Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 05)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

رکشہ روکنا۔۔۔۔۔اسلحان نے اچانک رکشہ ڈرائیور سے کہا تو ساجدہ نے چونک کر اُس کو دیکھا

کیوں کیا ہوا؟ساجدہ نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

اچانک گھبراہٹ سی ہورہی ہے۔۔واپس چلو۔۔۔۔اسلحان نے اپنا ماتھا چھو کر کہا

تم ٹھیک ہو نہ اسلحان؟ہمیں ہوسپٹل جانا ہے فاحا کی طبیعت سہی نہیں ہے نہ۔۔۔۔ساجدہ نے جیسے یاد کروایا

بھاڑ میں جھونکو تم اِس کو۔۔۔اسلحان نے کوفت سے فاحا کو دیکھا

بیٹی ہے تمہاری شرم کرو۔۔۔ساجدہ کو اُس کا انداز پسند نہیں آیا

تمہیں جہاں جانا ہے تم جاؤ پر میں کوئی اور رکشہ کرکے گھر واپس جانے لگی ہوں۔۔۔۔۔۔اسلحان رُکشے سے اُٹھ کر دو ٹوک لہجے میں اُس سے بولی

یہ غلط ہے اسلحان جو تم کررہی ہو۔۔۔۔ساجدہ نے افسوس سے اُس کو دیکھ کر کہا

خُدا حافظ۔۔۔اسلحان کچھ سُننے کو تیار نہ تھی۔۔۔”اور وہ جیسے سامنے ہٹ گئ تو رکشے والے نے رکشہ چلانا دوبارہ شروع کیا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

تمہارے چچا والے کیا سگے تھے؟ایک آدمی نے زوریز سے پوچھا جو پانی پی رہا تھا وہ دونوں ایک ساتھ کام کرتے تھے جس وجہ سے زوریز کی اپنے عمر کے لوگوں سے تو نہیں”البتہ خود سے بڑے لوگوں سے جان پہچان بہت ہوگئ تھی۔۔۔۔

مطلب؟زوریز نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا شاید وہ سمجھ نہیں پایا تھا

مطلب جیسا رویہ میں نے سوچا ہوا ہے اُن کا ایک حساب سے تو مجھے یہی لگتا ہے یہ یقیناً وہ سوتیلے ہوگے”کیونکہ سگوں کا رویہ بُرا ہوسکتا ہے مگر اِتنا نہیں جتنا کم عمری میں تمہارے ساتھ ہے اُن کا۔۔۔۔۔وہ بولا تو زوریز اب سمجھا

وہ میرے سوتیلے چچا ہیں مگر میرے ڈیڈ کو “سوتیلا”لفظ پسند نہیں ہوتا تھا اُن کو اپنے دونوں بھائی عزیز تھے بہت۔۔۔۔زوریز نے جواباً کہا

تبھی تو یہی حال بننا تھا تمہارا شکل سے شہزادے لگ رہے ہو اور دیکھو صبح سے دو پہر تک مزدوری کرتے ہو اور شام سے پھر ڈابے میں جاب ایسے تمہاری پڑھائی کا کیا بنے گا؟وہ افسوس سے بولا

ایک سال میرا ویسے بھی ضائع ہونا تھا مگر میں ایڈمیشن لوں گا پر ابھی نہیں۔۔۔زوریز نے کہا

مجھے تو تمہارے چچا پر بہت غُصہ آتا ہے خبیث لوگوں کتنے بُرے ہیں۔۔۔”وہ آدمی جس کا نام”امجد” تھا وہ بولا

وہ بُرے نہیں ہیں بس ہمارا وقت بُرا چل رہا ہے۔۔۔زوریز سنجیدگی سے بولا

ہممم اِتنی عمر میں قسمت خراب کسی کی نہ ہو۔۔۔امجد گہری سانس بھر کر بولا

قسمت خراب نہیں ہے وقت خراب چل رہا ہے اور جو وقت کی سوئیاں ہوتیں ہیں وہ ہمیشہ ایک پر آکر نہیں رُکتی۔۔۔۔۔زوریز نے عام الفاظوں میں گہری بات کہی تو امجد اُس کو دیکھتا رہ گیا جو کبھی کبھار اپنی عمر سے زیادہ بڑی باتیں کرجاتا تھا۔

ایک ہی بات ہے۔۔۔امجد سرجھٹک کر بولا

ایک بات نہیں ہے الگ الگ باتیں ہیں۔۔۔”قسمت لکھنے والی ذات بہت بڑی بات ہے اور ہماری اِتنی اوقات نہیں ہے کہ اُس کی تخلیق کردہ چیزوں سے نُقص نکالے یا اُسکو بُرا کہیں۔۔۔۔زوریز سرسری لہجے میں بولا تو اِس بار وہ لاجواب ہوا

کہاں سے لاتے ہو اِتنی گہری باتیں؟وہ واقعی میں بہت حیران تھا

پتا نہیں۔۔۔زوریز نے لاعلمی کا مُظاہرہ کیا

اچھا ایک بات بتاؤ۔۔۔امجد رازدرانہ انداز میں اُس سے بولا

کونسی بات؟زوریز اُس کی طرف متوجہ ہوا

تمہارے کسی چچا نے تمہارے سائن لیئے ہیں؟امجد نے پوچھا

میرے سائن؟زوریز کو تعجب ہوا

ہاں تمہارے سائن دیکھو بھئ تمہارے باپ کے مرنے کے بعد سارا کچھ تو تم دونوں بھائیوں کا ہوا نہ تو ظاہر سی بات ہے اپنے نام تو کیسے بھی کرکے اُن کو کرنا ہوگا نہ۔۔۔۔امجد نے تفصیل سے بتایا

وہ تو اُٹھارہ سال تک ہوتا ہے نہ اور میں تو گیارہ کا ہوں ابھی میرے سائن اُن کے کسی کام کے نہیں دوسرا وہ کبھی ایسی بات کرنے میرے پاس آئے بھی نہیں۔۔۔زوریز نے سوچ کر کر بتایا

آئے تو کچھ بھی ہوجائے تم سائن مت کرنا۔۔۔امجد نے سختی سے کہا

کیوں؟زوریز ناسمجھی سے بولا

افففف کتنے کم عقل لڑکے ہو آجکل دس بارہ سال کے لڑکوں کو جانے کیا کچھ پتا ہوتا ہے اور ایک تم ہو جس کو بس اپنے اور بھائی کی بھوک کے علاوہ کچھ پتا نہیں ہوتا۔۔۔۔امجد نے اُس کی عقل پر ماتم کیا

آپ صاف بات کرینگے تو لگ جائے گا پتا۔۔۔۔زوریز نے گہری سانس بھر کر کہا

دیکھو سائن سے یہ ہوگا کہ تمہارے باپ کا سارا کچھ اُن کا ہوجائے گا۔۔۔۔امجد نے بتایا

وہ تو پہلے ہی اُن کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔۔زوریز نے کہا

ہاں پر قانونی طور پر تو نہیں نہ اصلی وارث تو تم ہو نہ۔۔۔۔امجد نے کہا تو وہ سوچ میں ڈوب گیا”اُس کو اِن سب کا پتا نہیں تھا اور نہ اُس نے کبھی اِتنا سوچا تھا اِن باتوں کو

میں نہیں کروں گا سائن۔۔۔۔آریان کا خیال جیسے اُس کے دماغ میں آیا”زوریز جھٹ سے بولا

گُڈ اپنی بات پر قائم رہنا ورنہ اسٹوروم کا سفر سڑک پر احتتام پزیر ہوگا آجکل جیسا زمانہ ہے نہ وہاں سگوں پر اعتبار نہیں کیا جاتا اور نہ اُن پر اپنا کچھ چھوڑا جاتا ہے”ہر ایک کو بس اپنی لائیف سیٹ کرنی ہے باقی جائے بھاڑ میں۔۔۔امجد نے کہا تو زوریز نے اِس بار محض سراثبات میں ہلایا “وہ ایسے آپس میں باتوں میں مگن تھے تبھی اُن کا وہاں سربراہ آیا

آجاؤ اور امجد تم نے موٹر چلانا ہے اور زوریز تو جاکر پائمپ دیکھو۔۔۔۔اُن کے سربراہ نے کہا تو دونوں اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے

شام میں آپ کے ساتھ میں چلوں گا۔۔۔۔زوریز نے چلتے ہوئے امجد سے کہا

کہاں؟امجد نے چونک کر اُس کو دیکھا

شوروم میں۔۔۔۔۔زوریز نے مختصر جواب دیا

اب کیا تم مکینک کا کام بھی دیکھو گے۔۔۔امجد کو اُس کی حالت پر ترس آیا

صرف ایک یا دو گھنٹہ۔۔۔۔زوریز نے عام لہجے میں بتایا تو امجد بس اُس کو دیکھتا رہ گیا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

میشو تم یہاں ہو ابھی تک۔۔۔۔۔۔اسلحان کی نظر صحن میں مٹی سے کھیلتی میشا پر گئ تو وہ چونکی

دی(جی))۔۔۔۔میشا نے مصروف لہجے میں مختصر کہا کیونکہ وہ اِس وقت بہت مصروف تھی۔۔۔۔

سوہان اسکول گئ تم کیوں نہیں گئ؟اسلحان کو اُس کی بے نیازی پر تاؤ آیا

وہ نہیں دیئ(گئ)۔۔۔۔۔میشا نے بتایا تو اسلحان کا ماتھا ٹھٹکا وہ اُس پر ایک نظر ڈالے گھر کے اندرونی حصے کی طرف بھاگ گئ”اور سیدھا اپنے اور اُن کے مشترکہ کمرے میں آئی تو اندر کا منظر دیکھ کر اُس کے چہرے کی رنگت پل بھر میں اُڑی تھی بے ساختہ وہ دروازے کا سہارا لیے یک ٹک دیکھنے لگی جہاں انور خون میں نہایا ہوا ہوش وحواسو سے بیگانہ تھا مگر اُس کی آنکھیں پھٹنے کے حد تک کُھلی ہوئی تھیں اُس کے کچھ دور اپنے گرد بازوؤں کا حصار بنائے سوہان نے اپنا چہرہ گُھٹنوں میں چُھپایا ہوا تھا اُس کے وجود میں کپکپاہٹ وہ صاف محسوس کرسکتی تھی۔۔۔۔” سوہان کو آج کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ سارا کچھ سامنے تو تھا پھر کسی اور کے بتانے کی کیا گُنجائش بنتی تھی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کیا ہوا ہے۔۔۔۔ساجدہ نے ڈاکٹر سے پوچھا

ماشااللہ سے بچی تو ٹھیک ہے ہوسکتا ہے بھوک کے باعث رو رہی ہو۔۔۔۔ڈاکٹر پوری طرح سے فاحا کو دیکھ کر اُس سے بولی

دودہ پِلانے کی بہت کوشش کی مگر پی نہیں رہی۔۔۔ساجدہ نے بتایا

ہمممم آپ بیٹھے۔۔۔ڈاکٹر کا فون رِنگ کرنے لگا تو اُس نے ساجدہ کو بیٹھنے کا کہا مگر اِتنے وقت تک فاحا مسلسل رونے میں مصروف تھی۔

فاحا اِتنا نہ روؤ بیمار پڑجاؤ گی۔۔۔۔۔ساجدہ پریشانی سے فاحا کو گود میں اُٹھائے یہاں سے وہاں ٹہلتی ہوئی بولی

❤
❤
❤
❤
❤
❤

“””مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔۔سوہان نے روہانسی ہوکر کہا

یہاں نہیں رہنا تو کہاں رہنا ہے؟”کونسے وسائل ہیں میرے جو میں تم سب کو لیکر گھوموں۔۔۔۔اسلحان کو اُس کی بات سن کر تاؤ آیا

آپ بدتمیزی سے بات کیوں کرتیں؟سوہان کو تکلیف ہوئی

کیونکہ تم تینوں کی وجہ سے میرے ماتھے پر طلاق کا لیبل لگا ہے اور اب اُٹھو جاؤ میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں کوئی۔۔۔۔۔اسلحان نے سختی سے اُس کو جھڑک دیا

امی ساجدہ آنٹی کے شوہر مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں”اور بار بار ہاتھ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔سوہان نے بلآخر وجہ بتائی یہ سوچ کر کہ شاید اب اسلحان اُس کی بات سمجھ جائے

شرم کرو سوہان اور اپنی عمر دیکھ کر باتیں بناؤ وہ دونوں میاں بیوی ہمارے مسیحا ثابت ہوئے ہیں اور تم ایسی باتیں کررہی ہو تمہارے باپ نے جو کیا ہے اگر ساجدہ سے ٹکراؤ نہ ہوا ہوتا تو ہماری لاشیں اِس وقت دربدر ہوتیں۔۔۔اسلحان نے اُس کو ٹھیک ٹھاک سُنایا

آپ کو یقین کیوں نہیں آرہا وہ بار بار مجھے تنگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔سوہان کو دُکھ ہوا”””””

“”انکل انور بہت بُرے ہیں”آپ کو پتا ہے اُنہوں نے مجھے صوفے پر دھکا دیا “”

ایک کے بعد ایک سوہان کی باتیں اُس کے دماغ میں تازہ ہوئیں تھی”جس پر اُس کو آج پچھتاوا ہونے کے ساتھ ساتھ خود پر غُصہ بھی آرہا تھا اُس میں اِتنی ہمت نہ تھی کہ اُٹھ کر سوہان کے پاس جاتی “کوئی حوصلہ یا کچھ کہتی وہ تو یہ بھی نہیں پوچھ سکتی تھی کہ تم نے یہ سب کیسے کیا؟”وہ تو اُس کو کسی اور کے رحم وکرم پر چھوڑ گئ تھی”بھلا تو میشا کا تھا جس نے اپنی لاپرواہی میں گُلدان صحن کے بجائے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا جس کی بدولت وہ اپنا دفاع کرچُکی تھی اگر وہ نہ ہوتا تو شاید انور کے بجائے سوہان کی لاش یہاں ہوتی اُس کی نظروں کے سامنے

سس سوہان۔۔۔۔

اسلحان نے آہستہ سے اُس کو آواز دی مگر ہولے ہولے کانپتی سوہان نے اپنا سر نہیں اُٹھایا تھا

سوہان میری بچی۔۔۔۔۔اسلحان چل کر اُس کے پاس آئی اُور اُس کا چہرہ اُپر اُٹھایا تو اُس کا کلیجہ کا منہ کو آیا”کندھوں سے یونیفارم کی پھٹی ہوئی شرٹ دیکھ کر سانس لینے میں دُشواری محسوس ہوئی تھی۔جبکہ اُس کے اُس کے ایک گال پر پانچ اُنگلیوں کے نشانات واضع تھے اور منہ سے نکلا ہوا خون تو ٹھوڑی پر جم گیا تھا۔۔”سوہان کی حالت چیخ چیخ کر اُس پر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کررہی تھی۔۔۔۔

اممم امی خخ خون۔۔۔۔۔سوہان کے لب پھڑپھڑائے تھے”جس پر سوہان نے جلدی سے اُس کو اپنی آغوش میں چُھپایا تھا

“مم مجھے پپپ پتا ننن نہیں ککک کیا ہہہ ہو گگ گیا تت تھا۔”ااا اور ککک کسی کک کے کپڑے پپپ پھاڑنا تت تو غغ غلط ببب بات ہوتی ہے نہ۔۔۔خود کو اُس میں چُھپانے کی کوشش کرتی سوہان کانپتی آواز میں بولی تو اسلحان کو اپنا دل چیرتا محسوس ہوا

“جو بھی ہوا تم سے اچھا ہوا روؤ نہیں اور نہ ڈرو۔۔۔۔۔اپنی آنکھوں سے نمی کو چُھپائے اسلحان نے سوہان کی پیٹھ سہلائی مگر اُس کی اب شاید ہمت جواب دے گئ تھی جو ہوش وحواس سے بیگانہ ہوچُکی تھی۔۔۔۔

سوہان

سوہان

سوہان میرے بچے کیا ہوا؟”اسلحان پریشانی سے اُس کا چہرہ دیکھتی اُس کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی مگر بے سود

سوہ

“اسلحان

اسلحان۔۔۔۔

اسلحان جو سوہان کو لیئے باہر جانے والی تھی ساجدہ کو سامنے دیکھ کر اُس کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا

تتت تم۔۔۔۔اسلحان کو دُکھ ہوا ساجدہ کو دیکھ کر

افففف خُدایا اسلحان”سوہان کو کیا ہوا ہے کیا اِتنی بے دردی سے تم نے ما

“ساجدہ کی نظر سوہان پر گئ تو کچھ کہتی کہتی رُک گئ کیونکہ اُس کا پھٹا ہوا یونیفارم کچھ اور کہانی بیان کررہا تھا۔۔۔۔۔

تمہارا شوہر۔۔۔۔اسلحان نے محض اِتنا کہا تھا اور ساجدہ پھٹی پھٹی نظروں سے اُس کا چہرہ تکنے لگی جہاں بے بسی کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا

اچچ اچھے ہوسس ہوسپٹل لل لے جانا سوہان کو۔۔۔۔۔ساجدہ سوہان کا ماتھا چومتی بس اِتنا بولی تھی جبکہ اُس کا ایسا انداز اسلحان کو ٹھٹکا ضرور ہوا تھا مگر وقت ایسا نہیں تھا کہ جو وہ اُس پر بحث کرتی”

اسلحان کے جانے کے بعد ساجدہ نے سرجھکائے فاحا کو دیکھا جس کا رونا اچانک تھم گیا تھا اور وہ اپنی آنکھیں کھولے اُس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

سوہان تو تیا ہوا اے؟(سوہان کو کیا ہوا ہے)۔۔۔۔میشا چھوٹے سے لاؤنج میں آتی ساجدہ سے بولی

کچھ نہیں ہوا تم بیٹھو میں آتی ہوں۔۔۔”اور یہاں سے جانا نہیں بہن کے پاس رہنا۔ساجدہ اپنے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے اُس کو جواب دیتی پہلے فاحا کو لیٹایا پھر میشا سے بولی تو اُس نے اپنا سراثبات میں ہلایا

“خود ساجدہ جب کمرے میں آئی تو انور کی سانسیں چیک کی جو کی بند تھی۔۔۔

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔۔۔آہستہ آواز میں بڑبڑاتی ساجدہ نے اپنا ہاتھ اُس کے چہرے پر پھیرا تھا

مجھے جو پتا ہوتا تمہاری نیت کا تو کبھی کسی کو یہاں رہنے کی پناہ نہ دیتی۔۔۔۔۔۔ساجدہ افسوس سے اُس کا مرا ہوا چہرہ دیکھتی بولی “اُس کا دل درد سے بھرگیا تھا مگر آنکھ سے ایک آنسوو تک نہیں گِرا تھا”اِتنے سال اُس نے ایک ایسے شخص کے ساتھ گُزارے تھے جو بہت بُری خصلت کا مالک تھا اُس کو سوچتے ہوئے بھی شرم محسوس ہورہی تھی کہ ایک آٹھ سال بچی کو اپنی حواس کا نشانہ بنانے والا تھا یا بناچُکا تھا اِتنا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا اُس نے بس ایک نظر اپنے شوہر کو دیکھا پھر اپنا منہ موڑ لیا تھا۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ڈاکٹر میری بیٹی کو کیا ہوا ہے؟اسلحان نے فکرمندی سے ڈاکٹر سے پوچھا

ڈر کی وجہ سے بیہوش ہوئی ہے اِن شاءاللہ شام تک ہوش آجائے گا پر آپ کوشش کیجئے گا اُس کا پورا پورا خیال رکھنے کی کیونکہ جس تیزی سے اُس بچی کا دل دھڑک رہا تھا یہ کسی اچھی چیز کی علامت نہیں۔۔۔۔”ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہا تو اسلحان نے اپنا سرجُھکالیا تھا اور کرتی بھی تو کیا۔۔۔.

سرجھکانے سے کچھ نہیں ہوتا آپ ماں ہیں اُس کی اُس کے اِرد گرد کیا ہورہا ہے یا کوئی کیا کرنا چاہ رہا ہے آپ کو یہ پتا ہونا چاہیے۔۔۔۔اُس کا جُھکا ہوا سر دیکھ کر وہ مزید بولی

میں آئیندہ بہت احتیاط کروں گی۔۔۔اسلحان نے کہا

احتیاط کرنی چاہیے بھی۔۔۔۔وہ اِتنا کہتی اُس کے برابر سے گُزرگئ تو اسلحان کے گہری سانس بھرتی سوہان کی طرف گئ جہاں وہ تھی۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کیا ہوا گاڑی کیوں روک دی؟تیس پینتیس سالہ پُروقار خاتون جو بیک سیٹ پہ بیٹھی اپنے موبائیل فون میں بزی تھی گاڑی رُکنے پر ڈرائیور سے بولی

میم میں چیک کرتا ہوں بیٹری کا مسئلہ ہوگیا ہو شاید۔۔۔ڈرائیور بیک ویو مرر سے اُس کو دیکھتا ہوا بتانے لگا

ہممم جلدی چیک کرو۔۔۔۔وہ اِتنا کہتی کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھنے لگی تو ایک جگہ دیکھ کر اُس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا وہ بار بار آنکھیں جھپکائیں کچھ فاصلے پر موجود ایک بچے کو دیکھنے لگی جو شاید کسی سواری کے انتظار میں تھا اور اُس کے ایک ہاتھ میں ایک بڑا شاپرز تھا تو دوسرے ہاتھ سے وہ بار بار اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کررہا تھا۔۔۔

“کیا یہ زوریز ہے؟”مسلسل اُس پر نظریں جمائے وہ خود سے سوال گو ہوئی

یہ ہمارا زوریز نہیں ہوسکتا اُس کی ایسی پوزیشن بلکل بھی نہیں۔۔۔۔دور سے ہی اُس کے کپڑوں کا اندازہ لگاتی اپنے خیالات کی نفی کرنے لگی مگر دل مطمئن نہ ہوپایا

“اگر زوریز ہوا تو میرے پُکارنے پر فورن متوجہ ہوا۔۔۔ایک خیال کے آتے ہی وہ گاڑی سے باہر آئی تو تیز دھوپ میں اُس کو اپنا چہرہ جلتا محسوس ہوا

زوریز

زوریز۔۔۔

وہ اُس بچے کو(زوریز)کو آوازیں دینے لگی مگر فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے شاید وہ سُن نہ پایا تھا

زوریز۔۔۔۔

اِس بار تھوڑا آگے چل کر اُس نے اُونچی آواز میں پُکارا تو “زوریز چونک کر اپنے چاروں اِطراف سرسری نظروں سے دیکھنے لگا۔

میں یہاں۔۔۔۔اُس نے اپنا ہاتھ لہرایا تو زوریز کی اب کی نظر اُس پر گئ تھی وہ اُس کی طرف دیکھتا پہچانے کی کوشش کرنے لگا پھر اچانک اُس کی آنکھوں میں چمک در آئی تھی

پپ پھوپھو۔۔۔۔زوریز بھی جواباً اُونچی آواز میں کہتا ہاتھ میں پڑا شاپر وہی پھینک کر بھاگا تھا تو وہ جو صرف اپنا شک دور کرنے کے لیے آوازیں لگارہی تھی یوں اُس کو اپنی طرف بھاگ کر آتا دیکھ کر اُس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا تھا۔۔۔۔

زوریز یہ تم؟

کیا حال بنایا ہوا ہے تم نے اپنا۔۔۔۔؟افففف میرے خُدایا مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔۔وہ گُھٹنوں کے بل زوریز کے پاس بیٹھتی کبھی اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی تو کبھی اُس کے ہاتھ جہاں جانے کتنے چوٹ کے نشان تھے اور اب تو کپڑوں پر سیاہ دھبے بھی تھے۔۔۔”زوریز کی ایسی حالت دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں آنسوؤ آگئے تھے وہ بے ساختہ اُس کے ہاتھ چومنے لگی۔۔۔

پھوپھو آپ اب آئیں ہیں۔۔۔۔زوریز مسکراکر اُس کو دیکھتا بولا

سوری میری جان پر میں مجبور تھی”پر اگر جے مجھے تمہارا پتا ہوتا تو میں چلی آتی یہاں یا تمہیں وہاں بلوالیتی مجھے معاف کرنا میں سچ میں انجان تھی۔۔۔۔زوریز کو گلے لگاتی وہ یقین دلوانے والے انداز میں بولی

“پھوپھو روئے تو نہ میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔زوریز نے اُس کو روتا دیکھا تو اُس کی آنکھیں صاف کرنے لگا تو وہ بے اختیار نم آنکھوں سے مسکرائی

تم سڑک پر اکیلے یوں کیسے؟وہ اُس کو دیکھ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

چچا نے کہا تھا مہنگائی بڑھ گئ ہے اگر کھانا ٹھیک چاہیے تو خود کماؤ تو بس وہی کرنے کی کوششوں میں ہوں۔۔۔۔زوریز نے بتایا تو جانے کتنے بل ایک ساتھ اُس کے ماتھے پر نمایاں ہوئے تھے

واٹ؟؟؟؟زوریز کیا تم مذاق کررہے ہو۔۔وہ بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھتی پوچھنے لگی

میرا حال دیکھے۔۔۔جواباً زوریز محض یہ بولا تو وہ اپنا سر پکڑنے لگی۔

چلو تم میرے ساتھ تم زوریز وجدان دُرانی ہو تمہارے مطلق جانے کیا خواب سجائے تھے بھائی اور بھابھی نے”اور یہاں تمہاری حالت فقیروں جیسی بنی ہے۔۔۔۔وہ دُکھ سے اُس کو دیکھ کر بول کر اُس کا ماتھا چومنے لگی۔۔

سلما پھوپھو میرا فقیروں جیسا حال تو نہیں۔۔۔۔زوریز کی سوئی محض اُس کی آخری بات پر اٹک گئ تھی۔

بلکل شکل سے شہزادے ہو تو کپڑوں سے فقیر۔۔۔۔اِس بار جان کر سلما نے اُس کو چِڑایا پھر دوبارہ بولی

اُونٹھ جتنا قد کرلیا ہے اگر عقل بھی ہوتی تو اچھا ہوتا”جواب دو کہ تم نے اپنی حالت کے بارے میں مجھے کال پر کیوں نہیں بتایا؟

کیسے بتاتا نمبر نہیں تھا اور ہر ایک اجنبی بن گیا تھا”ایسے میں آپ سے رابطہ کیسے کرتا؟زوریز نے وجہ بیان کی۔

ابھی چلو مال میرے ساتھ تمہاری حالت سُدھاروں میں تاکہ پتا بھی چلے تم ہو کون۔۔۔۔سلما اُٹھ کر بولی

آریان کو ساتھ لے جائے؟زوریز نے پوچھا

پہلے تمہارا کام ہوجائے مال کے بعد ہم سلون جائینگے اُس کے بعد گھر تاکہ جمال اور کمال سے دو دو ہاتھ ہوسکوں۔۔۔۔سلما اِس بار سنجیدگی سے گویا ہوئی

وہ آپ کو بھی ہرٹ کرسکتے ہیں۔۔۔۔زوریز نے کہا

بڑی بہن ہوں میں اُن کی اور تمہارا حساب تو میں ایسے لوں گی اُن سے کہ یاد رکھیں گے۔۔۔۔سلما نے کہا تو زوریز خاموش سا بس اُس کا چہرہ دیکھنے لگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *