Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 40)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 40)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
بیڑا غرق ہو تم دونوں کا”میرا پاؤں توڑ کر رکھ دیا ہے تم دونوں نے۔۔۔فائقہ بیگم نے جلتی نگاہوں سے اُن کو دیکھ کر کہا
“فائقہ خُدا کا خوف کرو کچھ اور اپنے لہجے پر غور کرو۔۔۔عروج بیگم نے سختی سے اُن کو ٹوکا
“آپ کو میری تکلیف نظر نہیں آرہی؟”یا آپ نے اِن کو چھلانگیں مارتا ہوا نہ دیکھا اِتنی بڑی ہیں مگر زرا تمیز نہیں کہ رہا کیسے جاتا ہے۔”میری لالی کو کبھی آپ نے اپنے کمرے کے علاوہ کہی اور دیکھا ہے؟”کتنا دھیما بولتی ہے میری بچی اور یہ دونوں اِن کی آواز تو پورا گاؤں سُنے گا۔۔۔۔فائقہ بیگم تو پھٹ پڑیں
“ہم چھلانگیں کہاں مار رہے تھے”ہم تو پکڑم پکڑائی کِھیل رہے تھے۔۔۔فاحا نے جلدی سے اُن کو وضاحت دی
“یہ تمہاری قمیض کو کیا ہوا ہے؟”باہر اگر آگئ ہو تو ڈوپٹہ اوڑ کر آنا تھا اور دونوں اپنے بال باندھوں یہاں مرد بھی رہتے ہیں۔۔۔۔اسمارہ بیگم نے دونوں کو دیکھ کر سختی سے کہا
“میں سمجھادوں گی ابھی نئ ہیں یہ دونوں۔۔۔صنم بیگم نے اُن لہجے میں حقارت کو محسوس کیے بیحد آہستہ آواز میں کہا وہ نہیں چاہتی تھیں کہ فاحا یا میشا کا دل خراب ہو
“تم
“ہم تو ایسے رہتے تھے اپنے گھر میں اور ایسے رہینگے”کیونکہ ہم آزاد ہیں اور جن کو ہم سے مسئلہ ہے وہ اپنا قیام کہی اور کردے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔میشا اسمارہ بیگم کو گھورتی چبا چبا کر لفظ ادا کرنے لگی تو وہ جو صنم بیگم کو باتیں سُنانا چاہتی تھیں ناگواری سے میشا کو دیکھنے لگی۔
“پہلے میں اور اب میں فرق ہے۔۔اسمارہ بیگم نے جتایا
“کچن کہاں ہے؟”فاحا کو بھوک لگی ہے۔۔۔فاحا نے جیسے بات کو ختم کرنا چاہا ایسے میں وہ لوگ فائقہ بیگم کو فراموش کرگئے تھے جو کسی کی بھی خود پر توجہ ناپاکر اُٹھ کر چلی گئ تھی۔
“آپ دونوں فریش ہوجاؤ ناشتہ لگواتی ہوں میں۔۔”اور بتاؤ آپ دونوں کو رات نیند اچھی آئی؟عروج بیگم نے مسکراکر اُن کو مُخاطب کیا
“نیند کیوں نہیں آئے گی؟”ضرورت سے زیادہ اِن کو مل گیا ہے۔۔۔جواب اسمارہ بیگم نے دیا تھا۔
“جی نیند اچھی آئی۔۔۔فاحا نے اسمارہ بیگم کو نظرانداز کیے عروج بیگم سے کہا
“فریش ہوجائے آپ دونوں پھر سب کا تعارف کروائے گے ہم۔۔۔عروج بیگم نے کہا
“جی بہتر۔۔۔میشا جواب دیتی اِندر کی طرف جانے لگی
“رُکو دونوں اور بات سُنو۔ ۔۔اُن کو جاتا دیکھ کر اسمارہ بیگم نے روکا
“جی فرمائے؟میشا نے ضبط سے اُن کو دیکھا
“آج پہلی صبح تھی تم دونوں کی اِس لیے درگُزر کردیا مگر کل سے دونوں نے وقت پر اُٹھنا ہے یہاں حویلی میں ہر کوئی پانچ بجتے اُٹھتا ہے گیارہ بجے نہیں۔ ۔۔اسمارہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا
“پانچ بجے؟ فاحا حیرت زدہ ہوئی
“ہاں سہی ہے اور کچھ؟فاحا کو خاموش رہنے کا اِشارہ کرتی میشا نے جیسے بات کو ختم کرنا چاہا
“ابھی کے لیے اِتنا کافی ہے۔ ۔۔اسمارہ بیگم نے گویا اُن پر احسان کیا”جس پر وہ دونوں ایک نظر اُن پر ڈالتی وہاں سے چلی گئ۔ ۔۔
کافی خراب رویہ ہے آپ کا بچیوں کے ساتھ اگر یہ بات نوریز ملک کو پتا چلی نہ تو بہت ناراض ہوگا۔ ۔۔۔عروج بیگم نے افسوس سے اُن کو دیکھ کر کہا
“مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ ۔۔اسمارہ بیگم نے سرجھٹک کر کہا تو اُنہوں نے تھکی ہوئی سانس بحال کی۔ ۔۔

کتنے عجیب لوگ ہیں سب۔۔فاحا کمرے میں داخل ہوتی میشا سے بولی
“تمہیں ہی شوق چڑھا ہوا تھا یہاں آنے کا تو اب بھگتو۔ ۔۔میشا کو جیسے موقع مل گیا
“فاحا کو کیا پتا تھا کہ یہ لوگ اِتنی رسٹریکشن لگائے گے اور پانچ بجے ہم سے اُٹھا کیسے جائے گا؟”آپ مان کیسے گئ اُن کی بات؟فاحا کو اب یاد آیا تو پوچھا
“میں بس معاملہ رفع دفع کرنا چاہا ویسے بھی بور ہورہی تھیں اُن کی باتوں سے میں۔۔۔۔میشا نے بتایا
“ہاں کافی روڈ خاتون ہیں سب۔ ۔۔فاحا بھی اُس کی بات سے متفق ہوئی






“سوہان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر ابھی تھوڑا دور نکلی تھی کہ کسی نے اُس کی گاڑی کے سامنے اپنی گاڑی کھڑی کردی۔ ۔۔۔
“سامنے کھڑی گاڑی کو دیکھتی سوہان نے تعجب سے آس پاس دیکھا جہاں زیادہ لوگوں کا رش نہیں تھا۔۔”کچھ سوچ کر وہ گاڑی سے باہر نکلی تو سامنے سے بھی کوئی گاڑی سے باہر نکلا اور وہ بنا سوہان کو کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کا موقع دیئے ایک ہی جست میں اُس تک پہنچ کر پسٹل کی نال اُس کی پیشانی پہ رکھ دی۔ ۔۔
“اگر جان پیاری ہے تو چُپ چاپ گاڑی میں آکر بیٹھ اور اپنی گاڑی کی چابی مجھے دے۔ ۔وہ لڑکا گھورتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو سوہان سرتا پیر غور سے اُس کو دیکھنے لگی” جیسے جاننے کی کوشش کرنا چاہ رہی ہو مگر اُس کو یاد نہیں آیا کہ وہ کبھی اِس شخص سے کہی ملی ہو۔ ۔
“کون ہو تم؟جواب میں سوہان نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں اُس سے پوچھا
“میں جو بھی ہوں اُس سے تیرا کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے” ابھی جو کہا ہے وہ کرو اور چُپ چاب میری گاڑی میں آکر بیٹھو۔ ۔اُس نے پسٹل کی نال کا دباؤ سر پہ بڑھایا تو سوہان نے لب بھینچ کر ایک بار پھر اپنے اِطراف دیکھا جہاں کسی اور انسان کے وجود کا نام و نشان نہ تھا وہ جان گئ کہ سامنے والا ڈکیتی کا اِرادہ نہیں رکھتا اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنا چہرہ ضرور ہائیڈ کرتا مگر اُس نے ایسا نہیں تھا کیا جس کا مطلب صاف تھا یہ اُس کے خلاف کی گئ سازش تھی۔
“پہلے مجھے اپنا نام بتاؤ۔۔سوہان نے اپنی بات پر زور دیا
“دیکھ لڑکی میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں پہلے ہی تیری وجہ سے میرا بہت نقصان ہوا ہے”تیری وجہ سے میری گولی کا نشان وہ جانا مانا بزنس مین زوریز دُرانی لگا پر اب تو وہ بھی بستر مرگ ہوگیا ہے تو توں زیادہ ہواؤں میں نہ اُڑو اور جو کہا ہے بس وہ کرتی جاؤ۔۔۔اُس نے سب کچھ سوہان کو بتادیا تو وہ جیسے الرٹ ہوئی تھی”مگر اپنے چہرے سے اُس نے کچھ بھی ظاہر ہونے نہیں دیا تھا کیونکہ چہرے کے تاثرات چُھپانے میں تو وہ پہلے سے ماہر تھی۔
“تُجھے سُنائی نہی
“ٹھاہ
“وہ ابھی کچھ کہنے والا تھا جب اچانک سوہان نے بڑی پُھرتی سے اُس کے ہاتھ سے پسٹل اپنے ہاتھ میں لیکر اُس کو ایک بھی سکینڈ کا موقع دیئے بنا ٹریگر دباکر اُس کی ٹانگ کا نشانہ لیا تھا۔ ۔”جس پر وہ آدمی چیختا نیچے بیٹھتا چلاگیا تھا۔
“مجھے واقعی میں کچھ سُنائی نہ دیتا تو اچھا تھا۔ ۔۔”گولی والی جگہ پر اپنا پاؤں رکھ کر سوہان نے سرسراتے لہجے میں کہا تو اُس کے چہرے کے تاثرات عجیب سے عجیب ہوتے گئے تھے”جبکہ اپنی ٹانگ کی غلط جگہ پر سوہان کے پاؤں کا دباؤ اُس آدمی کی سانسیں رُوک رہا تھا۔۔اُس کی چیخ و پُکار جاری تھی جس کو اگنور کرتی سوہان نے اپنی گاڑی سے سیل فون لیکر ایک نمبر ڈائل کیا”مختصر بات کرنے کے بعد وہ اُس آدمی کی طرف متوجہ ہوئی جس کے آس پاس خون ہی خون جمع ہورہا تھا۔
“تم کون ہو؟
“تمہیں مجھے مارنے کے لیے کس نے؟”اور کتنوں میں ہائیر کیا ہے”اِس بات سے اب مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا”بدلا تو میرا تب پورا ہوتا جب میری گولی تمہاری پیٹھ چیرتی جس طرح تمہاری گولی نے زوریز کو تکلیف پُہنچائی ہے وہ تکلیف تمہیں ہوتی تو شاید مجھے مزہ اور سکون دونوں حاصل ہوتا مگر بات یہ ہے کہ اگر میں بھی ویسا کرتی تو ہم دونوں میں کوئی فرق نہیں رہتا دونوں ایک کیٹگری میں شامل ہوجاتے اِس لیے میں نے تمہاری ٹانگ پر گولی ماری تاکہ تمہیں چھوٹی سی سزا بھی مل جائے اور مجھے تھوڑا بہت سکون۔ ۔۔سوہان اُس رستے خون والی جگہ پر دوبارہ سے اپنا پاؤں رکھ کر سرسراتے لہجے میں اُس کو کہا جیسے جانے اُس پر کتنا احسان کرلیا ہو”لیکن اُس کا تو اب دم گُھٹ رہا تھا اُس کو تو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ ایک اکیلی لڑکی اُس کا یہ حال بھی کرسکتی ہے”لڑکی بھی وہ جو شکل سے معصومیت کا پیکر ہو۔۔۔
“تم بول کیوں نہیں رہے؟”چلو یہ سوال چھوڑتی ہوں تمہیں ایک انٹرسٹڈ بات بتاتی ہوں وہ یہ کہ میں نے ایمبولنس کو کال کردی ہے”وہ آئے گی اور تمہیں ہسپتال لے جائے گی”دین تمہارا علاج ہوگا اُس کے بعد تمہیں پولیس اپنی کسٹڈی میں لے گی۔۔سوہان اِتنا کہتے اپنے ہاتھ جہاڑ کر کھڑی ہوئی تو وہ درد سے تڑپتا رحم طلب نظروں سے سوہان کو دیکھنے لگا جس کی نظروں میں اُس کے لیے کوئی رحم نہیں تھا”آخر رحم ہوتا بھی کیوں کونسا کبھی اُس پر کسی نے رحم کیا تھا
“اگر اپنے بوس سے بات ہو تو کہنا نیکسٹ ٹائیم “بیریسٹر سوہان ملک کا راستہ رُکوانے کی غلطی کبھی نہ کریں کیونکہ اگر ایسا اُس نے کیا تو۔میری دوسری گولی اُن کے سینے کے آر پار ہوگی۔سوہان کے لہجے میں ایک کاٹ تھی جس کو ہر کوئی محسوس بخوبی کرسکتا تھا مگر وہ تو اب تکلیف سے نڈھال ہوتا ہوش وحواسوں سے بیگانہ ہوگیا تھا۔۔”جس پر ایک اچٹنی نظر ڈالے سوہان اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئ تھی”اُس کے چہرے کے تاثرات اِس بار قدرے نارمل تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔









“کیا ہوگیا ہے میشا کال کیوں نہیں اُٹھارہی؟ آریان مسلسل میشا کو کال کرتا آہستہ آواز میں بڑبڑایا کیونکہ وہ کافی وقت سے ٹرائے کررہا تھا کہ میشا سے اُس کا رابطہ ہو مگر ایک میشا تھی جو اُس کی کال اُٹھا نہیں رہی تھی”جس پر تھک کر آریان نے اپنا موبائل سائیڈ پر کردیا اور اپنی اور میشا کی ہوئی مُلاقاتوں کو یاد کرنے لگا” آج جانے کیوں اُس کو میشا کی یاد کچھ زیادہ آنے لگی تھی۔

“وہ دیکھ رہی ہو سامنے۔ ۔۔آریان نے شرارت سے میشا کو دیکھ کر کہا جو اپنے کسی ضروری کام سے کورٹ کے باہر کھڑی تھی۔
“ظاہر ہے آنکھوں کی جگہ بٹن فِکس نہیں کیے میں نے۔ ۔میشا نے گھور کر اُس کو جواب دیا جس کو اُس کا جانے کیسے پتا چل جاتا تھا کہ اب وہ کہاں ہوگی جو وہ ہر جگہ اُس کے پاس آجاتا تھا۔ ۔۔
“تو تم کیا دیکھ رہی ہو؟آریان شوخ ہوا
“یہی کہ سامنے لڑکی بیٹھی ہوئی ہے اور تمہاری آوارہ نظریں اُس پر جمی ہوئیں ہیں۔ ۔۔میشا اب طنز کرنے لگی تھی جس پر آریان بُرا مان گیا
“اب یہ بات بھی نہیں ہے تمہارے ہوتے ہوئے میری کیا مجال جو میں کسی اور کو دیکھ بھی پاؤں میں تو بس تمہیں یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ وہ لڑکی یہاں کورٹ میریج کرنے آئی ہے کیونکہ نہ ہم بھی کریں۔۔آریان آخر میں پرجوش ہوا تو میشا نے چونک کر اُس لڑکی کی سمت دوبارہ سے دیکھا مگر اب اُس کی آنکھیں اُس لڑکی کا مکمل طور پر جائزہ لینے لگیں تھیں جو کافی ڈری ہوئی تھی اور بار بار اپنے آگے پیچھے دیکھ رہی تھی جیسے اُس کو کسی کا خوف ہو
“ایک منٹ۔ ۔میشا اُس کو خاموش رہنے کا اِشارہ کرتی اُس لڑکی کی طرف آئی جو بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی۔
السلام علیکم ۔۔۔میشا نے بغور اُس کو دیکھ کر سلام کیا
وعلیکم السلام ۔۔اُس لڑکی نے جواباً بیحد آہستگی سے کہا”آریان جبکہ دور سے اُن کو دیکھ رہا تھا یہ اُس کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ اچانک میشا کو کیا ہوگیا مگر عادت سے مجبور اُس نے بھی اپنے قدم اُن لوگوں کی طرف بڑھائے
“نام کیا ہے تمہارا؟میشا نے باتوں کا سلسلہ جاری رکھا
“ماہم۔ ۔۔اُس لڑکی نے بتایا
“نائیس نیم تو ماہم کیا تمہیں کسی کا اِتنظار ہے؟میشا نے بہت سنجیدگی سے پوچھا
“آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟ماہم کو جِھجھک ہوئی
“جو پوچھا ہے اُس کا جواب دو۔ ۔میشا کے لہجے میں ناگواری در آئی تھی۔
“میشا۔ ۔آریان نے اُس کو ٹوکنا چاہا مگر میشا نے اُس کو نظرانداز کیا
“میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے؟اُس کو چُپ دیکھ کر میشا نے اپنا سوال دوبارہ سے دوہرایا
“جی میں انتظار کررہی ہوں اپنے بوائے فرینڈ کا آج ہم کورٹ میریج کرنے والے ہیں کیونکہ ہمارے گھر والے نہیں مان رہے”تبھی میں نے اور اُس نے بھاگ کر شادی کرنے کا سوچا ہے۔ ۔۔ماہم نے ایک ہی بار میں اُس کو سارا کچھ بتادیا تو میشا کو افسوس ہوا
“تمہیں پتا ہے تم سے پہلے ایک عورت نے بھی تمہاری طرح کورٹ میریج کی تھی” پھر پتا ہے اُس کا انجام کیا ہوا؟میشا نے گہری سانس بھر کر اُس کو بتانے کے بعد آخر میں پوچھا
“کیا ہوا تھا؟”ماہم نے بے ساختہ پوچھا”آریان بھی سوالیہ نظروں سے میشا کو دیکھنے لگا
“شروعات کے نو سال وہ خوشی خوشی اپنی زندگی بسر کررہے تھے”اُن کی بیٹیاں بھی تھیں دو تیسری بھی ہونے لگی تھی
“ماشااللہ
ماشااللہ
“ابھی میشا بتانے لگی تھی”جب تین بیٹیوں کا سُن کر آریان اور ماہم بے ساختہ”ماشااللہ” بولے تو میشا نے ضبط سے اُن دونوں کو دیکھا
“گھروالوں نے اُن کو معاف نہیں کیا تھا پھر اچانک لڑکے کے گھروالے اُس پر مہربان ہوگئے۔ ۔”مگر کہا کہ اِس بار اگر بیٹا ہوا تو ہم تمہاری بیوی کو قبول کردینگے” مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اور جو اُس کا حُکم ہوتا ہے۔ ۔”تیسری بار بھی جب بیٹی ہوئی تو اُس کے شوہر نے تحفے میں طلاق کے کاغذات اُس کو تھمائے۔۔میشا نے مزید بتایا تو ماہم حق دق سی اُس کو دیکھنے لگی”اور آریان کا بھی یہی حال تھا
“بیوی کو تو چھوڑدیا اُس کو حق مہر بھی نہیں دیا اور اپنی بیٹیوں سے بھی ایسے غافل ہوگیا جیسے دُنیا میں کوئی بیٹیاں اُس کی تھیں ہی نہیں خیر وہ آدمی تو اپنی زندگی میں سیٹ ہوگیا مگر وہ عورت اپنی بیٹیوں سمیت رُل گئ۔ ۔میشا نے گہری سانس بھر کر بات کو ختم کیا
“کوئی ایسا کیسے کرسکتا ہے؟ ماہم حیران تھی
“اگر اپنوں کے دل دُکھا کر خوشیوں کی توقع کرو گی تو کل کو تمہارا بھی یہی حال ہوسکتا ہے” میں پسند کی شادی کے خلاف نہیں ہوں مگر کل کو اُن میاں بیوی کا کچھ نہیں ہوتا جو بھاگ کر شادی کرتے ہیں اُن کیا دھرا اُن کی اولاد کو بُھگتا پڑتا ہے تمہیں شاید اِن چیزوں کا سامنا نہ کرنا پڑے مگر کل کو تمہارے بچوں کی پہچان اِس سے ہوگی کہ یہ ایک بھگوری عورت کی اولاد ہے۔”تمہارے بچے ڈپریسد ہوگے اور تمہیں بُرا بھلا بولینگے مگر خیر تم اِتنے آگے کا مت سوچو بس اپنے ہونے والے شوہر سے اِتنا ضرور پوچھنا کہ کیا اُس کو تمہارے بیٹیاں پیدا کرنے سے کوئی مسئلہ تو نہیں؟میشا کے الفاظ بہت سخت تھے مگر اُس نے جو بات جس نیت کے ساتھ کی تھی اُس میں کوئی کھوٹ نہ تھی وہ بس اُس لڑکی کو اِتنا سنگین قدم اُٹھانے سے باز رکھنا چاہتی تھی اور سامنے بیٹھی ماہم کو دیکھ کر میشا کو لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ٹھیری تھی۔ ۔۔”کیونکہ وہ تو خود مجبور ہوکر آئی تھی اور اُس کا ضمیر بار بار اُس کو سمجھانے کی کوشش کررہا تھا پر وہ سُننے کو تیار نہ تھی اور اب جیسے میشا کی باتوں نے آخری کیل ٹھوکی تھی۔

“پیار کی دُشمن کیا ہوگیا ہے کال تو اُٹھادو۔ ۔۔حقیقت کی دُنیا میں واپس آکر آریان منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا”جیسے اُس کے بڑبڑانے پر میشا کال اُٹھا دے گی۔
“آپ کے بھائی آپ کو یاد کررہے تھے۔ایک نرس نے آکر بتایا تو آریان نے اُس کو دیکھ کر سر کو جنبش دی اور زوریز کے پاس آیا
“یہ تم نے کافی پچکانہ حرکتیں کی ہیں۔ ۔۔زوریز آریان کو دیکھ کر دبے دبے الفاظوں میں غرایا
“بِگ برادر غُصہ آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے تو پلیز کول ڈاؤں ہوجائے۔۔۔آریان کو جیسے موقع مل گیا اُس کو تپانے کا
“تمہیں پتا ہے تمہاری حرکتوں کی وجہ سے وہ مجھ سے ناراض ہوکر گئ ہے۔۔۔زوریز کو رہ رہ کر افسوس ہورہا تھا
“اندازہ ہورہا ہے صبح کا گیا شام تک نہیں لوٹا۔۔آریان باز نہیں آیا تھا۔
“بکواس مت کرو۔۔زوریز اُس پر بھڑک اُٹھا
“زوریز یار کیا ہوگیا ہے وہ ناراض ہیں بھی تو کیا ہوگیا واپس تو اُس نے تمہارے پاس آنا ہے وہ کیا کہتے ہیں کہ راستے جدا ہیں مگر منزل ایک ہے تو تمہیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔آریان کا لہجہ آخر میں شوخ ہوگیا تھا۔
“میں ابھی ڈسچارج نہیں ہونا چاہتا۔ ۔۔زوریز نے بس اِتنا کہا
“کیوں ڈسچارج نہیں ہونا؟”یہاں ہمارے کونسے ملازمین کا اڈا ہے جو تمہاری جی حضوری میں مصروف ہوگے۔ ۔آریان نے بھگو کر طنز کیا
“میری حالت خراب ہے۔ ۔زوریز نے دانت پیسے
“نظر آرہا ہے کتنی نازک حالت ہے تمہاری اپنی تکلیف پر اُف نہ کرنے والا اگر اچانک ایک چیز کا رونا ڈالے تو جان جاؤ کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے اور یہ بات میں اچھے سے جان گیا ہوں۔۔آریان نے بتادیا کہ استادوں کے ساتھ اُستادگی نہیں کی جاتی
“اگر پتا ہے تو پھر کیوں کررہے ہو ایسا؟”بھائی ہو یا دُشمن؟زوریز نے افسوس سے اُس کو دیکھا جیسے کوئی بہت نااُمیدی ہوئی ہو آریان سے
“دیکھو بھائی میں ایک بات بتادوں یہاں میں نہیں رُک سکتا اگر مزید یہاں رہا تو میرے لیے الگ وارڈ تمہیں خالی کروانا پڑے گا بات ہے سیدھی۔۔آریان نے کہا تو زوریز جان گیا آریان سے بات کرنا مطلب دیوار پر سر مارنے کے برابر ہے جبھی خاموش ہوگیا








“سُنو لڑکی۔۔۔فاحا حویلی کا جائزہ لینے میں مصروف تھی جب لنگڑا کر چلتی ہوئی فائقہ بیگم نے اُس کو مُخاطب کیا
“میرا نام فاحا ہے۔ ۔۔فاحا نے جلدی سے بتایا
“تمہارے نام کا میں نے اچار نہیں ڈالنا ہے کیا اِس لیے وہ سُنو جو میں بول رہی ہوں۔ ۔۔فائقہ بیگم نے اُس کو گھور کر کہا
“نام کا اچار کون ڈالتا ہے؟فاحا حیرت سے اُن کو دیکھ کر بولی
“زیادہ سیانی بننے کی ضرورت نہیں ہے اور جو صبح تم نے کیا ہے نہ میرے ساتھ اُس کی سزا تمہیں مل کر رہے گی۔ ۔۔فائقہ بیگم نے کہا تو فاحا خوفزدہ ہوئی
“سزا؟فاحا کو ڈر لگنے لگا
“ہاں سزا۔ ۔فائقہ بیگم کے چہرے پر طنز مسکراہٹ آئی”فاحا کو ایسے دیکھ کر گویا اُن کے سینے میں ٹھنڈ پڑگئ تھی۔
“مگر فاحا نے جان کر نہیں کیا۔ ۔۔فاحا نے وضاحت دینے کی کوشش کی
“فاحا نے جان کر کیا یا نہیں مگر میں نے تمہارے لیے سزا تجویز کردی ہے۔ ۔۔”فائقہ بیگم نے دو ٹوک لہجے میں کہا
“کونسی سزا منتخب کی ہے؟فاحا سرجُھکائے پوچھنے لگی اُس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا کہ جانے کیا سزا اب اُس کو ملے گی جس کو کرنے کے علاوہ اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
“تمہاری سزا یہ ہے کہ دو دن تک کچن کا سارا کام تم کرو گی صفائی سے لیکر برتن دھونا اور کھانا پکانے کی ساری زمیداری تمہاری ہوگی”تمہیں یہ بات بھی واضع کردوں کہ حویلی میں موجود ہر افراد الگ الگ ڈیش کھانا پسند کرتا ہے۔ ۔”دوسرا اُن کو کھانا وقت پر چاہیے ہوتا ہے تمہیں اُس پر کوئی بھی راعت نہیں ملی گی۔ ۔۔فائقہ بیگم نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے کہا تو فاحا جو ڈر سے کانپنے لگی تھی سراُٹھائے حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی”وہ تو جانے کیا سوچے ہوئے تھی کہ جانے کیا سزا ملے گی اُس کو پر ملی بھی تو کیسی سزا؟ “جو اُس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی” ایسے موقعے تو وہ خود تلاش کرتی تھی جو بن کہے اُس کو اِس بار مل گیا تھا ویسے بھی صبح سے وہ بور ہورہی تھی۔ ۔دوسری طرف فائقہ بیگم نے یہ سوچ کر کچن کی زمیداری اُس کو دی تھی کہ شہر کی لڑکیاں اکثر کچن کے کاموں سے دور بھاگا کرتیں تھیں مگر وہ انجان تھیں کہ فاحا اُن سے بیحد مختلف تھی۔”کچن میں کھانا پکانے سے تو وہ فخر محسوس کیا کرتی تھی۔
