Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 04)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 04)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
درد کا کہنا چیخ ہی اٹھو‘ دل کا تقاضہ وضع نبھاؤ
سب کچھ سہنا‘ چُپ چُپ رہنا کام ہے عزت داروں کا
چچ چھوڑو۔۔۔۔سوہان اُس کی گرفت میں مچلنے لگی مگر انور اُس کے منہ پر اپنا ہاتھ مضبوطی سے جماتا کسی بے جان چیز کی طرح اُس کو صوفے پر پٹخا تھا جس پر اُس کا معصوم سا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا خود وہ حواس باختہ سہمی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر عجیب شیطانیت ٹپک رہی تھی۔۔۔۔
سوہان
سوہان
میری جان میری بات آرام سے سُنو۔۔۔۔انور اُس پہ تھوڑا جُھک کر بولا
ککک کونسی بب بات؟سوہان کی زبان لڑکھڑائی
دیکھو تم لوگ ہمارا کھاتے ہو تمہارا باپ تو سالہ کمینہ تھا جو تم جیسی پیاری پریوں کو چھوڑ دیا۔۔۔۔۔انور نے خاصے افسوس کا اِظہار کیا
ممی میرے بب باپ ککک کو گگ گالی مم مت دد دو۔۔۔۔۔سوہان کو اُس کے الفاظ اپنے باپ کے لیے پسند نہیں آئے تھے
اووو بے بی کو غُصہ آرہا ہے.۔۔۔انور نے شیطانی قہقہقہ لگایا تو سوہان نے اُٹھ کر بھاگنا چاہا مگر انور نے اُس کی کوشش ناکام بنائی وہ اُس وحشی کا مقابلہ کر بھی کیسے سکتی تھی”
کہاں وہ ایک معصوم سی آٹھ سالہ بچی جو اُس کے ناپاک اِرادو کو سمجھ نہیں پارہی تھی تو کہاں وہ چالیس سالہ وحشی درندہ جو اُس کو نوچنے کے لیے مچل رہا تھا۔۔۔”
ممم مجھے جججا جانے دو مممم اپپپ اپنی بہن کے پپ پاس جج جاؤں”وہ ررر رو رہی ہ ہوگی۔۔۔۔سوہان کا پورا چہرہ آنسوؤ سے تر ہوگیا تھا اُس کو لگ رہا تھا اگر وہ پانچ مزید یہاں بیٹھی تو اُس کا سانس بند ہوجائے گا۔۔۔
دیکھو اگر تم مرجاؤ تو۔۔۔۔انور نے پرسوچ لہجے میں اُس سے پوچھا
“تو فاحا کا کیا ہوگا۔۔؟سوہان کو اُس کی بات سن کر فاحا کی فکر لاحق ہوئی تھی اِتنی کہ اِس بار اُس کی زبان میں لڑکھڑاہٹ تک نہیں آئی تھی
اپنی بہنوں کے بارے میں فکرمند نہ ہو تمہارے بعد اُس پیاری میشا کا نمبر ہے افففف وہ تیکھی مرچ پوری آفت ہے ابھی سے۔۔۔۔۔
مم مطلب؟سوہان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی اور آہستہ سے تھوڑا پیچھے کِھسکی تھی
یہاں آؤ۔۔۔انور اُس کی بات پر طنز مسکراتا بولا
نن نہیں پپپ پلیز۔۔۔۔سوہان نے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑے تبھی وہاں کسی کے قدموں کی چاپ ہونے لگی تو انور جلدی سے صوفے سے اُٹھ گیا تھا مگر سوہان نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے سے آتی ساجدہ کو دیکھ کر وہ بھاگ کر اُس کے پاس پہنچی تھی۔۔۔
آآآ نن نٹی آنٹی ببب چالے۔۔۔اُن کے ساتھ لگی سوہان نے کپکپائے لہجے میں بولی تو ساجدہ نے چونک کر اُس کا آنسوؤ سے بھیگا چہرہ دیکھا
اللہ اللہ سوہان بچے کیا ہوگیا ہے۔۔۔ساجدہ اُس کو ایسے دیکھ کر پریشان ہوئی
ممم مجھے اِن س
تم نے اِتنا وقت لگادیا بچی ڈر گئ تھی۔۔سوہان نے کچھ کہنا چاہا مگر انور درمیان میں بول اُٹھا تو ساجدہ نے مسکراکر سوہان کو دیکھنے لگی جو اپنا سر نفی میں ہلا رہی تھی
سوہان بچے آپ تو بہادر ہو اور میں نے کہا جو تھا مجھے آنے میں وقت لگ جائے گا۔۔۔ساجدہ اُس کے پاس گُھٹنوں کے بل بیٹھ کر بولی
آنٹی وہ
میں نے سوچا کیوں نہ وقت گُزاری کے لیے اور اِس کا من بہلانے کے کوئی گیم کِھیلا جائے مگر یہ ڈر گئ۔۔۔۔۔انور نے ایک بار پھر سوہان کی بات کاٹی تو اُس کو رونا آگیا تھا۔۔
تم بھی حد کرتے ہو پتا تو ہے بچیاں بہت حساس ہوتیں ہیں”خیر تم جاؤ میں آگئ ہوں اور سوہان کے ساتھ کمرے میں ہوگی فاحا کو شاور بھی دینا ہے۔ ۔۔۔ساجدہ سوہان کو اپنے ساتھ لگاتی بولی انور کے چہرے کے تاثرات بگڑے تھے جن کو چُھپائے وہ وہاں سے چلاگیا تھا۔۔۔۔
“اِتنی بہادری کا مُظاہرہ کرتی ہو تو اسٹرونگ بنو بیٹا۔۔۔”اففف میں بھی کم عقل ہوں کیسے بھول جاتی ہوں بچے اکثر ڈرا کرتے ہیں مگر تم جو کام کرتی ہو اُس پر میں بھول جاتی ہوں کہ کوئی بچی میرے سامنے کھڑی ہے۔ساجدہ اُس کو سمجھانے والے انداز میں کہتی پھر خود ہی ہنس پڑی مگر سوہان کے اندر ڈر اب بھی کُنڈلی مارے بیٹھ گیا پہلے تو وہ بس انور کی نظریں اور ایک حد تک ہاتھ لگانے پر ڈرا کرتی تھی مگر آج جیسا اُس نے بدسلوکی والا رویہ اُس کے ساتھ رکھا تھا اُس پر تو دل کی دھڑکن ہنوز ویسی رفتار سے دھڑک رہی تھی۔۔۔۔







تم؟؟؟؟
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔۔؟شہریار خان نے جب اسلحان کو اپنے گھر کے دروازے کے پاس دیکھا تو جانے کتنے بل اُن کے ماتھے پر آچُکے تھے۔
بھائی اندر آنے کہا نہیں کہو گے؟اِتنے سالوں کی مُلاقات پر پنے بھائی کا ایسا لیا دیا انداز دیکھ کر اسلحان کو اپنی آخری اُمید بھی ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی
کیوں کہے اندر آنے کا؟”کونسا ہمارا نام روشن کیا ہے تم نے بدنامی کا ایک کالک ہو ہماری عزت پر” جاؤ اور دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔اِس بار شہریار کی بیوی بولی تھی
بھابھی پلیز مجھے کچھ بولنے کا موقع تو دے۔۔۔۔۔اسلحان نے منت کی۔۔۔”اِس درمیان میشا بلکل خاموش تھی اُن کو دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
اسلحان جاؤ یہاں سے۔۔۔۔شہریار نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا
بھائی یوں سنگدل نہ بنے میں آپ کی لاڈلی بہن تھی کیا آپ بھول گئے ہیں؟اسلحان کو تکلیف ہونے لگی۔۔
ہاں بھول گیا ہے بس اِتنا یاد ہیں ہمیں کہ تم کم ذات نے رات کی تاریخی میں ہماری عزت کا تماشا بنایا ہے میرے چاند جیسے بھائی سے شادی سے انکار کیا تھا اور اپنے یار کے ساتھ بھاگ گئ تھی۔۔۔۔شہریار کی بیوی زوبیہ ہاتھ نچا نچا کر بولی
اُس کی تو سزا ملی ہے مجھے آپ کی مخلص محبت کو چھوڑ کر یہاں سے چلی گئ تو نوریز نے مجھے طلاق دی کیونکہ میں نے تین بیٹیاں پیدا کی”بیٹیاں پیدا کرنا میرا جرم بن گیا اور سزا کے طور پر طلاق ہوئی۔۔۔۔اسلحان نے ندامت سے چور لہجے میں بتایا تو شہریار نے چونک کر پہلی بار اُس کے پاس کھڑی معصوم میشا کو دیکھا وہ خود بھی چار بیٹیوں کو باپ تھا مگر اُس کے اندر میں بیٹے کی اِتنی چاہ نہیں تھی کہ بیوی کو ہی طلاق دے دیتا۔۔۔
یہ تو ہونا تھا جب آپ مخلص محبت کو ٹُھکراتے ہیں تو پھر محبت پھر آپ کو ٹُھکراتی ہے”شہریار نے تو ہر ممکن کوشش کی تھی تمہیں سمجھانے کی پر تمہیں تو اپنا عاشق عزیز تھا۔۔۔۔۔زوبیہ نخوت سے بولی تو اسلحان چُپ رہی تھی اُس کے پاس اور کوئی چارہ جو نہ تھا
اسلحان تم نے جو کیا اُس کی معافی میرے پاس نہیں اِس لیے جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔شہریار نے سنجیدگی سے کہا اُس کے دل میں زرا رحم نہیں تھا
ہاں بہن جاؤ ہماری پہلے ہی چار بیٹیاں ہیں جس کا خرچہ اُٹھانا ہے تمہارا اور تمہاری تین بیٹیوں کا بوجھ مفت میں ہمیں نہیں اُٹھانا۔۔۔۔۔زوبیہ نے طنز کہا
آپ اُس کی فکر نہ کرے مجھے بس گھر میں پناہ دے بیٹیوں کا خرچہ اُن کی ساری زمیداری میں خود اُٹھالوں گی۔۔۔۔اسلحان نے جلدی سے کہا
اچھا کیسے؟مجھے بھی تو پتا چلے انٹر پاس لڑکیوں کو کونسی نوکریاں ملتی ہیں؟زوبیہ نے استہزائیہ انداز میں کہا
تمہیں اگر جو بات کرنی تھی وہ ہوگئ ہیں تو جاؤ کیونکہ میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔۔شہریار نے پھر سے اُس کو جانے کا بولا
آپ کی سگی بہن ہوں میں آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں میرے ساتھ؟اسلحان نے افسوس سے اُس کو دیکھا
ویسے جیسے تم نے میری عزت کو اپنے پاؤں تلے روندا تھا۔۔۔۔شہریار طنز بولا
ویسے اگر تمہیں واقعی میں اپنے غلطی کا احساس ہے تو ایک شرط پر تمہیں پناہ مل سکتی ہے۔۔۔۔کچھ سوچ کر زوبیہ نے اُس سے کہا
زوبی۔۔۔۔۔؟شہریار نے حیرت سے اُس کو دیکھا
مجھے بات کرنے دو۔۔۔زوبیہ اُس سے کہتی اسلحان کی طرف متوجہ ہوئی
بتاؤ پھر قبول ہے؟
مجھے آپ کی ہر شرط قبول ہے۔۔۔۔۔اسلحان بنا سوچے سمجھے بولی
ٹھیک ہے تو سب سے پہلے اپنی تینوں بیٹیوں کو باپ کے یہاں چھوڑ آؤ۔۔۔۔۔زوبیہ نے کہا تو اسلحان اُلجھن بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
باپ کے گھر؟اسلحان کو سمجھ نہیں آیا
ہاں باپ کے گھر چھوڑ آؤ اور پھر یہاں اکیلے آجانا میرے بھائی کی بیوی ڈیلیوری کے دوران مرگئ تھی بس ایک بیٹا ہے اور دوسری بیٹی ہے وہ تمہیں قبول کردے گا اگر عزت بھری زندگی اور اپنے بھائی کی معافی چاہتی ہو تو میرے بھائی سے شادی کرنا ہوگی پھر اِس گھر کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کے لیے کُھلے ہوئے ہونگے۔۔۔زوبیہ نے کہا تو اسلحان حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی۔
“بھابھی جس شخص نے مجھے بیٹیوں کی وجہ سے چھوڑا آپ چاہتی ہیں”میں وہاں اپنی بیٹیاں چھوڑ آؤں اگر وہ اِتنا اچھا ہوتا تو مجھے چھوڑتا کیوں؟اسلحان کو زوبیہ کی باتیں عجیب لگیں
تو تم نے بھی ٹھکا نہیں لیا کوئی تم بھی چھوڑ آؤ اِن کو وہاں پھر یہ جانیں اور اُن کا باپ۔۔۔۔۔زوبیہ نے بیزاری سے کہا
آپ نے کہا میں نے سُن لیا مگر اپنی بیٹیوں کو وہاں کی ملازمائیں بنانے سے اچھا ہے یہ میرے ساتھ سڑک پر سوئیں۔”اور اگر آپ کا بھائی مجھ سمیت میری بیٹیوں کو قبول کرتا ہے تو سہی ہے میں کرلوں گی اُس سے شادی۔۔۔اسلحان میشا کا ہاتھ مضبوط سے تھامے دو ٹوک لہجے میں بولی
لو جی رسی جل گئ مگر بل نہیں گیا۔۔۔۔زوبیہ کو تو اُس کی بات سن کر پتنگے لگ گئے
میرے خیال سے مجھے جانا چاہیے کیونکہ یہاں میرا بھائی نہیں بلکہ کسی کا شوہر کھڑا ہے۔۔۔۔۔اسلحان نے ایک نظر شہریار پر ڈال کر اُس سے کہا تو شہریار اپنی نظروں کا زاویہ بدل گیا تھا۔۔۔
رُل جاؤ گی۔۔۔زوبیہ نے تمسخرانہ لہجے میں اُس سے کہا
رُل چُکی ہوں پر سوہان اور میشا کو رُلنے نہیں دوں گی اُن کا بہترین مستقبل بناؤں گی۔۔۔۔۔اسلحان کا انداز پُریقین تھا
دیکھتے ہیں تمہاری بیٹیاں کیا کارنامے انجام دیتیں ہیں وہ بھی بن باپ اور بھائی کے۔۔۔۔۔زوبیہ نے طنز کہا
“صرف آپ نہیں پوری دُنیا دیکھے گی میری بیٹیاں خود کو ایسے بنائے گی اور ایک بات بتادوں وہ بھی کسی ہائے کلاس گھرانہ کے بنا وہ اپنے بل بوتے پر کرینگیں جس میں اُن کے باپ کا نام شامل نہیں ہوگا بلکہ وہ خود کا نام بنائے گیں دیکھیے گا۔۔۔۔۔اسلحان جواباً دوبدو بولی تھی
ہاں ہاں دیکھے گی پوری دُنیا۔۔۔۔زوبیہ جل کر بولی
“ویسے بھائی جاتے ہوئے آپ سے بات کہوں گی بہت پہلے سُنا تھا کہ”زندگی ایک ریل کے سفر کی مانند ہے بہت سے لوگ سوار ہوتے ہیں اور بہت سے اُتر جاتے ہیں مگر بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو منزل تک آپ کے ساتھ جاتے ہیں۔۔۔۔”آپ میرے محافظ تھے اپنی غلطی کا احساس ہے اور ایک موقعے کا حق بھی رکھتی تھی میں پر خیر اب چلوں گی۔۔۔۔اسلحان سنجیدگی سے کہتی میشا کا ہاتھ پکڑے اُن کی چوکھٹ عبور کرگئ تھی۔۔۔”اُس نے سوچ لیا تھا اب جو کرنا تھا اُس نے خود کرنا تھا اور اب کیسے بھی کرکے اُس کو اپنی بیٹیوں کا مستقبل بنانا تھا جس کو ہر کوئی حقارت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔”اُس کو اپنی بیٹیوں کو ایسا بنانا تھا کہ ہر دیکھنے والا اُن پر رشک کرے اور کون جانتا تھا کہ عنقریب ایسا ہونے والا تھا۔۔۔۔۔
*(سورة النسآء:٤٥)*
*لَا تَحْــــزَنْ اِنَّ اللّٰـهَ مَعَنَـا* •
*غم نہ کرو بیشک اللّٰــــــه ہمارے ساتھ ہے*








آریان یہ دیکھو میں تمہارے لیے کچھ چیزیں لایا ہوں دیکھ کر بتاؤ کیسی ہیں؟رات کے وقت زوریز گھر آیا تو آریان سے بولا جو چت لیٹا ہوا تھا۔۔۔۔”مگر اُس کے مُخاطب کرنے پر جب کوئی جواب نہیں آیا تو زوریز کو لگا شاید وہ سوچکا ہے۔۔۔
جواب کیوں نہیں دے رہے؟اگر جاگ بھی رہے ہو تو۔۔”اُس کی آنکھیں کُھلی دیکھ کر زوریز کو تعجب ہوا
ہم یہاں کیوں ہیں زوریز؟”ہمارا کمرہ تو بڑا اور بہت خوبصورت تھا پھر یہاں رہنے کی وجہ”مہنگائی کہہ کر باسی کھانا ملتا ہے سہی ہے مان لیا مگر اِس مہنگائی سے ہمارا اسٹوروم سے کیا تعلق؟”ہم یہاں کیوں قید ہوگئے ہیں۔۔۔آریان اُٹھ کر اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا تو اُس کا رویہ پہلی بار ایسا دیکھ کر زوریز ٹھٹکا
کچھ ہوا ہے؟زوریز نے جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھا
میرے کِھولنے اور کپڑے اسد اور فراز کے پاس دیکھے میں نے”میں یہاں میلے کپڑے پہن رہا ہوں اور وہ میری اور تمہاری چیزوں پر عیش کررہے۔۔۔۔آریان غُصیلے انداز میں بولا
تمہارے لیے لایا ہوں نہ شرٹس اور تمہاری فیورٹ کار بھی لایا ہوں ایک بار دیکھو تو سہی۔۔۔زوریز نے شاپرز اُس کے سامنے کی
اور ہمارا کمرہ؟”کیا وہ بھی لائے ہو چیزوں کی رپلیسمنٹ سہی ہے مگر کمرے کی رپلیسمنٹ بہت بُری ہے۔۔۔۔۔آریان نے ایک نظر بھی شاپرز پر نہیں ڈالی
تم کیا چاہتے ہو میں چچا سے لڑائی کروں؟زوریز نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر پوچھا
ہاں لڑو اِس میں غلط کیا ہے؟”آفس تو بس ہمارے ڈیڈ جاتے تھے یہ سارا کچھ تو اُن کا یعنی ہمارا ہے نہ اور ہم ہی ترس رہے ہیں۔۔۔۔۔آریان آج کافی خائف معلوم ہورہا تھا شاید وہ اچانک اپنے بدلتے حالات کو قبول نہیں کر پارہا تھا
زندہ رہنے کے لیے کیا ضروری ہوتا ہے؟جواب میں زوریز نے جو پوچھا اُس آریان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا۔۔۔
ہوا”آگ اور پانی۔۔۔۔۔سرجھٹک کر آریان نے سوچ سوچ کر بتایا تو اُس کے جواب پر زوریز جانے کتنے وقت بعد پہلی بار مُسکرایا تھا
اِن کے علاوہ کیا ضروری ہوتا ہے؟زوریز نے سرجھٹک کر پوچھا
صبح کا ناشتہ”دوپہر کا لنچ”اور رات کا ڈنر۔۔۔۔۔آریان نے بتایا
ناشتہ وقت پر ملتا ہے تمہیں؟زوریز نے پوچھا
ہاں۔۔۔آریان نے سراثبات میں ہلایا
لنچ؟اگلا سوال
وہ بھی ملتا ہے۔۔۔۔آریان نے جھٹ سے جواب دیا
اور ڈنر؟زوریز نے ایک اور سوال کیا
وہ بھی تم باہر سے لاتے ہو۔۔۔آریان نے کندھے اُچکائے جواب دیا
ہممم سہی تو یہ بتاؤ آرام کے لیے کیا ضروری ہوتا ہے؟زوریز نے پوچھا
کیا میں آج ایکزام حال میں ہوں؟” جو تم اُردو کا پیپر حل کروا رہے ہو۔۔۔۔آریان زچ ہوا
جو پوچھا ہے اُس کا جواب دو۔۔۔۔زوریز نے ٹوکا
ہمارا پہلے والا کمرہ جہاں آرام دہ بستر تھا”اور ای سی کولنگ ہوا کرتی تھی۔۔۔۔”اب تو مچھروں نے کاٹ کاٹ کر خون چوس لیا ہے پہلے پسینے لفظ تک کا پتا نہیں چلتا تھا اور اب خود میں بس پسینے کی بدبو آتی ہے۔۔۔۔آریان منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولا
غلط جواب۔۔۔زوریز اُس کی بات سن کر اپنا سر نفی میں ہلاتا بولا
تو سہی جواب کیا ہے؟آریان کو حیرت ہوئی”اپنے مطابق اُس نے سہی جواب دیا تھا
آرام کے لیے سر پر چھت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی زوریز نے اُس کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑے اُپر کیا
وہ چھت جس میں سے جالے گِرتے ہیں۔۔۔۔آریان کے پاس شکایات بہت تھیں۔۔۔۔
وہ چھت جس نے ہمیں محفوظ رکھا ہے”پتا ہے جب میں یہاں آتا ہوں تو نظریں سڑک پر سوئے ہوئے لوگوں پر پڑتی ہیں تو دل سجدے میں جُھک جانے کا کہتا ہے۔۔اُن لوگوں کے پاس تو یہ بھی نہیں ہوتا مگر ہمارے پاس ہے تو ہمیں بُرا منہ نہیں بنانا چاہیے کیا پتا اللہ ناراض ہوکر یہ بھی چِھین لے۔۔۔۔زوریز نے سمجھانے والے انداز میں کہا
اللہ بچوں سے ناراض نہیں ہوتا اِس لیے بے فکر رہو۔۔۔۔۔۔آریان نے منہ کے زاویئے بگاڑے
اگر اِتنا پتا ہے تو یہ بھی جان لو کہ اللہ اپنے بندوں کو زیادہ دیر تک تکلیف میں بھی رہنے نہیں دیتا۔۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا
میں تمہاری طرح نہیں ہوں زوریز مجھے میرا سب کچھ واپس چاہیے کیا تمہارا خون نہیں کُھولتا جب اِن سب کو ہمارے باپ کے پیسوں پر عیش کرتے ہوئے دیکھتے ہو تو؟آریان نے بیزاری سے اُس کو دیکھ کر کہا
آریان اچھا ہوگا جو اپنی عمر کے لحاظ سے بات کرو اور پتا نہیں تمہیں کون ایسی پٹی پٹیاں پڑھاتا ہے۔۔ زوریز نے جانچتی نظروں سے اِس بار آریان کو دیکھا
یہ میری بات کا جواب نہیں۔۔۔۔
میں یہ سب تمہارے لیے کرتا ہوں اور تم خوش نہیں ہوتے تو پھر کیا فائدہ میرے کام کرنے کا تم صبر کرو آہستہ آہستہ سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے گا۔۔۔۔زوریز نے نرمی سے کہا
“کب ہوگا پہلے جیسا؟اور تم کیوں کرتے ہو کام؟”میں تھوڑئی بولتا ہوں ہمارے پاس سب کچھ ہے تم اُن سے لو آواز اُٹھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔آریان اُلٹا اُس کو سمجھانے بیٹھ گیا۔
کھانا کھاؤ اور سوجاؤ نیند دماغ حاوی ہوگئ ہے تمہارے۔۔۔۔زوریز نے سرجھٹک کر کہا
تم غلط ہو زوریز۔۔۔۔آریان خفگی سے بولا
تمہیں کیا لگتا ہے میں چچا کمال یا چچا جمال میں سے کسی ایک کو کہوں گا کہ ہمیں ہمارا حق دے تو وہ خوشی خوشی دے دینگے؟زوریز نے اُس پر سب کچھ چھوڑدیا
مطلب طے پایا ہم گُھٹ گُھٹ کر یہی رہینگے۔۔.آریان کو رونا آنے لگا
میں کوشش کررہا ہوں نہ آہستہ آہستہ تمہیں وہ سب دوں گا جو تمہارے پاس پہلے سے تھا۔۔۔۔زوریز نے تھکی ہوئی سانس خارج کی
کیسے ڈکیتی کرکے؟”یا بڑے آدمیوں کے ساتھ مل کر چوری کرکے۔۔۔۔آریان نے پوچھا تو زوریز نے اُس کو گھورا
بے فکر رہو جب میرے اندر تمہیں حرام کِھلانے کی چاہ آئی تو خود تمہارا گلا دبا کر ماردوں گا۔۔۔۔زوریز نے کہا تو آریان کِھسک کر اُس سے دور بیٹھا
بڑا تو ہونے دو ابھی سے مارنے کا سوچا ہوا ہے۔۔۔۔آریان کانوں کو ہاتھ لگائے بولا
کھانا کھالو مجھے نیند آرہی ہے سونا ہے مجھے۔۔۔۔زوریز سرجھٹک کر بولا اُس کو تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی اور ایک آریان تھا جس کے پاس شکایات کا انبار تھا
تم نہیں کھاؤ گے کیا؟آریان نے پوچھا
سونا چاہتا ہوں بھوک نہیں ہے۔۔۔زوریز نے ٹالا
مگر ہم تو ہمیشہ ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے”کیا تم مجھ سے خفا ہوگئے ہو؟”پر میں غلط تو نہیں ہمیں ہماری چیزیں ملنی چاہیے نہ۔۔۔۔آریان کو لگا شاید وہ اُس کی کسی بات پر خفا ہوگیا ہے تبھی منانے والے انداز میں بولا
میں تم سے خفا کیوں ہوگا تمہارے علاوہ میرے پاس کون ہے۔۔۔۔زوریز نے اُس کو دیکھ کر کہا
پُھوپُھو اور نانو؟آریان کو اچانک اُن کا خیال آیا
اُن دونوں کو ہمارا خیال نہیں آتا شاید۔۔۔زوریز کے چہرے پر یکطرفہ مسکراہٹ آئی
پُھوپھو تو ہم سے بہت پیار کرتیں تھیں۔”کیا موم ڈیڈ کے ساتھ اُن کا پیار بھی ختم ہوگیا۔۔۔آریان کو دُکھ ہوا
وہ اپنی زندگی میں مصروف ہیں خیر تم زیادہ سوچو نہیں اور سوجاؤ۔۔۔زوریز نے باتوں کا سلسلہ ختم کرنا چاہا جس پر آریان بھی اِس بار چُپ ہوگیا تھا۔۔۔






امی
اسلحان چھت پر موجود چارپائی پر چت لیٹی اپنے بھائی کے رویے کے بارے میں سوچ کر آنسو بہانے میں مصروف تھی جب سوہان فاحا کو سُلانے کے بعد اُس کو آواز دینے لگی۔۔۔
ہونہہ۔۔۔۔اسلحان نے اُس کو دیکھا
مجھے کچھ بتانا ہے آپ کو۔۔۔۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر بیحد آہستگی سے کہا
کل بتانا ابھی سوجاؤ۔۔۔اسلحان نے کہا
ابھی سُنوں نہ پلیززز۔۔۔سوہان نے منت کی
کہو۔۔۔۔۔اسلحان نے کوفت سے اُس کو دیکھا
انکل انور بہت بُرے ہیں”آپ کو پتا ہے اُنہوں نے مجھے صوفے پر دھکا دیا اور کہا ہم
سوہان بس کرجاؤ خُدا کا واسطہ ہے تمہیں وہ بیچارے اپنی اولاد کے ترسے ہوئے تمہیں اور میشا کو پیار کرتے ہیں اور تمہارے خُرافاتی دماغ میں جانے کیا گند پڑا ہے۔۔۔۔سوہان کی بات درمیان میں کاٹتی اسلحان تپ کر بولی تو سوہان کو رونا آیا
امی میں سچ بولتی ہوں وہ اچھے نہیں ہے بلکل بھی”ڈیڈ کو بھی گالی دی۔۔۔۔بتاتے ہوئے سوہان کو رونا آیا
تو غلط کیا ہے تمہارا باپ گالیوں کے ہی لائق ہے اور جاکر تم بھی سوجاؤ میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں کسی کو۔۔۔۔اسلحان نخوت سے سرجھٹک کر بولی جس پر سوہان بے بسی سے بس اُس کو دیکھتی رہ گئ اور کچھ کرنے کو اُس کے پاس تھا کہاں








پھر کیا سوچا تم نے”اب کیا کرو گی؟ساجدہ نے چائے کا کپ اسلحان کے سامنے رکھے اُس سے پوچھا
تم پر اب مزید بوجھ نہیں بنوں گی جانتی ہوں تمہارا اور تمہارے شوہر کا گُزر بسر بھی بڑی مشکل سے ہوتا ہے”میں کسی اسکول میں جاب کرنے کا سوچ رہی ہوں۔۔۔۔اسلحان غیرمعی نقطے کو دیکھ کر بولی
اِس سے کیا ہوگا؟ایک پرائیوٹ اسکول میں زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار تک سیلری ہوگی اور کام زیادہ ہوگا اور اِن پیسوں سے تمہارا کیا ہوگا؟”تم اکیلی نہیں ہو اسلحان تین بیٹیوں کی ذمیداری ہے تمہارے سِر ہیں ایک حساب سے اُن کا اچھا مستقبل چاہتی ہو تو دوسری طرف ایسی بیوقوفانہ باتیں کرتی ہو ۔۔ساجدہ نے جیسے اُس کی عقل پر ماتم کیا
کچھ اور بھی سوچا ہے میں نے۔۔۔۔اسلحان نے کہا
اور کیا؟ساجدہ نے جاننا چاہا
میں نوریز کے گاؤں جاؤں گی اپنا حق مہر لینے اور پیسوں سے سوہان اور میشو کا کسی اچھے سے اسکول میں داخلہ کرواؤں گی۔”وہ جس اسکول جاتیں ہیں وہاں پڑھائی اچھی نہیں۔۔۔۔’میرے کچھ زیور بھی نوریز کے لاکر میں ہیں وہ بھی لاؤں گی۔۔”میں نے سوچ لیا ہے مزید میں خود کو رُسوا نہیں کرواؤں گی۔۔۔اسلحان انداز مضبوط تھا
یہ تو چلو اچھا ہوجائے گا اکیلے جاؤ گی وہاں؟ساجدہ نے پوچھا
ہاں اِس بار اکیلے جاؤں گی تم بچیوں کو خیال رکھنا میں جیسا چاہتی ہوں ویسا ہوجائے گا اگر تو کرائے کا کوئی مکان بھی دیکھ لوں گی اب ساری زندگی تمہارے در پر تو نہیں رہ سکتی نہ تم نے جتنا کیا ہے اُس کا میں جتنا بھی شکریہ ادا کروں وہ تو کم ہے۔۔۔۔اسلحان اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر مشکور نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی جبھی اُن کے کانوں میں فاحا کے تیز رونے کی آواز آئی
فاحا کو کیا ہوا؟ساجدہ پریشان ہوئی مگر اسلحان نے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا
آنٹی فاحا کے پیٹ میں شاید درد ہے بہت رو رہی ہے۔۔۔سوہان فاحا کو گود میں لاتی پریشانی سے ساجدہ سے بولی
مجھے دو۔۔۔ساجدہ نے اُٹھ کر فاحا کو اُس سے لیا
تم اسکول کے لیے تیار نہیں ہوئی؟اسلحان نے تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھا
امی وہ فاح
مر نہیں جائے گی تم جاؤ اور تیار ہوجاؤ اسکول نہ جانے کہ تو بس بہانے ہیں۔۔۔۔۔اسلحان اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر غُصے سے بولی
آرام سے کیا ہوگیا ہے اگر تم نے اسکول چینج کروانا ہے بچیوں کا تو ایک دن اسکول نہ جانے پر کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ساجدہ نے اُس کو ٹوک کر کہا
میں ابھی کچھ نہیں جانتی سوہان جاؤ اُپر۔۔۔۔اسلحان نے سوہان کو دیکھ کر کہا تو وہ بے بسی سے روتی ہوئی فاحا کو دیکھ کر اُپر کمرے کی طرف بھاگی
“میں فاحا کو ڈاکٹر کے پاس لیکر جارہی ہوں تم چلو گی ساتھ؟ساجدہ نے اسلحان کو دیکھ کر کہا تبھی باہر کھٹکے کی آواز نے اُن کا دھیان اپنی طرف کیا
بھابھی جی یہ کوریئر والا آپ کے لیے لایا ہے۔۔۔۔انور اسلحان کی طرف ایک لفافہ بڑھاکر بولا
میرے لیے؟اسلحان کو حیرت ہوئی
نام تو آپ کا ہے۔۔۔۔انور نے بتایا تو اسلحان نے لفافہ اُس کے ہاتھ سے کھول کر دیکھا تو الرٹ ہوئی
سب ٹھیک ہے؟اُس کے بدلتے تاثرات دیکھ کر ساجدہ پوچھے بغیر نہ رہ پائی
شہریار بھائی نے بھیجے ہیں پراپرٹی کے کاغذات۔۔۔ “اُنہوں نے ایک خط بھی بھیجا ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ شریعت کے حساب سے میرا جتنا حق اُن پر بنتا تھا وہ مجھے دے رہے ہیں وہ میرے باپ نہیں جو ناراضگی کی وجہ سے اِس جائیداد سے عاق کرتے یا میں تمہیں دستبردار ہونے کا کہتا تمہارا حصہ میرے پاس امانت تھی اور آج میں وہ امانت تمہیں لُوٹا چُکا ہوں۔۔”تمہیں کسی اور در پر جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایک گھر میں نے دیکھا ہوا ہے جس کا پتہ لیٹر کے پیچھے لکھا ہوا مکان نمبر بھی تم دیکھ سکتی ہو”اپنے پاس رکھتا تمہیں تو زوبی کبھی تمہیں یا تمہاری بچیوں کو خوش نہ ہونے دیتی تم نے جو کیا میں نے وہ معاف کیا پر اپنے گھر کے دروازے تم پر نہیں کھول سکتا۔۔اسلحان نے کانپتے لہجے میں بتایا تو انور کے تاثرات بدلے تھے
یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔۔”تمہیں تمہارا وہ حصہ ملا جس کی تمہیں اشد ضرورت تھی۔۔ساجدہ نے مسکراکر کہا
ہاں نہ اور یہ دیکھو چابی بھی ہے۔۔۔۔اسلحان کل سے جتنا پریشان تھی آج جیسے اُس کی پریشانی ختم ہوئی
“گھر میں پناہ نہیں دی تو کیا ہوا تمہیں تمہارا حصہ تو ملا نہ۔۔۔۔ساجدہ اُس کے لیے خوش ہوئی تھی
پر اُن کو کیسے پتا چلا کہ آپ یہاں رہتی ہو کراچی میں۔۔انور نے پوچھا تو اسلحان خود بھی چونک سی گئ
“ُپتا نہیں مگر جو بھی اُنہوں نے میری ٹینشن ختم کی ہے۔۔۔اسلحان کاغذات دوبارہ لفافے میں ڈال کر بولی
اچھا اب اِس خوشی میں میرے ساتھ ہوسپٹل چلو اور یہ بتاؤ تمہارا نیا گھر کہاں ہوگا؟ساجدہ نے پوچھا
شاید اسلام آباد میں ہے۔۔۔۔۔اسلحان دوبارہ لیٹر دیکھتی اُس کو بتانے لگی۔۔۔۔
لو جی اب تم نئ منزل کی مسافر بننے والی ہو تو چلو۔۔۔”ابھی ہوسپٹل۔۔ساجدہ نے فاحا کا رونا بڑھتا دیکھا تو کہا
بھابھی جی ویسے یہاں رہنے میں کیا دقت ہے۔۔انور جو اب تک خاموش تھا بول پڑا
بھائی صاحب آپ کا شکریہ جو اِتنے ماہ ہمیں پناہ دی مگر اب اور نہیں۔۔۔اسلحان نے مسکراکر کہا
سُنو انور ہم جارہے ہیں تم سوہان اور میشا کو اسکول چھوڑ آنا۔۔۔۔ساجدہ نے کہا تو انور کی آنکھیں شیطانیت سے چمکی اُٹھیں
وہ ابھی تک یہی ہیں؟انور نے اپنا لہجہ سرسری بنایا
ہاں سوہان اُپر تیار ہونے گئ ہے”میشو بھی یہی کہی ہوگی دیکھنا”اسلحان تم آؤ فاحا بیٹی کو لگتا ہے پیٹ میں درد زیادہ ہے۔۔۔۔ساجدہ نے کہا تو اسلحان اُس کے ساتھ باہر کی طرف بڑھی تھی اور اُن کے جانے کا یقین کرکے انور اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا اُپر کی طرف بڑھا تھا اُس کے چہرے پر شیطانیت ٹپک رہی تھی جیسے آج وہ جو کرنا چاہتا ہے کرکے رہے گا”جس کا انتظار اُس کو بہت وقت سے تھا۔۔۔۔
‘امی میں بس
اپنے کمرے میں کسی کو آتا محسوس کرکے سوہان سمجھی اسلحان ہے مگر انور کو دیکھ کر اُس کا پورا وجود کانپنے لگا تھا
آآپپ آپ؟سوہان نے سہمی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھ کر چلانا شروع کیا
امی
امی
سسس ساجدہ آنٹی
کک کہاں ہے آپ
ہاہاہاہاہا وہ نہیں ہے آج میں اور تم ہو۔۔۔ انور اُس کے کندھے سے اسکول بیگ دور پھینک کر چوٹی میں قید بال دبوچ کر بولا تو پل بھر میں سوہان کا چہرہ پسینے سے شرابور ہوگیا تھا وہ اپنی غیر ہوتی حالت کو سنبھالتی اُس کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی مگر ناکام رہی
اب اگر کوئی ڈرامہ کیا تو کھڑکی سے پھینک دوں گا۔۔۔۔انور اُس کا گلا دبوچ کر کہتا اُس کو لیئے بیڈ کی طرف آیا
ججج جانے دد دے ممم مجھے ااممم امی۔۔۔۔۔سوہان پیچھے کِھسکتی پھر سے “اسلحان کو آوازیں دینے لگی جس پر انور خباثت سے قہقہقہ لگاتا اُس کے کندھوں سے شرٹ پھاڑی تو سوہان مزید حراساں ہوئی
اان
چٹاخ
سوہان کچھ کہنے لگی تھی جب انور نے اُس کے نازک گال پر ایک تھپڑ رسید کیا تو تھپڑ اِتنی زور کا تھا کہ اُس کے منہ سے خون کا پھوارا نکلا تھا۔۔”جانے کتنے پل لگے تو اُس کو اپنے چکراتے سر کو سنبھالنے میں مگر انور کو زرا فرق نہیں پڑا تھا وہ آہستہ آہستہ اُس پر جُھکنے لگا تو اپنے دُکھتے سر کو پکڑتی سوہان اپنا چہرہ دوسری طرف کرنے لگی تو نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے ایک گُلدان پر پڑی جو کل صحن سے اُٹھائے کِھیلتے کھیلتے میشا وہاں چھوڑ کر گئ تھی۔۔۔”
سوہان دُھندلی دُھندلی نظروں سے گُلدان کو دیکھتی اُس کو لینے کے لیے اپنا چھوٹا ہاتھ بڑھانے لگی جو کوششوں کے بعد وہ گُلدان اُٹھانے میں کامیاب ہوگئ تھی پھر جانے اُس میں اِتنی ہمت کہاں سے آئی جو پوری قوت سے اُس کے سر پر دے مارا”انور جو پورا حوس میں ڈوبا ہوا تھا وہ یہ جان ہی نہیں پایا کہ سوہان کیا کرنے لگی ہے وہ تو اُس کو بچی سمجھ کر اپنے قابو میں کرگیا تھا مگر اُس کے عمل پر اُس کا وجود ایک طرف کو لڑھک گیا۔۔۔”پھر آہستہ آہستہ اُس کے سر سے خون بہتا گیا اِتنا کہ پوری سفید چادر خون میں لت پت ہوگئ تھی”اپنی چیخوں کو گلا گھونٹتی سوہان کبھی اُس کا خون دیکھتی تو کبھی اپنا وہ ہاتھ جس سے اُس نے انور کو مارا اُس کے چہرے کی رنگت اِتنی سرخ ہوگئ تھی جیسے ابھی خون چھلک پڑے گا۔۔۔”وہ بیڈ سے اُٹھنا چاہتی تھی”بہت دور بھاگنا چاہتی تھی بس یہاں سے نکلنا چاہتی تھی مگر اپنا وجود اُس کو بے جان لگا تھا وہ لاکھ چاہنے کے باوجود اُٹھ نہیں پائی تھی نظریں سامنے والے منظر سے ہٹانا چاہتی تھی جو اُس کا سانس روک رہا تھا”مگر اندر خوف اِتنا تھا کہ وہ پلکیں تک جِھپکا نہیں پائی تھی بس یک ٹک خون کو دیکھنے لگی۔۔۔”جو بہتا ہی جارہا تھا
