Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 26)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

میشا۔۔۔۔۔۔۔آریان نے ضبط سے اُس کو پُکارا تھا

آریان۔۔۔جواباً میشا نے بڑی معصومیت سے اُس کا نام لیا تو آریان کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔

“تم اِتنی ان رومانٹک کیوں ہو؟اپنے دل کو تھپکی دے کر آریان نے اُس سے سوال کیا

“پہلے تم بتاؤ تم اِتنے چھچھوڑے کیوں ہو؟میشا نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

“اِس کو چِھچھوڑاپن نہیں کہتے یہ تو میری تمہارے لیے محبت ہے۔۔۔۔آریان محبت سے گوندے چاشنی لہجے میں بولا تو میشا نے آئبرو اُپر کیے اُس کو دیکھا

“محبت؟

تمہیں مجھ سے محبت ہے مگر تم میرے بارے میں جانتے کیا ہو؟میشا کا انداز طنز سے بھرپور تھا

“مجھے تم سے واقعی میں محبت ہے اور اگر میں تمہیں نہیں جانتا تو جاننے کے لیے پوری زندگی پڑی ہے۔۔۔آریان نے مسکراکر کہا

جاؤ یہاں سے مجھے کام پر جانا ہے۔۔۔میشا بیزارگی سے بولی

“آج تم کام پر نہیں جاؤ ہم ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔آریان اُس کے راستے میں حائل ہوتا بولا

“دیکھو آریان بی سیریس مجھے تمہیں جاننے کا کوئی شوق نہیں ہے تمہیں میری یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آرہی ؟”میرے پر تم بس وقت ضائع کررہے ہو میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتی کیونکہ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اِس لیے اچھا ہے کہ تم اپنے قدم واپس لے لو۔۔۔میشا نے زندگی میں پہلی بار اُس سے سنجیدگی میں بات کی جو تھوری پر ہاتھ رکھے آریان نے بڑی دلچسپی سے سُنی

” تم اسپیچ بہت اچھی کرلیتی ہو مگر ڈیئر فیوچر وائیف تمہیں نہیں لگتا یہ آخری بات جو ابھی تم نے مجھ سے کہی اِس کو کہنے میں بہت وقت لگادیا۔۔آریان نے ہنس کر کہا

“یہ اسپیچ نہیں تھی اور ہاں ہوسکتا ہے میں نے وقت لگادیا ہو پر تمہیں میرے روڈ رویے سے خود پیچھے ہوجانا چاہیے تھا۔۔۔میشا نے کہا

“مگر میں نہیں ہوا اِس سے تمہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ میں کتنا سیریس ہوں تمہارے لیے۔۔۔آریان نے اُس کو لاجواب کرنا چاہا

“میں نہیں لگا رہی اندازے تم بس میرا پیچھا چھوڑدو۔۔میشا نے اکتاہٹ سے کہا

“تم اگر اپنی جگہ بضد ہو تو میں بھی آریان دُرانی ہوں اپنی بات سے ایک انچ نہیں ہلنے والا۔۔۔آریان نے گویا اُس کو باور کروایا تھا لیکن میشا نے اُس کو دیکھ کر سرجھٹکا

❤Rimsha Hussein Novels❤

“گھر آکر فاحا نے سب سے پہلا کام سوہان کا موبائیل اُس کے کمرے سے اُٹھایا جو اُس کو ڈریسنگ ٹیبل سے ملا خود سوہان واشروم میں موجود تھی جس کا اندازہ فاحا نے پانی گِرنے کی آواز سے لگایا تھا۔۔۔

“فاحا پہلی بار کسی کا موبائیل چیک آؤٹ کرنے لگی ہے یااللہ فاحا کو معاف کرنا وہ بہت معصوم ہے۔۔۔فاحا ایک نظر واشروم کے بند دروازے پر ڈالتی منہ ہی منہ میں بڑبڑائی

“زوریز دُرانی کا نمبر کیسے تلاش کروں؟اففف فاحا پاگل کال لِسٹ میں زی میں جانا ہے افکورس پھر اُن کا نمبر مل جائے گا۔۔۔فاحا نے اپنی بات کا جواب خود کو خود ہی دیا اور جلدی میں”زوریز کا نمبر اپنے نمبر پر سینڈ کرنے کے بعد اُس نے چیٹ کو کلیئر کردیا تاکہ سوہان کو اُس پر شک نہ ہو

“واہ فاحا تم تو لاجواب ہو تمہارا کوئی جواب نہیں۔۔۔اپنی کاروائی پر خود کو داد دیتی فاحا جلدی میں کمرے سے باہر نکل گئ اور لاؤنج میں آکر اپنا سیل فون اُٹھائے وہ زوریز کو کال کرنے لگی جو کہ مصروف جارہا تھا

“فون اُٹھائے مصروف انسان۔۔۔تیسری بیل پر بھی جب زوریز نے کال نہیں اُٹھائی تو فاحا دعائیہ انداز میں خود سے بولی جبکہ اِس بار اُس کا نمبر مصروف نہیں تھا جارہا

“آخری بار کرتی ہوں اگر اِس بار نہیں اُٹھایا تو میں نہیں کرنے والی دوبارہ کال۔۔۔۔فاحا خود سے کہتی اپنی طرف سے آخری بار زوریز کو کال کرنے لگی جو خلاف توقع ریسیو کیا گیا تھا

Hello, zaroiz Durani Speeking.

دوسری طرف سے زوریز کی مصروف کن آواز اسپیکر پر اُبھری

I’m faha malik Speeking.

فاحا نے بھی جواباً اُسی کا اندازہ اپنایا تو زوریز جو کال ریسیو کرنے کے بعد فائلز چیک کررہا تھا ایک پل کو چونک سا گیا اُس نے فائل بند کرکے سیل فون کان سے ہٹائے اسکرین کی طرف دیکھا جہاں کوئی انون نمبر جگمگا رہا تھا

“سوہان کی بہن؟زوریز نے کنفرم کرنا چاہا

“جی میں اُن کی بہن ہوں فاحا۔۔۔۔فاحا نے مسکراتے لہجے میں بتایا

“اوکے وہ ٹھیک تو ہیں؟”آپ نے مجھے کیسے کال کرلی آج؟زوریز کو تشویش ہوئی

“جی وہ بلکل ٹھیک ہیں اور فاحا نے سب سے پہلے سوہان آپو کے فون سے چوری چوری آپ کا نمبر لیا اُس کے بعد لاؤنج میں آئی اپنا سیل اُٹھایا اور آپ کا نمبر ڈائل کیا پھر ایسے آگئ آپ کے پاس میری کال۔۔۔فاحا نے تفصیل سے اُس کو جواب دیا جس پر زوریز ہلکہ سا مسکرایا

“آپ نے چوری چوری فون سے نمبر کیوں لیا؟”بتاکر یا پوچھ کر یا پھر اُن سے مانگ سکتی تھی۔۔۔زوریز نے پوچھا

“جی مگر میں اُن کو بتاکر سرپرائز خراب کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔فاحا نے بتایا

“کیسا سرپرائز؟زوریز نے ناسمجھی سے پوچھا

“آپ کو پتا ہے کل کیا ہے؟فاحا نے متجسس لہجے میں اُس سے پوچھا

“کل جُمعرات ہے۔۔۔زوریز نے بتایا تو فاحا بدمزہ ہوئی

“اور کیا ہے مطلب تاریخ۔۔۔فاحا نے پوچھا

“تاریخ۔۔۔زوریز زیر لب بڑبڑاتا سیل فون کان سے ہٹائے موبائیل اسکرین پر تاریخ اور مہینہ دیکھنے لگا۔۔۔

“انسان کو اِتنا مصروف بھی نہیں ہونا چاہیے کہ تاریخ تک کا پتا نہ ہو۔۔۔زوریز کی طرف سے جواب ناپاکر فاحا بڑبڑائے بنا نہ رہ پائی تھی

“آج مارچ کی دس تاریخ ہے اور گیارہ مارچ کو سوہان کی سالگرہ ہے۔۔۔زوریز نے بتایا تو اِس بار فاحا کو حیرت کا شدید قسم کا جھٹکا لگا تھا۔

“آپ کو کیسے پتا؟فاحا بے یقین ہوئی

“میں نے بتایا تھا ہم ایک یونی میں ہوا کرتے تھے۔۔زوریز نے جیسے یاد کروایا

“ہاں مگر آپو نے کہا تھا آپ دونوں کی سرسری مُلاقات ہوئی تھی اور اِس سرسری مُلاقات میں انسان ایک دوسرے کا سہی سے چہرہ نہیں پہچان پاتا اور آپ دونوں ایک دوسرے کی ہر بات جانتے ہیں ایسا کیسے۔۔؟۔فاحا کو تعجب ہورہا تھا اور جاننے کا تجسس بھی

“مُلاقات سرسری تھی یا نہیں مگر یادگار ہے خیر آپ بتائے کیسے کال کی؟زوریز مطلب کی بات پر آیا

“وہ کل آپ کا شیڈول ٹف ہے یا ایویں سا۔۔۔فاحا نے پوچھا

“کل میری کلائنٹس کے ساتھ بہت ضروری میٹنگز ہیں مجھے ایک دو جگہ وزٹ بھی کرنا ہے خیر آپ نے کیوں پوچھا یہ؟زوریز نے بتانے کے بعد اُس سے سوال کیا

“کیا میٹنگز بہت ضروری ہیں؟فاحا کو تھوڑی مایوسی ہونے لگی

“ہاں۔۔۔۔زوریز نے مختصر جواب دیا

“فاحا نے اور میشو آپی نے سوہان آپو کے لیے سرپرائز پارٹی تِھرو کی ہے اور میں چاہتی تھی آپ ہمیں جوائن کریں ایسے ہمیں آپ کے بارے میں پتا بھی چل جائے گا اور سوہان آپو کو بھی سرپرائز اور اچھا لگے گا۔۔۔فاحا نے بتایا

“اُن کو شاید میرا وہاں آنا پسند نہ آئے۔۔۔۔زوریز نے کہا

“اُن کو پسند کیوں نہیں آئے گا؟”مانا کہ وہ تھوڑی روڈ ہیں مگر دل اُن کا بہت خوبصورت ہے اور وہ گھر آئے مہمان کی بہت عزت کیا کرتی ہے ہاں اگر آپ ہمارے چھوٹے سے گھر میں آنا پسند نہیں کرتے تو وہ الگ بات ہے۔۔۔فاحا نے کہا

“ایسی بات نہیں ہے میں ایسی سوچ نہیں رکھتا اور آپ مجھے بس ٹائیم بتادے میں آجاؤں گا وقت پر۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا

“کیا سچ میں؟فاحا کی خوشی کی انتہا نہ رہی

“جی۔۔۔۔زوریز نے کہا

“اپنے والدین کو بھی لائیے گا۔۔۔فاحا بہت ایکسائٹڈ ہوئی

“میں اپنے بھائی کے ساتھ رہتا ہوں”میرے والدین کا انتقال آج سے کئ برس پہلے ہوچُکا ہے۔۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے بتایا

سُن کر افسوس ہوا”آپ بس پھر اپنے بھائی کو لائیے گا۔۔۔فاحا نے کچھ سوچ کر کہا

“میں کوشش کروں گا مگر آریان کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔۔۔”کیونکہ اُس کی اپنی کچھ مصروفیات ہوتیں ہیں۔۔۔زوریز نے اُس کی بات سن کر کہا

اچھا تو چھوڑے اُن کو آپ جلدی سے یہ بتائے کل کس کلر کا ڈریس پہن کر آئے گے،؟فاحا نے پرجوش ہوکر پوچھا تو زوریز کو اُس کا یہ سوال عجیب لگا

“کیا مطلب؟زوریز کو سمجھ نہیں آیا

“مطلب اِتنا مشکل بھی نہیں میں نے آپ کے سوٹ کا کلر پوچھا ہے جو آپ کل پہن کر آئے گے۔۔۔۔فاحا نے تفصیل دی اُس کو

“کوئی بھی پہن لوں گا۔۔۔زوریز نے شانے اُچکائے جواب دیا

“کوئی بھی یہ کیسا کلر ہوا؟فاحا ناسمجھی سے بولی

“میرے کہنے کا مطلب تھا جو مجھے ٹھیک لگے گا میں وہ پہن کر آجاؤں گا۔۔۔زوریز نے جواب دیا

“نہیں نہیں پلیز یہ ظُلم نہیں کیجئے گا کل کچھ الگ انداز میں آئیے گا اپنے بزنس فورم میں نہیں کیونکہ یہاں آپ کی کوئی میٹنگ نہیں ہوگی۔۔۔فاحا نے جھٹ سے کہا

“آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟”کُھل کر کہیں؟زوریز نے پوچھا

“فاحا کہنا چاہتی ہے کہ کل آپ بہت تیار ہوکر آئیے گا ہیئر اسٹائیل بھی اچھا بنائیے گا جس کو دیکھ کر ہر ایک کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ جائے۔۔۔۔فاحا نے کہا تو زوریز اُس کی بات سن کر لیپ ٹاپ کی اسکرین آن کیے اپنا جائزہ لینے لگا”بلیک تھری پیس میں ملبوس وہ شاندار لگ رہا تھا اُس کی شخصیت بہت پُرکشش تھی دیکھنے والا مرغوب ہوجایا کرتا تھا “خاص طور پر اُس کے چہرے پر موجود سنجیدگی اور چلنے کا انداز تو پھر”فاحا کیا اُس سے کہنے کا بول رہی تھی اُس میں کمی کیا تھی؟”اسپیشلی اُس کے لباس میں بالوں کو بھی تو وہ اپنے اچھے سے سیٹ کیا کرتا تھا۔

“دیکھے فاحا میں آپ کی بات کو سمجھ نہیں پارہا میں جیسا ہوں ویسے آؤں گا اور بزنس فورم میں نہ بھی آؤں مگر میرا ڈریسنگ اسٹائیل یہی ہے۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا

“بس آپ کلر بتادے۔۔فاحا سرجھٹک کر بولی

“بلیو۔۔۔زوریز نے کچھ توقع بعد کہا

“ٹھیک ہے یاد سے بلیو ہی پہن کر آئیے گا۔۔۔فاحا مسکراکر کہتی کال کاٹ گئ تھی اور زوریز کتنے ہی پل کل کے بارے میں سوچنے لگا تھا پھر سرجھٹک کر اپنا دھیان کاموں میں لگایا

❤Rimsha Hussain Novels❤

“سوہان زوریز کے کیس کی فائل ریڈ کرنے میں مصروف تھی جب اُس کا سیل فون رِنگ کرنے لگا”سوہان نے دیکھا تو کوئی انون نمبر تھا اور اُس نمبر کو دیکھ اُس کی پیشانی پر پرسوچ پرچھائیاں چھانے لگی۔۔۔

“السلام علیکم کون؟کال ریسیو کرکے سوہان نے سنجیدگی سے سلام کے بعد پوچھا

“نذیر ملک بات کررہا ہوں۔۔۔۔دوسری طرف سے سلام کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا گیا

“تو میں کیا کروں؟سوہان نے ناگواری سے سوال کیا

“سُنو کل کی بنی ہوئی بیریسٹر ہمارے خاندان سے بیر لیکر توں اچھا نہیں کررہی تُجھے پتا نہیں میں کون ہوں اور ہمارا خاندان ہمارا رُتبہ کیا ہے؟”اِس لیے ہمارے معاملات سے دور رہو ورنہ اچھا نہیں ہوگا تمہارے ساتھ۔۔۔نذیر تکبر بھرے لہجے میں اُس سے گویا ہوا

“ایک وکیل کو ہراس کرنے کے نتائج سے آگاہ ہو تم یا میں بتاؤ؟سوہان نے طنز لہجے میں اُس سے پوچھا

“تم دو ٹکے کی لڑکی اب نذیر ملک کو دھمکی دو گی؟نذیر کا پارا ہائے ہوا تھا

“دوبارہ مجھے کال مت کرنا ورنہ ایک رات پہلے پولیس کی کسٹڈی میں رہو گے۔۔۔سوہان وارن بھرے لہجے میں اُس سے کہتی کال کاٹ گئ تھی دوسری طرف نذیر ملک کے پورے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی”اُس نے سرخ آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھا جنہوں نے اُس سے کہا تھا کہ سوہان کو کال کرکے اُس کو دھمکیاں دے مگر وہ تو کچھ سُننے کو تیار نہ تھی اُلٹا اُس کو بے عزت کرکے چھوڑدیا تھا۔۔۔

“کیا ہوا؟سجاد ملک نے انجان بن کر پوچھا

“آپ کو پتا نہیں اُس بدبخت نے مجھ سے کیا کہا؟نذیر غُصے سے پاگل ہونے کے در پر تھا

“آرام سے بتاؤ کیا کہا اُس نے؟”کیا اُس نے کیس سے پیچھے ہٹنے کو کہا؟سجاد ملک نے اُس سے پوچھا

“بابا سائیں کیس مجھ پر اُس بزنس مین زوریز درانی نے کروایا ہے یہ بس اُس کی وکیل ہے کیس لڑے گی اُس کا۔۔۔نذیر ملک غُصے سے بولے

“ہاں تو کرنے دو جو یہ اور وہ کرنا چاہتے ہیں بڑا اِن کو انصاف اور کورٹ کچہریوں میں پڑنے کا شوق ہے نہ تو سہی ہے دونوں کا شوق پورا کرلیتے ہیں۔۔سجاد ملک کمینگی سے بولے

“کیا مطلب آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟نذیر الرٹ ہوا

“پہلے سوچا تھا راستے سے سوہان کو ہٹائے مگر اب اُس بزنس مین زوریز کی بھی خیر نہیں۔۔۔سجاد ملک نے پختگی سے کہا

“بابا سائیں وہ ہماری طرح گاؤں کے رہائشی نہیں وہ زوریز دُرانی ہے جس نے کم عرصے میں پاکستان آکر اپنا بڑا نام بنایا ہے اور وہ جب باہر نکلتا ہے تو میڈیا والے اُس کو کوریج کرلیتے ہیں”سال میں اُس کو بیسٹ بزنس مین کا اوارڈ بھی ملا تھا آئے دن اخباروں اور میگزین میں اُس کی فوٹوز چھپی ہوئیں ہوتیں ہیں وہ کوئی عام انسان نہیں جس کو مار دینگے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا”اور وہ بیریسٹر سوہان جس کو کل کوئی نہیں جانتا تھا آج ہر ایک کے لبوں پر اُس کا نام ہے کیس جو جیتا ہے اُس میں ہر کوئی اُس کی واہ واہ کررہا ہے سب کو پتا ہے سوہان کون ہے ایسے میں ہمارا ایک غلط قدم ہمیں خسارے میں پہنچا سکتا ہے۔۔۔نذیر ملک اپنے باپ کے اِرادے کو بھانپتا اُن کو باز رکھنے کی کوشش کرنے لگا جواب میں سجاد ملک کا زوردار قہقہقہ چھوٹ گیا تھا۔

“کچی گولیاں تو میں نے بھی نہیں کھائیں بس تم دیکھتے جاؤ میں کرتا کیا ہوں۔۔۔سجاد ملک مونچھوں کو تاؤ دے کر بولے تو نذیر خاموشی سے بس اُن کا چہرہ تکنے لگا اُس کو اپنے باپ کے اِرادے نیک نہیں لگے تھے۔۔

Rimsha Hussain Novels❤

فاحا عاشر اور میشا کے ساتھ مل کر گھر کو ڈیکوریٹ کرنے میں مصروف تھیں”سوہان کو جبکہ اُنہوں نے کمرے سے باہر نکلنے کو منع کیا تھا اُس پر سوہان نے احتجاج تو بہت کیا تھا مگر کسی نے اُس کی سُنی نہیں تھی۔۔۔”بس یہی کہا گیا تھا کہ اُن میں سے کوئی خود تمہیں کمرے سے باہر لیکر آئے گا۔

“فاحا تمہیں نہیں لگتا ہمیں بلونز کے بجائے پھولوں سے گھر کو سجانا چاہیے تھا۔۔۔میشا ایک طائرانہ نظر چھوٹے سے ہال پر ڈالتی فاحا سے بولی جو ابھی کیک بیک کرکے کچن سے باہر آئی تھی

“سالگرہ کے دن بلون سے گھر سجایا جاتا ہے پھولوں سے نہیں۔۔۔فاحا نے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا

“واٹ ایور یہ دیکھو میں تیار ہوگئ ہوں تمہارا تیار ہونے کا موڈ ہے یا نہیں؟میشا اُس کو بتانے کے بعد گول گول گھومنے لگی تو اُس کے ساتھ اُس کا فراق بھی گول گول لہرانے لگا

“فاحا کو ابھی بہت کام ہے۔۔۔۔”فاحا وال کلاک کی طرف دیکھ کر اُس کو بتانے لگی۔

اففف ایک تو تمہارے کام خیر مجھے ایک سوال کا جواب دینا۔۔۔میشا سرجھٹک کر بولی

“کونسا جواب؟فاحا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا اور ہال کا جائزہ لینے لگی تو میشا چہک کر اپنے پشت پر بکھرے بال کو کندھوں سے آگے کیا

فاحی میرے بال کیسے لگ رہے ہیں؟میشا اپنے بالوں کو دیکھ کر فاحا سے پوچھنے لگی تو اُس نے نظریں اُٹھائے اِس بار میشا کو غور سے دیکھا

کونسے بال؟”سر کے یا مونچھوں کے؟فاحا پرسوچ نظروں سے اُس کو دیکھ کر معصوم لہجے میں پوچھنے لگی تو میشا کا منہ حیرت کی زیادتی سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔۔۔۔

“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔جہاں میشا کا منہ کُھلا تھا وہی عاشر اور حاشر کا قہقہقہ ہوا میں بلند ہوا تھا۔۔

“تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔میشا تپ کر کہتی اُس کی طرف بڑھنے لگی جس پر فاحا نے گڑبڑا کر ڈور لگائی

“بھاگتی کہاں ہو رُکو تُجھے تو اب میں بتاتی ہوں۔۔۔فاحا کے پیچھے پیچھے بھاگتی میشا کے دھمکی آمیز لہجے میں اُس سے گویا ہوئی

یار آپو ابھی بہت کام ہیں آپ کے پاس رحم کی اپیل لانا چاہتی ہوں۔۔۔فاحا یہاں سے وہاں ڈور لگاتی اُس سے بولی تو میشا نے صوفے سے کشن اُٹھائے اُس کی طرف پھینک دیا مگر فاحا جلدی سے نیچے جُھک کر اپنا بچاؤ کرگئ۔۔۔

“لڑنا بند کرو میں سوہان کو لینے جارہا ہوں وہ تیار ہوگئ ہوگی۔۔۔عاشر اُن دونوں کو دیکھ کر بولا

“ہال کی لائیٹس تو آف کریں۔”اور میں ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔۔فاحا نے رونی صورت بنائی

“تم ماسی بن کر بہت اچھی لگتی ہو۔۔۔میشا نے اُس کو چِڑایا

“آپ تو بس کریں اپنے اپر لپس چیک کریں۔۔۔فاحا بھی باز نہیں آئی اور میشا کو سویا ہوا غُصہ پھر سے عود آیا۔

“تمہاری تو۔۔۔۔میشا اِتنا کہتی ابھی کچھ کہتی جب اچانک ہال کی تمام لائٹس آف ہوگئیں تھیں۔۔۔”بس ایک لائٹ نے بلیو میکسی میں ملبوس سوہان کو اپنے گھیرے میں لیا تھا”یکخلت گھر میں کوئی اور بھی داخل ہوا تھا۔۔”جس کے جوتوں کی ٹِک ٹِک نے خاموش ماحول میں ایک ارتعاش پیدا کیا تھا۔۔۔”فاحا کے دل نے تیز رفتار پکڑ لی تھی شاید وہ جانتی تھی آنے والی ہستی کون ہے۔۔”سوہان جو آس پاس دیکھتی معاملہ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی اپنے بیحد پاس کھڑے ہوتے زوریز کو دیکھ کر وہ دم سادھے رہ گئ تھی اور یہی حال زوریز کا تھا سوہان کو پہلی بار روزانہ کے برعکس ایک الگ گیٹ اپ میں دیکھ کر مبہوت رہ گیا تھا۔۔۔”لیکن میشا نے جب لائیٹس اچانک آن کی تو سوہان جیسے ہوش میں آئی تھی۔۔

Happy birthday too you

Happy birthday Dear sohan

Wish you more and happy life

“عاشر حاشر”میشا فاحا بُوا اور ساجدہ بیگم یہ لوگ تالیاں بجاکر اُس کو وِش کرنے لگے اور فاحا گلے مل کر آخری لائن کہی تو سوہان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔

This is for you.

سوہان کا دھیان اپنی طرف سے ہٹتا دیکھ کر زوریز نے کہا تو سوہان نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا جو بلیو جینز شرٹ میں ملبوس”ہاتھ میں ریڈ پھولوں کا بُکے پکڑے کھڑا اُس کو دیکھ رہا تھا

“آپ یہاں؟سوہان اُس کو دیکھ کر حیران تھی

Happy birthday

زوریز نے اُس کی توجہ پھولوں پر کروائی

“شکریہ مگر اِس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔۔۔سوہان خُجل ہوئی اور ایک گہری نظر میشا اور فاحا پر ڈالی جو اُس کے دیکھنے پر جھٹ سے رُخ پلٹ گئیں تھیں

“میں تیار ہوکر آتی ہوں۔۔۔فاحا اِتنا کہتی وہاں سے نو دو گیارہ ہوئیں

“آپ کی سالگرہ تھی میں کیسے نہ آتا۔۔۔زوریز نے جواب دیا

لیکن میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا۔۔۔سوہان نے کہا

“پر میں اُس کے باوجود آگیا۔۔۔زوریز نے جواباً کہا

“ارے بیٹا آپ وہ ہو نہ جو ٹی وی پر آتے ہو؟بُوا جلدی سے زوریز کی طرف آئی

“بُوا یہ فلم اسٹار نہیں ہیں۔۔۔بُوا کو دیکھ کر سوہان نے جھٹ سے اُن کی غلطفہمی کو دور کرنا چاہا

“مگر میں نے اِس کو ٹی وی پر دیکھا تھا۔۔بوا اپنی بات پر قائم تھی

“جی میں ٹی وی پر بھی آتا ہوں کچھ مارننگ شو میں ایز آ گیسٹ۔۔۔زوریز سوہان کو دیکھتا بُوا کو بتانے لگا

“گُذشتہ ویکنڈ پر میں نے آپ کو اپنے کالج میں دیکھا تھا۔۔۔حاشر نے بھی باتوں میں اپنا حصہ لیا جس پر زوریز محض مسکرایا

“کیک کٹ کیا جائے۔۔۔عاشر نے مُداخلت کی

“فاحا آجائے اور میں زرا آتی ہوں۔۔۔سوہان سب کو باری باری دیکھ کر کہہ کر اپنی میکسی سنبھالے وہاں سے جانے لگی

“ویسے بیٹا آپ کرتے کیا ہو؟زوریز جو جاتی ہوئی سوہان کی پشت کو دیکھ رہا تھا”بُوا کے مُخاطب ہونے پر اُن کو دیکھا

“میرا اپنا بزنس ہے۔۔۔زوریز نے بتایا

“اچھا ویسے کتنی سرجریاں کرواکر ایسا رنگ روپ پایا ہے۔۔؟”بُوا اُس کے پاس جُھک کر رازدرانہ انداز میں پوچھنے لگی مگر عاشر نے یہ سُن لیا تھا جبھی اپنا ماتھا پیٹا تھا

“جی؟زوریز کو اُن کا سوال سمجھ نہیں آیا تھا

“میرے کہنے کا

“بُوا آپ بھی حد کرتیں ہیں یہاں آئے کچھ بات کرنی ہے میں نے۔۔۔ابھی بُوا دوبارہ اپنی بات زوریز کے سامنے دوہراتی اُس سے پہلے عاشر بول پڑا

“مگر مجھے اِس چکنے سے بات کرنی ہے۔۔۔بُوا نے کہا تو اُن کے لفظ”چکنے”پر زوریز کی پیشانی پر ناسمجھی کے بل نمایاں ہوئے تھے وہیں حاشر نے جہاں اپنا قہقہقہ ضبط کیا تھا لیکن عاشر اپنا ماتھا پیٹ کر زبردستی بُوا کو زوریز کی پہنچ سے دور کیا

“چکنا؟اُن دونوں کے جانے کے بعد زوریز نے مدہم آواز میں وہ لفظ دوہرایا تھا پر کچھ سمجھ نہ آنے پر اپنا سرجھٹکا تھا۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

زوریز کو تم نے اِنوائٹ کیا ہے؟سوہان میشا کو بازو سے پکڑے اُس کے اور فاحا کے مشترکہ کمرے میں لائے سنجیدگی سے سوال پوچھا”تو فاحا جو ابھی شاور لیے واشروم سے باہر نکلنے لگی تھی دوبارہ سے واشروم میں جانے لگی جب سوہان کی اُس پر نظر پڑگئ

“فاحا واپس آؤ۔۔ سوہان نے سنجیدگی سے اُس کو مُخاطب کیا

“یہ سارا اِس کا پلان کیا ہوا تھا۔۔۔میشا نے جھٹ سے کہا

“ہاں تو اِس میں بُرائی کیا ہے؟”فاحا کچھ غلط نہیں کرتی۔۔۔فاحا اپنے دفاع میں بولی

“ہمارے درمیان اُن کا کیا کام؟”میں نے پہلے بھی تم دونوں سے کہا تھا ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم دونوں سوچے ہوئے ہو۔۔۔میشا اور فاحا کو دیکھتی سوہان سخت لہجے میں بولی

“یہاں تم بلیو ہو اور وہاں وہ پھر بھی کہا جارہا ہے ہم غلط ہے واہ”یہ اچھا لوجک بنایا ہوا ہے۔۔میشا بھی زیادہ تر چُپ نہ رہ پائی

“مجھے لگ رہا ہے سرسری سیل فون پر بات ہوئی تھی جبھی باتوں ہی باتوں میں ایک دوسرے کو کلر بتایا ہوگا کپڑوں کا پھر ہوگیا ہوگا حسیں اتفاق۔۔۔فاحا اپنی مسکراہٹ ضبط کیے بولی

“تم دونوں زیادہ فضول گوئی نہ کرو۔۔”سوہان بلاوجہ خجل ہوئی اُس نے تو کپڑوں پر توجہ دی ہی نہ تھی”اور یہ تک بھول گئ کہ یہ ڈریس پہننے پر اُکسانے والی اُس کو”فاحا تھی

“ہم نہیں کہتے آپ جائے اور اپنے گیسٹ کو انٹرٹین کریں آپ کو تو اندازہ بھی نہیں زوریز دُرانی نے اپنی کتنی اہم میٹنگز کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں آپ کو برتھ ڈے وِش کرنے۔۔۔فاحا کا انداز خاصا چھیڑنے والا تھا

“اور تم نے وہ پھول کہاں کردیئے؟”اُس میں کوئی کارڈ وغیرہ تھا یا نہیں۔۔میشا متجسس بھرے انداز میں اُس سے سوال گو ہوئی

“سب کو جانے دو پھر میں اچھے سے تم دونوں سے نپٹ لوں گی۔۔۔سوہان اُن دونوں کو وارن کرتی کمرے سے باہر چلی گئ

“لگتا ہے زوریز دُرانی کی یاد ستانے لگی آپو سوہان کو۔۔۔فاحا نے تُکہ لگایا

“اُس کو چھوڑو تمہیں تو میں بعد میں دیکھتی ہوں۔۔۔میشا کو اپنی اور اُس کی لڑائی یاد آئی تو تنبیہہ کرتی نظروں سے دیکھ کر بولی

“افف توبہ ہے فاحا معصوم کو تنگ کیا ہوا ہے سب نے۔۔۔فاحا جھٹ سے میشا سے دور کھڑی ہوتی بولی

“کمرے کی کھڑکیاں بند کرو اور نیچے آجاؤ۔۔۔میشا نے کہا

“آپ کریں مجھے اپنے بالوں میں کنگی دینی ہیں ابھی۔۔۔۔فاحا اپنے بالوں کو تولیہ سے آزاد کرتی اُس سے بولی تو میشا منہ بناتی کھڑکیوں کے پاس آئی ابھی وہ کھڑکیوں کے پٹ بند کرنے لگی تھی جب اپنے گھر کے دروازے کے پاس آریان کو دیکھ کر اُس کے چودہ سے اٹھارہ طبق روشن ہوئے تھے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *