Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 07)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

میشو پانی پِلانا۔۔۔۔اسلحان دیر کو گھر آتی اُونچی آواز میں میشا سے بولی تو چھ سالہ فاحا جو پانی کی بوتل لیکر سوہان کے پاس جانے لگی تھی چونک کر اسلحان کو دیکھا جو صوفے پر بیک ٹکائے لیٹنے والے انداز میں بیٹھی تھی”اُس کو ایسے دیکھ کر فاحا سوہان کے کمرے جانے کے بجائے خُرما خُرما چلتی اسلحان کے پاس آئی۔

امی پانی۔۔۔۔فاحا نے اُس کا کندھا ہِلاکر پانی کا بتایا تو اسلحان نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی اور اپنے سامنے فاحا کو دیکھا تو ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا

دفع ہوجاؤ تم میری نظروں کے سامنے سے کتنی بار کہا ہے اپنا یہ منحوس چہرہ میرے سامنے مت لایا کرو۔۔۔اسلحان اُس کے ہاتھ سے بوتل چھین کر دور پھینکتی سخت غُصیلے انداز میں بولی تو فاحا کا پورا وجود کانپ اُٹھا تھا”اسلحان کے ایسے انداز پر فاحا سہم گئ تھی۔۔۔”جبکہ اُس کی اُونچی آواز سن کر اِس بار سوہان اور میشا دونوں کمرے سے باہر آئیں تھیں

کیا ہوا امی۔۔۔۔میشا نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

فاحا تم اپنی آپو کے پاس آؤ۔۔۔۔سوہان ایک نظر اسلحان پر ڈالے کانپتی ہوئی فاحا سے بولی مگر وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں تھی

لے جاؤ اِس کو اور بس اپنے کمرے تک محدود رکھا کرو میرے سامنے آتی ہے تو میرا خون کھول اُٹھتا ہے۔۔۔۔اسلحان تپے ہوئے لہجے میں اب کی سوہان سے بولی تھی”فاحا کو اُس کی باتیں سمجھ تو نہیں آئی تھی مگر جیسا اُس کا انداز تھا وہ بہت خراب تھا”ایسے تو کبھی کسی نے اُس سے بات نہیں کی تھی اگر کی بھی تھی تو اُس نے جس کو وہ”امی”کہا کرتی تھی۔۔۔۔

امی پلیز فاحی سے بات کرتے ہوئے آپ اپنا لہجہ ہتک آمیز نہ بنایا کرے۔۔۔۔میشا نے سنجیدگی سے کہہ کر فاحا کو اپنی گود میں اُٹھایا تھا۔۔۔

رہنے دو کوئی فائدہ نہیں یہ تو اپنے خساروں کا زمیدار اِس معصوم کو سمجھتی ہیں”مگر سچ تو یہ ہے امی کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ آپ کی اپنی بدولت ہوا ہے۔۔۔نا آپ اپنے جان چِھڑکنے والے بھائی کی محبت کو ٹھکرا کر کسی غیرمحرم کا ہاتھ پکڑتی اور نہ آج ہم یوں آئے دن گھر بدلتے رہتے۔۔۔۔سوہان سرجھٹک کر بولی تو اسلحان کا پورا چہرہ غُصے سے سُرخ ہوا تھا

چٹاخ

بے حیا”بے شرم میں تم سب پر اپنی جوانی خرچ کررہی ہوں”اپنا آپ مار کر تم لوگوں کو خوش کرنے کی کوششوں میں ہوں اور تم اپنی ماں کے سامنے زبان چلا رہی ہو۔۔۔۔”کرو گی بھی کیوں نہیں خون بھی تو اُس کمینے نوریز کا ہے نہ۔۔۔۔اپنی جگہ سے اُٹھ کر ایک زوردار تھپڑ اُس کے گال پر مار کر اسلحان چیخ کر بولی تھی جس پر سوہان اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر ہونٹ بھینچ گئ تھی مگر فاحا نے اب زور سے رونا شروع کرلیا تھا

میں بس اِتنا چاہتی ہوں کہ فاحا معصوم ہے اُس کو منحوس نہ بولا کرے اُس کے کوڑے دماغ پر آپ کی باتیں اپنا گہرا چھوڑ سکتی ہیں”میں نے اور میشو نے اپنا بچپن کھودیا ہے فاحا کا نہیں چاہتے کہ وہ بچپن میں اپنا بچپنا چھوڑ دے اگر اُس کے لیے آپ کے اندر رحم نہیں تو کوئی بات نہیں ہم دونوں اور بُوا عاشر کافی ہے بس آپ اپنے زہریلے الفاظ اُس کے لیے نہ استعمال کرے۔۔۔۔سوہان اِتنا کہتی وہاں سے چلی گئ”میشا بھی ایک نظر اسلحان پر ڈالے فاحا کو لیئے باہر چلی گئ اور سیدھا بُوا کے گھر آئی تھی جو اپنے گھر کو تالا لگارہی تھی۔

بُوا کہی جارہی ہیں کیا آپ؟میشا نے پوچھا

ہاں بچے سبزیاں لینی ہے اور کچن کا ہلکہ پُلکہ سامان اور یہ ہماری فاحا کو ضرور تم نے مارا ہوگا۔۔۔۔بُوا اُس کو جواب دینے لگی تو جب نظر روتی بسورتی فاحا پر گئ تو مشکوک نظروں سے میشا کو دیکھا

میرے علاوہ بھی اِس کو رُلانے والے بہت ہیں۔۔۔میشا آہستگی سے بڑبڑائی تھی

کیا کہا؟بُوا نے اُس کو گھورا

میں کہہ رہی تھی کہ فاحا کو بھی ساتھ لے جائے اِس کا اسکول بیگ خراب ہوگیا ہے مطلب پُرانہ ہوگیا ہے وہ لائیے گا”پیسے جب “سوہان بڑی ہوگی تو آپ کو دے دی۔۔۔۔میشا کان کی لو کھجاکر بولی

شرم کر میں نے کبھی فاحا کو عاشر اور حاشر سے الگ سمجھا ہے کیا یہ تو ہم سب کی جان ہے۔۔۔۔بُوا نے عادت سے مجبور ہوکر اُس کے ماتھے پر چپت لگائی

آپ کو تو پتا ہے نہ امی اِس پر خرچ نہیں کرتی دوسرا ہمیں پاکٹ منی بھی مختصر ملتی ہے۔۔۔۔میشا کو تھوڑی شرمندگی ہوئی

ارے میشو بیٹا آج اِتنا ایموشنل کیوں ہو۔۔۔”اب ہٹو سامنے سے ہمیں جانے دو ورنہ دیر ہوجائے گی۔۔۔بُوا نے اُس کو سامنے سے ہٹایا

بُوا گُڑیا بھی لینی۔۔۔۔فاحا نے کہا تو میشا نے اپنا پیٹ کر اُس کو گھورا

اِس کی یہ فضول خواہش پوری کرنے کی ضرورت نہیں بیگ تو سستا ہے مگر جو گُڑیا ہے وہ مہنگی ہے بہت۔۔”اور فاحی تم نہ اپنی حیثیت دیکھ کر چیزیں پسند کیا کرو۔۔۔۔میشا بُوا سے کہتی آخر میں فاحا سے بولی تو اُس کا منہ اُترگیا

میشو۔۔۔۔بُوا نے اُس کو تنبیہہ کی

بُوا آپ کو نہیں پتا اِس کی وجہ سے سوہان پریشان رہتی ہے مگر اِس کا فرمائشی پروگرام ختم نہیں ہوتا۔۔۔۔میشا سرجھٹک کر بولی

تم زیادہ اِس کی اماں مت بنو۔۔۔۔بُوا اُس کو لتاڑتی فاحا کو لیے باہر نکلتی گئ تو میشا نے گہری سانس بھر کر اُن کی پشت کو دیکھا تھا

❤
❤
❤
❤
❤
❤

تمہاری شِکایات بہت آتیں ہیں اسیر اسکول سے اگر ایسا رہا تو آگے چل کر کسی بھی کالج میں تمہارا ایڈمیشن بہت مشکل سے ہوگا۔۔۔۔نوریز ملک چودہ سالہ اسیر سے بولے جو صوفے پر بیٹھا اپنا پاؤں فرش پر مار رہا تھا۔۔۔۔

ہم نہیں کہتے کہ آؤ اور ہم سے پنگا لو اگر کوئی اسیر ملک سے پنگا لے گا تو اسیر ملک اُن کا منہ بھی توڑدے گا۔۔۔۔اسیر شدید غُصے کے عالم میں بولا تو نوریز ملک نے گہری سانس ہوا سُپرد کی

غُصہ نہیں کرتے اسیر اور یہ مار پیٹ کرنا اچھی بات نہیں ہوتی۔۔۔۔نوریز ملک رسانیت سے بولا

ہمیں گاؤں جانا ہے بہت پڑھ لیا ہم نے یہاں۔۔۔اسیر نے جیسے بات ختم کرنا چاہی

اسیر۔۔۔۔نوریز نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

تایا جان پلیز آپ یہ آنکھیں اپنے بچوں کو دِکھایا کرے اسیر ملک کسی سے نہیں ڈرتا۔۔۔۔۔اسیر بدتمیزی سے بولا تو نوریز ملک خاموش ہوا”وہ جانتا تھا اسیر کو سنبھالنا کسی کے بس کی بات نہیں تھا”سجاد ملک کے لاڈ پیار اور فائقہ کی بے جا حمایت نے اُس کو خودسر اور ضدی بنایا تھا تو دوسرا وہ خاندان کا پہلا بیٹا تھا سجاد ملک کے بعد ہونے والا سردار اسیر ملک جس کا غرور اُس کو اِسی عمر میں تھا اپنے سامنے وہ کسی کو کچھ سمجھتا نہیں تھا اور نہ چھوٹے بڑوں کا لحاظ اُس میں پایا جاتا تھا۔۔۔۔”اپنے عمر کے بچوں سے لڑنا مار پیٹ کرنا تو اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا جیسے

چلو۔۔۔۔۔نوریز ملک اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولا تو اسیر بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا

ماں جی نے ہم سے کہا تھا لالی کی کورس والی کتابیں لانی ہیں۔۔۔۔”وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے تو اسیر کو یاد آیا تو اُس نے نوریز سے کہا

ہممم گاڑی میں بُک اسٹور پر کرتا ہوں پر اسیر تم ابھی چھوٹے ہو اگر تم ابھی اپنے آپ پر قابو میں نہیں لاؤ گے تو بعد میں تمہارے لیے مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے۔۔۔نوریز نے پھر سے کہا

تایا جان ہم نے کسی کا قتل نہیں کیا اِس لیے آپ پریشان نہ ہو”ڈرائیور گاڑی تیز چلاؤ۔۔۔اسیر بیزاری سے نوریز کو جواب دیتا آخر میں ڈرائیور سے بولا تو اِس بار نوریز نے دوبارہ اُس کو مُخاطب نہیں کیا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

ایک کلو پیاس اور ایک کلو”ٹماٹر دو بھئ۔۔۔۔بُوا فاحا کو اپنی گود سے اُتارے سبزی والے سے بولی تو فاحا یہاں وہاں دیکھنے لگی تو اُس کی نظر دور ایک بچی پر پڑی جس کے پاس بہت پیاری ڈول تھی یہ دیکھ کر فاحا نے اپنے قدم اُس کی طرف بڑھائے تھے۔۔۔

گُڑیا۔۔۔۔فاحا آہستہ آہستہ چلتی اب روڈ کے قریب آکر”بس گُڑیا لفظ دوہرانے لگی تھی اور”بُوا سبزیاں لینے میں اور سبزی والے سے بحث کرنے میں اِتنا مگن تھی کہ اُس نے فاحا کا جانا محسوس ہی نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔

گُڑیاااا۔۔۔۔۔۔۔وہ بچی اپنی ماں کے ساتھ رکشے میں بیٹھ کر چلی گئ تو فاحا نے اپنی طرف سے اُس کو روکنا چاہا مگر بے سود پھر جب اُس نے اپنے چاروں اِطراف دیکھا تو بُوا کو ناپاکر وہ رونا شروع کرتی یہاں سے وہاں جانے لگی تبھی ایک تیز رفتار گاڑی اُس کی طرف آنے لگی تھی جس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر فاحا کا رونا مزید چیخوں میں تبدیل ہوگیا تھا مگر اُس پہلے گاڑی اُس کو لگتی کسی نے فاحا کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔۔۔

اندھی ہو کیا؟”یا بڑی گاڑی نظر نہیں آتی۔۔۔۔اسیر جو نوریز کے کسی کام کی وجہ سے خود بھی گاڑی سے باہر آیا تھا پر جب اُس نے ایک بچی کو سڑک پر روتا دیکھا تو سختی سے اُس کا نازک بازو کھینچ کر سائیڈ پر کیا مگر فاحا نے رونا ختم نہیں کیا تھا اور اسیر کو تو شروع سے روتے بسورتے بچوں سے اکتاہٹ ہوا کرتی تھی اور اب بھی یہی ہوا تھا

“تمہاری امی کہاں ہے؟اسیر نے کچھ توقع بعد اُس کا رونا کم محسوس کیا تو پوچھا

گھر۔۔۔۔فاحا نے سوں سوں کرکے بتایا

تو تم یہاں کیا کررہی ہو؟اسیر نے حیرت سے اُس کو دیکھا۔

بُوا”گُڑیا مجھے گُڑیا لینی ہے۔۔۔۔فاحا کو اچانک گُڑیا یاد آئی تو پھر سے رونے لگی

یہاں تم کہاں سے گُڑیا نظر آئی۔۔۔۔۔اسیر نے اُس کی عقل پر ماتم کیا”جبھی وہاں نوریز ملک آیا تھا

اسیر کون ہے یہ؟نوریز ناسمجھی سے کبھی اُس کو دیکھتا تو کبھی چھوٹی سی فاحا کو

“یہ گُم ہوگئ ہے۔۔۔۔اسیر نے فاحا کی طرف اِشارہ کیا

بیٹا آپ کے ممی پاپا کہاں ہے؟”نوریز فاحا کے گُھٹنوں کے بیٹھتا پوچھنے لگا تو وہ بس اُس کا چہرہ دیکھنے لگی لگی۔۔۔”کتنا بدقسمت باپ تھا وہ جو اپنی اولاد سے پوچھ رہا تھا کہ تمہارا باپ کون ہے؟”اُس کو تو یہ تک پتا نہیں تھا جس کو وہ مسکراکر دیکھ رہا تھا یہ وہ چہرہ تھا جس کا چہرہ دیکھنے سے اُس نے انکار کردیا تھا۔۔۔

پپ پایا کیا ہوتا ہے؟فاحا نے آنکھیں بڑی بڑی کیے اُس سے پوچھا

تم یہاں کس کے ساتھ آئی ہو؟”یہ بتاؤ بس۔۔۔۔اسیر مدعے کی بات پر آیا تھا

مجھے گُڑیا چاہیے۔۔۔۔۔فاحا اُن کو دیکھ کر بولی

پاگل لڑکی یہاں گُڑیا نہیں بینڈیا اور کریلے ہیں کہو تو وہ دے۔۔۔اسیر نے دانت پیس کر کہا تو اُس کے لہجے میں فاحا ڈر کر نوریز کے قریب ہوئی

اسیر بچی ہے ڈراؤ نہیں اِس کو۔۔۔۔۔نوریز اسیر کو کہہ کر فاحا کو اپنی بانہوں میں بھرا تھا”اور خلاف توقع اُس کی گود میں آکر فاحا روئی بھی نہیں تھی

اِس بچی کو سب پتا ہے مگر یہ نہیں پتا کہ آئی کس کے ساتھ ہے”نیچے اُتارے اِسے اور چلے یہاں سے۔۔۔۔اسیر طنز ہوا

ایسے کیسے اکیلی بچی کو تنہا چھوڑدے۔۔۔”تم جاؤ گاڑی میں بیٹھو میں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ کس کے ساتھ آئی ہے یہ۔۔۔۔۔نوریز نے سنجیدگی سے کہا”پر شاید وہ بھول گیا تھا کہ چھوڑ تو وہ بہت پہلے چُکا تھا اپنی بیٹیوں کو

ہمیں انتظار پسند نہیں آپ جلدی آنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔اسیر اِتنا کہتا چلاگیا تھا اُس کے جانے کے بعد نوریز نے فاحا کو دیکھا جس نے اپنے منہ میں انگلیاں ڈالی تھیں

بھوک لگی ہے کیا؟نوریز نے اندازہ لگایا

بُوا۔۔۔۔۔فاحا کو”بُوا”اب یاد آئی تھی۔۔۔

اچھا تو تم اپنی بُوا کے ساتھ آئی ہو چلو پھر اُس کو ڈھونڈتے ہیں۔۔۔۔نوریز اُس کی بات پر مسکراکر کہتا اُس کے منہ سے اُنگلیاں نکالی تو فاحا یہاں سے وہاں دیکھنے لگی۔۔۔۔

❤

ہائے اللہ فاحا کہاں چلی گئ تم۔۔۔۔بُوا نے اپنی طرف سے فاحا کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر اُس کو فاحا کہی نظر نہیں آئی یکایک اُس کی نظر اسیر پر پڑی جو اپنی گاڑی کی طرف جارہا تھا۔

سُنو بچے۔۔۔۔۔بُوا نے اسیر کو مُخاطب کیا

ہم بچے نہیں ہیں۔۔۔۔اسیر ایک نظر اُن کے پریشان چہرے پر ڈال کر بولا

ہاں ہاں جو بھی یہ بتاؤ تم نے بچی کو دیکھا چھ سال کی تھی اور ریڈ کلر کی فراق پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔بُوا نے پوچھا تو اسیر بغور اُس کو دیکھنے لگا

روندو کے بارے میں پوچھ رہی ہیں جس کا ایکسیڈنٹ ہونے والا تھا؟اسیر نے پرسوچ نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو بُوا کا ہاتھ اپنے سینے پر پڑا

ہاں میری بچی فاحا کا ایکسیڈنٹ۔۔۔۔بُوا اپنا سر پیٹنے لگی۔۔۔

اووو آنٹی کچھ نہیں ہوا آپ کی بچی کو میرے تایا جان کی گود میں ہے یہاں سے سیدھا جاکر ٹرن لے نظر آئے گی۔۔۔۔”گُڑیا گُڑیا کہتی۔۔۔۔اسیر نے سرجھٹک کر اُس کو بتایا

مجھے وہاں لے چلو نہ۔۔۔۔۔بُوا نے کہا تو اسیر پہلے انکار کرنے والا تھا مگر پھر اُس نے انکار نہیں کیا

آئے۔۔۔۔اسیر نے اُس کو اپنے پیچھے آنے کا اِشارہ کیا تو ابھی وہ کچھ قدم ہی آگے بڑھے تھے جب نوریز ملک اُن کو آتا دیکھائی دیا جس کے کندھے پر سر رکھے فاحا آرام سے آنکھیں موندیں ہوئی تھی

فاحا۔۔۔۔بُوا جلدی میں نوریز ملک سے فاحا کو لینے لگی پر فاحا نوریز سے چپک گئ تھی۔۔

چھوڑو۔۔۔۔۔فاحا اپنے چھوٹے ہاتھوں سے نوریز ملک کے کندھے تھامتی بولی

فاحا کیا ہوا بیٹے۔۔۔”لگتا ہے ناراض ہوگئ ہے۔۔۔بُوا کو فاحا کا انداز عجیب لگا جبھی اُس نے زبردستی فاحا کو اپنی گود میں لیا تو وہ ہاتھوں پاؤں چلاتی رونے لگی

“اِس کو لگتا ہے گُڑیا چاہیے۔۔۔اسیر اندازہ لگاتا بولا

میں لیکر دوں گی نہ بچے پر پہلے بیگ لیتے ہیں۔۔۔۔بُوا اُس کو پچکارنے لگی جو ایک بار پھر نوریز ملک کے پاس جانے کے لیے مچل رہی تھی

آپ کو بُرا نہ لگے تو ہم لیکر دیتے ہیں”ویسے بھی پاس میں بچوں کے کِھلونوں کی دُکان ہے۔۔۔نوریز ملک بوا کو دیکھ کر بولے

بِن باپ کی بچی ہے کبھی کسی مرد کا پیار “بھائی یا باپ کی صورت میں نہیں دیکھا آپ کا لمس نیا تھا تو شاید یہی وجہ ہے”معاف کرنا مگر آپ کا شکریہ۔۔۔۔بوا فاحا کی پیٹھ سہلاتی بولی تو نوریز ملک نے فاحا کو دیکھا۔۔”جس کی ٹھوڑی کے نیچے موجود تِل اُن کو کسی کی یاد دِلوا گیا تھا

بہت پیاری بچی ہے۔۔۔۔نوریز ملک فاحا کے گال چھو کر بے ساختہ بول پڑے

ماشااللہ۔۔۔بُوا نے مسکراکر فاحا کو دیکھا

روندو بھی ہے۔۔۔اسیر نے اپنا بولنا ضرور سمجھا

باتونی بھی ہے۔۔بُوا بُرا مانے بغیر لقمہ دے کر بولی تو نوریز ملک مسکرا پڑے

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تم آج اُداس ہو؟سوہان نے اپنی کلاس فیلو سے پوچھا جو اکثر اُس کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتی تھی۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔اُس نے مختصر بتایا

کیوں؟سوہان نے بے ساختہ پوچھا

میرے ڈیڈ کی طبیعت کل بہت خراب ہوگئ تھی اور پتا ہے کیا اپنی ایسی حالت میں بھی اُن کو بس یہ تھا کہ اگر اُن کو کچھ ہوگیا تو ہمارا کیا ہوگا؟”مطلب یار یہ ماں باپ اپنے بچوں کے لیے کتنے سینسٹو ہوتے ہیں اور اُن کے لیے کتنی اسٹرگل کرتے ہے۔۔۔۔۔وہ بولی تو سوہان چُپ ہوگئ تھی۔۔۔۔

اچھا تم نے کبھی اپنے بارے میں نہیں بتایا”تمہارے ڈیڈ کیا کرتے ہیں اور کیا اُن کا اپنا بزنس ہے”میرے ڈیڈ کو جاب کرتے ہیں جس سے پورے گھر کا گُزارا ہوتا ہے باقی کچھ نہیں ہوتا ہمارے پاس تمہارے ڈیڈ کے پاس کیا ہے؟سوہان کو چُپ دیکھ کر اُس نے خود ہی دوبارہ بولنا شروع کیا۔۔۔

ہمارے باپ کے پاس سب کچھ ہے سوائے ہمارے۔۔۔اُس کے سوال پر سوہان کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی تھی

مطلب؟وہ سمجھ نہیں پائی

چھوڑو بس تمہارے والدین کو اللہ صحت والی زندگی عطا فرمائے۔۔۔۔۔سوہان نے ٹالنے والے انداز میں کہا

آمین۔۔۔۔وہ جذب سے بولی تھی

❤
❤
❤
❤
❤

شیر کا بیٹا ہے اگر مار کُٹائی تھوڑی کر بھی لی تو کوئی قباحت نہیں۔۔غرور اور تکبر سے بھرپور لہجہ سن کر آٹھ سالہ فاحا نے چونک کر اپنے ساتھ کھڑے سولہ سالہ اسیر کو دیکھا

ہششش۔۔

فاحا نے اِشارے سے اُس کو اپنے جانب متوجہ کرنا چاہا

کیا ہے؟سرد لہجہ

کیا تمہارے بابا نے شیر کو کِس کیا تھا؟فاحا نے رازدرانہ انداز میں اُس سے پوچھا تو اسیر نے غُصے بھری نظروں سے فاحا کو دیکھا

دماغ ٹھیک ہے تمہارا ہمارے ابا حضور کیوں شیر کو کس کرنے لگے۔۔۔اسیر نے دانت پیس کر اُس کو دیکھ کر کہا

نہیں وہ میں نے کل کارٹون نیٹ ورک میں کارٹون دیکھے تھے چھوٹا بیم اُس میں جو راجکماری اِندو متی ہوتی ہے نہ وہ مینڈک کو کس کرتی ہے پھر یہ ہوتا ہے کے راجکماری خود مینڈک بن جاتی ہے اور جو مینڈک ہوتا ہے وہ انسان بن جاتا ہے۔۔۔۔فاحا نے معصوم لہجے میں اُس کو دیکھ کر بتایا تو اُس کی بات سن کر اسیر کا دماغ گھوم گیا

اگر تم چاہتی ہو ہم یہاں کھڑے کھڑے تمہیں مینڈکی نہ بنائے تو خاموش رہو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔اسیر نے سخت لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا تو اُس کی بات سن کر فاحا ڈر کر پرنسپل کی آفس سے باہر بھاگ گئ تو اُس کا تصادم سوہان سے ہوا

فاحا تم یہان ہمارے کالج میں کیوں؟فاحا کو سیدھا کھڑا کرتی سوہان نے خاصی تعجب بھری نظروں سے اُس کو دیکھا

وہ آپو میں جب اسکول جانے والی تھی تو کالج کے باہر یہاں کے ایک لڑکے نے دوسرے لڑکے سے شاید لڑائی کی تھی”تو جس نے مار کھائی اُس کے بابا مجھے یہاں لائے تاکہ میں یہاں کے لڑکے یعنی جس نے مارا اُس کے اُپر گواہی دوں تاکہ پرنسپل مارنے والے کو کالج سے اسپیل کردے۔۔۔فاحا پُھولی ہوئی سانس کے درمیان جواب دینے لگی

اچھا تو تم اب گواہیاں دیتی پِھروں گی۔۔۔سوہان نے مصنوعی گھوری سے اُس کو نوازہ تھا

ارے نہیں نہ میں تو آفس میں گئ تھی مگر بولا کچھ نہیں وہ لڑکا کافی غُصے والا ہے مجھے بولا کہ میں تمہیں مینڈکی بنا ڈالوں گا بھلا میں مینڈکی بن کر اچھی لگوں گی کیا؟فاحا منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی تو سوہان مسکرائی

کسی نے مذاق کیا ہے تمہارے ساتھ خیر تم سیدھا اپنے اسکول جانا میں چھوڑنے آتی مگر یہ میری کلاس کا وقت ہے۔۔۔۔سوہان نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر کہا

ڈونٹ وری میں چلی جاؤں گی۔۔۔۔فاحا مسکراکر کہتی اُس کے برابر سے گُزرگئ تھی جبکہ سوہان نے بھی اپنا رُخ اپنی کلاس کی طرف کیا تھا

“لالا لالا لوری

پیار کی کٹوری

کٹوری میں پستا

کالج کے بار ہوگیا تماشا

آہ آہ

فاحا کو اُچھلتی کودتی کالج کا گیٹ کراس کرنے والی تھی تو اچانک اُس کے شوز کے تسمے کُھل گئے”جن کو دیکھ کر بے اختیار اُس نے رونا شروع کیا تو”پرنسپل کی آفس سے باہر آتا اسیر جو گراؤنڈ میں آیا تھا فاحا کو روتا اور باقیوں کو اُس پر ہنستا دیکھا تو ناچاہتے ہوئے بھی اپنے قدم اُس کی طرف بڑھائے تو اُس کو دیکھ کر ہر کوئی اپنی کلاس کی طرف بڑھنے لگا

“کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا

“قسمے ٹوٹ گئ۔۔۔۔فاحا نے روتے ہوئے بتایا

کیا؟اسیر نے حیرت سے اُس کو دیکھا

قسمے ٹوٹ گئ۔۔۔۔۔اِس بار فاحا نے قدرے اُونچی آواز میں بتایا

اِس عمر میں قسمے اُٹھانے کا کہتا کون ہے۔”اب رونا بند کرو اور اپنے گھر جاؤ۔۔۔اسیر سرجھٹک کر بولا

بتایا جو قسمے ٹوٹ گئ اب اگر چلوں گی تو گِر جاؤں گی۔۔۔فاحا نے سوں سوں کرکے بتایا تو اسیر کی نظر اب اُس کے پاؤں پر گئ تو شوز کے”تسمے کُھلے دیکھ کر اُس نے خشمگین نظروں سے فاحا کو دیکھا

تسمے ہیں یہ قسمے نہیں۔۔۔۔اسیر نے طنز کہا

قسمے ہو یا کچھ اور اب میں کیا کروں۔۔۔۔فاحا نے کوئی اثر نہیں لیا

کرنا کیا ہے اِس کو باندھو اور گھر جاؤ اپنے۔۔۔۔۔اسیر نے آرام سے کہا

باندھنا نہیں آتا۔۔۔۔”آپو باندھتی ہیں اکثر۔۔۔۔فاحا نے بتایا

اب تمہاری آپو کو کہاں سے لائے ایسا کرو شوز اُتارو اور ہاتھوں میں لیکر چلی جاؤ۔۔۔۔اسیر کچھ سوچ کر بولا

دیکھے میں آپ کی وجہ سے یہاں آئی ہوں تو آپ کا فرض بنتا ہے میری مدد کرنا پلیز یہ باندھ دے۔۔۔۔”میں نے تو آپ کی شکایت بھی پرنسپل کو نہیں لگائی۔۔۔فاحا معصومیت سے بولی تو جواباً اسیر اُس کو ایسے دیکھنے لگا جیسے فاحا کا دماغ ہِل گیا ہو

اسیر ملک ہیں ہم۔۔۔اسیر نے غُصیلے انداز میں اُس سے کہا

ہم نہیں آپ میں تو فاحا ہوں۔۔۔۔۔اُس کے “ہم”کا الگ مطلب نکالے فاحا نے چہک کر جواباً اپنا نام بتایا تو اسیر تپ اُٹھا

ہم تمہارے باپ کے نوکر نہیں خود باندھو۔۔۔اسیر نے ناگواری سے کہا تو”باپ”لفظ پر فاحا کا چہرہ اُترگیا تھا اور یہ چیز اسیر نے بھی صاف محسوس کرلی تھی

اب مینڈکی جیسی شکل کیوں بنائی ہوئی ہے؟اسیر نے پوچھا

باپ نہیں ہے تو اُن کا نوکر کیسے ہوگا؟اپنی نظریں نیچے گاڑھے فاحا دُکھ سے بولی تھی

مرگیا ہے؟اسیر نے اگلا سوال کیا

کون؟فاحا نے ناسمجھی سے پوچھا

تمہارا باپ۔۔۔اسیر نے اُس کو گھورا

آپو سے پوچھا تھا وہ کہتی ہیں زندہ ہو یا مردہ ہمارے پاس تو نہیں نہ پھر کیا فائدہ جاننے کا۔۔۔فاحا نے جواب دیا تو اُس کا جواب اسیر کو عجیب لگا

تمہاری امی کیا کہتیں ہے؟جانے کیوں اسیر اُس سے اِتنے سوالات کرنے لگ پڑا

وہ مجھے منحوس کہتی ہے اُس کے علاوہ کچھ نہیں کہتی۔۔۔۔۔اِس بار فاحا نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو کُھڑچا تو اسیر نے چاروں اطراف دیکھا جہاں اکا دُکا اسٹوڈنٹس موجود تھے مگر کسی کا بھی دُھیان اُن کی طرف نہیں تھا جس پر وہ گہری سانس بھر کر گُھٹنوں کے بل فاحا کے پاس بیٹھتا اُس کا ایک پاؤں اپنی ٹانگ پر رکھ کر تسمے باندھنے لگا”

یہ دیکھو اور تسمے باندھنا خود سے سیکھو۔۔۔۔اسیر نے کہا تو فاحا غور سے اُس کے ہاتھوں کو دیکھنے لگی جو تسمے باندھنے میں مصروف تھے۔

ایسے نہیں ویسے باندھے جیسے آپو باندھتی ہے اُس سے ایسا لگتا ہے جیسے شوز کے اُپر کسی نے پھول رکھا ہے۔۔۔۔فاحا نے کہا تو اسیر نے تیوری چڑھائے اُس کو گھورا

آج تک تو ہم نے اپنے تسمے نہیں باندھے اور تمہارے باندھ رہے ہیں تو نخرے دیکھا رہی ہو۔۔۔۔اسیر نے اُس کو گھور کر کہا تو فاحا دل مسوس کرتی رہ گئ۔اپنے کام سے فارغ ہوکر وہ جیسے ہی کھڑا ہوا تو اُس کے کلاس فیلو نے چاروں اِطراف سے اُس کو گھیرلیا تھا

اب توں گیا ہمارے دوست کو مارا تھا نہ۔۔۔۔ایک لڑکا جو اُس کی عمر کا تھا غُصے سے بولا

ہم یہی ہیں دیکھتے ہیں کیا اُکھاڑتے ہو تم لوگ ہمارا۔۔۔۔اسیر طنز ہوا

تیری تو۔۔۔۔ایک غُصے سے کہتا اُس کو مُکہ مارنے والا تھا جب اسیر نے درمیان میں اُس کا ہاتھ روک کر ایک زوردار لات اُس کے پیٹ پر ماری اور لات اِتنی زور سے اُس کو ماری تھی کہ لڑکے کے منہ سے خون کا ایک فوارہ نکلا تھا جس کو دیکھ کر فاحا کا پورا وجود خوف سے کانپ اُٹھا تھا جبھی یہ مار کُٹائی والا منظر مزید وہ دیکھ نہیں پائی تھی اور بیہوش ہوکر نیچے گِر پڑی تھی اُس سے بے نیاز اسیر اپنا سارا غُصہ اُن لڑکوں پر نکال رہا تھا جبھی وہ کالج کے آدھے سے زیادہ اسٹوڈنٹس جمع ہوگئے تھے اور کچھ نے یہ بات پرنسپل کے آفس تک بھی پہنچائی تھی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

فاحا

فاحا اسکول نہیں جائے گی”فاحا کہیں نہیں جائے گی وہ فاحا کو بھی مارے گا۔۔۔۔سوہان نے فاحا سے کچھ کہنا چاہا جب اپنے گرد بازوں کا حصار بنائے وہ اپنا چہرہ گُھٹنوں میں چُھپائے سہم کر بولنے لگی تھی۔۔۔”اُس واقعے کو گُزے ایک ماہ ہوگیا تھا مگر یہ لڑائی والے واقعے نے اُس پر گہرا اثر چھوڑا تھا وہ کسی کی بھی کچھ بھی سُننے کو تیار نہیں تھی اسکول تو کیا گھر سے باہر نکلنا بھی اُس نے ختم کرلیا تھا جس پر سوہان اور میشا حقیقتاً بہت پریشان ہوئے تھے

“فاحا ڈر جتنا بھی ہو مگر اسکول تو جانا ہے نہ۔۔۔۔سوہاب نے قدرے نرمی سے سمجھایا تھا

فاحا نہیں جائے گی اسکول “وہ گھر کا ہر کام کرے گی مگر اسکول نہیں۔۔۔۔فاحا نے اپنا سر زور سے نفی میں ہلایا

سُنو فاحا ” جہالت کو جتنی رعایتیں ہمارے سماج میں دی گئی ہیں،

اسکی مثال شاید ہی کہیں مل سکے.”

اگر تم اسکول نہیں جاؤ گی تو جاہل کہلواؤ گی ہم دونوں پڑھ لِکھ کر کوئی بہت بڑی جاب حاصل کرینگے اور بہت بڑا نام کرینگے اپنا اور اگر تم پڑھنے کے بجائے ڈر کر بس گھر کے کام کرنا چاہتی ہو تو جان لو جب ہم تھک ہار کر گھر آئے گے تو تمہیں ایسے حکم دینگے جیسے تم ہماری ملازمہ ہو۔۔۔۔میشا نے اپنی بات کی شروعات “جون ایلیا” کے شعر سے کی

بلکل۔۔۔کوئی اور وقت ہوتا تو سوہان کبھی میشا کی سائیڈ نہ لیتی مگر آج موضوع ایسا تھا کہ اُس نے”میشا کی ہاں میں ہاں ملائی

مجھے منظور ہے بس میں اسکول نہیں جاؤں گی۔۔۔۔فاحا اپنی بات پر بضد تھی جس پر میشا نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔۔

۔ “”یہ بیٹیاں مجھے دے ہی کیا سکتیں ہیں؟”نہ تو اِن کو لیکر میں کہی ساتھ لے جاسکتا ہوں اور نہ یہ مجھے کوئی عقلمندانہ مشورہ دے سکتی ہیں۔۔۔۔”””

کانوں میں گُزرے سالوں پہلے اپنے باپ کے الفاظ سوہان کے کانوں میں گونجے تو بے اختیار اُس کو جیسے کرنٹ لگا تھا اُس نے میشا اور فاحا دونوں کو باری باری دیکھا

“فاحا میری جان ہم تینوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا ہے”ڈرنا چھوڑدو اِس دُنیا میں ڈرنے والوں کی کوئی جگہ نہیں کیونکہ جو ڈرتا ہے یہ دُنیا والے اُس کو مزید ڈراکر دباتے ہیں اپنے پاؤں کے نیچے کُچلنا اُن کا مقصد ہوتا ہے۔۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا

نہیں میں بس اسکول نہیں جاؤں گی۔۔۔۔فاحا کی حالت رونے جیسی ہوگئ تھی۔۔۔۔”مگر اِس بار سوہان نے اپنا ہونٹ بے دردی سے کُچلا تھا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

What is meaning of disgust?

Disgust mean is girl.

لفظ “منحوس”جو ہوش سنبھالتے ہی میں نے اپنے لیے سُنا جی اپنے لیے دا ورڈ “منحوس”یہ جُملا کہنے والی میری ماں تھی۔۔۔پہلے مجھے لگا شاید میرا نام “منحوس”ہے پھر بعد میں پتا چلا کے میرا نام تو “فاحا”ہے۔۔منحوس اِس وجہ سے مجھے کہا جاتا کے میں لڑکی ہوں۔۔اور لڑکیاں شاید منحوس ہوتی ہیں۔۔۔۔

میرا نام فاحا ہے۔۔عمر بارہ سال ہے میں اِس دُنیا میں اپنی مرضی سے نہیں آئی اور مجھے یقین ہے جب میں مرجاؤں گی تو بھی اُس میں میری مرضی شامل نہیں ہوگی۔۔۔۔زندگی اللہ کی عطا اور اُس کی امانت ہے۔۔۔۔

میں لڑکی ہوں کیونکہ اللہ نے مجھے لڑکی بنایا ہے۔”وہ چاہتا تو مجھے لڑکا بناسکتا تھا پر اُس نے لڑکی بنایا اُس میں اللہ کی کوئی مصلحت چُھپی ہوگی”اور مجھے اُس کی قدرت اُس کی مرضی ہے۔۔کہتے ہیں اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں مکمل ہوتی ہیں اُن میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا۔۔۔پر ایک یہ بات بھی ہے مکمل بس پاک پروردگار اللہ کی ذات ہے۔۔اُس نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی عیب لازمی دیا ہے جو ہم نہیں جانتے مگر وہ خوب جانتا ہے۔۔۔۔خیر میرا جو ٹاپک ہے وہ منحوس لفظ پہ ہے۔۔۔مجھے ایک چیز کی سمجھ نہیں آتی اگر ایک گھر میں ون بائے ون تین “بیٹے”پیدا ہوتے ہیں تو اُن کو منحوس کیوں نہیں کہا جاتا؟جبکہ ایک ساتھ اگر کوئی عورت “بیٹیاں”پیدا کرے تو آخری بیٹی کو ” منحوس “لفظ سے روشناس کروایا جاتا ہے

کیا یہ لفظ محض مجھ جیسی لڑکیوں کے لیے ہے؟آپو کہتی ہیں ہم لڑکیاں محب ہوتی ہیں مگر مجھے تو ہر بار یہی احساس کروایا جاتا ہے کے لڑکیاں منحوس ہوتی ہیں اسپیشلی فاحا ملک از بیگسٹ منحوس(disgust) آپ میں سے کوئی شاید “منحوس” نہ ہو ۔”اُس نے پہلی بار اپنا جُھکا سراُٹھایا اور سامنے بیٹھی اپنی عمر کی لڑکیوں کو دیکھا جو یک ٹک اُس کو دیکھ رہی تھی تھی اُن میں ایسی لڑکیاں تھی جو اُس کی باتوں کا مطلب سمجھ نہیں پائی تھی پر کچھ ایسی بھی تھیں جو کافی ہمدرد بھری نظروں سے اُس کا ستایا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اُس کے چپ ہونے سے کلاس میں ایک سکوت چھا گیا تھا بچیاں تو اپنی جگہ مگر وہاں کے اُستادہ بھی رنجیدہ سے ہوگئے تھے۔فاحا نے گردن موڑ کر اپنی بڑی بہن سوہان کو دیکھا جو اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔مگر فاحا کے دیکھنے پہ اُس نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے اُس کو مُسکرانے کا اِشارہ کیا تو وہ بار بار اپنی آنکھوں کو جِھپک کر خود کو رونے سے باز رکھتی نم آنکھوں سے مُسکرا پڑی”جبکہ سوہان کے ساتھ بیٹھی سترہ سالہ میشا کے تاثرات سپاٹ تھے

“سوہان نے اپنی طرف سے تو بہت کوشش کی تھی فاحا کو پُراعتماد بنائے مگر اُس میں وہ ناکام ٹھیری تھی کیونکہ”منحوس”جیسے لفظ نے اُس سے خوداعتمادی چھین لی تھی”جیسے جب وہ بچِیاں تھیں مگر اُن میں اپنا بچپنا نہیں تھا ٹھیک ویسے شاید فاحا کا بچپنا بھی ختم ہوگیا تھا یا بس بچپنا ہی بچہ تھا مگر جو بھی اسلحان کے رویے نے اُس کو بڑا بنادیا تھا اُس کے لہجے نے فاحا کے معصوم دماغ پر گہری چھاپ چھوڑی تھی

❤

ہائے منحوس۔۔۔۔۔فاحا کلاس سے اکیلی باہر نکلی تو ایک گروپ نے اُس کو راستے میں روک لیا تھا”جبکہ ایک لڑکی نے پیپر بڑی چلاکی سے اُس کی پشت پر چپکایا تھا جس پر مارکر سے بڑے حرفوں میں “مائے سیلف منحوس لکھا ہوا تھا

سامنے سے ہٹے۔۔۔۔فاحا اُن کے درمیان سے گُزرنے کی کوشش کرتی بولی

ارے بتاؤ نہ کیا واقعی میں تمہاری ماں تمہیں منحوس کہتی ہے بڑا دُکھ ہوا۔۔۔۔ایک لڑکی سے اُس سے عمر میں بڑی تھی مصنوعی افسوس کا اِظہار کرنے لگی جبھی سوہان اور میشا بھی وہاں آئیں تھیں”

یہ کیا ہے؟سوہان اُس کی پیٹھ سے وہ پیپر نکالتی اُن لڑکیوں کو گھورنے لگی تو سب قہقہقہ لگانے لگے

کیا یہ تمہاری بہن ہے؟”ہم بھی اپنی بہنوں کے لیے یہاں اسکول میں آئے تھے اور کافی انٹرسٹنگ اسٹوری تھی۔۔۔۔”تمہاری بہن نے جو سُنائی وہ۔۔۔۔وہ اپنی دوست کے ہاتھ پر تالی مار کر بولی تو ایک بار پھر سب کے ہنسنے کی آواز آئی مگر شرمندگی اور زلت کے احساس سے فاحا کا پورا چہرہ سرخ پڑگیا تھا

شٹ اپ خبردار جو میری بہن کے بارے میں اور کوئی بکواس کی بھی تو۔۔۔۔سوہان نے سخت لہجے میں اُن کو دیکھ کر کہا”جبکہ میشا بہت خاموشی سے اُن کی بدلحاظی دیکھ رہی تھی

اووو ورنہ کیا کرو گی آپ محترمہ۔۔۔۔وہ بدتمیزی سے بولی تو میشا سوہان کو سائیڈ کرتی خود اُس کے روبرو کھڑی ہوئی کیونکہ وہ لڑکی اُس کی ہم عمر تھی

اب تم

وہ کچھ کہنے والی تھی جب میشا نے پوری طاقت لگاکر ایک پنج اُس کے چہرے پر مارا تو اُس لڑکی کی پوری ناک سرخ ہوگئ تھی یہ دیکھ کر ہر کوئی منہ کھولے حیرانگی سے میشا کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر کوئی بھی تاثر نہیں تھا

مجھے صرف اپنا بولنا پسند ہے کوئی اور زیادہ بولتا ہے تو میں اُس کا منہ توڑدیتی ہوں۔۔۔۔میشا خاصے پرسکون لہجے میں کہتی اپنے ہاتھ پر پھونک ماری تھی جیسے ابھی اُس نے کچھ کیا ہی نہ تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *