Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 45)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 45)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
مذاق مت کرو۔۔۔میشا ہوش میں آتی آنکھیں دیکھا کر اُس سے بولی
“میں تمہیں مذاق کے موڈ میں لگ رہی ہوں؟سوہان نے آئبرو اُپر کیے اُس سے اُلٹا سوال کیا
“آپو کیا سچ میں؟اِس بار فاحا بھی بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی تو سوہان نے لب بھینچ کر اُن دونوں کو دیکھا
“میں نے تم دونوں کو پہلے بتانا چاہا تھا لیکن
لیکن کیا سوہان؟”لیکن کیا؟
“تم نے اِتنی بڑی بات ہم سے چُھپائی ہم سے؟”ہم تمہاری بہنیں تھی اور تم ہماری بڑی بہن تھی مانا کہ ہماری پابند نہیں تھی لیکن تمہیں ہمیں بتانا چاہیے تھا تم اِتنی بڑی بات آخر ہم سے چُھپا کیسے سکتی ہو؟میشا حق دق اُس کو دیکھتی اچانک اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی
“ہاں آپو فاحا کو بھی آپ سے ایسی کسی بات کی اُمید نہیں تھیں آپ نے ہمیں بہت ڈِس پوائنٹ کیا ہے۔ ۔۔فاحا نے بھی ناراضگی کا اِظہار کیا تو سوہان اُن دونوں کو دیکھتی رہ گئ جو بجائے اُس کے وجہ پوچھنے کہ ناراض ہوگئیں تھیں
“تم دونوں میں سے کیا کوئی ایک مرتبہ میری بات سُننا پسند کرے گا؟ سوہان نے سنجیدگی سے کہا
“کیا بتاؤ گی یہی نا کہ تم نے کس سے نکاح کیا؟”اب تمہاری وضاحت کا کیا فائدہ؟”تم تو بیریسٹر ہو دلیلیں دے کر ہمیں راضی کردوں گی۔۔۔میشا طنز ہوئی
“تم کتنا روڈ ہونے لگی ہو؟سوہان حیران ہوئی
“اگر تمہیں اچانک سے پتا لگے کہ میں نے یا فاحا نے چُھپ کر نکاح کیا ہے تو تمہارا ری ایکشن کیا ہوگا؟”کیا تم یہ جان کر ہمیں گلے لگا دو گی؟میشا نے پوچھا
“گلے نا بھی لگاؤں تو بغیر پوری بات جانے تم دونوں میں سے کسی کو بھی قصوروار نہیں سمجھوں گی۔ ۔سوہان کا لہجہ ہر احساس سے پاک تھا
“تو بتاؤ کتنا وقت ہوا ہے تمہارے نکاح کو؟”اور یہ بھی بتادو کہ بچے وغیرہ تو نہیں ایسا نہ ہو یہ بھی ہمیں اچانک سے پتا لگے۔۔۔میشا بازو سینے پر باندھتی استفسار ہوئی تو اُس کی بات سُن کر سوہان کو سہی معنوں میں افسوس ہوا تھا
“کچھ وقت کے بعد آپ کے ساتھ آپ کے بہن بھائی بھی نہیں ہوگے”یہ ایک کڑوی حقیقت ہے “
“اِس وقت اُس کو زوریز کے الفاظ شدت سے یاد آئے تھے” اور وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کرنے لگی تھی” اپنی زندگی کا محور تو اُس نے بس فاحا اور میشا کو بنادیا تھا جنہوں نے لمحے بھر میں اُس کو خود سے بیگانہ کردیا تھا” ایک اُس کی بات سُننے کو تیار نہ تھی تو دوسری اُس کو دیکھنے تک کی روادار نہیں تھی اور اُس کا رب گواہ تھا کہ فاحا کے لیے جانے کتنا کُچھ اُس نے لُٹایا تھا” اُس کی ایک مسکراہٹ کی خاطر وہ اپنا آپ ماردیا کرتی تھی اور آج وہ اُس کو دیکھ تک نہیں رہی تھی” سوہان یہی سب سوچنے میں تھی جب اچانک اُس کا دھیان قہقہوں نے اپنی جانب کھینچا تو وہ حیرت سے فاحا اور میشا کو دیکھنے لگی جو ہاتھ پر ہاتھ مارتی ہنسنے میں مصروف تھی۔ ۔
“سوہان لُک ایٹ یوئر فیس یار کیا ہوائیاں اُڑی ہوئیں ہیں۔ ۔۔میشا قہقہقہ کے درمیان بولی تو سوہان نے خشمگین نظروں سے اُن کو دیکھا جو اُس کی جان نکالنے کے در پر تھیں۔
“تم دونوں میں سے کوئی بھی مجھ سے بات نہ کرے۔”اور نکلو دونوں میرے کمرے سے۔سوہان سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر بولی اُس کو اُن دونوں کا ایسا مذاق بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔
“آپو کیا ہوگیا ہے؟ “آپ تو ہماری جان ہے ہم بھلا کیا کبھی آپ کی کسی بات پر انحراف کرسکتے ہیں” ہم آپ کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں” ہمیں پتا ہے کہ آپ کوئی کام بلاوجہ نہیں کرتیں اور یقیناً نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کے پیچھے بھی کوئی بڑی بات ہوگی۔ ۔فاحا اُس کے گلے لگتی بولی
“یہ کیا اسیر بشیر کی طرح”ہم ہم لگایا ہوا ہے پرے ہٹو۔ ۔میشا اُس کو آنکھیں دیکھا کر کہتی سائیڈ پر کرنے لگی۔ ۔
“میں نے آپ کو اور خود کو ملاکر”ہم بنایا تھا۔ ۔فاحا جھٹ سے بولی
“میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔سوہان میشا کو خود سے دور کیا
“اب بس بھی کردو کونسا پہلی بار ہم نے مذاق کیا ہے۔ ۔۔میشا نے اُس کو اِس بار گھورا
“ہر بات پر مذاق نہیں ہوتا میری زندگی میں تم دونوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں اور تم دونوں میری کیفیت کا اندازہ نہیں لگاسکتیں کہ تمہاری آنکھوں میں بے یقینی اور فاحا کا یوں لاپرواہ کھڑے رہنا مجھے کس طرح جِھنجھوڑ رہا تھا۔ ۔۔سوہان نے کہا تو فاحا نے اپنے کان پکڑ کر کیوٹ شکل بنائی
“سوہان چِل کرو ہمیں تم پر یقین ہے تھوڑا افسوس ہے کہ تم نے بتایا نہیں اِس وجہ سے شاک تھے لیکن ٹرسٹ می میں یا فاحا ناراض نہیں اور نہ ہمارے دلوں میں ایسا کچھ ہے۔ ۔۔”تم ہماری بہن ہو اینڈ وی آر لو وِد یو۔ ۔۔میشا نے بٹرنگ کرنا شروع کردی تھی جس میں فلحال سوہان نہیں آنے والی تھی تبھی دونوں کے ہاتھ پکڑ کر وہ اُن کو دروازے کے باہر کھڑا کرنے لگی
“مجھے آرام کرنا ہے تم دونوں جاؤ۔۔۔سوہان نے ہنوز سنجیدہ انداز اپنایا ہوا تھا
“ابھی بھی ناراض ہو مٹی ڈالو نہ۔۔۔میشا نے پھر کہا
“ہممم۔۔سوہان اِتنا کہتی ٹھاہ سے دروازہ اُن کے منہ پر بند کیا تھا اِس بار وہ دونوں ایک دوسرے کا چہرہ تکتی رہ گئیں
“جیجا جی کا نام تو بتادیتیں۔۔۔فاحا کو ایک بات کا گویا افسوس ہوا تھا
“ارے ہاں یہ تو پوچھنا یاد ہی نہیں رہا پتا نہیں کون ہوگا وہ؟میشا بھی اپنی عقل پر ماتم کرتی ہوئی
زوریز دُرانی تو نہیں؟”نہیں نہیں وہ نہیں ہوسکتے اُن سے ہوئی سرسری مُلاقات میں نکاح تھوڑئی ہوسکتا۔۔۔فاحا نے خود ہی اپنی بات کی نفی کی
“ایسا ہوسکتا ہے میں دیکھتی ہوں کچھ کیا پتا “ہاتھ میں کچھ لگ جائے۔۔۔میشا پرسوچ لہجے میں بولی تو فاحا نے گہری سانس خارج کی دوسری جانب سوہان بیڈ پر تھکے ہوئے انداز میں بیٹھتی اپنے ماضی کے بارے میں سوچنے لگی جس کو وہ یکسر فرموش کر بیٹھی تھی” اُس کا نکاح ہوگیا تھا وہ کسی کی امانت تھی کسی کے نکاح میں تھی”اور یہ چیزیں بھول کر یہاں پاکستان بھاگ آئی تھی وہ نہیں تھی چاہتی کہ اِس بات کا کسی کو علم ہو تبھی تو بھول کر بھی اُس نے اپنے نکاح کا تضکرہ خود سے بھی نہیں کیا تھا پر شاید وہ وقت آگیا تھا جس وقت میں اُس کو ماضی کے پنوں کو اُلٹ کر اُن کو سوچنا تھا۔ ۔
Rimsha Hussain Novels![]()
“ماضی”
“ہمیں خبر ملی ہے کہ یہاں ایک اسٹوڈنٹ کے پاس ڈرگز ہے۔”جو وہ اسٹوڈنٹس کو دیتا ہے اور وہ خرید بھی لیتے ہیں ۔۔میم نے کہا تھا کلاس میں یکدم ہلچل مچ گئ تھی ہر کوئی آپس میں چہ مگوئیاں کرنے لگا تھا اور یہ خبر سُن کر سوہان کو بھی حیرت ہوئی تھی کہ یونی میں ڈرگز کون بیچ سکتا تھا؟
“اسٹوڈنٹس رلیکس ہمیں سب کا بیگ چیک کرنا ہوگا کیونکہ شکایت اِس کلاس سے آئی ہے۔ ۔میم نے کہا تو کچھ کو اُن کی بات بُری لگی تھی تو کچھ نے اپنا بیگ سامنے کردیا تھا جس میں سوہان بھی تھی۔
“آپ لوگ اپنا کام کرے۔ ۔۔میم نے کہا تو کلاس کے دروازے کے پاس کھڑے تین آدمی باری باری ہر ایک کا بیگ دیکھنے میں لگ پڑے
“اور ایک پھر سوہان کے پاس آیا تو اُس کا بیگ کھول کر انتہائی غُصیلی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا تو سوہان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اُس کو ایسے کیوں دیکھا جارہا ہے۔ ۔
“میم ڈرگز مل گئے۔ ۔۔اُس آدمی نے سوہان کے بیگ سے ہاتھ اُپر کیے بتایا تو سوہان کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کی حدتک کُھل چُکی تھیں اُس کو یقین نہیں آیا کہ یہ ڈرگز اُس کے بیگ میں تھیں؟
سوہان آپ سے ہمیں یہ اُمید نہ تھی۔ ۔۔میم نے افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو سوہان کا سر خودبخود نفی میں ہل گیا
“یہ می میرا ن نہیں۔ ۔۔۔سوہان سے سہی سے بولا نہیں گیا الفاظ جیسے ختم ہوچُکے تھے اور وہ حیرانگی کا مجسمہ بنی خود پر اُٹھیں اُنگلیوں کو دیکھنے لگی۔
“آپ میرے ساتھ آئے۔ ۔۔میم نے سنجیدگی سے کہا
“میری بات کا یقین کریں میم یہ سچ میں میری نہیں کسی نے مجھے پھسانے کی کوشش کی ہے۔ ۔۔سوہان کو سمجھ آگیا کہ اب اُس کی کوئی نہیں سُنے گا اور یونی سے اسپیل کردیا جائے گا تبھی وہ اپنا دفاع کرنے لگی
“ساری باتیں یونی کے انتظامیہ کے سامنے ہوگی ابھی چلیں یہاں سے۔ ۔۔میم نے کہا تو سوہان کو اپنا وجود لرزتا ہوا محسوس ہوا اُس کو اپنی ٹانگوں سے جان جاتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی خود پر لوگوں کی ایسی نگاہیں دیکھ کر اُس کو اپنے آپ سے حقارت محسوس ہوئی ہلانکہ اُس نے کچھ ایسا ویسا کیا تک نہیں تھا۔ ۔






“آپ ایک برائٹ اسٹوڈنٹ تھی” اور ہمیں آپ سے ایسے کسی عمل کی اُمید ہرگز نہ تھی۔ ۔۔”ہمیں اِس معاملے میں پولیس کو انفارم کرنا ہوگا” تاکہ وہ تشویش کر پائے جانے آپ کے ساتھ اور کون کون شامل ہوگا۔ ۔۔یونی کے انتظامیہ نے سخت نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو سوہان کو اپنا سیاہ مستقبل نظر آنے لگا۔
“میری بات کا یقین کریں میں بے قصور ہوں” کسی نے میری بیگ میں ڈرگز ڈال کر مجھے پھسانے کی کوشش کی ہے۔ ۔۔”آپ پلیز پہلے خود سے ہر بات جاننے کی کوشش کریں اُس کے بعد پولیس کو اِنوالو کریں پلیز یہ میرے فیوچر کا معاملہ ہے اِتنی سختی نہ برتے آپ کو نہیں پتا میں کتنی مشکلوں سے یہاں تک پہنچی ہوں۔ ۔۔سوہان نے خود کو رونے سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے اُن سے کہا”وہ جانتی تھی اُس کا بولنا اور نہ بولنا ایک جیسا تھا مگر وہ خاموش تماشائی بھی نہیں بن سکتی تھی وہ خود پر لگا الزام کیسے برداشت کرتی؟ “جس میں صداقت ہرگز نہ تھی اُس کو تو پتا بھی نہیں تھا کہ یہ حرکت کس نے کیوں؟”اور کب کی تھی؟”وہ تو خود حیران تھی اُس کو تو خود اِن سب کے سامنے پتا لگا تھا کہ اُس کی بیگ میں ڈرگز تھے۔ “جس سے وہ سِرے سے انجان تھی۔
“اپنے فیوچر کا آپ کو پہلے سوچنا چاہیے تھا جب ایسا خراب کام کرتے ہوئے آپ کو اپنا فیوچر یاد نہ آیا تو اب بھی یاد نہیں آنا چاہیے۔ ۔اِس بار اُس کی میم نے طنز کیا
“میں اگر ایسا کام کرتی تو کسی خوفیہ جگہ پر وہ ڈرگز چُھپاتی ناکہ اپنے بیگ میں ڈال کر گھومتی میری بات کا یقین کرے میں بے قصور ہوں۔”یہ میرے خلاف کی جانے والی سازش ہے۔ ۔سوہان اِس بار چیخ پڑی
“ایک منٹ کے لیے آپ کی بات مان بھی لی جائے تو ہمیں یہ بتائے کیا آپ کو کسی ایسے شخص پر شک ہے جس نے آپ کو بدنام کرنے کے لیے ایسا بڑا فعل انجام دیا ہے؟”اگر ایسا کوئی ہے تو ہمیں بتائے تاکہ ہم اُس کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش کریں ۔۔یونی انتظامیہ نے سوال کیا تو سوہان کو چُپ لگ گئ تھی وہ اب کیسے کسی شخص پر کھڑی ہوجاتی
“یہ آپ کی رسپانسبلٹی ہے آپ کسی بھی طرح سے یہ جاننے کی کوشش کریں ناکہ میرے خلاف کھڑے ہوجائے۔ ۔سوہان کچھ توقع بعد خود کو مضبوط ظاہر کرتی بولی
“ابھی آپ جائے پولیس کو ہم نے انفارم کردیا ہے وہ آئے گی تو سہی طریقے سے ساری اپنی رسپانسبلٹی کو اچھے طریقے سے نبھائے گی۔ یونی انتظامیہ نے طنز کرنے والے لہجے میں اُس سے کہا
“میم میری
“مس سوہان آپ جائے۔ ۔۔سوہان کچھ کہنے والی تھی جب اُس کی بات درمیان میں کاٹ دی گئ تھی اور وہ چاہنے کے باوجود بھی کچھ نہ کرپائی تھی”اُس کو اپنا آپ بے بس سا معلوم ہوا تھا۔
Rimsha Hussain Novels![]()
“سوہان پر لگے الزام کی بات پوری یونی میں پھیل گئ تھی اور یہ بات جیسے ہی زوریز کو پتا لگی تو وہ ساکت ہوگیا تھا ایسا نہیں تھا کہ اُس کو سوہان پر شک ہوا تھا وہ تو یہ سوچ کر پریشان ہوگیا تھا کہ جانے سوہان نے اپنی کیا حالت بنالی ہوگی کسی بھی صاف کردار کے مالک پر اگر ایک چھوٹا سا بھی غلط بہتان لگتا تھا تو اُس کی روح لرز اُٹھی تھی۔ ۔”اور جو سوہان پر الزام لگا تھا وہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی اُس کو یونی سے خارج کیا جاسکتا تھا “اُس کی ریپو خراب ہوسکتی تھی” اور ممکن تھا کہ اُس کو جیل بھی ہوسکتی تھی۔ “لیکن زوریز اپنے ہوتے ہوئے ایسا کچھ کیسے ہونے دے سکتا تھا۔ ۔
“سوہان؟زوریز کو سوہان یونیورسٹی کی پچھلی سائیڈ پر تنہا بیٹھی ہوئی نظر آئی تو وہ ایک ہی جست میں اُس تک پہنچا
“سوہان میری طرف دیکھے۔ ۔۔زوریز سرجُھکائے بیٹھی سوہان کے پاس گُھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا تو اُس کی لال سوجھی آنکھیں دیکھ کر وہ بونچکار کے رہ گیا تھا وہ جانتا تھا سوہان تکلیف میں ہوگی لیکن وہ خود کو اِس قدر نڈھال کردے گی اِس بات کا علم زوریز کو نہ تھا۔۔
“آپ رو کیوں رہی ہیں؟ زوریز نے اُس کے سسکتے وجود کو دیکھا تو حواس باختہ ہوگیا
“میں بے قصور ہوں۔ ۔۔سوہان اپنی سوجھیں ہوئی آنکھیں اُٹھاکر زوریز کو دیکھ کر بس اِتنا بتانے لگی وہ جانتی تھی کہ زوریز کو بھی پتا لگ گیا ہوگا اور یہ خیال سوہان کو نظریں جُھکانے پر مجبور کررہا تھا وہ جو لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پُراعتماد طریقے سے بات کیا کرتی تھی” مگر آج کچھ نہ کرتے ہوئے بھی وہ ہر ایک کے سامنے غلط قرار دی گئ تھی”جانے اُس کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا تھا؟ “جب کبھی اُس کو لگتا تھا کہ اب سب ٹھیک ہوگیا ہے تو پھر اچانک سے کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہوجاتا کرتا تھا” اُس کو لگا تھا پاکستان سے یہاں آنے کے بعد اُس کی زندگی آسان ہوجائے گی” لیکن یہاں آکر تو اُس کے لیے مزید مسائل پیدا ہوگئے تھے۔
“میں جانتا ہوں اور آپ اپنی آنکھوں پر یہ ظلم نہ کریں اِن کا کیا قصور ہے آخر۔ ۔۔زوریز نرمی سے بولا
“آپ کو پتا ہے لیکن یونی والوں کو نہیں پتا یہ مجھے نکال رہے ہیں” میرا پورا فیوچر ختم ہوجائے گا” مجھے اپنا فیوچر ختم نہیں کرنا”میں مرجاؤں گی اگر ایسا ہوا تو میں یہاں بہت سے خواب لیکر آئی تھی جن کو اب ٹوٹتا ہوا محسوس کررہی ہوں اگر میں یہاں سے نکالی گئ تو میں خود کو جان سے ماردوں گی۔۔۔سوہان نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا تو زوریز کو یقین نہیں آیا کہ بظاہر مضبوط نظر آنے والی سوہان ایسی مایوس کن باتیں بھی کرسکتی تھی۔
“کیا بچوں جیسی باتیں کرنے لگیں ہیں آپ ایسا کچھ نہیں ہوگا یہاں آپ کو کوئی کچھ نہیں کرسکتا ٹرسٹ می۔۔۔زوریز نے ہچکچاہٹ سے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پر رکھ کر یقین دلواتے کہا
“آپ کے کہنے سے کیا ہوگا؟سوہان مطمئن نہیں ہوئی
“میرے کہنے سے بہت کچھ ہوسکتا ہے۔۔۔زوریز نے بتایا
“جیسے کہ؟سوہان رونا بھول کر اُس کو دیکھنے لگ پڑی
“جیسے کہ آپ پر لگا ہوا جھوٹا الزام دُھل سکتا ہے”آپ کو وہ عزت ملے گی جس کی آپ حقدار ہیں۔۔اُس کے آنسوؤ اپنے ہاتھ کی پوروں سے صاف کرتا زوریز پُرعزم لہجے میں بولا
“کیا ایسا ممکن ہے؟سوہان کو اُمید کی کرن نظر آئی
“جی بلکل ممکن ہے مگر۔ ۔۔زوریز بات کرتا اچانک خاموش ہوگیا
“مگر کیا؟ اُس کا چُپ ہوجانا سوہان کو بے چین کرگیا
“مگر میری ایک شرط ہے۔ ۔۔زوریز نے کہا تو سوہان کا وحود ڈھیلا پڑگیا تھا اور وہ جن نظروں سے زوریز کو دیکھنے لگی اُس پر زوریز جیسے تڑپ اُٹھا تھا
“ایسی ویسی شرط نہیں ہے” بس یہ جان لے کہ میری درخواست ہے۔ ۔۔زوریز نے کہا تو سوہان اُٹھ کھڑی ہوئی
“مجھے آپ کی کوئی بھی شرط قبول نہیں ہے اور میں بیوقوف جانے کیسے یہ سوچ بیٹھی کہ آپ میری مدد کرینگے وہ بھی بغیر اپنے مفاد کے۔ ۔۔سوہان کو زوریز سے چڑ ہونے لگی
“آپ غلط سوچ رہی ہیں میں بس آپ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ ۔سوہان کو کندھوں سے پکڑے اپنے روبرو کھڑا کیے زوریز نے جیسے کوئی دھماکا کیا تھا۔
“نننن نکاح؟سوہان شاک کی کیفیت میں اُس کا چہرہ تکتی رہی جس نے اِتنی بڑی بات بہت آسانی سے کردی تھی
“ہاں نکاح۔ ۔۔۔زوریز نے سراثبات میں ہلایا
“میں آپ کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی” میں اپنے گھر واپس چلی جاؤں گی۔۔۔۔سوہان بدک کر اُس سے دور کھڑی ہوتی بولی
“کیوں نہیں کرینگی مجھ سے نکاح؟زوریز کو انکار کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی”آخر اُس میں کمی کس چیز کی تھی جو اُس کو ٹھکرایا جارہا تھا
“آپ کیوں کرنا چاہتے ہیں مجھ سے نکاح؟سوہان نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“پسند آگئیں ہیں آپ۔۔۔”اپنا بنانا چاہتا ہوں میں آپ کو۔۔۔زوریز نے جذب کی کیفیت میں کہا
“پسند کرنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کسی کی مجبوری کا فائدہ اُٹھایا جائے۔۔۔سوہان نے سرجھٹک کر کہا
“آپ غلط سمجھ رہی ہیں میں ہرگز آپ کی مجبوری کا فائدہ نہیں اُٹھا رہا میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا میری نیت صاف ہے۔۔۔زوریز کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیسے سوہان کو خود پر یقین کروانے پر مجبور کرے
“آپ جائے یہاں سے مجھے اکیلا رہنا ہے۔۔۔۔سوہان نے سپاٹ لہجے میں کہا
“سوہان۔۔۔۔زوریز نے کچھ کہنا چاہا
“پلیز لِیو۔۔۔سوہان نے جیسے گُزارش کی
“آپ کو ایسے حال میں چھوڑ کر نہیں جاسکتا”میں آپ کی حفاظت کروں گا ایک مقدس رشتے میں باندھ کر آپ کا مقام اُونچا کروں گا۔۔۔۔زوریز نے صدق دل کے ساتھ اُس کو دیکھ کر کہا جس پر سوہان اُس کو دیکھنے پر مجبور ہوگئ تھی
“میری زندگی میں کسی مرد کی گُنجائش نہیں نکلتی اگر زندگی میں مجھے مرد کا سہارا چاہیے ہوتا تو یہاں اپنے بُل بوتے پر کچھ کرنے نہ آئی ہوتی۔۔۔سوہان نے عجیب کیفیت میں مبتلا ہوکر کہا
“مجھے نہیں پتا کیوں؟”لیکن آپ کو میری ضرورت ہے اور یہ بات آپ کو ماننی پڑے گی”میرا بڑھایا ہوا ہاتھ جھٹکے مت اِس کو تھام لے یقین جانے زندگی میں کبھی آپ کو گِرنے نہیں دوں گا آپ پر آنے والی ہر مصبیت کا رُخ اپنی طرف موڑ لوں گا۔۔”اور آپ پر ایک انچ بھی آنے نہیں دوں گا۔۔۔زوریز کی آنکھوں میں اُس کے لیے محبت کی جھلک تھی جس سے سوہان منہ موڑنا چاہتی تھی۔
“آپ اگر میری مدد کرنا چاہتے ہیں تو میں کچھ اور کردوں گی لیکن نکاح نہیں۔۔۔سوہان کچھ توقع بعد بولی
“لیکن میرے لیے آپ کی مدد سہی طریقے سے کرنا تبھی ممکن ہے جب آپ میرے نکاح میں ہوگیں اور نکاح کے بعد آپ ویسے آزاد ہوگیں جیسے کی اب ہیں میری طرف سے کسی قسم کی روک ٹوک کو آپ نہیں پائیں گیں میں بس ایک بات کا اطمینان رکھنا چاہتا ہوں کہ آپ جہاں کہی بھی ہوگی بس میری رہے گیں مجھے اِس بات کی گارنٹی چاہیے بس اور میری بس یہ ایک عدنی سے خواہش ہے کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان لاجواب ہوتی اُس کا چہرہ تکنے لگی۔۔
“آپ کی مانگ بہت بڑی ہے بہت سے بھی زیادہ بڑی” لیکن آپ کو اِس بات کا احساس نہیں اگر آپ میری جان مجھ سے مانگتے تو شاید میں انکار نہ کرتی۔ ۔۔سوہان نے کہا تو وہ ہولے سے مُسکرایا
“آپ سے آپ کی جان مانگ کر میں خود کے ساتھ کیسے زیادتی کرتا؟زوریز نے اِس بار بھی لاجواب کرنے والا جواب دیا تھا جیسے کچھ بھی نہ کہہ کر بہت کچھ بول دیا تھا۔
“میں مرد ذات سے دور جانا چاہتی ہوں اور آپ چاہتے ہیں” میں خود کو آپ کا پابند بنادوں؟سوہان کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا
“ساری عمر میں آپ کا باپند بن سکتا ہوں” لیکن ایسی کوئی خُواہش آپ سے نہیں کروں گا”میں چاہتا ہوں آپ کو پسند کرنے لگا ہوں”اور نکاح کرنا چاہتا ہوں” بس اِتنی سی بات ہے آپ جانتی ہیں یہاں آپ کا کوئی بھی نہیں اور مجھے اپنا بناکر آپ اِس مصیبت سے نکل سکتیں ہیں۔ ۔۔۔”ڈرگز کا آپ کی بیگ میں ملنا کوئی عام بات نہیں ہے سوہان آپ کو پولیس کے حوالے کروایا جاسکتا ہے”وہ طرح طرح کے سوالات پوچھ سکتے ہیں” آپ مجھے بتائے جب آپ سے یہ پوچھا جائے کہ آپ کس گینگ کے ساتھ کام کرتیں ہیں تو بتائے” مجھے اُن کو کیا جواب دے گی؟زوریز کا لہجہ سنجیدگی سے بھرپور تھا
“کچھ نہ کچھ کردوں گی” لیکن اپنے مطلب کے لیے آپ کو سیڑھی نہیں بناؤں گی۔۔۔سوہان بھی جواباً سنجیدگی سے بولی تو زوریز بس اُس کو دیکھتا رہ گیا جو بات کو سہی طریقے سے سمجھنے کی کوشش تک نہیں کررہی تھی بس اپنی بات پر بضد تھی”جو اُس کو نقصان کے دلدل میں پھینک سکتا تھا۔۔۔
