Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 14)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

لالی یونی گراؤنڈ میں نیچے گھاس پر بیٹھی ہر ایک کو دیکھنے میں مصروف تھی جب عاشر اُس کے کچھ فاصلے پر آکر بیٹھا

السلام علیکم۔۔۔لالی نے ایک نظر اُس پر ڈال کر سلام کیا تو عاشر خجل ہوا

وعلیکم السلام کیا سوچ رہی ہو؟ عاشر نے پوچھا

آپ کو پتا ہے جتنی بے تُکلفی کا مُظاہرہ آپ میرے ساتھ یہاں کررہے ہیں اگر میرے گاؤں میں کرتے تو قتل ہوجاتے۔ ۔۔۔۔لالی نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

تو آپ گاؤں کی ہو انٹرسٹنگ تبھی ایسی ڈریسنگ کرتی ہو مگر اب آہستہ آہستہ یونی کا رنگ چڑھے گا آپ پر۔ ۔۔عاشر اُس کو دیکھ کر ہنس کر بولا

ایسا بلکل نہیں ہوگا۔ ۔۔۔لالی کو عاشر کی بات بُری لگی

اچھا اور وہ کیوں؟ عاشر نے دلچسپی سے اُس کا چہرہ دیکھا

کیونکہ میں جیسی ہوں مطمئن ہوں میں کبھی اِن لڑکیوں کی طرح بولڈ نہیں بننا چاہوں گی۔ ۔”اور ویسے بھی ماحول ہماری شخصیت پر اثرانداز نہیں کرتا۔ ۔۔۔۔لالی نے سنجیدگی سے کہا

ریئلی ماحول انسان کی شخصیت پر اثرانداز نہیں کرتا؟ عاشر نے حیرت سے اُس کو دیکھا

جی ماحول ہماری شخصیت پراثرانداز نہیں ہوتا بس انسان کا دل اور اُس کا کردار مضبوط ہونا چاہیے۔ ۔۔۔لالی کا انداز پُرجوش سا تھا۔

ایک بات بتاؤ۔۔۔۔عاشر نے اُس کو دیکھ کر پوچھا

کیا؟لالی نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

بچہ بولنا کیسے سیکھتا ہے؟”مطلب وہ بچہ ہوتا ہے چیزوں کے نام بولنا یہ سب کیسے اُس کو پتا لگتا ہے۔۔۔عاشر نے پوچھا

کیونکہ اُس کے والدین یا پھر گھر میں جو اور جتنے بھی افراد ہوتے ہیں اُن کو بولتا دیکھ کر وہ خود بھی بولنا سیکھتا ہے۔۔لالی نے سوچ سوچ کر بتایا

ماں باپ کے درمیان اگر لڑائی ہوتی ہے تو وہ بچوں کو کمرے میں بند کیوں کرتے ہیں؟”مطلب بچوں کے سامنے بھی تو وہ لڑسکتے ہیں مگر وہ کیوں چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے اپنے والدین کو لڑتا ہوا نہ دیکھے؟عاشر نے ایک سادہ سی مثال لیکر اُس سے پوچھا

اِس لیے تاکہ اُن کے بچوں پر اُن کا کوئی غلط تاثر نہ پڑے اُن میں اعتماد کی کمی نہ آجائے سب سے بڑی بات وہ سہمے نہ اور نہ اپنے والدین کو غُصہ کرتا ہوا دیکھ کر خود بھی غُصہ کرنا نہ سیکھ لے۔۔۔۔لالی نے بلاجھجھک کر بتایا تو عاشر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی

تو کیا آپ بھی بھی یہی کہو گی کہ ماحول انسان کی شخصیت پر اثرانداز نہیں ہوتا کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے وہ سب اِنورومینٹ کا ہی تو کمال ہے۔ ۔۔عاشر نے کہا تو لالی لاجواب ہوئی تھی

پر میرے بھائی نے کہا تھا یہ اور میرے بھائی کبھی غلط نہیں ہوسکتے۔ ۔۔۔لالی نے سرجھٹک کر کہا

کیا کہا تھا آپ کے بھائی نے؟عاشر نے جاننا چاہا

“اُنہوں نے کہا تھا ماحول ہماری شخصیت پر اثرانداز نہیں کرتا “آپ کا کردار اور آپ کا دل اگر صاف ہے تو ماحول جیسا بھی ہو اُس سے ہماری شخصیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا سب سے بڑی بات خود کو سنبھالنا ہوتا ہے اگر وہ کرلیا تو سمجھو سب ہوگیا اگر ماحول لوگوں پر اثرانداز ہوتے تو کوئی بھی گھر سے باہر نہ نکلتا۔۔ لالی نے اسیر کے الفاظوں کو یاد کیے عاشر کو بتایا

میں آپ کے بھائی کو غلط نہیں کہوں گا مگر آپ نے یہ تو سُنا ہوگا نہ کہ جتنے لوگ اُتنی باتیں؟ عاشر نے کہا تو لالی کا سراثبات میں ہلا

ہر انسان وہ کہتا ہے جس کا اُس کو تجربہ حاصل ہو اور ہر انسان کا اپنا نظریہ ہوتا ہے” ہوسکتا ہے کہ آپ کے بھائی کو اپنی زندگی میں کبھی ایسی جگہ رہنا پڑگیا ہو جہاں کہ لوگوں کی سوچ اُن کی سوچ سے یکسر مختلف ہو۔ ۔۔”ہر انداز الگ ہو مگر اُن کے ساتھ رہنے کے باوجود بھی وہ خود پر ایسی چیزوں کو حاوی ہونے سے بچاگئے ہو۔ ۔۔۔عاشر نے کہا تو لالی کو بے ساختہ خیال آیا کہ واقعی میں حویلی میں تو کیا پورے گاؤں کے لوگوں کی سوچ ایک طرف تھی تو اسیر ملک کی ایک طرف”وہ اپنے باپ دادا پر نہیں گیا تھا اُس کے خیالات الگ ہوا کرتے تھے اُس کا ہر انداز ایک الگ کہانی بیان کرتا تھا وہ جیسا تھا ویسا کوئی اور نہیں تھا یہاں تک کہ اُس کا دوسرا بھائی بھی نہیں۔

شاید۔ ۔۔۔اپنا سر جھٹک کر لالی نے محض اِتنا کہا تھا۔۔۔”تو عاشر مُسکرایا

“میں تو امی جیسی نہیں اور نہ دیبا بھابھی یا کشمائلہ بھابھی جیسی۔ ۔۔یہ خیال بے ساختہ اُس کے دماغ میں آیا تھا۔ ۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آج کوئی ناراض سا ہے؟ اسیر نے فرنٹ سیٹ پر پُھولے گالوں سمیت بیٹھی اپنی بیٹی کو دیکھ کر کہا جس نے اپنے دونوں بازو سینے پر باندھے ہوئے تھے اور اُس کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی بات پر خفا سی ہے۔ ۔۔۔

“اقدس؟ اسیر نے اُس کے چہرے پر گِرتے بالوں کو پرے کیا اور نرمی سے مُخاطب ہوا مگر اقدس کی طرف سے نو رسپانس جان کر وہ گہری سانس خارج کرتا اپنی گاڑی کو سائیڈ پر کھڑا کیا

قدس کیوں ناراض ہو ہم سے؟ اسیر نے اُس کا سیٹ بیلٹ کھول کر اپنی گود میں بیٹھایا

ہمیں ممی چاہیے۔”ہر ایک کے پاس ہے مگر ہماری نہیں ہے۔۔۔اقدس نے ناراض لہجے میں کہا

کیا آپ کو اپنے بابا سے محبت نہیں؟اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا

آپ سے محبت ہے پر ممی بھی تو ہوتی ہے نہ جیسے آپ کی دادو ہے اور دادا جان کی امی بڑی دادا ماں ہیں ویسے ہی اقدس کو بھی اُس کی مما چاہیے۔ ۔۔۔اقدس نے ضدی لہجے میں کہا تو اسیر نے اُس کا ماتھا چوما

ہر ایک کے پاس سب کچھ نہیں ہوتا نہ۔ ۔۔اسیر نے کہا

میری سب دوستوں کی ہیں اور وہ بتاتی ہیں کہ اُن کے بال اُن کی امی بناتی ہیں۔۔”اور جب پہلے وہ اسکول جاتیں تھیں تو اُن کی ممی اُن کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرواکر بھیجتی تھیں۔۔۔۔ہاتھوں کی مدد سے اقدس نے گِن کر اُس کو بتایا

کیا ہم آپ کے بال نہیں بناتے؟اسیر نے پوچھا

بناتے ہو۔ ۔۔۔اقدس نے سراثبات میں ہلایا

ناشتہ اپنے ہاتھوں سے نہیں کرواتے؟ اسیر نے مزید پوچھا

کرواتے ہیں۔ ۔۔اقدس نے اُس کو دیکھ کر جواب دیا

جو کام امی کرتی ہے وہ ہم کرتے ہیں ہماری اِتنی محبت کے باوجود آپ کو کسی اور کی کمی کیونکر محسوس ہورہی؟ اسیر نے پوچھا تو اقدس نے اپنا سرجُھکالیا

“تو کیا ہماری ممی کبھی نہیں آئے گی؟اقدس نے کچھ توقع بعد کہا

آپ کے بابا ہیں کہ پھوپھو بھی تو ہیں اور بڑی دادی ماں آپ سے کتنا پیار کرتی ہے۔ ۔۔۔اسیر اُس کا چہرہ ہاتھ کے پیالوں میں بھرکر بولا تو اقدس مسکرائی

“اقدس کو آئسکریم کھانی ہے۔ ۔۔اقدس نے اچانک کہا جبھی اُسی وقت اسیر کا موبائل بجنے لگا

ہم ابھی آئسکریم پارلر جائے گے تب تک آپ یہاں بیٹھو۔ ۔۔اسیر نے اُس کو واپس سیٹ پر بیٹھایا اور کال اُٹھائی جو سجاد ملک کی تھی

السلام علیکم ابا حضور۔ ۔۔۔۔اسیر نے سلام کیا

وعلیکم السلام تمہاری عقل کا کیا گھاس چڑھنے گئ ہے؟ دوسری طرف سے تپے ہوئے انداز میں پوچھا گیا

اَلْحَمْدُلِلّٰه نہیں۔ ۔۔اسیر نے تحمل سے کہا

گاؤں سے اکیلے تم شہر آئے ہو بغیر آدمیوں کو لیے اور کوئی ڈرائیور تک تمہارے ساتھ نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے کتنے دُشمن ہوتے ہیں جو اِس انتظار میں ہیں کہ کب ہم سے اکیلا کوئی ملے اور اُس کو ختم کرڈالے۔۔۔۔سجاد ملک کافی غُصے میں معلوم ہوئے

اسیر دُرانی بزدل نہیں اور ہم اپنی بیٹی کے ساتھ اکیلے وقت گُزارنا چاہتے تھے آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ جب ہمارے ساتھ ہماری اقدس ہوتی ہے ہم کسی اور کو ساتھ میں آنے کا نہیں کہتے۔۔۔اسیر اقدس کو دیکھتا جواباً سجاد ملک سے بولا

اسیر فورن گاؤں واپس آؤ۔۔سجاد ملک محض اِتنا بولے

ضرور۔۔۔کہنے کے ساتھ اسیر نے کال کاٹ دی اور ڈرائیونگ کرنا دوبارہ شروع کی۔۔۔

“آپ ہم سے بہت پیار کرتے ہو نہ؟ چھ سالہ اقدس نے اسیر کو دیکھ کر پوچھا تو اُس کے سوال پر اسیر کے چہرے پر پہلی بار خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا”جس پر اُس کے بائیں گال پر گہرا ڈمپل نمودار ہوا تھا

آپ کو کوئی شک ہے؟ اسیر نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھ کر پوچھا

بلکل بھی نہیں۔ ۔۔اقدس جلدی سے بولی

آپ میری جان ہو جس کے لیے اسیر ملک کچھ بھی کرسکتا ہے۔ ۔۔اسیر اُس کے بال بگاڑ کر بولا تو اقدس کِھلکِھلائی اور اُس کو خوش دیکھ کر اسیر ملک جیسے جی اُٹھا تھا۔ ۔۔۔

“آئسکریم پارلر پہنچ کر اسیر نے ایک لڑکے کو بُلاکر آئسکریم لانے کا کہا تھا مگر پھر جب دوبارہ اُس کے سیل فون پر کال آئی تو کال بیک نہ لگنے پر اُس نے گاڑی سے باہر جاکر بات کرنے کا سوچا۔ ۔۔

“اقدس آپ یہی رہنا ہم آتے ہیں۔ ۔۔اسیر اقدس کو دیکھ کر بولا

جی بابا۔ اقدس نے مسکراکر کہا تو اسیر گاڑی سے باہر نکل گیا جبکہ اقدس گاڑی کا شیشہ نیچے کرتی باہر دیکھنے لگی۔ ۔۔۔جبھی اُس کو ایک لڑکی آئسکریم کھاتی نظر آئی جس کی گود میں ایک خوبصورت بلی بھی تھی” بلی کو دیکھ کر اقدس کی آنکھوں میں چمک آئی تھی۔ ۔۔

سُنو۔ ۔۔۔اقدس نے ہاتھ کھڑکی سے باہر کرکے اُس کو آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر کر نہیں پائی

خود جاتی ہوں۔ ۔۔اقدس آہستہ سے بڑبڑاتی گاڑی کا دروازہ کھول کر اُتری اور پھر آس پاس دیکھتی اپنے قدم اُس لڑکی کی طرف بڑھائے”اُس کے چلنے میں لڑکھڑاہٹ واضع تھی جو تب محسوس کی جاسکتی تھی جو کوئی اُس کو غور سے دیکھتا

السلام علیکم ۔۔۔۔اقدس بلآخر وہاں پہنچ کر سلام کیا

وعلیکم السلام اپ کون؟ فاحا جو آئسکریم کھانے کے ساتھ مومو سے بات کرنے میں بزی تھی بچی کی آواز پر اُس کی طرف متوجہ ہوئی

ہمارا نام اقدس اسیر ملک ہے اور کیا یہ آپ کی بلی ہے؟ اقدس نے بتانے کے بعد پوچھا

جی یہ میری مومو ہے۔ ۔۔فاحا کو” اُس کے ہم کہنے پر حیرانگی نہیں ہوئی دوسرا “اقدس کا چہرہ اُس کو جانا پہچانا سا لگا

بہت پیاری ہے۔ ۔۔۔اقدس نے تعریفی انداز میں کہا

آپ بھی بہت پیاری ہو میری مومو کی طرح۔ ۔۔۔فاحا نے مسکراکر اُس کے بھرے ہوئے گال کھینچے

کیا ہم آپ کو بلی جیسے لگتے ہیں؟ اقدس بُرا مان کر بولی

ارے نہیں میں نے تو ویسے ہی بول دیا تھا۔ ۔فاحا ہنس کر بولی

اِس مومو کی ممی کہاں ہے؟اقدس نے پوچھا

مومو کی ممی نہیں ہے یہ اکیلی ہے۔ ۔۔فاحا نے بتایا

ہماری بھی ممی نہیں۔ ۔۔اُقدس نے اُفسردگی سے کہا تو فاحا بھی اُداس ہوگئ

کہاں گئ تمہاری امی؟ فاحا نے پوچھا

پتا نہیں بابا نہیں بتاتے۔ ۔۔۔اقدس نے لاعلمی کا مظاہرہ کیا

اچھا آپ بہت پیاری ہیں یقیناً اپنی امی پر گئ ہوگی۔ ۔۔فاحا اُس کو دیکھ کر اندازہ لگاکر بولی

ہم تو اپنے بابا کی کاپی ہیں ۔۔۔اقدس نے فخریہ لہجے میں بتایا

اوو ماشااللہ۔ ۔اُس کے انداز پر فاحا مسکرائی

آپ کس پر گئ ہیں؟ اقدس نے اُس کو غور سے دیکھ کر پوچھا

اپنی امی پر۔ ۔۔۔فاحا نے بتایا

آپ بھی بہت پیاری اور کیوٹ سی ہیں”اب ہم چلتے ہیں ہمارے بابا نے ہمیں گاڑی سے باہر دیکھا تو ناراض ہوجائینگے۔ ۔۔اقدس ایک آخری نظر اُس کی بلی پر ڈالے بولی

کہاں ہے آپ کی گاڑی فاحا آپ کو چھوڑ آئے گی۔ ۔۔فاحا نے آس پاس دیکھ کر کہا

فاحا کون؟ اقدس نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

میرا نام فاحا ہے۔ ۔فاحا نے مسکراکر بتایا

اچھا مگر ہم اکیلے چلے جائینگے آپ کا بہت شکریہ۔ ۔۔اقدس نے مسکراکر کہا اور وہ آہستہ آہستہ چلی گئ۔ ۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

ہائے بیوٹی کوئین۔۔آج پھر آریان اُس کے کیفے میں کھڑا تھا۔ ۔

تم پھر آگئے؟ میشا نے تپ کر اُس کو دیکھ کر کہا

نہیں میں تو ابھی آیا ہوں پر شاید تمہیں میں یہاں وہاں ہر جگہ نظر آرہا ہوں۔”کہی یہ تو پیار نہیں۔۔۔آریان خوشفہمی میں مبتلا ہوا

ریئلی ایسا تم میں کیا ہے جو میں دا گریٹ میشا تم پر نظر رکھے گی۔ ۔میشا نے طنز کیا

یہ بولو کیا نہیں ہے۔ آریان اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر ایک ادا سے بولا

واٹ ایور تم یہاں کھڑے رہو میرا تو آج جلدی آف ہے۔ ۔۔میشا اپنی لونگ جیکٹ اُٹھائے اُس سے کہتی لمبے لمبے ڈگ بھرنے لگی۔

آہستہ مردوں کی طرح کیوں چل رہی ہو دھیرے اور نزاکت کے ساتھ چلو۔ ۔۔۔آریان بھاگ کر اُس کے ہمقدم ہوتا بولا

تمہیں میرا چلنا مردوں کی طرح لگ رہا ہے تم کیا چاہتے ہو میں کمر لچکا کر چلوں۔ ۔۔میشا نے رُک کر اُس کو گھورا

اُس کے لیے کمر کا لچکدار ہونا ضروری ہے۔ ۔۔۔آریان نے معصومیت سے کہا

تمہیں پتا ہے میں تمہارا منہ توڑ سکتی ہوں۔ ۔۔میشا نے اُس کو دیکھ کر استہزائیہ انداز میں کہا

منہ ہزار بار توڑنا مگر دل ایک بار بھی نہیں وہ کیا ہے نہ اِس ترقی یافتہ ملک میں ابھی دل جوڑنے والا ڈاکٹر نہیں بنا۔ ۔۔۔آریان نےگہری بات مزاحیہ انداز میں کہی

“تم نہ گو ٹو ہیل۔ ۔۔میشا کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے اِس لیے جو منہ میں آیا وہ بول دیا

“وِد یوئر ہیل۔۔۔آریان اُس کا ہاتھ پکڑ کر دلفریب انداز میں بولا تو اُس کی جُرئت پر میشا کو اُس پر تاؤ آیا

“تمہیں تو میں

میشا ایک پنج اُس کو مارنے لگی تھی مگر پہلی بار کی طرح اِس بار بھی آریان نے اُس کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا

رلیکس کول ڈاؤن میں نے تمہیں نہیں چھوا تمہارے دستانے کو چھوا ہے ماشااللہ بہت پیارا ہے اسپیشلی کلر بھی۔۔۔آریان ڈھیٹائی کا مُظاہرہ کیے بولا تو میشا نے دانت پیسے

میں چاہوں تو تمہاری اِس کوششوں کو ناکام بناکر سب کے سامنے تمہاری پیٹائی کرسکتی ہوں۔۔۔۔میشا دھمکی آمیز لہجے میں بولی

ویل آئے ٹرسٹ یو میں جانتا ہوں تم کرسکتی ہوں۔۔آریان کو کافی والا واقعہ یاد آیا تو جھرجھری لیکر بولا

گُڈ اور اب تمہیں چاہیے کہ میرا پیچھا چھوڑدو۔ ۔۔۔میشا نے طنز کہا

وہ تو میں اب کبھی نہیں چھوڑسکتا کیونکہ مجھے تو اب تمہاری لائف لائن بننا ہے۔ ۔۔آریان دانتوں کی نُمائش کیے بولا

میں تمہیں ڈیٹھ لائن نہ بنادوں۔ ۔۔۔میشا تپ اُٹھی جس پر آریان سخت بدمزہ ہوا

“اچھا سُنو۔ ۔۔آریان نے اُس کی بات اگنور کی

پھوٹو۔ ۔۔میشا نے تپ کر کہا

“راحتِ چشم ہے

نوازی تیری

ایک ادا ہی تو ہے

بے نیازی تیری

بے نیازی تیری

آپ کتنے حسیں

آپ خود بھی نہیں جانتے

“آریان اُس کو دیکھ کر خوبصورت آواز میں گانا گانے لگا تو میشا نے ترشی نگاہوں سے اُس کو دیکھا

آج لگتا ہے اندر کا غالب مرگیا ہے۔ ۔۔میشا نے اُس کو گھور کر طنز آواز میں کہا

کہاں زندہ ہے ابھی آخر کو ہم نے ہی فراز احمد اور پروین شاکر کی جگہ لینی ہے۔ ۔۔آریان فخریہ انداز میں اُس سے بولا

تم نہ بہت بڑے کوئی جن ہو۔ ۔۔۔میشا زچ ہوئی

اب یہ جن تو قبر تک تمہارے ساتھ رہے گا۔ ۔۔آریان نے بتایا جبھی اُن کے برابر ایک لڑکی گُزرنے لگی تو میشا کے شیطانی دماغ کی بتی روشن ہوئی اور جاتی ہوئی لڑکی کی پشت دیکھ کر دو انگلیاں منہ میں ڈالے زوردار سِٹی ماری تو آریان پہلے سمجھ نہیں پایا مگر جیسے ہی اُس نے لڑکی کو اپنے پاس اور میشا کو بے نیازی کا مُظاہرہ کرتا دیکھا تو ایک لمحہ لگا تھا اُس کو ساری بات جاننے میں۔ ۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

سوہان ساکت نظروں سے اپنے پاس پڑے کاغذات کو دیکھ رہی تھی جو چیخ چیخ کر اُس کو جو بتارہے تھے وہ سوہان یقین کرنے سے قاصر تھی۔ ۔۔”پھر سوہان نے ہاتھ بڑھاکر ایک فوٹو اُٹھاکر اپنی آنکھوں کے سامنے کی جہاں اُٹھارہ سالہ کا ایک لڑکا تھا فراز ملک ولد نوریز ملک

“”یہ بیٹیاں مجھے دے ہی کیا سکتیں ہیں؟”نہ تو اِن کو لیکر میں کہی ساتھ لے جاسکتا ہوں اور نہ یہ مجھے کوئی عقلمندانہ مشورہ دے سکتی ہیں۔۔۔۔””

غرور تکبر کی آواز ایک بار پھر کانوں میں گونجنے لگی تو سوہان کے چہرے پر طنز مسکراہٹ آئی تھی۔ ۔

میں نے تمہیں پہلے سے بتایا تھا مجھے بیٹا چاہیے اِن تینوں کا میں کیا کروں گا؟بھائی صاحب تو اول روز سے ہی مجھ سے خفا ہے اور اب جو تم نے یہ بچیاں میرے سر پر مسلط کی ہیں اِن کا میں کیا کروں گا؟

“دیکھو اسلحان مجھے جو کہنا تھا میں کہہ چُکا ہوں اب تم یہ بوجھ لیکر یہاں سے چلی جاؤ میں اپنے بھائیوں کو مزید خفا نہیں کرسکتا تمہاری بدولت”

“ایک بار اِس کا چہرہ تو دیکھ لو۔۔۔۔اسلحان نے حسرت بھرے لہجے میں فاحا کی طرف اِشارہ دے کر اُس سے کہا جس کو ایک مرتبہ بھی خود نہیں دیکھا تھا

مجھے چہرہ دیکھ کر کرنا کیا ہے؟”میں نے سوچ لیا ہے اب میں وہ کروں گا جو بھائی لوگ مجھ سے کہینگے۔۔۔۔”گارڈ اِن کو باہر کا رستہ دیکھاؤ۔۔۔۔۔”

واقعی میں ہم وہ نہیں کرسکتیں جو بیٹے کرسکتے ہیں” ہم کسی معصوم کی عزت کو پامال نہیں کرسکتیں” اور نہ وقتی تسکین کے لیے کسی کی عزت کو روند سکتیں ہیں۔۔۔”

مگر ہمارے بابا جی آپ کو یہ بات جاننا ہوگی کہ سوہان حق کا ساتھ دے گی” جس بیٹے کی لالچ نے آپ نے ہمیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا اُس بیٹے کو سزا بیریسٹر سوہان ملک ضرور دلوائے گی۔ ۔۔۔”اب وقت آگیا ہے کہ آپ کو یہ بات پتا چلے کہ بیٹا ہو یا بیٹی اپنی زندگی میں سب کچھ کرسکتے ہیں۔ ۔۔۔سوہان نے وہ ساری تصاویر دور ہٹاکر تصور میں نوریز ملک کو مُخاطب کیا تھا پھر سرجھٹک کر اپنا موبائل لیکر کسی کو کال ملانے لگی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

ہائے رانی۔۔۔فاحا اپنے گھر جانے کی گلی میں گُزرنے لگی تو گلی کے کچھ لوفر لڑکے اُس کے پیچھے چلتے کمنٹس پاس کرنے لگے تو فاحا کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا وہ آیة الکرسی کا ورد کرتی تیز تیز قدم اُٹھانے لگی تو وہ لڑکے بھی ایسے کرنے لگے۔ ۔۔۔”جس سے فاحا کا ڈر کر مارے بُرا حال ہوگیا تھا۔ ۔۔۔

“فاحا اگر بہادر نہیں تو فاحا کو مرجانا چاہیے۔ ۔۔”یہ دُنیا بہت ظالم ہے فاحا یہاں ڈرنے والوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ ۔”اکیلی لڑکی کو ہراس کیا جاتا ہے۔ ۔۔اور تمہارا یہی حال رہا تو میر بات غور سے سُنو تمہارا زندگی پر کوئی حق نہیں اگر تم میں سیلف ڈیفنس کی طاقت نہیں تو ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہمیں بزدل بہن نہیں چاہیے۔ ۔۔۔”

کانوں میں میشا کی آواز گونجنے لگی تو فاحا نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچا تھا وہ اپنے پیچھے لگے لڑکوں کے قہقہقہ اچھے سے سُن پارہی تھی”ڈر اُس پہ حاوی ہوتا جارہا تھا اور چاہنے کے باوجود بھی وہ کچھ کر نہیں پارہی تھی۔ ۔۔

“سُنو فاحا اصل زندگی میں ہم کسی ہیرو کے انتظار میں یا آسرے پر خود کو مصیبت کے حوالے نہیں کرسکتے” یہ ہماری زندگی ہے اور ہمیں اپنا ہیرو خود بننا ہوتا ہے” یہاں ہمارا اللہ کے سِوا کوئی نہیں ہوتا۔ ۔۔”تمہیں میری طرح یا میشا کی طرح نہیں بننا کیونکہ تم فاحا ہو اور تمہیں فاحا بن کر سب کچھ کرنا پڑے گا اپنے طریقے سے ہم ہر وقت تمہارے ساتھ نہیں ہوسکتے اِس لیے تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ زندہ رہنے کے لیے اور اِس معاشرے میں آزاد گھومنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے یا پھر کیسے اُن کا سامنا کرنا چاہیے۔ ۔۔”یہ معاشرہ عورت کو کمزور کہتا ہے مگر عورت کمزور نہیں ہوتی اُس کو کمزور حیوان صفت مرد بناتے ہیں اور ہمیں اُن کا خوف خود پر حاوی ہونے نہیں دینا۔ ۔۔”تم اکیلے ہر مشکل کو حل کرسکتی ہو مگر اُس سے پہلے تمہیں اِرداہ باندھنا پڑے گا تبھی یہ ممکن ہے۔ ۔۔۔ہماری زندگی میں مرد صرف رکاوٹ ڈالنے کے لیے آسکتا ہے مگر ہمارا ہاتھ تھامنے کے لیے نہیں۔ ۔۔۔۔”

اب کی فاحا کی بس ہوگئ تھی سوہان کے الفاظوں نے اُس کو جیسے ہمت دی تھی جبھی وہ رُک گئ تو اُس کے پیچھے آتے لڑکے بھی رُک کر ایک دوسرے کا چہرہ تکنے لگے۔ ۔۔

“کیا چاہیے؟ فاحا نے پلٹ کر اُن چار لڑکوں کو دیکھا جو اُس کے اچانک بدلتے تیور دیکھ کر حیران ہوگئے تھے

“وہ وہ

اُن سے کچھ بولا نہیں گیا وہ تو فاحا کو ڈرپوک سمجھ کر بدتمیزی کرنے کی نیت سے آئے تھے مگر یہاں تو کایا ہی اُلٹ گئ تھی

وہ کیا جو بھی ہے بتاؤ جلدی سے فاحا نے پھر گھر بھی جانا ہے۔۔۔اور تم لوگ بلاوجہ کب سے مجھے فالو کررہے ہو۔۔۔۔اب کیوں خاموش ہوگئے ہو۔۔۔فاحا قدرے اُونچی آواز میں بولی تھی جس سے آس پاس گھروں کے دروازے کُھلے تھے۔۔

کیا ہوا فاحا بیٹی؟ایک خاتون جو اُس کو جانتی تھی پوچھنے لگی تو فاحا کو مزید ہمت ملی کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔۔۔۔

پتا نہیں آنٹی یہ چار بھائی لوگ کب سے میرا پیچھا کررہے ہیں اور سِٹیاں بجارہے ہیں۔۔۔۔فاحا نے لڑکوں کی طرف اِشارہ کیے بتایا تو وہ چاروں سٹپٹائے تھے۔۔

اِن کو کوئی جانے نہ دے۔آوارہ کہی کے ۔۔ایک عورت نے کہا تو دوسری نے سراثبات میں ہلایا تھا اور سب اپنے گھروں میں جاکر بیلن اُٹھاکر اُن کو پیٹنے لگی تو لڑکے چیخنے لگے تھے مگر فاحا آہستہ آہستہ پیچھے ہونے لگی۔ ۔

“آپ نے ٹھیک کہا تھا آپو کوئی بھی مشکلات بڑی نہیں ہوتی جس سے نکلا نہ جاسکے بس خود کو سنبھالنا آنا چاہیے۔ “نہ میں سوہان ہوں اور نہ میں میشا ہوں” میں فاحا ہوں اور فاحا کو اپنا انداز الگ بنانا چاہیے۔ ۔۔جس کی وہ بہن ہے اُنہوں نے کبھی گِیو اپ نہیں کیا تو میں کیسے کرسکتی ہوں؟۔۔فاحا چہرے پر مسکراہٹ سجائے بڑبڑائی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *