Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 33)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 33)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
سوری ریئلی سوری۔۔۔۔خود پر زوریز کی نظروں کو محسوس کرتی سوہان اپنی ہنسی دباتی اچانک سنجیدہ ہوئی
“نو اِٹس اوکے آپ ہنسے ہنستی ہوئیں پیاری لگتیں ہیں۔۔۔زوریز اُس کو دیکھ کر جواباً بولا
“گھر چلیں؟سوہان نے اُس کا دھیان بٹانا چاہا تھا۔۔۔
“شیور مگر یہ آپ کے لیے۔۔۔زوریز گاڑی کی پِچھلی سیٹ سے پھولوں کا بُکہ اُٹھائے اُس کی گود میں ڈالے
“صبح آپ نے تازہ پھول دیئے تھے اب پھر سے؟سوہان ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی
“میں چاہتا ہوں یہ پھول آپ اپنے کمرے میں رکھے”تاکہ آپ کا پورا کمرہ اِن کی خوشبو سے مہک جائے اور اُن کی مہک سے آپ کو بس یہ یاد رہے کہ یہ مہک زوریز دُرانی کی وجہ سے ہے۔۔۔زوریز اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا اگر اُس کا یہ انداز آریان دیکھ لیتا تو یقیناً محبت میں اُس کو اپنا اُستاد بناکر کلاسس لینے لگ جاتا۔۔
“اِس کا مطلب کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں ہر وقت آپ کو سوچو اور آپ کے خیالوں میں ڈوبی رہوں یعنی ایک ناکارہ انسان بن جاؤں؟سوہان اُس کی بات کا مطلب سمجھ کر بولی
“اگر میں کہوں ہاں تو؟زوریز نے غور سے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا
“تو میں کہوں گی ایسا ممکن نہیں۔۔سوہان نے کہا
اگر میں اُس کو ممکن بنادوں تو؟زوریز نے ایک بار پھر کہا
“میں ایسا پھر بھی نہیں چاہوں گی مجھے اپنا آپ ناکارہ ہوتا ہوا بلکل پسند نہیں ہوگا۔۔سوہان نے کندھے اُچکاکر کہا
“مرد ہو یا عورت محبت میں ناکارہ نہیں ہوا کرتے ہاں آپ یہ کہہ سکتیں ہیں مجھے آپ کی دیوانی ہونا اچھا نہیں لگے گا۔۔۔زوریز نے کہا تو اُس کی بات پر سوہان کو چُپ لگ گئ تھی اُس کے پاس اب زوریز کی باتوں کا جواب نہیں تھا۔۔”وہ ایک وکیل تھی جس کے پاس دلیلوں کا انبار تھا مگر زوریز کے سامنے اپنی ہر دلیل بے معنی اور معمولی سی لگتی تھی”پیشے کی وکیل وہ تھی مگر اپنا مقدمہ اُس سے زیادہ زوریز نے اپنا لڑ لیا کرتا تھا ایسا لڑتا تھا کہ وہ لاجواب ہونے کے علاوہ کچھ اور نہیں کرپاتی تھی۔۔
“گھر چلتے ہیں آپ کی سسٹرز آپ کے لیے فکرمند ہوچُکی ہوگیں۔۔۔زوریز اُس کو کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر اپنی گرفت اسٹیئرنگ پر جماکر بولا
“وہ پریشان نہیں ہوگی میشو کو پتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں میں اُس کو بتاکر یہاں آئی تھی۔۔۔سوہان اپنا رخ ونڈو کی طرف کیے بولی تو زوریز نے خوشگوار حیرت سے اُس کو دیکھا
“آپ مجھ سے ملنے آتی ہیں یہ بات اُن کو بتاکر آتیں ہیں؟یہ جان کر اُس کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی ورنہ زوریز کو لگتا تھا کہ جیسے سوہان اُس کا ذکر اُن سے کرنا تک گوارا نہیں کرتی ہوگی
“ہاں کیوں؟سوہان نے بتانے کے بعد پوچھا
“نہیں کچھ نہیں مجھے لگا جیسے یہ بات آپ اُن سے پوشیدہ رکھتیں ہیں۔۔۔زوریز نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا
“میں آپ سے ملنے آتی ہوں اِس میں پوشیدہ رکھنے والی کیا بات ہے؟”چُھپایا گُناہ کو جاتا ہے اور میرا نہیں خیال آپ کا اور میرا ملنا کسی گُناہ کے زمر میں آتا ہے۔۔۔سوہان نے کہا تو زوریز کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا تھا جبھی وہ اب بنا کچھ اور کہے ڈرائیونگ کرنا شروع کردی تھی۔۔”جبکہ سوہان نے غیرشعوری طور پر اُن پھولوں کو اپنی سانسوں کے قریب کیے گہری سانس بھر کر اُس کی خوشبو کو محسوس کیا تھا پھر ڈرائیونگ کرتے زوریز کو دیکھا جس کے چہرے پر ہلکا سا تبسم کِھلا ہوا تھا۔۔۔”اگر اِس وقت کوئی اُس سے پوچھتا کہ تمہاری نظر میں مرد کا مفہوم کیا ہے تو وہ بلاجھجھک “زوریز دُرانی کا نام بتادیتی وہ نہیں جانتی تھی کیوں؟”اور کس لیے مگر وہ اپنی بہنوں کے علاوہ اگر کسی پر آنکھیں موندیں اعتبار کرسکتی تھی تو وہ زوریز دُرانی تھا جو اُس کے لیے کسی مسیحا سے کم نہ تھا۔۔۔
“وہ زوریز دُرانی تھا جو اپنی محبت کے لیے سب کچھ کرسکتا تھا اُس کے ہر انداز سے محبت کی جھلک دِکھتی تھی”مگر اُس کے باوجود وہ کبھی اپنے منہ سے اِظہارِ محبت نہیں کرتا تھا کیونکہ اُس کو لگتا تھا محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی بار بار لفظوں سے اِعتراف کرنے سے اچھا ہے کہ ایک دیوانہ اپنی محبت کے لیے اپنے ہر عمل سے اُس کو بتائے کہ وہ بس اُس کا ہے اور اُس کا ہی رہے گا۔۔”وہ زوریز دُرانی تھا جس کے اپنے کچھ اقوائد تھے مگر ایک لڑکی کے سامنے وہ سب بھول جاتا تھا کہ وہ کون ہے۔۔۔”زوریز دُرانی چاہتا تو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُس کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرسکتا تھا مگر اُس کو لگتا تھا کہ”آئے لو یو”چھوٹا جُملا ہے اُس کے جذبات کے آگے اپنے اندر موجود جذبات کو ظاہر کرنے کے لیے اُس کو الفاظ نہیں ملتے تھے اور جو ملتے تھے وہ اُس کو بے معنی سے لگتے تھے۔۔
Rimsha Hussain Novels![]()
“فاحا کی آنکھ کُھلی تو وہ بے مقصد چِھت کو گھورتی رہی نیند سے جاگنے کے بعد ایک بار پھر اُس کی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگے تھے کیونکہ آج اُس کو وہ سب یاد آرہا تھا جس کو سوچنا تک نہیں چاہتی تھی”مگر ماضی نے کب اِنسان کی جان چھوڑی تھی جو اُس کی چھوڑتا

ماضی”!
“آپ ٹھیک ہیں؟اسلحان آج اپنی جاب سے واپس آئی تو بارہ سالہ فاحا جو لاؤنج میں بیٹھی کتابیں پڑھنے میں مصروف تھی اُس کو آج روزانہ کے برعکس تھکا ہوا اور نڈھال سا دیکھا تو فکرمندی سے پوچھ لیا”سوہان اور میشا جبکہ اپنے کالج اور یونیورسٹی میں تھیں”اور فاحا نے تو اسکول جانا کب کا چھوڑدیا تھا اپنی پڑھائی وہ گھر بیٹھے ہی کیا کرتی تھی”مگر سوہان نے سوچ لیا تھا وہ مزید فاحا کو گھر کی چار دیواروں تک گُھٹ گُھٹ کر جینے نہیں دی گی کچھ نہ کچھ وہ ضرور کرلے گی۔۔۔
“ہاں ٹھیک ہوں۔۔۔زندگی میں پہلی بار شاید اسلحان نے اُس کے کسی سوال کا جواب دیا تھا جس پر فاحا کی خوشی قابلِ دید تھی
“پانی لاؤں آپ کے لیے؟فاحا نے خوشی سے چہک کر پوچھا تو انگلیوں سے کنپٹی کو مسلتی اسلحان نے نظریں اُٹھائے فاحا کا معصوم چہرہ دیکھا جس کی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک کی تھی اور وہ جانتی تھی اِس چمک کی وجہ
“زہر ملاکر لاؤ تاکہ پانی پی کر مرجاؤں۔۔اُس کو دیکھ کر اسلحان نے سنجیدگی سے کہا
“اللہ نہ کریں آپ یہ کیسی باتیں کررہی ہیں؟”فاحا کیوں ایسا کرے گی۔۔فاحا کا چہرہ فق ہوا تھا اُس کی بات سن کر
“تمہیں مجھ پر انتہا کا غُصہ جو ہوگا”میں نے کبھی تمہیں اپنی بیٹی جو نہیں سمجھا اور اب تمہارا یہ میرے لیے پریشان ہونا سمجھ نہیں آرہا۔۔۔اسلحان نے کہا تو فاحا اُٹھ کر اُس کے پاس بیٹھ گئ
“فاحا آپ سے ناراض یا غُصہ نہیں ہوسکتی آپ میری ماں ہیں”چاہے مجھے آپ نے اپنی بیٹی مانا ہو یا نا مانو ہو مگر آپ نے مجھے اپنے پاس رکھا فاحا کے لیے یہی بڑی بات ہے۔۔۔۔فاحا اُس کو دیکھ کر نرم مسکراہٹ سے بولی
“اچھا اگر تمہارا دل اِتنا وسیع ہے اِتنا جلدی سب کچھ درگزر کرنے والی تو کیا اپنے باپ کو بھی معاف کردو گی؟ایسی اعلیٰ ظرفی کا مُظاہرہ کرو گی؟اسلحان فاحا اپنی باتوں سے عمر سے بڑی لگی تھی تبھی سنجیدگی سے پوچھا تو فاحا کے مسکراتے لب سیکڑ سے گئے تھے
“فاحا اُس انسان کو کیسے معاف کرسکتی ہے جس نے اُس کی پیدائش پر اُس کی ماں کو طلاق دی تھی”اُس کی بہنوں کو در بدر ہونے کے لیے چھوڑدیا تھا جس نے کبھی فاحا سے ملنے کی کوشش تک نہیں کی تھی۔۔۔فاحا سنجیدگی سے بولی تو اسلحان کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا۔
“اُس نے جو کیا اُس کو سزا ضرور ملے گی اور جو میں نے تمہاری ساتھ زیادتیاں کی ہیں اللہ مجھے اُس کی سزا سے نوازنے لگا ہے۔۔”ایک ماں ہوکر میں نے ماں ہونے کا فرض ادا نہیں کیا تو کیسے ممکن ہے اللہ مجھے معاف کردیتا۔۔۔اسلحان غیرمعی نُقطے کو گھور کر بولی
“آپ کی بات کا مطلب کیا ہے؟فاحا نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تب تک سوہان اور میشا بھی گھر میں داخل ہوئیں تھی اور اُن کو ایسے ساتھ بیٹھا دیکھ کر وہ اپنی جگہ حیران ہوئیں تھیں
“یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں؟میشا اپنا کالج بیگ صوفے پر رکھتی حیرت انگیز لہجے میں بولی سوہان جبکہ خاموش سی اسلحان کو دیکھ رہی تھی۔
“امی کا چہرہ پیلا ہورہا ہے۔۔۔فاحا نے فکرمندی سے اسلحان کو دیکھ کر اُن کو بتایا
“امی آپ ٹھیک ہیں؟”کیا کچھ ہوا ہے اور ساجدہ آنٹی کہاں ہیں؟سوہان پریشان سی اُس کی طرف بڑھی تھی
“وہ کچن کا سامان ختم ہوگیا تھا تو وہ عاشر بھائی کے ساتھ مارکیٹ تک گئ ہیں۔۔۔جواب فاحا نے دیا تھا۔۔۔’جبکہ اسلحان نے اپنی پرس سے کچھ کاغذات نکالے تھے۔
“یہ لو۔۔اسلحان نے وہ کاغذات سوہان کی طرف بڑھائے
“یہ کیا ہے؟سوہان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“یہاں ہمارا جو گھر ہے اُس کے کاغذات ہیں میں نے وہ گھر بیچنے کا سوچا ہے۔۔۔اسلحان نے بتایا
“کیا مطلب بیچنے کا سوچا ہے امی وہ گھر آپ کے بھائی نے آپ کو لیکر دیا تھا وہ آپ کیسے بیچ سکتی ہیں؟”اور ہوا کیا ہے آپ سہی سے کچھ بتا کیوں نہیں رہیں؟میشا نے سخت جھنجھلاہٹ سے بھرپور آواز میں اُس سے پوچھا
“ہمارا یہ گھر ہے نہ ماہانہ کرایہ ادا کرتیں رہنا مقان مالک کبھی تم لوگوں کو یہاں سے جانے کا نہیں بولے گا۔۔”اور گھر بیچنا ازحد ضروری ہے۔۔۔اسلحان نے بتایا
“گھر بیچنا کیوں ضروری ہے؟سوہان نے پوچھا
“آپ کہی جارہی ہو جو ایسی باتیں کررہے ہیں؟فاحا کی حالت رونے والی ہوگئ تھی
“زندگی پر کوئی بھروسہ نہیں ہوتا اور گھر بیچنا اِس لیے ضروری ہے کیونکہ میرے پاس اب پیسے نہیں ہیں جو میں تم لوگوں کے کالجوں اور یونی کی فیس بھروں۔۔”اور سوہان تم لندن جاؤں گی اپنی پڑھائی تم وہاں پوری کروں گی تمہیں ایک مشہور ہستی بننا ہے اپنے باپ کو دیکھانا ہے کہ تم کسی سے کم نہیں ہو تم چاہے لڑکی ہو مگر آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتی ہو اور تمہاری اِس اخراجات کے لیے پیسے اُس گھر سے نکل آئے گے۔۔۔”اور میشو۔۔۔سوہان کو حیران چھوڑ کر اسلحان نے اِس بار میشا کو مُخاطب کیا جو دم سادھے اُس کو سُن رہی تھی
جی؟میشا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا”فاحا کی آنکھیں جبکہ آنسوؤ سے بھرگئ تھیں “سوہان کے لندن جانے کا سُن کر
“تم نے بھی خود کو بہت اسٹرونگ بنانا ہے اور کچھ ایسا کرنا ہے کہ کسی مرد کی ہمت نہ ہو کہ تم تینوں پر اپنی غلیظ نظریں اُٹھائے بھی۔۔۔اسلحان نے کہا تو اُس کی باتوں نے اُن لوگوں کو پریشان کردیا تھا
“فاحا کے بارے میں کیا سوچا ہے آپ نے؟سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا
“فاحا سی ایس ایس کرے گی اور اُس میں فاحا کو سلیکٹ بھی ہونا پڑے گا اور وہ اسسنٹ کمشنر ہی بننا ہے فاحا نے باقی کا کام اُس کو وقت سمجھادے گا۔۔۔اسلحان نے فاحا کو دیکھ کر کہا تو وہ ساکت سی اُس کو دیکھنے لگی تھی۔۔
“سی ایس ایس؟میشا حیران ہوئی
“نوریز ملک نے کہا تھا بیٹیاں کچھ نہیں کرسکتی تو اُن کو بس بتانا ہے کہ لڑکیاں کیا کچھ نہیں کرسکتی۔۔”اُمید ہے فاحا کو میری بات سمجھ میں آئے گی۔۔۔اسلحان نے آخر میں فاحا کو دیکھ کر کہا
مجھے یہ تو نہیں پتا کہ سی ایس ایس کی تیاری گھر بیٹھے ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی لیکن سی ایس ایس مجھے کرنا ہے اُس کے نتیجے میں پاس بھی ہونا ہے بس یہ بات میں اپنے کمرے کی دیوار پر نصب کردوں گی”تاکہ فاحا کو یاد ہو کہ اُس کو اپنی زندگی میں کیا کرنا ہے۔۔۔فاحا نے کچھ توقع بعد کہا تو اچانک سے اسلحان کو جانے کیا ہوگیا تھا کہ اُس کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔”اُس کا یہ عمل اُن تینوں کے لیے کسی شاک سے کم نہیں تھا۔
“مجھے معاف کردینا میں جانتی ہوں بہت زیادتیاں کرچُکی ہوں تمہارے ساتھ پر اب میں جان گئ ہوں کہ تمہارا بھی کوئی قصور نہیں قصور میری قسمت کا تھا جس میں یہ میرا در بدر ہونا لکھا ہوا تھا۔۔اسلحان کی آنکھوں سے آنسو کسی صورت رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور یہی حال فاحا کا تھا اُس کا چہرہ خوشی سے جگمگارہا تھا آخر کو اِتنے سال بعد اُس کو اپنی ماں کا لمس میسر ہوا تھا تو کیسے ممکن تھا کہ وہ خوش نہ ہوتی آج کے دن کا انتظار تو اُس کو جانے کب سے تھا اور اللہ کی مہربانی سے پورا ہوگیا تھا اُس کا انتظار
“ہم بھی ہیں راہیں قطار میں۔۔۔میشا بھی آگے بڑھ کر اُن کے ساتھ لگی تھی جبکہ سوہان کی نظریں بھٹک کر پرس سے باہر ظاہر ہوتی ایک فائل پر پڑی تھی وہ ایک نظر اُن پر ڈالتی اسلحان کی پرس سے وہ فائل نکالی”وہ کچھ رپورٹس تھی تو سوہان جیسے جیسے فائل کھول کر پڑھنے لگی اُس کے حواس کام کرنا بند کرگئے تھے اُس کا پورا دماغ ماؤف ہوگیا تھا اور وجود پورا سن ہوگیا تھا کیونکہ یہ رپورٹ ظاہر کررہی تھی کہ اسلحان کو کینسر جیسی بیماری تھی”اور یہ بات جاننے کے بعد اسلحان نے جذباتی ہوکر اُن تینوں پر اُن کی ذمیداریاں ڈال دی تھی وہ ابھی فاحا کی خوشی سہی سے منا بھی نہیں پائی تھی کہ اِن رپوررٹس کو دیکھ کر اُس کا دل پھٹنے کی حد تک غم اور تکلیف سے بھر گیا تھا۔”ایک واحد سہارا تو اُن کی ماں تھی جو لعن طعن کرنے کے باوجود بس اُن کے بارے میں سوچ کر اپنی راتوں کی نیند حرام کرلیا تھا جو فاحا کو منحوس ہے کہنے کے باوجود اُس کی مختصر خُواہشوں اور ضرورتوں کو پورا کرتی تھی۔۔”جو غمزدہ ہوتے ہوئے بھی کڑی دھوپ میں اُن کے لیے ٹھنڈی چھاؤ تھی اگر اُس کو کچھ ہوجاتا تو اُن کا کیا ہوتا؟”باپ تو پہلے ہی اُن کا نہیں تھا اب ماں کو کھونے کا ڈر بھی دل میں کُنڈلی مارے بیٹھ گیا تھا۔۔۔”اور پھر اُس کا ڈر ایک دن حقیقت میں بدل گیا تھا اسلحان کا اچھا علاج کروانے کے باوجود وہ کینسر جیسی موزی بیماری سے لڑ نہیں پائی تھی اور اُن کو اکیلا چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی گئ تھی۔۔”اور اسلحان کا اُن کی زندگی سے یوں نکل جانا ہر درد ہر تکلیف سے بھاری ثابت ہوا تھا جس سے بڑی مشکل سے اُنہوں نے خود کو سنبھالا تھا کیونکہ اُن کو اپنی زندگی میں بہت کچھ کرنا تھا وہ جانتی تھیں مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا بلکہ زندہ رہ کر حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔
Rimsha Hussain Novels![]()
“حال؛
“اُٹھ گئ ہو تم؟میشا اُس کے کمرے میں آتی بولی تو فاحا نے چونک کر اُس کو دیکھا
“جی اُٹھ گئ ہوں۔۔۔فاحا اپنی حالت میں سُدھار لاتی اُس سے جواباً بولی
“رات کے دس بجے کا وقت ہوا ہے اب تم کیا ساری رات جاگ کر مچھریں ماروں گی؟میشا نے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“کچھ نہ کچھ کرلوں گی۔۔۔فاحا نے سنجیدگی سے بتایا
“موڈ سہی کرو اپنا مجھے روندو سی فاحا اچھی نہیں لگتی”اور آج کیا یاد کرو گی تم یہی تمہیں کھانا دوں گی۔۔۔میشا آگے بڑھ کر اُس کے گال کھینچ کر اپنے ساتھ لگائے کہا تو فاحا بہت وقت بعد مسکرائی تھی۔
“کھانا پکا ہوا ہے کیا؟فاحا نے اُس سے پوچھا
“وہی دوپہر گرم ہوجائے گا۔۔میشا نے لاپرواہی سے بتایا
“آپ نے کھایا ہے؟”اور سوہان آپو کدھر ہیں؟فاحا کو اچانک خیال آیا تو پوچھ لیا
“سوہان باہر ہے رستے میں ہے آئے تو پھر ساتھ مل کر کھانا کھائے گے۔میشا نے بتایا
رات کے دس بجے کا وقت ہورہا ہے سوہان آپو کہاں گئ تھیں اور کدھر سے آرہی ہیں؟فاحا نے اُس کی بات پر حیرت سے پوچھا
“یہ تو آئے تو خود پوچھ لینا کہاں پہلے جانے پر نخرے دیکھا رہی تھی اور اب گئ ہے تو آنے کے آثار نظر نہیں آرہے۔۔۔میشا نے سرجھٹک کر بتایا کیونکہ اُس کو سوہان کا اِتنے وقت تک باہر رہنا خائف کرگیا تھا”وجہ سوہان کا یوں لاپرواہی سے باہر جانا تھا جبکہ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اپنے کیس کے بعد اُس کے دوست کم اور دُشمن زیادہ ہوگئے ہیں۔”ایسے میں اُس کا باہر جانا کسی خطرے سے کم نہیں تھا
“کیا وہ زوریز دُرانی سے ملنے گئ ہے؟”پر کیوں وہ تو منع کرچُکی تھی۔۔فاحا کو سمجھ میں نہیں آیا
“بس تم میری ایک بات یاد رکھ لو۔۔میشا نے کہا
“کونسی بات؟فاحا نے پوچھا
“یہی کہ زوریز دُرانی سوہان ملک کے ڈپریشن کی دوا ہے اگر دونوں نے ایک دوسرے سے اِظہارِ محبت نہ بھی کیا تو ایک دوسرے کو چھوڑو گے نہیں۔۔میشا نے آرام سے کہا
“میں آپ کی بات سمجھ نہیں پائی۔۔فاحا کے سر پر سے گُزری
اففف تو تمہاری معصومیت کا لیول گونچو میری بات کا مطلب ہے تمہاری بہن اور زوریز دُرانی اِن دونوں نے کنوارا مرنا ہے۔۔میشا نے کہا
“اللہ نہ کریں کیسی باتیں کررہی ہیں آپ۔۔فاحا نے جلدی سے کانوں کو ہاتھ لگائے تھے۔
جِس طرح نظریں چُراتے ہیں اور دونوں محبت سے بھاگتے ہی۔ اُس کا یہی نتیجہ نکلنا ہے خیر میں نے سوچا تھا آج رات مجھے نیند میسر نہیں ہوگی بس تمہارے آنسوؤ پونچھنے میں میری رات گُزر جائے گی ساری پر الحمد اللہ تمہارے آنسوؤ خودبخود خشک ہوچُکے ہیں اور تمہیں ہٹا کٹا دیکھ کر مجھے اچھا لگا اور اگر تم چاہتی ہو مجھے تم اور اچھی لگو تو اُٹھو اور میرے لیے گرم گرما چائے کا کپ بناکر لاؤ لائچی کے ساتھ تاکہ چسکا آجائے۔۔۔”میں تھک گئ ہوں اب آرام کروں گی۔۔۔میشا اُس کو آرام سے کہتی پورے بیڈ پر پھیل کر لیٹ گئ تو فاحا آنکھیں پھاڑے اُس کو دیکھنے لگی۔۔
“میشو آپو احساس کریں زرا آپ کی چھوٹی بہن ہوں۔۔۔فاحا نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا تو میشا نے پٹ کر اپنی آنکھیں کھولی اور کروٹ بدل کر کہنی کے بل لیٹ لیکر اُس کو دیکھا
“تم احساس کی بات کرتی ہو جبکہ شام سے لیکر رات کے دس بجے ہونے تک میں نے تمہیں سکون سے سونے دیا یہ میرا احسان تھا ورنہ تم ایسے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی جیسے جہیز میں ملا ہو سسرال والوں نے بری میں دیا ہو”چھوٹی بہن مت بھولو یہ ہمارا مشترکہ بیڈ ہے ہمارا۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“وہ سب تو ٹھیک مگر آپ نے کہا تھا کھانا مجھے یہاں دینگی مگر آپ مجھے چائے بنانے کا بول رہی ہیں”اِٹس ناٹ فیئر۔۔۔فاحا نے احتجاجاً کہا
“چائے بنانے کا بول رہی ہو پائے بنانا کا نہیں کہا جو یوں مسکینوں جیسی شکل بنائی ہوئی ہے۔۔”سارا دن لیٹ کر بستر توڑا ہے اب اگر چائے بنالو گی تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔۔۔میشا نے باقاعدہ زبردستی اُس کو بیڈ سے نیچے کیا
“قیامت کے دن اِس کا الگ سے حساب ہوگا آپ سے۔۔پاؤں میں چپل ڈالتی فاحا نے اُس کو وارن کیا
“یہ بیڈ میرے لیے گواہی دے گا کہ کیسے تم نے اِتنا وقت سوکر اِس کی کمر توڑی ہے۔۔میشا نے اُس کی بات ہوا میں اُڑائی تو فاحا پاؤں پٹختی کمرے سے باہر آئی عین اُسی وقت سوہان بھی گھر میں داخل ہوئی تو اُس کی جب نظر فاحا پر پڑی تو وہ جذباتی ہوکر اُس کی طرف بڑھ کر کچھ کہنے والی تھی جب فاحا بول پڑی
“آپ نہ چائے کا بڑا سا مگ خرید کرے ہفتہ بھر کی چائے بناکر میشو آپو کے کمرے میں رکھ دے ساتھ کمرے میں ایک چھوٹا سا چولہا بھی تاکہ جب اُن کا دل چاہے وہ چائے گرم کرکے پی لے مجھے زحمت نہ دے توبہ اللہ کا اِتنے مزے سے سوئیں تھی کہنی سر پر ٹِکائے فاحا کو اپنا آپ کسی فلم کی ہیروئن سے کم نہیں لگ رہا تھا مگر میشو آپو نے سارا کچھ خراب کردیا اب رات کو بغیر کھانا کھائے سوئیے گا فاحا کے پاس کوئی نہ آئے اور میری بات پر آپ غور ضرور کیجئے گا۔۔۔فاحا نان سٹاپ بولتی بنا اُس کی سُنے اُس کے برابر سے گُزر گئ پیچھے سوہان حق دق اُس کو جاتا ہوا دیکھنے لگی”گھر آنے پر اُس نے جو دونوں کا ری ایکشن سوچا تھا یا جیسی اُس نے توقع رکھی تھی خیر سے دونوں نے اُس پر پانی بالٹی گِرائی تھی۔۔”وہ جس حالت میں فاحا کو چھوڑ کر گئ تھی ایسے میں فاحا کا ایسے پہلے کی طرح بولنا اُس کو شاک میں مبتلا کرگیا تھا مگر اپنا سر دائیں بائیں ہلاکر سوہان نے جلدی سے خود کو کمپوز کیا
“دُنیا یہاں سے وہاں ہوجائے یا سونامی آجائے اِن دونوں کا جھگڑا اور پاگل پن کبھی ختم نہیں ہوگا اور میں میشو اور فاحا کی بہن ہوں مجھے حیران ہونا سوٹ نہیں کرتا کیونکہ اِن دونوں سے ہر چیز کی توقع کی جاسکتی ہے۔۔۔سوہان گہری سانس بھر کر خود سے بڑبڑاتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئ تھی اگر وہ دونوں دوپہر میں ہوئے حادثے کو ڈسکس کرنا نہیں چاہتیں تھی تو سوہان بھی ایسا ہی چاہتی تھی۔۔۔

پکڑے چائے فاحا اب سوئے گی آپ زرا ایک طرف ہوجائے یوں لگ رہا ہے جیسے بیڈ آپ کو جہیز میں یا پھر سسرالوں سے بری میں ملا ہے۔۔۔کچھ منٹس میں کمرے میں چائے لاتی فاحا نے میشا سے حساب بے باک کیا تھا۔
“پاگل بدھو بری میں بیڈ کون دیتا ہے۔۔میشا اُس کے ہاتھ سے چائے لیتی ہنسی دبائے بولی تو فاحا منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی کمرے کی کھڑکی کی طرف آئی تک اُن کو بند کرسکے مگر جیسے ہی وہ کھڑکیوں کے دونوں پٹ بند کرنے لگی تو اُس کو سامنے دیوار پر ایک سایہ نظر آیا جس کو دیکھ کر فاحا کا گلا خشک ہوا تھا اُس نے بے ساختہ اپنے سوکھے لبوں پر زبان پھیری تھی۔
“یہ سایہ کس کا ہے؟”جاکر دیکھو کیا؟فاحا نے بیحد آہستہ آواز میں خود سے سوال کیا
“ارے فاحا کیا پاگل ہوگئ ہو کیا تمہیں پتا نہیں ہارر ڈراموں میں اور موویز میں بھی کریکٹرز کو ایسے سایہ نظر آتا ہے جس سے ملنے یعنی پہچاننے کے لیے وہ اُس کے پیچھے جاتے ہیں اور وہ سایہ جو کسی جن کا ہوتا ہے وہ آسیب کی طرح اُس انسان میں چمٹ جاتا ہے اور وہ تو پاگل ہوتے ہیں جو جان کر بھی خود کو خود ہی کھائی میں گراتے ہیں فاحا اُن کی طرح بیوقوف تھوڑئی ہے جو جانتے ہوئے بھی نیچے اکیلے جائے اُن کو تو پتا بھی ہوتا ہے ہارر موی ہے ہارر ڈرامہ ہے اُن کو جن ہی ملے گا شہزادہ گُلفام نہیں پھر وہ کیوں مصیبت کو دعوت دیتے ہیں بھلا جن بھی کوئی دیکھنے والی مخلوق ہے جو بندہ رات کے پہر اپنا کمرہ اور گرم بستر چھوڑ کر یہ دیکھنے جائے کہ کالہ سایہ کس جن کا ہے۔۔۔اپنے خیالات کی خود ہی نفی کرتی فاحا مسلسل اُس سایے پر نظریں جمائے بڑبڑانے میں مصروف تھی اُس کو افسوس بھی ہورہا تھا اُن لوگوں پر جو رات کے وقت خوف میں مبتلا ہونے کے باوجود “کون ہے کون ہے”کہتے ہوئے اُس جن کے پیچھے جاتے ہیں۔۔
“ہونہہ آیا بڑا جن فاحا میں سمانے والا وہ کھڑکی بند کردے گی اور آرام سے سوجائے گی۔۔۔فاحا ایک ہی جگہ کھڑی ہوتی آخر کو ایک فیصلے پر پہنچ کر اُس نے کمرے کی کھڑکیوں کو بند کیا اور بیڈ پر آئی جہاں میشا چائے پینے کے بعد جانے کیسے سوگئ تھی۔۔
“ویسے جن دروازے سے آنے کی زحمت نہیں کرے گا وہ ایسے بھی آسکتا ہے۔۔۔”فاحا بیڈ پہ لیٹتی خود سے تانے بانے جوڑنے لگی پھر ایک خیال کے تحت اُس نے میشا کو دیکھا جو نیند میں تھی اُس کو دیکھتی فاحا نے جلدی سے اُس کو ہگ کیا۔۔
“اب ایسے سونے سے جن اگر فاحا میں سمانا پائے گا بھی تو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوپائے گا وہ تو ہمارے درمیان اب پھس جائے گا واہ فاحا تیرا کوئی جواب نہیں۔۔اپنی کاروائی سے مطمئن ہوتی فاحا پرسکون ہوتی آنکھیں موند گئ تھی اُس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کیونکہ بقول اُس نے ایک جن کو بیوقوف بنالیا تھا۔
