Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 36)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

تم بھی نہ ایک بات کو بس پکڑ لیتے ہو۔ ۔آریان سنبھل کر اُس کو گھور کر بولا

“تم اپنی حرکتوں پر بھی نظر ثانی کرو” یعنی تمہیں افسوس ہے کہ میشا نے تمہیں کھڑی کھڑی کیوں نہیں سُنائی۔۔زوریز کو جیسے یقین نہیں آیا تھا۔

“تمہیں نہیں پتا ورنہ مجھے تو میشو کے بنا تیس منٹ بھی آدھے گھنٹے برابر لگتا ہے خیر میں بھی یہ کس کو بتارہا ہوں جو فیلنگ لیس ہے۔ ۔۔کہنے کے بعد آریان نے سرجھٹکا تو زوریز بس اُس کو دیکھتا رہ گیا۔

“سیریسلی آریان تمہیں تیس منٹ آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔ ۔۔زوریز اُس کی پچکانی بات پر تاسف بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

“اور نہیں تو کیا اِس سے پہلے بات بڑھ جائے تم کچھ کرو میرے لیے۔ ۔آریان نے بڑی سنجیدگی سے کہا

میں کیا کروں؟ زوریز نے آئبرو اُپر کیے اُس سے پوچھا

“شادی سسٹم آن کرو بھئ اور کیا کرنا ہے تم نے۔ ۔آریان نے پتے کی بات بتائی

“مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔ ۔زوریز نے اُس کی بات کو اگنور کیے سنجیدگی سے کہا

“کہو؟ آریان بدمزہ ہوا

“میری کچھ میٹنگز ہیں جن کے سلسلے میں پاکستان سے باہر میں نہیں جاسکتا کیونکہ مجھ پر بہت بڑا کیس چل رہا ہے اور یہ سب اب تمہیں دیکھنی ہوگی تو تم اپنی تیاری پکڑو جانے کی۔۔زوریز کا انداز کافی بے لچک سا تھا۔

“جانے کو تو میں چلا جاؤں گا یہ کوئی بڑی بات نہیں میٹنگز کے بہانے میرا گھومنا پِھرنا بھی ہوجائے گا پر ایک بات پوچھنی تھی وہ یہ کہ کیا میٹنگز ضروری ہیں؟”اور کتنا عرصہ لگ سکتا ہے؟آریان نے کان کی لو کُھجاکر پوچھا

“ضروری ہے تبھی بول رہا ہوں یہاں سے جاتے ہوئے تمہاری بیک ٹو بیک چار میٹنگز ہوگی اور پروجیکٹ کے سلسلے میں تمہیں ڈیلرز سے بھی ملنا ہوگا اِن سب میں تمہیں ایک ماہ کا وقت لگ جائے گا۔ ۔زوریز کا انداز کافی پرسوچ تھا۔

“وہ تو سہی پر میرے جانے کے بعد میشا کا کیا ہوگا؟آریان کو میشا کی فکر لاحق ہوئی

وہی ہوگا جو تمہارے پہلے ہوتا تھا اِس لیے تم زیادہ بہانے مت بناؤ”ویسے بھی تمہارے بنا ساٹھ منٹس اُس کو گھنٹے برابر نہیں لگے گا۔ ۔۔زوریز نے اُس کو گھور کر کہا

“بی سیریس یار اور تم کتنے بے رحم ہو میرے جانے کے بعد تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔”لیکن میشا کو آدھا گھنٹہ تیس منٹ لگے گے۔۔۔آریان خود نان سیریس ہوتا زوریز کو سیریس ہونے کا بولنے لگا

“مجھے نہ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ سوہان اور تمہاری ایج سیم ہے مگر وہ لڑکی ہونے کے باوجود کتنی سمجھدار ہے”اُن کی شخصیت میں کیسا روعب اور وقار جھلکتا ہے اور ایک تم ہو جس کو فضول ایکٹویٹی سے فرصت نہیں”یعنی تم ایک چلتا پِھرتا جوکر ہو۔۔زوریز نے اُس کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی۔

“یاں ویسے سوچنے والی بات ہے ہماری ایج سیم ہے مگر اُس کے باوجود بھی تم اُس کو”آپ”آپ کہہ کر مُخاطب ہوتے ہو “اِتنی عزت دیتے ہو” اور مجھ سے توں تراں کرکے بات کرتے ہو۔۔آریان ترکی پہ ترکی بولا تھا۔

“آپ کہنے والی بات بھی خوب کہی تم نے”میں تم سے دو سال بڑا ہوں اور تم نے کبھی مجھے”آپ کہنے کی زحمت نہیں کی تو یہ کیسے سوچ لیا کہ میں یعنی زوریز دُرانی تمہیں آپ کہہ کر مُخاطب ہوگا۔۔زوریز نے طنز کہا

“آپ جناب والے تُکلف نہ غیروں میں ہوتے ہیں اور مجھے تو تم سے عشق ہے تبھی میں تمہیں آپ نہیں کہتا تم تو میری جان ہو۔۔آریان اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتا اُس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اُس کی آنکھوں میں شرارت صاف ناچ رہی تھی جو زوریز نہیں دیکھ پایا مگر جیسے ہی آریان اُس کے ماتھے پر جُھکنے لگا زوریز ایک جھٹکے سے اُس سے دور کھڑا ہوا تھا۔

“لاحول والاقوة”اِنتہا ہے تم کوئی بے شرم انسان ہو۔۔زوریز گھور کر اُس سے کہتا وہاں سے چلاگیا پیچھے آریان کا جاندار قہقہقہ گونج اُٹھا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

تم چُپ کیوں ہو فاحا”جواب دو؟سوہان نے اُس کو کچھ بھی بولتا نہ دیکھ کر پوچھنے لگی۔

آپو وہ

فاحا اِتنا کہتی چُپ ہوگئ اُس سے کچھ بولا نہیں جارہا تھا یا اپنی بات کے لیے الفاظوں کا چُناؤ کرنا اُس کے لیے مشکل ہورہا تھا زندگی میں پہلی بار اپنی بہنوں سے کوئی بات کرتے ہوئے اُس کو ہچکچاہٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ورنہ تو اُس کے دل میں جو بھی ہوتا تھا وہ بلاجھجھک بتادیتی تھی۔

“زبان اُس کو دے کر آئی ہو کیا؟ میشا نے طنز کیا

وہ دراصل اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ لوگوں سے کہوں کہ مجھے گاؤں رہنا ہے۔۔فاحا اپنے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتی بلآخر بولی تو وہ دونوں اپنی جگہ حیران رہ گئ تھیں

“وہ ہوتا کون ہے” تم سے ایسے بولنے والا اُس نے یہ جُرئت کر کیسے لی سمجھتا کیا ہے وہ خود کو؟ “کہیں کا کوئی چینگیز خان ہے” میرے سامنے آجائے وہ ایک بار پھر اُس اسیر بشیر کا ایسا حال کروں گی کہ ساری زندگی بھول نہیں پائے گا میں اُس کے جسم کی ساری ہڈیاں توڑ کر اپائج بنادوں گی۔۔میشا کا اِتنا سُننا تھا اور وہ بھڑک اُٹھی۔

“اگر ایسی بات ہے تو وہ میرے پاس یا میشو کے پاس کیوں نہیں آیا؟ “وہ تمہارے ساتھ اِتنا بے تُکلف کیوں ہورہا ہے؟ “اور تمہاری لوکیشن کا اُس کو کیسے پتا چلا؟ سوہان نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو فاحا سے کچھ بولا نہیں گیا۔”اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب وہ کریں تو کیا کریں؟

“ہاں واقعی اُس کو تمہاری GPS کا کیسے پتا چلا؟میشا نے بھی مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر سوال کیا

“اللہ پوچھے آپ سے جو میرے نازک کندھوں پر بندوق رکھ کر چلا رہے ہیں۔ ۔اپنی بہنوں کا انداز دیکھ کر فاحا دل ہی دل میں اسیر کو کوسنے لگی۔

“ویسے تو بہت بولتی ہو تم اب کیوں چُپ ہوگئ ہو مجھے جواب دو۔ سوہان نے سنجیدگی سے دوبارہ پوچھا اُس کے لہجے میں کوئی رائت نہیں تھی

“دراصل میں اُن کو پہلے سے جانتی تھی ایک شہر میں ہونے کی وجہ سے سامنا ہوجاتا تھا مگر وہ میرے کزن ہیں یہ تب پتا نہ تھا رہی بات لوکیشن کی تو آجکل کسی کی لوکیشن کا پتا کروانا کوئی بڑی بات نہیں۔ ۔فاحا نے رٹے رٹائے طوطے کی طرح سب کچھ بتایا

اوو تو اِتنا کچھ ہوگیا اور تم نے ہمیں بتانا گوارا تک نہیں کیا۔ ۔میشا کو جیسے یقین نہیں آیا

“ایسا ویسا بھی اب کچھ نہیں ہوا جیسا آپ کو لگ رہا ہے۔ ۔فاحا نے اُس کو دیکھ کر وضاحت دیتے کہا

“اور کیا کہا اُس نے تم سے؟ سوہان نے پوچھا

اور تو کچھ بھی نہیں کہا۔۔فاحا نے جلدی سے بتایا

“کچھ تو کہا ہوگا ہمیں بتاؤ۔سوہان نے پھر سے پوچھا

“اسیر بشیر کو میں چھوڑوں گی نہیں۔۔میشا کو بس ایک بات کی پڑی تھی۔

اُن کا نام بس اسیر ہے۔۔فاحا کو میشا کا ایسا کہنا اب بُرا لگ رہا تھا۔

“میں تو کہوں گی اور بس کہوں گی نہیں بلکہ کر کے بھی دیکھاؤں گی۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“آپ

چھوڑو میشو کو مجھے بتاؤ جو میں نے پوچھا ہے۔۔فاحا میشا سے کچھ کہنے والی تھی جب سوہان نے درمیان میں ٹوک کر کہا

“ہاں ہمیں سب کچھ بتاؤ کیونکہ اتفاق میں ہوئی مُلاقات سے کوئی کسی سے اِتنا بے تکلف نہیں ہوتا اور نہ ہمارے مراسم ایسے ہیں کہ وہ تمہیں اپنی کزن سمجھ کر اِتنا کچھ بول دے یا ملنے چلا آئے۔۔میشا نے اُس کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

“بتایا تو تھا ایسے ہی ہوگیا تھا سامنا اب کیا بتاؤ میں آپ کو؟فاحا نے بس سوہان کو دیکھ کر بتانے کے بعد پوچھا

“کیسی مُلاقات؟سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا

“ہاں کیسے سامنا ہوا تمہارا اُس کا جو وہ اِتنا بے تُکلف ہوگیا ہے تم سے”ہمیں تم کہتا ہے اور تم چوزی کو”آپ آپ کہتے ہوئے نہیں تھکتا۔۔میشا نے بھی مشکوک نظروں سے اُس کو گھور کر کہا تو فاحا نے خود کو بُری طرح سے پھنستا ہوا محسوس کیا

“ویسی ہی سرسری جیسی آپ کی اور زوریز دُرانی کی ہوئی تھی اور میشو آپو اور آریان دُرانی کی ہوئی تھی”ٹھیک ویسے میری اُن کے ساتھ ہوگئ”اِس میں کوئی بُرائی تو نہیں آپ دونوں کو بہتر پتا ہے اور کیونکہ مجھ سے پہلے ایسی سرسری مُلاقاتوں کا اِتفاق آپ دونوں کو ہوا ہے۔ ۔ فاحا نے کہا تو اُن دونوں کے پاس جیسے کوئی اور سوال نہیں بچا تھا۔”میشا اپنے کان کی لو کُھجاتی صوفے پر بیٹھ گئ تھی اندر جاگی تھانیدارنی اب جیسے پرسکون ہوکر سوگئ تھی اور سوہان بس اُس کو دیکھتی رہ گئ تھی جو اپنی جان خُلاصی کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔

“تم آئیندہ کے بعد اُس سے کوئی بات نہیں کروں گی وہ اگر تمہارے راستے میں آئے گا بھی تو تم اپنا راستہ بدل دو گی۔۔کچھ توقع بعد سوہان نے بے لچک آواز میں اُس سے کہا

“پر آپو مجھے گاؤں جانا ہے۔۔۔فاحا نے کہا تو سوہان نے میشا کو دیکھا تھا جس کو خود اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا۔

“بہت گھٹیا مذاق تھا۔۔میشا نے سرجھٹک کر کہا

“فاحا کوئی مذاق نہیں کرتی۔۔فاحا نے بُرا سا منہ بنائے کہا تھا

“فاحا کوئی مذاق نہیں کرتی یہی سال کا بہت بڑا مذاق ہے۔۔میشا نے بھگو کر طنز کیا تھا۔

“فاحا لُک ایٹ می اینڈ ٹیل می کہ کیا اسیر ملک نے تمہیں بلیک میل کیا ہے یا کوئی دباؤ ڈالا ہے؟سوہان اُس کے پاس بیٹھتی اِس بار بہت نرم لہجے میں پوچھنے لگی

“اُنہوں نے نہ مجھے بلیک میل کیا ہے اور نہ کسی چیز کا دباؤ ڈالا ہے میں خود جانا چاہتی ہوں امی نے اُن سے اپنا حق نہیں لیا مگر ہمیں اپنا حق لینا چاہیے۔۔”ویسے بھی وقت آگیا ہے وہ سب کرنے کا جو امی نے کہا تھا۔۔فاحا کا لہجہ آخر میں عجیب ہوگیا تھا۔”جس پر سوہان یا میشا کو اُس کی بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا تھا۔

“پہلیاں کیوں بُجھوا رہی ہو صاف صاف بات کرو کہنا کیا چاہتی ہو؟میشا زچ ہوئی

“امی نے کہا تھا فاحا تم اسنسسٹ کمشنر بننا مجھے تب اُن کی بات کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا تھا جب اُنہوں نے کہا تھا کہ باقی کام تمہیں وقت سمجھادے گا مگر اب آگیا ہے سمجھ۔۔فاحا نے سنجیدگی سے کہا

“ابھی نتیجہ نہیں آیا اور کیا گارنٹی ہے کہ تم نتیجے میں پاس ہوکر اسنسٹ کمشنر بنو گی۔۔”سارا دن تو تمہارا گھرداری میں اور انسٹی ٹیوٹ میں گُزرتا ہے ٹیسٹ کی تیاری کیا تم نے خاک کی ہوگی؟میشا اُس کی بات پر سرجھٹک کر بولی

“امی نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا تھا تو آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں اُن کی مانگ کو پورا نہیں کروں گی اور اُن کی خواہش کو خاک میں ملادوں گی۔”میں پاس ہوکر رہوں گی اور دیکھنا وہ سب ہوجائے گا۔۔”مگر جو بھی ہوجائے میں کبھی اُن کو(نوریز ملک کو) معاف نہیں کروں گی۔۔فاحا کا لہجہ سنجیدگی سے بھرپور تھا

“ٹھیک ہے اگر تم چاہتی ہو ہم گاؤں چلے تو ایسا ہی ہوگا۔۔سوہان نے اُس کی ساری بات سن کر مثبت جواب دیا تھا جس پر فاحا مسکرائی تھی

“یہ تو بچی ہے تم کیوں اِس کے ساتھ بچی بن رہی ہو ہم گاؤں نہیں جانے والے میری یہ بات سُن لو۔۔میشا نے سوہان کو گھور کر کہا تھا۔

“آپو یار مان جاؤ پھر ہم اُن کو اِتنا تنگ کرینگے کہ وہ پہلے کی طرح ہمیں پلٹ کر نہیں دیکھے گے۔۔فاحا نے اُس کو راضی کرنے کی کوشش کی

“ہم وہاں نہیں جائے گے اور خبردار جو دوبارہ کسی نے اِس بات کا ذکر چھیڑا بھی تو۔۔میشا سنجیدگی سے اُن کو وارن کرتی چلی گئ پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے کا چہرہ تکتی رہ گئیں تھیں

❤

تمہیں کیا ہوا ہے؟میشا سیدھا ساجدہ بیگم کے کمرے میں آتی کمرے کے گرد یہاں سے وہاں ٹہلنے میں لگی ہوئی تھی تبھی اُنہوں نے جاننا چاہا

“آپ اُن دونوں سے کہہ دے کہ میں ایسا ویسا کچھ نہیں کرنے والی۔۔میشا نے سنجیدگی سے ساجدہ بیگم کو دیکھ کر کہا

“ایسا ویسا کیا؟ ساجدہ بیگم ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

“اُن دونوں نے گاؤں جانے کا اِرادہ باندھ لیا ہے جو میں ہونے نہیں دوں گی”جانتی ہوں اُن دونوں کے برعکس میرا نقصان کم ہوا ہے اگر کسی نے زیادہ سفر کیا ہے تو وہ سوہان ہے جس نے کسی ماں کی طرح اپنی نیند حرام کرکے آٹھ سال کی عمر میں فاحا کا خیال رکھنے لگی “جو خود دھوپ میں کھڑی ہوتی ہم دونوں کو چھاء دیتی تھی”خود کو بھوکا رکھ کر ہمارا پیٹ پالتی تھی”سہی ہے مان لیا اِس میں کوئی شک نہیں اُس کے بعد فاحا کا نمبر آتا ہے جس نے باپ کا ہی نہیں بلکہ ماں کا پیار بھی کھویا تھا اُس کو ماں کا لمس میسر بھی تب ہوا جب وہ اپنی آخری سانسیں گِن رہی تھیں”میری ضروریات پوری کرنے کے لیے اور لاڈ اُٹھانے کے لیے ماں اور بہن دونوں تھیں””فاحا کے لاڈ سوہان نے اُٹھائے مگر سوہان کے لاڈ اُٹھانے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ امی کے رویے کی وجہ سے سوہان اُن سے دور ہوگئ تھی۔”تو کیسے ممکن ہے ہم یہ سب بھول کر اُس شخص کے پاس لوٹ جائے جس کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے۔میشا بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ اور ایسا بولی کہ اُس کا پورا سانس پُھول گیا تھا۔

“میشو سب سے پہلے تم پرسکون ہوجاؤ مجھے افسوس ہے کہ میں تم تینوں کے باپ سے نہیں مل پائی اگر ملتی تو اسلحان کی تڑپ اُس کو بتاتی”سوہان پر ہونے والے ظُلم کی داستان بتاتی فاحا کے آنسوؤ کا بتاتی لیکن خیر چھوڑوں اِن باتوں کو فاحا اور سوہان نے اگر جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنا اِرادہ باندھ لیا ہے تو ضرور اُن دونوں نے کچھ سوچا ہوگا”تم تینوں کے خیالات کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے اِس لیے تم بھی مان جاؤ اور اپنی یہ ضد چھوڑدو”دیکھ لینا پھر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ۔ساجدہ بیگم نے رسانیت سے اُس کو سمجھانے والے انداز میں کہا جو میشا کو ایک لحاظ سے سہی بھی لگا تھا۔

“ٹھیک ہے آپ کی بات مان بھی جاؤں تو بھی آپ کو چھوڑ کر ہم کیسے جاسکتے ہیں؟”یہاں آپ ہماری تنہائی دور کرنے آئی تھیں تو کیسے ممکن ہے کہ آپ کو تنہا چھوڑ کر ہم چلے جائے۔۔۔میشا کو اچانک اُن کا خیال آیا تو فکرمندی سے بولی

“آنٹی بھی ہمارے ساتھ آئے گیں۔۔سوہان کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوتی فاحا نے کہا

“ارے جھلی میں کیسے چل سکتی ہوں؟”وہ تم لوگوں کا گھر ہے میرا وہاں کیا کام؟ساجدہ بیگم اُن کی فکر پر مسکرائے بنا نہ رہ پائی

“آپ کو اکیلا چھوڑ کر ہم کیسے جاسکتے ہیں؟ “آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ ۔سوہان نے بھی سنجیدگی سے کہا

“سوہان بچے ضد نہیں کرو اور میں یہاں اکیلی کہاں ہوگی؟ “عاشر والے ہوگے نہ۔ ۔۔ساجدہ بیگم نے اُس کو ٹوک کر کہا

“مانا کہ بُوا والے بہت اچھے ہیں پر آپ ہماری ذمیداری ہیں آپ کو ہم اُن کے حوالے کیسے کرسکتے ہیں۔ ۔سوہان نے ایک بار ہھر کہا

“ہاں نہ اور مسئلہ کیا ہے جو آپ یوں انکار کررہی ہیں۔ میشا نے بھی پوچھا

“بات کو سمجھو وہاں میرا اپنا کوئی نہیں اِس لیے تم تینوں میری فکر سے آزاد ہوکر ہوجاؤ۔۔ساجدہ بیگم اپنی بات پر بضد تھیں جس پر سوہان نے گہری سانس بھر کر اُن کو دیکھا

“ٹھیک ہے میں چلوں گی تم لوگوں کے ساتھ پر اگر مجھے مزہ نہیں آیا تو میں واپس آجاؤں گی۔۔میشا نے پہلے سے ہی اُن کو بتادیا

“ابھی وہاں ہم گئے نہیں اور تم نے واپسی کا بھی بتادیا۔۔سوہان تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولی

ہاں نہ اور وہ کوئی زوں تھوڑئی ہے جہاں آپ کو مزہ کروانے کے لیے جانور موجود ہوگے۔ ۔فاحا نے بھی بُرا سا مُنہ بناکر کہا

“تم تو میرے مت لگو یہ ساری کارستانی تمہاری ہے۔ ۔میشا نے اُس کو گھور کر کہا جس پر وہ اپنا سا منہ لیکر رہ گئ۔

“تم سوہان بعد میں جانا کیونکہ تم اُن کے خلاف کیس لڑنے والی ہو۔ ۔ساجدہ بیگم نے سوہان سے کہا

“آپ کو لگتا ہے اگر میں وہاں ہوگی تو وہ مجھے باز رکھ سکتے ہیں؟ سوہاں اُن کی بات پر استہزائیہ مسکرائی

“کرنے کو وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں اُن پر کسی بھی چیز کا بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ ۔میشا نے جواباً کہا

“ہم کل بھی خودمختار تھے اور آج بھی خود مختار ہیں اور اِن شاءاللہ آنے والے کل میں بھی ہم خودمختار رہے گیں۔ ۔سوہان نے مضبوط لہجے میں کہا

“تو کیا کال پر میں اُن کو ہمارے آنے کا بتادوں؟فاحا نے پوچھا

“تمہارے پاس اُس اسیر بشیر کا نمبر بھی ہے؟ میشا نے شکی نظروں سے اُس کو دیکھا

“توبہ کریں میرے پاس اُن کا نمبر کہاں سے آئے گا؟ میں تو اُن کا بول رہی ہوں جن کے پاس جانے والے ہیں۔ ۔فاحا پہلے تو اُس کے سوال پر گڑبڑا گئ تھی مگر جلدی سنبھل کر بولی

“ہمارے پاس اُن کا کوئی نمبر نہیں ہے اگر وہ آئے گے تو سہی ہے ورنہ بس۔ ۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“جیسا آپ کہو۔ ۔۔فاحا نے کہا اور نیمی نیمی ہوتی کمرے سے چلی گئ۔ ۔

“ایک بار ہاتھ لگ جائے وہ اسیر بشیر پھر میں اُس کو چھوڑوں گی نہیں۔ ۔۔میشا کو ایک بار پھر دورا پڑا

“شرم کرو اچھے خاصے نام کا ستیاناس کردیا ہے تم نے۔ ۔سوہان نے خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جس پر میشا نے اپنا سرجھٹکا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

تم نے جو میرے لیے کیا ہے نہ اُس کا احسان میں تاعمر چُکا نہیں پاؤں گا۔۔نوریز ملک نے اسیر کو دیکھ کر مشکور لہجے میں کہا جو ابھی شہر سے گاؤں پہنچا تھا۔۔

“ہم نے جو آپ کے لیے کیا اُس سے زیادہ کی توقع آپ ہم سے مت کیجئے گا ہمیں جو کرنا تھا وہ ہم کرچُکے ہیں۔جواباً اسیر نے سنجیدگی سے کہا

“تم فکر نہیں کرو اب تمہارا کام ختم ہوگیا اور مجھے یقین ہے میں اگر اب اُن کو لینے جاؤں گا تو وہ اب انکار نہیں کرینگی۔۔نوریز ملک پُریقین لہجے میں بولے جس پر اسیر نے گہری سانس بھری تھی۔

“ہمیں آپ سے کچھ ڈسکس کرنا تھا۔۔اسیر نے اُن کو دیکھ کر کہا

“ہاں کہو کیا بات ہے؟نوریز ملک اُس کی طرف متوجہ ہوتے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگے۔

“ہمیں دیبا کی کال آئی تھی اُس کا نمبر آپ کو واٹس ایپ کرتا ہوں آپ اُس کو دیکھ لیجئے گا ہمیں کوئی انٹرسٹ نہیں کہ اُس سے بات کریں۔ ۔اسیر نے سنجیدگی سے بتایا

“دیبا نے تمہیں کیوں کال کی؟اور اِتنے سالوں بعد اُس کو تمہارا خیال کیسے آگیا؟ نوریز ملک حیرت زدہ ہوکر بولے

“اُس کی طلاق ہوگئ ہے اِس سے زیادہ ہمیں کچھ نہیں پتا۔ ۔۔”آپ سے جو کہا ہے اگر وہ آپ کرینگے تو سہی رہے گا۔۔اسیر نے سپاٹ لہجے میں کہا

کیا اُس کے بچے بھی ہیں؟نوریز ملک نے اگلا سوال کیا

“طلاقِ یافتہ ہے اکیلی بچے نہیں ہیں کوئی۔ ۔۔اسیر نے بتایا اور اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا

“کہاں جارہے ہو؟

اقدس کے پاس۔۔اسیر نے بتایا

“سارا دن تمہیں یاد کرتی رہتی ہے۔ ۔نوریز ملک نے مسکراتے ہوئے بتایا

“ہم باپ ہیں نہ اُس کے اِس لیے ہر وقت یاد کرتی ہے۔۔بتانے کے بعد اسیر کو وہاں کھڑا رہنا مُناسب نہیں لگا تھا تبھی چلاگیا۔

❤
❤
❤
❤

آج سوہان ایک بار پھر کورٹ آئی تھی کیونکہ آج زوریز کے کیس کی پہلی سُنوائی تھی اور آج بھی اُس کا اعتماد پہلی دفعہ کی طرح قابلِ دید تھا۔۔”کورٹ میں اُس کا سامنا سجاد ملک سے ضرور ہوا تھا جو خاصی ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھ رہے تھے”مگر سوہان پوری طرح سے اُن کو اگنور کرتی زوریز کے ہمراہ کمرہ عدالت میں داخل ہوئی تھی۔۔”زوریز کا کیس مضبوط تھا اور اُس کی تیاری بھی مگر نذیر ملک کے وکیل نے کچھ ثبوتوں کی بنا پر جج صاحب سے وقت مانگا تھا جو عدالت نے اُن کو دے بھی دیا تھا اب اگلی سُنوائی کچھ دِنوں بعد تھی” جس کو سُن کر سوہان اپنی جگہ پر بیٹھتی زوریز کو دیکھنے لگی جس نے نظروں ہی نظروں میں اُس کو پرسکون رہنے کا اِشارہ دیا تھا۔ ۔

“سوہان جب کمرہ عدالت سے باہر آئی تو سجاد ملک اپنے آدمیوں کے ساتھ اُس کے راستے میں حائل ہوئے تھے جس پر سوہان نے ایک اچٹنی نظر اُن پر ڈالی تھی جو خاصے تپے ہوئے معلوم ہورہے تھے۔

“تو تم ہو سوہان جو بے شرمی کی جدود کو چھوتی اپنے کزن کے خلاف جاکر کھڑی ہوئی ہے وہ بھی ایک غیر مرد کی وجہ سے۔ ۔سجاد ملک جو غُصیلے انداز میں اُس سے مُخاطب ہوئے تھے”پھر نظر جب براؤن تھری پیس میں ملبوس اپنے سیل فون پر مصروف ہر چیز سے لاتعلق زوریز پر پڑی تو مزید بپھرے ہوتے اُس سے بولے

“مسٹر سجاد ملک کون میرا کزن ہے اور کون غیر مرد یہ بات آپ کو مجھے بتانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ ۔سوہان اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی جو سجاد ملک کو آگ لگانے کے لیے کافی تھا۔

“تم کل آئی

“آپ کا کوئی حق نہیں کہ آپ میری وکیل سے اِس طرح سے بات کریں۔۔سجاد ملک کچھ سخت کہنے والے تھے جب اپنا سیل فون جیب میں ڈالے زوریز سوہان کے برابر کھڑا ہوتا سرد لہجے میں اُن سے گویا ہوا تھا اُس کی نظر سجاد ملک پر تھی جو اب سوہان کی سائیڈ پر کھڑے ہوئے تھے اور یہی وجہ تھی جو زوریز سوہان کے ماتھے پر ہوتا گول دائرے کی صورت میں بنا نشان نہیں دیکھ پایا تھا جو کورٹ کے باہر کھڑے کسی نے بنایا تھا”مگر جب سجاد ملک کی نظر سوہان پر گئ تو اُن کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا تھا جو زوریز کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ پائی تھی تبھی اُس نے اُن کی نظروں کے تعاقب میں سوہان کو دیکھا تو اُس کو ایسے لگا جیسے کسی نے اُس کا دل مٹھی میں جکڑلیا ہو۔۔”دل پوری قوت سے دھڑکا تھا ایسے جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔ ۔

“سوہان۔

“زوریز کسی دیوار کی مانند اُس کے آگے کھڑا ہوتا اُس کو سائیڈ پر کرنے والا تھا جب اپنی پیٹھ پر اُس کو گرم لوہے جیسی چیز چُھبتی محسوس ہوئی تو وہ لب بھینچ کر سوہان کو دیکھنے لگا جو ناسمجھنے والے انداز میں اُس کو اپنے اِتنے پاس دیکھ رہی تھی وہ جان نہیں پائی تھی کہ یہ اچانک زوریز کو کیا ہوگیا تھا جو ایسی حرکت کرگیا تھا۔ ۔

“زوریز۔۔سوہان نے اُس کو پُکارا جواب میں زوریز نیچے بیٹھتا چلاگیا تھا اور اُس کو تھامنے کی نیت سے سوہان نے جیسے ہی اپنا ہاتھ اُس کی پیٹھ پر رکھا تو کچھ غیرمعمولی پن سا اُس کو محسوس ہوا تبھی دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اپنا ہاتھ دیکھنے لگی جو خون میں نہایا ہوا تھا یہ دیکھ کر وہ ششد سی زوریز کو دیکھنے لگی جس نے اُس کے حصے کی گولی خود کھالی تھی۔

“زوریز۔سوہان نے منہ سے چیخ نکلی تھی” سجاد ملک بھی ہڑبڑاکر اپنے ساتھیوں کو دیکھنے لگے”گولی کی آواز نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو زیادہ پتا نہیں لگا تھا مگر سوہان کی چیخ نے آس پاس کھڑے لوگوں کو اُن دونوں کی طرف متوجہ کیا تھا۔ ۔

“زوریز۔ ۔۔سوہان کا پورا چہرہ وحشت کے مارے لٹھے مانند سفید ہوگیا تھا وہ اُس کے ساتھ نیچے بیٹھتی زوریز کا سر اپنی گود میں رکھا تھا جبکہ اُس کا ایک ہاتھ زوریز کے گال پہ تھا

“ہششش ڈو نٹ۔ ۔کرائے۔ ۔اپنی تکلیف سے ہوتی بند آنکھوں کو بامشکل کھولے زوریز نے اُس کو رونے سے باز رکھا تھا”اِتنی تکلیف میں بھی اُس کو اگر کسی کی پرواہ تھی تو سوہان کے آنسوؤں کی تھی اپنے جسم سے بہتے خون کی نہیں”لیکن زوریز کا اِتنا کہنا تھا اور سوہان کی آنکھ سے ایک باغی آنسوؤ بہہ کر زوریز کے ادھ کُھلے ہونٹوں پر گِرا تھا جس کو زوریز نے پھر پی لیا تھا۔۔زوریز کو ہوش وحواسوں سے بیگانہ دیکھ کر سوہان کو جانے کیا ہوگیا تھا جو اُس نے نیچے جُھک کر اپنا ماتھا زوریز کے ماتھے سے ٹکرایا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *