Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 29)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

اِتنا کافی ہے یا کچھ اور بھی سُننا ہے؟میشا نے طنز نظروں سے اسیر کو دیکھ کر پوچھا جس نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کی تھی۔

“میں جانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا پر میں اُس کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔نوریز ملک کمزور سی آواز میں بولے

“ازالہ ناممکن ہے۔۔۔سوہان نے سپاٹ تاثرات کے ساتھ کہا

“ہر گُناہ کی معافی ہوتی ہے۔۔۔نوریز ملک نے رنجیدگی سے کہا

“ہر گُناہ کی معافی خُدا کے پاس ہوتی ہے اُس کی خُدائی بڑی ہے ہم انسان ہیں”اور ہمارا ظرف اُن کے جیسا اعلیٰ نہیں ہوتا۔۔۔میشا نے بے تاثر لہجے میں کہا

“فاحا آپ کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی آپ جائے یہاں سے۔۔۔فاحا ہانپتی ہوئی بولی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ جانے کتنے لمبے سفر سے پیدل چل کر آئی ہو۔

آپ کا ازالہ ہمارا کل خوبصورت نہیں بناسکتا اور نہ ہمیں وہ خوشیاں دے سکتا ہے جن کے ہم حقدار تھے۔۔”میں اگر آپ کو معاف کر بھی دوں تو مجھے وہ اپنے ساتھ ہوئی زیادتیاں یاد آجاتی ہیں”مجھے وہ ہوس سے بھری نظریں اپنے وجود کے آر پار محسوس ہوتیں ہیں جو اِس لیے ہوتیں تھیں کیونکہ ہمارے ساتھ ہمارا باپ نہیں تھا”جو سایہ بن کر ہمارے ہر قدم پر کھڑا ہوتا۔۔”سوہان اپنی آنکھوں سے نکلتے گرم سیال کو بے دردی سے رگڑ کر اُن سے بولی تو نوریز ملک سِوائے خاموش رہنے کے کچھ اور نہیں کرپائے

“ہم آگے بڑھ گئے ہیں ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے”اور یہ شریفوں کا مُحلہ ہے اچھا ہوگا جو آپ لوگ یہاں سے چلے جائے ہم نہیں چاہتے آپ لوگوں کی وجہ سے ہمارا یہاں رہنا مشکل میں پڑجائے۔۔۔میشا نے کہا تو نوریز ملک ششد سے اُس کو دیکھتے رہ گئے جس نے اِتنی بڑی بات بہت آسانی سے کردی تھی۔

“میں تمہارا باپ ہوں۔۔۔نوریز ملک کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی

“خود کو بار بار ہمارا باپ نہ کہے کیونکہ آپ کا یہ لفظ ہمارے اُن زخموں کو تازہ کررہا ہے جو ناسور بن گئے ہیں۔۔۔”خُدا نے باپ کا رُتبہ بڑا رکھا ہے افسوس کہ آپ نے اُس کو سہی سے جاناں نہیں”بیٹا بیٹا کرکے اپنی بیٹیوں کی زندگی کی تباہ و برباد کردیا ہے آپ نے۔۔۔”سوہان قدم قدم چلتی اُن کے روبرو آ کھڑی ہوئی تھی۔

“سوہان

جس سے آپ معافی کے طلبگار ہیں اُن کو آپ نے در در کی ٹُھکرے کھانے پر مجبور کیا”بیٹے کی خُواہش کرنا غلط نہیں ہے سہی ہے”مگر بیٹے کی طلب میں اندھا ہونا غلط ہے بیٹے کی چاہ آپ نے اِس قدر کی کہ یہ تک نہیں سوچا کہ ایک اکیلی عورت اپنی تین بیٹیوں کو لیکر کہاں جائے گی؟”آپ جانتے تھے ہماری ماں کا واحد سہارا تھے آپ۔۔۔سوہان نے اُن کو کچھ بھی بولنے کا اختیار نہیں دیا بلکہ سالوں اپنے اندر پڑا غُبار اُن کے سامنے کیا تھا۔۔۔

“جو بھی تھا ہماری ماں کو طلاق نہیں دینی چاہیے تھی اور نہ یوں ہم سے دستبردار”پر ہم ہوتے تو آپ دوسری تیسری شادی کیسے کرپاتے۔۔میشا نے زہر خند لہجے میں کہا

“میں تم لوگوں کو اِتنا پیار دوں گا کہ تم سب کچھ بھول جاؤ گی۔۔۔میشا کی بات کو نظرانداز کیے نوریز ملک نے یقین دِلوانا چاہا

“ہمیں آپ کے پیار کی ضرورت نہیں ہم بڑی ہوگئ ہیں”اور سب سے بڑی اور اہم بات اِس دُنیا میں اکیلے سروائیو کرنا سیکھ گئ ہیں۔۔۔میشا نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے اُن سے کہا

“آپ لوگ آخر جا کیوں نہیں رہے؟”جائے یہاں سے۔۔۔فاحا کو اُن کی موجودگی سے وحشت سی ہونے لگی تبھی اُن کو باہر نکلنے کا کہا

“آئے آپ۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے نوریز ملک کو مُخاطب کیا

“اپنے باپ کو ایک موقع دو۔۔۔نوریز ملک نے التجا کی

“ہمارے بس میں نہیں ہے۔۔۔سوہان نے عجیب لہجے میں کہا

“گاؤں چلو یقین کرو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔نوریز ملک اپنی طرف سے بھرپور کوشش کررہے تھے

“وہ گاؤں جہاں سے ہمیں نکالا گیا تھا”آپ نے تو تب ہمیں یوں خود سے دور کیا جیسے ہمارا آپ پر کوئی حق نہیں تھا۔۔۔سوہان اُداسی سے مسکراکر بولی

“حق ہی تو دینا چاہتا ہوں۔۔نوریز ملک فورن سے بولے

“اپنا حق ہم نے آپ پر معاف کیا اب آپ جائے۔۔۔فاحا نے سنجیدگی سے اِس بار اُن کو دیکھ کر کہا

“فاحا بیٹا تمہیں تو اپنے باپ کو معاف کردینا چاہیے۔۔نوریز ملک نے آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھا

“جب چھوٹی ہوا کرتی تھی تو اکثر آپو سے آپ کے بارے میں پوچھا کرتی تھی”چُھپ چُھپ کر آپ کے لیے روتی بھی تھی اور جھگڑتی بھی تھی کہ آخر آپ نے ایسا کیوں کیا؟،”کیوں غیروں کی طرح ہمیں اکیلا چھوڑدیا پھر سوچتی تھی اکیلا رہنا ہے تو اکیلے رہنے کی عادت ڈالنی ہوگی”پہلے آپ سے ملنے کی خواہش ہوتی تھی جو آج پوری ہوئی ہے مگر وہ خواہش اندر موجود نہیں ہے”اگر آپ اپنے عمل پر واقعی شرمندہ ہیں تو خُدارا یہاں سے چلے جائے”فاحا آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہے آپ یہاں سے چلے جائے اور پھر کبھی واپس مت آئیے گا جیسے سالوں میں کبھی نہیں آئے۔۔۔فاحا نے باقاعدہ اُن کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا تو نوریز ملک تڑپ اُٹھے تھے

“ایک

“کوئی فائدہ نہیں آپ بحث میں نہ پڑے اور ہمارے ساتھ چلیں۔۔۔وہ کچھ کہنے والے تھے جب اسیر نوریز ملک کے پاس آتا اُن سے بولا

“ایسا کیسے کرسکتی ہو آخر تم تینوں کیا تم میں سے کسی ایک کے اندر میرے لیے رحم نہیں”؟نوریز ملک کی حالت قابل رحم تھی۔

“بدقسمتی سے رگوں میں آپ کا خون ہے تو زرا سوچے رحم کیسے ہوگا؟میشا نے جیسے ایک آخری کیل ٹھوکی تھی اور نوریز ملک کو اپنا وہاں کھڑا رہنا اب مشکل لگنے لگا تھا تبھی اپنے پچھتاوے کا بوجھ لیکر وہ گیٹ کے باہر ہی کھڑے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔”اُن کے جانے کے بعد فاحا بھاگنے والے انداز میں گھر کے اندر کی طرف بڑھی تھی جبکہ اسیر چل کر سوہان کے پاس آیا تھا۔۔

“تم حق پر ہو اور ہمیں پتا تھا تمہارا یہی ردعمل ہوگا”مگر سوہان کیا تمہیں نہیں لگتا اپنا کل بھول کر تم آج کو بہتر بنانے کا سوچو۔۔۔اسیر نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

“اپنا آج بہتر بنانے کا مطلب نوریز ملک کا ہاتھ تھامنا ہے تو ہمیں اپنے حال پر کوئی پچھتاوا نہیں ہم جیسے اور جہاں ہیں وہی بہتر ہیں۔۔۔سوہان اُس کی بات پر استہزائیہ مسکراہٹ سے بولی

“تم لوگوں کی تکلیفوں کا مداوا کوئی نہیں کرسکتا پر یہ بھی سوچو کہ آگے پہاڑ جتنی زندگی ہے اور اب مزید تم لوگ اکیلے زندگی نہیں گُزار سکتیں۔۔اسیر کا انداز اِس وقت پہلے کی نسبت ازحد مختلف تھا جس کو دیکھ کر میشا کو اُس پر یقین نہیں آیا مگر اُس نے اسیر کو مُخاطب کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا جبھی اُس نے بھی اپنے قدم اندر کی طرف بڑھائے تھے

“مشکلاتوں کا سامنا اِتنا کیا ہے کہ اب کسی بھی چیز کا فرق نہیں پڑتا۔۔سوہان نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہا

“ہم تمہارے بارے میں سب جانتے ہیں”ہمیں پتا ہے تم نے کم عمری میں کیا کچھ جھیلا ہے اور اپنی بہنوں کی محبت میں اپنا بچپن تک گنوایا ہے اور اب بھی اُن کے بارے میں سوچ رہی ہو تو مت سوچو آجاؤ جو چچا جان بول رہے ہیں وہ کردو”اُن کو معاف نہیں کرنا تو نہ کرو مگر حویلی آجاؤ کیونکہ وہاں رہنا تم لوگوں کا حق ہے”پہلے جو بھی مگر تمہیں اسلحان آنٹی کی طرح اپنے حق سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔۔اسیر نے گہرے لہجے میں اُس سے کہا

“جب ہم اُن کو باپ کا درجہ نہیں دینا چاہتے تو حق کیسا؟سوہان نے سپاٹ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“خون کا ایک گہرا رشتہ تو ہے نہ جس کو کوئی جُھٹلا نہیں سکتا۔۔اسیر نے کہا تو سوہان خاموش ہوگئ تھی۔

“ہمیں اندازہ ہے فاحا کی پڑھائی رُکی ہوئی ہے کیونکہ اُس کے پاس فیس کے اِتنے پیسے نہیں ہے کہ وہ داخلہ لے سکے ہم مدد کرنا چاہتے ہیں”مگر ہمیں پتا ہے ہماری مدد تم نہیں لو گی اور چچا جان تو تمہارا باپ ہے اگر وہ کچھ کر سکتے ہیں تو اُج کو کرنے دو”اُس میں حرج نہیں ہے کوئی۔۔اسیر نے کہا تو اُس کی بات سن کر سوہان چونکتے ہوئے اُس کا وجیہہ چہرہ دیکھا جو ہمیشہ کی طرح ہر احساس سے پاک تھا

“میری فاحا کو داخلہ لینے کے لیے گاؤں والوں کی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور تمہیں بھی میں ایک بات واضع کرلوں کہ اگر اُس کی پڑھائی رُکی ہوئی ہے تو اُس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمارے پاس فیس کے پیسے نہیں الحمد اللہ ہمارے پاس سب کچھ ہے ہم جاب کرتیں ہیں ہمارا گُزارا بہت اچھے سے ہورہا ہے اب تم جاسکتے ہو کیونکہ مجھے تمہارا کوئی مشورہ نہیں چاہیے۔۔سوہان نے باہر کی طرف اِشارہ کرکے اُس کو جانے کا کہا

“ٹھیک ہیں ہم چلے جاتے ہیں لیکن ہماری باتوں پر غور ضرور کرنا۔۔اسیر سنجیدگی سے کہنے کے بعد وہاں سے چلاگیا

“اِن کو لگتا ہے یہ پیسوں سے پوری دُنیا فتح کرسکتے ہیں”مگر شاید یہ نہیں جانتے کہ ہم نے اپنا کل کس ازیت سے گُزارا ہے۔۔سوہاں خود سے کہتی تھکی ہوئی سانس خارج کرنے لگی۔”اُس کو خود کو پرسکون اور مضبوط کرنا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی اندر میشا یا فاحا اُن دونوں کی حالت بہت خراب ہوگی۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

آپ دُکھی کیوں ہیں؟گاڑی میں بیٹھ کر اسیر نے نوریز ملک سے پوچھا

“میری بیٹیوں نے مجھے اپنا باپ ماننے سے انکار کیا ہے اور کیا مجھے دُکھی بھی نہیں ہونا چاہیے؟نوریز ملک اپنی آنکھوں کے گوشو کو صاف کیے بولے

“یہاں آنے سے پہلے ہم نے آپ کو وارن کیا ہم نے کہا تھا اُن کی دہلیز پر موجود آپ کا پاؤں ایسے ہے جیسے تازے کچے زخموں پر نمک کا چھڑکاؤ کرنا۔۔۔اسیر نے سنجیدہ لہجے میں کہا

“جانے کیا ہوگیا تھا مجھے اور میں کیوں بھائی صاحب اور بھابھی کی باتوں میں آگیا۔۔۔نوریز ملک ندامت سے بولے

“اپنا کیا کسی اور پر نہ تھوپے کیونکہ تب آپ بابے بچے نہیں تھے بڑے تھے سمجھ بوجھ والے تھے”اور ایسے میں آپ کو اپنی عقل کا استعمال کرنا چاہیے”آج آپ کی وجہ سے ہمیں بھی شرمندگی اُٹھانی پڑی کیونکہ آج ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے جو ہماری غلطی تھی۔۔”بھلا ایک لفظ معافی بیس سالوں کا سفر کیسے معاف کرسکتا ہے۔۔۔اسیر نے سرجھٹک کر کہا تو نوریز ملک کو چُپ لگ گئ تھی

“میں کوشش کرتا رہوں گا اُن کو میرے ساتھ حویلی آنا ہوگا۔۔نوریز پُریقین لہجے میں کہنے لگے

“دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔۔اسیر ایک نظر اُن پر ڈال کر بولا

❤Rimsha Hussain Novels❤

ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟زوریز سوئمنگ پول کے پاس کھڑا کافی پی رہا تھا جب خود پر آریان کی نظروں کا ارتکاز محسوس کیے اُس نے پوچھا

“سوہان وجہ تھی جس کے لیے میرے وارڈروب کا بیڑا غرق کردیا تھا آپ نے صبح۔۔۔آریان شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو زوریز کی آنکھوں کے سامنے صبح والا واقعہ تازہ ہوا

❤

مجھے تمہارے کپڑے چاہیے۔۔زوریز آریان کے کمرے میں آتا اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا”جس پر آریان نے بے ساختہ اپنے ہاتھ لڑکیوں کی طرح سینے پر جمائے تھے

“آپ کو شرم نہیں آئے گی”چھوٹے بھائی کی عزت کو لوٹتے ہوئے؟آریان ڈرامائی انداز میں بولا تو زوریز کی پیشانی پر بل نمایاں ہوئے

“بکواس نہیں کرو مجھے بس تمہارا وارڈروب چیک کرنا ہے ایمرجنسی میں جانا ہے کہی اور یہی وجہ ہے کہ تمہارے کپڑوں کی سلیکشن کی ضرورت پڑگئ ہے۔۔۔زوریز آریان کو گھورتا اُس کے وارڈروب کی طرف بڑھ گیا

“اوکے مگر ایسی بھی کیا ایمرجنسی جو آپ کو مجھ غریب کے پاس آنا پڑا مطلب آپ کے اپنے کپڑے تو کمال دھمال ہوتے ہیں۔۔۔آریان کو زوریز کی بات کا مطلب سمجھ نہیں پایا

“تمہاری جینز پھٹی ہوئی کیوں ہے؟”اور یہ جیکٹ اِس کے کندھے عجیب سا دائرہ کیا ہے؟زوریز اُس کی بات کو نظرانداز کرتا اُس کے کپڑوں کو دیکھ کر استفسار ہوا جس پر آریان کا منہ بن گیا

“ڈونٹ بی آ سِلی بوائے برادر یہ پھٹی ہوئی جینز نہیں ہے بلکہ یہ آجکل کا فیکشن ہے پر آپ کو کیسے پتا کبھی اِن کوٹ پینٹ سے باہر آؤ تو پتا بھی ہو۔۔آریان نے خاصے طنز لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا

“واٹ ایور اِتنا مجھے بھی پتا ہے یہ آجکل کا فیکشن پُرانا ہوگیا ہے تو تم اپنے کپڑوں کی سلیکشن میں سُدھار لاؤ”پورا وارڈروب تمہارا بھرا پڑا ہے مگر کچھ خاص نہیں اِس میں۔۔زوریز سرجھٹک کر بولا

“اوو ہیلو سب خاص ہیں تمہیں پسند نہیں آئے کیونکہ تم ٹیسٹ لیس انسان ہو۔۔۔آریان نے منہ بناکر اُس کو دیکھ کر کہا

“اِس میں خاص کیا ہے؟زوریز نے جینز اُٹھاکر اُس کے سامنے کی

یہ۔۔۔آریان نے بھی جواباً گُھٹنوں سے پھٹی ہوئی جگہ پر اِشارہ کیا

“اِنسان کی ٹانگیں تو نُمایاں ہوگی”پھر کیا فائدہ ایسی ڈریسنگ کا۔۔۔زوریز نے تپ کر اُس کو دیکھا

“تصیح کرلے ٹانگیں نہیں محض پنڈلیوں کا حصہ اور تم کونسا لڑکی ہو جو گوری پنڈلیوں کو نُمایاں کرنے سے ڈر رہے ہو۔۔۔آریان اُس کے کندھوں پر بازو رکھتا بولا تو زوریز نے ایک ٹھوکا اُس کی کمر پر رسید کیا

“صرف بکواس کرسکتے ہو تم خیر میں اپنے لیے آرڈر کرلوں گا۔۔۔زوریز اُس کے کپڑے وارڈروب میں واپس رکھتا اُس سے بولا

“اگر یہی کرنا تھا تو میرے کپڑوں کا پوسٹ مارٹم کیوں کیا؟آریان تپ کر بولا

“کیونکہ مجھے لگا تھا ایسے وقت کا ضائع نہیں ہوگا مگر اب احساس ہورہا ہے کہ میں یہاں وقت کا ضائع کرنے آیا تھا۔۔۔زوریز طنز انداز میں بولا تو آریان کا مُنہ بن گیا۔

❤

“کہاں کھوگئے ہو؟آریان نے اُس کے سامنے اپنا ہاتھ لہرایا تو زوریز ہوش میں آیا

“یہ کپ پکڑو مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔زوریز اُس کے ہاتھ میں کپ تھامتا بولا

“میری بات کا جواب نہیں دیا تم نے”اور کیا یہ ضروری کام سوہان ہے؟آریان اُس کے راستے میں حائل ہوتا بولا

“تمہیں اُس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے اور سامنے سے ہٹو مجھے لیٹ ہورہا ہے۔۔۔زوریز نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

“زوریز اگر تم اُس کو لائیک کرتے ہو تو بتا کیوں نہیں دیتے۔۔۔آریان نے کہا

“کیا بتادوں؟زوریز نے سنجیدگی سے پوچھا

“یہی کہ تمہیں وہ پسند ہے”اور سوہان سے بھی کہو کہ آئے لو یو۔۔۔آریان نے آرام سے کہا

“آئے لو یو کہوں اُس سے؟زوریز اُس کی آخری بات پر ایسے مُسکرایا جیسے کوئی جوک سُن لیا ہو اُس نے

“ہاں اِس میں مضحکہ ہے کیا ہے؟آریان نے پوچھا

“میرے اندر اُن کے لیے جو احساسات ہے”جو میں اُن کے لیے محسوس کرتا ہوں”اور جو اُن کے لیے میں اپنے اندر جذبات رکھتا ہوں اِن سب کے سامنے”آئے لو یو”جُملا بہت چھوٹا سا ہے۔۔زوریز نے کہا تو آریان خاصی عجیب نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

“جانتا ہوں مگر اِظہار کے لیے اِسی جُملے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔۔آریان نے کہا

“مگر مجھے میری محبت کے اِظہار کے لیے اِس جُملے کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔زوریز نے بتایا

“تو کیا تم کبھی بھی اُس سے اِظہارِ محبت نہیں کروگے؟آریان کو حیرت ہوئی

“کروں گا ضرور کروں گا مگر سہی وقت آنے پر۔۔۔زوریز نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا

“اور یہ سہی وقت کب آئے گا جب تمہارے بالوں میں چاندی آجائے گی؟”یا سوہان کے چہرے پر جھڑیاں۔۔۔آریان طنز کیے بنا نہ رہ پایا لیکن اُس کی بات پر زوریز نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا

“ہاں جب ہم دونوں اسٹک کے سہارے چلنے لگے گے تب۔۔۔زوریز نے بھی طنز کا جواب طنز سے دیا

“ہاؤ فنی یار تم بھی فنی باتیں کرنے لگے ہو اپنی سالی عرف چھوٹی بھابھی کا اثر تم پر ایک دن میں ہوگیا ہے۔۔۔آریان اُن کے کندھے پر تھپکی دے کر بولا

“بکواس نہیں کرو اور سامنے سے ہٹ جاؤ۔۔۔زوریز نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

“اپنے ساتھ ساتھ بلاوجہ مجھ پر ظُلم نہ کرو بلکہ میرے رشتے کی بات کرو۔۔۔آریان نے اِس بار سنجیدگی کا مُظاہرہ کیا

“پہلے لڑکی راضی کرو۔۔۔زوریز نے کہا

“وہ راضی ہے کیونکہ آپ کی طرح میں نے اپنی محبوبہ کو سسٹر ڈے پر پھول نہیں بھیجے تھے بلکہ اُس دن اُس سے ملا ہی نہیں تھا کیونکہ میں اُس کو اپنی بہن نہیں بنا سکتا تھا۔۔۔آریان نے کہا تو زوریز نے غُصے سے اِس بار اُس کو دیکھا

“وہ ایک مس انڈراسٹینڈنگ تھی دوسری بات سسٹرڈے برادر ڈے وغیرہ یہ سب نہیں ہوتا خوامخواہ کچھ لوگوں نے یہ چونچلا چھوڑا ہوا ہے۔۔۔زوریز نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“جی جی آپ تو اب یہی کہینگے میں سمجھ سکتا ہوں آپ کی کنڈیشن کو۔۔۔آریان باز نہیں آیا

“مجھے دیر ہورہی ہے۔۔۔زوریز نے اُس کو اگنور کیا

“زوریز تمہیں سمجھ میں کیوں نہیں آرہا ایسے معاملات میں دیری نہیں کرجاتی تم نے اُن کے گھر میں نہیں دیکھا دو جوان مرد تھے۔۔آریان نے اُس کو کچھ سمجھانے کی کوشش کی

“میں نے دیکھا اب تم ہٹو۔۔۔زوریز نے اُس کی بات کا کوئی اثر نہیں لیا

“اب تم کو عقل تب آئے گی جب تمہاری نظروں کے سامنے کوئی اُس کو اپنے ساتھ لے جائے گا اور اپنا بنا لے گا۔۔آریان نے اُس کو جاتا دیکھا تو پیچھے سے ہانک لگائی

“میری حیات میں ایسا ممکن نہیں ہے تو تمہیں میری پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔زوریز نے جاتے ہوئے اُس کو جواب دیا اُس کے لہجے میں بلا کا اعتماد تھا

“ہاں ہاں یہ کبھی کبھار اوور کانفڈنس انسان کو لے ڈوبتا ہے۔۔۔آریان نے جل کر کہا تھا مگر اب اُس کی سننے والا کوئی نہیں تھا۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

فاحا کہاں ہے؟سوہان کو فاحا کہی نظر نہیں آئی تو میشا سے پوچھا

“اپنے کمرے میں ہے اور دروازہ اندر سے لاک ہے”میں ویسے تو دروازہ کھول اور توڑ دونوں سکتیں ہوں مگر سوچا کیوں نہ اُس کو اکیلے رہنے دیا جائے۔۔۔میشا نے اُس کو جواب دیا

“میں باہر جارہی ہوں۔۔۔اگر وہ دروازہ کھولے تو کھانے کا پوچھ لینا اُس سے اور سمجھالینا۔۔۔سوہان نے کہا

“کاش وہ آج نہ آتے کتنے خوش تھے ہم کتنے چاہ سے فاحا نے آج کے دن کے بارے میں سوچا تھا مگر جو ہوگیا اُس سے تمہارے لیے گفٹ تک رہ گیا۔۔میشا نے افسوس سے کہا

“میرے لیے خُدا کی طرف سے تحفہ تم دونوں کی ذات ہے۔۔۔سوہان نے اُس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ دے کر کہا

“جانتی ہوں وہ بھی جانتی ہے۔۔”پر ابھی اسٹریس میں ہے وہ اور تمہیں تو پتا ہے ہماری فاحا کا اسٹریس جلد ختم ہوجائے گا وہ زیادہ دیر کسی بھی بات کو سوچا نہیں کرتی۔۔۔میشا نے کہا تو سوہان مسکرائی

“جانتی ہوں مگر آج جو ہوا وہ اُس کے لیے گہرا صدمہ تھا ہم نے تو اپنے باپ کو جانا ہے مگر اُس نے آج پہلی بار اُن کو دیکھا ہے”ہم نے آٹھ سے پانچ سال اُن کے ساتھ گُزارے مگر فاحا وہ تو قدرے دور رہی ہے اُن کے لمس سے۔۔۔سوہان نے کہا

“وہ پاگل نہیں ہے اُس کو پتا ہے خود کو کیسے سنبھالنا ہے اور میں سوچ رہی ہوں”اب ہمیں یہ مُحلا چھوڑدینا چاہیے کسی اور جگہ شفٹ ہوجاتے ہیں۔۔”جہاں کسی ملک خاندان کا نام ونشان نہ ہو۔۔میشا نے کچھ سوچ کر کہا

“کب تک یہاں سے وہاں بھٹکے گے اِس بار نہیں میشو اِس بار ہم کہی نہیں جانے والے یہاں رہ کر اُن کا ڈٹ کر مُقابلہ کرینگے۔۔۔سوہان نے مضبوط لہجے میں اُس سے کہا جس پر میشا خاموش ہوگئ۔

“اب میں چلتی ہوں۔۔۔کچھ توقع بعد سوہان اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس سے بولی

“کس سے ملنے جارہی ہو”زوریز سے؟میشا نے پوچھا

“ہاں۔۔۔سوہان نے مختصر جواب دیا

“لیکن کیوں؟میشا نے اگلا سوال کیا

“ہوسکتا ہے اُن کو کوئی کام ہو یا کوئی ضروری بات کرنی ہو۔۔سوہان بنا اُس کو دیکھ کر بولی

“اُن کو کام ہوگا یا تمہیں ضرورت ہے اُن کی؟”کیونکہ پہلے تو تمہارا کوئی موڈ نہیں تھا اور اب اچانک سے تیار ہوتی جارہی ہو۔۔۔میشا نے کہا تو سوہان سے کوئی جواب نہیں بن پایا

“پتا ہے میشو بچپن سے تمہاری اور فاحا کی سُننے کے لیے میں ہوتی تھی”ہر وقت چاہے جو بھی بات کرنی ہو اپنے جذبات عیاں کرنے ہو یا کچھ اور تم دونوں میرے پاس آتی تھیں”جب ہمت چاہیے ہوتی تھی تم لوگوں کو میں نظر آتی تھی ہم ایک دوسرے کی طاقت اور کمزوری ہیں پر میشو انٹرسٹنگ بات پتا ہے کیا؟سوہان واپس اُس کے ساتھ بیٹھ کر اپنے آنسوؤ کو دھکیل کر اُس سے بولی

“کیا؟میشا نے غور سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“مجھے جب کوئی تکلیف ہوتی تو میں تم دونوں کو بتا نہیں پاتی تھی کیونکہ میں تم دونوں سے بڑی تھی اور اگر زندگی کے کسی موڑ پر اگر میں تم دونوں کے آگے کمزور بن جاتی تو اُس کا اثر تم دونوں پر پڑتا”امی کو ہماری باتیں سُننے کا وقت نہیں ہوتا پھر ایک دن زوریز میری زندگی میں آیا۔۔۔کہتے کہتے سوہان اچانک چُپ ہوگئ لیکن میشا اب سانس روکے اُس کو سُن رہی تھی

“زوریز؟میشا نے اُس کو بولنے پر اُکسایا

“ہاں زوریز کہنے کو وہ میرا کچھ نہیں ہے مگر اُس نے میرا بہت ساتھ دیا ہے اور میں اپنی ہر بات اُس کے پوچھے بغیر بتادیتی ہوں جانے کیسی مقناطیسی کشش یا کچھ اور مجھے پتا نہیں پر میرا دل ہلکا ہوجاتا ہے اُس کے سامنے بات کرنے سے۔۔”کیونکہ زندگی میں سُننے والے بہت ملتے ہیں”لیکن سن کر سمجھنے والے بہت کم ہوتے ہیں وہ میری باتیں غور سے سُنتا ہے تبھی میں بس بولتی جاتی ہو۔۔۔سوہان نے کہہ کر خاموشی اختیار کی تو میشا نے آگے بڑھ کر اُس کو اپنے گلے لگایا تھا

“تمہاری نیچر ایسی ہے سوہان سب کچھ اپنے اندر دبا کر رکھنے کی ورنہ ہم تو بہت کوشش کرتے ہیں کہ تم ہماری طرح بنو مگر تم بس سائلنٹ موڈ پر رہتی ہوں لیکن خیر جان کر خوشی ہوئی ہے اِس شہر میں کوئی ہے جس کے سامنے تم اپنا آپ عیاں کرتی ہو۔۔۔میشا اُس کا ماتھا چوم کر بولی

“ہممم مگر تمہیں اب زیادہ ایموشنل بننے کی ضرورت نہیں ہے اور مجھے چھوڑو جانا بھی ہے۔۔سوہان اُس سے الگ ہوتی بولی

“جاؤ بہن جاؤ بیچارا انتظار میں سوکھ کر کانٹا ہوگیا ہوگا میں بھی زرا اُس فاحا کو دیکھوں اور یاد دلاؤ کہ جس کمرے میں اکیلے بُراجمان ہوئی ہے وہاں میرا حصہ بھی نکلتا ہے۔۔میشا بھی اُٹھ کر بولی تو سوہان مسکراتی اپنا پرس اُٹھائے وہاں سے چلتی گئ۔۔۔”میشا بھی جب کمرے کے دروازے کے پاس آئی تو وہ اُس کو اب کُھلا ہوا نظر آیا جس کو دیکھ کر اُس نے سکون بھرا سانس خارج کیا اور اندر داخل ہوئی جہاں بیڈ پر فاحا رو رو کر شاید سوگئ تھی اُس کے گالوں پر آنسوؤ کے مٹے مٹے نشانات دیکھ کر اُس نے لب بھینچ کر اُس کو دیکھا پھر چل کر اُس کے سرہانے آکر بیٹھتی اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی تو نظر فاحا کے سینے پر پڑے ہاتھوں میں گئیں جہاں ڈائری دبی ہوئی تھی یہ دیکھ کر میشا کے دماغ میں کچھ کلک ہوا اور کچھ سوچ کر احتیاط سے اُس نے فاحا کے ہاتھوں سے وہ ڈائری لی اور جیسے ہی اُس نے ڈائری کا پہلا ورق کھولا تھا سامنے والی سطح پر لکھے الفاظوں کو دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں نفرت بھرا تاثر نمایاں ہوا تھا اور اُس نے کھڑچنے والے انداز میں اُن الفاظوں پر انگلیاں پھیری جس میں لکھا تھا۔

Life is dark without father.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *