Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 49)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 49)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
بندہ آس پاس موجود سنگل لوگوں کا ہی خیال رکھتا ہے۔۔۔آریان نے اُونچی میں کہا تو سوہان ایک جھٹکے سے فاصلے پر کھڑی ہوئی جس پر زوریز آریان کو گھورنے لگا جو اب اپنے دانتوں کی نُمائش کررہا تھا۔
“جب سنگل لوگ خود کسی کا خیال نہیں رکھتا تو کوئی اور بھی اُس کا خیال نہیں کرتا۔ ۔۔”زوریز نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بتایا
“فاحا میشا اور سوہان آپ تینوں جاکر گاڑی میں بیٹھے” ہم بھی آتے ہیں۔ ۔اسیر نے سنجیدگی سے اُن تینوں کو دیکھ کر کہا
“سوہان کو میں ڈراپ کردوں گا۔ ۔زوریز نے کہا
“یہاں کے لوگوں کا مقابلہ تم نہیں کرسکتے۔ اسیر نے سنجیدگی سے کہا
“میں یہاں کسی سے مقابلہ کرنے آیا بھی نہیں ہوں” اور مقابلہ کرنے کی ضرورت پڑ بھی گئ تو مقابلہ کر پاؤں یا نہیں لیکن سوہان کو پروٹیکٹ میں اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں۔۔۔زوریز بھی جواباً سنجیدگی سے بولا تو اسیر نے سوہان کو دیکھا
“میں زوریز کے ساتھ آجاؤں گی”تم دونوں خیریت سے حویلی پہنچو۔۔۔سوہان اسیر کی نظروں کا مطلب سمجھے میشا اور فاحا سے بولی تو وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں۔ ۔
“اور ابھی وہ گاڑی کے پاس پہنچی ہی تھی کہ کچھ نقاب پوش لڑکوں نے اُن کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا جن کو دیکھ کر میشا کی آنکھوں میں چمک آئی تھی”آج بہت وقت بعد اُس کو اپنے ہاتھ کی کُھجلی مٹانے کا موقع جو مل گیا تھا تو وہ کیسے اُس کو ضائع ہونے دیتی۔
“بغیر کوئی آواز کیئے ہمارے ساتھ آؤ۔۔اُن میں سے ایک نے دونوں کو گھور کر کہا
“آپو۔۔فاحا نے پریشان کُن لہجے میں میشا کو آواز دی اور پلٹ کر دیکھنے لگی کہ اسیر والوں میں سے کوئی آرہا ہے یا نہیں
“فاحا جانی آپ کو ہم نے سیلف ڈیفنس کرنا سِکھایا تھا نہ؟میشا نے گردن موڑ کر فاحا کو دیکھ کر کہا
“سُن شہری لڑکیوں زیادہ چلاکی کرنے کی ضرورت نہیں ورنہ اِس کی ساری گولیاں تم دونوں کی کھوپڑیوں میں پیوست ہوگی۔۔دو لڑکوں نے اُن کے سروں پر گن تان کر کہا تو میشا اپنے ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑی ہوتی فاحا کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر خوف کے سائے لہرا رہے تھے۔
“زندگی میں کوئی بھی کام کل پر نہیں چھوڑا جاتا کیونکہ کل کیا ہوگا؟”اور کل کس نے دیکھا ہے؟”یہ بات کوئی نہیں جانتا اِس لیے جو کرنا ہے آج کرنا ہے اور ابھی کرنا ہے۔۔۔
“میشا کی حرکت پر فاحا کے کانوں میں سوہان کی آواز گونج اُٹھی تھی پھر اچانک اُس میں جانے کونسی قوت جاگی جو وہ دو قدم اُن لڑکوں سے پیچھے لیتی پھر گھوم کر ایک زوردار لات گن تانے کھڑے لڑکے کے ہاتھ پر ماری تو اُس کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر میشا کے قدموں کے پاس گِری تھی جس پر میشا چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے پاؤں سے اُس گن کو اُپر کیے کیچ کیا اور بغیر ایک بھی لمحہ ضائع کیے اُس نے اُن چار سے تین لڑکوں کے قدموں کے پاس فائر کیا تھا۔”یہ سب اِتنا اچانک اور مہارت سے کیا گیا تھا کہ وہ لڑکے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے تھے”جبکہ فاحا نے بہادری کا مظاہرہ کر تو دیا تھا لیکن اُس کے باوجود اُس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا کیونکہ اُس کو اپنے عمل پر یقین نہیں ہورہا تھا
“ہم شہری لڑکیاں تم جیسے آوارہ جاہلوں کے قابوں میں نہیں آنے والی۔۔میشا نے طنز لہجے میں کہہ کر ایک کے چہرے پر مُکہ مارا تھا
“تیری تو۔ ۔دوسرا اُس کی طرف بڑھ کر تھپڑ مارنے والا تھا لیکن میشا نے جلدی سے جُھک کر اپنا بچاؤ کردیا تھا۔
“اور ابھی تیسرا بندہ پیچھے سے کھڑا ہوتا اُس کے سر پر گن مارنے والا تھا جب کسی نے اُس کا ہاتھ بے رحمی سے دبوچا تھا۔ ۔
“آپو۔ ۔
فاحا کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی تھی جس کو سن کر میشا جھٹکے سے پلٹی تھی اور اپنے پیچھے آریان کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی جس کی لہو رنگ ہوتی آنکھیں اُس لڑکے پر جمی ہوئی تھیں۔ ۔
“وہ چاروں فائرنگ کی آواز سن کر باہر کو آئے تھے اور سامنے کا منظر دیکھ کر سوہان کے جہاں ہوش خطا کرگئے تھے وہی آریان نے جب ایک لڑکے کو میشا پر پیچھے سے وار کرتا دیکھا تو وہ درشتگی کے عالم میں اُس کی طرف بڑھا تھا۔
“آریان لِیو۔ ۔میشا کے کانوں میں اُس آدمی کے ہاتھ کی ہڈی کی ٹوٹنے کی آواز آئی تو بے ساختہ اُس کو روکنے کی کوشش کی۔
“As you say.
آریان سرسراتے لہجے میں کہتا اُس کا ہاتھ موڑ کر کسی اچھوت کی طرح اُس کو چھوڑا جس پر فاحا نے بے ساختہ اپنی نظروں کا رخ بدلا تھا وہ نہیں دیکھ سکتی تھی ایسا دردناک منظر۔
“کیا پاگل ہوگئے ہو یہ کیا کردیا تم نے پولیس کیس بن سکتا ہے تم پر۔ ۔جہاں اسیر اور زوریز باقیوں کی درگت کرنے میں لگے ہوئے تھے وہی میشا آریان کے سینے پر ایک تھپڑ مارتی دانت پیس کر بولی
“تو اور کیا کرتا شاباشی دیتا کہ اچھا ہوا جو تم نے میری لوور کے پیچھے سے وار کرنے کی کوشش کی۔ ۔۔آریان درشتگی سے چیخا تو میشا اُس کو دیکھتی رہ گئ وہ آج دوسری دفع اُس کا چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ دیکھ رہی تھی پہلی بار ہوسپٹل میں زوریز کے لیے اُس نے آریان کا یہ روپ دیکھا تھا اور آج اپنے لیے دیکھ رہی تھی۔۔
“آریان
چُپ کرجاؤ تم بڑا خود کو تم تیسمار خان سمجھتی ہو”اِتنا خود پر اورر کانفڈنٹ نہیں ہونا چاہیے ابھی اگر میں وقت پر نہیں آتا تو تمہاری سوچ ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔ ۔میشا کچھ کہنے والی تھی جب آریان اُس کی بات درمیان میں کاٹ سخت لہجے میں بولا
“تم مجھ سے ایسے بات نہیں کرسکتے۔۔۔میشا سے آریان کی اُونچی آواز برداشت نہیں ہوئی وہ بھلا کہاں عادی تھی”دوسرا یہ کہ آریان نے ہمیشہ اُس کی ہر بات ہر بدتمیزی کو اگنور کرکے آرام سے بات کی تھی اور آج اُس کا ایسا لہجہ وہ سہن نہیں کرپا رہی تھی۔ اور باقی سب بس خاموشی سے اب اُن کو لڑتا جھگڑتا دیکھ رہے تھے جو کہ کوئی نئ بات نہیں تھی پر آج کچھ الگ تھا دونوں کے درمیان جس کو وہ سب لوگ تو جان گئے تھے بس وہ انجان بن رہے تھے۔
“میں کرسکتا ہوں اور میں کروں گا اگر جو تم نے ایسی کوئی بھی حرکت دوبارہ کرنے کی سوچی بھی تو۔ ۔آریان اُس کو گھور کر بولا تھا
“میں تمہاری کوئی بھی بات ماننے کی پابند نہیں ہوں سمجھے۔ ۔میشا نے دانت کچکچاکر اُس کو گھورا
“ٹھیک ہے پھر تم میرے ری ایکشن کے لیے بھی تیار رہنا۔ ۔آریان نے اُس کو گویا خبردار کیا
“میں تم سے ڈرتی نہیں آریان۔۔میشا کو انتہا کا غُصہ آیا
“بات یہاں ڈرنے کی میں کر بھی نہیں رہا۔ ۔آریان طنز ہوا
“تمہار
گائیز اسٹاپ اِٹ بس بہت ہوگیا تم دونوں کی توں توں میں میں سے اب لوگ اکتا گئے ہیں۔ ۔اُن کو چُپ ہوتا نہ دیکھ کر سوہان نے مداخلت کی
“مجھے اِس کے منہ لگنے کا شوق نہیں ہے اِس کو کہو شہر واپس چلا جائے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ ۔میشا سرجھٹک کر بولی
“میں شہر رہوں یا گاؤں اِس بات کا فیصلہ تم نہیں آریان دُرانی خود کرے گا۔آریان کو گویا اُس کی بات سن کر پتنگے ہی لگ پڑے تھے۔
“تم اپنی بدتمیزی کی معافی مانگو مجھ سے ورنہ میں تمہارا سر پھاڑدوں گی۔ ۔میشا نے اُس کا گریبان دبوچا
“میری بات سُنو تم اب تو حد سے زیادہ بڑھ رہی ہو میں نے ابھی صرف تمہیں اپنا دل دیا ہے اپنی عزت نہیں۔ ۔آریان اُس سے دور ہونے کی کوشش کرتا بولا تو سب نے اپنا سر پکڑا تھا بس ایک اسیر تھا جو ایسے لاتعلق تھا جیسے وہاں خود اکیلا ہو” لیکن میشا کا منہ حیرت میں ضرورت سے زیادہ کُھل گیا تھا۔
“تم کمینے گدھے معافی مانگو مجھ سے۔ ۔۔میشا نے ضد کی
“نہیں مانگوں گا میں معافی کیونکہ غلطی ساری تمہاری ہے میری نہیں ہے۔۔آریان بھی اپنی جگہ ڈٹ کر کھڑا رہا
“آریان میری بات سُنو اگر تمہارے ایک لفظ معافی سے میشا کو خوشی ملتی ہے”اور ساری لڑائی ختم ہوتی ہے تو سوری بول کر معاملہ رفع دفع کرو۔۔زوریز نے دونوں کی بڑھتی ہوئی لڑائی کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا”تو آریان نے گہری سانس بھر کر میشا کو دیکھا جو اُس کو دیکھ کر فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے بیٹھی تھی۔
“اگر اِس کو میرے ایک لفظ سوری سے خوشی ملتی ہے تو بھائی یہ ٹینڈے جیسی شکل بنا کر کھڑی رہے مجھے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ سوری والی خوشی میں نہیں دینے والا اِس کو سوری۔ ۔۔میشا جو سوچے ہوئے تھی کہ اب آریان اُس سے معافی مانگے گا پر اُس کی ایسی بات سن کر اُس کا دماغ گھوم گیا تھا۔
“تم کریلے آلو مجھے ٹینڈے جیسی شکل والی کہنے کی تم نے ہمت کیسے کی؟میشا اُس کے بال نوچنے کے قریب تھی۔
“تم یہاں آؤ بہت ہوگیا۔۔۔سوہان نے آگے بڑھ کر اُس کو آریان سے دور کیا ورنہ میشا کا کیا بھروسہ تھا کہ وہ سچ میں آریان کے بال نوچ لیتی
“میں آج اِس کو چھوڑوں گی نہیں سوہان تم بس درمیان میں مت پڑو۔۔میشا نے اُس کو باز رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
“لڑائی لڑائی معاف کرو آپو۔۔فاحا نے بھی میشا کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا
“ہاں تم دونوں ہی اِس کو سمجھاؤ ورنہ میرا دل ایسے صاف ہے جیسے کسی نے سرف ایکسل سے صاف کیا ہو۔۔آریان نے میشا کو گھور کر بولا
“اب تمہاری زبان زیادہ چل رہی ہے۔۔سوہان کی گرفت میں میشا پھڑپھڑائی
“میری اپنی ملکیت ہے زیادہ چلاؤں یا کم ویسے بھی تمہاری طرح ہاتھ چلانے سے اچھا ہے کہ بندہ زبان چلائے۔۔۔آریان نے مزید اُس کو آگ لگائی
“گاڑی میں بیٹھو تم چُپ چاپ۔۔زوریز نے زبردستی آریان کو اپنی گاڑی کے قریب گھسیٹنے لگا
“نہیں آج دو دو ہاتھ ہو لینے دے۔۔میشا نے اُونچی آواز میں کہا پر سوہان نے زور زبردستی کرکے اُس کو اسیر کی گاڑی میں ڈالا تھا۔







“مجھے آپ سے بات کرنی ہے اور یہ بہت ضروری بات ہے۔۔عاشر لائبریری میں آتا لالی سے بولا جو ہمیشہ کی طرف اپنا سر کتابوں میں دیئے ہوئے تھی۔
“جی کہو؟لالی بنا اُس کو دیکھے بولی
“میری طرف دیکھے۔ ۔عاشر نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے سامنے کُھلی کتاب کو بند کیا
“کیا ہوا ہے ایسا ری ایکٹ کیوں؟ لالی حیران ہوئی
“میری بات بہت سیریس ہے اور وہ میں تبھی بول سکتا ہوں جب آپ میری طرف دیکھ کر سُنے گی۔ ۔عاشر کافی اُلجھن کا شکار ہوگیا تھا کیونکہ اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ لالی سے کیسے بات کرے؟
“میں سُن رہی ہوں آپ کہے؟لالی غور سے اُس کی طرف دیکھ کر بولی
“کیا آپ مجھ سے شادی کرینگی؟عاشر نے جھٹ سے کہا تو لالی ہونک بنی اُس کا چہرہ تکنے لگی
جی؟لالی بار بار سرجھٹکتی حیرت سے عاشر کو دیکھنے لگی اُس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا
“میں بہت پسند کرتا ہوں آپ کو جانتا ہوں ہمارے درمیان بہت اسٹیٹس ڈفرنس ہے لیکن ٹرسٹ می میں آپ کو دُنیا کی ہر آسائش دینے کی کوشش کروں گا آپ کو کبھی کسی چیز کی تنگی محسوس نہیں ہوگی۔ ۔عاشر فرفرفر بولنے لگا اُس کو بس اِس بات کا ڈر تھا کہ لالی منع نہ کردے۔
“آپ ایک لڑکی کو پرپوز کررہے ہیں وہ بھی لائبریری میں؟ لالی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیسا ری ایکٹ کرے دوسرا اُس کو عجیب بھی لگا تھا یوں لائبریری میں عاشر کا پرپوز کرنا کافی الگ سا تھا۔
“جانتا ہوں ان رومانٹک سی جگہ ہے لیکن ایک بار آپ کے سارے حقوق اپنے نام کروادوں اُس کے بعد آپ کو ایک بہترین جگہ لے جاؤں گا جہاں ہمارے یادگار لمحات ہوگے اور کسی چیز کا ڈر نہیں ہوگا۔۔۔عاشر نے اُس کی بات کے جواب میں بالوں میں ہاتھ پھیر کر یہ دیا تو وہ لاجواب سی ہوگئ تھی۔
“پتا ہے کیا آپ ایک بہت اچھے اِنسان ہیں۔۔۔لالی نے کہا تو عاشر مسکرایا
“آپ کی خواہش ہر لڑکی کو ہوسکتی ہے اور جس کسی کی بھی شادی آپ سے ہوگی وہ خوشقسمت ہوگی پر۔۔بات کرتے کرتے لالی اچانک رُک گئ
پر کیا؟عاشر کو انجانا سا خوف ستانے لگا
“پر میں خوشقسمت نہیں عاشر کہ مجھے آپ کا ساتھ میسر ہو۔لالی چہرے پر عجیب مسکراہٹ سجائے بولی لیکن عاشر کو اُس کی بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا تھا “کیونکہ لالی نے بات ہی کچھ اِس طرح سے کی تھی کہ وہ جان نہیں پایا تھا۔
“میں سمجھا نہیں”اگر آپ کو میں واقع پسند ہوں تو یہ اعتراض کیوں؟عاشر نے پوچھ ہی لیا
“میں گاؤں کی رہنے والی ایک سادہ سی لڑکی ہوں جو اُڑان بھرنا چاہتی ہے لیکن اُس کے پٙر بچپن میں کاٹ دیئے گئے تھے۔”وہ کُھلی ہوا میں سانس لینا چاہتی ہے پر اُس کو سونے کے پنجرے میں قید کیا ہوا ہے مجھے اپنے خاندان کے روایتی اصولوں نے جکڑا ہوا ہے اور مجھے اِجازت نہیں کہ میں آپ سے دل لگاؤں یا آپ کے سپنے اپنی آنکھوں میں سجاؤں۔۔۔لالی اُداس لہجے میں بولی
“میں زیادہ کچھ تو نہیں جانتا آپ کے گھر والوں کو پر اِتنا کہوں گا کہ آپ مجھے یہ بتائے کہ کیا میرا ساتھ دینگی آپ؟عاشر نے کہا تو وہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
“کیسا ساتھ؟لالی نے پوچھا
“اگر میں آپ کے گھر اپنا رشتہ بھیجوں تو کیا مان جائے گی؟لالی کو دیکھ کر عاشر نے سوال کیا
“بات میرے راضی ہونے کی نہیں ہے۔۔لالی نے اُس کو بتانا چاہا
“پر میرے لیے بس آپ کی رضامندی زیادہ ضروری ہے۔۔عاشر نے سنجیدگی سے کہا تو لالی نے اپنا سرجُھکا لیا “اور اُس کی اِس اِدا پر عاشر کو جیسے اپنا جواب مل گیا تھا جبھی وہ جاندار طریقے سے مسکرایا تھا۔







“تو تم سے نکاح کیا ہے سوہان نے۔ ۔۔اگلے دن سجاد ملک نے سرتا پیر زوریز کو دیکھا کر پوچھا”وہ لوگ اِس وقت حویلی سے باہر لان میں کھڑے تھے۔
“جی۔ ۔زوریز نے مختصر جواب دیا وہ جان نہیں پایا کہ یہ شخص اِتنا انجان کیوں بن رہا تھا ہلانکہ وہ دونوں کورٹ میں پہلے بھی مل چُکے تھے
“یعنی ہم اپنی دُشمن کو خاندان کی بیٹی سونپے؟وہ استہزائیہ انداز میں مسکرائے تھے
“ہمارا نکاح تب ہوا تھا جب آپ کو یاد بھی نہیں تھا کہ آپ کے خاندان میں سوہان نامی کوئی بیٹی بھی ہے تو آپ ایسی باتیں نہ کریں جس کا سر پیر نہیں۔ ۔وہ بھی زوریز دُرانی تھا جس کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا بخوبی آتا تھا۔
“اگر میں انکار کروں تو کونسا تم سوہان کو یہاں سے لے جاسکتے ہو۔ ۔سجاد ملک کو اُس کی بات پر غُصہ آیا
“میں یہاں سوہان کو لینے کے لیے آپ یا کسی کی اِجازت لینے نہیں بلکہ شادی کی تاریخ دینے آیا ہوں” میری پھوپھو کل پاکستان آنے والی ہے تو آپ اپنی تیاری جو کرنا چاہتے ہیں وہ پوری کردے کیونکہ مجھے پھر آؤٹ آف کنٹری بھی جانا ہے۔۔زوریز کا اعتماد قابلِ دید تھا
“پر ہمیں اپنی طرف سے تسلی تو کرنی ہوگی نہ ایسے ہی تو نہیں سوہان کو تمہارے حوالے کرسکتے۔۔نوریز ملک نے بھی باتوں میں حصہ لیا
“جب وہ سات سال کی تھی تو کیا اُن کو گھر سے نکالنے سے پہلے آپ نے کوئی تسلی کروائی تھی؟زوریز نے بڑی سنجیدگی سے سوال کیا تھا اور اُس کے سوال پر اُن کا چہرہ شرم سے جُھک گیا تھا۔”اُن کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ باتیں سوہان زوریز تک کو بتاچُکی ہوگی۔
“تمہیں بات کو گُھمانے کی ضرورت نہیں ہے زوریز تم ایک دُرانی خاندان سے ہو اور ہم ملک خاندان سے ہیں جو خاندان اور ذات کے باہر شادیاں نہیں کرتے۔ ۔سجاد ملک نے گرجدار آواز میں کہا
“بھائی صاحب کی بات سہی ہے پر اگر نکاح ہوگیا ہے تو ہمیں سوچنے کا وقت دروکار ہے کیونکہ ہمارے بھی کچھ اصول ہے جن کی پاسداری ہم نے کرنی ہے۔۔نوریز ملک نے بھی کہا جس کا فرق زوریز کو نہیں پڑا تھا۔
“آپ لوگوں کے اصول آپ سب کو مُبارک ہو کیونکہ میں تو اپنے شوہر کے ساتھ جاؤں گی۔۔۔سوہان بھی وہاں آتی زوریز کے ساتھ کھڑی ہوتی سنجیدگی سے بولی
“یہ کیا بے ادبی ہے اندر جاؤ۔۔سجاد ملک نے اُس کو گھورا عین اُس وقت پولیس کے سائرن کی آواز نے ہر ایک کو چونکا دیا تھا۔
“یہ تو پولیس کی گاڑی کی آواز ہے۔۔نذیر حیرت سے بولا
“پولیس کا ہمارے گاؤں میں کیا کام؟”اور یہ آواز بھی بہت قریب سے قریب تر ہے۔ ۔نوریز ملک بھی متعجب ہوکر بولے
“یہ تو میشا ہے۔ ۔نذیر سامنے میشا کے پیچھے پولیس کانسٹیبلز کو دیکھا تو ششد سا رہ گیا۔ “اور وہاں کھڑا آریان جو طویل خاموشی کا حصہ بنا ہوا تھا وہ بھی پیچھے دیکھنے لگا جہاں میشا اعتماد کے ساتھ چلتی ہوئی آرہی تھی۔
“اریسٹ ہِم۔ ۔میشا نے سجاد ملک کی طرف اِشارہ کیے کانسٹیبل سے کہا
“میشا یہ سب کیا ہے؟نوریز ملک جلدی سے سامنے آئے
“میں آج یہاں میشا ملک بن کر نہیں بلکہ اے ایس پی میشا بن کر آئی ہوں۔ ۔میشا نے بتایا تو ہر کوئی بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا سِوائے سوہان کہ
“میٹرک پاس والوں کو تو کانسٹیبل کی نوکری ملتی ہے ایس پی کی جگہ پر کون رکھتا ہے؟آریان کان کی لو کُھجاکر آہستگی سے بڑبڑایا تھا میشا کی بات کو اُس نے کچھ زیادہ ہی سیریس لے لیا تھا
“کیا اے ایس پی؟نوریز ملک جزبز ہوئے تھے اُن کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیسے ری ایکٹ کرے سالوں پہلے جن بیٹیوں کو کمتر سمجھ کر گھر سے بے دخل کیا تھا آج وہ بیٹیاں یا تو بیریسٹر کے روپ میں اُن کے سامنے کھڑی تھی تو دوسری لیڈی پولیس آفسر بن کر اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی تھی اور بھی جانے اُن کو کیا دیکھنا تھا۔
“ساری باتوں کو چھوڑے اور یہ پوچھے اپنی بیٹی سے کہ پولیس والے بابا سائیں کو کیوں اریسٹ کررہے ہیں؟ نذیر نے کہا
“سجاد ملک کے خلاف میرے پاس اریسٹ وارنٹ ہے دوسرا اِن پر کیس بہت سے ہیں” پہلا کیس اِنہوں نے اپنی معصوم کلیوں کو بے رحمی سے قتل کروایا تھا جن کا حساب دینے کا اب وقت یاد آگیا ہے” دوسرا کیس دُرانی خاندان کا ہے آج سے تئیس سال قبل اِنہوں نے وجدان دُرانی اور اُن کی اہلیہ کو کار ایکسیڈنٹ میں مروایا تھا۔ “تیسرا کیس اِنہوں نے ملک سسٹرز پر قاتلانہ حملا کروانے کی کوشش کی تھی۔ وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ دو بار”اور ہمیں اِن ثبوتوں کی بنیاد پر سجاد ملک کو گرفتار کرنا پڑے گا۔۔میشا نے ایک ساتھ کئ دھماکے کیئے تھے جس کی زد میں ہر ایک انسان آیا تھا” زوریز اور آریان تو بُت بن کر کھڑے تھے وہ جس بات کو ایکسیڈنٹ سمجھتے آئے تھے وہ ایکسیڈنٹ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھتی چال سازش تھی جس سے وہ اِتنے سال بے خبر رہے تھے” اور یہ کیسا انکشاف ہوا تھا اُن دونوں پر؟ دوسرا اُنہوں نے خود سے اپنے ماں باپ کی موت کے بارے میں جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی تھی؟ ایسے جانے کتنے سوالات اُن کے دماغ میں ڈگمگانے لگے تھے جن کا جواب اُن دونوں کے پاس نہیں تھا۔
“یہ جھوٹ ہے اور مجھے کوئی گرفتار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا یہ ہمارا گاؤں ہے جہاں پولیس کا کوئی کام نہیں ہوتا۔۔سجاد ملک کے پاؤں کے نیچے سے تو گویا زمین کھسک گئ تھی اُن کو یقین نہیں آیا تھا کہ یوں اُن کا راز سب کے سامنے فاش بھی ہوسکتا تھا۔
“پولیس کا کام بھی بن جائے گا اور وہ میں بناؤں کیونکہ سی ایس ایس کی ٹیسٹ میں فاحا نے نتیجہ حاصل کرلیا ہے اور وہ یہاں اِس گاؤں میں بطور اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے رہے گی جہاں قانون اور انصاف دونوں ہوگا کسی اور بے حس یا ظالم سردار کا یہاں بنا بنایا رواج ختم ہوگا۔۔فاحا بھی باہر آکر طنز لہجے میں بولی تو دوسرا ہونے والا دُھماکا سب کے ہوش اُڑا گیا تھا۔۔
“آپ لوگوں کو کیا لگا تھا ہمارے ساتھ اِتنی ناانصافیاں کرنے کے بعد آئے گے تو ہم خوشی خوشی ہر چیز کو بھول جائے گے تو ایسا بلکل بھی نہیں اِس حویلی سے دیئے جانے والے زخم ہمارے جسموں اور دلوں پر کسی ناسور کی طرح ہے۔۔”ہمارا دل اِتنا وسیع نہیں کہ آپ لوگوں کے ساتھ رہے یہاں ہم آئے تھے تو اپنا مقصد لیکر آئے تھے”میشا کو ثبوتوں کی ضرورت تھی جو اُس کو تب ملتے جب وہ یہاں رہتی۔۔فاحا کو یہاں رہ کر گاؤں کا ماحول دیکھنا تھا تاکہ اپنا کام وہ یہاں بخوبی کرپائے یہاں کے لوگوں کو جاننے کا اُس کو موقع تب ملتا جب وہ یہاں رہتی۔”سوہان نوریز ملک اور سجاد ملک کے روبرو کھڑی ہوتی پختہ انداز میں بولی
“کیس صرف سجاد ملک پر نہیں جھوٹا کیس دائرے کرنے کی صورت میں نذیر ملک کو بھی تھانے چلنا ہوگا۔۔۔میشا نے گویا اپنی بات کو مکمل کیا تھا۔
“جو لوگ عورت ذات کو کمزور سمجھتے ہیں اُن کو پھر اللہ بتاتا ہے کہ اُن کی تخلیق کردہ بیٹیاں کیا کچھ کرسکتیں ہیں۔۔فاحا سوہان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالتی بے تاثر لہجے میں بولی تو نوریز ملک کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ سی آگئ تھی۔”دماغ جیسے ماؤف ہوچُکا تھا اُن میں کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی نہیں بچی تھی
“اسیر کو کال ملاؤ اِن سب سے تو وہ نپٹ لے گا اسیر میرا بیٹا ہے وہ جو کرے گا اب تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا دیکھنا کیسے پھر تم دونوں اپنی پوسٹ سے استیعفیٰ دیتی ہو۔۔سجاد ملک ہڑبڑی میں نذیر اور پھر میشا اور فاحا سے مخاطب ہوئے
“آپ کو سلاخوں کے پیچھے پھانسی کے پھندے کے قریب دیکھے بغیر تو میں کچھ نہیں کرنے والے۔۔میشا نے میٹھا سا طنز کیا
“بابا سائیں بھائی کا نمبر آف جارہا ہے اور اُس کے ساتھیوں نے بتایا آج اُس کو جرگے پر جانا پڑگیا ہے۔۔نذیر بار بار کسی کا نمبر ٹرائے کرتا اُن کو بتانے لگا
“پولیس کا تعلق کسی اسیر ملک سے نہیں اور تم لوگ بیٹھاؤ اِن کو گاڑی میں۔۔میشا نے حکم دیتے ہوئے کہا تو وہ دونوں اُن کی گرفت میں مچلنے لگے”اور جو کوئی بھی اُن کے سامنے آرہا تھا میشا اُن کے قدموں کے پاس فائر کرنے لگ پڑتی۔
