Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 17)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

میں آپ کے خلاف نہیں ہوں” میں بس اپنے کلائنٹ کے ساتھ ہوں جس کی عزت کو آپ کے بیٹے نے پامال کیا ہے۔ ۔۔سوہان سِرے سے اُس کا بڑھایا ہوا ہاتھ نظرانداز کرتی سنجیدگی سے بولی تو نوریز ملک ایک نظر اُس پہ ڈالے اپنا ہاتھ پیچھے کرگیا تھا۔

بات ایک ہے خیر آپ اپنا نام بتانے سے قطرا رہی ہیں۔ ۔۔نوریز ملک نے کہا تو سوہان کے چہرے پہ طنز مسکراہٹ آئی

کافی بے خبر انسان ہیں آپ۔۔۔”آپ کو آپ کی بے خبری مُبارک ہو اور ایک اہم اور ضروری بات انسان کی پہچان اُس کے نام سے نہیں بلکہ اُس کے کام سے ہوتی ہے ۔سوہان گہرے سنجیدہ انداز میں کہتی وہاں رُکی نہیں تھی۔ ۔

صاحب آپ پریشان نہ ہو یہ لڑکی کیس جیت نہیں پائے گی۔ ۔۔نوریز ملک کو خاموش دیکھ کر اُن کے آدمی نے کہا

بلکل کیونکہ کیس جیتنے کے لیے گواہ اویوڈنس کا ہونا بہت ضرور ہوتا ہے” جو بیریسٹر سوہان کو آپ کے گاؤں سے مل سکتے ہیں” اُس کا کوئی آدمی آپ کے گاؤں آ نہیں سکتا دوسرا گواہ بھی کون ہوگا؟میرا نہیں خیال آپ کے گاؤں میں سے کسی بھی آدمی میں ایسی جُرئت ہوگی کے آپ کے خلاف گواہی دینے کا سوچے بھی۔ ۔۔نوریز ملک کے کچھ کہنے سے پہلے اُن کا وکیل جس کا شُمار شہر کے نامور وکیلوں میں لیا جاتا تھا وہ پُرجوش لہجے میں اُن سے بولا اور”نوریز ملک اپنے خیالوں میں اِس قدر مگن تھے کہ”سوہان”نام پر دھیان تک نہیں دے پائے تھے

اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ ۔۔نوریز ملک گہری سانس ہوا کے سُپرد کیے بولے”سوہان سے کچھ دیر کی ہوئی باتوں نے اُن کو بے چین کردیا تھا جس کو وہ سمجھ نہیں پارہے تھے

❤Rimsha Hussain Novels❤

میشو کہاں ہو تم؟ سوہان سائیڈ پر آتی میشا کو کال کیے پوچھنے لگی۔

میں بس پہنچنے والی ہوں” تم پریشان نہ ہو کیس تم ہی جیتوں گی آئے پرومیس۔ ۔دوسری طرف میشا نے مثبت جواب دیا

اِن شاءاللہ پر ابھی تم ہو کہاں؟”جلدی کرو اب تھوڑا وقت رہتا ہے پھر ہمیں بُلایا جائے گا۔ ۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا

راستے میں ہوں۔ ۔سمجھو پہنچ گئ۔ ۔میشا آہستہ سے چلتی اُس کے پیچھے کھڑی ہوئی تو سوہان چونک سی گئ۔

شکر تم آگئ۔ ۔سوہان اپنا فون آف کیے بولی

ہاں شکر۔ ۔میشا جواباً بولی تو سوہان کی نظر اُس کے پیچھے دو پولیس والوں کے درمیان خاموش کھڑے فراز پر گئ۔ ۔

یہ تمہیں کہاں سے ملا؟ سوہان نے ایک نظر فراز پر ڈالنے کے بعد دوسری نظر اُس پہ ڈالنا ضروری نہیں سمجھا

“پاتال سے ملا۔ ۔میشا نے بتایا

مذاق مت کرو۔ ۔سوہان نے اُس کو گھورا

گاؤں کے پاس ایک چھوٹا سا ہوٹل ہے یہ وہی تھا وہاں سے اُٹھا لائی ہوں میں اِسے کیونکہ حویلی میں اِس کا داخلہ ممنوع تھا اور کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اسیر ملک تھا”جو اپنے گاؤں کا ایک اصول پسند سردار ہے اور بُردبار شخصیت کا مالک ہے اِن سب سے بیحد اُلٹ۔۔میشا نے بتایا

تم نے اِس کو مارا تو نہیں؟سوہان نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا جیسے اُس کی اِتنی بڑی تقریر سُنی ہی نہ ہو

اِس کے چہرے سے کہی لگ رہا ہے کہ میں نے ہاتھ بھی لگایا ہے ٹرسٹ می میں نے تو پھول تک نہیں مارا آفٹر آل ہمارا بھائی ہے سوتیلا ہی سہی۔۔میشا نے معصومیت سے کہا

میشو۔ ۔۔سوہان کو یقین نہیں آیا تبھی تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

“لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور تمہیں کیا لگتا ہے میں اِس کو یہاں آنے کا کہتی اور یہ آجاتا؟”اور کہتا کیوں نہیں بہنا میں تو یہاں آپ کے انتظار میں بیٹھا ہوں”بڑی مشکل سے لائی ہوں سلام ہے میری ہمت کو۔ ۔میشا سرجھٹک کر بولی

کیا”کیا ہے تم نے اِس کے ساتھ؟ سوہان نے ناچاہتے ہوئے بھی بُت بن کر کھڑے ہوئے فراز کو دیکھ کر اُس سے پوچھا وہ جانتی تھی”میشا بنا اپنے ہاتھوں کو استعمال میں لائے کوئی بھی کام نہیں کیا کرتی تھی۔ ۔

زیادہ کچھ نہیں بس تھوڑی اندرونی چوٹیں۔ ۔۔میشا کان کی لو کُھجا کر اِتنا کہتی خاموش ہوگئ” تو سوہان اُس کو بس دیکھتی رہ گئ

تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔ ۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر نفی میں سرہلایا تھا عین اُسی وقت اُن کا نمبر آیا تو سوہان کی نظر بے ساختہ میشا پر گئ تھی

ہماری زندگی میں یہ دن آنا تھا سوہان اور ہم دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ ہم ملک خاندان کا چہرہ تک دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے مگر یہ قسمت ہے جو ہمارا سامنا کروا رہی ہے سامنا بھی ایسا جس کا ہمیں گُمان تک نہیں تھا۔ ۔”اگر آج ہمارے مراسم سہی بھی ہوتے تو بھی ہم ایسے ایک ریپسٹ کے خلاف ہوتے۔ ۔۔میشا اُس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھاکر بولی تو سوہان نے اثبات میں سرہلایا تھا

“ویسے کیا تمہاری اُن سے مُلاقات ہوئی؟اندر جانے سے پہلے میشا نے اُس سے پوچھا

ہاں۔۔سوہان نے مختصر جواب دیا

گریٹ پھر شرمندہ تو بہت ہوئے ہوگے نہیں؟میشا کے لہجے میں طنز اور چہرے پر استہزائیہ تاثرات اُبھرنے لگے تھے

لوگ غلط کہتے ہیں میشو کہ خون میں کشش ہوتی ہے اگر خون میں کشش ہوتی تو ایک پل کے لیے ہی سہی وہ مجھ جان ضرور لیتے مگر اُن کی آنکھوں میں شُناسائی کی ہلکی رمق تک نہ تھی رشتوں میں بس خون ضروری نہیں ہوتا اصل رشتہ وہ ہوتا ہے جس میں دل آپس میں ملیں ہوئے ہو اور اُن کا دل ہماری طرف کبھی آیا ہی نہیں بیس سال کم عرصہ نہیں ہوتا” ہم نے ایک عمر گُزاری ہے اُن کے بغیر اور حیرت انگیز بات یہ ہے اِن بیس سالوں میں اُن کا پتھر کا دل موم تو نہیں ہوا تھا مگر پچھتاوا بھی نہیں تھا ہوا۔ ۔سوہان افسوس بھرے لہجے میں کہتی آہستہ آہستہ چلنے لگی تھی

تم نے اپنا تعارف نہیں کروایا؟ میشا نے پوچھا

میں نے ضروری نہیں سمجھا کیونکہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے اور مجھے ابھی وقت سہی نہیں لگا ۔۔سوہان نے کہا تو میشا نے لب بھینچ لیے تھے

❤Rimsha Hussain Novels❤

محترمہ؟اسیر اپنے آدمیوں کے ساتھ ریسٹورنٹ آیا تھا اپنے کسی ضرور کام سے جہاں اپنے لیے اُس نے ٹیبل بھی بُک کروالی تھی اور جب وہ وہاں آیا تو کسی کو بیٹھا دیکھ کر سنجیدگی سے مُخاطب ہوا

جی محترم؟فاحا نے چونک کر کتاب سے نظریں اُٹھائے اُس کو دیکھا مگر جب نظر اسیر پر گئ تو اُس کا منہ بن گیا تھا جو اسیر نے بخوبی نوٹ کیا تھا

یہاں سے اُٹھے۔ ۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا

فاحا کیوں اُٹھے؟فاحا ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی

کیونکہ یہ ٹیبل ہم نے بُک کروائی ہے۔ ۔اسیر نے بتایا

“ایسا کیا ہے اِس ٹیبل میں؟ فاحا ناسمجھی سے ٹیبل کا جائزہ لینے لگی

یہ آپ اُٹھ کر بھی دیکھ سکتیں ہیں بجائے ہمارا وقت ضائع کیے۔ ۔۔اسیر چڑ کر بولا

آپ کیا ناشتے میں کالی اور لال مرچیں کھاتے ہیں؟ اسیر کے ایسے لہجے پر فاحا نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا تو اسیر کی پیشانی میں بل نمایاں ہوئے تھے”فاحا کی ضد اور اُس کی بات سن کر وہ زچ ہوا تھا

“آپ ایک اریٹیٹنگ لڑکی ہیں اِس لیے ہمارے سامنے نہ ہی آیا کریں تو اچھا ہوگا۔ ۔۔اسیر سخت لہجے میں اُس کو دیکھ کر وارن کرنے والے انداز میں بولا

“تیرے تکبر سے زیادہ گُستاخ لہجہ ہے میرا

میرا ظرف نہ آزما مجھے خاموش رہنے دے

فاحا کے اندر اچانک شاعر جاگا تو اسیر نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا تھا جس کو خود اندازہ نہیں تھا کہ وہ بول کیا چُکی ہے؟

“محترمہ لگتا ہے آپ کو کوئی دماغی مسئلہ ہے۔۔۔اسیر طنز انداز میں بولا

دیکھے یہ ٹیبل آپ نے بُک کی ہے یا نہیں مگر میں یہاں بیٹھ چُکی ہوں اور اب فاحا یہاں سے نہیں اُٹھے گی”کیونکہ اِس کے علاوہ ایسی اور کوئی ریسٹورنٹ میں جگہ نہیں جہاں فاحا بیٹھ کر خود کو پرسکون فیل کرے”اگر آپ کو اعتراض زیادہ ہے تو کوئی اور ٹیبل بُک کروالے میں بُرا نہیں مانوں گی۔۔ویسے بھی لڑکیوں کا احترام کرنا اچھے اخلاق کی نِشانی ہے دوسرا اگر مجھے پتا ہوتا تو میں یہاں کبھی نہ بیٹھتی۔۔۔فاحا نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے کہا

جی آپ کو پتا بھی کیسے ہوگا جگ جہاں کی معصوم جو ٹھیری۔۔۔۔فاحا کی بات سن کر اسیر اپنے ماتھے پر بل لائے کہتا ریسٹورنٹ کا جائزہ لینے لگا جہاں ہر ٹیبل پر کوئی نہ کوئی بیٹھا ہوا تھا۔۔”کچھ سوچ کر اسیر اُس کے سامنے والی کرسی پر آرام سے بیٹھ گیا

آپ یہاں کیوں بیٹھے؟فاحا نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا کیونکہ اُس کا بیٹھنا اور کمنٹ دینا فاحا کو کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا

“ہماری مرضی۔۔۔اسیر جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہتا مینیو ڈیسائیڈ کرنے لگا جبکہ فاحا منہ پُھلائے اُس کے پیچھے کھڑے گارڈز کو دیکھنے لگی جو سرجُھکائے موؤدب انداز میں کھڑے تھے

“اچھا اگر بیٹھے ہیں تو ایک بات پوچھوں؟فاحا نے پوچھنے سے پہلے اِجازت چاہی

“نہیں۔۔۔اپنے سیل فون پر نظریں ٹِکائے اُس نے یکلفظی جواب دیا

میں تو پوچھوں گی ورنہ بے چینی ہوگی”آپ یہ بتائے آپ کیا کسی گاؤں کے ہیں؟”کیونکہ آپ کا حُلیہ کسی وڈیرے ٹائپ پر ہوتا ہے مگر لہجہ گاؤں کے لوگوں کی طرح جاہل نہیں ہے۔۔۔فاحا نے اشتیاق سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“آپ کے کہنے کا مطلب گاؤں والے جاہل ہوتے ہیں؟اسیر نے کڑے چتونوں نے اُس کو گھور کر پوچھا تو فاحا گڑبڑا سی گئ

فاحا کا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔فاحا تھوڑا سنبھل کر بولی

جی ہم گاؤں کے ہیں اور ہمیں آپ سے زیادہ نالج ہے۔۔۔اسیر اُس کے پاس کُھلی کتابوں کو دیکھ کر طنز انداز میں بولا جس پر کور لگا ہوا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ جان نہیں پایا کہ کونسی کتاب ہوسکتی تھی وہ۔۔۔

“خیر سے آپ کی عمر بھی تو بہت ہے۔۔”ویسے فاحا کے سُننے میں آیا ہے کہ گاؤں کے آدمیوں کو شادیوں کا بہت شوق ہوتا ہے آپ نے کتنی شادیاں کی ہوئیں ہیں؟”اور اگر گاؤں کے ہیں تو شہر میں کیا لینے آتے ہیں؟”کہی یہاں بھی تو آپ کی بیوی نہیں رہتی؟فاحا اُس کے پاس تھوڑا جُھک کر رازدرانہ انداز میں پوچھنے لگی تو اسیر نے صبر کا گھونٹ بھرا

“گاؤں میں رہتے ہوئے عجیب سکون مل رہا تھا سوچا کیوں نہ اُس کو برباد کرنے کے لیے یہاں آیا جائے۔۔۔” جواب میں جو اسیر نے کہا اُس پر فاحا کی پیشانی پر الجھن زدہ بل نمایاں ہوئے

میں سمجھی نہیں آپ کی بات؟فاحا نے کہا

آپ ہاتھوں پر دستانے کیوں پہنا کرتیں ہیں؟اسیر نے سرجھٹکنا چاہا مگر جب نظر اُس کے ہاتھوں پر گئ تو پوچھ بیٹھا

جراثیم بہت ہوتے ہیں نہ اِس لیے ہاتھوں کو ڈھانپتی ہوں”بار بار ہاتھ دھوکر صابن خرچ کرنے سے اچھا اِن کو کور کیا جائے۔۔۔فاحا نے اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر اُس کو بتایا تو اسیر پوچھ کر پچھتایا

آپ کسی بھی سوال کا سیدھا جواب نہیں دے سکتیں کیا؟اسیر طنز ہوا

اور کیا ایک بات کی تفصیل بار بار سمجھانا آپ پر حرام ہے کیا؟” جو ایک بار کہنے کے بعد دوسری بار کہنا گوارا نہیں کرتے؟فاحا بھی دوبدو بولی جس پر اسیر نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ لیا”اِس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ اُس کا صبر بہت بُری طرح سے آزما رہی تھی

آپ سے بات کرنا فضول ہے۔۔۔۔اسیر سنجیدگی سے کہتا اُٹھ کھڑا ہوا تو اُس کو دیکھ کر فاحا نے ناک منہ چڑھایا تھا۔۔۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

“سارے ثبوت اِس بات کی گواہی دے رہیں کہ چودہ آکٹوبر کی رات دس بجے فراز ملک نے اپنی انا کی تسکین کی خاطر اٹھارہ سالہ کشف امروز کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔۔”میری عدالت سے درخواست ہے کہ فراز ملک کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔۔۔”سوہان نے سنجیدہ لہجے میں جج صاحب کے آگے اپنی بات رکھی تو میشا اپنے ساتھ بیٹھی کشف کے ہاتھ پہ دباؤ بڑھایا تھا پھر اُس نے گردن موڑ کر نوریز ملک کو دیکھا جس کے چہرے کی رنگت لٹھے مانند سفید ہوئی پڑی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے اُنہوں نے سانس تک روکی ہوئی تھی۔۔

“یو آنر میرے کلائنٹ کو ایک جھوٹے کیس میں پھسایا جارہا ہے”مس سوہان آدھی ادھوری بات بیان کررہی ہیں جبکہ سچ تو یہ ہے کہ میرا کلائنٹ فراز ملک بے گُناہ ہے۔۔۔”نوریز ملک کا وکیل سرفراز بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولا تو اُس کو دیکھ کر میشا کے ہاتھوں میں خارش ہونے لگی۔۔۔

“کنٹرول میشو کنٹرول یہ تیرا شکار نہیں بن سکتا۔۔میشا نے بڑی مشکل سے خود کو باز رکھا

“کوئی ثبوت؟جج صاحب نے سرفراز کو دیکھ کر پوچھا

بلکل ہیں”مگر اُس کے لئے مجھے تھوڑی مہلت درُکار ہے۔۔۔سرفراز پُراعتماد لہجے میں بولا تو سوہان تھوڑا چونک سی گئ تھی مگر ظاہر ہونے نہیں دیا”وہ جان گئ اِن کا اِرادہ کیس کو لمبا کھینچنے کا ہے۔۔

اگر ثبوت ہیں تو آج جج صاحب کے سامنے کریں کیونکہ میرے پاس جو ثبوت ہیں اگر جو میں نے وہ سامنے کیے تو اُس کے بعد فیصلہ آج ہی ہوجائے گا۔۔۔سوہان نے کہا تو نوریز ملک اپنی جگہ پہلو بدلتا رہ گیا۔

“آپ

“یو آنر میں فراز ملک کو وِٹنس بوکس( کٹھرے) میں کھڑا کرکے کچھ سوالات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔سرفراز کچھ کہنے والا تھا جب سوہان نے جج صاحب سے کہا

اِجازت ہے۔۔جج صاحب نے اِجازت دی

شکریہ۔۔۔۔سوہان نے کہا جبھی فراز کو کٹھرے میں لایا گیا”اور اُس نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم دی کہ وہ جو بولے گا سچ بولے گا۔۔

“کیا یہ سچ ہے کہ تیرہ آکٹوبر کو تمہارے اور کشف کے درمیان گاؤں کی شادی میں بحث ہوئی تھی؟سوہان نے سنجیدہ لہجے میں فراز سے پوچھا تو اُس نے اپنا جُھکا ہوا سراُٹھا کر سوہان کو دیکھا پھر وہاں بیٹھے اپنے باپ کو جس نے نظروں ہی نظروں میں اُس کو تسلی کروائی تھی”یہ منظر میشا نے بڑی نفرت سے دیکھا تھا

“جج صاحب مجھے بُری طرح سے پھسایا جارہا ہے”یہ لڑکی۔۔۔”اُس نے کشف کی جانب اِشارہ کیا

“یہ خود میرے پاس آئی تھی اور کہا کہ میں اِس سے شادی کرلوں پر جج صاحب میرا تو نیولی کالج شروع ہوا ہے یہی وجہ تھی میں انکار کیا تو اب یہ نیچ حرکت پر اُتر آئی ہے یہ سب جھوٹ”فریب ہے یہ بدکردار لڑکی میری پوزیشن کو خراب کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔۔۔فراز اچانک اپنا بیان بدل کر بولا تو میشا نے دانت کچکچا کر اُس کو گھورا اُس کو خود پر غُصہ آیا کہ اپنے ہاتھ ہولے کیوں رکھے؟”جبکہ اُپنے لیے ایسے الفاظ سن کر کشف نے بے ساختہ اپنے لیے اللہ سے موت مانگی تھی۔۔

آپ سے جو پوچھا جارہا ہے محض اُس کے جوابات دے۔۔سوہان نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا”اُس کو اپنے باپ کی تربیت پر حددرجہ افسوس ہوا کہ جس بیٹے پر اُن کو مان اور فخر تھا آج اُس نے بھرے مجموعے میں قرآن پاک کی جھوٹی قسم اُٹھائی تھی اور ایک معصوم کے کردار پر اُنگلی بھی اُٹھائی تھی۔۔

“میں کشف کو نہیں جانتا۔۔۔”فراز اُس کو دیکھ کر مضبوط لہجے میں کہا

“میں کچھ کہنا چاہتی ہوں اگر اجازت ہو تو وِٹنس بوکس میں آؤں۔۔۔میشا جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تو ہر کوئی اُس کو دیکھنے لگا مگر فراز کی نظر جب میشا پر پڑی تو اُس کو اپنے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہوا”مگر وہ بیہوش پھر بھی نہیں ہوا

“آرڈر

آرڈر

آرڈر

ابھی آپ بیٹھ جائے۔۔جج صاحب نے اُس کو دیکھ کر کہا تو میشا نے خود کو جلتے انگاروں پر محسوس کیا

“کیا تم نے ایک لڑکی کو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ہوس کا نشانہ نہیں بنایا؟

“کیا تم نے اُس کی عزت کو تار تار کرنے کے بعد اُس کی جان لینے کی کوشش نہیں کی؟

“کیا تم نے اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ مل کر اُس کی بے بسی کا فائدہ نہیں اُٹھایا؟

یا یہ بھی جھوٹ ہے کہ تمہارے فون میں اُس کی کچھ نازیبا تصاویر نہیں ہیں جو تم لوگوں نے بلیک میل کرنے کی خاطر اپنے پاس رکھیں ہوئیں ہیں؟”بتاؤ خاموش کیوں ہو؟

سوہان نے ایک کے بعد ایک سوال کیا تو فراز کا گلا خُشک ہوا تھا اُس نے بے ساختہ اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا تھا

“یو آنر مس سوہان میرے کلائنٹ کو مسلسل کنفیوز کرنے کے چکروں میں ہیں۔۔۔سرفراز درمیان میں بول اُٹھا

“معذرت مگر میرا نہیں خیال کہ میں نے کوئی غیرضروری سوال کیا ہے۔”اور میں اب کسی اور کے کٹھرے میں کھڑا کرنا چاہوں گی۔ ۔۔سوہان اُس کی طرف پلٹی تھی۔۔۔

اِجازت ہے۔ ۔جج صاحب کے دوبارہ اِجازت دینے پر سرفراز نے لب بھینچ کر سوہان کو دیکھا اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تو پھر میشا اپنی جگہ سے اُٹھ کر کٹھرے میں کھڑی ہوئی

“آپ کیا جانتی ہیں اِس کیس کے مطلق؟سوہان نے سنجیدہ انداز میں میشا سے پوچھا تو اُس کے اِتنی عزت سے مُخاطب ہونے پر میشا کو بہت ہنسی آئی جس کو چُھپانے کے غرض سے اُس نے اپنا سر جُھکالیا تھا۔۔

“میرے پاس کشف کی میڈیکل رپورٹ کے ساتھ ایک ویڈیو ہے جس میں فراز ملک نے خود اپنے جُرم کا اعتراف کیا ہے”اور اُس میں یہ بھی وہ کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے لیے خود سزا تجویز کرنا چاہتا ہے اپنے عمل پر وہ بہت پیشمان ہے وہ مرنا چاہتا ہے مگر اُس کا باپ اُس کو جھوٹ بولنے کے لیے مجبور کررہا ہے جس کے آگے وہ بے بس ہے”فراز تو ابدی نیند سونا چاہتا ہے وہ چاہتا ہے اُس پر سؤ کوڑے برسائے جائے وہ اِنہیں چیزوں کا مستحق ہے۔۔۔”میشا نے بنا رُکے کہا تو سوہان نے اُس کو گھورا تھا کیونکہ ایک تو سِوائے میڈیکل رپورٹ دینے کے میشا نے اُس کو کچھ اور نہیں بتایا تھا اور جو اُس نے کہانی بنائی تھی اُس میں سوہان کو لگا جیسے میشا نے فاحا کو بھی پیچھے چھوڑدیا تھا”اُس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ میشا نے تو قرآن کی قسم بھی نہیں اُٹھائی تھی اور نہ قرآن پاک پر اپنا ہاتھ رکھا تھا “اور نہ یہ کہا تھا کہ وہ جو بولے گی سچ بولے گی سچ کے سِوا کچھ اور نہیں بولے گی”یہی وجہ تھی اور اِس لیے میشا کے منہ میں جو آرہا تھا وہ بکے جارہی تھی”مگر جہاں سوہان تپی تھی وہی کسی اور کے پاؤں کے نیچے سے زمین کِھسک گئ تھی۔۔

“یو آنر کیا مجھ جیسی لاچار بے بس لڑکیوں کو کیا کبھی انصاف نہیں ملے گا؟”کب تک؟آخر کب تک ہم انسان نُما حیوانوں کی خوراک بنتی آئیں گی؟”کیا ہمارا قانون اِتنا کمزور ہے جہاں بس پیسا چلتا ہے مگر یو آنر مجھے انصاف چاہیے میرے ساتھ جو ہوا ہے میں نہیں چاہوں گی وہ کل کسی اور کے ساتھ ہو”اگر آج میری فریاد سُنی نہیں گئ تو ہوسکتا ہے جہاں آج میں ہوں وہاں خدانخواستہ کل کلاں کو آپ کی اپنی بہن بیٹی ہو۔۔”ہمیں زمین پر اِس لیے نہیں اُتارا گیا کہ یہ بڑے لوگ ہمیں نوچے اپنے نفس کی وحشت میں آکر ہماری خوشیوں کو چکنا چور کردے”یہاں مجرم کھڑا مجھ پر بہتانی بازی لگا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی عورت اپنے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھاتی کیونکہ وہ اِنہیں خوف کی وجہ سے کچھ کر نہیں پاتیں”کچھ مائیں اپنی بچیوں کو گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتیں کیونکہ وہ جانتی ہیں یہاں جان سے زیادہ عزت کو خاطرہ ہے گلی گلی”جگہ جگہ مال لوٹرے نہیں مگر عصمت کو لوٹنے والے ملینگے”مجھے خاموش رہنے کا کہا گیا”کیونکہ میں عورت ہوں”مجھے میری آواز کو دبانے کا کہا گیا کیونکہ میں عورت ہوں”مجھے کیس نہ کرنے پر کہا گیا کیونکہ یو آنر میں ایک عورت ہوں” کیس کرنے پر نقصان پہنچایا گیا کیونکہ میں عورت ہوں”اور عورت کو اِنہوں نے روبوٹ سمجھا ہوا جس کے اندر کوئی جذبات احساسات ارمان نہیں ہوتے”آخر کیوں ہم عورت کی زبانیں کاٹی جاتیں ہیں؟”کیوں زبان ہونے کے باوجود ہمیں بے زبان قرار دیا جاتا ہے”آخر کب تک ہم اپنے لیے انصاف کو ترستے آئے گیں۔۔کشف سامنے آتی نم لہجے میں بولتی گئ اپنے اندر کا سارا غبار اُس نے پل بھر میں باہر نکالا تو میشا نے داد دیتی نظروں سے اُس کو دیکھا تھا جس نے ایک آخری کیل ٹھوکی تھی لوگ کیا کہیں گے؟”کی سوچ کو اپنا کر اُس نے خود پر جبر نہیں کیا تھا بلکہ اپنی آواز کو اُٹھایا تھا اور جیسی قابلِ رحم اُس کی حالت تھی اگر یہ دیکھ کر بھی کوئی اُس کو انصاف نہ دیتا تو بہت بڑا ظلم کردیتا اور وہ بھی اُس گُناہ میں برابر کا شریک دار ثابت ہوتا۔۔۔

“تمام ثبوتوں اور گواہوں کو مدِنظر رکھ کر عدالت اس فیصلے پر پہنچتی ہے کہ

وکٹم فراز ملک کو ریپ کیس اور مس کشف پر جھوٹے الزام لگانے اور اُن کے کردار کا بھی تماشا لگانے کے جُرم میں سزائے موت دیتی ہے اور اِس بات کا اعلان کرتی ہے کہ فراز ملک کو کورٹ کے باہر پھاسی دی جائے گی تاکہ ہر دیکھنے والا اُس سے عبرت حاصل کرے”اور اُس سے پہلے ساتھ میں ان پر جرمانہ عائد کرتی ہے اس کے علاؤہ عدالت کشف امروز کو ہر الزام سے با عزت بری قرار دیتی ہے اور انہیں یہ حق دیتی ہے کہ وہ فراز ملک پر ہرجانے کا کیس کر سکتیں ہیں۔۔۔

“جج صاحب نے اپنا فیصلہ سُنایا تو اُن کو لگا جیسے کسی نے اُن کو نئ زندگی بخشی ہو”سوہان نے بے ساختہ اپنا سراُٹھاکر اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا جس نے اُس کو نااُمید نہیں چھوڑا تھا سچ پر کھڑے ہونے کی پہلی سیڑھی پر ہی اُس کو عزت بخشی تھی۔۔”وہی میشا نے آگے بھر کر کشف کو اپنے گلے لگایا تھا۔۔

“مگر نوریز ملک پر تو گویا کمرہ عدالت کی جیسے پوری چھت آگری ہو وہ فق ہوتی رنگت کے ساتھ سارا معاملہ سمجھنے کی کوششوں میں تھے۔۔۔اور فراز نے چیخ چیخ کر پورا آسمان سر پر اُٹھالیا تھا جس پر توجہ کوئی نہیں دے رہا تھا آفیسرز اُس کو کھینچ کر باہر لیکر جارہے تھے۔۔”جہاں کچھ لوگوں کے لیے خوشیوں کا سماں تھا وہی کسی کے لیے یہاں جیسے اُن کی پوری زندگی اُجڑ گئ تھی آج تو خوشیوں کا ساز تھا کیونکہ آج ایک معصوم کو انصاف ملا تھا۔۔

Congratulations.

نوریز ملک کے وکیل نے سوہان کے سامنے کھڑے ہوکر مُبارکباد دینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔

Thank You.

جواب میں مصافحہ سوہان کے بجائے میشا نے کیا تھا اور اُس کا ہاتھ زور سے دباکر چھوڑا تو سرفراز کو لگا جیسے اُس کے ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں ہو مگر وہ نہیں تھا جانتا کہ میشا نے اپنے ہاتھ کی خارش کو کم کرنے کی ایک کوشش کی تھی۔۔۔

“میری زندگی کا پہلا کیس ہے یہ جو میں ہارا ہوں”وہ بھی کسی غیرتجربیکار وکیل سے۔اپنے ہاتھ کو سہلاکر وہ مغرور لہجے میں سوہان سے بولا تو اُس کے لفظ”غیرتجربیکار پر میشا نے اُس کو ایسے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو تمہاری عمر سے زیادہ ہماری پریکٹس ہے۔

پہلا نہیں پانچواں اور میں شیور ہوں اگر آپ حق کے ساتھ ہوتے تو جیت جاتے۔۔۔سوہان نے گہرے سنجیدہ لہجے میں کہا تو اُس کو جیسے چُپ لگ گئ تھی۔۔

“اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو میں کورٹ کے باہر اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دے سکتی ہوں بشرطیکہ کے آپ اِجازت دے۔۔۔میشا نے اُس کو دیکھ کر معصومیت سے بھرے لہجے میں کہا تو سرفراز نے بے ساختہ گلا کھنکھار کر سائیڈ سے گُزرگیا تھا۔۔”اُس کے جانے کے بعد اُن دونوں کی نظر نوریز ملک پر گئ تھی جو اپنی جگہ سے ہِلے تک نہ تھے ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی اپنا سر اُٹھا نہیں پائیں گے۔۔”غرور کا سر ہمیشہ نیچے رہ جاتا ہے یہ تو طے تھا

“علامہ لکھتے ہیں

جانے کس شُہرت کا غرور ہے انسان کو

اِنسان تو اپنے آخری غسل کا بھی محتاج ہے۔۔۔

میشا نوریز ملک کے سامنے کھڑی ہوتی طنز لہجے میں بولی تو نوریز ملک جیسے گہری نیند سے جاگ اُٹھے تھے اور وہ بار بار آنکھیں مل کر کبھی سوہان کو دیکھتے تو کبھی میشا کو جس کے چہرے پر ایک الگ قسم کے تاثرات تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *