Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 27)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

“حال:

“اگر میں غلط نہ ہوں تو آپ سُوہان ہیں؟”آریان خیالوں کی دُنیا میں واپس آتا چونکتے ہوئے سوہان سے بولا تو میشا الرٹ ہوئی تھی”جبکہ فاحا یہ سوچنے میں تھی کہ کیا اِس سرسری مُلاقات میں”آریان بھی تھا؟

“میں سوہان ہوں۔۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“تمہارا ہوگیا ہو تو چلیں اب؟زوریز نے آریان سے کہا

“اِن کو کیا ہوا؟فاحا کو زوریز ٹھیک نہیں لگا

“شاید میں نے جو آریان سے کہا اُس پر خفا ہوگئے ہیں۔۔۔میشا کو پہلی بار اپنی غلطی کا احساس ہوا”اُس کو ایسے لگا جیسے آج وہ بے وجہ اوور ری ایکٹ کرگئ تھی

“ہم سالگرہ پر آئے ہیں تو بغیر کیک کھائے کیسے جاسکتے ہیں؟آریان زوریز کو دیکھ کر اِشاروں کِناروں سے اپنے اور میشا کے بارے میں اُس کو کچھ سمجھانا چاہا جو زوریز فی الوقت سمجھنے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا

“یہاں ہماری ضرورت نہیں ہے۔۔۔زوریز نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا اور اُس کے اِس جُملے پر” سوہان اور میشا اپنی جگہ شرمندہ سے ہوگئے تھے۔

“کسی کی ضرورت بننا چاہیے بھی نہیں بس یہ سمجھے جہاں آپ گئے ہو” وہ آپ کی ملکیت میں آتا ہے اور اپنی ملکیت پر حق جتاتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اُس کو چھونا ضروری یا نہیں یا وہاں آنا ضروری ہے یا غیرضروری میں نے آپ کو اِنوائٹ کیا ہے اور اگر آپ ایسے چلے جائے گے تو فاحا کو اچھا نہیں لگے گا”فاحا نے ضرورت کے لیے نہیں کہا تھا کہ آپ آئے فاحا نے اِس لیے کہا تھا کیونکہ وہ چاہتی تھی آپ ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں شریک ہو اور اپنی سرسری مُلاقات کے بارے میں تفصیل سے بتائے۔۔۔۔”فاحا کو احساس ہوا کہ وہ ناراض ہوکر جارہا ہے تبھی معصوم بھرے لہجے میں اُس کو دیکھ کر بولی تو اُس کی بات سن کر ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی

“گُناہ ملے گا اب آپ کو اگر آپ نے اِتنی پیاری لڑکی کی بات کو نظرانداز کرنے کا سوچا بھی۔۔آریان زوریز کو دیکھ کر ڈرامائی انداز میں بولا

“اِس کمینے کی پہلی نظر سوہان پر گئ تھی پر جب وہ ہاتھ نہیں آئی تو اِس نے پتہ میری طرف پھینکا دیکھنا اب یہ تمہیں اپنی چیزی لائنز میں ورغلانا چاہے گا مگر خبردار جو تم اِس کی باتوں میں آئی بھی۔۔۔میشا فاحا کے کان کے پاس جُھک کر اُس کو وارن کرنے والے انداز میں بولی

“میشو آپو آپ کو کیا نہیں پتا کیا؟”یہ لڑکے لوگ اپنے دل کا بہت خیال رکھتے ہیں یہاں نہیں تو وہاں لگاتے ہیں اور آپ رات میں مجھے ساری بات بتانے والی ہیں کہ آریان دُرانی سے آپ کی سرسری مُلاقات کب اور کیسے ہوئی تھی۔۔۔میشا جو پہلے فاحا کی بات سن کر اُس کو گھور رہی تھی لیکن اُس کی آخری بات پر وہ سٹپٹا گئ تھی

“سوہان کی طرح میرے اور اُس کے درمیان کچھ بھی نہیں ہے۔۔میشا نے ابھی سے وضاحت دی

“فاحا نے ایسا کہا کیا کہ آپ کے اور اُن کے درمیان کچھ ہے؟فاحا معصومیت کے تمام رکارڈ توڑ کر اُس سے بولی تو میشا نے ضبط سے اُس کو دیکھا تھا

“آپ کی وجہ سے میں رُک جاتا ہوں۔”ورنہ کچھ لوگ تو چاہتے ہیں میں یہاں نہ رہوں۔۔۔زوریز فاحا کو دیکھ کر بولا تو سوہان اُس کو گھور بھی نہیں پائی تھی

“ارے آگ میں جھونکو اُن کچھ لوگوں کو تم اندر آؤ بہت مزہ آئے گا۔۔بُوا اُس کے پاس آتی بولی

“ہاں نہ بہت وقت ہوگیا ہے ہمیں اب کیک کٹ کردینا چاہیے بھوک بہت لگی ہے یار۔۔۔عاشر نے بھی جلدی سے کہا

“عاشر بھائی آپ کو بھوک کب نہیں لگتی؟”اور کیک ہم نہیں محض سوہان آپو کاٹنے والی ہیں۔۔۔فاحا نے اُس کو جتانے والے انداز میں کہا

“میرا بھی وہی مطلب تھا تم زیادہ سیانی بن کر بات کو پکڑ نہ لیا کرو۔ ۔۔”عاشر اُس کو گھور کر بولا تو جواب میں فاحا دانتوں کی نُمائش کرنے لگی

“اندر چلو۔ ۔۔ساجدہ بیگم نے کہا تو سب لوگ باری باری اندر کی طرف بڑھ گئے

“زوریز یار ایک بات بتانا۔ ۔۔چلتے چلتے آریان نے اچانک زوریز کو مُخاطب کیا

“کیا بات؟ زوریز نے اپنے آگے چلتی سوہان کی پشت کو دیکھ کر آریان کو جواب دیا

“یہ لڑکیاں اِتنی ان رومانٹک کیوں ہوتیں ہیں؟ آریان گھر کے اندر غائب ہوتی میشا کو دیکھ کر منہ بسور کر بولا تو اُس کے سوال پر سوہان جو غیرشعوری طور پر اُن کو سُننے لگی تھی اُس کے قدم سست پڑگئے تھے شاید وہ “زوریز کا جواب جاننا چاہتی تھی

“کیونکہ اُن کو ہینڈسم لڑکے مفت میں مل جاتے ہیں۔۔۔زوریز یکطرفہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا تو آریان نے داد دیتی نظروں سے اُس کو دیکھا تھا مگر سوہان گردن ترچھی کیے سرجھٹک کر اندر چلی گئ تھی۔

“بلکل سہی کہا تم نے بلکل یہی بات ہے پر ہمارا بھی کوئی قصور نہیں اللہ نے لڑکیوں کی نسبت ہمیں اِظہار کے معاملے میں بڑے دل سے نوازہ ہے۔۔۔آریان اُس کی بات سے اتفاق کرتا بولا “باتوں ہی باتوں میں وہ اب ہال میں پہنچ گئے تھے جہاں آریان کی متلاشی نظریں ہر دفعہ کی طرح میشا کو تلاشنے میں تھی جو شاید کچن سے کیک لینے گئ تھی۔

“کیک کاٹ دے اب۔۔۔۔سوہان کو ایک جگہ کھڑا دیکھ کر فاحا نے اُس کے سامنے نائیف بڑھا کر کہا

“کاٹ رہی ہوں۔۔۔سوہان اُس سے نائیف لیکر کیک کاٹنے لگی تو سب اُس کو وِش کرنے لگے تو سوہان کو یہ سب عجیب لگنے لگا اُس کو اپنا آپ بچہ معلوم ہوا تھا”اُپر سے خود پر جمی زوریز کی تپش زدہ نظروں نے رہی سہی کسر ختم کردی تھی۔۔۔”مگر وہ اُس کی اگنور کرنے کی بھرپور کوشش کرتی سب سے پہلے ساجدہ بیگم کو کیک کِھیلایا تھا جبکہ میشا اور فاحا نے اُس کے کیک کِھلانے کا انتظار نہیں کیا تھا بلکہ خود ہی اپنے حصے کا کیک لے لیا تھا۔۔۔

“کیک۔۔۔سوہان زوریز کی طرف آتی چھوٹی سی پلیٹ میں کیک کے ساتھ اسپون رکھ کر زوریز کو دیکھ کر کہنے لگی

“میں نہیں کھاؤں گا۔۔زوریز نے ایک قدم پیچھے لیکر اپنا سر نفی میں ہلاکر کہا

“کیوں؟سوہان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

“کیونکہ آپ یہ دل سے نہیں دے رہی۔۔۔زوریز نے اُس کو دیکھ کر کہا جو کہ پاس گُزرتی فاحا نے بخوبی سُن لیا تھا۔

“وہ اِس لیے کہ دل کے ہاتھ نہیں ہوتے ورنہ یقین کریں فاحا کا وہ آپو کے سینے سے دل نکال کر اُس سے کہتی کہ آپ کو کیک دے۔۔۔سوہان سے پہلے فاحا مسکراہٹ دباکر جواب دیتی نو دو گیارہ ہوگئ تھی۔

“آپ کی ایسی حرکتوں اور باتوں سے میری بہنیں مجھے شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور وہ غلط فہمی کا شکار ہوگئیں ہیں۔۔سوہان فاحا کی بات پہ زوریز سے بولی

“میرے دل میں جو تھا میں نے وہ بیان کیا۔۔۔زوریز پرسکون لہجے میں بولا

“آپ کیک لے رہے ہیں یا میں واپس لے جاؤں،؟سوہان نے دو ٹوک لہجے میں اُس سے سوال کیا

“واپس لے جائے۔۔زوریز نے کہا

“مجھ سے ایسے چونچلے نہیں اُٹھائے جاتے زوریز تو پلیز آپ مجھ سے اِن چیزوں کی توقع مت کیا کریں۔۔۔سوہان نے ضبط سے اُس کو دیکھ کر کہا

“آپ کے منہ سے اپنا نام سُن کر اچھا لگا۔۔۔جواباً زوریز مبہم مسکراہٹ سے بولا تو سوہان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچُکا تھا

“یہ پکڑیں اگر کھانے کا دل نہیں ہے تو سامنے ڈسٹ بن پڑا ہے اُس میں پھینک دیجئے گا۔۔۔سوہان زبردستی اُس کے ہاتھ میں کیک پکڑاتی بولی تو زوریز کی مسکراہٹ گہری سے گہری ہوتی گئ تھی

“زوریز دُرانی رزق کی بے حرمتی نہیں کرتا۔۔۔زوریز نے کہا

“زوریز دُرانی کو یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ رزق کو انکار نہیں کیا جاتا۔۔۔”سوہان نے اُس کی بات سن کر جیسے جتایا

“اب پتا چل گیا ہے آگے سے خیال رکھوں گا۔۔۔زوریز نے کہنے کے ساتھ کیک کا چھوٹا سا پیس اُس کی طرف بڑھایا

“میں نہیں کھاؤں گی۔۔۔سوہان نے انکار کیا

“کچھ منٹس پہلے مجھ سے کسی نے کہا کہ رزق کو انکار نہیں کیا جاتا۔۔۔”اور یہ کیک بھی کھانے کی چیز ہوتی ہے اِس کو بنانے میں بہت چیزیں ڈالنی پڑتی ہیں حیسے کہ بادا

اچھا اچھا ٹھیک ہے میں سمجھ گئ دے مجھے آپ۔۔۔ابھی زوریز اُس کو کیک میں ایڈ ہونے والی چیزوں کے نام بتانے والا تھا جب سوہان نے کیک کا پیس لینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن زوریز اپنا ہاتھ سرعت سے پیچھے کرگیا تھا جس پر سوہان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی جس کی نظروں میں کچھ اور مفہوم چُھپا ہوا تھا جس کو جان کر سوہان نے اُس کو گھورا

“آپ میں شرم بلکل ختم ہوتی جارہی ہے۔۔سوہان نے اپنی طرف سے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا جو کہ ناممکن سا تھا

“آپ سے مل کر مجھے آئے روز کچھ نہ کچھ جاننے کو ملتا ہے اور کیک کھانے سے کترائے نہیں آپ کا خود کا ہے۔۔زوریز نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا

“بتانے کا شکریہ۔۔۔سوہان طنز کہتی وہاں سے چلی گئ تو زوریز نے گہری سانس بھر کر اُس کو جاتا دیکھا تھا

❤

“شرم کرو مہماں بیٹھے ہیں اور تمہیں اپنے کھانے کی پڑی ہے۔۔۔آریان کیک کھاتی میشا کے ہاتھ سے کیک کا پیس چھین کر اپنے منہ میں ڈال کر اُس کو شرمندہ کرنے لگا جو اِس اچانک افتاد پر حیران اور پریشان تھی

“تمہیں شرم نہیں آئی دوسرے کے منہ میں جاتا ہوا نوالہ چھین کر کھاتے ہوئے۔۔۔میشا نے تپ کر پوچھا

“شرم کیسی اگر اپنا حق مانگنے سے نہ ملے تو اُس کو چھین کر لینا پڑتا ہے۔۔۔آریان خاصے پرسکون لہجے میں بولا

“ایک بات بتاؤ۔۔میشا نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“کونسی بات؟آریان سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“یہ جو تمہارا بھائی ہے مجھے ایسے لگا کہ جیسے وہ ناراض ہوگیا میں نے جس طرح سے تم سے بات کی۔۔۔میشا تھوڑی ہچکچاہٹ سے بولی یہ بات مسلسل اُس کو پریشان کررہی تھی

“تمہیں زوریز کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے”وہ ہر کسی سے ناراض نہیں ہوتا”ہاں اگر تمہیں فکر کرنی ہے تو میری کرو۔۔۔آریان معصوم بھرے لہجے میں بولا

“میں سیریس ہوں۔۔۔میشا نے چبا چبا کر لفظ ادا کیا

“میں بھی سیریس ہوں اور سچ بات ہے زوریز کسی سے خفا نہیں ہوتا۔۔مطلب ہوتا ہے پتا نہیں مگر وہ تمہاری بات مائینڈ نہیں کرے گا وہ کونسا تمہیں جانتا ہے”یا کونسا تم اُس کے لیے امپورٹنٹ پرسن ہو”وہ ہے ہی ایسی سڑی ہوئی شکل کا مالک بات بھی کرتا ہے تو لگتا ہے جیسے احسان کررہا ہو۔۔آریان کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا جواب دے تبھی جو اُس کے منہ میں آیا وہ بول دیا

“اچھا سہی میں خوامخواہ پریشان ہورہی تھی کہ گھر آئے مہمان کو ناراض کرلیا۔۔۔میشا پرسکون سانس خارج کیے بولی

“ویسے تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔آریان اُس کو دیکھ کر تعریفی اسناد میں بولا

“مجھے پتا ہے اور میں ہر روز خوبصورت لگتی ہوں”تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ خوبصورتی کا مطلب میشا عرف میشو ہوتا ہے۔۔۔میشا اُس کو دیکھ کر ایک ادا سے بولی

“اب سمجھا کہ لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں کہ خوشفہمی اچھی چیز ہوتی ہے۔۔۔آریان اُس کو چھیڑنے والے انداز میں بولا

“تم بس مجھ سے جلتے رہنا۔۔۔میشا نے گھورتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“تم سے کیوں جلوں گا میں؟” آفٹر آل ہم دونوں الگ تھوڑئی ہیں۔۔آریان آرام سے بولا

“تم سوہان کو کیسے جانتے ہو؟میشا کے دماغ میں جانے کیا سمائی جو اُس سے پوچھا مگر اُس کے سوال پر آریان چُپ ہوگیا تھا جس کو میشا نے بخوبی نوٹ کیا تھا اور اُس کی خاموشی کا ایک الگ مطلب اخذ بھی کرلیا تھا۔۔۔

کومہ میں چلے گئے ہو کیا؟میشا نے اُس کو خاموش دیکھ کر طنز پوچھا

“نہیں میں کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔آریان اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ پھیر کر اُس سے کہا

“ایسے ہاتھ زوریز دُرانی پھیرتا ہے تو اچھا لگتا ہے تمہاری ڈارھی نہیں ہے اِس لیے ایسی کوشش نہ کرو خوامخواہ دیکھنے والے کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔۔۔میشا اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اُس سے بولی

“کچھ بھی نہ بولا کرو۔۔۔آریان اُس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دیکھ کر گھور کر بولا

“اچھا چلو یہ بتاؤ کیا سوچ رہے تھے؟میشا تھوڑی سنجیدہ ہوئی

“یہی کہ میں نہ اپنی بیٹی کا نام “خوشی رکھوں گا اور پھر تمہیں دیکھ کر کہوں گا کہ میشا تم سے مل کر خوشی ہوئی۔۔۔آریان اُس کو دیکھ کر آنکھ کا کونا دباکر بولا تو اُس کی بات سمجھ کر میشا سرتا پیر سرخ ہوگئ تھی۔۔۔”

“تم نہ بہت کوئی ڈھیٹ اور آوارہ انسان ہو میں یہاں تم سے پوچھ ایک سوال رہی ہوں اور تمہیں اپنی چیپ سوچوں سے فرصت نہیں۔۔۔میشا کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ اُس کا گلا دبادیتی

“تمہیں یہ مجھ سے کیوں جاننا ہے؟”اپنی بہن سے بھی پوچھ سکتی ہو”مجھے یقین ہے وہ تمہیں بتانے سے انکاری نہیں ہوگی۔۔۔آریان نے کہا

“جانتی ہوں اور اُس نے بتایا تھا کہ سرسری سی مُلاقات ہوئی تھی اُس کی زوریز کے ساتھ۔۔۔میشا منہ کے زاویئے بگاڑ کر اُس سے بولی

“سرسری؟”لفظ سرسری پر آریان کو ہنسی آئی

“ہاں کیا کچھ اور بات ہے؟میشا کو اُس کا ہنسنا سمجھ نہیں آیا

“نہیں بس مجھے آج پتا چلا کہ سرسری مُلاقات وہ ہوتی ہے جس میں آپ کسی انجان کے لیے لڑائی کرتے ہو”اُس کا نام جان لیتے ہو جاب کی آفر تک کرلیتے ہو اور بھی بہت سی باتیں کرلیتے ہو۔۔آریان ہنس کر سرجھٹک کر بولا تو میشا کی چھٹی حس بیدار ہوئی

“تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے؟میشا کو تجسس ہوا

“سوہان زوریز کی آفس میں جاب کیا کرتی تھی اور اِس درمیان اُن کی اچھی خاصی دوستی بن گئ تھی ڈونٹ نو سوہان کی طرف سے ایسا کچھ تھا یا نہیں مگر میرا بھائی اُس کو بہت اہمیت دیتا تھا۔۔آریان نے بتایا تو میشا نے گردن موڑ کر زوریز کو دیکھا جو کسی سے کال پر بات کررہا تھا پھر اُس نے سوہان کو دیکھا جو فاصلے پر کھڑی فاحا کی باتیں سُننے میں مصروف تھی

“کیا واقعی میں پہلی مُلاقات میں یہ سب ہوا تھا؟میشا یقین کرنے سے قاصر تھی

“ہاں بڑے ڈرامائی انداز میں مُلاقات ہوئی تھی”سب سے پہلے بائے مسٹیک سوہان نے پوری ٹرے زوریز کی کپڑوں کے اُپر اُلٹ دی اور اُس کے بعد بہت محبت بھرے انداز میں کہا کہ میں صاف کردیتی ہوں”مجھے پتا ہے اگر اُن دونوں کے بجائے ہم دونوں کا ایسا کوئی سین آن ہوتا تو تم نے وہ ٹوٹے ہوئے گلاس کے کانچ اُٹھاکر میرے چہرے پر چُھبادینا تھا اپنی غلطی تو نہ مانتی اُلٹا سارا الزام میرے سر پر ڈال دیتی۔۔”آریان بتاتے بتاتے آخر میں منہ کے زاویئے بنا کر اُس سے بولا

“ہر بات پر اپنا قصہ نہ چھیڑا کرو۔۔۔میشا خاصا بدمزہ ہوئی

“تم میری محبت کو قبول کیوں نہیں کرلیتی”آؤ نہ اپنی شادی کی پلاننگ کرتے ہیں۔۔۔آریان پرجوش لہجے میں اُس سے بولا

“تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا اور ہاں”میں تم سے شادی کروں گی یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے۔۔۔میشا نے باور کروانے والے انداز میں اُس سے کہا

“مقامِ رنج ہے کہ اک ناپسند شخص کو ہم:

تمہارے بعد کہیں گے کہ ہم تمہارے ہیں

“آریان نے گہرے لفظوں میں چُھپا شعر مزاحیہ انداز میں کہا تو میشا جان گئ کہ یہ بندہ کبھی سیریس نہیں ہوسکتا۔۔۔۔

گو ٹو ہیل۔۔۔میشا تپ کر کہتی جانے لگی

“وِد یوئر ہیل۔۔آریان پھر بھی باز نہیں آیا مگر اِس بار میشا نے اُس پر کوئی توجہ نہیں دی

❤

“میں جارہا ہوں مگر شام میں آپ کا انتظار کروں گا۔۔۔سوہان زوریز کو دروازے تک چھوڑنے آئی تو اُس نے کہا

“میں اپنا جواب دے چُکی ہوں آپ کو۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“اور میں بھی کہہ چُکا ہوں کہ پھر بھی آپ کا انتظار کروں گا۔۔۔زوریز اپنی جگہ بضد تھا

“آپ کو بے وجہ انتظار کرنے کا لگتا ہے شاید بہت شوق ہیں۔۔۔سوہان طنز ہوئی

“اب میں چلتا ہوں پھر مُلاقات ہوگی۔۔۔زوریز اُس کی بات اگنور کرکے بولا تب تک آریان بھی آگیا تھا

“چلے؟آریان کو دیکھ کر زوریز نے پوچھا

“ہاں کیوں نہیں۔۔۔آریان نے مسکراکر کہا

“خدا حافظ۔۔سوہان الوداعی کلمات کہتی اندر کی طرف بڑھ گئ جہاں فاحا اور میشا سینے پر بازو باندھے اُس کے منتظر تھی۔۔”باقی لوگ بھی اپنے گھر کو روانہ ہوگئے تھے ساجدہ بیگم جبکہ اپنا زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں گُزارا کرتی تھیں اور آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔

“ایسے کیوں دیکھا جارہا ہے مجھے؟سوہان صوفے پہ لیٹتی اُن سے استفسار ہوئی

انجان مت بنو سوہان تمہیں پتا ہے سب کچھ۔۔میشا نے تکیہ اُس کی طرف پھینک کر دانت پیس کر بولی

“ہاں آپو اور ہم آپ کی سسٹرز ہیں آپ ہم سے کوئی بھی بات چُھپا نہیں سکتیں۔۔۔فاحا بھی میدان میں آئی تو سوہان دونوں کو دیکھتی رہ گئ

“بتاؤ تم دونوں مجھے کہ زوریز کو یہاں آنے کا تم دونوں سے کہا کس نے تھا؟اب وہ چاہتا ہے میں شام میں اُس سے ملوں۔۔سوہان نے اُن سے سوال کیا تو اُس کی آخری بات پر وہ معنی خیز انداز میں مسکرائی تھیں

“کہاں ملنے کا کہا ہے؟

“تم نے کیا جواب دیا؟

دونوں نے باری باری متجسس انداز میں پوچھا

“میں نے کیا کہنا تھا انکار کیا..سوہان نے اُن دونوں کو گھور کر کہا

“کیا انکار کیا؟”سوہان آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے یار مطلب وہ اِس لیے چُپ ہوگیا تھا کیونکہ اُس کو تم نے مایوس کیا تمہارے انکار نے اُس کو ہرٹ کیا اور تمہیں اُس بات کی قطعیً کوئی پرواہ نہیں۔۔۔”وہ فاحا کے ایک بار کہنے پر آگیا اگر نہ بھی آتا تو اُس کو کیا پرواہ تھی پر وہ آیا اور اِتنے چاہ سے تمہارے آگے پیش کش رکھی بدلے میں تم نے اُس کو ٹھکرادیا کم از کم تمہیں یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔میشا کو حقیقتاً بہت افسوس ہوا

“ہاں آپو آپ نے سہی نہیں کیا اِتنے اچھے لگے مجھے وہ۔۔۔فاحا نے بھی منہ بنایا

“تم دونوں میری بہنیں ہو یا اُس کی؟سوہان کو حیرت ہوئی جو زوریز کی طرفدار بنیں ہوئیں تھیں

“مجھے اِتنا ہینڈسم بھائی نہیں چاہیے۔۔۔میشا نے جھٹ سے اپنے ہاتھ کھڑے کیے

“ویل وِشر بنادوں گی مگر بھائی نہیں۔۔فاحا نے بھی اپنے ہاتھ کھڑے کیے

“ایسا بھی کیا کردیا اُس نے جو تم اُس کو ویل وشر بنانے لگی ہو۔۔۔سوہان یقین نہیں کرپائی تھی ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اُن کی باتوں کا مرکز ایک مرد تھا

“ایسے ہی۔۔۔فاحا متذبذب ہوئی جبکہ ایک چیز اچانک میشا کے دماغ میں سمائی تھی اُس نے غور سے سوہان کو دیکھا پھر اپنے لب کچلے

تمہیں یاد ہے تم نے ایک مرتبہ کیا کہا تھا؟میشا نے ایک خیال کے تحت سوہان سے کہا

“کیا کہا تھا؟سوہان فاحا سے نظریں ہٹائے اُس کو سوال گو ہوئی

“تم نے کہا تھا”تاعمر دوست لڑکوں کے ہوتے ہیں لڑکیوں کے نہیں “لڑکیوں کے دوست اسکول کے اسکول تک اور کالج سے کالج تک اور یونی سے یونی تک ہوتے ہیں”اُس کے علاوہ اگر تھوڑی بات چیت ہو بھی جائے تو لڑکی کی زندگی ایسی بن جاتی ہے جہاں دوستیاں نبھانے کا وقت نہیں نکلتا اور نہ گُنجائش اور اگر یونی کے بعد اتفاقً ملاقات کبھی”مال “سڑک”روڈ بس “ٹرین پر ہو بھی ہوجائے تو ایسے ملتے ہیں جیسے بس میں بیٹھے لوگ آپس میں تھوڑی بات چیت وغیرہ کرلیا کرتے ہیں اور پھر ہر کوئی اپنے راستے کا مسافر بن جاتا ہے”مگر لڑکوں کا ایسا کوئی سین نہیں ہوتا اُن کی دوستیاں وقت کے ساتھ پختہ ہوجاتی ہے کسی وجہ سے کبھی فاصلہ درمیان میں آ بھی جائے تو جب اتفاقً جب ملاقات ہوتی ہے تو ہائے ہیلو کہہ کر نکل نہیں جاتے بلکہ فورن نمبر ایکسچنج کرتے ہیں۔۔۔۔پھر اُن کے رابطہ دوبارہ سے استوار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔میشا نے ایک ایک لفظ اُس کا کہا دوہرایا تو سوہان کو سمجھ نہیں آیا کہ اچانک اِس بات کا خیال میشا کو کیسے آیا

“مجھے یاد ہے۔۔۔سرجھٹک کر سوہان نے کہا

“ایسا نہیں ہوتا تب تمہاری عمر کا یہ فلسفہ مجھے سہی لگا تھا مگر اب میں اِس بات سے متفق نہیں ہوں۔۔میشا نے کہا

“اچھا اور وہ کیوں؟سوہان نے پوچھا”فاحا بھی بہت غور سے میشا کو سُننے میں لگی تھی۔

کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آج تمہارے ساتھ زوریز دُرانی نہ ہوتا”لیکن وہ تو کسی چٹان کی طرح تمہارے ساتھ ہے”ہر جگہ ڈھال بن کر کھڑا ہونا چاہتا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔میشا نے کہا تو سوہان کچھ بولنے کے قابل نہیں رہی تھی۔

“وہ میرا دوست نہیں تھا کبھی۔۔۔سوہان نے بہت توقع بعد کہا تبھی باہر کا دروازہ نوک ہوا تھا۔

“اِس وقت کون آیا ہوگا۔۔میشا آہستگی سے بڑبڑائی

“آپ دونوں باتیں کریں میں دیکھتی ہوں۔۔۔فاحا اپنی جگہ سے اُٹھ کر باہر دروازے کی طرف آکر گیٹ کُھولا تو سامنے ایک بڑی عمر کے شخص کو دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں تعجب اُبھرا وہ غور سے اُس کو دیکھتی اپنی طرف سے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی مگر پہچان نہیں پائی تھی۔۔”جبکہ دوسری طرف نوریز ملک کو گاؤں سے یہ عہد کرکے آئے تھے کہ جیسے تیسے کرکے اپنی بیٹیوں کو مناکر اُن کو اپنے ساتھ لے جائے گے سامنے فاحا کو دیکھ کر اُن کی آنکھیں بھیگ گئ تھیں کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے یہ معصوم سا وہ چہرہ ہے جس کو کئ سال پہلے اُنہوں نے دیکھنے سے انکار کیا تھا

“جی آپ کون”اور کس سے ملنا ہے؟فاحا کو اُن کا ایسے دیکھنا عجیب لگا تبھی پوچھا جبکہ نوریز ملک اُس کی آواز سن کر جیسے ہوش میں آئے

“تتتت تم ففف فاحا ہو؟نوریز ملک محبت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولے اُن کی زبان میں لڑکھڑاہٹ واضع تھی۔

“میں فاحا ہوں پر آپ ہیں کون؟”اور میرا نام کیسے جانتے ہیں۔۔۔فاحا اپنی آنکھیں بڑی بڑی کیے اُن کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“مجھے نہیں پہچانہ؟نوریز ملک حسرت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگے اِس آس سے کہ شاید وہ سینے سے لپٹ بول اُٹھے کہ”ہاں بابا میں پہچان گئ ہوں آپ کو۔۔۔۔

“پہلی بار دیکھا ہے فاحا نے آپ کو۔۔۔فاحا نے شانے اُچکائے کہا تو نوریز ملک کے چہرے پر اُداس مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا تھا

“اپنی ماں جیسی ہو تم اُس کی ٹھوری پر بھی ایک ایسا ہی خوبصورت تِل ہوتا تھا۔۔۔نوریز ملک کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولے تھے

“مجھے پتا ہے کہ میں اپنی ماں پر گئ ہوں لیکن پھر بھی آپ کے بتانے کا شکریہ اور اب کیا آپ بتانا پسند کرینگے کہ آپ کون ہیں؟”کیونکہ فاحا بہت تھکی ہوئی ہے اُس کی ٹانگوں میں اِتنا پانی نہیں کہ وہ مزید کھڑی رہ کر آپ کے سوالوں کے جواب دے۔۔فاحا تنگ ہوتی بولی تو نوریز ملک نم آنکھوں سے مسکرا پڑے تھے

“کون آیا ہے باہ

“میشا اور سوہان جو فاحا کے دیر آنے پر پریشان ہوتیں باہر آکر اُس سے پوچھنے لگیں تھی مگر جب نظر نوریز ملک پر گئ تو میشا کو چُپ لگ گئ تھی اور آنکھوں میں پل بھر میں ناگواری کا تاثر نُمایاں ہوا تھا

“آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟”جائے یہاں سے۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر جانے کا کہا جبکہ میشا نے رُخ پلٹ لیا تھا اپنا

“یہ باتیں اندر مل بیٹھ کر بھی ہوسکتیں ہیں۔۔۔اچانک کسی مردانہ بھاری آواز پر فاحا کی نظر جب سفید کاٹن کے شلوار قمیض ملبوس پاؤں میں پیشاوری چپل پہنے اور ہمیشہ کی طرح کندھوں پر براؤن کلر کی شال اوڑھے اسیر ملک پر پڑی تو اُس کا منہ پورا حیرت سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا وہ آنکھیں پھاڑے اُس کو دیکھنے لگی جس کے سلکی بال آج نفاست سیٹ نہیں تھے بلکہ اُس کی پیشانی پر بکھرے اُس کی شخصیت میں مزید چار چاند لگا رہے تھے۔۔۔”اور چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے وہ سوہان کو دیکھ رہا تھا جس نے اُس کی بات پہ نفرت سے اپنا سرجھٹکا مگر میشا پہلی بار اُس سے ملی تھی جبھی سرتا پیر گہری نظروں سے اُس کا جائزہ لینے لگی تھی۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *