Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 24)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 24)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
مورخ لکھے گا
“دُنیا میں ایک ایسا شخص بھی تھا
“جس نے اپنی محبوبہ کو پہلی بار سسٹر ڈے پر پھول بِھیجے تھے
Rimsha Hussain Novels![]()
بھائی؟سوہان نے اُس لفظ دوہرایا تھا۔۔۔۔”اور وہ ناسمجھی کے عالم میں اُس کو دیکھنے لگی جس نے وائٹ گول گلے والی شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پینٹ پہنی ہوئی تھی ایک بازو پر اُس نے کوٹ ڈالا تھا تو دوسرے ہاتھ میں اُس نے اپنا سیل فون پکڑا ہوا تھا۔۔۔”بال اُس کے سلیقے سے سیٹ تھے بیئرڈ کو بھی دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس نے تازی شیو کی ہوئی ہو”زوریز کے چہرے پر چھائی سنجیدگی سے وہ کوئی بھی اندازہ لگانے سے قاصر تھی۔۔۔
“کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟زوریز اسیر کو اگنور موڈ پر ڈالتا سوہان سے پوچھنے لگا
“ضرور بیٹھ جائے ہمیں بھی آپ سے پوزیسیو برادرز والی ویبز آرہی ہیں۔۔۔۔۔جواب سوہان کے دینے سے پہلے اسیر نے اُس کو دیکھ کر دیا تھا جس پر زوریز ہاتھ کی مٹھیوں کو سختی سے بھینچ کر اسیر کو دیکھنے لگا جو بُراؤن کلر کے شلوار قمیض پہنے ہوئے تھا اور کندھوں پر ہمیشہ کی طرف شال اُوڑھی ہوئی تھی اُس کے ہونٹوں پر پُراسرار سی مسکراہٹ تھی جبکہ زوریز کو اُس کے گال پہ اُبھرتے گڑھے کو دیکھ کر بلاوجہ تپ گیا تھا اور رہی سہی کسر اُس کے الفاظوں نے پوری کردی تھی۔۔۔۔
“ہم سے مُراد؟زوریز نے لفظ چبا چبا کر ادا کیا تھا کیونکہ وہ کچھ اور سمجھ بیٹھ تھا آریان کی باتوں نے سہی اُس کا دماغ گُھمایا ہوا تھا اُپر سے اُس کو خود کی کم عقلی پر بھی افسوس ہورہا تھا کہ اگر اُس کو سوہان کے یہاں پھول بھیجنے ہی تھے تو سال کے 365 دِنوں میں اُس کو آج کا دن ہی ملا تھا۔۔۔
“آپ یہاں کسی ضروری کام سے آئے تھے؟سوہان نے زوریز کی سرخ ہوتی رنگت کو دیکھا تو دھیان بٹانا چاہا
“کافی پینے آیا تھا۔۔۔”اور آپ؟زوریز اُس کی طرف متوجہ ہوا
“یہ اسیر ملک ہے۔۔۔۔”اور اِنہوں نے مجھے کسی کام سے بلوایا تھا۔۔۔سوہان نے بتایا
“اِنہوں نے آپ کو آنے کا کہا اور آپ آگئ جبکہ میرے کہنے پر تو آپ کبھی نہیں آئی۔۔۔۔ناچاہتے ہوئے بھی زوریز کے منہ سے شکوہ برآمد ہوا تھا۔۔
“کیا شکوہ کیا گیا ہے۔۔۔اسیر یہاں وہاں دیکھ کر آہستگی سے بڑبڑایا تھا مگر اُس کی بڑبڑاہٹ زوریز کے کانوں سے دور نہیں رہی تھی وہ باآسانی سُن چُکا تھا۔۔۔
“اِن کو ضروری کام تھا جبھی میں آئی تھی اگر آپ نے کبھی کام کے سلسلے میں آنے کا کہا تو میں ضرور آؤں گی۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا
“کچھ منگوایا نہیں دونوں میں سے کسی نے؟زوریز خالی ٹیبل کو دیکھتا بولا اُس کا مقصد بات بدلنا تھا۔
“آپ کا انتظار کررہے تھے اگر آپ اب آگئے ہیں تو کچھ آرڈر دے ڈالے۔۔۔۔۔اسیر نے گویا طنز کیا تھا
“آپ
زوریز اُس سے کچھ کہنے والا تھا جب ٹیبل پر پڑے اسیر ملک کا سیل فون وائبریٹ ہوا تھا غیرشعوری طور پر زوریز کی نظر اُس کے موبائل پر پڑی تھی اور چمکتی اسکرین پر کسی بچی کی تصویر دیکھ کر وہ تھوڑا چونک سا گیا تھا۔۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔۔اسیر نے میسجز اپنے خاص آدمی کی دیکھیں تو اُن دونوں سے کہتا سیل فون کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
“یہ وال پیپر پر بچی کس کی تھی؟اسیر نے ابھی واٹس ایپ آن کیا تھا جب زوریز سے رہا نہیں گیا تو اُس نے سوال کیا
“ہماری بیٹی ہے۔۔۔۔اسیر نے مصروف انداز میں اُس کو جواب دیا کیونکہ جو تصویریں اُس کو ریسیو ہوئیں تھی وہ اُس نے خود چیک کرنے کے بعد نوریز ملک کو دینیں تھیں۔۔۔
“ہماری؟لفظ “ہماری”پر زوریز حق دق بے یقین نظروں سے سوہان کو دیکھنے لگا جس پر پہلے تو وہ اُس کی نظروں مفہوم سمجھ نہیں پائی تھی مگر جب سمجھ آیا تو وہ بُری طرح سے سٹپٹائی تھی۔۔۔۔
“ہماری یعنی بس ہماری۔۔۔۔اسیر سیل فون سے نظریں اُٹھاتا اُس کی اُڑی رنگت دیکھ کر اپنی طرف اِشارہ کیے بتایا
“اِن کو میں لفظ کہنا نہیں آتا۔۔۔سوہان نے جلدی میں کہا تاکہ وہ دوبارہ اُلٹا کچھ نہ سوچے
سِکھ لے ورنہ لوگ سمجھے گے آپ کے اِس “ہم”لفظ میں جانے کتنی فوجیوں کا شُمار ہوتا ہے۔۔۔۔زوریز اپنی اٹکی سانس بحال کرتا بولا
“مشورہ کا شکریہ۔۔۔اسیر محض اِتنا کہتا تصویروں کو دیکھنے لگا تھا جب ایک تصویر نے اُس کا دھیان بُری طرح سے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔”اور وہ تھی مسکراتی ہوئی فاحا کی تصویر جس کے نام کے ساتھ والد کا نام “نوریز ملک لکھا ہوا تھا۔۔۔۔
“آپ میرے چچا کے بیٹے تو نہیں جو میں منہ اُٹھا کر گاڑی میں بیٹھ جاؤں اور آپ پر بھروسہ کرلوں۔۔۔””
ایک تصویر کو دیکھ کر اسیر کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا بے ساختگی کے عالم میں اُس نے اپنا ہاتھ بالوں میں پھیرا تھا اور جب اُس کو نوریز ملک کے الفاظ یاد آئے کہ وہ اُن تینوں کو حویلی میں رکھنا چاہتا ہے تو یہ خیال آتے ہی اُس کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے وہ یقین کرنے سے قاصر تھا کہ جو لڑکی اُس کو بال نوچنے کی حد تک زچ کیا کرتی تھی وہ اُس کی چچا زاد کزن تھی اور عنقریب وہ دونوں ایک چھت کے نیچے رہنے والے تھے۔۔۔”وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا جو لڑکی پانچ منٹس میں اُس کو دن میں تارے دیکھاتی تھی اُس کے ساتھ وہ کیسے ایک چھت کے نیچے رہ سکتا تھا”یہ اُس کے لیے مشکل عمل تھا۔۔۔
“آپ کو کیا ہوا کیا بیوی نے بغیر میک اپ کی تصویر واٹس ایپ کی ہے؟زوریز نے اُس کو کھویا ہوا دیکھا تو تُکہ لگاکر بولا جس پر اسیر نے خون آشام نظروں سے اُس کو گھورا جو شاید اپنا حساب چُکتا کرنے کے در پر تھا باقی سوہان کو سمجھ نہیں آرہا تھا”اپنی پہلی مُلاقات پر وہ دونوں بھلا کیوں ایسی عجیب و غریب قسم کی گولہ بالی کررہے تھے۔۔
“ہمیں ضروری کام پڑگیا ہے تو ہم چلتے ہیں اور ہمیں جو کہنا تھا وہ ہم کہہ چُکے ہیں باقی تم جو فیصلہ کرو اُس کا اختیار تمہارے پاس ہے۔۔۔اسیر خود کو کمپوز کرتا اپنی جگہ سے اُٹھ کر سوہان سے بولا تو”وہ محض سر کو جنبش دے پائی تھی جس کے بعد اسیر لمبے لمبے ڈگ بُھرتا وہاں سے چلاگیا تھا
بادشاہ سلامت کون تھا؟زوریز نے جاتے ہوئے اسیر کو دیکھ کر سوہان سے پوچھا
“وہ میرا فرسٹ کزن ہے اور ہم عمر ہے”مجھ سے بڑا نہیں ہے۔۔۔۔اسیر کے جانے کے بعد سوہان نے زوریز کی بات کا جواب دیا
“آپ سے ملنا کیوں چاہتا تھا وہ؟زوریز نے پوچھا
“بات کرنے آیا تھا۔۔۔سوہان بغیر اُس کو دیکھ کر بولی
کیا بات؟اگلا سوال
“وہ چاہتا ہے مطلب نوریز ملک چاہتا ہے میں اُن کو معاف کرکے ہنسی خوشی اُن کے ساتھ رہنے لگوں اپنی بہنوں کے ساتھ مگر وہ نہیں جانتے کہ میں تو بس اُن کو اگنور کرتیں ہوں میشو اور فاحا تو اُن سے نفرت کرتیں ہیں”اُن کی وجہ سے امی کا رویہ فاحا کے ساتھ بہت بُرا رہا تھا اُس کا اسکول بند ہوگیا اُس میں خوداعتمادی کی کمی آگئ تھی اُس کو ہر کوئی منحوس کہنے لگا تھا۔۔۔۔سوہان بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ تھی اور زوریز یک ٹک اُس کو دیکھتا غور سے اُس کو سُننے لگا تھا اُس نے ایک بار بھی سوہان کو ٹوکا نہیں تھا۔۔۔۔
“آپ کا زندگی کے ساتھ تجربہ بہت بُرا ہوا ہے معافی مانگنا ایک آسان عمل ہوتا ہے مگر اُس کے برعکس معاف کرنے میں انسان کو اپنا جی بڑا کرنا پڑتا ہے۔۔”آپ پہلے خود کو ٹائیم دے اور یہ باتیں اپنی بہنوں کو بتائیں اور جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کیا چاہتی ہیں؟”اُن کی کیا رائے ہے کیونکہ یہ فیصلہ آپ اکیلے نہیں لے سکتی اُن کی رائے جاننا بھی آپ کے لیے بہت ضروری ہونی چاییے۔۔۔۔زوریز اُس کی بات سن کر سنجیدگی سے بولا
“آپ کو لگتا ہے وہ میری بات سے انحراف کرے گی؟”یا اُن کو میری سوچ سے اختلاف ہوگا؟سوہان پہلی بار اُس کو دیکھ کر بولی
“آپ جو چاہیں گی وہ دونوں بھی ویسا چاہیں گیں مگر میں بس اِتنا کہنے کی کوشش کررہا ہوں کہ آپ اُن سے ہر بات ڈسکس کریں تاکہ بعد میں وہ کوئی شکوہ نہ کریں۔۔۔زوریز اُس کی بات سن کر سمجھانے والے انداز میں گویا ہوا
“میں کوئی مُناسب وقت دیکھ کر اُن دونوں سے بات کروں گی۔۔۔۔سوہان تھکی ہوئی سانس بحال کرتی بولی
“خود کو کمزور محسوس نہ کریں کیونکہ آپ اپنی بہنوں کی طاقت ہیں اگر آپ نے گِیو اپ کرلیا تو وہ آپ کے بغیر کچھ نہیں کرپائیں گیں۔۔۔۔زوریز اُس کو سمجھانے والے انداز میں بولا تو سوہان نے سر کو جنبش دی تھی
“اگر آپ کی اِجازت ہو تو ہم کافی کا کہے؟زوریز نے سنجیدگی سے کہا تو اُس کے لفظ”ہم”پر سوہان ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دی تھی جس پر زوریز کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی تھی
“جی آپ کہہ دے۔۔۔سوہان نے اِجازت دی
“ویسے ٹرسٹ می آپ کا کزن کسی نمونے سے کم نہیں تھا۔۔۔زوریز ویٹر کو اپنے پاس آنے کا اِشارہ دیتا سوہان سے بولا جو اگر اسیر سُن لیتا تو اُس کے ماتھے پر ان گنت بلوں کا اضافہ ہوجاتا
“وہ نمونہ تو بلکل بھی نہیں تھا بچپن میں ہوگا اب تو اُس کی شخصیت میں روعب اور وقار تھا۔۔۔سوہان نے اُس کی بات کی نفی کی تھی جس پر زوریز کا چہرہ ایسا بن گیا جیسے کڑوا بادام نگل لیا ہو
“اِتنا بھی کوئی خاص نہیں تھا خیر ہم اُس کے بارے میں بات کیوں کررہے ہیں۔۔۔۔زوریز سرجھٹک کر بولا
“ہاں دراصل مجھے کیس کے معاملے آپ سے کچھ ضروری پوائنٹس ڈسکس کرنی تھیں۔۔۔اچانک یاد آنے پر سوہان اپنے سر پر ہاتھ مار کر اُس سے بولی تو اِس بار زوریز بدمزہ ہوا تھا”وہ جان گیا تھا اُن کے دونوں کے درمیان تیسری چیز اِتنی جلدی ہٹنے والی نہیں تھی۔۔”وہ جو ہر وقت کام کرنے کو ترجیح دیتا تھا آج اُس لفظ پر اُس کو اچھا خاصا غُصہ آگیا تھا
“کیا ہم اپنی بات نہیں کرسکتے؟زوریز نے بلآخر بول دیا
“اپنی کیا؟سوہان نے سنجیدگی سے آئبرو اُپر کیے اُس کو دیکھا
“کچھ نہیں آپ بتائے کیا کہنا چاہتی تھی۔۔۔زوریز اُس کی بے نیازی پر گہری سانس بھر کر بولا
“آپ نے جیسا کہ بتایا نذیر ملک نے آپ پر جھوٹا کیس دائر کیا ہے تو ہمیں اُس کے یہاں کورٹ کا نوٹس بھیجنا چاہیے تاکہ ہیئرنگ کے دن اُس کو کوئی بہانا نہ ملے۔۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر اپنی باتوں کا سلسلہ شروع کیا جو زوریز ایسے سُننے لگا جیسے دُنیا میں وہ یہی کام کرنے کے لیے آیا ہو۔۔۔۔
Rimsha Hussain Novels![]()
اِس لفافے میں اُن لڑکیوں کی تصاویریں ہیں کام جلدی ہوجانا چاہیے۔۔۔سجاد ملک ایک انویلپ آدمی کی طرف بڑھائے سنجیدگی سے گویا ہوئے تھے
“آپ بے فکر رہے آپ کا کام ہوجائے گا مگر کام زیادہ ہے تو پیسے بھی اُتنے لگے گیں۔ ۔۔وہ چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ سجاکر بولا
“پہلے کام پھر دام” ایڈوانس میں نے دو لاکھ تمہارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروالیئے ہیں باقی کے پیسے تمہیں تب ملے گے جب میرے پاس اُن بہنوں کی موت کی خبر آئے گی۔ ۔۔سجاد ملک اُس کو گھور کر بولے
آپ سمجھے کہ آپ کا کام ہوگیا۔ ۔۔وہ مونچھوں کو تاؤ کر بولا
“ہمممم ٹھیک ہے ابھی تم جاؤ اُس سے پہلے حویلی میں موجود افراد میں سے کسی کی تم پر نظر پڑے۔۔۔۔سجاد ملک نے کہا
“ٹھیک ہے میں چلتا ہوں مگر میں نے کہا ہوا ہے اِس کام کا پورے دس لاکھ لوں گا میں آپ سے۔۔۔جاتے جاتے ہوئے بھی وہ بولنے سے باز نہیں رہا تھا”مگر سجاد ملک نے اُس کی بات پر کان نہیں دھڑے تھے اور وہ شخص حویلی کے صحن میں جیسے ہی بیچوں بیچ آیا اسمارہ بیگم اُس کے راستے میں حائل ہوئیں تھیں جس کو دیکھ کر اُس آدمی کے چہرے کی ہوائیاں اُڑی تھیں
“ارے گھبراؤ نہیں میرے پاس بھی تمہارے لیے ایک آفر ہے۔۔۔اسمارہ بیگم اُس کو دیکھ کر شاطرانہ مسکراہٹ سے بولی
“کک کیسی آآ آفر؟وہ اٹک اٹک کر بولا
“ایسی آفر۔۔۔۔اسمارہ بیگم اُس کے ہاتھ سے انویلپ اچک کر لہراکر بولیں
“دیکھے مجھے یہ واپس کریں۔۔۔۔وہ پسینا پسینا ہوتا بولا
“ضرور بشرطیکہ کے تم میرا کام کروگے۔۔۔اسمارہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا
“کیسا کام۔۔۔۔۔اُس نے جان چُھوڑوانے والے انداز میں کہا
“وہی سب تم اِس کے ساتھ بھی کرو گی جو اِس کے ساتھ کرنے کا کہا گیا ہے تم سے۔۔۔اسمارہ بیگم آس پاس کا جائزہ لینے کے بعد اُس کو ایک تصویر پکڑائی
“یہ کون ہے؟وہ تصویر میں دیکھ کر پوچھنے لگا
“اِس سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں تم بس وہ کرو جو میں کہنے کا بول رہی ہوں۔۔۔اسمارہ بیگم نے کہا
“بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟وہ اسمارہ بیگم کو دیکھ کر بولا
“پانچ لاکھ۔۔۔۔اسمارہ بیگم نے کہا تو اُس کی باچھیں کُھل گئ
ٹھیک ہے تو پھر ڈن ہوگیا۔۔۔وہ پکچر جو لالی کی تھی اُس کو انویلپ میں ڈالتا اسمارہ بیگم سے بولا
“ہممم کام ہوجائے کے بعد تمہیں تمہاری رقم مل جائے گی اور یہ بات ہم دونوں کے درمیان راز رہنی چاہیے۔۔۔آخر میں اسمارہ بیگم کا لہجہ وارننگ سے بھرپور ہوگیا تھا جس پر وہ آدمی سر کو جنبش دیتا رہ گیا۔۔۔۔
Rimsha hussain novels![]()
آپ کو ہم نے تصاویر سینڈ کی ہیں آپ کی بیٹیوں کی اور ہم نے سوہان سے بھی بات کرکے دیکھ لی وہ آپ کی کوئی بھی بات سُننا نہیں چاہتی کجاکہ حویلی میں آنا۔ ۔۔۔گاڑی میں بیٹھا اسیر سیل فون پر نوریز ملک سے بولا”وہ آج اکیلا باہر نکلا تھا ایک ہاتھ سے گاڑی ڈرائیو کررہا تھا تو دوسرے ہاتھ سے اُس نے موبائل پکڑا ہوا تھا
“تمہارا بہت شکریہ اسیر مگر اب بس میں ٹھیک ہوجاؤں اُس کے بعد اُن تینوں سے میں بات کروں گا۔۔۔نوریز ملک سنجیدگی سے بولے
“جیسا آپ کو مُناسب لگے ہمارا کام بھی کافی رُکا ہوا ہے ہم نے اُس کو پورا کرنا ہے۔۔۔اسیر سنجیدگی سے بولا تھا
“سہی ہے ویسے گاؤں آنے کا کیا سوچا ہے؟ نوریز ملک نے پوچھا
“ایک دو دن تک اور ہمیں آپ سے کچھ کہنا تھا۔ ۔۔اسیر نے کہا
“کہو؟
ہم سوچ رہے ہیں اُن کو گاؤں میں لانے سے اچھا ہے شادی کروادے ویسے بھی شادی کی عمر ہے اُن کی۔ ۔۔اسیر نے اپنے مفید مشورے سے اُن کو نوازہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُن میں سے کوئی حویلی آئے” خاص طور سے فاحا”
“اسیر بیٹا حد کرتے ہو ابھی اُن کی میرے لیے ناراضگی ختم نہیں ہوئی اور تم چاہتے ہو میں اُن کو مزید خود سے بدگمان کردوں۔ ۔۔نوریز ملک کو اسیر کی بات سن کر گویا افسوس ہوا
“ہمیں جو بہتر لگا ہم نے وہ کہا آگے آپ کو جو سہی لگے وہ آپ کریں ابھی ہم کال رکھتے ہیں۔ ۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہہ کال کاٹ دی تھی تبھی کچھ دور اُس کو اکیلے فاحا کھڑی نظر آئی جو شاید ٹیکسی کا انتظار کررہی تھی” پہلے پہل اسیر نے اُس کو اگنور کرنا چاہا مگر اُس کا جُھکا ہوا سر دیکھ کر ناچاہتے ہوئے بھی اُس نے اپنی گاڑی فاحا کے پاس روک دی جس پر فاحا نے چونک کر اپنا سراُٹھایا تھا۔۔
“بیٹھ جائے۔ ۔۔۔اسیر گاڑی کا ڈور ریموٹ سے کھولتا فاحا سے بولا”وہ سمجھا ہمیشہ کی طرح فاحا کوئی ڈرامہ یا بیوقوفانہ بات ضرور کرے گی مگر اُس کو حیرت تب ہوئی جب فاحا نے اپنے مزاج کے برعکس آج بنا کوئی بات کیے خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئ۔ ۔۔۔
“اللہ خیر کرے۔ ۔۔اُس کو خاموش دیکھ کر اسیر آہستگی سے بڑبڑایا تھا پھر اُس نے دوبارہ سے گاڑی اسٹارٹ کردی اِس دوران لیمن کلر کے سادہ سے جوڑے میں ملبوس سر پہ اچھے سے حجاب پہنے فاحا ہنوز چُپ چاپ بیٹھی اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی جو مزید اسیر سے ہضم نہیں ہوا تھا۔ ۔
“آج فاحا اُداس ہے؟اسیر گردن موڑ کر فاحا کو دیکھ کر بے ساختہ پوچھنے لگا وہ سمجھ نہیں پایا اُس کا خاموش رہنا وہ کیوں اِتنا محسوس کررہا تھا شاید وہ اب خون کی کشش محسوس کرنا چاہ رہا تھا”جو بھی تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھا اور اُس کی بات کے جواب میں فاحا نے سرہلانے پر اکتفا کیا تھا
“وجہ؟ اگلا سوال
آج میری ماں کی برسی ہے۔ ۔فاحا بھیگے لہجے میں بولی تھی جس پر اسیر کچھ دیر تک بول نہیں پایا تھا۔
“سن کر افسوس ہوا اور ہم آپ کا دُکھ سمجھ سکتے ہیں۔ ۔اسیر نے اپنی طرف سے اُس کو حوصلہ دیا تھا
“آپ کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ “کیا آج آپ کی ماں کی بھی برسی ہے۔ ۔۔اسیر کی بات سن کر فاحا نے چونک کر اُس کو دیکھ کر کہا تھا جس پر اسیر نے بے ساختہ اپنی گاڑی کو بریک لگائی تھی
گستاخ لڑکی ہماری والدہ محترمہ زندہ ہیں۔ ۔۔اسیر اُس کو گھور کر دانت پیس کر بولا تھا جس پر فاحا بُری طرح سے گڑبڑائی تھی
سو سوری دراصل آپ نے بات ایسے کی تھی تو فاحا کو لگا شاید آپ کی والدہ محترمہ بھی اللہ کو پیاری ہوگئ ہیں۔ ۔۔۔فاحا نے اپنی طرف سے اُس کو وضاحت دی تھی۔
“ہمم یہ بتاؤ اور کون کون تمہارے گھر میں؟اسیر نے جانتے ہوئے بھی پوچھا
“آپ کو کیوں بتاؤں؟”فاحا کیا آپ کو اِتنی کم عقل لگتی ہے جو پرسنل باتیں آپ سے ڈسکس کرے گی اگر آپ سے لفٹ لی ہے تو آپ کوئی غلط مطلب اخذ نہ کریں۔۔۔فاحا اُس کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں بولی جس پر اسیر کے زاویئے بگڑے تھے
“غلطی ہوگئ دوبارہ آپ سے نہیں پوچھوں گا۔۔۔اسیر نے سرجھٹک کر کہا اور ٹریفک کی وجہ سے اُس نے اپنی گاڑی کو بریک لگائی تھی۔۔۔”عین اُسی وقت ٹیکسی میں بیٹھی سوہان کی وہ ٹیکسی بھی اُن کے برابر رُکی تھی اور غیرشعوری طور پر سوہان کی نظر فاحا پر پڑی تو وہ چونک سی گئ تھی۔ ۔۔”ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا لڑکا اُس کو نظر آرہا تھا مگر اُس کا چہرہ دیکھنے سے وہ قاصر تھی جبھی پہچان نہیں پائی تھی” کہ وہ کون ہوگا؟ “پر فاحا کا یوں اِتنے اطمینان کے ساتھ اِتنی بڑی گاڑی میں کسی لڑکے کے ہمراہ سفر کرنا سوہان کو خدشات میں مبتلا کرگیا تھا اُس کو حقیقتاً پریشانی نے آ گھیرا تھا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ گاڑی تیز رفتار سے اُس کی نظروں کے آگے اُوجھل ہوگئ تھی۔ ۔”جس پر سوہان نے گہری سانس بھر کر اپنا سر سیٹ پر ٹِکایا تھا۔
