Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 01)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

مُبارک ہو اللہ کی رحمت ہوئی ہے۔آپ کی بیگم نے ایک خوبصورت بیٹی کو جنم دیا ہے۔۔۔۔لیڈی ڈاکٹر نے مسکراکر بتایا تو نوریز ملک جو اُمید بھری نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھ رہے تھے “بیٹی”لفظ پہ اُن کو شدید مایوسی نے آ گھیرا شاید غُصے نے بھی”

لو جی ایک اور بیٹی۔۔۔۔۔ایک خاتون حقارت سے بولی جو رشتے میں “نوریز ملک”کی بھابھی تھیں۔۔۔

نوریز ملک اپنا واعدہ یاد ہے نہ؟سجاد مُلک موچھو کو تاؤ دے کر بولے اُن کے برابر ہی اُن کا آٹھ سال بیٹا اسیر ملک بیٹھا ہوا تھا جو حددرجہ کوفت کا شکار تھا۔

جی بھائی جان۔۔۔نوریز ملک سنجیدگی سے بے لچک آواز میں بولے تو سجاد ملک اور اُن کی بیگم فائقہ کے چہرے پہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔

ٹھیک ہے پھر گاؤں چلنے کی تیاری کرو اور ہاں اپنی بیوی کے لیے نوٹ یہاں چھوڑ کر جانا تاکہ وہ اپنے سبز قدم ہماری حویلی میں نہ رکھے۔۔۔۔حقارت بھرے لہجے میں کہہ کر سجاد ملک بینچ سے اُٹھ کھڑا ہوا تو اسیر بھی بینچ سے اُترا

سوہان اور میشا۔۔۔۔نوریز ملک نے ہچکچاہٹ سے کچھ کہنا چاہا مگر اپنے بھائی اور بھابھی کی گھوریوں نے سرجُھکانے پہ اُس کو مجبور کرلیا۔۔

تیری بیٹی سوہان اصل منحوس ہے جس کے آتے ہی تیری بیوی نے بیٹی کے اُپر بیٹی دی ہے۔۔۔ارے اگر ہمارے خلاف جاکے توں اُس بدبخت سے شادی نہ کرتا تو آج تیرے اگل بگل تیرے وارث ہوتے نہ کے یہ بیٹیاں مگر تمہارے سر پہ تو عشق معشوق کا بھوت ناچ رہا تھا جو شکر ہے دس سال بعد اُترنے والا ہے۔۔۔۔فائقہ بیگم بینچ پہ ہر چیز سے بے نیاز لیٹی ہوئی آٹھ سالہ “سوہان” اور پانچ سالہ”میشا”کی طرف اِشارہ کرکے اپنے جاہل ہونے کا ثبوت دیا۔۔

آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اِن دونوں کا میں نے کرنا بھی کیا ہے خوامخواہ میرے سر پہ ناچے گی یہ دونوں آپ ٹھیک کہتی ہیں یہ بیٹیاں کسی کام کی نہیں ہوتی۔۔نوریز ملک سرجھٹک کر بولا تو فائقہ بیگم کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آئی تھی وہی اسیر کی نظر اپنی ماں کی گود میں موجود اپنی چار سالہ بہن”لالی”پر پڑی

بابا اور اماں حضور پھر تو لالی کو بھی یہی چھوڑ جائے سوہان یا میشا روندو تو نہیں یہ لالی تو اِتنا روتی ہے کانوں میں درد پڑجاتا ہے۔۔۔آٹھ سالہ اسیر منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولا تو سجاد ملک اپنی جگہ پہلو بدلتے رہ گئے وہی فائقہ بیگم نے اپنے لاڈلے سپوت کو گھورا

اسیر شرم کر لالی تیری بہن ہے اور کون اپنی چھوٹی بہن کے بارے میں ایسے بولتا ہے۔۔۔فائقہ بیگم سوئی ہوئی “لالی”کو اپنے سینے میں بھینچ کر اسیر کو آنکھیں دِکھاکر بولی تو وہ چپ ہوگیا”شاید وہ سمجھ نہیں پایا تھا اگر سوہان اور میشا منحوس ہیں وہ گاؤں نہیں آسکتی تو لالی کیوں اُن کے ساتھ چل رہی ہے؟وہ بھی تو ایک لڑکی ہے۔۔۔مگر وہ بچہ تھا اپنے ماں باپ کے دماغ میں موجود خُراقات کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔۔۔

چلو۔۔۔سجاد ملک نے سنجیدگی سے نوریز سے کہا تو وہ اپنا سرہلاتا اُن کے ساتھ جانے والا تھا” جب عین ٹائیم نے اُن کے ہاتھ کی انگلی پکڑی

پاپا آپ کہاں جارہے ہیں؟کیا امی کو ہوش آگیا؟سوہان اپنی آنکھیں مسلتی معصوم لہجے میں پوچھنے لگی تو نوریز ملک نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے دور کیا۔۔۔۔

مجھے نہیں پتا۔۔۔۔نوریز ملک اُس معصوم بچی کو بے رخی سے جواب دے کر کوریڈور سے جانے لگے۔۔سجاد ملک اور فائقہ بھی اُن کے پچھے روانہ ہوئے

پاپا رکے تو۔کہاں جارہے ہیں۔۔؟سوہان جلدی سے بینچ سے اُتر کر اُن کے پیچھے جانے لگی مگر اسیر جو آہستہ چل رہا تھا اُس کے راستے میں حائل ہوا اور بولا

بابا حضور نے کہا ہے کے تم بہنوں اور تمہاری ماں کسی کام نہیں ہیں اِس لیے وہ اب تمہیں یہی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔۔۔۔”سوہان”کو اسیر کی باتوں کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا مگر اُس میں ہمت بھی نہیں تھی کے وہ اب اپنے باپ کے پیچھے جاتی۔

بھوت لگی ہے۔۔۔۔آٹھ سالہ سوہان اسٹل کھڑی تھی جب میشا خُرماں خُرماں چلتی اُس کے کندھے پہ سررکھ کر نیند سے ڈوبی آواز میں بولی تو سوہان نے چونک کر اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا پھر اپنے خالی ہاتھوں کو۔۔۔کل سے بھوکی تو وہ خود بھی تھی”جب رات میں نوریز دونوں کو لیے سینڈوچ لایا تھا تو اُس نے کھانے سے منع کیا تھا۔۔کیونکہ میشا خالی پیٹ ہہ سوئی ہوئی تھی۔۔اور اُس کو میشا کے بغیر کچھ کھانا سہی نہیں لگا تھا اِس لیے وہ خود بھی ایسے سوگئ تھی۔۔۔

امی کے پاس چلتے ہیں۔۔۔۔وہ دے گی کھانے کو کچھ۔۔۔۔۔سوہان اُس کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے چھوٹے ہاتھ میں تھام کر بولی

مگر وہ تو ایمار (بیمار)ہے۔۔۔۔میشا نے تعجب سے کہا

ارے بدھو وہ بیمار نہیں ہے اُن کا آپریش ہوا ہے اور امی نے بتایا تھا اِس بار ہمارا بھائی آئے گا۔۔۔سوہان نے مسکراکر بتایا

تو کیا لِٹل مائی (بھائی)آگیا؟میشا کی آنکھیں”بھائی”لفظ پہ چمکی

یہ تو امی کے پاس جائے گے تو پتا چلے گا نہ۔۔۔۔سوہان نے اپنے سر پہ ہاتھ مار کر بتایا

تو ہم کیلے(اکیلے)تیا تر (کیا کر)رہے ہیں؟ہمیں امی تے پاس ہونا چاہیے۔۔۔میشا نے کہا تبھی کسی کے چیخو کی آواز نے دونوں کو سہمنے پہ مجبور کیا

یہ تو امی کی آواز ہے۔۔۔سوہان کی آواز بڑبڑاہٹ سے زیادہ نہیں تھی۔”وہ میشا کا ہاتھ پکڑے چیخو کے تعاقب میں آئی تو ایک وارڈ میں اپنی امی کو تیز تیز چِلاتا دیکھ کر وہ حیران ہوئی جبکہ میشا اُس کے ساتھ چپک کر کھڑی ڈری ہوئی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔

Aslhan control your self.

ڈاکٹر نے پریشانی سے اُس کو دیکھ کر کہا جو اپنے ہاتھ میں لگی ڈرپ کو نوچ کر نکال رہی تھی۔۔

کیسے کنٹرول کروں ؟ہاں کیسے یہ میری بیٹی نہیں ہے”اُس نے جھولے میں نومولود بچے کی طرف اِشارہ کیا چیخ کر کہا تو سوہان جھٹ سے جھولے کے پاس بڑھی

تمہاری بیٹی ہے یہ کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ڈاکٹر حیرانی سے اب کی بولی

میں نے خود الٹرا ساؤنڈ کروایاں تھا مجھے منہاز نے بیٹا بتایا تھا تم سب نے میرا بچہ ایکسچینج کیا ہے۔۔۔اسلحان اپنے بال نوچنے کے قریب تھی۔۔۔تیسری بار “بیٹی”سن کر وہ جیسے ایک عذاب میں دھنس گئ تھی۔۔۔وہاں موجود نرسز ڈاکٹرز حیرت سے اُس کا ردعمل دیکھ رہی تھیں۔۔۔

امی نہیں یہ ہماری بہن ہے دیکھے اِس کی ٹھوڑی پہ تِل ہے جیسے آپ کو ہے۔۔۔سوہان اُس بچی کے چہرے سے کمبل ہٹاکر اشتیاق سے بتانے لگی۔۔۔

مجھے بیٹا چاہیے ڈاکٹر پلیز مجھے یہ نہیں چاہیے میرے شوہر کو پتا نہ لگے کے مجھے بیٹی ہوئی ہے آپ پلیز کسی کا بیٹا مجھے لاکر دے اور یہ وہاں چھوڑ آئے۔۔۔اسلحان ہاتھ جوڑ کر اُن سے بولی تو سب حق دق رہ گئے۔۔۔۔”میشا سوہان کے پاس آتی اُس نومولود بچے کو دیکھنے لگی جس نے شور کی آواز سے سن کر اپنی آنکھیں کُھولی تھی۔۔

کتنی پیاری ہے نہ؟سوہان نے پرجوش آواز میں کہہ کر اُس بچی کا گال چوما تو اُس نے رونا شروع کردیا۔۔۔

روندو۔۔۔۔میشا نے منہ کے زاویئے بگاڑے اور پیچھے ہٹ گئ۔۔۔

اِس کو بھوک لگی ہے شاید۔۔۔۔ایک نرس نے کہا تو اسلحان نے نفرت سے سرجھٹکا

بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں آپ کیوں ناشکری بن رہی ہیں آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کے اللہ آپ سے خوش ہے کیونکہ اللہ جس سے خوش ہوتا ہے وہاں اپنی رحمت بھیجتا ہے بیٹی کی صورت میں”بیٹا یا بیٹی کے چکروں میں نہ پڑے اولاد کی قدر اُن سے جانے جن کے پاس بیٹی یا بیٹا دونوں میں سے کوئی بھی نہیں اور وہ سالوں سے اولاد کی نعمت سے ترس رہے ہیں۔۔۔۔دوسری نرس کو “اسلحان”کی باتیں پسند نہیں آئی تو کہا مگر اُس کی باتوں کا “اسلحان پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔

موم اِس کو بھوک لگی ہے۔۔۔اِس بار سوہان نے اُس کو مُخاطب کیا

بھاڑ میں جھونکو اِس کو اور اِس کی بھوک کو۔۔۔اسلحان چیخی تو سوہان نے سہم کر اُس کو دیکھا پھر افسردگی سے روتی ہوئی بچی کو۔۔۔”ڈاکٹر نے ایک ترحم بھری نظر اسلحان پہ ڈالی پھر پاس کھڑی نرس سے کچھ کہا جس کو سن وہ سر کو جنبش دیتی کاٹ کی طرف بڑھی

کہاں لے جارہی ہو میری بہن کو؟نرس اُس بچی کو اُٹھانے والی تھی”جب سوہان نے جلدی سے اپنے چھوٹے ہاتھوں کا گہرا اُس بچی پر کیا اُس کی دیکھا دیکھی میں میشا نے بھی یہی کیا تھا جس پر نرس مسکرائی تھی۔۔

یہی ہیں اِس کو فیڈ کروانا ہے تبھی لے جارہی ہوں تم دونوں کی ماں سے تو کوئی اُمید نہیں اور تم دونوں بھی ساتھ آؤ اور ناشتہ کرو۔۔۔۔نرس نے نرمی سے جواب دیا “سوہان نے اپنے ہاتھ پیچھے کرلیے وہی”ناشتے”کا لفظ سن کر میشا کی بھوکی چمک اُٹھی

یہ ہماری بہن ہے فاحا۔۔۔۔سوہان آہستگی سے بڑبڑاتی نرس کے پیچھے گئ

اسلحان تمہاری پڑھائی تمہارا ایجوکیشن حاصل کرنا آج جیسے رائیگان گیا۔۔۔۔لیڈی ڈاکٹر نے نرس کے ساتھ بچیوں کو جاتا دیکھ کر بعد میں “اسلحان سے کہا جو اُس کی دوست بھی تھی۔

تمہیں میری تکلیف کا اندازہ نہیں سویرا تمہیں کیا لگتا ہے میں خوشی خوشی یہ سب کررہی ہوں نوریز نے مجھے وارن کیا تھا کے اگر اپنے سسرال میں جگہ بنانی ہے تو اُن کو بیٹا دینا ہوگا ورنہ وہ مجھ سے تعلق ختم کردے گا اور یہ میں ہرگز نہیں چاہوں گی “تمہیں پتا ہے نوریز کے لیے میں نے اپنے بھائی کا گھر چھوڑا تھا۔۔”اگر میں اب جاؤں بھی تو وہ اِتنے سالوں بعد مجھے قبول نہیں کرے گا۔۔اسلحان زخمی لہجے میں بتانے لگی۔۔

کیسے قبول کرے گے وہ تمہیں ؟مرضی کے خلاف شادی کی تھی تم نے”اور نوریز کی بات بھی خوب کہی بیٹا یا بیٹی یہ تو اللہ کے فیصلے ہیں وہ چاہے جس کو بیٹا دے جس کو بیٹی یہ تمہارے یا میرے ہاتھ میں نہیں تم اچھا سوچو نوریز سے بات کرو اپنی معصوم بچی کا چہرہ دیکھو گی تو سارا “غُصہ ساری فرسٹریشن ختم ہوجائے گی بہت پیاری اور معصوم پری ہے۔۔اور اِتنی پیاری بچی سے کوئی بھی باپ منہ نہیں موڑ سکتا نوریز تو بلکل بھی نہیں وہ تو تمہارا عاشق ہے پکا والا۔۔۔۔سویرا نے آخر میں اُس کو چھیڑا تو اسلحان پہلی بار مسکرائی اُس کی باتوں سے اُس کو کچھ ڈھارس ملی تھی۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

اپنا اور اپنے بھائی کا بہت سارا خیال رکھنا تم دونوں کو ساتھ لے چلتی مگر تمہارے ایکزامز ہیں۔۔۔۔ثانیہ دورانی نے اپنے دس سالہ بیٹے زوریز کے گال چوم کر محبت سے کہا

موم آپ آریان کو لے جاسکتی ہیں اور پیپرز میرے ہیں اِس کے نہیں۔۔۔زوریز بیحد سنجیدہ لہجے میں اپنے آٹھ سالہ بھائی آریان کی طرف اِشارہ کیے کہا جو ٹی وی پر ویڈیو گیم کِھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔

چھوٹا ہے بزنس ٹرپ بھی ہے تبھی ساتھ لیکر نہیں جارہے مگر تم نے کسی کو تنگ نہیں کرنا اور نہ کسی سے روڈ ہونا ہے۔۔ ثانیہ دورانی نے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا تبھی واشروم سے وجدان دورانی باہر آئے

سامان پِیک کروالیا؟وجدان دورانی نے آریان کو گود میں اُٹھائے اپنی بیوی سے پوچھا

جی گاڑی میں بھی رکھوالیا ہے۔۔۔ثانیہ دورانی مسکراکر بتایا

چیمپ امتحانوں کی تیاری کیسی ہے؟وجدان دورانی نے اِس بار زوریز کو مُخاطب کیا

بہت اچھی زوریز نے جواب دیا

چلیں بیگم؟وجدان دُرانی زوریز کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ثانیہ دُرانی سے پوچھا

جی چلیں۔۔۔۔ثانیہ دُرانی اپنے دو بیٹوں کو ایک بار پھر باری باری پیار کرتی اُن کو جواب دینے لگی۔

خیریت ہے بیگم دل نہیں چاہ رہا کیا؟وجدان دُرانی نے شرارت سے پوچھا

سچ کہوں تو جی بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا اِن دونوں کو چھوڑ کر جانے کا۔۔۔۔ثانیہ دُرانی کے لہجے میں اُداسی تھی

ہم کوشش کرتے ہیں جلدی واپس آنے کی آپ آئے۔۔۔اُنہوں نے مسکراکر ثانیہ بیگم کو اپنے حصار میں لیا

ٹھیک ہے بچہ لوگ اپنا بہت خیال رکھنا اور کسی بھی تائی جان یا تایا جان یا اُن میں سے کسی کے بچوں سے لڑائی وغیرہ نہ کرنا۔۔۔وجدان نے جاتے جاتے ہوئے ایک بار پھر اُن سے کہا

آپ سی سی ٹی وی کیمرہ ہماری گردنوں میں چسپاں دے۔۔۔۔آریان نے بڑی معصومیت سے کہا جس پر وجدان اور ثانیہ ہنس پڑے

وقت آیا تو ایسا بھی کروں گا ابھی ہم چلتے ہیں۔۔۔وجدان نے کہا اور ثانیہ کو لیے باہر آئے۔

السلام علیکم بھابھی۔۔۔۔وہ لوگ باہر آئے تو وجدان کی نظر اپنے بڑے بھائی کی بیوی پر پڑی تو سلام کیا

وعلیکم السلام ۔۔۔اُنہوں نے لیے دیئے انداز میں سلام کیا

ہمیں کسی ضروری کام سے لاہور جانا پڑ رہا ہے تو آپ پلیز زوریز اور آریان کی تھوڑی بہت دیکھ بھال کرلیجئے گا ویسے میں نے میڈ سے بول دیا ہے پر وہ دونوں کہاں اُن کی بات مانتے ہیں۔۔۔۔ثانیہ نے اُن ہلکی مسکراہٹ سے کہا

سب پتا ہے ضروری کام کے بہانے تم میاں بیوی سیر سپاٹوں میں نکل جاتے ہو”بھئ نکلوں گے بھی کیوں نہیں پئسا ہے اور جہاں پئسا ہوگا وہاں کیسے ممکن ہے کہ عیاشی نہ ہو۔۔۔۔”پر تم دونوں نہ اپنی اولادوں کو ساتھ لیکر جایا کرو خوامخواہ ہمارے سروں میں درد پڑجاتا ہے پھر۔۔۔وجدان کی بھابھی نصرت کو جیسے موقع مل گیا اُن کو سُنانے کا

بھابھی اگر ہمیں سیر سپاٹوں میں جانا ہوگا تو ہم یہ چُھُپائے گے نہیں اور اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لیکر جائینگے مگر بات یہ ہے کہ ہمیں بزنس میٹنگ میں جانا پڑ رہا ہے۔۔ وجدان نے سنجیدگی سے کہا اور ثانیہ کو اپنے پیچھے آنے کا اِشارہ کیا تو وہ ایک نظر نصرت پر ڈالتی اُن کے پیچھے گئ۔۔۔۔

سچ کہوں تو میرے بس میں ہو تو زوریز اور آریان کو اُن کی نانی کی طرف چھوڑ آؤں مگر اِن دونوں وہ بھی سمر ویکیشن کی چُھٹیوں پر گئے ہیں۔۔۔۔ثانیہ وجدان کے ساتھ پورچ میں آتی اُن سے بولی

دل چھوٹا نہیں کرو نصرت بھابھی زبان کی کڑوی ہیں مگر دیکھنا ہمارے بچوں کا بہت خیال رکھے گی۔۔۔وجدان نے اُن کو تسلی کروائی تو وہ فقط سرہلانے لگی۔۔۔۔

عمیر دُرانی نے دو شادیاں کی ہوئیں تھیں”جس میں پہلی بیوی میں اُن کا ایک بیٹا تھا وجدان دُرانی تھا تو دوسری بیوی جو پہلی بیوی کے مرنے پر اُنہوں نے اپنے والدین کے دباؤ میں کی تھی اُن میں سے اُن کے پہلے ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے۔۔”بیٹی کا نام ازکیٰ تھا اور ایک بیٹے کا نام کمال تھا تو دوسرے کا نام جمال تھا”ازکیٰ اپنی شادی کے بعد لنڈن چلی گئ تھی اپنے شوہر کے ساتھ “باقی وہ تینوں بھائی ایک ساتھ رہا کرتے تھے”وجدان دُرانی بڑے تھے تو اُنہوں نے ہمیشہ بڑپن کا مُظاہرہ کیا تھا سگے سوتیلے کا فرق اُنہوں نے کبھی درمیان میں لانے نہیں دیا تھا مگر اُن کے بھائیوں کی سوچ اُن سے حددرجہ مُختلف تھی۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

نہیں

نہیں”

یہ جھوٹ ہے۔۔۔۔اسلحان حق دق سی اپنے ہاتھ میں موجود لیٹر کو دیکھ رہی تھی جس میں نوریز نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ اب اُن دونوں کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں وہ اُس کو طلاق نہیں دے گا مگر ساتھ رکھے گا بھی نہیں اُس کو”بیٹا چاہیے تھا بیٹیاں نہیں۔۔۔۔۔۔

اسلحان حوصلہ رکھو۔۔۔ڈاکٹر سویرا نے تاسف سے اُس کو دیکھا جس نے اپنی حالت بگاڑ لی تھی۔۔۔

حوصلہ؟

سچ میں سویرا اِتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی تم چاہتی ہو میں حوصلہ رکھوں؟وہ نوریز جو میری محبت کا دعویدار تھا جس نے میرے ساتھ جینے مرنے کی قسم اُٹھائی تھی وہ مجھے محض اِس وجہ سے چھوڑ چُکا ہے کیونکہ میں نے تین بیٹیوں کو جنم دیا ہے۔۔۔اسلحان بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

اب کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔سویرا خود پریشان تھی۔

میں جاؤں گی نوریز کے پاس اُس کو اپنے فیصلے کے بارے میں ایک بار پھر سوچنا چاہیے۔۔۔۔۔اسلحان ایک نتیجے پر پہنچ کر بولی

اُس نے تمہیں طلاق کے پیپرز بھیجے ہیں پھر کیا رہتا ہے بات کرنے کے لیے تم ذرا ہوش کے ناخن لو۔۔۔۔سویرا نے اُس کو سمجھانا چاہا مگر اسلحان اِس وقت کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی پوزیشن میں تھی کہاں

وہ مجھے چھوڑ نہیں سکتا میں اُس کی بچیوں کی ماں ہوں اور وہ جانتا ہے میرا اُس کے علاوہ کوئی نہیں۔۔۔اسلحان ہذہاتی انداز میں چلائی تھی

چھوڑنے کی وجہ یہ بچیاں ہیں اور وہ سب جانتا ہے اُس کے باوجود تمہیں چھوڑنے کا فیصلہ کرچُکا ہے۔۔۔سویرا نے جیسا جتایا تھا جبکہ اُس کی باتیں سن کر اسلحان کچھ بول نہیں پائی تھی۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آریان کھانا کھالوں۔۔۔۔۔۔میڈ اُن دونوں کے لیے کھانا لائی تو زوریز نے اُچھلتے کودتے آریان سے کہا جس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ رات کے وقت سونے کے بجائے نئ گیم شروع کرلیتا

آتا ہوں..آریان بال کو کیک مارتا زوریز کی طرف آیا

صدف آپا۔۔۔۔زوریز نے میڈ کو جاتا دیکھا تو اُس کو آواز دی

جی زوریز بابا۔۔۔۔وہ فورن سے اُس کی طرف متوجہ ہوئی

موم ڈیڈ کا نمبر تو ڈائل کرکے دے۔۔۔۔۔زوریز نے کہا تو وہ سراثبات میں ہلاتی کمرے میں موجود سیل فون کی طرف آئی اور وجدان دُرانی کا نمبر ڈائل کرنے لگی جو تیسری بیل پر ریسیو ہوا

سلام صاحب

ابھی صدف نے اِتنا ہی کہا تھا کہ دوسری طرف جو اُس کو خبریں سُنائی دی اُس پر وہ بے ساختہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھتی زوریر کو دیکھنے لگی جو نوالہ بناتا آریان کو کھانا کِھلارہا تھا مگر نظریں اُس پر جمی ہوئیں تھیں۔۔۔۔

کیا ہوا؟زوریز نے اُس کی اُڑی رنگت دیکھی تو پوچھا تو صدف بس رونے لگی۔۔۔۔۔”جس پر آریان نے بھی گردن موڑ کر اُس کو دیکھا

بیگم اور صاحب کا بُری طرح سے ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اُن کو ہوسپٹل لے گئے تھے کال اُٹھانے والا پولیس والا تھا۔۔۔۔صدف نے روتے ہوئے بتایا تو دس سالہ زوریر اپنی پوری آنکھیں پھاڑے اُس کو دیکھنے لگا جو رونے میں مشغول تھی کیونکہ ثانیہ دُورانی اُس کا خیال اپنی چھوٹی بہن کی طرح رکھتی تھی کبھی اُس کو گھر کی ملازمہ نہیں سمجھا تھا۔۔

آریان جو پہلے کھانا کھارہا تھا صدف کو پہلے روتا ہوا اور پھر جب زوریر کے ایسے تاثرات دیکھے تو اُس نے گلا پھاڑ کر رونا شروع کردیا تھا۔۔۔”جبکہ دل کی دھڑکن بے ترتیب اور آنکھوں میں نمی زوریر کی بھی آئیں تھی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

موم فاحا کو بھوگ لگی ہے شاید۔۔۔۔۔سوہان نے گاڑی میں بیٹھی اسلحان سے کہا تو اُس نے جن نظروں سے سوہان کو دیکھا وہ بیچاری سرجُھکانے پر مجبور ہوگئ مگر جس طرح وہ معصوم کلی رو رہی تھی ایسے میں اُس کو بھی رونا آرہا تھا۔۔۔۔

یہ تھلاؤ(کِھلاؤ)میشا جو چاکلیٹ کھارہی تھی وہ سوہان کی طرف بڑھایا

اِتنی چھوٹی ہے یہ۔۔۔۔سوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھا تو میشا نے کندھے اُچکائے مگر فاحا کے رونے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا تھا اب تو بیک ویو مرر سے ڈرائیور بھی کافی حیرانگی سے اسلحان کو دیکھ رہا تھا جس کے کانوں میں جوں تک نہیں پڑی تھی اور فاحا کو بھی سوہان کی گود میں بیٹھایا ہوا تھا جس کے اپنے بازو سُن ہوگئے تھے۔۔۔۔

“آگے کا رستہ کچا ہے میڈم۔۔۔۔ایک جگہ پر گاڑی روک کر ڈرائیور نے اُس سے کہا تو اسلحان گاڑی سے اُتری تو اُس کی دیکھا دیکھی میں میشا بھی اُتری جبکہ سوہان فاحا کی وجہ سے بہت آہستہ سے گاڑی سے اُتری جو اپنا گلا خُشک کرنے کے بعد سوگئ تھی شاید اُس کو لگ گیا تھا پتا کہ اُس کی سُننے والا کوئی نہیں

کاش میرے پاس دودھ ہوتا۔۔۔۔۔فاحا کو دیکھتی سوہان نے حسرت سے سوچا تھا۔

یہی کھڑے رہنا ہے یا اپنے باپ کے پاس بھی چلنا ہے۔۔۔اسلحان نے سخت نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا تو میشا آنکھیں چھوٹی کیے اپنی ماں کو دیکھا جس نے کبھی بھی اُن کو ڈانٹا نہیں تھا ہمیشہ نازوں سے پلا تھا اور کچھ دنوں سے وہ بس اُن کو سخت گھوریوں سے نواز رہی تھی جس کی سمجھ اُس کو نہیں آ رہی تھی۔۔۔

تلو(چلو)۔۔۔۔میشا نے سوہان سے کہا تو وہ فاحا کے پسینے سے شرابور چہرے پر پھونکیں مارتی اسلحان کے پیچھے چلنے لگی۔۔۔۔۔”اِس وقت وہ آٹھ سال کی بچی نہیں لگ رہی تھی جس کو کھیل کود کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا بلکہ اِس وقت وہ ایک بہن بنی تھی جس کو بس اپنی چھوٹی بہن کی فکر تھی جیسے پہلے اُس کی بھوک کی تو اب پیدل چلنے کی وجہ سے سورج کی تپش سے اُس کا جو پسینہ نکل رہا تھا کیونکہ اسلحان نے فاحا کے لیے کچھ نہیں لیا تھا۔۔۔۔

بی بی جی کہاں؟وہ ایک شاندار حویلی کے گیٹ کے پاس پہنچے تو چوکیدار نے اُس کو روک دیا

میں نوریز کی بیوی ہوں مجھے اندر جانا ہے۔۔۔۔اسلحان اُس کو دیکھتی بتانے لگی۔

آپ لوگوں کا جانا ممکن نہیں جائے واپس ہمیں منع کیا ہوا ہے۔۔۔چوکیدار نے کہا تو اسلحان حق دق سی اُس کو دیکھنے لگی

ایسے کیسے منع کیا ہوا ہے میں اُس کی بیوی ہوں اور یہ اُس کی بچیاں ہیں۔۔۔”سامنے سے ہٹو مجھے اندر جانا ہے۔۔۔۔اسلحان نے اِس بار اپنا لہجہ سخت بنایا

دیکھے ہمیں جو حُکم ملا ہے ہمیں وہ کرینگے آپ جائے۔۔۔چوکیدار بدلحاظی سے بولتا اُس کو دھکا دینے لگا تو اسلحان نے خود کو تو گِرنے سے بچالیا تھا مگر اُس کے پیچھے کھڑی میشا بُرے طریقے سے گِری تھی اور وہی بیٹھ کر اُس نے رونا شروع کرلیا تھا مگر اسلحان اُس کو دیکھنے کے بجائے زور زبردستی کرکے گیٹ کراس کرگئ تھی۔۔

میشو اُٹھو ہمت کرو۔۔۔۔۔سوہان فاحا کو سنبھالتی پریشانی سے اُس کو دیکھنے لگی جو اُس کے کہنے پر مزید رونا شروع ہوگئ تھی۔۔۔تو سوہان نے آہستہ سے جُھک کر فاحا کو نیچے لیٹایا اور خود اُس کی طرف آئی

“مجھے دیکھاؤ کیا ہوا ہے؟سوہان نے اپنے چھوٹے ہاتھوں سے اُس کا پاؤں اپنی طرف کیا

موم دندی(گندی)

میشا بار بار یہ الفاظ دوہراتی رونا شروع کرگئ تھی اور اُس کے شور سے فاحا نے بھی دوبارہ رونا شروع کیا تو سوہان نے روہانسی نظروں سے اُن کو دیکھا تھا پھر خالی گیٹ کو اب تو اُس کا بھی دل شدت سے چاہ رہا تھا رونے کو پر اگر وہ روتی تو اُن دونوں کو کون سنبھالتا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *