Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

میشو یار رونا تو بند کرو"میں تمہیں دیکھوں یا فاحا کو۔۔۔۔سوہان پریشانی سے اُس کو دیکھ کر مُلتجی لہجے میں بولی جس نے رو رو کر اپنے چہرے کی رنگت لال کردی تھی۔۔۔
اووو تم لوگ پھر سے آگئے۔۔۔۔اسیر فٹبال ہاتھ میں لیتا حویلی میں داخل ہونے لگا تھا اُس کی نظر اُن پر گئ تو ہونٹوں کو گول شیپ دیتا پوچھنے لگا تو سوہان نے بس ایک نظر اُس پر ڈالی جس پر اسیر نے زور سے بال زمین پر ماری پھر اچانک اُس کی نظر نیچے لیٹی ہوئی فاحا پر گئ جو گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی اُس کو دیکھ کر اسیر نے کانوں میں اُنگلی ٹھونسی اور منہ کے زاویئے بگاڑتا اُس کو دیکھنے لگا
تو یہ ہے منحوس؟اسیر نے فاحا کو دیکھ کر سوہان سے پوچھا جس نے روتی ہوئی میشا کو اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا
یہ فاحا ہے میری بہن"ویسے یہ منحوس کیا ہوتا ہے؟سوہان نے بتانے کے بعد ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
ہمیں نہیں پتا ابا حضور نے کہا تھا کہ یہ منحوس ہے"اور تم بیٹیاں ہوں یعنی کسی کام کی نہیں"جبھی تو ہم میں سب نے تم لوگوں کو ہوسپٹل میں چھوڑدیا۔۔۔اسیر نے شانے اُچکائے جواب دیا
تم فاحا کو اُٹھاؤ نہ شاید یہ رونا بند کرے گرمی بھی کتنی ہے۔۔۔۔سوہان کو اُس کی باتیں سمجھی نہیں آئی جبھی بس فاحا کو دیکھ کر اُس سے بولی
ہونہہ ہم کیوں اُٹھائے اِس روندو کو؟"ہم نے تو کبھی روتی ہوئی لالی کو نہیں اُٹھایا یہ تو پھر اُس سے بھی چھوٹی ہے اگر ہماری گود سے گِر وِر گئ تو خوامخواہ الزام بھی ہمارے اُپر آئے گا۔۔۔۔اسیر اپنا سر نفی میں ہلاتا اُس کی بات پر انکاری ہوا
تم اُٹھاؤ گے تو چُپ ہوجائے گی میں تو میشا کی وجہ اِس کے پاس نہیں آرہی۔۔۔۔سوہان نے وجہ بتائی تو اسیر کشمش میں مبتلا ہوتا نظریں نیچے کیے فاحا کو دیکھنے لگا
میشا کو کیا ہوا ہے؟اسیر جانے کیوں فاحا کو گود میں اُٹھانے سے ڈر رہا تھا
گِرگئ ہے مگر اب یہ خود اُٹھے گی۔۔۔۔"اُٹھو میشو۔۔۔۔سوہان کو اسیر کا یوں فاحا سے گریز پسند نہیں آیا تھا تبھی سنجیدگی سے میشا سے بولی
در
نہیں ہوگا درد اُٹھو ہمیں امی کے پاس جانا ہے۔۔۔۔میشا روتی ہوئی کچھ کہنے والی تھی جب سوہان اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی تھی جبھی میشا منہ کے زاویئے بگاڑتی آہستہ سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی جس میں کامیاب بھی ہوگئ۔۔۔
سوہان بھی فاحا کو اپنے بازوں میں اُٹھاتی اندر کی طرف بڑھنے لگی اسیر بھی فٹبال کو کِک مارتا حویلی میں داخل ہوتا گم ہوگیا سوہاں نے اسلحان کی پشت دیکھی تو وہاں جانے لگی جو غُصے سے کسی کو مُخاطب تھی۔۔۔۔۔
نوریز تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہو؟"میں تو تمہاری محبت تھی پھر یہ سب؟تم مجھے اکیلا کیسے چھوڑ سکتے ہو میں نے اپنا گھر بار سب کچھ تمہارے لیے چھوڑا تھا تمہاری وجہ سے میں نے جان چِھڑکنے والے بھائی کو چھوڑا تھا اور تم؟"تم نے یہ صلا دیا ہے میری قُربانی کا؟"تمہیں زرا احساس نہیں اور طلاق کے پیپرز بِھجوا دیئے۔۔۔۔اسلحان چیختی ہوئی سنجیدہ کھڑے نوریز سے بولی تھی۔۔۔
میں نے تمہیں پہلے سے بتایا تھا مجھے بیٹا چاہیے اِن تینوں کا میں کیا کروں گا؟بھائی صاحب تو اول روز سے ہی مجھ سے خفا ہے اور اب جو تم نے یہ بچیاں میرے سر پر مسلط کی ہیں اِن کا میں کیا کروں گا؟نوریز حقارت زدہ لہجے میں بولی تو سوہان حیرت سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی جو اُن کے لیے ایسے الفاظ استعمال کررہا تھا وہ باپ جو اُن کی ہلکی چوٹ پر تڑپ جایا کرتا تھا۔۔
دید مجھے چوٹ آئی۔۔۔میشا بھاگ کر نوریز ملک کی طرف بڑھ کر اُن کی ٹانگوں کے ساتھ چمٹ گئ تھی اور بتانے لگی جس پر اُنہوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا تھا
میں نے خوشی سے بیٹیوں کو جنم نہیں دیا یہ تو اللہ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ویسے بھی بیٹا یا بیٹی اولاد مرد کی قسمت سے ہوتی ہے۔۔۔اسلحان احتجاجاً بولی تھی۔
دیکھو اسلحان مجھے جو کہنا تھا میں کہہ چُکا ہوں اب تم یہ بوجھ لیکر یہاں سے چلی جاؤ میں اپنے بھائیوں کو مزید خفا نہیں کرسکتا تمہاری بدولت۔۔۔۔۔نوریز میشا کو خود سے دور کرتا اٹل لہجے میں گویا ہوا تھا سوہان جبکہ اسٹل کھڑی تھی اُس کو ڈر تھا اگر وہ ہِلے گی تو اُس کی گود سے فاحا گِر جائے گی۔۔
نوریز۔۔۔۔اسلحان متذبذب ہوئی تھی
تم خود بتاؤ کیا یہ میرے بازو بن سکتی ہیں؟نوریز نے تیوری چڑھائے اُس کو دیکھ کر پوچھا اُس کے لہجے میں حدردرجہ سردپن کا عنصر نمایاں ہوا
کیا یہ میرے ساتھ شنابشانہ چل سکتیں ہیں؟ایک اور سوال
یہ بیٹیاں مجھے دے ہی کیا سکتیں ہیں؟"نہ تو اِن کو لیکر میں کہی ساتھ لے جاسکتا ہوں اور نہ یہ مجھے کوئی عقلمندانہ مشورہ دے سکتی ہیں۔۔۔۔نوریز سپاٹ لہجے میں بولا۔
آٹھ سال سوہان کے کوڑے دماغ میں بس یہ لائن کُھپ گئ تھی۔۔۔
""یہ بیٹیاں مجھے دے ہی کیا سکتیں ہیں؟"نہ تو اِن کو لیکر میں کہی ساتھ لے جاسکتا ہوں اور نہ یہ مجھے کوئی عقلمندانہ مشورہ دے سکتی ہیں۔۔۔۔""
مگر اسلحان کو اُس کے یہ الفاظ کسی تماچے سے کم نہ لگے تھے اور ایک میشا تھی جو یک ٹک اپنے باپ کا چہرہ دیکھے ساری ماجرہ سمجھنے کی کوشش کرنے کی جی توڑ کوشش کررہی تھی
ایک بار اِس کا چہرہ تو دیکھ لو۔۔۔۔اسلحان نے حسرت بھرے لہجے میں فاحا کی طرف اِشارہ دے کر اُس سے کہا جس کو ایک مرتبہ بھی خود نہیں دیکھا تھا
مجھے چہرہ دیکھ کر کرنا کیا ہے؟"میں نے سوچ لیا ہے اب میں وہ کروں گا جو بھائی لوگ مجھ سے کہینگے۔۔۔۔"گارڈ اِن کو باہر کا رستہ دیکھاؤ۔۔۔۔۔نوریز ملک سنگدلی کا مُظاہرہ کرتا آخر میں ہاتھ باندھے چوکیدار سے بول کر حویلی میں داخل ہوگیا تھا جبکہ پیچھے اسلحان کے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔
نوریز
نوریز
میری بات سُنو "میں کہاں جاؤں گی اِن تینوں کو لیکر۔۔۔اسلحان ہوش میں آتی چیخنے چلانے لگی اُس سے فریادیں کرنے لگی مگر سب بے سود اب تو بہادری کا مُظاہرہ کرتا سوہان کی آنکھیں بھی جھلک پڑیں تھیں۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *