Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 30)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

یہ کیا ہے فاحا؟ڈائری بند کرکے میشا نے سنجیدگی سے فاحا کو آواز دی”جو شاید اب تک گہری نیند میں جاچُکی تھی۔

“پوری کرلوں نیند پھر تم سے پوچھتی ہوں۔۔۔میشا ڈائری کو خود سے دور پھینکتی آہستہ آواز میں بڑبڑائی

❤
❤
❤
❤
❤

“تمہاری جتنی عمر کی لڑکیوں نے پورا گھر سنبھالا ہوا ہے”ایک تم ہو جس کو بھائی نے یونی میں پڑھنے کے لیے چھوڑا ہوا ہے۔۔لالی ہال میں بیٹھی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی جب فائقہ بیگم کڑے تیوروں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو لالی نے گڑبڑا کر اپنی کتابوں کو بند کیا

“آپ کو کچھ چاہیے تھا کیا؟لالی نے سنبھل کر پوچھا

“ہاں زہر لاکر دو تاکہ وہ میں پی کر اُبدی نیند سوجاؤں ہمیشہ کے لیے۔۔۔فائقہ بیگم گویا پھٹ پڑی

“کیا ہوگیا ہے اماں ایسی باتیں کیوں کررہی ہیں؟”اللہ آپ کو لمبی زندگی دے۔۔۔لالی کو سمجھ نہیں آیا کہ آخر وہ کیوں گرم تندور پر بیٹھیں ہیں

“سُنو لالی اپنی پڑھائی کا چونچلا ختم کرو تاکہ میں برادری میں تمہارے رشتے کی بات آگے چلاؤں ابھی تو جیسے سب کو پتا لگ رہا ہے کہ مہارانی یونیورسٹی جاتی ہے تو اُن کے ہاتھ منہ پر پڑجاتے ہیں۔۔۔فائقہ بیگم نے دو ٹوک انداز اپنایا

“اماں کیا ہوگیا ہے میں پڑھنا چاہتی ہوں اور ابھی میرے دو سمسٹرز ہی کمپلیٹ ہوئے ہیں کہ آپ نے دوبارہ سے پُرانی باتیں لیکر بیٹھ گئ ہیں اگر مجھے پتا ہوتا تو میں کبھی بھائی کے ساتھ یہاں نہ آتی۔۔۔لالی نے کہا تو فائقہ بیگم کا جیسے دماغ گھوم گیا تھا

“واہ جی واہ شہر جاکر تیرے بھی منہ سے آواز نکلنے لگی ہے۔۔۔اُس کے گرد چکر کاٹتی فائقہ بیگم نے طنز انداز میں اُس سے کہا

“ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔لالی نے جزبز ہوکر کہا

“شہر کا ماحول ہوتا ہی ایسا ہے اور اسیر آئے تو میں اُس سے کہتی ہوں کہ تمہارا کچھ کریں کیونکہ اب میں مزید برداشت نہیں کروں گی تمہارا وہاں شہر رہنا تیرے باپ کو بھی یہ بات پسند نہیں۔۔فائقہ بیگم حتمی انداز میں بولی تو لالی کا سر نفی میں ہلا

“بھائی نے بابا سے بات کی تھی اور جہاں آپ نے اِتنا برداشت کیا ہے وہاں تھوڑا اور کرلیں”جب تک میری پڑھائی پوری نہیں ہوتی۔۔لالی نے ملتجی لہجے میں اُن سے کہا

“میری بات پکی ہے اسیر آئے گا تو میں اُس سے کہوں گی۔۔۔فائقہ بیگم نے اُس کی ایک بھی نہ سُنی جبھی مُلازمہ وہاں آئی

“بیگم صاحبہ آپ کو بڑے صاحب بلا رہے ہیں۔ ۔اُس نے فائقہ بیگم کو دیکھ کر بتایا

“جاؤ تم میں جاتی ہوں اُن کے پاس۔۔۔لالی پر ایک اچٹنی نظر ڈالے اُس سے بولی

“اماں

بس

لالی نے کچھ کہنا چاہا جب فائقہ بیگم نے ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو کچھ بھی بولنے سے باز رکھا تو وہ بیچاری اپنا سرجُھکانے پر مجبور ہوگئ”اُس کو اپنا یہاں آنا سراسر بیوقوفی لگا تھا بھلا اُس نے کیسے سوچ لیا کہ اِس حویلی میں اُس کی غیرموجودگی میں اُس کی ماں اُس کو یاد کرسکتی ہے۔۔”وہ تو بس اُس کی شادی کرواکر حویلی سے نکالنا چاہتی ہیں۔۔۔

“آپ نے یاد کیا؟فائقہ بیگم کمرے میں آتی سجاد ملک سے بولی

“تمہیں پتا ہے نوریز کہاں گیا ہے؟سجاد ملک نے سنجیدگی سے پوچھا

اسیر کے ساتھ شہر اپنے کسی کام سے جارہا ہے”صنم کو تو یہی بتا کر گیا تھا البتہ اسمارہ سے اُس کی بول چال بند ہے۔۔فائقہ بیگم نے اپنی معلومات مطابق اُن کو جواب دیا

ضروری کام اپنی بیٹیوں کو واپس یہاں لانا ہے۔۔۔سجاد ملک نے غُصیلے لہجے میں بتایا تو فائقہ بیگم کا ہاتھ اپنے منہ پر پڑا تھا

“کیا؟فائقہ بیگم قریباً چیخ اُٹھی

“ہاں مجھے اپنے آدمیوں سے پتا چلا اور یہ سب تمہارے لاڈلے سپوت کی وجہ سے ہوا ہے اُس نے اُن لڑکیوں کی ساری انفارمیشن نوریز کو دی ہے اور آج وہاں لیکر بھی وہ گیا تھا۔۔سجاد ملک کو اسیر پر بھی انتہا کا غُصہ تھا

“اسیر کا اِس میں کیا کام؟”اور وہ کب سے اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کی ذات کے بارے میں سوچنے لگا”اور یہ آجکل اسیر کو آئے گئے کی مدد کرنے کا بُخار بھی بہت چڑھا ہے۔۔۔فائقہ بیگم تپ کر بولیں

“ہمیں اسیر کو سنبھالنا ہے وقت رہ کر اُس سے پہلے وہ مزید ہم سے دور ہوجائے۔۔۔سجاد ملک کسی نتیجے پر پہنچ کر بولے

“اسیر کی فکر نہ کریں آپ وہ سمجھ بوجھ والا ہے آپ بس یہ سوچے کہ نوریز کو باز کیسے رکھا جائے اگر وہ تین منحوس لڑکیاں اپنے قدم یہاں جمائے گیں تو ہمارا کیا ہوگا؟”یہ شہری لڑکیاں تو ہوتیں بھی بہت چالباز ہیں۔۔۔فائقہ بیگم کا پریشانی سے بُرا حال ہوگیا

“تمہیں پریشان ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔۔سجاد ملک کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ آئی

“آپ نے اِتنی بڑی بات مجھے بتادی ہے اور اب کہہ رہے ہیں میں پریشان نہ ہوں؟فائقہ بیگم نے عجیب نظروں سے اُن کو دیکھا

“میں نے جو کرنے کا سوچا ہے اگر وہ پائے تکمیل تک پہنچ گیا تو یہاں بس اُن تینوں کی لاشیں آئے گی جن کی تذفین یہاں کرکے نوریز اپنے آخری فرض سے سبکدوش ہوجائے گا۔۔۔سجاد ملک مکروہ لہجے میں بولے

“کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟فائقہ بیگم کو تھوڑی دھاڑس ملی

“ہاں اِس بار پکا کام ہوگا۔۔سجاد ملک نے کہا

“اگر ایسا ہے تو نوریز کے شہر جانے سے آپ غُصہ کیوں ہوئے؟کسی خیال کے تحت فائقہ بیگم نے اُن سے پوچھا

“میں بس تمہیں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ اب نوریز سے اپنا رویہ نارمل رکھنا جیسے اُس کی بیٹیوں سے تمہیں کوئی مسئلہ نہیں”میں نہیں چاہتا وہ ہم سے بدزن ہوجائے۔۔۔سجاد ملک نے گہری سانس لیکر کہا

“اُس کی آپ فکر نہ کرو میں نوریز کو اچھے سے جانتی ہوں اُس کو اپنی باتوں میں لانا کوئی مشکل عمل نہیں۔۔فائقہ بیگم شیطانی مسکراہٹ سے بولیں تو اُن کی بات دروازے کے پاس کھڑی سُنتی اسمارہ بیگم بھی طنز مسکرائی تھی

“جو کرنا ہے کرلوں میں بھی اسمارہ ہوں جس نے سوچ لیا ہے کہ تم دونوں کی دُکھتی رگ کو کیسے دبانا ہے”اب تم لوگوں کو پتا لگے کا کہ دوسروں کی اولاد کو جب تکلیف دیتے ہیں تو اپنی اولاد پر جب بات آتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔۔اسمارہ بیگم طنز انداز میں بڑبڑاتی وہاں سے ہٹ گئیں۔۔۔

“اب نوریز اور اسیر کو سائیڈ پر کرکے میری ایک بات سُنے آپ۔۔۔فائقہ بیگم نے کہا

“کہو کونسی بات؟سجاد ملک نے پوچھا

“لالی کا یونیورسٹی جانا بند کروائے آپ اب بہت اچھا رشتہ آیا ہے اُس کا مگر ڈیمانڈ یہ ہے کہ اُن کو اِتنی پڑھی لکھی بہو نہیں چاہیے”وہ چاہتے ہیں کہ لڑکی گھر سنبھالنا جانتی ہو ناکہ بس لکھنے پڑھنے کی شوقین ہو اُن کو اپنے گھر کا حساب کتاب نہیں کروانا بہو سے۔۔۔فائقہ بیگم نے اپنی بات اُن کے سامنے رکھی

“کس کا رشتہ آیا ہے اور تم نے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی مجھے؟سجاد ملک نے پوچھا

“بہت اچھا رشتہ ہے دوسرے گاؤں سے آیا ہے ہماری برابری کے لوگ ہیں”پہلے نہیں بتایا کیونکہ کوئی مُناسب موقع نہیں ملا تھا۔۔فائقہ بیگم نے خوشی خوشی بتایا

“لالی کے اختیارات اسیر نے مجھ سے لیکر اپنے پاس رکھ لیے ہیں”وہ آئے تو میں اُس سے بات کرتا ہوں۔۔۔سجاد ملک کچھ سوچ کر بولے

“ماں باپ ہم ہیں لالی کہ اور اسیر کو بھی وہ سب کرنا ہوگا جو میں اور آپ چاہتے ہیں۔۔۔۔فائقہ بیگم جلدی سے بولیں

“جانتا ہوں مگر جب سے ہم نے اُس کی شادی اُس کی مرضی کے خلاف کروائی تھی تب سے وہ ہم سے دور اور خودسر کے ساتھ ساتھ باغی بھی ہوتا گیا ہے ہماری کوئی بھی بات ماننا جیسے وہ خود پر گُناہ سمجھتا ہے۔۔۔سجاد ملک نے جواباً کہا

“اُس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ہم ماں باپ ہیں اُس کے کوئی دُشمن نہیں اگر شادی کروادی تو اِس میں کوئی بڑا گُناہ نہیں ہوا ویسے بھی اِتنا بھی چھوٹا نہیں تھا اسیر جو اب تک اُس بات کو دل سے لگائے بیٹھا ہے۔۔فائقہ بیگم نخوت سے سرجھٹک کر بولی

“بیس سال کا تھا وہ۔۔۔سجاد ملک نے کہا

“ہاں تو اِس میں کیا ہے جب ہماری شادی ہوئی تھی تو آپ اُٹھارہ اور میں پندرہ کی تھیں ہمارے خاندان کا یہی رواج چلتا ہوا آیا مگر کیا ہوسکتا ہے اگر نئ نسل کا دماغ خراب ہوتا جارہا ہے دن بدن۔۔۔فائقہ بیگم سرجھٹک کر بولیں تو سجاد ملک نے اِس بار مزید کوئی اور بات نہیں کی۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

شکریہ میری بات کا مان رکھنے کے لیے۔۔۔زوریز جو سوہان کا انتظار کررہا تھا اُس کو آتا دیکھا تو گہری مسکراہٹ سے بولا

“ہمم۔۔سوہان نے جواباً محض ہنکارا بھرا

“گھبرائی ہوئی لگ رہیں ہیں از ایوری تھنگ اوکے؟زوریز نے سوہان کو بار بار پیچھے کی طرف دیکھتا پایا تو سوال کیا

“مجھے ایسا لگا جیسے گھر سے نکلنے سے لیکر اب تک کوئی مجھے فالو کررہا ہے۔۔سوہان نے ہچکچاہٹ سے اُس کو بتایا مگر اُس کی اِتنی بات پر زوریز کے تاثرات یکدم تن سے گئے تھے

“گاڑی وغیرہ کا نمبر نوٹ کیا آپ نے؟”اور اگر آپ کو ایسا لگا بھی تو مجھے کیوں نہیں بتایا آپ کی فون میں اپنا نمبر سجانے کے لیے نہیں دیا ہوا۔۔۔زوریز کا لہجہ سخت سے سخت ہوتا گیا تھا اور سب سے سنجیدہ انداز میں بات کرنے والی سوہان اُس کے ایسے لہجے پر اپنا سرجُھکا گئ تھی جیسے جانے کتنا بڑا جُرم ہوگیا ہو اُس سے۔

محبت روٹھ جاۓ تو ……اسے بانہوں میں لے لینا

بہت ہی پاس کر کے تم ۔۔۔۔۔۔۔ اسے جانے نہیں دینا

وہ دامن چھڑاۓ تو ۔۔۔۔۔۔۔ اسے قسم دے دینا

دلوں کے معاملوں میں تو ۔۔۔۔۔۔ خطائیں ہو جاتی ہیں

تم ان خطاؤں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہانہ مت بنا لینا

محبت روٹھ جاۓ تو ۔۔۔۔۔۔۔ اسے جلدی مانا لینا

“اب چُپ کیوں ہیں جواب دے مجھے۔۔زوریز نے اُس کو کچھ بولتا نہیں دیکھا تو دوبارہ سے سخت لہجے میں مُخاطب ہوا

“میں نے بس آپ کو ایک بات بتائی اور یہ میرا وہم بھی ہوسکتا ہے ازیکلی میں کچھ نہیں کہہ سکتی آپ خوامخواہ اِتنا غُصہ ہورہے ہیں۔۔۔سوہان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا

“یہاں بیٹھے آپ۔۔۔زوریز نے بازو سے پکڑ کر اُس کو چیئر پر بیٹھایا اور خود گُھٹنوں کے بل اُس کے پاس آکر بیٹھا

“ایسا وہم پہلے کبھی محسوس ہوا ہے؟زوریز نے سنجیدگی سے پوچھا

“نہیں۔۔۔سوہان نے اپنا سر نفی میں ہلایا

“آپ کے لیے سیکیوریٹی کا بندوبست میں کردوں گا ابھی ہم کوئی اور بات کرتے ہیں۔۔۔زوریز ایک فیصلے پر پہنچ کر بولا تو سوہان نظریں اُٹھائے حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی

“کیا؟زوریز کو اُس کا ایسے دیکھنا سمجھ نہیں آیا

“سیکیوریٹی سیریسلی؟سوہان نے سرجھٹکا

“اِن چیزوں کا اِتنا لائٹلی نہیں لیا جاتا اور آپ کی جان پر میں کوئی رسک نہیں لے سکتا۔۔۔زوریز اُٹھ کر اٹل انداز میں گویا ہوا

“رسک کیوں نہیں لے سکتے،؟سوہان نے بے ساختہ پوچھا تو زوریز کو چُپ لگ گئ تھی۔

“کوئی جواب نہیں کیا آپ کے پاس؟سوہان اُس کے جواب نہ دینے پر بولی

“جواب ہے۔۔زوریز اُس کو دیکھ کر بولا

“پھر دے کیوں نہیں لے سکتے رسک۔۔سوہان نے کہا

“کیونکہ آپ میری وکیل ہیں اور اگر آپ کو کچھ ہوا تو میرا کیس کون لڑے گا؟”آپ کے بعد تو وہ تو لٹک جائے گا۔۔۔زوریز اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بولا تو سوہان اُس کو دیکھتی رہ گئ۔۔۔

“شہر میں وکیلوں کا کال نہیں آگیا۔۔سوہان نے طنز کہا

“آپ نے ٹیبل کی ارینجمنٹس نہیں دیکھیں۔۔سوہان کی بات کو اگنور کرکے زوریز نے اُس کا دھیان ٹیبل کی طرف کروایا تو سوہان نے چونکتے ہوئے اب اُس پر غور کیا

“جہاں شیشے والی ٹیبل پر پھولوں کے درمیان خوبصورتی سے کیک کو سجایا تھا جہاں ہیپی برٹھ ڈے سوہان بھی لکھا ہوا تھا

“آپ نے اِس لیے آنے کا کہا تھا؟سوہان کو یقین نہیں آیا

“ہاں اِس میں کیا کچھ غلط ہے؟”میں اگر آپ کے گھر میں نہ آتا تو یہی سیلیبریٹ کرتا۔۔۔زوریز نے عام لہجے میں کہا

“اِس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔۔۔سوہان کو عجیب لگا

“مجھے لگا آپ خوش ہوگیں۔۔۔زوریز اُس کے چہرے پر کوئی بھی تاثر نہ پاکر بولا

“میں عام لڑکیوں کی طرح اِن چیزوں پر خوش نہیں ہوتی۔۔۔”اِس لیے آپ مجھے اُن جیسا نہ سمجھے ویسے بھی ہم کوئی ٹین ایجر نہیں ہیں۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“خوشیوں کے لمحات کو محسوس کرنا کیا بس ٹین ایجر کا کام ہوتا ہے؟”میچیور لوگوں کا اُس پر کوئی حق نہیں ہوتا؟زوریز نے پوچھا تو سوہان سے کوئی جواب نہیں بن پایا

“آپ کو میں عام نہیں سمجھتا میں جانتا ہوں آپ عام نہیں خاص ہیں آپ میرے لیے ایک قیمتی موتی ہے۔۔”اُس کو خاموش دیکھ کر زوریز اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بولا

“کیک کٹ کردے پھر مجھے جانا ہے۔۔۔”وقت بہت ہوگیا ہے۔۔سوہان نے اُس کی توجہ دوسری جانب مبذول کروانی چاہی

“ابھی تو آپ آئیں ہیں اور ابھی سے جانے کی بات کررہی ہیں۔۔۔زوریز مدہم سا مسکرایا

“مجھے گھر جلدی جانا ہے بس۔۔۔سوہان نے کہا

“کچھ ہوا ہے؟زوریز نے جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا”وہ اِس وقت پہلے کی نسبت کافی اُلجھی ہوئی اور پریشان سی لگی وگرنہ جب وہ اُن کے گھر تھا تب ایسی کوئی بھی بات اُس نے محسوس نہیں کی تھی۔

“اگر کہوں ہاں تو پھر؟سوہان نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

“تو پھر میں کہوں گا شیئر کریں کیا بات ہے؟زوریز نے آرام سے کہا

“میرے والد آئے تھے ہمارے گھر کی چوکھٹ پر معافی مانگنے۔۔۔اپنے ہاتھوں پر نظریں جمائے سوہان نے بتایا

“پھر؟زوریز نے اپنا ہاتھ ٹھوری پر رکھے اگلا سوال کیا

“پھر نہ میں نے اُن کو چوکھٹ پار کرنے دی اور نہ معاف کیا۔۔۔سوہان نے بتایا

“اچھا کیا۔۔زوریز سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دے کر بولا

“کیا واقعی میں؟

“ہاں کیوں کیا آپ کو اپنے عمل پر کوئی پچھتاوا ہے؟زوریز نے اُس کے پوچھنے پر سوال کیا

“بلکل بھی نہیں بیس سال پہلے اُنہوں نے بھی تو یہی کیا تھا ہمارے ساتھ۔۔۔سوہان سرجھٹک کر بولی

“ہاں تو سہی ہے اُن کو اچھے سے ہونے دے اپنی غلطی کا احساس اُن کو پتا ہونا چاہیے”بعض دفع جذبات میں اندھے ہوکر فیصلے کرنے سے دوسروں کا کتنا نقصان ہوتا ہے”اُن کو کتنا سفر کرنا پڑتا ہے۔۔”یوں اچانک آکر معافی مانگ کر وہ کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں”ویسے مجھے ایک لحاظ سے حیرت ہوئی ہے کہ بیس سال بعد اُن کو غلطی کا احساس ہوا ہے اور وہ معافی مانگنے تک چلے آئے مگر تب جب اُن کے بیٹے کو سزائے موت ہوئی ہے”جب اُن کا اپنا دامن خالی ہوگیا ہے تو اُن کو یاد آیا ہے کہ اُن کی بیٹیاں بھی ہیں اِس دُنیا میں۔۔۔زوریز نے اُس کی حالت کے پیش رفت کہا”اُس کو نوریز ملک جیسے لوگوں پر حیرانی ہوتی تھی کہ دُنیا میں کیسے کیسے لوگ پائے جاتے ہیں

“اگر کورٹ میں اتفاقی ہماری مُلاقات نہ ہوئی ہوتی تو وہ اب بھی نہ آتے۔۔۔سوہان استہزائیہ مسکراہٹ سے بولی

“آپ اگر موو آن کرچُکی ہیں اور یہ بھی سوچ لیا ہے اُن کے ساتھ نہیں جانا تو پھر یہ اُداسی کیسی؟”کیا آپ اپنے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں؟زوریز کو سمجھ نہیں آیا تبھی پوچھ لیا

“اُداسی اِس بات پر ہے کہ کیا کوئی باپ اِتنا سنگدل بھی ہوسکتا ہے۔۔”بیٹیاں اُن کے لیے اِتنی حقیر کیوں ہیں؟”آخر اُن کو ہم پر کبھی رحم کیوں نہیں آیا۔۔۔سوہان نے بنا اُس کو دیکھ کر کہا

“قرآن میں بتایا گیا ہے بیٹیاں رحمت ہوتیں ہیں اور جو اُن کو حقیر سمجھتے ہیں اُن کا وہی حال ہوتا ہے جیسا آپ کے والد کے ساتھ ہورہا ہے”اب اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے نہ بیٹا اور نہ بیٹیاں اولاد ہونے کے باوجود وہ بے اولاد ہیں دُنیا کی ہر آسائش ہونے کے بعد بھی وہ بے سکون ہیں اور سکون جانے کب اُن کو میسر ہو۔۔۔سوہان کے ہاتھوں کو دوبارہ سے اپنی گرفت میں لیکر زوریز اُس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ دے کر بولا

“اب کوئی اور بات کریں؟سوہان اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ کے نیچے سے نکال کر آہستگی سے بولی

“شیور۔۔۔اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر زوریز اُس کی بات پر سر کو خم دے کر بولتا اُس کی طرف نائیف بڑھائی

ایسا لگ رہا ہے آج جیسے میں چھوٹی سی بچی ہوں۔سوہان کا ایک بار پھر منہ بن گیا تھا

“اٹھائیس سال کے ہونے کے بعد اگر کوئی لڑکی شادی نہ کریں تو اِس بات کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ خود کو بچی سمجھتی ہے ابھی تک۔۔۔زوریز اُس کی کے جواب میں بولا

“آپ ہر چیز میں عمر کو کیوں گھسیٹتے ہیں۔۔۔؟سوہان کو اُس کی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔

“اِس میں کچھ غلط ہے کیا؟زوریز نے اُلٹا اُس سے سوال داغا

“کیا آپ نے مجھے میری بڑھتی ہوئی عمر کا احساس کروانے کے لیے یہاں اِنوائٹ کیا تھا؟سوہان نے سنجیدگی سے سوال کیا

“نہیں میں نے تو آپ کا آج کا دن خوبصورت بنانے کے لیے یہاں انوائٹ کیا ہے۔۔۔زوریز نے بتایا

“ٹھیک ہے پھر اب کیک کٹ کردینا چاہیے۔۔۔سوہان نے کہا

“ضرور۔۔۔زوریز نے مثبت جواب دیا تو سوہان نے کیک کاٹ کر تھوڑی ہچکچاہٹ سے کیک کا پیس زوریز کی طرف بڑھایا تھا جو مسکراہٹ دبائے زوریز نے اُس کے ہاتھ سے لیکر کھایا تھا۔”پھر اُس کو بھی کِھلایا جو خلاف توقع اِس بار سوہان نے کوئی بحث کیے بنا کھالیا تھا۔

“مجھے میری ضروری میٹنگ کے سلسلے میں پاکستان سے باہر جانا پڑے گا۔۔زوریز نے کچھ توقع بعد اُس کو بتایا

“آپ کے اُپر کیس ہے اِس درمیان آپ شہر سے باہر بھی نہیں جاسکتے مُلک سے باہر جانا تو بہت دور کی بات ہے اور پڑسو آپ کے کیس کی ہیئرنگ ہے آپ کو اپنا فوکس اُس پر کرنا چاہیے۔۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“مگر میٹنگ بہت ضروری ہے اور اگر میں نہ گیا تو میرا نقصان ہوسکتا ہے۔۔زوریز نے اپنا مسئلہ بیان کیا

“کیس سے ضروری نہیں ہوگا۔۔۔سوہان نے جتایا

“کیس تو بیٹھے بیٹھائے میرے گلے کا ہار بن گیا ہے”جو کو چاہتے ہوئے بھی اُتار نہیں سکتا۔۔زوریز سرجھٹک کر بولا

“کچھ وقت کی بات ہے تب تک آپ اپنی ایسی آفیشل میٹنگز کو ڈیلے کریں یا پھر وہاں آریان کو بھیجے وہ بھی تو آپ کا بھائی ہے وہ سنبھال لے گا سب کچھ۔۔۔سوہان نے مشورہ دیتے کہا

“ٹھیک ہے۔۔۔زوریز نیم رضامند ہوا

“اب مجھے چلنا چاہیے۔۔۔سوہان نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر کہا

“میں آپ کو ڈراپ کردوں گا ڈنر کے بعد۔۔۔زوریز نے اپنا فیصلہ سُنایا اُس کو

“ڈنر؟سوہان نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا

“جی ڈنر وہ بھی آپ کی پسند کا۔۔زوریز نے بتایا

“ناشتہ لنچ”ڈنر یہ تینوں چیزیں میں اپنی بہنوں کے ساتھ کرتیں ہوں”مطلب ہم تینوں ایک ساتھ کرتیں ہیں۔۔۔سوہان نے بتایا

“شادی کے بعد ناشتہ “لنچ”ڈنر آپ کو اپنے شوہر کے ساتھ کرنا ہوگا تو کیوں نہ تھوڑی بہت پریکٹس ابھی سے ہوجائے۔۔۔زوریز اُس کی بات کے جواب میں بولا

“ہم میں سے کسی نے بھی فلحال شادی کے بارے میں نہیں سوچا اور نہ ہمارا ایسا کوئی اِرادہ ہے۔۔”سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“ارادہ باندھنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا اور شروع شروع میں ہر کوئی ایسا کہتا ہے۔۔زوریز شانے اُچکاکر بولا

“آپ کو بہت تجربہ ہے لگتا ہے تو کچھ ایسا ہے۔۔۔سوہان نے سرجھٹکتے ہوئے کہا

“ایسا سمجھ لے خیر میں کہہ رہا تھا میرے ساتھ کچھ کھالے ڈنر میں پھر ہم واک پر چلیں گے ایسے میں آپ کا کھایا پیا سارا ہضم ہوجائے تو دوبارہ آپ اپنی بہنوں کے ساتھ کرنا۔۔۔زوریز نے جیسے سارا پلان ترکیب کیا

“بہت گہرا سوچتے ہیں آپ۔۔سوہان نے طنز کیا

“بس کبھی غرور نہیں کیا۔۔۔زوریز مسکراہٹ سے بولا

“کچھ بھی۔۔۔

“پھر آپ کریں میرے ساتھ ڈنر اُس کے بعد میں چھوڑ آؤں گا آپ کو آپ کے گھر۔۔۔زوریز رلیکس ہوا تھوڑا

“اچھا مگر چلی میں خود جاؤں گی میرے پاس گاڑی ہے۔۔۔سوہان نے اُس کی بات سن کر بتایا

“وہ رینٹ والی کھٹارا گاڑی دوبارہ سے لے لی آپ نے”مجھ سے زیادہ اچھی قسمت تو اُس گاڑی کی ہے۔۔سوہان کی بات پر زوریز بول پڑا تھا مگر آخری الفاظ اُس نے بہت آہستگی سے بڑبڑائے تھے

“وہ کھٹارا گاڑی نہیں ہے اور آپ کے اِن الفاظوں سے میری نسوانیت کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔۔۔سوہان نے کہا

“سیریسلی؟اُس کی آخری بات پر زوریز بے یقین سے اُس کا دیکھنے لگا

“ہاں خیر آرڈر کب تک آئے گا؟سوہان نے پوچھا

“آجائے گا جب کروں گا تو۔۔۔زوریز نے سرسری لہجے میں بتایا

“تو ابھی تک آپ نے آرڈر نہیں کیا؟

“نہیں کوئی ویٹر نظر نہیں آیا تھا پر آپ فکر نہ کریں سب ہوجائے گا۔۔۔زوریز نے اُس کو تسلی بخش جواب دیا

“تھوڑا جلدی کریں فاحا جاگ گئ ہوگی ابھی تک۔۔۔سوہان نے بے چینی سے کہا

“تو کیا ہوا گھر میں اور لوگ بھی تو ہیں وہ سنبھال لے گے اُس کو۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان نے گہری سانس بھری

❤Rimsha Hussain Novels❤

“آپ اُداس ہو؟اقدس نے لالی کو چُپ دیکھا تو اُس سے پوچھا

“نہیں تو آپ کو ایسا کیوں لگا؟لالی نے مسکراکر اُس کو دیکھا جو ڈرائینگ بُک پر لکیر کھینچ رہی تھی

“بس اقدس کو ایسا محسوس ہوا۔۔اقدس نے کندھے اُچکاکر بتایا

“آپ کو ایک بات بتاؤں؟لالی نے کسی خیال کے تحت اُس سے پوچھا

“جی بتائے۔۔۔

“آپ بہت خوشقسمت ہو۔۔۔لالی نے اُس کا ماتھا چوم کر بتایا

“کیا واقعی میں؟لالی کی آنکھوں میں چمک آئی تھی

“ہاں واقعی میں آپ خوشقسمت ہو کیونکہ آپ کے بابا سردار اسیر ملک ہیں۔”جو آپ کی ہر خُواہش کو پورا کرنے میں اپنی زندگی بھی داؤ پر لگاسکتے ہیں۔۔۔لالی نے کہا تو اقدس گہرا مسکرائی تھی۔

“آپ کو پتا ہے ہم بابا سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔”مگر وہ ہماری ایک خواہش کو پورا نہیں کرتے۔۔۔آخر میں اقدس کا چہرہ بُجھ سا گیا

“کونسی خُواہش؟لالی نے جاننا چاہا

“ہمیں ہماری ماں چاہیے آپ کو پتا ہے کہ ہماری مما کہاں ہیں؟اقدس نے سوال پوچھا تو لالی کو چُپ لگ گئ تو اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اب وہ کیا جواب دے

“اقدس آپ کے پاس آپ کے بابا ہیں تو پھر کچھ اور آپ کو کیوں چاہیے؟”آپ کو پتا نہیں ورنہ آپ کی ایسی باتوں سے آپ کے بابا ہرٹ ہوتے ہیں۔۔۔لالی نے اُس کو سمجھانے والے انداز میں کہا

“ہمیں پتا نہیں تھا پر اب اقدس خیال کرے گی۔۔۔اقدس نے سرجُھکاکر کہا

“گُڈ گرل اب یہ بتائے اسکول کب سے شروع ہیں آپ کے؟لالی نے اُس کا دھیان دوسری طرف کروانا چاہا

“ایک ہفتے بعد پھر ہمیں بابا دوبارہ شہر چھوڑ آئے گے۔۔۔لالی نے بُرا منہ بناکر بتانے لگی۔

“یہ تو بہت اچھی بات ہے آپ کو پتا ہے ہم بھی پھر یونی جائے گے اپنے۔۔۔لالی نے اُس کے گال کھینچ کر کہا تو وہ مسکرائی

❤

“تمہیں کیا لگتا ہے تم جو یہ کرتے پِھرتے ہو اُس کا پتا مجھے نہیں لگے گا؟اسیر جب گاؤں واپس آیا تو سجاد ملک نے اُس کے لیے عدالت کھڑی کردی تھی

“آپ بات کو گول مول کرنے کے بجائے اگر صاف طریقے سے کہینگے تو ہمیں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔۔۔”اسیر اُن کی بات کے جواب میں سنجیدگی سے بولا

“نوریز کی بیٹیوں سے کیوں ملتے ہو تم؟”تمہارا کیا تعلق اُن سے؟سجاد ملک اصل بات پر آئے

“ہم سے اُنہوں نے کہا تھا ساتھ چلنے کو تو ہم انکار نہیں کرپائے”دوسرا ہمارا اُن سے کیا تعلق ہے یہ بات آپ خود اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔اسیر نے مختصر جواب دیا

“دیکھو اسیر میں تمہیں سمجھارہا ہوں نوریز کم عقل پر بیٹیوں کی محبت میں اندھا ہوگیا ہے مگر تم ہوش کے ناخن لو۔۔۔سجاد ملک نے سخت لہجے میں اُس سے کہا

“وہ کم عقل کیوں ہے؟اسیر نے جیسے اُن کی کوئی اور بات سُنی ہی نہ تھی

“تم

ایک منٹ۔۔۔۔سجاد ملک ابھی کچھ کہنے والے تھے جب اسیر کا فون رِنگ کرنے لگا تھا اور جب اُس نے اسکرین پر نظر ڈالی تو کوئی انون نمبر دیکھا جس پر اُس نے کال کاٹ کر سجاد ملک کو دیکھا جو غُصیلی نظروں سے اُس کو دیکھ رہے تھے۔

“آپ کیا کہنا چاہ رہے تھے؟اسیر نے پوچھا

“باپ سے بات کرتے ہوئے اپنا فون سوئچ آف کیا کرو۔۔۔سجاد ملک نے تپے ہوئے انداز میں کہا

“آپ کبھی مجھ سے خوش نہیں ہوسکتے۔۔۔اسیر اپنا سر نفی میں ہلاکر بولا

“ہاں کیونکہ بچپن میں تمہیں دیکھ کر جو میں نے اپنی آنکھوں میں خواب سجائے تھے اُن پر تم نے پانی پھیردیا ہے۔۔”سجاد ملک طنز انداز میں بولے

“آپ کے اِس انداز سے اُس سے پہلے ہم بھی غُصے میں آجائے ہم تب بات کرینگے جب آپ کا بلاوجہ کا یہ غُصہ ختم ہوجائے گا۔۔۔اسیر اپنی جگہ سے اُٹھ کر دو ٹوک لہجے میں اُن سے بولا

“اسیر اِس حویلی کا سب کچھ ختم ہوجائے گا اگر وہ تین آئیں یہاں تو۔۔۔۔سجاد ملک کا غُصہ سوا نیزے پر پہنچا

“لگتا ہے کوئی ضروری کال ہے ہم آپ سے بعد میں بات کرتے ہیں۔۔۔اسیر نے اپنا سیل فون بار بار بجتا دیکھا تو اُن سے بولا

“اسیر

معذرت چاہتا ہوں۔۔۔سجاد ملک کچھ کہنا چاہتے تھے مگر اسیر اُن سے معذرت کرتا باہر آیا جہاں اب پھر سے کال آنے لگی تھی۔

السلام علیکم کون بات کررہا ہے؟اسیر کال ریسیو کرتا اپنے ازلی سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں پوچھنے لگا

“اسیر شکر ہے تم نے کال اُٹھالی مجھے تمہارا نمبر بڑی مشکل سے ملا ہے۔۔۔دوسری طرف سے کسی لڑکی کی ہانپتی آواز اسیر کے کانوں سے ٹکرائی

“ہم نے آپ کو پہچانہ نہیں۔۔۔اسیر کے لہجے میں واضع اُلجھن تھی۔

“میں دیبا

دیبا بات کررہی ہوں۔۔۔”اُس نے بتایا تو اسیر کی گرفت اپنے سیل فون پر سخت ہوئی تھی جبکہ کُشادہ پیشانی پر شکنوں کا جال بِچھ گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *