Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 03)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

امی۔۔۔۔۔

انور کو کچھ بھی کہنے کے بجائے سوہان نے زور شور سے اسلحان کو آواز دی تھی”جس سے اسلحان نے اپنا سر گاڑی کی کھڑکی سے باہر نکال کر اُس کو دیکھا اِس درمیان انور نے سوہان کا بازو چھوڑدیا تھا۔۔

کیا ہوا؟اسلحان نے اُس کی فق ہوتی رِنگت دیکھی تو بے اختیار اُس کا ماتھا چھوا اُس کو اب احساس ہوا تھا کہ کل سے اپنی بہنوں کا پیٹ بھرنے والی سوہان کا اپنا پیٹ خالی تو تھا اب تک اُس نے شاید ہی پانی کا ایک گھونٹ بھی پیا ہو۔۔۔

مجھے آپ کے ساتھ بیٹھنا ہے۔۔۔سوہان اُس کا ہاتھ پکڑ کر بولی

ہاں تو آجاؤ میں نے کب منع کیا ہے”تمہیں میرے ساتھ ہی بیٹھنا ہے اور کس کے پاس جاؤ گی۔۔۔اسلحان سرجھٹک کر اُس کی بات سن کر بولی

بھابھی جی چھوٹی سی ٹیکسی ہے آگے میرے ساتھ بیٹھ جائے گی۔۔۔۔۔انور نے مُداخلت کی

ڈرائیور بھی تو ہے ایسے میں یہ کہاں بیٹھے گی؟اِس بار ساجدہ نے کہا

جی بھائی صاحب سوہان چھوٹی تو ہے نہیں جو آپ کی گود میں بیٹھے گی”آجاؤ سوہان میرے پاس۔۔اسلحان بھی اُس کو جواب دیتی سوہان کو اپنے پاس آنے کا کہا تو وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئ۔۔۔۔

یہ اِتنی پیلی کیوں ہے؟کافی کمزور ہیں تمہاری بیٹیاں۔۔۔۔ساجدہ میشا اور سوہان کو دیکھتی اسلحان سے بولی

ٹھیک ہوجائے گی بس مجھے کوئی جاب مل جائے۔۔۔اسلحان تھکی ہوئی سانس خارج کرتی ہوئی بولی

خیریت تو ہے نہ تمہارا شوہر کہاں ہے؟”پسند کی شادی کی تھی نہ تم نے؟”ساجدہ اُس کو دیکھ کر بولی

اُس کی سزا ملی ہے جو اپنی جان چِھڑکنے والے بھائی کا گھر چھوڑ کر رات کی تاریخی میں اُس کے گھر کی چوکھٹ پار کی تھی تو اب جس کے لیے کی تھی اُس نے اپنی چوکھٹ سے مجھے زلیل کرکے باہر نکالا ہے۔۔اسلحان نم لہجے میں کہتی ساری بات اُس کو بتاتی گئ جس کو سن کر ساجدہ کو افسوس اور دُکھ ہوا آخر کو کیوں نہ ہوتا “اسکول اور کالج میں ایک ساتھ بہت وقت گُزارا تھا دونوں نے آپس میں۔۔۔۔

“نوریز بھائی نے تو بہت غلط کیا تمہارے ساتھ”کتنے ناشکرے لوگ ہیں دُنیا میں اور ایک میں ہوں جو چاہتی ہے بیٹی یا بیٹا دونوں میں سے کوئی ایک نعمت اللہ مجھے عطا کردے۔۔۔۔ساجدہ نے اُس کی بات سن کر افسوس کا اِظہار کیا

تو کیا؟”اسلحان اِتنا کہتی کہتی چُپ ہوگئ

ہاں بارہ سال ہوگئے ہیں ہماری شادی کو مگر ابھی تک بچے کے کوئی آثار نہیں جبکہ رپورٹس ساری کلیئر آتیں ہیں۔۔۔۔ساجدہ نے بتایا

سن کر افسوس ہوا۔۔۔۔اسلحان بس یہی بول پائی

تم بتاو تمہارے اب کیا اِرادے کیا ہیں؟”ساجدہ نے اُس سے پوچھا

کہی ملازمت تلاش کرکے اِن کا اور اپنا پیٹ بھروں گی۔۔۔اسلحان نے بتایا

نوریز سے حق مہر نہیں لیا تم نے؟”اگر وہ تمہیں طلاق دے چُکا ہے تو تمہیں اُس سے حق مہر لینا چاہیے تھا اپنے لیے نہیں تو اِن بچیوں کے لیے میری مانو اُس پر کیس کرو تاکہ ہر ماہ تمہیں اِن تینوں بچیوں کا خرچہ دے اور تم نے عدت میں بھی تو بیٹھنا ہے تب تک کیا کرو گی؟ساجدہ نے کہا تو اسلحان نے پریشانی سے اُس کو دیکھا

عدت؟اسلحان بس ایک لفظ پر چونک گئ تھی

تم نے بتایا نہ بچی کی پیدائش کے چند روز بعد اُس نے طلاق کے کاغذات بھیجے تھے تو ظاہر سی بات ہے تمہیں عدت میں ہونا چاہیے اور تم ہو کہ تین بچیوں کو لیکر ماری ماری سڑکیں گھوم رہی ہو۔۔۔۔ساجدہ نے اُس کو دیکھ کر کہا

عدت کا خیال میرے دماغ میں نہیں آیا تھا تم نے تو ایک اور مشکل میں ڈال دیا خیر میں آپریشن کے دن ہوسپٹلائیز تھی کچے ٹانکے تھے تو میں کہاں جاتی؟”جبھی سویرا سے کہا تھا کہ ابھی مجھے ہوسپٹل سے جانے کا نہ بولے مگر اب ٹانکے کُھل گئے تو باہر تو کل سے ہوں۔۔۔۔اسلحان نے سرجھٹک کر بتایا

تم پریشان نہ ہو میرے گھر میں میرے ساتھ رہ سکتی ہو”یہاں نہیں ہے ہمارا گھر کراچی میں ہے ہم ٹیکسی بدلنے کے بعد وہی جائینگے “تم آرام سے اپنی عدت کے دن وہاں گُزارنا اور بچیوں کی طرف سے بے فکر رہنا میں اُن کو سنبھالوں گی”اچھا ہے میرے گھر میں رونق لگ جائےگی اِن کی بدولت۔۔۔ساجدہ نے مسکراکر کہا

تمہارے شوہر کو مسئلہ نہیں ہوگا کوئی؟اسلحان کو ساجدہ اِس وقت کوئی فرشتہ لگی تھی مگر اُس کے شوہر کا سوچ کر پریشان ہوئی

انور کو میں سمجھادوں گی۔۔۔ساجدہ نے کہا

میں یہاں آؤں گی لوٹ کر کیا پتا بھائی آجائے اور مجھے معاف کردے آخر کو اکلوتی بہن ہوں میں اُس کی۔۔۔اسلحان نے کہا

پھر تو اچھا ہوجائے گا۔۔۔۔ساجدہ اُس کی بات کے جواب میں بولی تھی۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آریان کے اسکول سے اُس کا نام خارج آپ نے کروایا”میری کلاس ٹیچر نے بھی کہا کہ میں اسکول نہ آؤں؟زوریز کمال کے پاس آتا اُس سے استفسار ہوا

ہاں مہنگا اسکول ہے ہم افورڈ نہیں کرسکتے مہنگائی کا زمانہ ہے۔۔۔کمال صاحب سرجھٹک کر بولے

مگر ہمیں پڑھنا تو ہے نہ۔۔۔زوریز احتجاجاً بولا

پاس ہی ایک سرکاری اسکول ہے وہاں پڑھنے جاسکتے ہو اپنے بھائی کو لیئے مگر ہم سے بھئ کوئی ایسی امیدیں نہ لگاؤ اپنا ہی پیٹ بڑی مشکل سے پل رہے ہیں۔ ۔۔۔کمال صاحب نے کہا تو زوریز سمجھ نہیں پایا اُن سے کیا کہے

ہماری نانو سے یا پھوپھو سے بات کروائے اور اسکول میں ہمارا نام دوبارہ سے درج کروائے فیس وغیرہ پھوپھو یا نانو میں سے کوئی کردے گا۔۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر کہا

پھوپھو؟کمال صاحب نے اُس کو گھورا

غالباً ہماری ایک پھوپھو ہے۔۔۔۔زوریز کا لہجہ خودبخود طنز ہوگیا تھا

آپا کے بیٹے کی طبعیت بہت خراب ہے ہوسپٹلائیز ہے دوسرا وہ تم سے بات نہیں چاہے گی۔۔۔۔کمال صاحب نے ٹالا

نانو سے بات کروائے۔۔۔۔زوریز نے دوسرا آپشن سامنے رکھا

کون نانو وہ نانو جو اپنی بیٹی کے مرنے پر ایک بار بھی نہیں آئی۔۔۔۔؟کمال نے استہزائیہ انداز میں اُس سے کہا

ہوسکتا ہے موم کی ڈیٹھ کی خبر آپ میں سے کسی نے پہنچائی ہی نہ ہو۔۔۔۔”زوریز کے لہجے میں کوئی تاثر نہ تھا۔۔۔

اچھا تو مان لیا تمہاری پیاری نانو تک ہم نے خبر نہ پہنچائی ہو مگر بیٹا جی ایک ماہ ہونے والا ہے”تمہاری نانو کو کال کا خیال نہیں آیا”یہ نہیں سوچا کہ بھابھی کا سیل آف کیوں ہے؟کمال صاحب نے کہا تو زوریز کو چُپ لگ گئ تھی یعنی طے پایا گیا تھا کہ اُن کو اب اپنے چچاؤں کے اِشاروں پر چلنا تھا

“کھانا پکتا ہے یہاں بچتا بھی ہے مگر مجھے یا آریان کو بھی نہیں ملتا کیا یہ بھی مہنگائی کی وجہ سے؟زوریز نے سنجیدگی سے پوچھا

ہاں بلکل کیوں؟کمال صاحب زچ ہوئے

نہیں وہ بس میں سوچ رہا تھا کہ موم ڈیڈ کی ڈیتھ کے بعد مہنگائی کچھ زیادہ ہوگئ ہے۔۔۔۔زوریز نے کہا تو کمال صاحب اپنی جگہ پہلو بدلتے رہ گئے تھے

ہاں بڑھ گئ ہے اور مزید بڑھ سکتی ہے اِس لیے تم خود کماؤ۔۔۔۔کمال صاحب نے جان چُھڑانے والے انداز میں کہا پر اُن کے الفاظ” خود کماؤ” نے زوریز کو ایک نئ راہ دیکھائی تھی۔”جس پر اب اُس کو بس عمل کرنا تھا

❤
❤
❤
❤
❤
❤

اسلحان کو اپنی بچیوں سمیت ساجدہ کے گھر رہے ایک ہفتے سے زیادہ دن ہوگئے تھے”جہاں وہ اپنی عدت پوری کررہی تھی اور وہاں میشا تو بہت خوش تھی پر سوہان کو جہاں فاحا کی ٹینش ہوتی تھی وہ تم کم ہوگئ تھی مگر انور سے اُس کو ڈر لگتا تھا مسلسل خود پر جمی اُس کی نظریں اور بار بار اُس کا ہاتھ لگانا اُس کو گھبراہٹ میں مبتلا رکھتا تھا جس وجہ سے ڈر کے مارے ساری ساری رات اُس کو نیند نہیں آیا کرتی تھی اُس نے بہت بار اسلحان کو بتانا چاہا تھا مگر خود میں ہمت مجتمع نہیں کرپارہی تھی۔۔۔۔”ساجدہ کا گھر بھی کوئی بڑا نہیں تھا وہ خود ایک سفید پوش گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اُن کے چھوٹے سے گھر میں جہاں اُن میاں بیوں کے علاوہ کوئی نہیں رہتا تھا اب اضافی چار لوگوں کی وجہ سے اُن کے چھوٹے سے مکان میں ہلچل مچی رہتی تھی جس سے ساجدہ خوش ہوا کرتیں تھی جبکہ اسلحان کا قیام محض چار دیواروں کے کمرے تک محدود رہتا تھا”فاحا کا جہاں کچھ پہلے سوہان کرتی تھی اب تھوڑی بہت مدد ساجدہ بھی کروالیا کرتی تھی اور جب سوہان کی زبانی اُس کو یہ پتا لگا کہ اسلحان نے ایک بار بھی فاحا کو اپنا دودہ نہیں دیا تو یہ جان کر ساجدہ کو کافی حیرت ہوئی تھی اُس نے اِس متعلق اُس سے بات کرنا چاہی تھی مگر اسلحان کچھ بھی سُننے کے حق میں نہ تھی۔۔۔۔

“سوہان بیٹے یہ دیکھو میں نے تمہارے لیے نیا سوٹ بنایا ہے پہن کر آؤ تاکہ ناپ کا پتا چلے۔۔۔۔ساجدہ قالین پر کپڑے سِلنے والی مشین لیئے بیٹھی سلائی کرنے میں مصروف تھی جب اُس نے سوہان کو آتا دیکھا تو مسکراکر اپنے پاس آنے کا کہا تو وہ بھاگ کر اُس کے پاس آئی

دیکھائے۔۔۔سوہان خوش ہوئی

یہ دیکھو پیارا ہے نہ؟ساجدہ نے ایک گلابی کلر کی قمیض اُس کے سامنے رکھی

ہاں بہت پیارا ہے آپ کا شکریہ مگر یہ سلیولیس کیوں ہے؟سوہان نے ہچکچاہٹ سے کہا تو ساجدہ نے چونک کر قمیض کو دیکھا پھر مسکرائی

گرمیاں ہے نہ اور تم بچی کو جبھی” رات میں اکثر پنکھا بھی تو بند ہوجاتا ہے نہ۔۔۔۔ساجدہ نے وجہ بتائی تو سوہان نے سراثبات میں ہلایا

میشو کہاں ہے؟سوہان کو”میشا نظر نہیں آئی تو پوچھا

صحن میں ہوگی۔۔۔۔ساجدہ نے مصروف انداز میں بتایا تو سوہان نے اپنا رُخ صحن کی جانب کیا تو سامنے والا منظر دیکھ کر خوف سے اُس کا رنگ فق ہونے لگا تھا کیونکہ سامنے پانچ سالہ میشا انور کی گود میں تھی۔۔۔

میشو

میری بہن کو نیچے اُتارے آپ۔۔۔سوہان بھاگ کر وہاں آئی

کیوں؟انور نے خباثت سے اُس کو دیکھا

کیونکہ میں بول رہی ہوں۔۔۔سوہان کا سانس پورا پُھولا ہوا تھا”اُس کو یہ شخص پسند نہیں ہوتا

میشو بیٹا آپ بھی یہ چاہتی ہو؟”انور میشا کا گال چوم کر اُس سے پوچھنے لگا

یخخخ نیچے اُتالے(اُتارے) آپ۔۔۔اپنے گال کو رگڑتی میشا نے ہزار منہ کے زاویئے بنائے تھے

میری بہن سے دور رہے۔۔۔۔سوہان غُصے سے اُس کو دیکھ کر کہتی میشا کو لیئے گھر کے اندرونی حصے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔

“دوبارہ انکل سے دور رہنا۔۔۔۔سوہان نے میشا کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

اوتے۔۔۔میشا نے فرمانبردای کا مُظاہرہ کیا

تم فاحا کے پاس رُکو میں تب تک آتی ہوں۔۔۔۔۔سوہان میشا سے کہتی خود ایک چھوٹے کمرے میں آئی جہاں اسلحان بیٹھی ہوئی تھی

امی۔۔۔۔سوہان اُس کے برابر بیٹھی

ہمممم۔۔۔اسلحان نے اُس کو دیکھا

مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔۔سوہان نے روہانسی ہوکر کہا

یہاں نہیں رہنا تو کہاں رہنا ہے؟”کونسے وسائل ہیں میرے جو میں تم سب کو لیکر گھوموں۔۔۔۔اسلحان کو اُس کی بات سن کر تاؤ آیا

آپ بدتمیزی سے بات کیوں کرتیں؟سوہان کو تکلیف ہوئی

کیونکہ تم تینوں کی وجہ سے میرے ماتھے پر طلاق کا لیبل لگا ہے اور اب اُٹھو جاؤ میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں کوئی۔۔۔۔۔اسلحان نے سختی سے اُس کو جھڑک دیا

امی ساجدہ آنٹی کے شوہر مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں”اور بار بار ہاتھ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔سوہان نے بلآخر وجہ بتائی یہ سوچ کر کہ شاید اب اسلحان اُس کی بات سمجھ جائے

شرم کرو سوہان اور اپنی عمر دیکھ کر باتیں بناؤ وہ دونوں میاں بیوی ہمارے مسیحا ثابت ہوئے ہیں اور تم ایسی باتیں کررہی ہو تمہارے باپ نے جو کیا ہے اگر ساجدہ سے ٹکراؤ نہ ہوا ہوتا تو ہماری لاشیں اِس وقت دربدر ہوتیں۔۔۔اسلحان نے اُس کو ٹھیک ٹھاک سُنایا

آپ کو یقین کیوں نہیں آرہا وہ بار بار مجھے تنگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔سوہان کو دُکھ ہوا

پیار کرتا ہے کیونکہ بے چارے کے پاس کوئی اولاد نہیں۔۔۔اسلحان نے اُس کی باتوں پر دھیان نہیں دیا

ایسا پیار ڈیڈ نے تو کبھی نہیں کیا اور نہ ایسی نظروں سے کبھی دیکھا مجھے ڈر لگتا ہے امی پلیز میری بات سمجھے۔۔۔سوہان رونے کے در پر تھی

تمہارے باپ نے کبھی پیار کیا کب؟”وہ تو بس بیٹے کا خواہشمند تھا۔۔۔۔۔اسلحان تلخ انداز میں بولی اور پھر آٹھ سالہ سوہان میں اِتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ اپنی ماں کو بات سمجھائے جس کو وہ خود ٹھیک سے سمجھ نہیں پائی تھی”اُس کو نہیں تھا انور کیوں اُس کو بُرا لگتا ہے کیوں اُس کی مسکراہٹ سے وہ خوفزدہ ہوجایا کرتیں تھی۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کیا آپ لوگ مجھے یہاں رکھ سکتے ہیں کام پر؟زوریز ایک اسٹور پر آتا آدمی سے پوچھنے لگا تو وہ جو حساب کتاب کرنے میں بزی تھا سراُٹھاکر زوریر کو دیکھا

نام کیا ہے تمہارا؟وہ آدمی جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

زوریز وجدان دُرانی۔۔۔زوریز نے اُس کو اپنا پورا نام بتایا

اوو تو تم بزنس مین کے بیٹے ہو دیکھو بھئ مجھے بہت سارا کام ہے تو یہ بچہ لوگ مذاق کسی اور سے جاکر کرو۔۔۔۔وہ آدمی “پورے نام پر سمجھ گیا جبھی سرجھٹک کر بولا

میں مذاق نہیں کررہا سیریس ہوں مجھے سچ میں نوکری چاہیے۔۔”میرے ڈیڈ کی وفات ہوگئ ہے۔۔۔زوریز نے اپنی بات کا یقین کروانا چاہا

تمہارا پورا خاندان امیر وکیبر ہے تو بتاؤ زرا یہاں تمہیں نوکری کیوں چاہیے؟”چھوٹا سا تو اسٹور ہے میرا۔۔۔وہ آدمی پوری طرح سے اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا

کیونکہ میں اور میرا بھائی مفلسی کا شکار ہیں۔۔”اگر آپ نوکری دینگے تو مہربانی ہوگی۔۔زوریز نے بتایا “کسی سے غیرضروری بات نہ کرنے والا زوریز دُرانی آج ایک معمولی سی نوکری کے لیے لوگوں کے سامنے منت سماجت کررہا تھا جس کا اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔

یہاں تمہارے لائق کوئی کام نہیں تو کہی اور جاؤ۔۔۔آدمی نے باقاعدہ اُس کے آگے ہاتھ جوڑے تو زوریز اُس کے اسٹور سے باہر نکلتا دوسرے پھر تیسرے اسٹور کی طرف گیا مگر ہر کوئی اُس کا پورا نام سن لینے کے بعد نوکری دینے کو تیار نہ تھا اب جب شام ہونے والی تھی تو زوریز کی نظریں مزدوروں پر گئ کچھ سوچ کر زوریز وہاں آیا

السلام علیکم ۔۔۔۔۔زوریز نے فون پر باتے کرتے پچاس سالہ ایک آدمی کو مُخاطب کیا

وعلیکم السلام بیٹا جی آپ کو نظر نہیں آرہا یہ بچوں کا آنا منع ہے کام چل رہا ہے بلڈنگ کا۔۔۔وہ شخص فون رکھتا زوریز کو دیکھ کر بولا

کیا میں بھی کام کرواسکتا ہوں؟”مجھے نوکری کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔زوریز نے بس اِتنا کہا

تمہیں کام چاہیے نام کیا ہے تمہارا؟وہ شخص کافی تعجب بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

زوریز۔۔۔۔۔۔زوریز نے مختصر بتایا

پورا نام بتاؤ۔۔۔اُس نے ٹوکا

یہی نام ہے۔۔۔۔زوریز نے کہا اُس کو سمجھ آگیا تھا”باپ کا نام تو بڑا تھا مگر اِس نام سے اُس کو کبھی نوکری نہیں مل سکتی جبھی اپنے نام سے اُس نے آج اپنے باپ کا نام ہٹالیا

باپ کا نام یا ذات تو ہوگی نہ کوئی۔۔۔اُس نے پھر سے پوچھا

زوریز دُرانی اب بتائے کیا کام دے سکتے ہیں مجھے؟زوریز نے پوچھا

عمر کیا ہے تمہاری؟اگلا سال

دس سال اور سات ماہ۔۔۔زوریز نے بتایا

ہمممم ہاتھ دِکھانا زرا۔۔۔۔اُس شخص نے زوریز کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے

اِن ہاتھوں میں ابھی قلم اچھا لگے گا۔۔”تمہاری عمر ابھی یہ نہیں کہ تم اینٹیں اُٹھاؤ۔۔۔۔وہ ہلکی مسکراہٹ سے بولا تو زوریز کے چہرے پر عجیب تاثرات نمایاں ہوئے

میرے ہاتھوں میں سکت پیدا ہوجائے گی آپ بس کام بتائے”اینٹیں اُٹھانی ہے یا ریت کی بوریاں؟زوریز کے انداز میں کوئی لچک نہیں تھی

یہاں کام بس ایک ماہ تک چلے گا اور تمہاری عمر کے لحاظ سے میں تمہیں پے کروں گا۔۔۔۔وہ کچھ سوچ کر بولا

منظور ہے مجھے بس اپنے بھائی کو وقت پر روٹی دینے جتنے پیسے چاہیے۔۔۔۔زوریز نے کہا

ٹھیک ہے تو لگ جاؤ کام پر۔۔۔۔”اگر اپنے خوبصورت نازک ہاتھ تمہیں پسند نہیں تو مجھے کیا مسئلہ ہونا ہے۔۔۔۔وہ شانے اُچکاکر بولا مگر زوریز نے اُس کی بات پر کوئی خاص ری ایکٹ نہیں کیا بس کہنیاں فولڈ کرنے لگا

ظاہری طور پر تو اچھے گھرانے سے لگ رہے ہو پر کس چیز نے تمہیں ٹُھوکرے کھانے پر مجبور کیا ہے؟وہ پوچھے بغیر نہ رہ پایا تو زوریز کی شخصیت نے اُس کو تجسس میں مبتلا کردیا تھا

چھوٹے بھائی کے آنسوؤ نے”اُس کی معمولی سی خُواہشات نے جو میں چاہ کر پوری نہیں کرسکتا میرا دل دُکھتا ہے جو وہ دوسروں کے بچوں کی چیزوں کو حسرت سے دیکھتا ہے۔۔۔۔زوریز نے کہا تو وہ لاجواب سا اُس کو دیکھنے لگا جس نے اپنی عمر سے زیادہ بڑی باتیں عام انداز میں بیان کی تھیں۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

یہ میرے سارے کھلونے تم لوگوں کے پاس کیسے آئے؟آریان اپنے ہم عمر کزن اسد اور فراز کو گھور کر پوچھنے لگا جن کے پاس اُس کی ہر چیز موجود تھی

تمہارے نہیں اب یہ میرے ہیں۔۔۔۔اسد نے جواباً اُس کو گھورا

میری شرٹ اُتارو تم یہ میری شرٹ ہے۔۔۔آریان نے اب غور کیا تو اُس کو پتا لگا کہ اسد نے جو شرٹ پہنی ہے اُس کی ہے۔۔

کیوں اُتاروں یہ میری ہے امی نے مجھے دی ہے۔۔۔”اسد اُس کو دھکا دے کر بولا تو وہ نیچے گِرگیا

تیری تو میں۔۔۔۔آریان غُصے سے اُس کو دیکھتا زور سے شرٹ کھینچنے لگا تو اسد نے رونا مچادیا تھا مگر آریان بنا اُس کے رونے کی پرواہ کیے جتنا ہورہا تھا اُس کو مار رہا تھا جبھی اسد کی ماں مصرت اُس کے رونے کی آواز سن کر باہر آئی تو دونوں کو لڑتا دیکھ کر فورن سے آریان کو اسد سے دور کیا تھا

دور ہٹو تم جاہل۔۔۔۔۔مصرت آریان کو غُصے سے دیکھ کر بولی جس نے پل بھر میں اسد کا حشر نشر کردیا تھا

میرے کپڑے اگر یہ دوبارہ پہنے گا تو میں نے وہ حال کرنا ہے اِس کا کہ پوری دُنیا دیکھے گی۔۔۔اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرکے آریان بھی جواباً غُصے سے بولا

باپ چھو

باپ پر جانے کی ضرورت نہیں اور میں زوریز نہیں آریان ہوں اور اپنی چیزوں کو دوسروں کے پاس دیکھ کر آریان چُپ نہیں رہتا۔۔۔۔مصرت کچھ کہنے والی تھی جب آریان اُس کی بات کاٹ کر بولا

توبہ توبہ یہ چھٹانگ بھر کا لڑکا ہے مگر زبان دیکھو زرا۔۔۔۔نصرت بھی مصرت کے پاس آتی آریان کو گھور کر بولی

یہ دیکھو آہ آہ۔۔۔۔۔آریان نصرت کی بات پر اپنی پوری زبان باہر نکال کر اندر کی طرف بھاگا تھا جبکہ وہ دونوں حق دق اُس کی پشت کو گھورنے لگیں تھیں

آپا یہ زوریز کی طرح سُلجھا ہوا نہیں اِس کے بل کس کے رکھنے ہوگے۔۔۔۔مصرت نصرت کو دیکھ کر بولی

کیا ہوگیا اب تم آٹھ سال کے بچے سے ڈرو گی کچھ خدا کا خوف کرو۔۔۔۔مصرت کی بات سن کر نصرت نے خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو وہ چُپ ہوگئ تھیں

❤
❤
❤
❤
❤

کچھ ماہ بعد!

فاحا آج نیو کپڑے پہنے گی”آج ہم فاحا کو اچھے سے تیار کرینگے میری پیاری فاحا۔۔۔۔سوہان مسکراکر بیڈ پر لیٹی پانچ ماہ فاحا کو دیکھتی اُس سے باتیں کرنے لگی تو وہ کِھلکھِلانے لگی

اِس منحوس کو چھوڑو اور اپنے اسکول جانے کی تیاری کرو۔۔۔۔واشروم سے باہر نکلتی اسلحان نے معصوم سی فاحا کو نفرت سے دیکھ کر سوہان سے کہا تو اُس کا مسکراتا چہرہ بُجھ گیا تھا

منحوس نہیں ہے میری بہن۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا تھا کیونکہ اُس کو اب”منحوس”لفظ کا پتا چل گیا تھا

تمہارے کہنے سے کیا ہوتا ہے”اور اُٹھو تم بھی اسکول جانے کی کرو شام میں ہمیں پھر شہر سے باہر نکلنا ہے۔۔۔اسلحان نے سرجھٹک کر کہا

کیوں؟سوہان بے ساختگی میں پوچھ بیٹھی

تاکہ یہاں سے نکل پائے اب تو انور بھائی کے ماتھے پر بھی بل نمایاں ہوتے ہیں جس سے صاف پتا چل رہا ہے کہ ہمارا یہاں رہنا زیادہ نہیں ہے” اچھا ہے اُس سے پہلے ساجدہ جانے کا کہے ہم خود چلے جائے۔۔۔۔۔اسلحان نے کہا تو سوہان کی خوشی اور پریشانی ایک ساتھ ہوئی”خوشی اِس بات پر کہ وہ اب یہاں نہیں رہے گی پریشانی اِس وجہ سے کہ یہاں سے جانے کے بعد وہ لوگ جائینگے کہاں؟

ہم کہاں جانے والے ہیں؟سوہان نے فاحا کو کپڑے پہنانے کے بعد پوچھا

اپنے بھائی کے پاس وہ اب واپس گھر لوٹ آیا ہوگا اگر مجھے وہاں رہنے کی اِجازت مل گئ تو سب ٹھیک ہوجائے گا”تم دونوں کا مستقبل سنور جائے گا اچھی تعلیم بھی ہوگی۔۔۔۔اسلحان ُپرامید لہجے میں بولی

فاحا کا پیٹ خراب ہوگیا ہے”آپ میشو کو لے جائیے گا میں یہی ہوگی ساجدہ آنٹی کے ساتھ ایسی حالت میں فاحا رُل جائے گی۔۔۔۔سوہان کو اب خیال آیا تو اپنے سر پہ ہاتھ مارکر بولی

اِس کا تو میں بندوبست جلد کروں گی جب سے پیدا ہوئی ہے میری زندگی میں مصیبت پر مصیبتیں آئی جارہی ہیں۔۔۔۔اسلحان کا تو”فاحا”نام پر منہ بگڑ رہا تھا”پر اسلحان کی اِس پر سوہان نے کچھ نہیں کہا تھا وہ جانتی تھی فائدہ کوئی نہیں ہوگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤

اِدھر آؤ۔۔۔۔شام میں سوہان فاحا کا فیڈر لیئے کمرے میں جانے لگی تو انور نے اُس کو اپنے پاس آنے کا کہا

ککک کیوں؟سوہان نے ڈر کر پوچھا کیونکہ گھر میں کوئی نہیں تھا”اسلحان میشا سمیت شہر سے باہر تھی اور ساجدہ پڑوس میں گئ ہوئی تھی

آؤ تو بتاتا ہوں نہ۔۔۔۔۔انور کے چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ آئی

نہیں۔۔۔۔سوہان انکار کرتی کمرے میں بھاگنے والی تھی جب انور ایک ہی جست میں اُٹھ کر اُس کو دبوچ لیا”سوہان کے ہاتھ میں موجود فیڈر زور سے نیچے گِرا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *