہی نہیں جائے گی۔۔اسیر اُس کی طرف دیکھتا سنجیدگی سے بولا

“یہ جائے گی کیونکہ ہم نے جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔میشا نے مداخلت کی

“اپنے باپ پر رحم کرو دونوں۔۔نوریز ملک کا دل کانپ اُٹھا اُن کے جانے کا سُن کر

“ہم پر کیا آپ نے رحم کھایا تھا؟میشا طنز ہوئی

“تو کیا تم سب بدلہ لینا چاہ رہی ہو؟نوریز ملک کو گویا افسوس ہوا

“بلکل بھی نہیں بدلہ تو کم ظرف لوگ لیتے ہیں بہادر لوگ نہیں اور ویسے بھی سیانے لوگ کہتے ہیں کہ لوگوں سے انتقام مت لیا کریں”خراب پھل درخت سے خودبخود گرجاتا ہے۔۔میشا نے کہا تو اُن کے پاس کہنے کو کچھ اور بچا ہی نہ تھا۔

“لیکن سوہان کہاں ہے؟صنم بیگم نے اُن دونوں کو اکیلا دیکھا تو “سوہان”کا پوچھا جو جانے کہاں تھی۔

وہ زوریز کے ساتھ ہے زوریز کو اُس کی ضرورت ہے۔میشا نے سنجیدگی سے اُن کو جواب دیا

“آپو چلیں؟فاحا نے میشا کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

“رُک جاؤ نا جاؤ میرے ساتھ وہ نہ کرو جو سالوں پہلے میں نے تمہاری ماں کے ساتھ کیا تھا۔۔نوریز ملک نے ایک اور کوشش کی اُن کو روکنے کی

“ہماری ماں نے آپ سے محبت کی تھی”لیکن افسوس آپ نے اُن کی قدر نہیں کی اور ایک دن خود سے لڑتے لڑتے وہ ایک جان لِیوا بیماری کا شکار ہوکر ہمیں چھوڑ کر چلی گئ۔’اور افسوس مجھے اِس بات کا بھی ہوتا ہے کہ آپ نے کبھی اُن کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں”کبھی یہ نہیں پوچھا کہ اُس کو ہوا کیا تھا؟”اُس کا وقت کیسے گُزرا ہے”آپ کو اگر کسی کی پرواہ کسی کی فکر ہے بھی تو بس اپنی ذات کی ہے”مجھے پتا ہے اگر ہمارا سامنا اتفاقی طور پر نہ ہوا ہوتا تو آپ تو کبھی ہمیں تلاش کرنے کی کوشش بھی نہ کرتے”سوری ٹو سے لیکن آپ ایک خودغرض اِنسان ہیں جو بس اپنا سوچتا ہے کسی دوسرے کا نہیں۔۔میشا بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ تھی آخر کب تک وہ اندر کا غبار اپنے تک محدود رکھ سکتی تھی”اُس کو ایک نہ ایک دن تو باہر آنا ہی تھا سو وہ آگیا تھا۔

“مجھے پتا ہے میں نے بہت زیادتی کی ہے

“آپ کو پتا ہے ہمیں یہ جان کر کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ہمیں اب اِجازت دے اب آپ۔”آؤ فاحی۔۔۔میشا اُن کی کوئی بھی بات سُننے کو تیار نہ تھی تبھی دو ٹوک الفاظ میں اُن سے مخاطب ہوتی فاحا سے بولی تو وہ اسیر کو دیکھنے لگی جس نے اُس کے دیکھنے پر اپنی نظروں کا رخ بدل دیا تھا۔۔

“ہم یہاں جانے کے لیے آئے تھے”تو ہمارا جانا بنتا ہے”پر میں واپس جلد آؤں گی کیونکہ یہاں میری جاب ہوگی۔۔۔فاحا اسیر کے روبرو کھڑی ہوتی بیحد آہستگی سے بولی تھی جو بس اسیر ہی سُن پایا تھا۔۔

ہمیں ہاتھ نہ لگاؤ۔۔۔وہ جیسے ہی باہر آئے تو کسی بچی کی آواز نے اُن دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا

“یہاں بچے بھی ہوتے ہیں کیا؟میشا حیران ہوئی

“پتا نہیں پر یہ آواز آ کس سمت آ رہی ہے؟فاحا آس پاس دیکھتی اُس سے بولی جبھی اُس کا دھیان ایک کالی گاڑی کے پاس گیا جہاں اُس گاڑی کے قریب چھ سات سال کے درمیان والی بچی نیچے بیٹھی اپنے شوز کے تسمے باندھنے کی کوششوں میں تھی”اُور اُس کے آس پاس تین باڈی گارڈز تھے جن کو وہ اپنے سامنے کھڑا ہونا پسند نہیں کررہی تھی۔۔”یہ دیکھ کر فاحا نے اپنے قدم اُس کی طرف بڑھائے تھے لیکن میشا گاڑی میں سامان ڈالنے میں لگی ہوئی تھی۔

“کیا ہوا ہے آپ کو؟فاحا نے اُس بچی کو دیکھ کر پوچھا جس کا چہرہ اُس کے بالوں نے چُھپایا ہوا تھا

“آپ کو نظر نہیں آتا ہمارے شوز کے تسمے کُھل چُکے ہیں۔۔اقدس نے جھنجھلاہٹ بھرے انداز میں اُس کو بتایا

“یہاں دیکھے میری طرف۔۔فاحا کو اُس کا اندازِ گفتگو بلکل اسیر جیسا لگا تو غور سے اُس کو دیکھتی ہوئی بولی تو اقدس نے سراُٹھا کر فاحا کی طرف دیکھا

“آپ؟فاحا اُس کو دیکھ کر حیران ہوگئ دوسری طرف اُس کو دیکھتی اقدس بھی جیسے سوچ میں پڑگئ تھی۔

“آپ وہ ہیں نہ جس کے پاس خوبصورت سی بلی تھی؟اقدس نے پوچھا تو فاحا کو مزید حیرانگی ہوئی یہ جان کر کے وہ اُس چھوٹی سی بچی کو یاد تھی۔

“ہاں پر آپ نے مجھے پہچان لیا؟فاحا نے حیرت سے پوچھا

“ہمیں آپ کی بلی پسند آئی تھی بہت ہم نے اپنے بابا سے کہا وہ کہتے ہیں کہ اُن میں جمز ہوتے ہیں”اِس لیے ہمیں لیکر نہیں دی۔اقدس نے ناک منہ چڑھاکر بتایا تو اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر فاحا بے ساختہ مسکراکر اُس کو دیکھنے لگی جہاں پہلے یہ چہرہ اُس کو جانا پہچانا سا لگ رہا تھا وہی اب اُس کو یقین ہوگیا کہ وہ اسیر ملک کی بیٹی تھی جس کی آنکھیں اپنے باپ کی طرح گہری تھی اور شاید اگر وہ مسکراتی تو اُس کے پاس بھی ڈمپلز پڑتے ہو۔

“آپ کے بابا نے کہا تھا تو سہی کہا ہوگا”لیکن آپ کی یاداشت ماشااللہ بہت اچھی ہے۔۔فاحا اُس کی ناک دباکر بولی تب تک وہاں میشا بھی آگئ تھی۔

“یہ کون ہے؟میشا اقدس کو دیکھ کر بولی

“ہمارا نام اقدس اسیر ہے۔۔اقدس نے پرجوش ہوکر بتایا

“اوو تو تم مسٹر “ہم ہم کی مس “ہم ہم ہو”۔۔میشا اُس کے اندازِ گفتگو پر ہنس کر بولی

“کیا آپ ہمارے تسمے باندھ دینگی؟اقدس نے فاحا کو دیکھ کر کہا تو اُس کی بات پر میشا نے مسکراہٹ دبائے فاحا کو دیکھا

“میں؟فاحا نے لب کُچلے

“ہاں کیوں کیا آپ کو تسمے باندھنا نہیں آتا؟اِتنی بڑی تو ہیں۔۔اقدس کی بات پر میشا کا قہقہقہ چھوٹ گیا تھا لیکن فاحا خجل ہوئی تھی وہ اب بھلا کیا کہتی کہ وہ بہت سمجھدار تھی لیکن اُس کو شوز کے تسمے تک باندھنا نہیں آتے تھے

“میں باندھ لیتی ہوں۔۔میشا نے کہا اور آگے جھک کر اُس پاؤ اپنے گھٹنے پہ رکھ کر تسمے باندھنے لگی۔

“آپ کہاں تھی کیا آپ یہاں نہیں رہتی؟فاحا کو اچانک خیال آیا تو پوچھ لیا

“بورڈنگ اسکول میں ہوتے ہم اور ہمیں یہاں ہر بار بابا لاتے ہیں لیکن اِس بار نانو نے ہمیں ڈرائیور کے ساتھ یہاں بھیجا ہے تاکہ بابا کو سرپرائز کرپائے اور اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہماری مما آگئ ہے تو ہماری اب ہیپی فیملی ہوگی۔۔۔اقدس نے پرجوش لہجے میں بتایا تو فاحا کے چہرے پر ایک سایہ آکر لہرایا تھا اُس کی رنگت پل بھر میں متغیر ہوگئ تھی۔

❤

“کیا ہوا گاڑی کیوں اسٹاپ کردی؟وہ گاؤں کی حدود کو کراس کرنے والے تھے جب گاڑی کے اچانک رُکنے پر فاحا جو اپنی سوچو میں گُم تھی وہ چونک کر میشا کو دیکھ کر بولی

“سامنے دیکھو مسٹر ہم کھڑا ہے۔۔میشا نے کہا تو فاحا اُس کو دیکھتی پھر سامنا دیکھا تو حیران رہ گئ جہاں واقعی میں اسیر ملک کھڑا تھا اپنی پوری شان سے۔۔

“یہ سامنے کیوں کھڑے ہیں؟فاحا نے ناراضگی سے اپنا رُخ بدل دیا

“کیونکہ پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے کنواں خود چل کر پیاسے کے پاس نہیں جاتا۔۔۔میشا نے اُس کو دیکھ کر شرارت سے کہا

“تو آپ کیا چاہتی ہیں؟فاحا ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

“میں کچھ نہیں چاہتی لیکن وہ چاہتا ہے کہ تم اُس کے پاس آؤ۔۔۔میشا نے بتایا

“مجھے نہیں جانا۔۔۔فاحا نے صاف انکار کیا

“زیادہ ڈرامے نہیں کرو اور جاؤ چُپ کرکے۔۔میشا نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

“کیا کوئی زبردستی ہے؟”فاحا کیوں اُس کے پاس جائے وہ شادی شدہ ہے ایک بیٹی کا باپ ہے اور جلد وہ اُس دیبا باجی سے دوبارہ شادی کردے گا۔۔فاحا سرجھٹک کر بولی

“یہ ساری باتیں تم اُس کے ساتھ بھی کرسکتی ہو اِس لیے زیادہ ڈرامے نہیں کرو اور جاؤ۔۔۔میشا نے کچھ روعب سے کہا تو فاحا لب کچلتی آخر کو گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔

“کیا ہے؟راستہ کیوں بلاک کیا ہوا ہے آپ نے؟فاحا نے سنجیدگی سے اُس کے سامنے کھڑے ہوکر پوچھا

“آپ نے اپنے دل کا راستہ بلاک کیا ہے جبھی ہمیں یہ راستہ بلاک کرنا پڑا۔۔اسیر نے کہا تو وہ خاموش سی اُس کا چہرہ تکنے لگی۔

“آپ کی بیٹی سے فاحا ملی۔۔۔فاحا نے بتایا

“فاحا سے بھی ہماری بیٹی ملی اور اُن کو فاحا پسند آئی۔۔اسیر نے مسکراہٹ دبائے بتایا

“مطلب؟فاحا نے الجھن بھری نظروں سے اُس کو دیکھا

“کیوں جارہی ہیں آپ؟”ناراضگی اگر چچا سے ہے تو ہمارا اُس میں کیا قصور؟اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا

“آپ کونسا فاحا سے پیار کرتے ہیں؟”آپ کا نین مٹکا تو اُس دیبا باجی سے تھا۔۔۔فاحا نروٹھے پن سے بولی

“ہمارا آنکھ مٹکا کسی بھی لڑکی سے نہیں تھا۔۔۔اسیر نے بتایا

“تو اقدس کیا آسمان سے گِر کر آپ کی جھولی میں آئی؟فاحا طنز ہوئی

“یہ ایک بہت لمبی بات ہے ہم آپ کو فرصت میں بتائے گے۔۔اسیر نے کہا

“ابھی بتانے میں کیا حرج ہے؟فاحا کو بے چینی ہوئی

“حرج تو کوئی نہیں ہے لیکن شاید آپ کو ہماری بات پر یقین نہ آئے تبھی سہی وقت آنے پر ہم آپ کو ساری بات بتائے گے۔۔۔اسیر نے کہا

“اگر آج ابھی بتانا نہیں تھا تو راستہ کیوں روکا ہوا؟فاحا نے پوچھا

“کیونکہ آپ اُداس ہوکر جارہی تھیں اور میں نہیں تھا چاہتا کہ آپ جس اُداسی سے آئیں تھیں اُس اداسی سے جائے۔۔اسیر نے کہا تو فاحا یک ٹک اُس کا چہرہ دیکھنے لگی۔وہ جان نہیں پائی کہ اسیر کو کیسے پتا لگا کہ وہ یہاں دل سے نہیں آئی تھی۔

“آپ کو میری اُداسی کی کیا پرواہ؟فاحا کو جیسے اُس کی بات پر یقین نہ آیا تھا تبھی سرجھٹک کر سوال کیا

“ہمیں آپ کی پرواہ ہے۔۔اسیر بس اِتنا بولا

“کیوں ہے؟بے ساختہ پوچھا گیا

“بس ہے تو ہے۔۔اسیر نے شانے اُچکائے

“کیا آپ کو فاحا سے محبت ہے؟فاحا نے بلآخر من میں اُبھرتا سوال اُس کے سامنے کیا

“ہمیں فاحا کی محبت سے محبت ہے۔۔اسیر نے اُس کے سوال کا جواب انوکھے انداز میں دیا تو فاحا ناچاہتے ہوئے بھی مسکرائی تھی۔

“کیوں ہے؟اگلا سوال

“کیونکہ ہماری بیٹی کو ایک ماں کی ضرورت ہے اور ہمیں ایک بیوی کی۔۔”جو آپ کی طرح ہو۔۔اسیر نے بتایا

“تو کیا آپ فاحا کو پرپوز کررہے ہیں؟فاحا نے پوچھا

“پرپوز تو ہم پہلے کرچُکے ہیں بس اِس بار راضی کرنے کی کوششوں میں ہیں۔۔اسیر نے بتایا

“ٹھیک ہے پھر آپ شہر آئے اور ساجدہ آنٹی سے بات کریں۔۔فاحا نے اِتراکر کہا

“ساجدہ آنٹی؟اسیر چونک سا گیا

“ہاں کیونکہ ہمارے ساتھ بچپن سے وہ ہیں اور ہم پر سب سے زیادہ حق اُن کا ہے۔۔۔فاحا نے کہا تو اسیر مسکرایا

“ٹھیک ہے جیسے آپ کہو۔۔اسیر نے ہاتھ کھڑے کیے کہا

“تو اب میں جاؤں؟فاحا نے اُس سے اجازت چاہی تبھی پوچھا

“آپ جانا چاہتیں ہیں؟اسیر نے اُلٹا اُس سے پوچھا

“جی جانا تو ہے نہ۔۔۔فاحا نے بتایا

“ٹھیک ہے پھر جائے کیونکہ یہاں آنے کے لیے آپ کا جانا ضروری ہے۔۔۔”اسیر نے کہا تو فاحا جلدی سے رُخ پلٹ کر گہرا مسکرائی تھی اور دور اپنی گاڑی میں بیٹھی میشا اُس کی خوشی کا اندازہ لگاتی بے اختیار خود بھی مسکرائی تھی۔”وہ خوش تھی کیونکہ فاحا خوش تھی اور اگر فاحا خوش تھی تو اُن کو کیا اعتراض ہونا تھا یا وہ کون ہوا کرتیں تھیں احتراز اُٹھانے والی۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“کیا آپ کو پتا تھا کہ آپ کے تایا نے میرے والدین کو قتل کروایا تھا؟زوریز نے سنجیدہ انداز میں سوہان سے سوال کیا اُس کا چہرہ ہر احساس سے پاک تھا جب سے اُس کو یہ بات معلوم ہوئی تھی”تب سے سکون نام کی چیز اُس سے چِھن سی گئ تھی۔

“مجھے بھی آپ کے ساتھ پتا چلا ورنہ میں انجان تھی۔۔سوہان نے جواباً سنجیدگی سے کہا

“سجاد ملک نے ایسا کیوں کیا ہوگا؟”مجھے اچھے سے یاد ہے میرے ڈیڈ کی ایسی کسی کے ساتھ بھی دُشمنی نہیں تھی کہ کوئی اُن کی جان لینے تک آ پہنچتا۔۔زوریز کا انداز پرسوچ تھا۔

“کیا آپ نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی تھی اُن کے ساتھ جو ہوا تھا کہ سازش تھی یا اتفاق؟سوہان نے پوچھا

“میں محض دس سال کا تھا تب اِن باتوں کو سوچتا یا پھر آریان کے بارے میں سوچتا”مجھے اور آریان کو جو بتایا گیا وہ ہم نے مان لیا کیونکہ ایسے حادثات تو آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔۔زوریز نے کہا تو سوہان خاموش سی ہوگئ

“آپ فکر مت کریں پہلے جو بھی لیکن اب آپ کے والدین کو انصاف ضرور ملے گا۔۔۔زوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھتی سوہان اُس کو تسلی دلوانے کی کوشش کی تو زوریز نے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔

“میں خود اُن پر کیس دائر کروانا چاہتا ہوں”آپ کو اعتراض تو نہیں ہوگا؟زوریز نے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“میں ایک وکیل ہوں اور میں بس سچ کا ساتھ دینا چاہوں گی”چاہے پھر سامنے جو بھی ہو۔۔۔سوہان پختگی سے بولی تو زوریز بس اُس کو دیکھنے لگا

“آپ پریشان نہ ہو بس شہر چلنے کی تیاری کریں۔۔سوہان اُس کو چُپ دیکھ کر بولی

“میں تیار ہوں بس آپ کا انتظار ہے۔۔زوریز نے کہا

“شہر چل کر ساجدہ آنٹی سے میرا ہاتھ مانگ لے۔۔سوہان نے کہا تو اُس کی بات پر زوریز پہلی بار مسکرایا

“ہاتھ کیوں مانگوں؟”جبکہ میں جانتا ہوں آپ پوری کی پوری میری ہیں۔۔زوریز نے کہا تو اُس کی بات پر سوہان بھی بے اختیار مسکرائی تھی اور اُس کی مسکراہٹ پر زوریز کو اپنا آپ خوشقسمت سا لگا۔

“آپ کی وہ مسکراہٹ مجھے پیاری لگتی ہے جس کی وجہ میں ہوتا ہوں۔۔زوریز نے کہا تو چہرہ دوسری طرف کرتی سوہان ہنس دی

“آپ رومانٹک ہونے کی بہت کوشش کرتے ہیں۔۔سوہان اُس کا دھیان بٹانے کے غرض سے بولی وہ نہیں تھی چاہتی کہ زوریز تھوڑا بھی اُداس ہو

“کیونکہ میں نے اپنی ٹین ایج میں جانا تھا کہ رومانٹک مرد لڑکیوں کو بہت اٹریکٹ کرتے ہیں”تب آپ ملی نہیں اور اب جب ملی ہیں تو میری طرف اٹریکٹ ہوتیں نہیں کیونکہ آپ کا شُمار اُن لڑکیوں میں نہیں ہوتا۔۔زوریز نے جو جواب دیا اُس پر سوہان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔

“آپ کا بہت شکریہ زوریز جو آپ میری زندگی میں آئے آپ نے میرا ساتھ تب دیا جب مجھے کسی مضبوط سہارے کی اشد ضرورت تھی۔۔کچھ توقع بعد سوہان تشکر بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی وہ آج اُس کے سامنے کُھل کر بیان ہونا چاہتی تھی۔

“آپ کا میری زندگی میں آنا بھی کسی معجزے سے کم نہ تھا”میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی لڑکی میری زندگی میں آئے گی اور پھر وہ میری زندگی بن جائے گی۔”آپ کا ملنا”آپ کا میرا ہونا میرے لیے ایک معجزیاتی بات ہے۔۔زوریز اُس کے گرد اپنا حصار پھیلا کر محبت پاش لہجے میں بولا جس پر سوہان نے پرسکون ہوکر اپنا سر اُس کے کندھے پر ٹِکایا تھا۔”زندگی میں اُن کی چاہے جتنی بھی تکلیف اور مشکلات آئیں تھی”لیکن اب وہ خوش تھیں کیونکہ بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہوتی ہے ٹھیک ویسے اُن بہنوں کی زندگی میں بھی اللہ نے اب سکون لکھا تھا۔”کیونکہ وہ رب العالمین تھا جو اپنے بندے کو اُتنا آزماتا تھا جتنا اُس میں سہن کرنے کی ہمت ہوتی تھی۔”جہاں زوریز نے اپنی کم عمری میں اپنوں کے بھیانک روپ دیکھے تھے”ٹھیک ویسی تکلیف یا اُس سے ڈبل مشکلات سوہان نے جھیلی تھی پر اُس نے ہار نہیں مانی تھی اور نہ خود کو یوں چھوڑدیا تھا بلکہ ایک عزم بنا لیا تھا اُس نے کہ اپنی زندگی میں کچھ کرنا ہے اور کرکے کامیاب ہونا ہے”اور اُن کی ایسی لگن دیکھ کر اللہ نے بھی بھرپور ساتھ دیا تھا اُن کا”ایک ایسا جیون ساتھی اللہ نے اُن کے نصیبوں میں لکھا تھا جن کو دیکھ کر وہ اپنا کل پوری طرح سے بھول کر بس خود پر اور اپنی قسمت پر نازاں ہونے والی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *