Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 43)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 43)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
زوریز یہ۔۔۔رومال کو اپنے ہاتھ میں پکڑتی سوہان زوریز کو آواز دینے لگی۔۔۔۔”تو زوریز نے سوالیہ نظروں سے سوہان کو دیکھا
“کیا ہوا؟زوریز کی نظر ابھی رومال پر نہیں پڑی تھی
“یہ رومال تو؟سوہان اِتنا کہتی چُپ ہوگئ تو زوریز نے اب غور سے اُس کے ہاتھوں کو دیکھا پھر بے ساختہ مسکرایا تھا
یہ رومال کیا؟زوریز نے انجان بن کر پوچھا
“یہ رومال تو۔۔۔سوہان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا بولے”کیونکہ وہ جو سوچ رہی تھی یہ اُس کی غلطفہمی بھی ہوسکتی تھی۔
“یہ رومال تو آپ کا ہے۔۔۔زوریز نے اُس کی بات کو مکمل کیا تو سوہان چل کر بیڈ پر اُس کے پاس آئی
“یہ بہت پُرانہ رومال ہے زوریز اور ابھی تک آپ کے پاس کیا کررہا ہے؟سوہان بہت حیران ہوئی تھی۔
“میرے لیے کل کی بات ہے جب آپ کا یہ رومال میرے پاس آیا تھا”تو کیسے ممکن تو میں اُس کو کھودیتا۔۔زوریز نے کہا تو سوہان اُس کو دیکھتی رہ گئ جو کچھ نہ بول کر بھی بہت کچھ بول دیتا تھا۔۔
“مجھے سمجھ میں نہیں آتا آپ سے کیا کہوں؟سوہان عجیب کیفیت میں مبتلا ہوتی اُس سے بولی
“آپ کیوں پریشان ہوتیں ہیں؟”میں نے کچھ بھی آپ سے ایسا ویسا نہیں کہا؟زوریز نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر کہا
“تم کچھ نہ بولتے بھی بہت کچھ بول دیتے ہو جیسے کہ۔۔۔بات کرتے کرتے اچانک سوہان کو چُپ لگ گئ
“جیسے کہ کیا؟زوریز نے اُس کی بات کو جاننا چاہا
“میں اپنے گھر جارہی ہوں”آپ کو جو کچھ چاہیے ہو کسی سے بول دیجئے گا۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوتی اپنا حجاب سہی کرنے لگی تو زوریز کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا تھا سامنے والا منظر اُس کو مکمل لگا تھا لیکن ایک چیز کی کمی تھی اور وہ تھی سوہان کی محبت اور اُس کی توجہ تھی۔۔
“آپ مجھ سے دور بھاگتی ہیں ہمیشہ سے۔۔۔سوہان کو جاتا دیکھ کر زوریز نے شکوہ کیا
“کیونکہ آپ کی آنکھوں میں موجود پیغام اور طلب کو میں پورا نہیں کرسکتی۔۔۔سوہان نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا اگر وہ کچھ بھی کُھلے الفاظوں میں بیان نہیں کررہا تھا تو سوہان نے بھی ضروری نہیں سمجھا”دونوں کے درمیان ایک عجیب سی جنگ چِھڑک اُٹھی تھی”جس کو ختم کوئی بھی کرنا نہیں چاہتا تھا
“ہم بیٹھ کر تفصیل سے اِس بارے میں بات کرسکتے ہیں۔۔۔زوریز نے کہا
“ابھی آپ کی ایسی کنڈیشن نہیں ہے کہ ہم کوئی بھی بات تفصیل سے کرپائے اللہ آپ کو صحت دے اِن شاءاللہ پھر ہم کوئی بات کرینگے۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا
“آپ شہر سے دور جارہی ہیں”پتا نہیں پھر کب ہمارا سامنا ہو تو کیا اچھا نہیں آپ مسکراتی ہوئی جائے ناکہ یوں ناراض ہوکر۔۔۔زوریز نے گہری سانس بھر کر کہا تو سوہان نے پلٹ کر اُس کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اُمیدوں کا ایک جہاں آباد تھا”سوہان کو سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر وہ جس سفر کا مُسافر بنا تھا اُس پر زوریز نے اُس کو کیوں چُنا تھا کیوں اُس کے ہزار بار لاتعلقی برتنے پر بھی زوریز لمحے کے لیے بھی اُس سے غافل نہیں ہوتا تھا آخر کیوں وہ اُس کے بارے میں اِتنا سوچتا تھا کیوں اُس کی اِتنی پرواہ کرتا تھا آخر اُس کے پاس تھا کیا؟”کچھ بھی تو نہیں”وہ ایک بنجر زمین تھی جس کو زوریز آباد کرنے پر تول رہا تھا
“آپ چاہتے ہیں میں یہاں سے مسکراکر جاؤں؟سوہان نے پوچھا
“میں چاہتا ہوں آپ یہاں سے کبھی نہ جائے۔۔۔زوریز شاید آج اپنے حواسوں میں نہیں تھا جو ایسی باتیں کررہا تھا اُس سے
“اگر آپ چاہتے ہیں میں یہاں سے خوش ہوکر جاؤں؟”تو میری ایک بات ماننا پڑے گی آپ کو۔۔سوہان اُس کی بات اگنور کرکے بولی تو زوریز چونک سا گیا
“کونسی بات؟”ویسے مجھے آپ کی ہر بات منظور ہے۔۔۔زوریز نے لمحے بھر میں کہا
“پہلے سُن لے۔۔سوہان نے اُس کی بے قراری کو دیکھ کر کہا
“میں سُن رہا ہوں۔۔۔زوریز نے فورن سے کہا
“مجھے میرا رومال آپ کو واپس کرنا ہوگا۔۔۔سوہان نے کہا تو زوریز کی نظریں بیڈ پر پڑے رومال پر گئ جو سوہان رکھ کر گئ تھی۔
“کیوں؟زوریز نے بھنویں اُپر کیے پوچھا
“کیونکہ یہ میری چیز ہے اور چیزیں اُس کے حقدار کے پاس ہو تو اچھا ہوتا ہے۔۔۔سوہان نے کہا
“سالوں پہلے یہ رومال میری ملکیت میں آیا تھا تو اِس کا حقدار میں ہوا اور یہ میرے پاس ہی ہے اپنے اصل حقدار کے پاس۔۔آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر زوریز نے اُس رومال کو اپنے ہاتھ میں پکڑا”ایک بزنس ٹائیکون اور بیریسٹر یہ دونوں لڑ بھی رہے تھے تو کس لیے محض ایک رومال کے لیے جس کی کوئی قیمت نہ تھی لیکن اُس کی قیمت کیا ہے یہ کوئی زوریز سے پوچھتا
“میں جارہی ہوں پھر۔۔سوہان بُرا مان کر بتاتی دروازے کی طرف بڑھ گئ
“میں انتظار کروں گا آپ کا اُمید ہے آپ جلدی واپس آئے گیں۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان نے اِس بار اُس کو کوئی بھی جواب نہیں دیا تھا بس اپنے قدم باہر پورچ کی طرف بڑھائے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہ پُرانہ وقت یاد کرنے لگی جس کو سوچنے کا وقت اُس کے پاس نہیں ہوتا تھا لیکن آج دل بار بار اُس کو ایک بات پر اُکسارہا تھا کہ وہ اپنے گُزرے کل کے بارے میں سوچے۔






“کچھ سال قبل۔۔۔
“سُنو۔۔۔سوہان اپنی کلاس سے باہر نکلی تو ایک گروپ اُس کے راستے میں آتا بولا
“یس؟سوہان نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھا
کون ہو تم؟”میں نے نوٹ کیا ہے زوریز بہت آگے پیچھے گھومتا ہے تمہارے۔۔اُن میں سے ایک لڑکی نے طنز بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو سوہان ناسمجھی والی کیفیت میں اُس کو دیکھنے لگی”وہ جان نہیں پائی کہ کون زوریز؟”کیونکہ آجکل پڑھائی اور جاب تلاش کرنے کی پریشانی اُس کو اِس قدر تھی کہ کچھ اور اُس کو سوجھتا تک نہیں تھا۔۔
“میں آپ کی بات سمجھی نہیں؟سوہان نے ناسمجھی سے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“میری بات غور سے سُنو تم زوریز میرا کزن ہے اور آئے لائیک ہم ویری مچ سو یو اسٹے اوے فرام زوریز۔۔۔وہ ایک قدم اُس کی طرف بڑھا کر وارن کرنے والے انداز میں بولی تو سوہان خاموشی سے اُس کو دیکھتی سائیڈ سے گُزرنے لگی جب ایک بار پھر اُس کا راستہ روکا گیا
“مس اٹیٹیوڈ مجھے میری بات کا جواب دو۔۔۔
“آپ نے جو بکواس کرنی تھی کرلی اور وہ میں نے بڑے تحمل مُظاہرے سے سُن بھی لی مگر اُس کے علاوہ میں کچھ نہیں کرسکتی اور بس آپ سے ایک بات کہوں گی دوبارہ میرے راستے میں آکر میرا راستہ روک کر ایسی بیہیودہ باتیں مت کرنا ورنہ پھر جواب ایسا دوں گی کہ کوئی سوال نہیں بچے گا۔۔۔سوہان نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹھیرے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ جس کا نام عینہ تھا اُس کا پورا چہرہ غُصے سے سُرخ ہوگیا تھا۔
“تم
وہ اُس کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اُٹھانے لگی تو کسی نے اُس کا ہاتھ درمیان میں روک لیا تھا جس پر عینہ کی نظر زوریز پر پڑی جو چہرے پر خطرناک حد تک سنجیدہ تاثرات سجائے اُس کو دیکھ رہا تھا جس پر عینہ کا گلا خشک ہوا تھا کیونکہ وہ تو زوریز کو دیکھ تک نہیں پائی تھی اور اب جب سوہان نے بھی زوریز پر غور کیا تو ساری بات وہ اچھے سے سمجھ گئ تھی۔
“کیا بدتمیزی ہے عینہ۔۔۔زوریز اُس کا ہاتھ کسی اچھوت کی طرح چھوڑتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“بدتمیزی میں کرتی ہوں یا تم؟”مطلب تم نے مجھے سمجھا کیا ہوا ہے جو ہر بار اگنور لِسٹ میں ڈال دیتے ہو اور اِس حجابن کو اہمیت دیتے ہو جبکہ تمہاری توجہ کا مرکز میری ذات ہونی چاہیے۔۔۔عینہ پاگل ہونے کے در پہ تھی۔
“جاؤ یہاں سے تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔زوریز نے اُس کو گھور کر کہا تھا جبکہ اُس کے الفاظوں سے وہ سوہان کے سامنے خود کو شرمندہ محسوس کررہا تھا۔
“سہی تو بول رہی ہے عینو اِس کال گرل
“میں تمہارا منہ توڑدوں گا کمینے انسان اگر کوئی بکواس کی بھی تو۔۔ایک لڑکا کوئی بکواس کرنے لگا تھا جب زوریز اُس کی بات درمیان میں کاٹتا اُس کا گریبان پکڑے در پہ در اُس کے چہرے پر مُکے برسائے تھے اُن کو لڑتا دیکھ کر سوہان نے اپنا ہاتھ بے ساختہ منہ پر رکھا تھا وہ حیرت سے زوریز کو دیکھنے لگے جس پر ایک عجیب سا جنون چڑھا ہوا تھا۔
“زوریز چھوڑو اُس کو کیا تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے؟”عینہ نے اُس کو اپنے دوست سے دور کرنا چاہا لیکن اُس کی زوریز سُن کب رہا تھا وہ تو بس بکواس کرنے والے کا منہ سچ میں توڑنے والا تھا مگر آس پاس کھڑے آدمیوں نے مشکل سے زوریز کو دور کیا
“او مائے گوڈ تمہارے ہاتھ سے تو خون بہہ رہا ہے۔۔سوہان ایک نظر اُن پر ڈالے جانے لگی تھی”جب اُس کے کانوں میں عینہ کی پریشان کُن آواز اُبھری
“لِیو می الون۔۔زوریز اُس کا ہاتھ جھٹک کر جانے لگا تو جانے سوہان کے دماغ میں کیا آیا جو اپنے قدم اُس کے پیچھے لگائے
“ایکسکیوز می؟سوہان نے اُس کو تیز چلتا ہوا دیکھا تو پیچھے سے آواز دی جس پر زوریز کے قدموں کو بریک لگی تھی اور حیرت سے پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگا جہاں سوہان کھڑی تھی۔”اُس کو اپنے پیچھے آتا دیکھ کر زوریز کو جانے کیوں خوشی ہوئی
“جی؟زوریز نے رُک کر سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“آپ کے ہاتھ سے خون رس رہا ہے”میرے ساتھ آئے میں بینڈیج کردوں گی۔۔۔سوہان نے کہا تو زوریز کا دھیان اپنے ہاتھ پر گیا جہاں خون لگا ہوا تھا۔
“اُس کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کا شکریہ۔۔۔زوریز نے نفی میں سرہلاکر کہا
“تکلیف ہونے کے باوجود اُس کو ظاہر نہ کرکے خود کو جینٹل مین ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے”آپ آئے میں کردیتی ہوں بینڈیج کیونکہ ایک بار پھر آپ میری وجہ سے لڑے ہیں۔۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا تو زوریز کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ آئی تھی اب وہ اُس کو کیا بتاتا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں دو بار کسی سے لڑا ہے اور وہ بھی صرف اُس کے لیے کیونکہ وہ نہیں تھا جانتا کہ اگر بات اُس پر آتی تھی تو وہ کیوں اپنا ہوش کھو بیٹھتا تھا پھر اُس کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کر کیا رہا ہے۔
“میں واقعی میں ٹھیک ہوں۔۔۔زوریز نے شانے اُچکاکر کہا تو سوہان اُس کو دیکھ کر گہری سانس بھرتی آہستہ قدم اُٹھاتی اُس کے قریب آنے لگی تو اُس کا اُٹھا ہوا ہر قدم زوریز کو اپنے سینے پر پڑتا ہوا محسوس ہوا”وہ جان نہیں پایا کہ اچانک اُس کو ہونے کیا لگا تھا وہ ایک گرلز الرجک بندہ تھا اُس کو اگر آریان اور اپنی پھوپھو کے بعد کسی سے پیار تھا تو وہ سگریٹس تھیں جس کو پی کر وہ لطف حاصل کرتا تھا لیکن وہ شوق سے پیتا تھا مگر آجکل وہ سوہان کا خیال اپنے دماغ سے جھٹکنے کے لیے پیتا تھا اپنی زندگی میں آتے اِس بدلاؤ سے جہاں وہ خوش تھا وہی پریشان بھی تھا۔۔
“ہاتھ دے اپنا۔۔۔اپنی بیگ سے ایک وائٹ کلر کا رومال نکال کر سوہان نے اُس سے کہا تو زوریز نے بغیر کسی سوال کے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دیا تو سوہان خاموشی سے بہتے خون کی جگہ پر رومال باندھنے لگی۔
“یہ میں نے ایسے باندھ لیا تھا آپ گھر جاکر سہی طریقے سے بینڈیج کروا دیجئے گا ورنہ آپ کی ماں پریشان ہوگی۔۔اُس کو دیکھ کر سوہان نے سنجیدگی سے کہا
“میری ماں نہیں ہے۔۔۔زوریز نے بتایا
“اوو سوری مجھے پتا نہیں تھا۔۔سوہان کو افسوس ہوا
“کوئی بات نہیں۔۔۔زوریز نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا
“میں چلتی ہوں اور آپ سے ایک بات کہوں گی اپنے اور اپنی کزن کے درمیان موجود ساری رنجیشیں ختم کردے تاکہ اُن کو یا کسی اور کو میرے خلاف بولنے کا موقع نہ ملے مجھے یہ سب پسند نہیں ہے۔۔۔سوہان نے کہا تو زوریز سنجیدہ ہوا
“آپ پریشان نہیں ہو دوبارہ کوئی بھی آپ کے خلاف افف بھی نہیں بولے گا اگر بولا تو
“تو آپ اُس کا مُنہ توڑدینگے۔۔۔۔زوریز بات کرتا اچانک رُک گیا تو سوہان نے اُس کی بات کو جیسے مُکمل کیا تھا
“نہیں اب ایسا بھی نہیں ہے۔۔۔زوریز کان کی لو کُھجاتا خجل ہوا
“آپ اپنا ٹیمپریچر بہت جلدی لوز کردیتے ہیں”ایسا نہیں کرنا چاہیے اگر آپ اپنے غُصے پر قابو نہیں کرینگے تو غُصہ آپ کو اپنے قابوں میں کردیگا۔۔۔سوہان کا اندازہ سمجھانے والے تھا
“میں قابوں کرلیتا ہوں عموماً مجھے غُصہ آتا ہی نہیں بس اُس لڑکے نے اخلاق سے گِری ہوئی بات کی تھی۔۔زوریز نے وضاحت دیتے کہا
“ہمممم۔۔۔سوہان ہُنکارا بھرتی جانے لگی
“بات سُنیں؟اُس کو جاتا دیکھ کر زوریز نے آواز دی
“جی؟سوہان نے رُک کر اُس کو دیکھا
“آپ اپنے ہاتھوں میں دستانے کیوں پہنا کرتیں ہیں؟زوریز نے من میں آیا سوال پوچھا تو سوہان نے چونک کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور پھر زوریز کو جو تجسس کا شکار تھا
“کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ کسی نامحرم کا ہاتھ میرے ہاتھ سے ٹچ ہو”میں زیادہ پردہ نہیں کرتی جیسے ہم عورتوں کو چہرہ چُھپا کر باہر نکلنے کا حُکم ہے مگر جتنا مجھ سے ہو پارہا ہے میں اُتنا کرتیں ہوں اِس سوچ کے ساتھ کہ اللہ زیادہ کی توفیق دے گا۔۔۔سوہان نے بتایا تو اُس کے جواب پر زوریز لاجواب ہوا تھا۔
“اللہ آپ کو آپ کے نیک مقاصد میں کامیاب کرے گا آمین۔۔۔زوریز نے صدق دل کے ساتھ کہا تھا۔
“ثم آمین جزاک اللہ اور آپ میری بات پر غور ضرور کیجئے گا رشتے بہت انمول ہوتے ہیں”اُن کو کھونے سے ڈرنا چاہیے”کیونکہ اگر کوئی ایک بار چلا جاتا ہے تو واپس نہیں آتا۔۔۔سوہان نے ایک بار پھر کہا
“جن کو جانا ہوتا ہے نہ سوہان وہ بے مقصد اور بے وجہ بھی چلاجاتا ہے اِس لیے جانے والوں کو روکنا نہیں چاہیے بلکہ راستہ دیکھانا چاہیے تاکہ اُس کو جانے میں کوئی مسئلہ پیش نہ آئے یہ زندگی ہے سوہان یہاں کوئی ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہتا آپ نے نوٹ کیا ہوگا بچپن سے جوانی تک کا سفر میں آپ نے کسی ایک شخص کو ہمیشہ اپنے ہمقدم نہیں پایا ہوگا کیونکہ زندگی میں ایک جاتا ہے تو دوسرا پھر تیسرا آتا ہے پھر وہ اُن کی جگہ تو نہیں لیتے مگر اپنی جگہ بنالیتے ہیں”اور اگر بات کی جائے اپنے خونی رشتوں کی تو دیکھیے گا کچھ وقت کے بعد آپ کے ساتھ آپ کے بہن بھائی بھی نہیں ہوگے”یہ ایک کڑوی حقیقت ہے شادی کے بعد ہر انسان اپنے بیوی بچوں میں مصروف ہوجاتا ہے اُن کے سروں پر ذمیداریاں بڑھ جاتیں ہیں اِس لیے زندگی میں جو بھی جائے اُس کا افسوس نہیں کیا جائے کیونکہ جاتے وہی ہیں جن کی خصلت میں چھوڑ کر جانا لکھا ہوتا ہے۔۔۔”اِس لیے ایسی فکروں سے زوریز دُرانی آزاد ہے کیونکہ وہ جانتا ہے جو اپنا ہوتا ہے وہ جاتا نہیں اور جو جاتا ہے وہ اپنا نہیں ہوتا اور جو اپنا نہیں ہوتا اُن کو ایک دن جانا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان کے پاس کچھ اور کہنے کو نہیں بچا تھا الفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے”وہ بس یک ٹک زوریز کا چہرہ تکنے لگی جس نے اپنے لفظوں سے اُس کو لاجواب کیا تھا اُس کے الفاظ گہرے تھے جہاں صداقت چُھپی ہوئی تھی اور یہ انسان کی زندگی کی سب سے کڑوی حقیقت تھی”اِتنا تو وہ بھی جانتی تھی کہ وقت ایک سا نہیں رہتا وقت بدلتا رہتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اِنسانوں کی پہچان ہوتی جاتی ہے۔۔۔
“میں چلتی ہوں اب۔۔۔سوہان سرجھٹک کر کہتی وہاں رُکی نہیں تھی۔”اور اُس کی پشت کو دیکھتا زوریز اپنا ہاتھ دیکھنے لگا جہاں سوہان کا رومال تھا۔۔
“پہلے پیار کا پہلا خُمار اور پہلی نشانی۔۔بے ساختگی کے عالم میں بُڑبُڑاتا زوریز اپنی بات پر خود ہی ہنس پڑا تھا”وہ خوش تھا اپنی زندگی میں آتے بدلاؤ کو دیکھ کر کیونکہ اُس کو ایک حسین وجہ مل گئ تھی۔







“حال
“میشو آپو ناراض ہیں اُن کو پکوڑے دوں گی تو خوش ہوجائے گیں۔۔۔۔فاحا پلیٹ میں میشا کے لیے پکوڑے ڈالتی پرجوش لہجے میں خود سے کہنے لگی”اور اُس پر ایک طائرانہ نظر ڈالے وہ چائے کا کپ اُٹھانے لگی تاکہ میشا یہ نہ بولے کہ صرف پکوڑے چائے نہیں ہے ساتھ۔
“ابھی فاحا ہال سے گُزرتی اپنے اور میشا کے مُشترکہ کمرے میں جانے لگی تھی”جب اُس کی نظر اسیر ملک پر گئ جس کے سامنے فائلز پڑیں ہوئیں تھیں”اسیر کو دیکھ کر فاحا کے دماغ میں ایک خیال آیا جس کو عملی پاجامہ پہچانے کی نیت سے وہ اُس کی طرف آئی
“السلام علیکم ۔۔۔فاحا نے سب سے پہلے اُس کو دیکھ کر سلام کیا
“وعلیکم السلام ۔۔۔اسیر نے بغیر دیکھے اُس کو اُس کے سلام کا جواب دیا
“پکوڑے کھائینگے آپ؟فاحا نے پوچھا تو فائلز سے سراُٹھاتے اسیر نے اُس کو دیکھا
“یہ آپ کس کے لیے لیکر جانے والی تھی؟اسیر نے پوچھا”کیونکہ وہ جانتا تھا یہ خاص کرم نوازی تو صرف اُس کے لیے تو نہیں ہوسکتی تھی
“ابھی تو آپ سے پوچھ رہیں باورچی خانے میں اور بھی ہیں”تو آپ اطمینان سے کھاسکتے ہیں۔۔۔فاحا نے جلدی سے بتایا
“آپ کا تو ہاتھ نہیں تھا جل گیا؟اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا
“وہ تو کل کی بات ہے اب راحت ہے۔۔”آپ اُس کو چھوڑیں اور یہ ٹیسٹ کرکے بتائے کہ کیسا ہے۔فاحا نے عام انداز میں بتاتے پکوڑوں کی پلیٹ اُس کی طرف بڑھانی چاہی
مجھے پکوڑے بہت پسند ہوتے ہیں میں چاہتی ہوں ڈھیر سارے پکوڑے ہو اور میں بس وہ کھاتی جاؤں بس کھاتی جاؤں۔۔۔فاحا جو اسیر کی طرف پکوڑوں کی پلیٹ بڑھانے لگی تھی اچانک جانے کہاں سے دیبا آتی اُس کے ہاتھ سے پکوڑوں کی پلیٹ لیتی اُس میں سے ایک اپنے منہ میں ڈالے بولی تو فاحا نے ترچھی نظروں سے اُس کو دیکھا لیکن اسیر نے ایک اچٹنی نظر اُس پہ ڈالنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ ۔۔
“اگر واقعی ایسا ہے تو فاحا دعا کرے گی کہ آپ کی شادی کسی پکوڑے والے کے ساتھ ہو پھر ڈھیر سارے نہیں بلکہ پورا پکوڑوں کا دُکان ہوگا آپ دل کھول کر پکوڑے کھائیے گا کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوگا۔ ۔۔اُس کا اپنے ہاتھ سے یوں پکوڑے لینا فاحا کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا تبھی چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے بولی تو اُس کی بات پر دیبا کو اپنے گلے میں ڈالا ہوا پکوڑا اٹکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔”جبکہ اپنا سر دوبارہ فائلز میں دیئے اسیر نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ایسا بولنے کی؟دیبا نے پلیٹ ٹیبل پر رکھ کر سخت نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“ارے اِس میں غُصہ ہونے والی کیا بات ہے؟”میں نے تو آپ کے بھلے کے لیے کہا اب اگر آپ کو اپنا بھلا پسند نہیں تو فاحا کیا کرسکتی ہے؟فاحا نے شانِ بے نیازی سے اپنا سرجھٹک کر کہا تو دیبا اُس کو نظرانداز کرتی اسیر کی طرف متوجہ ہوئی
“اِن فائلز کو چھوڑو اور میری بات سُنو تم۔۔۔دیبا نے سنجیدگی اسیر سے کہا
“ہم اپنے کمرے میں جارہے ہیں آپ کسی مُلازمہ سے کہہ کر ہمارے کمرے میں چائے بِِھجوا دیجئے گا۔۔۔اسیر دیبا کو سِرے سے نظرانداز کرتا فاحا سے بولا تو اُس نے بے ساختہ اپنا سر اثبات میں ہلایا تھا۔۔”لیکن اسیر کا فاحا کے سامنے اُس کو ایسے اگنور کرنا دیبا کو بے عزتی کا احساس کروا گیا تھا جس وجہ سے اُس نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچ لیا تھا اور سوچنے لگی کہ دوبارہ اسیر کو کیسے حاصل کرے۔۔۔
“تمہیں کسی کو بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے”میں لے جاؤں گی اُس کے لیے چائے۔۔۔دیبا کاٹ کھاتی نظروں سے فاحا کو دیکھ کر بولی
“آپ مُلازمہ ہیں؟جواب میں فاحا نے معصومیت سے پوچھا
“زیادہ میرے سامنے ہوشیار بننے کی کوشش نہ کرو تو اچھا ہے ورنہ گدی سے زبان کھینچ لوں گی۔۔۔دیبا کا دماغ گھوم گیا فاحا کے سوال پر
“اگر آپ مُلازمہ نہیں تو اپنے کام سے کام رکھے تو اچھا ہوگا۔۔۔فاحا اُس کو جتاتی نظروں سے دیکھ کر کہتی پلیٹ اُٹھائے اپنا کندھا زور سے اُس کے کندھے سے ٹکراتی برابر سے گُزر گئ اور دیبا سِوائے غُصہ کرنے کے کچھ اور نہ کرپائی تھی”مگر یہ بھی طے تھا کہ سکون سے وہ بھی نہیں تھی رہنے والی اور نہ کسی کو سکون سے رہنے اُس نے دینا تھا۔۔
