Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 16)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

اپنی گاڑی سائیڈ پہ کرو ہمارا راستہ بلاک ہورہا ہے۔ ۔۔میشا اُن لوگوں کے سامنے کھڑی ہوتی سنجیدگی سے بولی

بیریسٹر تم ہو؟ ایک آدمی سرتا پیر اُس کو گھور کر پوچھنے لگا

کالا کوٹ پہنا ہوا ہے تو ظاہر ہے میں بیریسٹر ہوں۔ ۔۔”اور وائٹ ہے آگے سے تو جان لے میں ڈاکٹر ہوں”بِلو ڈریس ہے تو پتا لگ جانا چاہیے کہ میں ابھی او ڈی سے نکل آئی اور خاکی رنگ کی چپل ہے میری جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میں ایک لیڈی پولیس آفیسر ہوں”دیکھ لو سب اِتنے پروفیشن تو علامہ اقبال کے نہیں ہے جتنے میرے ہیں۔ ۔۔۔میشا نے تفصیل سے اچھا خاصا اُن کو جواب دیا جس پر وہ بنا کچھ کہے دو آدمیوں نے اُس کے دائیں بائیں آکر کنپٹی پر پستل رکھ دی۔ “تو میشا نے بغور اُن کی پوزیشن کو جانچا

گاڑی میں بیٹھو۔ ۔۔سامنے کھڑے آدمی نے اُس کو دیکھ کر کہا

کیوں؟ میشا نے سنجیدگی سے پوچھا

اگر چاہتی ہو گولیاں تمہارے دماغ کے آر پار نہ ہو تو جو بول رہے ہیں وہ کرو۔ ۔۔ایک نے جس نے کنپٹی پر پستل تانی تھی وہ اُس کو وارننگ دینے لگا

گولیاں کا پتا نہیں مگر کچھ باتیں میرے دماغ اور کان کے آر پار ہوتیں ہیں۔ ۔۔کہنے کے ساتھ ہی میشا نے جُھک کر درمیان میں گُزر کر اُن کی طرف رُخ کیے دونوں کو بالوں سے پکڑے اُن کا سر ایک دوسرے کے ساتھ زور سے ٹکرایا تو وہ نیچے گِرتے چلے گئے تھے۔ ۔”یہ سب اچانک اِتنا ہوا تھا کہ باقیوں کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اچانک یہ کیسی افتاد اُن کے سر پہ نازل ہوئی ہے۔

لڑکی ہوکر تم نے ہم سے پنگا لیا ہے اب بُھگتو۔۔ایک ساتھ نے اُس کو تھپڑ مارنے چاہا جب میشا نے اِس بار بھی جُھک کر اُس کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا

“تیری تو۔ ۔دوسرا غُصے سے کھولتا گن لوڈ کرنے لگا تو میشا نے ایک لات اُس کے بازو پہ ماری جس وجہ سے گِن نیچے گِر پڑی تھی”اور میشا نے بنا رُکے ٹانگوں پر زوردار لات مار کر اُس کو بے سُدھ نیچے گِرایا تھا

کھاتے پیتے نہیں ہو کیا؟”ڈوب مرنے کا مقام ہے تم لوگوں کا جو لڑکی سے مار کھارہے ہو۔ ۔۔اپنے ہاتھ جھاڑ کر میشا نے اُن چاروں کو لُلکارا تھا جو روڈ پہ گِرے کراہ رہے تھے”اُن کا پانچواں ساتھی جبکہ آہستہ سے چلتا بندوق اُس کے سر پہ مارنی چاہی جب کسی نے درمیان میں آکر روک لیا تھا۔

وہ لڑکی ہوکر سامنے سے وار کررہی ہے نہ تو تم بھی ایسا کرو۔ ۔۔سوہان نے جھٹکا دے کر اُس کے ہاتھ سے بندوق کو کھینچا تھا۔ ۔

یہ تم مجھے دو کیونکہ تمہارے ہاتھ میں قلم اور فاحا کے ہاتھ میں ماچس اچھا لگتا ہے اِن سے میں خود نپٹ لوں گی۔ ۔۔میشا نے مڑکر سوہان سے کہا

ایز یو سے۔ ۔سوہان کندھے اُچکاتی سائیڈ پر کھڑی ہوگئ تو میشا نے اُس آدمی کو دیکھا جو اب پریشان سا اپنے ساتھیوں کو دیکھ رہا تھا

تمہیں ضرور سلامت چھوڑتی اگر معصوم ہوتے تو۔ ۔ایک زور کا پنج اُس کی ناک پہ مارے میشا نے دانت پیس کر کہا تھا اور ایک بار پھر ایک ساتھ اُن سب کو دھول چٹائی تھی۔۔

“آر یو اوکے؟ میشا اُن سے نپٹ کر سوہان کے ساتھ کھڑی ہوئی تو وہ پوچھنے لگی

کہاں اوکے سارا میرا نیل پالش خراب ہوگیا اِتنی محنت سے لگایا تھا۔ ۔”اُپر سے ایک ناخن بھی ٹوٹا کیا ہوتا جو میں دستانے پہن لیتی۔ ۔۔میشا نے خاصے اُفسردگی سے کہا تو سوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھا”لوگوں کی ہڈیوں کو توڑنے والی کو اپنے ایک ناخن ٹوٹنے کا غم ستارہا تھا۔

گاڑی میں آکر بیٹھو۔ ۔سوہان اِتنا کہتی خود بھی اپنی گاڑی کی طرف آئی

“آج ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ میرے ہاتھوں میں کُھجلی نہیں ہوئی اور تمہیں پتا ہے اِس وجہ سے مجھے فائیٹ کرنے میں مزہ نہیں آیا۔۔”گاڑی میں بیٹھ جانے کے بعد میشا نے پہلے اپنے سیل فون سے کسی کو ایک میسج چھوڑا اُس کے بعد منہ کے زاویئے بنا کر سوہان کو بتایا

ہممم ہمیں جلدی سے اب گھر جانا چاہیے” موسم خراب ہونے لگا ہے اور فاحا کو بجلی کڑکنے سے ڈر لگتا ہے۔ ۔۔سوہان نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا

اُس کو ہر چیز سے ڈر لگتا ہے اور پتا ہے کیا آج تو اُس نے کپڑے بھی دھوئے تھے۔ ۔”جانے بادلوں کے ڈر سے چھت سے اُٹھائے بھی ہوگے یا نہیں۔ ۔میشا ہنس کر بولی تو سوہان نے گہری سانس بھر کر گاڑی کی اسپیڈ کو تیز کیا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کہاں تھے آج تم؟آریان گھر آیا تو زوریز نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

دوستوں کے ساتھ تھا۔ ۔۔آریان اُس کے ساتھ بیٹھ کر بولا”جس کی گود میں ہمیشہ کی طرح لیپ ٹاپ تھا اور ٹیبل پر ڈھیر سارے کاغذات موجود تھے

“آفس پروپری جوائن کرنے کا اِرادہ کب ہے؟”میں کب تک تمہارے حصے کا کام بھی دیکھوں گا؟ “اگر تم نے اپنے لیے جلدی کوئی فیصلہ نہیں لیا تو مجبوراً مجھے تمہارا اکاؤنٹ فریز کروانا پڑے گا۔۔۔زوریز نے کہا تو آریان بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

نہ کرو زوریز مانا کہ قائد اعظم کی کام کام اور بس کام والی تھیوری پر تم بہت فِٹ آتے ہو مگر یار تم کیوں چاہتے ہو میں بھی ایسا کروں” یعنی اچھی خاصی تو میری زندگی گُزر رہی ہے۔ ۔۔آریان منہ بناکر بولا

بیٹھ کر کھانے سے شھنشاہوں کی دولت بھی ختم ہوجاتی ہے آریان تم یہ کب سمجھو گے؟زوریز کا اِرادہ آر یا پار کرنے والا تھا

شھنشھاہوں کے بڑے بھائی آپ جیسے نہیں ہوتے نہ اور یہ تیرا میرا ہمارے درمیان کب سے ہوگیا؟ “جو بھی ہے ہمارا ہے اور کام تم کرو یا میں اُس میں کیا فرق پڑتا ہے۔ ۔آریان پر اُس کی باتوں کا خاص اثر نہیں ہوا تھا

“تو کیا تم شادی کے بعد بھی نکھٹو رہو گے؟ زوریز زچ ہوا

نکھٹو تو نہ بولو اپنی بھی کوئی پرسنائلٹی ہے یار” اور شادی کے بعد کماؤں گا تمہارے ساتھ۔۔۔آریان جھرجھری لیکر بولا تبھی اُن کا ملازم اُن دونوں کے پاس کافی کا کپ رکھ کر چلاگیا

پھوپھو سے کہتا ہوں پھر تمہارے لیے لڑکی پسند کرے کوئی” کیونکہ ایسے تو تم سُدھرنے والے نہیں۔ ۔۔زوریز کافی کا گھونٹ پی کر بولا

اُن کو اِتنا تُکلف دینے کی کیا ضرورت ہے؟ “یہ تکُلفات میں نے اُن پر تمہارے لیے چھوڑے ہیں اُن سے کہو بس پاکستان آکر میری دولہن کے ہاتھ پاؤ نیلے پیلے کریں۔۔۔آریان قدرے شرماکر بولا تو زوریز کا ماتھا ٹھٹکا

مطلب؟زوریز نے سنجیدگی سے پوچھا

مجھے شرم آتی ہے۔۔۔آریان نے ڈرامائی انداز میں کہا

اِنسان بن جاؤ آریان”تمہاری دولہن کے ہاتھ پاؤ نیلے پیلے ہونے سے پہلے اگر تم چاہتے ہو میں تمہیں نیلو نیل نہ کروں تو مجھے سچ سچ بتاؤ”کیا کوئی لڑکی ہے جس کے ساتھ تمہاری اِنوالمنٹ ہے؟زوریز نے دھمکی آمیز لہجے میں اُس سے پوچھا

“واہ آریان تیری بھی کیا زندگی ہے؟ “بھائی کہتا ہے انسان بن جاؤ

اقبال کہتا ہے شاہین بن جاؤ

اسکول میں ٹیچر مرغا بننے کا کہتی تھی اور آج تو اُس نے حد کردی مجھے اپنا بھائی بنانے کے چکروں میں تھی۔۔آریان جھرجھری لیکر بولا

آریان۔ ۔۔زوریز نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

جی مجھے لڑکی پسند آگئ ہے اور میں اُس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ۔۔آریان تھوڑا سنجیدہ ہوا

“کسی لڑکے سے میں تمہاری شادی کرواؤں گا بھی نہیں۔۔زوریز نے طنز کہا

توبہ اَسْتَغْفِرُاللّٰه۔۔۔آریان نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگائے

“کون ہے وہ”اور کیا وہ بھی تمہارے ساتھ تمہاری طرح سنسیئر ہے؟زوریز نے پوچھا

ابھی میرے دل نے دستک میرے در پہ دی ہے مگر میں کوششوں میں ہوں کہ وہ بھی مجھے میری طرح چاہے۔۔آریان رلیکس انداز میں بولا

یو مین ون سائیڈ لو ہے یہ؟زوریز نے اندازہ لگایا

یہی بات ہے اور وہ نہ عام لڑکیوں کی طرح دبو اٹک اٹک کر بولنے والیوں میں سے نہیں ہے وہ دبنگ ٹائیپ لڑکی ہے۔۔۔آریان میشا کو یاد کیے بولا

ریئلی؟زوریز کو یقین نہ آیا

ہاں نہ دو بار تو مجھ پر ہاتھ اُٹھانے کی کوشش بھی کرچُکی ہے مگر بھی آریان ہوں خود کو ڈیفینڈ کرلیتا ہوں۔۔۔آریان فخریہ لہجے میں بولا

سیریسلی؟کافی کا گھونٹ بھر کر زوریز نے عجیب نظروں سے آریان کو دیکھا

یس سیرسیلی اور پتا ہے کیا وہ لڑکی کیفے میں ویٹریس کی جاب کرتی ہے اور جیسا پاکستان ہے وہاں تو لڑکیوں کو گھور گھور کر دیکھتے ہیں مگر کوئی اُس کو آنکھ اُٹھاکر نہیں دیکھتا لڑکی ہوکر اُس نے اپنی شخصیت کا اِتنا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ ۔۔آریان کے لہجے میں اِس بار ستائش تھی

یہ اثر گہرا نہیں ہلکہ ہی تم پر کیوں نہیں چھوڑا؟زوریز نے ناچاہتے ہوئے بھی طنز کیا

میری پسلی کا حصہ جو ہے۔ ۔۔آریان نے دانتوں کی نُمائش کی

ماشااللہ۔ ۔۔زوریز نے سرجھٹک کر اپنی نظریں لیپ ٹاپ پر جمائی

ایک اور بات۔ ۔۔آریان نے اُس کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا

میں سُن رہا ہوں۔ ۔۔زوریز نے جواباً کہا

وہ لوگوں کا منہ توڑنے کے بعد وجہ بتاتی ہے کہ اُس کو خود کے علاوہ زیادہ بولنے والے لوگ پسند نہیں ہوتے۔ ۔۔آریان نے کان کی لو کُھجاکر بتایا

یہ جانتے ہوئے بھی تم اُس کے ساتھ شادی کرنا چاہ رہے؟ کافی کا گھونٹ بھرنے کے بعد زوریز نے پوچھا

میرا تو کبھی نہیں توڑا نہ اُس نے منہ۔ “تو میں شادی کرسکتا ہوں۔۔آریان نے اہم نقطہ بیان کیا جیسے”اور ساتھ میں خود بھی کافی کا گھونٹ بھرنے لگا

“سوچ لو کل کو شادی کے بعد ایسا نہ ہو کہ تمہیں سوتا دیکھ کر گلا دبادے کے تمہیں ماردے پھر میت کے پاس بیٹھ کر یہ بولے کہ مجھے اپنے علاوہ کسی اور کا سونا پسند نہیں اور جو میرے ساتھ سوتا ہے میں اُس کو ہمیشہ کے لیے گہری نیند سُلادیتی ہوں۔ ۔۔زوریز نے سرسری لہجے میں کہا جس پر گرم کافی کا گھونٹ بھرتے آریان کا منہ پورا جل گیا تھا وہ ہُکا بُکا زوریز کو دیکھنے لگا جو لیپ ٹاپ پر ایک ہاتھ سے ٹائیپ کرتا آئبرو اُپر کیے شانے ایسے اُچکائے جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہ تم نے جیسا اُس کا اُنٹرڈیوس کروایا ہے یہ جان کر میں اب اُس لڑکی سے ہر چیز کی توقعات رکھ سکتا ہوں۔

سیریسلی؟ اب کی آریان نے اُس کا انداز اپنایا تھا

دبنگ قسم کی وہ لڑکی ہے تو ظاہر ہے انداز بھی دبنگ قسم کا ہوگا۔ ۔۔زوریز نے کافی کا کپ خالی کیا

“ہاں مگر تم تو یار ڈرا رہے ہو دبنگ قسم کی ہے اِس لیے تم اُس کو عزرائیل نا بناؤ۔۔۔آریان خاصا بدمزہ ہوا

“کب ملوا رہے ہو پھر؟

“جب لگے کے اُس سے ملوایا جاسکتا ہے”وہ کیا ہے نہ اُس کے ہاتھ آؤٹ آف کنٹرول اور زبان بریک لیس ہوتی ہے۔۔آریان دانتوں کی نُمائش کیے بولا تو اِس بار زوریز نے نفی میں سر کو جنبش دی تھی۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

“تمہاری شکل کیوں ایسی بنی ہوئی ہے؟گھر آکر میشا اور سوہان پہلے اپنے کمروں میں گئیں تھی کیونکہ باہر بارش کا سلسلہ شروع ہوچُکا تھا اور گاڑی سے اُترنے میں اُن کے کپڑے کافی حد گیلے ہوچُکے تھے

فاحا؟اُس کے جواب نہ دینے پر میشا نے دوبارہ سے اُس کو پُکارا

ہممم کیا ہوا؟ فاحا نے چونک کر اُس کو دیکھا

پوچھ رہی ہوں شکل ہے ہی ایسی یا بنائی ہوئی ہے۔ ۔۔میشا نے طنز کیا

آپ کیا پہلی بار دیکھ رہی ہو؟فاحا نے اُس کو گھورا

ایک تو تمہیں مجھے بے عزت کرنے کے بنا مزہ نہیں آتا۔ ۔میشا نے سرجھٹک کر کہا

آپ زرا اپنے سوال پر بھی غور کرے پوچھ ایسے رہی ہیں جیسے جانتی نہ ہو مجھے۔ ۔فاحا نے بھی سرجھٹکا

“ہاں تم جب پیدا ہوئی تھی تو بہت چھوٹی تھی” چہرے کے نین نقش بھی الگ تھے اور ایک ہفتے بعد تم بہت بدل گئ مطلب تمہارے چہرے کے نین نقش بھی۔ ۔”ایک ماہ بعد مجھے لگا شاید ہماری بہن کسی کے ساتھ ایکسچینچ ہوئی ہے۔ ۔”پھر سال گُزرتے گئے اور تمہارے نین نقش بدلنے کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا پھر جاکر رُکا یہ سلسلے اُففففف اففففف فاحا کتنے چہرے تھے تمہارے جن کو تم نے بدلے ہیں۔ ۔۔آخر میں میشا نے جھرجھری لی تو فاحا نے تاسف سے اُس کو دیکھا

آپ بول تو ایسے رہی ہیں جیسے خود اِتنی ہی پیدا ہوئیں تھیں۔ ۔۔فاحا نے اُس کی بات کے جواب میں کہا

ہاں میں تو ایسے ہی پیدا ہوئی تھی پتا نہیں امی نے نو ماہ کیسے مجھے اپنے پیٹ میں رکھا۔ ۔۔میشا نے مصنوعی پرسوچ لہجہ اپنائے کہا

“میں نے آج کپڑے دھوئے تھے۔ ۔۔فاحا اصل بات پر آئی

ڈونٹ ٹیل می فاحا کے کپڑے ابھی تک چھت پر ہیں۔۔میشا شاک کی کیفیت میں اُس کو دیکھ کر بولی تو فاحا نے سر کو جنبش دی

افففففف اففففففف خُدایا کیا کرتی ہو اُٹھو اور کپڑے اُتار لاؤ بارش کے ساتھ ہوائیں تیز چلتی ہیں ایسا نہ ہو کے ہماری چھت کے کپڑے کسی اور کے تن کا نصیب بنے۔۔ہائے اللہ میرے تو سارے نئے جوڑے تھے۔۔میشا نے دُھائی دینے والے انداز میں اُس سے کہا

یہاں بیٹھ کر حکم چلانے سے اچھا اُٹھ کر کپڑے اُتار آتیں اور ٹرسٹ می جتنی آپ نے تقریر کی ہے نہ اُتنے وقت تک کپڑے اُٹھا بھی لاتیں۔ ۔۔فاحا نے اُس کی بات پر اکتاہٹ سے کہا

اوو ہیلو یہ تمہارا کام ہے کیونکہ بچپن میں اگر تم میری بات مان کر اسکول جاتی تو آج یہ دن تمہیں دیکھنے کو نہ ملتا۔ ۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو گھورا تھا

“ایک تو آپ کا ہزار بار کا کہا سُن سُن کر میرے کان پک چُکے ہیں”خیر میں جارہی ہوں آپ دعا کرنا کہ کپڑے سارے لیکر آؤں۔۔۔فاحا خود ہی اُٹھ پڑی

“کسی جنگ میں جاتے ہوئے ایسی دعائیں میجر اور کیپٹن نے گھر میں اپنے لیے نہیں کروائیں ہوگیں جیسے تم چھت سے کپڑے اُتارنے وقت مجھ سے کروانا چاہ رہی ہو۔۔۔میشا نے بھگو کر طنز کیا

وہ اِس لیے کہ آرمی جوائن کرنے سے پہلے اُن کو پتا ہوتا ہے”ہمیں اب جنگیں لڑکر زندگی گُزارنی ہے۔۔اِس لیے وہ اپنا دل مضبوط کرلیتے ہیں۔۔فاحا نے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا

“جب تم نے کپڑے چھت پر چھوڑے تھے نہ تب آسمان میں بادل تھے تمہیں بھی اپنا دل مضبوط کرنا چاہیے تھا کہ جب اُن کو اُٹھانے جاؤں گی تو یہاں موسلادھار بارش ہوگی۔۔میشا دوبدو بولی اور اُس کی ایسی حاضر جوابی پر فاحا کا منہ گیا تھا۔۔

“بس ڈرانا آتا ہے آپ کو۔۔فاحا منہ بگاڑ کر کہتی چھت پر بھاگی تھی۔۔

“جلدی آنا پکوڑے کھانے کا دل چاہ رہا ہے میرا۔ ۔۔میشا نے بھاگتی ہوئی فاحا کے پیچھے ہانک لگائی جو پورے پانچ منٹس بعد پوری گیلی خراب ہوتی واپس آئی تھی اُس کو ایسی حالت میں دیکھ کر میشا نے مسکراہٹ دبائی تھی

میں تو پوری بھیگ گئ ہوں اب نہانا پڑے گا۔ ۔۔کپڑوں کو کسی بال کی طرح ایک جگہ پھینکتی فاحا کوفت سے بڑبڑائی

“ایسی حالت میں اگر میں ہوتی تو تم نے شور مچانا تھا کہ پورا فرش گند کردیا ہے اب کیوں تمہیں بس اپنے کپڑوں کی پرواہ ہے”اب میں شور مچاؤں۔۔؟میشا نے اُس کو آڑے ہاتھوں لیا

“جب پورے گھر کی صفائی سُتھرائی آپ کرے تو میری بلا سے آپ مسجد میں جاکر لاؤڈ اسپیکر پر شور مچانا۔۔فاحا تنگ ہوتی بولی

“ویسے جن کپڑوں کو تم نے لاوارثوں کی طرح پھینکا ہے نہ اِن کی بدولت تم یہاں سہی سلامت کھڑی ہو کیونکہ باہر جتنی ہوا تیز اور تمہارا جو حال ہے ایسے تو تمہیں ہوا کے ساتھ اُڑ ہی جانا تھا مگر کپڑوں میں جو وزن پڑگیا گیلے ہونے کا اِسی وجہ سے تمہیں اِن کا سہارا مل گیا۔ ۔میشا نے حساب چُکتا کیا

میں نہیں بنا کے دے رہی ہو آپ کو پکوڑے۔ ۔۔فاحا ناراض ہوگئ

ایک تو تم ناراض ایسے وقت پر ہوتی ہو کہ ہمیں مجبوراً تمہیں منانا پڑتا ہے نہ کرو نہ بہن جاؤ چینج کرکے تازہ ترین گرم گرما پکوڑے بنا لاؤ۔۔میشا نے منت کی۔۔

خود جائے۔۔فاحا زبان دیکھائی وہاں سے نو دو گیارہ ہوئی پیچھے میشا کا منہ حیرت سے کُھلا تھا

❤Rimsha Hussain Novels❤

“کچھ پریشان ہیں آپ؟اسیر ڈیرے پر آیا تو وہاں اُس نے سجاد ملک کو بے چین محسوس کیا تو پوچھ لیا

“ہاں تھوڑا سا۔۔سجاد ملک غیرمعی نُقطے کو گھور کر اُس سے جواباً بولے

وجہ؟اسیر اپنی شال کندھوں پہ ٹھیک کرتا کُرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے آرام سے بیٹھ گیا

“اپنے کچھ بندے شہر بھیجے تھے میں نے صبح کے نکلے ہیں ابھی تک اُن کا کوئی اتا پتا نہیں موبائیل تک اُن کا بند جارہا ہے۔۔سجاد ملک نے بتایا

آپ اُن لوگوں کے لیے پریشان ہیں یہ بات ہم نہیں ماننے والے۔۔اسیر اُن کی ساری بات سن کر طنز بولا

“ضروری کام سے گئے تھے مجھے بس یہ جاننا ہے کہ کام ہوا ہے یا نہیں۔۔سجاد ملک نے سنجیدگی سے جواب دیا تبھی ڈیرے پر ایک آدمی آیا تھا جس کی حالت کافی بُری تھی۔

“سلیم یہ کیا حال بنایا ہوا ہے اور باقی لوگ کہاں ہیں؟”تم پانچوں تو ساتھ گئے تھے نہ؟سجاد ملک جھٹ سے اپنی جگہ سے اُٹھے تھے”اسیر جبکہ ہاتھ کی مٹھی کو ٹھوڑی پہ ٹِکائے بے تاثر نگاہوں سے اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا

صاحب جی وہ۔۔۔۔اِتنا کہتا وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگا

“آگے بولو اب۔۔سجاد ملک نے سخت لہجہ اپنایا

“صاحب جی اُن کو پولیس پکڑ کر لے گئ مجھے بھی اِس لیے چھوڑا تاکہ میں آپ کو بتاسکوں کہ دوبارہ اُن کو کمزور سمجھ کر آپ کچھ ایسا نہ کرنا۔۔وہ بولا تو سجاد ملک کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا

تو گویا یہ کُھلا علان ہے جنگ کا مجھے بتاؤ کس دو ٹکے کے پولیس والے کی اِتنی ہمت ہوئی ہے کہ اُنہوں نے تمہارا یہ حال کیا ہے۔۔سجاد ملک غُصے سے ہانپتے پوچھنے لگے۔

صاحب جی پولیس والوں نے نہیں۔۔”لڑکی نے ہمیں کپڑوں کی طرح دھویا ہے۔۔۔اُس نے سرجُھکائے بتایا تو سجاد ملک الرٹ ہوا جبکہ اسیر بھی چونک کر اُس کا جائزہ سہی سے اب لینے لگا جو نیلوں نیل تھا بال بھی ایسے بنے ہوئے تھے جیسے کرنٹ لگا ہوا ہو

“لڑکی نے؟ہوش ہے تمہیں کہ بول کیا رہے ہو؟سجاد ملک نے اُس کو گھورا

جی سردار دیکھنے میں دُبلی پُتلی سی تھی مگر ہاتھ بہت بھاری تھا جیسے کوئی ہتھوڑا ہو ہمیں جسمانی تشدد کے ساتھ اندرونی چوٹیں بھی اُس نے بہت دی ہیں۔۔”ہم پانچ تھے اور وہ اکیلی مگر ہمیں دیکھ کر وہ سیکنڈ کے لیے بھی نہیں ڈری تھی۔۔”بس مارنے پر آئی تو مارتی چلی گئ۔۔اُس آدمی نے بتایا تو سجاد ملک نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچا تھا اور اُن کی باتوں سے اسیر نے اندازہ لگالیا تھا کہ معاملہ کیا ہے۔۔

“ابھی ایک کیس سے باہر نہیں آیا آپ کا بھائی اور آپ خود کو دوسرے کیس میں پھسانا چاہ رہے ہیں۔۔۔اسیر نے کہا تو سجاد ملک نے تند نگاہوں سے اُس کو گھورا جس کا رتی برابر بھی فرق اسیر ملک پر نہیں پڑا تھا

❤Rimsha Hussain Novels❤

کچھ دن بعد۔

آج اُس کی زندگی کا بہت بڑا دن تھا”آج وہ اپنی زندگی کا پہلا کیس لڑنے والی تھی جس کو اُس نے لڑنا ہی نہیں بلکہ جیتنا بھی تھا وہ شاید دُنیا کی پہلی لڑکی تھی جو اپنے باپ سے ٹکر لینے والی تھی”وہ شاید پہلی لڑکی تھی جو ہر کوشش کرنا چاہتی تھی کہ اُس کے سوتیلے بھائی کو کڑی سے کڑی سزا ملے۔۔”اُس کو اپنے عمل پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا اُس نے تو بچپن میں سوچ لیا تھا کہ اب ایسا کچھ کرنا ہے کہ اُس کو کمتر ذات سمجھنے والے لوگوں کا منہ بند رہ جائے ہمیشہ کیلئے”وہ آج زندگی کے جس دوہرائے پر تھی وہاں شاید کوئی اور لڑکی کبھی کھڑی ہوگی۔۔”اُس چلنے میں ایک لچک ایک اعتماد تھا اُس کے چہرے کے کسی بھی حصے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ نروس ہے اُس کی اندرونی حالت جیسی بھی تھی۔۔مگر ظاہر شخصیت کو اُس نے ایسا بنایا ہوا تھا کہ ہر دیکھنے والا اُس پر رشک کی نگاہ ڈالتا۔۔

“آج اُس کے پہلے کیس کا پہلا دن تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ کیس کب تک چلے گا”اور اِس درمیان وہ لوگ اُس کے ساتھ کیا کرنا چاہے گیں اِس سب کی اُس کو کوئی پرواہ نہ تھی۔۔اُس کو بس اِتنا پتا تھا کہ وہ حق کے لیے لڑ رہی تھی اور وہ حق کے ساتھ کھڑی تھی۔

“صاحب جی وہ ہے بیریسٹر جو آپ کے بیٹے کے خلاف کیس لڑنے والی ہے۔۔نوریز ملک کورٹ کے باہر کھڑے تھے جب اُن کے ساتھی نے سامنے آتی سوہان کی طرف اِشارہ کیا تھا جس کا دھیان اُن کی طرف نہیں تھا بلیک کوٹ بازو پر لٹکائے اپنی سوچو میں گُم وہ بس چلنے میں محو تھی۔۔”

بات سُنو میری۔۔۔۔”وہ نوریز ملک کے سامنے گُزرنے لگی تو اُنہوں نے اُس کو آواز دے کر رُوکا جس پر سوہان کے قدم جیسے زمین میں جکڑ سے گئے ہو۔۔”اُس نے سانس تک روک لیا تھا۔۔

کتنے سال بعد اُس نے اپنے باپ کی آواز کو سُنا تھا جس میں وہی بیگانگی اور اجنبیت تھی جو آخری مُلاقات میں تھی فرق بس اِتنا تھا کہ پہلے جانتے ہوئے بھی ایسا لہجہ اپنایا ہوا تھا اور اب انجانے میں مگر اُس کے لیے اب کچھ میٹر نہیں کرتا تھا”وہ اپنی زندگی میں آج جس دوہرائے پر تھی کہ اُس کو کچھ پتا نہیں چلتا تھا

“آپ سے مُخاطب ہوں میں۔۔۔نوریز ملک نے دوبارہ کہا تو سوہان نے پلٹ کر اُس شخص کو دیکھا جس کی بدولت اُن بہنوں کی زندگی کا خوبصورت حصہ غائب ہوگیا تھا”جس کی وجہ سے بچپن میں اُن کا بچپن نہیں تھا” جس کی وجہ سے اُنہوں نے کیا کچھ نہیں سہا تھا”کتنی مشکلاتوں سے وہ آج اِس مقام پر تھی کیسے وہ”میشا اور فاحا کا سہارا بنی تھی کیسے وہ دونوں اُس کا سہارہ بنیں تھیں۔۔”پل بھر میں سب کچھ فلم کی طرح اُس کی آنکھوں کے سامنے رپیٹ ہوتا گیا

۔ “”یہ بیٹیاں مجھے دے ہی کیا سکتیں ہیں؟”نہ تو اِن کو لیکر میں کہی ساتھ لے جاسکتا ہوں اور نہ یہ مجھے کوئی عقلمندانہ مشورہ دے سکتی ہیں۔۔۔۔”””

“بیٹیوں کو ناکارہ سمجھنے والا شخص آج اپنے بیٹے کو بے گُناہ ثابت کرنا چاہتا تھا جو پورا گُناہوں میں ڈوبا ہوا تھا۔۔”سوہان کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا۔۔”اور ایک بار پھر سے نوریز ملک کا جائزہ لینے لگی جس کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے وقت رُک سا گیا تھا۔۔”اُن کے بالوں کی سفیدی بتارہی تھی جیسے خود پر توجہ دینا اُنہوں نے ختم کردی تھی۔۔”گاؤں کے امیر و کبیر شخص کا سامنا اُس نے ایسے نہیں سوچا تھا۔۔

“بیٹے کی فکر نے لگتا ہے کہی کا نہیں چھوڑا۔۔سوہان نے بے ساختہ سوچا تھا

میرا نام نوریز ملک ہے جن کے خلاف آپ کھڑی ہیں۔۔نوریز ملک اُس کی طرف ہاتھ بڑھائے بولا تو سوہان نے احساس سے عاری نظروں سے پہلے اُن کا چہرہ دیکھا پھر اُن کا ہاتھ یہ وہ ہاتھ تھا جس کی ضرورت بچپن میں اُن کو تھی”یہ وہ ہاتھ تھا جس نے اپنا شفقت بھرا لمس اُن کے ماتھے پر نہیں چھوڑا نہیں تھا یہ وہ ہاتھ تھا جس کے لیے اُس کی ماں تڑپتی تھی۔۔۔”آج وہ ہاتھ اُس سے مصافحہ کے لیے ملنا چاہتا تھا۔۔”پر اُس کے اندر کی وہ ساری حسرتیں اور چاہتیں کب کا ختم ہوچُکی تھیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *