Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 02)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 02)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
میشو یار رونا تو بند کرو”میں تمہیں دیکھوں یا فاحا کو۔۔۔۔سوہان پریشانی سے اُس کو دیکھ کر مُلتجی لہجے میں بولی جس نے رو رو کر اپنے چہرے کی رنگت لال کردی تھی۔۔۔
اووو تم لوگ پھر سے آگئے۔۔۔۔اسیر فٹبال ہاتھ میں لیتا حویلی میں داخل ہونے لگا تھا اُس کی نظر اُن پر گئ تو ہونٹوں کو گول شیپ دیتا پوچھنے لگا تو سوہان نے بس ایک نظر اُس پر ڈالی جس پر اسیر نے زور سے بال زمین پر ماری پھر اچانک اُس کی نظر نیچے لیٹی ہوئی فاحا پر گئ جو گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی اُس کو دیکھ کر اسیر نے کانوں میں اُنگلی ٹھونسی اور منہ کے زاویئے بگاڑتا اُس کو دیکھنے لگا
تو یہ ہے منحوس؟اسیر نے فاحا کو دیکھ کر سوہان سے پوچھا جس نے روتی ہوئی میشا کو اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا
یہ فاحا ہے میری بہن”ویسے یہ منحوس کیا ہوتا ہے؟سوہان نے بتانے کے بعد ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
ہمیں نہیں پتا ابا حضور نے کہا تھا کہ یہ منحوس ہے”اور تم بیٹیاں ہوں یعنی کسی کام کی نہیں”جبھی تو ہم میں سب نے تم لوگوں کو ہوسپٹل میں چھوڑدیا۔۔۔اسیر نے شانے اُچکائے جواب دیا
تم فاحا کو اُٹھاؤ نہ شاید یہ رونا بند کرے گرمی بھی کتنی ہے۔۔۔۔سوہان کو اُس کی باتیں سمجھی نہیں آئی جبھی بس فاحا کو دیکھ کر اُس سے بولی
ہونہہ ہم کیوں اُٹھائے اِس روندو کو؟”ہم نے تو کبھی روتی ہوئی لالی کو نہیں اُٹھایا یہ تو پھر اُس سے بھی چھوٹی ہے اگر ہماری گود سے گِر وِر گئ تو خوامخواہ الزام بھی ہمارے اُپر آئے گا۔۔۔۔اسیر اپنا سر نفی میں ہلاتا اُس کی بات پر انکاری ہوا
تم اُٹھاؤ گے تو چُپ ہوجائے گی میں تو میشا کی وجہ اِس کے پاس نہیں آرہی۔۔۔۔سوہان نے وجہ بتائی تو اسیر کشمش میں مبتلا ہوتا نظریں نیچے کیے فاحا کو دیکھنے لگا
میشا کو کیا ہوا ہے؟اسیر جانے کیوں فاحا کو گود میں اُٹھانے سے ڈر رہا تھا
گِرگئ ہے مگر اب یہ خود اُٹھے گی۔۔۔۔”اُٹھو میشو۔۔۔۔سوہان کو اسیر کا یوں فاحا سے گریز پسند نہیں آیا تھا تبھی سنجیدگی سے میشا سے بولی
در
نہیں ہوگا درد اُٹھو ہمیں امی کے پاس جانا ہے۔۔۔۔میشا روتی ہوئی کچھ کہنے والی تھی جب سوہان اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی تھی جبھی میشا منہ کے زاویئے بگاڑتی آہستہ سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی جس میں کامیاب بھی ہوگئ۔۔۔
سوہان بھی فاحا کو اپنے بازوں میں اُٹھاتی اندر کی طرف بڑھنے لگی اسیر بھی فٹبال کو کِک مارتا حویلی میں داخل ہوتا گم ہوگیا سوہاں نے اسلحان کی پشت دیکھی تو وہاں جانے لگی جو غُصے سے کسی کو مُخاطب تھی۔۔۔۔۔
نوریز تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہو؟”میں تو تمہاری محبت تھی پھر یہ سب؟تم مجھے اکیلا کیسے چھوڑ سکتے ہو میں نے اپنا گھر بار سب کچھ تمہارے لیے چھوڑا تھا تمہاری وجہ سے میں نے جان چِھڑکنے والے بھائی کو چھوڑا تھا اور تم؟”تم نے یہ صلا دیا ہے میری قُربانی کا؟”تمہیں زرا احساس نہیں اور طلاق کے پیپرز بِھجوا دیئے۔۔۔۔اسلحان چیختی ہوئی سنجیدہ کھڑے نوریز سے بولی تھی۔۔۔
میں نے تمہیں پہلے سے بتایا تھا مجھے بیٹا چاہیے اِن تینوں کا میں کیا کروں گا؟بھائی صاحب تو اول روز سے ہی مجھ سے خفا ہے اور اب جو تم نے یہ بچیاں میرے سر پر مسلط کی ہیں اِن کا میں کیا کروں گا؟نوریز حقارت زدہ لہجے میں بولی تو سوہان حیرت سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی جو اُن کے لیے ایسے الفاظ استعمال کررہا تھا وہ باپ جو اُن کی ہلکی چوٹ پر تڑپ جایا کرتا تھا۔۔
دید مجھے چوٹ آئی۔۔۔میشا بھاگ کر نوریز ملک کی طرف بڑھ کر اُن کی ٹانگوں کے ساتھ چمٹ گئ تھی اور بتانے لگی جس پر اُنہوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا تھا
میں نے خوشی سے بیٹیوں کو جنم نہیں دیا یہ تو اللہ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ویسے بھی بیٹا یا بیٹی اولاد مرد کی قسمت سے ہوتی ہے۔۔۔اسلحان احتجاجاً بولی تھی۔
دیکھو اسلحان مجھے جو کہنا تھا میں کہہ چُکا ہوں اب تم یہ بوجھ لیکر یہاں سے چلی جاؤ میں اپنے بھائیوں کو مزید خفا نہیں کرسکتا تمہاری بدولت۔۔۔۔۔نوریز میشا کو خود سے دور کرتا اٹل لہجے میں گویا ہوا تھا سوہان جبکہ اسٹل کھڑی تھی اُس کو ڈر تھا اگر وہ ہِلے گی تو اُس کی گود سے فاحا گِر جائے گی۔۔
نوریز۔۔۔۔اسلحان متذبذب ہوئی تھی
تم خود بتاؤ کیا یہ میرے بازو بن سکتی ہیں؟نوریز نے تیوری چڑھائے اُس کو دیکھ کر پوچھا اُس کے لہجے میں حدردرجہ سردپن کا عنصر نمایاں ہوا
کیا یہ میرے ساتھ شنابشانہ چل سکتیں ہیں؟ایک اور سوال
یہ بیٹیاں مجھے دے ہی کیا سکتیں ہیں؟”نہ تو اِن کو لیکر میں کہی ساتھ لے جاسکتا ہوں اور نہ یہ مجھے کوئی عقلمندانہ مشورہ دے سکتی ہیں۔۔۔۔نوریز سپاٹ لہجے میں بولا۔
آٹھ سال سوہان کے کوڑے دماغ میں بس یہ لائن کُھپ گئ تھی۔۔۔
“”یہ بیٹیاں مجھے دے ہی کیا سکتیں ہیں؟”نہ تو اِن کو لیکر میں کہی ساتھ لے جاسکتا ہوں اور نہ یہ مجھے کوئی عقلمندانہ مشورہ دے سکتی ہیں۔۔۔۔””
مگر اسلحان کو اُس کے یہ الفاظ کسی تماچے سے کم نہ لگے تھے اور ایک میشا تھی جو یک ٹک اپنے باپ کا چہرہ دیکھے ساری ماجرہ سمجھنے کی کوشش کرنے کی جی توڑ کوشش کررہی تھی
ایک بار اِس کا چہرہ تو دیکھ لو۔۔۔۔اسلحان نے حسرت بھرے لہجے میں فاحا کی طرف اِشارہ دے کر اُس سے کہا جس کو ایک مرتبہ بھی خود نہیں دیکھا تھا
مجھے چہرہ دیکھ کر کرنا کیا ہے؟”میں نے سوچ لیا ہے اب میں وہ کروں گا جو بھائی لوگ مجھ سے کہینگے۔۔۔۔”گارڈ اِن کو باہر کا رستہ دیکھاؤ۔۔۔۔۔نوریز ملک سنگدلی کا مُظاہرہ کرتا آخر میں ہاتھ باندھے چوکیدار سے بول کر حویلی میں داخل ہوگیا تھا جبکہ پیچھے اسلحان کے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔
نوریز
نوریز
میری بات سُنو “میں کہاں جاؤں گی اِن تینوں کو لیکر۔۔۔اسلحان ہوش میں آتی چیخنے چلانے لگی اُس سے فریادیں کرنے لگی مگر سب بے سود اب تو بہادری کا مُظاہرہ کرتا سوہان کی آنکھیں بھی جھلک پڑیں تھیں۔۔۔۔







آج تین ہوگئے تھے کار ایکسیڈنٹ میں وجدان دُرانی اور ثانیہ دُرانی کی موت ہوگئ تھی۔۔۔”اِن تین دِنوں میں اُن دونوں بھائیوں کی زندگی مکمل طور پر بدل گئ تھی”زوریز نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور آریان سارا وقت بس روتا رہتا تھا ہر وقت بس امی امی کی رٹ اُس کے ہونٹوں میں ہوتی تھی۔۔
اب تو ستم یہ ہوا تھا اُن معصوم جانو پر کہ اُن سے اُن کا کمرہ تک چِھین لیا گیا تھا اور وہ جو پہلے اِس شاندار گھر کے مالک تھے اب اسٹور روم میں رہا کرتے تھے”جہاں ای سی تو کیا پنکھے تک کا نام ونشان نہ تھا کوئی نیچے فرش پر بغیر کسی چادر کے اُن کو سونا ہوتا تھا۔۔”زوریز کو اپنے چچاؤں کا بدلتا رویہ کھٹکتا ضرور تھا مگر وہ چُپ تھا کیونکہ اِس کے علاوہ اُس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔۔”اُن دونوں کی مثال جہاں سونے کا چمچ ہاتھ میں لیئے پیدا ہونے والے بچوں کی ہوا کرتی تھی مگر اب اُن کی حالت کوارٹر میں موجود میڈز کے بچوں سے زیادہ بُری تھی۔۔۔۔”دوسرا اُن کا سُننے والا بھی نہیں تھا صدف کو بھی اُن لوگوں نے کام سے نکال دیا تھا اور ثانیہ کے گھروالے یورپ کے رہائشی تھے جو جانے کس وجہ سے پاکستان نہیں آ پائے تھے۔۔۔۔۔
سرمد یہ تمہاری گاڑی ہے اور فراز یہ تمہاری بال ہے۔۔۔۔جمال صاحب ڈھیر سارے کِھلونے لائے اپنے بچوں میں تقسیم کرنے میں مصروف تھے جب آریان جو باہر سے آرہا تھا وہ بھی وہی رُک گیا اِس خیال سے کہ شاید اُس کے چچا اُس کے لیے بھی کچھ لائے ہو۔۔۔
آریان اندر آؤ کچھ کھاء لو۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا جو حسرت سے اُن کِھیلونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔”جہاں پہلے اُس کے منہ سے نکلنے والی ہر خواہش کو پورا کیا جاتا تھا آج وہ بچہ ہر چیز کو ترستی ہوئی اور حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہا تھا جہاں پہلے اُس کے پاس کِھیلنے کے سِوا کوئی اور کام نہیں ہوتا تھا اب وہ بس گھر کے لان میں مارا مارا پِھرتا تھا وہ بہت شرارتی بچہ تھا مگر اب اُس کی شوخی کہی دور جا سوئی تھی۔
چچا ہمارے لیئے بھی کچھ لائے ہوگے ویٹ کرو۔۔۔آریان اُس کے کان کے پاس جُھکا آہستگی سے بولا تو زوریر نے لاونج میں دیکھا جہاں ایک خوشحال منظر تھا ہر کوئی خوش تھا جیسے آج سے کچھ دن پہلے یہاں کسی دو جانوں کا جنازہ نکلا ہی نہ ہو۔۔۔۔
اُن کو کھڑے تیس منٹس ہوگئے تھے جمال صاحب نے خریدیں ہوئیں ساری چیزیں اپنے بچوں اور کمال صاحب کے بچوں میں تقسیم کردی تھیں جبکہ اُن دونوں پر کسی نے ایک نظر تک ڈالنا گوارہ نہیں کیا تھا۔
“مجھے گاڑی چاہیے۔۔۔۔آریان آلتی پالتی مارے نیچے قالین پر بیٹھتا رونا شروع ہوگیا تھا زوریر تو اُس سے بڑا تھا چاہے دونوں میں زیادہ ایج ڈفرنس نہیں تھا مگر اُس کے باوجود زوریز میں عقل تھی جبھی اُس کو کچھ خاص فرق نہیں پڑا تھا مگر آریان نے اپنی حالت خراب کرلی تھی۔۔۔۔
آریان چُپ کرو کمرے میں چلو میں کھانا دیتا ہوں تمہیں ویسے بھی یہ گاڑیاں اچھی نہیں تھیں۔۔۔زوریز نے اُس کو پچکارہ
وہاں گرمی اور حبس ہوتی ہے میں نہیں آرہا۔۔۔”اور مجھے گاڑی چاہیے اپنے سارے گُمشدہ کِھلونے اور کمرہ بھی میری ٹی شرٹس تک غائب ہیں۔۔۔”مجھے۔۔سب کے سب چاہیے وہ بھی ابھی۔۔۔آریان روتا ہوا اُس سے بولا تو زوریز لب چباتا اُس کو دیکھنے لگا”
اچھا میں لادوں گا گاڑی ابھی تو اُٹھو بوائز روتے نہیں۔۔۔۔۔زوریز نے اُس کو لارے دیئے تو آریان خوش ہوگیا
سچیییی؟آریان پرجوش ہوا
ہاں ابھی تو چلو۔۔۔۔اُس کو مسکراتا دیکھ کر زوریز بھی مسکرایا
“فریج کیوں لاک ہے؟زوریز آریان کو اپنے اور اُس کے مشترکہ کمرے(اسٹور روم) میں چھوڑ کر کچن میں آیا تو فریج کھولنے لگا تھا مگر فریج لاک دیکھ کر وہ ناسمجھی سے اپنی چچی سے کے پاس آیا تھا
کیونکہ میں نے لاک لگوایا ہے۔۔۔نصرت نے بتایا
اور آپ نے لاک کیوں لگایا ہے؟زوریز نے سنجیدگی سے پوچھا
میرا گھر میری مرضی۔۔۔۔نصرت نے اُس کو گھورا
آریان کو بھوک لگی ہے سارا دن ویسے بھی اُس نے کچھ کھایا پیا نہیں آپ پلیز فریج لاک کِھلوائے۔۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر کہا”تو نصرت بیگم نے میڈ کو آواز دی جو فورن سے حاضر ہوئی تھی۔
جی بیگم صاحبہ؟وہ مؤدب انداز میں پوچھنے لگی
صبح جو سلائیس اور بریڈ ایکسٹرا بچے تھے وہ اِس کو دو۔۔۔۔نصرت بیگم نے کہا تو زوریز چونک کر اُن کو دیکھنے لگا
آپ جانتی ہیں آریان موم ڈیڈ کے علاوہ کسی اور کا جھوٹا نہیں کھاتا اور رات کے وقت سلائس اور بریڈ کون کھاتا ہے؟زوریز اُن کی بات سن کر بولے بغیر نہ رہ پایا
دیکھو زوریز تمہارے ماں باپ یہاں مرنے سے پہلے قارون کا خزانہ نہیں چھوڑ گئے اِس لیے جو مل رہا ہے اُس پر صبر شکر کرو۔۔۔نصرت اُس کو آنکھیں دیکھاتی بولیں
مجھے پئسے دے آپ میں باہر سے اُس کے لیے کچھ منگوادوں گا۔۔۔”زوریز بس یہ بولا
پئسا کہاں سے لاؤں میں؟”تمہیں اگر جو مل رہا ہے وہ لے رہے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ تمہاری مرضی۔۔۔۔۔”بھوکے سوجاؤ۔۔۔نصرت نے ہاتھ کھڑے کیے
میں سوجاؤں گا بھوکا مگر آریان کے لیے روکھی ہی سہی پر آپ تازی روٹی بنواکر دے۔۔۔۔زوریز اپنی جگہ بضد تھا
کہاں سے لاؤں میں ہاں بول”کہاں سے لاؤں؟نصرت نے سختی کا مُظاہرہ کیا
وہی سے جہاں آپ اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔۔۔۔زوریز نے زندگی میں پہلی بار بدلحاظی کا مُظاہرہ کیا جس پر نصرت کو اُس پر تاؤ آیا
چٹاخ
بدتمیز کرتا ہے کمبخت۔۔۔نصرت ایک زناٹے دار تھپڑ اُس کے نازک گال پہ برساتی اُس کو باتیں سُنانے لگی جو وہ اپنے گال پہ ہاتھ رکھتا زمین کو گھورتا اُن کی باتیں خاموشی سے سُنتا رہا
اگر آپ نے مجھے آریان کے لیے کھانا نہیں دیا تو میں آپ کا سیل فون توڑ دوں گا۔۔۔زوریز اچانک ٹیبل پر موجود اُس کا موبائیل اُٹھائے دھمکی آمیز لہجے میں بولا تو نصرت گڑبڑائی
میرا فون واپس کرو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔نصرت زچ ہوئی
پہلے آریان کا کھانا۔۔۔۔زوریز بھی اپنی بات پر ڈٹا رہا جس پر نصرت نے دانت پیس کر اُس کو دیکھا پھر میڈ کو اِشارہ کیا تو وہ اُس کے لیے کھانا لائی جس کو دیکھ کر زوریز نے نصرت کا فون واپس ٹیبل پر رکھا اور وہاں سے چلاگیا








کرایا میڈم ۔۔۔۔۔۔۔اسلحان گم سم تینوں بچیوں کو لیے بیٹھی تھی جب کنڈیکٹر نے اُس سے کرایا مانگا تو اسلحان نے اپنی پرس کو کھولا جہاں بس ایک ہزار کا نوٹ تھا یہ دیکھ کر اُس نے ٹھنڈی سانس خارج کی اور وہ نوٹ کنڈیکٹر کی طرف بڑھایا
امی بھوت(بھوک) کنڈیکٹر اسلحان کو بقیہ رقم واپس کرنے لگا تو میشا نے بھوک کا بتایا
مجھے کھا جاؤ تم۔۔۔۔اسلحان اُس کو گھور کر بولی تو سوہان نے ناراض نظروں سے اُس کو دیکھا
اپنے جسم کا تجھ(کچھ)ٹاٹ(کاٹ) کردے تھالوں گی۔۔۔۔میشا جواباً بولی تو اسلحان نے کاٹ کھاتی نظروں سے اُس کو دیکھا
میشو تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے؟سوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھا
تھرو امی نے تیا تھا(شروع امی نے کیا تھا)میشا ناک منہ چڑھا کر بولی
امی اِس کو اب دودھ دے صبح سے بھوکی ہے۔۔۔سوہان نے فاحا کو دیکھ کر اسلحان سے کہا
میں چلتی بس سے اِس کو پھینک دوں گی اگر میرے سامنے لائی بھی تو۔۔۔۔۔اسلحان نے گھور کر اُس کو بھی لتاڑا تو سوہان سہم گئ تھی۔۔”کچھ وقت بعد اُس کو کسی اور بچے کے رونے کی آواز سُنائی دی تو اُس نے اُٹھ کر پچھلی سیٹوں کی جانب باری باری دیکھا جہاں ایک خاتون اپنا چہرہ چُھپائے سائیڈ پہ کیے چھوٹے بچے کو فیڈ کروانے میں مصروف تھی یہ دیکھ کر سوہان کی آنکھوں میں چمکی آئی تھی جبھی فاحا کو لیے گِرتی پِرتی اُس خاتون کے پاس آئی
السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔سوہان نے گھبراکر اُس کو سلام کیا جس کے ساتھ ایک پانچ یا چار سالہ بچہ بھی موجود تھا۔۔۔۔
وعلیکم السلام بچے۔۔۔خاتون شاید خوش اخلاق تھی جبھی مسکراکر سوہان کو دیکھتی اُس کا گال چھوا تو اُس کو مسکراتا دیکھ کر سوہان کو کچھ ڈھارس ملی
یہ آپ کا بے بی ہے؟سوہان نے اُس کی گود میں موجود بچے کی طرف اِشارہ کیا
ہاں یہ میرا بچہ ہے پر تم نے اِس بچی کو کیوں اُٹھایا ہوا ہے ماں کہاں ہے تمہاری؟وہ خاتون جواب دینے کے بعد اُس سے بولی
کیا آپ میری بہن کو اپنا دودھ دینگی؟”صبح سے بھوکی ہے یہ۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی سوہان کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔۔۔
عاشر تھوڑا سائیڈ پر ہونا اور بچے تم یہاں بیٹھو۔۔۔۔وہ خاتون بچے کو تھوڑا سائیڈ خالی کرنے کا کہتی سوہان کو اپنے پاس بیٹھایا
کیوٹ بے بی۔۔۔عاشر نے پرجوش انداز میں فاحا کا روئی جیسا گال چھوا
تمہاری امی کیوں نہیں دے رہی اِس کو؟خاتون نے پوچھا
وہ۔۔۔میری”امی۔۔۔کو۔۔شوگر ہے جبھی۔۔ڈاکٹر نے دودھ دینے سے منع کیا ہے اور۔۔۔۔۔یہ ابھی ایک ماہ کی بھی نہیں ہوئی تو ہم۔۔۔ڈبے کا یا بھینس کا دودھ اِس کو نہیں دے رہے۔۔۔’سوہان نے اٹک اٹک کر جھوٹ بولا اُس کو خود پر حیرت بھی ہوئی کہ ایسا بہانا اُس کے دماغ میں آیا کیسے۔۔۔۔
افسوس ہوا خیر تم پریشان نہ ہو تمہاری بہن کی بھوک ختم ہوجائے گی۔۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی اُس عورت نے فاحا کو اُس کی گود سے لیا۔۔۔
یہ میں اُٹھاؤں؟سوہان نے باسکٹ میں فروٹس دیکھے تو اُن میں سے ایک ایپل اُٹھائے عاشر سے پوچھا جو کھڑکی کے باہر دیکھ رہا تھا
ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔عاشر نے خوشدلی کا مُظاہرہ کیا اُن دونوں کو دیکھ کر جبکہ وہ عورت مسکرائی تھی۔
شکریہ۔۔۔۔۔سوہان خوش ہوتی وہ ایپل اُٹھائے میشا کے پاس آئی اور اُس کو سیپ تھمایا جو نیند سے جھول رہی تھی۔۔۔۔
“یہ بتادے کہ ہم جاء کہاں رہے ہیں؟سوہان نے سنجیدگی سے اسلحان کو دیکھا جس کی آنکھوں سے آنسوؤ کی برسات جاری تھی
اپنے بھائی اور تمہارے ماما کے پاس دعا کرنا وہ مجھے قبول کرے ورنہ رُل جائینگے ہم۔۔۔۔اسلحان نے جواب دیتے کہا تو سوہان کو مایوسی ہوئی
باپ نے تو قبول نہیں کیا کسی اور سے کیا اُمیدیں لگائے۔۔۔۔سوہان سرجھٹک کر کہتی فاحا کے پاس جانے لگی تھی جبکہ اُس کے الفاظوں نے اسلحان کو حیران کردیا تھا اُس کو یقین نہیں آیا کہ یہ کہنے والی اُس کی آٹھ سالہ بیٹی تھی۔۔۔۔







اسیر آپ نے ہم سے جھوٹ بولا؟”ہماری یہ تربیت تو نہ تھی۔۔۔۔عروج بیگم(نوریز کی والدہ) نے افسوس سے اسیر کو دیکھ کر کہا
دادو ہم نے خود دیکھا تھا وہ تینوں گیٹ کے پاس تھیں۔۔۔۔۔اسیر فورن سے بولا
اسیر جھوٹا۔۔۔۔جھوٹا جھوٹا۔۔۔۔۔پندرہ سالہ دیبا جس کے بالوں میں عروج بیگم مالش کررہی تھی وہ اسیر کو چِڑانے لگی
تم جھوٹی۔اسیر نے غُصے سے ناک کی نتھے پِھیلائے اُس کو گھور کر کہا
شرم کرو اسیر بڑی ہے تم سے۔۔۔۔۔نورجہاں(دیبا کی والدہ)اُس کو دیکھ کر بولی
اپنی بیٹی سے کہو ہم سے پنگا نہ لے۔۔۔اسیر اپنی چھوٹی پیشانی پر بل لائے کہتا وہاں سے رفو چکر ہوگیا
بہو بچہ تھا ایسے بات نہ کیا کرو اُس سے۔۔۔عروج بیگم اُن کو دیکھ کر بولیں
دادو اور وہ جو مجھ سے چھوٹا ہوکر بدتمیزی کرتا ہے اُس کا کیا؟نور جہاں سے پہلے دیبا عروج بیگم کو دیکھ کر بولی
اماں جان یہ آپ لوگ کے لاڈ پیار کا نتیجہ ہے اور اسیر ویسے تو بڑی بڑی باتیں کرتا ہے”اِس کو پتا ہونا چاہیے میری دیبا اُس کی منگ ہے۔۔۔۔نورجہاں سرجھٹک کر بولی
توبہ ہے یہاں تو۔۔۔۔دیبا اپنی ماں کی بات پر ناگواری سے بڑبڑائی اُٹھ کھڑی ہوئی
بے جوڑ رشتہ ہے کیا ہوگیا ہے ہمارا اسیر اِتنا چھوٹا ہے جبکہ ماشااللہ سے دیبا جوان ہے۔۔۔۔عروج بیگم رسانیت سے بولی
آپ کے بیٹوں کو رشتہ کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا ویسے بھی کچھ سالوں کی بات ہے پھر قد کاٹھ میں اسیر دیبا سے بڑا لگے گا۔۔۔۔نورجہاں آرام سے بولیں تھیں
اچھا سُنو کیا اسلحان آئی تھی؟”عروج بیگم نے اُن سے بحث کرنا مُناسب نہیں سمجھا
آئی تھی اور چلی بھی گئ۔۔۔۔۔نورجہاں نے آرام سے بتایا۔۔۔
چلی بھی گئ فاحا کو بھی ساتھ لے گئ کیا؟عروج بیگم پریشان ہوئی
فاحا کون؟”نورجہاں نے ناسمجھی سے اُن کو دیکھا
اُس کے چہرے سے لگتا ہے اِس بار بھی بیٹی ہوگی تو میں نے بول دیا تھا پہلے بیٹیوں کا نام خود رکھا تھا مگر اِس بار میں نہیں رکھوں گی۔۔۔عروج بیگم ہلکی مسکراہٹ سے بولی
لو جی یعنی آپ کی بددعا لگی اُس کو ورنہ وہ تو بیٹا چاہتی تھی خیر آپ کے بیٹے نے جتنی جلدی شادی کی تھی اُس جلدی سے بیوی کو طلاق بھی دے ڈالی۔۔۔۔نورجہاں اُن کے سر پہ بم گِراتی چلی گئ تھیں اور پیچھے عروج بیگم کا ہاتھ اپنے منہ پر پڑا تھا۔۔۔۔







دروازہ کیوں لاک ہے؟اسحان اپنے بھائی کے گھر آئی تو دروازہ دیکھ کر اُس کو فکر لاحق ہوئی”آس پاس لوگوں سے اُس نے بہت پوچھا مگر کسی کو بھی کچھ پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں گئے تھے؟”اور کب تک واپسی کا اِرادہ ہے۔۔۔۔
امی اب ہم کہاں جائینگے۔۔۔۔سوہان نے اسلحان کو دیکھ کر پوچھا جس کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔
پتا نہیں”میرے پاس تو پئسے بھی نہیں۔۔۔۔۔اسلحان دُکھی لہجے میں کہتی اُن کو لیئے روڈ پر آئی تھی جب ایک ٹیکسی اُن کے پاس رُکی
اسلحان تم؟ٹیکسی سے ایک خاتون باہر نکلتی خوشگوار لہجے میں اُس کو دیکھ کر مُخاطب ہوئی یہی حال اسلحان کا بھی تھا
ساجدہ تم وقت پر ملی ہو پلیز یار میری مدد کرو مجھے انکار مت کرنا۔۔۔اسلحان اُس کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی جبکہ ٹیکسی سے پان کھاتا ایک آدمی بھی باہر آیا تھا جو غالباً ساجدہ کا شوہر تھا۔۔۔
اسلحان کیا ہوگیا ہے تمہیں؟”کیسی باتیں کرنے لگی ہو؟”اور اپنا حال دیکھو زرا کیا بنایا ہوا ہے؟ساجدہ کو اُس کا عمل کافی عجیب لگا تھا تبھی فکرمندی سے ایک کے بعد ایک سوال کیئے جبکہ پانے کھاتے اُن کے شوہر کی نظریں سوہان پر جمی ہوئیں تھیں
مجھے تم اپنے گھر لے جاسکتی ہو؟”پھر وہاں بیٹھ کر بات کرے تو زیادہ اچھا ہوگا نہیں؟اسلحان نے ہچکچاہٹ سے کہا
ہاں کیوں نہیں انور تم اِس بچی سے نیو برن بے بی لو۔۔”بیچاری تھکی ہوئی لگ رہی ہے۔۔سوہان کو دیکھ کر ساجدہ نے اپنے شوہر سے کہا
ایت ماہ تی ہونے والی اے(ایک ماہ کی ہونے والی ہے)۔۔۔لفظ نیو برن پر میشا نے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا تو وہ مسکرائی
لاؤ۔۔۔انور سوہان کی طرف آیا تو اُس نے احتیاط سے فاحا کو اُس کی گود میں ڈالا جس پر انور نے اُس کے ہاتھوں کو دبوچ کیا
انکل میرے ہاتھ چھوڑے۔۔۔۔۔سوہان کو اُس کی اِس حرکت عجیب لگی تھی جبھی اُونچی میں بولی تو اسلحان نے چونک کر اُن دونوں کی طرف دیکھا جس پر انور گڑبڑا گیا تھا
غلطی سے ہوگیا بچہ۔۔۔وہ سنبھل کر بولا
ٹیکسی میں بیٹھو۔۔۔۔۔ساجدہ خود بیٹھ کر اسلحان سے کہا تو وہ میشا کو لیئے وہاں بیٹھی
تم آگے بیٹھو۔۔۔۔۔۔”وہاں جگہ نہیں ہوگی۔۔۔سوہان بھی وہاں بیٹھنے لگی تھی جب انور نے اُس کا بازو پکڑ کر کہا تو اُس کے ہاتھ لگانے پر جانے کیوں سوہان کو اپنے وجود میں سنسی ڈورتی ہوئی محسوس ہوئی تھی اُس نے سہمی ہوئی نظروں سے انور کو دیکھا جو مونچھوں کو تاؤ دیئے اُس کو دیکھ رہا تھا۔
