Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 32)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 32)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
“بابا آپ کی باتوں کے بارے میں بہت سوچا اور ایک فیصلے پر پہنچی ہوں۔۔۔فاروق صاحب ڈرائینگ روم میں سجاد ملک کے ساتھ بیٹھے قہوہ پینے میں مصروف تھے جب دیبا اُن کے پاس آتی سنجیدگی سے گویا ہوئی
“کہو کیا بات ہے؟فاروق صاحب ایک نظر سجاد ملک پر ڈالے دیبا سے بولے
“خیر سے دیبا بیٹے تم اب ستائیس برس کی ہو پر ابھی تک تمہیں یہ تک نہیں پتا کہ پہلے سلام کیا جاتا ہے”لالی کتنی چھوٹی ہے مگر جب بھی ملتی ہے بات کرنے سے پہلے سلام کرتی ہے۔۔سجاد ملک نے اُس کو دیکھ کر کہا تو دیبا کے ساتھ ساتھ فاروق صاحب بھی اپنی جگہ پہلو بدلتے رہ گئے تھے۔
“معذرت چاہتی ہوں بس جلدبازی میں بھول گئ اور السلام علیکم ۔۔دیبا نے اُن کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
وعلیکم السلام بتاؤ کیا بات کرنی ہے تم نے؟”کس فیصلے پر پُہنچی ہوں آپ۔۔۔سجاد ملک نے پوچھا
“میں اسیر سے شادی کرنے پر تیار ہوں”مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔دیبا نے بتایا
“تمہیں اعتراض ہونا چاہیے بھی نہیں تھا کیونکہ میرے بیٹے سے شادی کرنا ہر لڑکی کی خُواہش ہوسکتی ہے”ویسے بھی اعتراض اگر وہ کرتا تو جچتا ہے تمہیں نہیں جچتا ہے تمہیں تو بیٹھے بیٹھائے اِتنا وجاہت سے بھرپور لڑکا مل رہا ہے جو تم سے عمر میں چھوٹا ہے۔۔سجاد ملک نے کہا تو اُن کی بات پر دیبا نے اپنے باپ کو دیکھا جو خاموش سے تھے اُن کی یہ خاموشی دیبا کو پسند نہیں آئی
“گُستاخی معاف مگر آپ کا بیٹا بھی کوئی مصر کا شہزادہ نہیں اگر تھوڑا بہت شکل سے پیارا ہے بھی تو اُس کے مقابل میں دیبا فاروق بھی کسی سے کم نہیں ہے اور اگر بات کی جائے اخلاق کی تو آپ کے بیٹے کو اخلاق لفظ کا “ا” تک نہیں پتا۔۔۔دیبا بھی بدلحاظی سے بولی تو سجاد ملک کا پورا چہرہ غُصے سے کال بھبھو ہوگیا تھا
“بیٹا تم اپنے کمرے میں جاؤ۔۔فاروق صاحب نے اُس کو تنبیہہ کرتی نظروں سے دیکھ کر کہا
“کیوں کیا میں نے کچھ غلط کہا؟دیبا نے سوال اُٹھایا
“جو جیسا ہوتا ہے اُس کو ویسا ملتا ہے اِس بات کا اندازہ تم اپنے اندازِ گفتگو سے لگالوں کیونکہ میرا بیٹا جیسے کے ساتھ تیسا ہوتا ہے اگر کوئی اُس کے ساتھ ادب سے بات کرے گا تو وہ ادب سے جواب دے گا ورنہ بلاوجہ کی عزتیں دینے کا ٹھکا نہیں اُٹھایا ہوا اسیر نے۔۔سجاد ملک نے سنجیدگی سے کہا
“معافی چاہتی ہوں پر آپ کا بیٹا ہر ایک سے ایک جیسے لہجے میں بات کرتا ہے۔۔۔دیبا سنجیدگی سے اِتنا کہتی وہاں رُکی نہیں تھی۔۔
“تمہیں پتا ہے نہ مجھے عورتوں کا ایسے بات کرنا پسند نہیں”تم نے آج سے پہلے دیکھا ہے حویلی میں کسی عورت نے ایسے بات کی ہو؟”ارے یہاں تو کسی کی آواز نہیں نکلتی اور تمہاری بیٹی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے میرے شہزادے بیٹے کو غلط قرار کرکے چلی گئ ہے۔۔سجاد ملک نے غُصے سے فاروق ملک کو دیکھ کر اُن سے کہا
“بچی ہے نادان ہے اِس بار معاف کریں دوبارہ یہ غلطی نہیں ہوگی۔۔فاروق صاحب نے کہا تو سجاد ملک نے اپنا سرجھٹکا
Rimsha Hussain Novels![]()
“اسیر
“فائقہ بیگم اسیر کے کمرے میں آتی اُس کو پُکارنے لگی جو ہاتھوں کو آپس میں باہم جوڑے بیڈ پر بیٹھا سوچو میں گُم تھا۔
“جی کوئی کام تھا؟اسیر نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھ کر پوچھا
“تمہاری شادی کی تاریخ طے ہوگئ ہے”کل سے شاپنگ بھی شروع ہے تو ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت پڑے گی۔۔فائقہ بیگم نے کہا تو اسیر کے دماغ کا میٹر شاٹ ہوا تھا
“کیا ہوگیا ہے آپ لوگوں کو؟”ہمارا انکار آپ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کیا؟’نہیں کرنی ہم نے دیبا باجی سے شادی سُن لے جان لے اور اپنے شوہر کو بھی بتادے۔۔۔اسیر بپھرے ہوئے شیر کی مانند غرایا تھا
“اسیر کس طرح ہتک آمیز لہجہ ہے تمہارا شرم کرو اپنی ماں سے ایسے بات کرتے ہوئے تمہیں شرم سے ڈوب کر مرجانا چاہیے۔۔۔فائقہ بیگم نے کڑے تیوروں سے اُس کو گھورا
“ہماری نہ ابھی آپ ایک بات سُنے ہم نے دیبا باجی سے شادی نہیں کرنی وہ ایک چالباز” مکار عورت ہیں ہماری جوانی پر آپ زرا رحم کھائے۔۔۔”ہمیں کچھ سخت قدم اُٹھانے پر مجبور نہ کریں آپ جانتی ہیں ہماری مرضی کے خلاف آپ لوگ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔۔۔اسیر غُصے سے پاگل ہونے کے در پر تھا
“اچھا اگر ایسا ہے تو میری بات بھی کان کھول کر سُن لو اگر تم نے دیبا سے شادی نہیں کی تو میں ابھی تمہارے سامنے تمہاری ماں کو طلاق دوں گا۔۔اچانک سجاد ملک کی آواز پر دونوں نے چونکتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سجاد ملک سرد نظروں سے اُس کو گھور رہے تھے
“کافی پُرانہ اور بھونڈا بہانا ہے کسی کو اپنی بات منوانے کے لیے استعمال کرنے کا مگر ہم اسیر ملک ہیں جو آپ کی ایسی کھوکھلی باتوں میں نہیں آنے والے ہم نے ابھی شادی نہیں کرنی تو مطلب نہیں کرنی۔۔۔اسیر چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ سجائے بولا
“تمہیں اگر کھوکھلی دھمکی اور پُرانہ بھونڈا بہانا لگ رہا ہے تو ایسا ہی سہی مگر میں تمہاری ماں کو طلاق دے کر حویلی سے باہر نکال دوں گا تمہیں کیا لگتا ہے اگر میں نوریز کی شادیاں کرواسکتا ہوں تو اپنی نہیں کرسکتا۔۔۔سجاد ملک نے طنز نظروں سے اُس کو گھور کر کہا
“اپنا اور چچا کا موازنہ نہ کریں ورنہ جو ہم واضع فرق بیان کرینگے اُس پر آپ کو غُصہ آجائے گا۔۔۔اسیر نے کہا تو اُس کی بات پر جہاں فائقہ بیگم نے مسکراہٹ دبائی تھی وہی سجاد ملک نے تپی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھا
دیبا نے سہی کہا تھا تم کافی بدلحاظ ہوتے جارہے ہو۔۔۔سجاد ملک غُصے سے بولے
“اُس باجی کا نام نہ لے ہمارے سامنے۔۔۔اسیر کے چہرے پر ناگواری آگئ تھی۔۔
“آپ دونوں آپس میں لڑو مت اور اسیر شانت ہوجاؤ پرسکون ہوکر دیبا کے بارے میں سوچو وہ تمہارے ساتھ بہت اچھی لگے گی۔۔۔فائقہ بیگم نے اُن کے درمیان مداخلت کی
“تم میرے کمرے میں نہ آنا اپنا بوریا بستر سمیٹ کر یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔۔سجاد ملک نے فائقہ بیگم سے کہا تو اُن کا منہ دیکھنے لائق ہوگیا تھا۔
“ابا حضور یہ کیا پچکانہ پن ہے۔۔۔اسیر نے حیرت سے اُن کو دیکھ کر کہا
“تمہاری نظروں میں ہماری کسی بات کا بھرم رکھنا ضروری نہیں تو ٹھیک ہے اب تم سے کچھ نہیں کہینگے۔۔۔سجاد ملک نے اُس کو دیکھ کر کہا
“اسیر اپنی ضد کو چھوڑدو اگر تمہاری وجہ سے میرا رشتہ خراب ہوگیا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے کیونکہ میں اِس عمر میں طلاق کا طوق اپنے گلے میں نہیں ڈال سکتی۔۔۔فائقہ بیگم نے اُونچی آواز میں حیران پریشان کھڑے اسیر سے کہا
“کیا بلیک میلنگ ہے یہ؟اسیر زچ ہوا
“ہمارا آخری فیصلہ ہے اگر تم نے ہماری بات نہ مانی اور سب کے سامنے شرمندہ کیا تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔سجاد ملک نے اٹل انداز میں کہا
“آپ تو کہتے ہیں ہمارے خاندان میں طلاق کا رواج نہیں ہوتا پھر یہ سب کیا ڈرامہ ہے؟اسیر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اُن سے بولا
“طلاق نہ بھی دی تو یہ یہاں نہیں رہے گی ہم رشتہ ختم کردینگے میری بات لکھ لو تم۔۔۔سجاد ملک نے سنجیدگی سے کہا
“آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں میرے ساتھ؟فائقہ بیگم ہونک زدہ ہوکر سجاد ملک سے بولیں
“تم خاموش رہو یہ ہمارا آپسی معاملہ ہے۔۔سجاد ملک نے اُس کو گھورا
“اگر یہ ہمارا آپسی معاملہ ہے تو ہم تک رہنے دے اماں کو کیوں درمیان میں لا رہے ہیں؟اسیر بول پڑا
“تمہاری نافرمانی کی سزا کسی کو تو ملنی چاہیے نہ ویسے بھی اگر تم نے دیبا سے شادی نہ کی تو حویلی میں شادی ضرور ہوگی اور وہ ہوگی فراز اور لالی کی۔۔۔۔سجاد ملک نے کہا تو اُن کی آخری بات پر اسیر کا چہرہ لہو چِھلکانے کی حدتک سرخ ہوگیا تھا۔
“ہماری بہن کی شادی؟”اللہ کا خوف کریں کچھ وہ ابھی سولہ کی ہے اور فراز دس سال کا ہے سمجھ نہیں آرہا آپ لوگوں کا دماغ کیوں خراب ہوگیا ہے مگر ہماری بات سُن لے سب ہماری حیات میں تو آپ لوگ لالی کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں کرسکتے اور خبردار جو کسی نے اُس کے کان میں ایسا ویسا کچھ ڈالا بھی تو۔۔۔اسیر ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچتا سرد لہجے میں اُن سے بولا تو سجاد ملک کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی تھی آخر کو اُن کو اسیر کی کمزوری جو مل گئ تھی اب باآسانی وہ اپنی بات اسیر سے منواسکتے تھے۔
“تمہارے ہاتھ میں ہے اگر تم چاہتے ہو لالی کا نکاح اِس عمر میں نہ ہو تو تم خود دیبا سے شادی پر راضی ہوجاؤ۔۔۔سجاد ملک نے فیصلہ اُس کے ہاتھ میں سونپا
“ایسے بھی کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں اُس میں جو سب لوگ ہماری شادی اُس سے کروانے پر تُلے ہوئے ہیں اور آپ کو اپنی معصوم بیٹی تک نظر نہیں آرہی۔۔۔اسیر حیرت اور بے یقین جیسی کیفیت میں مُبتلا ہوتا اُن سے بولا
“اُس میں کیا ہے یا کیا نہیں اُس سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں تم بس ہماری بات کا مان رکھو۔۔۔سجاد ملک نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا
“ٹھیک ہے جیسا آپ کہو مگر ہماری بات یاد رکھیے گا اب کبھی آپ ہماری زندگی میں مداخلت نہیں کرینگے اور نہ لالی کے ساتھ آگے چل کر ایسا کرینگے وہ ہماری بہن ہے اور آج کے بعد اُس کی زندگی کا ہر اچھا بُرا فیصلہ ہم کرینگے۔۔۔اسیر نے نیم رضامندی ظاہر کرتے ہوئے اپنا حُکم سُنا کر کہا تو سجاد ملک اور فائقہ بیگم نے اُس کی بات پر زیادہ غور نہیں کیا وہ اِس بات پر ہی خوش تھے کہ اسیر شادی کے لیے مان گیا تھا۔۔
Rimsha Hussain Novels![]()
یہ میں کیا سُن رہی ہوں دیا؟نورجہاں بیگم دیبا کے کمرے میں آتی حیرت انگیز لہجے میں اُس سے استفسار ہوئی
“کیا سُن لیا ایسا جو اِتنی حیرت زدہ ہیں؟اپنے ناخنوں پر نیل پالش لگاتی دیبا مصروف لہجے میں پوچھنے لگی۔
“تم نے اسیر سے شادی کرنے پر حامی بھرلی؟”جبکہ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہیں کوئی اور پسند ہے اور تم اُس سے شادی کرو گی”پھر یہ کیا ڈرامہ ہے؟نورجہاں بیگم نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“ہاں سوچا آپ لوگوں کی بات مان لی جائے ویسے بھی اسیر حُسن اور دولت شُہرت سے مالا مال ہے اُس جیسا کوئی اور کہاں بس تھوڑا حُسن پرست مگر چلے گا۔۔دیبا پرسکون لہجے میں اُن کو جواب دینے لگی۔
“دیبا میری بات سُنو تم سچ سچ بتاؤ کیا بات ہے؟نورجہاں بیگم مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی اُن کو دیبا میں آیا یہ اچانک بدلاؤ سمجھ میں نہیں آیا
“آپ کیوں پریشان ہوگئ ہیں آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔۔۔”اِتنا اچھا رشتہ ملا ہے آپ کے بیٹی کو۔۔۔دیبا سرجھٹک کر اُن سے بولی
الحمداللہ پر شاید اُس کے حُسن کے چکروں میں یہ فراموش کرگئ ہو کہ مرد کی خوبصورتی کوئی نہیں دیکھتا۔”یہ سارے کمپلیکس لڑکیوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور تم کیوں اسیر سے شادی پر راضی ہوگئ جبکہ اب سب ٹھیک ہوگیا تھا۔۔نورجہاں بیگم اُس کے ساتھ بیٹھ کر بولیں
“جانتی ہوں مرد کا مزاج اور جیب دیکھی جاتی ہے پر میری پیاری امی جان مجھے کونسا اپنی ساری زندگی اُس اسیر کے ساتھ گُزارنی ہے۔۔۔دیبا اپنے چہرے پر گہری مسکراہٹ سجاکر بولی
پھر کیا سوچا ہے تم نے؟نورجہاں بیگم کو دیبا کے اِرادے ٹھیک نہیں لگے
“میں سلمان کو چاہتی ہوں ساری زندگی بھی اُس کے ساتھ گُزاروں گی بس تھوڑا شغل میلا کرنے کے لیے اسیر کو اپنا کِھلونہ بناؤں گی۔۔دیبا نے اُن کو اپنے عزائم سے آگاہ کیا
“تمہاری سوچ ہے کہ اسیر سے شادی کے بعد تم ایسا کرپاؤ گی اسیر سے شادی کے بعد تمہیں سلمان کو بھولنا پڑے گا۔۔نورجہاں بیگم نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا۔
“آپ دیکھتی جائے دیبا فاروق کرتی کیا ہے۔۔دیبا کا یقین قابلِ دید تھا جس پر نورجہاں بیگم خاموشی سے بس اُس کو دیکھتی رہ گئیں تھیں۔۔۔
Rimsha Hussain Novels![]()
آج اسیر اور دیبا کا نکاح تھا جس کی خوشی اسیر کو بلکل بھی نہیں تھی اور اِس بات کا اندازہ ہر کوئی بخوبی لگا رہا تھا”فائقہ بیگم اسٹیج پر آتی کتنی بار اُس کو مُسکرانے کا بول چُکی تھیں مگر اُن کی بات پر تو اسیر کے تیور مزید بگڑ رہے تھے ناچار فائقہ بیگم نے اُس کو اُس کے حال پر چھوڑدیا تھا
“تمہیں پتا ہے کچھ منٹس میں تمہاری میں کیا بن جاؤں گی۔۔۔دیبا فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسیر سے بولی تو اُس نے گردن موڑ کر کاٹ کھاتی نظروں سے اُس کو گھورا
” تم ہمارے گلے کا وہ ڈھول ہو جس کو ناچاہنے کے باوجود اپنے گلے میں ڈال کر ہمیں بجانا ہے”بس یا اور کچھ سُننا پسند کرو گی؟اسیر نے طنز سے بھرپور لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا تو دیبا اُس کو مُخاطب کرکے بہت پچھتائی تھی کیونکہ اسیر نے آج کا لحاظ کیے بنا ایک بار پھر اُس کو سُنا ڈالی تھی مگر اُس نے سوچ لیا تھا کیسے بھی کرکے وہ اسیر کی اکڑ کو ختم کرکے اُس کو حاصل ضرور کرے گی۔۔۔
Rimsha Hussain Novels![]()
حال:
ڈنر کافی اچھا تھا آپ کا شکریہ۔۔۔زوریز سوہان کو پارکنگ تک چھوڑنے آیا تو اپنی گاڑی کے پاس رُک کر سوہان نے اُس کو دیکھ کر کہا
“میرا موڈ تھا کہ کراچی جاکر ساحل سمندر پر چہل قدمی کرتے ہیں پھر صبح کو واپس آجاتے۔۔۔زوریز اُس کی بات پر یہ بولا
“شادی کرلے پھر اپنی بیوی کو کراچی کے ساحل سمندر لے جائیے گا۔۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر طنز کہا
“میں تیار ہوں مگر لڑکی تیار نہیں۔۔۔زوریز نے جواباً سنجیدگی سے کہا
“جیسی آپ کی باتیں ہیں اُس کو سُن کر کوئی نارمل لڑکی آپ سے شادی کرنا چاہے گی بھی نہیں۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر سرجھٹک کر کہا
“اچھا ویسے میرا ایک کام کردے نہ آپ کچھ ایسا کرے کہ میں اپنی میٹنگ کے سلسلے میں یہاں سے جا پاؤں۔۔۔زوریز نے ایک بار پھر کہا
” اپنے کیس کو کافی لائٹلی لیا ہے آپ نے مگر آپ پر بڑا کیس لگا ہے”ایک ڈرگ ڈیلر ہیں آپ پولیس کے لیے فلحال تو آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں اِتنے بڑے کیس کے چلتے ہوئے آپ پاکستان سے باہر جاسکتے ہیں۔۔۔سوہان کو زوریز کا بار بار یہ بات پر اڑ جانا سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
“کورٹ کچہریوں کے چکر میں بھی مجھے پڑنا ہے ویسے میں دُنیا کا پہلا ڈرگ ڈیلر ہوں جس نے کبھی ڈرگ کو دیکھا تک نہیں ہے۔۔۔زوریز چہرے پر عجیب تاثرات سجائے بولا
“اگر اِتنا شوق ہورہا ہے ڈرگز کو دیکھنے کا تو اُٹھائے فون اور گوگل پر سرچ کریں چل جائے گا پتا پھر ڈرگز ہوتے کیسے ہیں؟سوہان تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولی
“ویسے ڈرگز میں اِتنا نشہ نہیں ہوتا ہوگا جتنا کسی کے پیار میں ہوتا ہے۔۔۔زوریز اُس کو دیکھ کر جذب سے بولا تو اُس کی ایسی چانک بات پہ سوہان نے چونک کر اُس کو دیکھا مگر جلدی سے اپنا رُخ بدل دیا تھا۔
“لگتا ہے عمران ہاشمی سے کافی انسپائر ہیں جو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔۔۔سوہان نے تپ کر کہا تو اُس ایسے کمنٹ پر زوریز سر نیچے کرتا ہنس پڑا
“آپ کس سے انسپائر ہیں یہ بتادے کیا پتا مجھے کچھ اُس سے نالج مل جائے۔۔۔زوریز نے پوچھا
“مجھے لگتا ہے اب مجھے چلنا چاہیے۔۔۔۔سوہان اِتنا کہتی گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی جب زوریز نے اُس کی کوشش کو ناکام بنایا
“آپ کی گاڑی کا ٹائیر پنکچر ہے۔۔”آئے میں ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا تو بے ساختہ سوہان کی نظر گاڑی کے ٹائیر پر پڑی جو واقعی میں پنکچر تھا یہ دیکھ کر سوہان کو حیرت ہوئی
“رینٹ والی گاڑی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا کب کہاں کیسے دغا دے ڈالے پتا نہیں چلتا۔ ۔۔زوریز اُس کی حیرت بھانپ کر بولا
“یہ آپ نے کیا ہے نہ؟ سوہان مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“آپ کو میں ایسا کرنے والا لگتا ہوں؟ “میں تو آپ کے ساتھ تھا پھر میں یہ کیسے کرسکتا ہوں کیا آپ نے مجھے موبائل استعمال کرتا ہوا دیکھا؟ “اگر دیکھا ہو تو آپ کا کہنا جائز ہے کہ میں کسی سے کہلواکر کرواسکتا ہوں یقین کریں میرے ہاتھ صاف ہیں۔ ۔۔زوریز نے اپنا بھرپور دفاع کیا اور سوہان اُس کی باتوں میں آ بھی گئ کیونکہ اُس نے نوٹ کیا تھا وہ جتنا وقت بھی ساتھ تھے اُس میں دونوں میں سے ہی کسی نے اپنے سیل فونز کو دیکھا تک نہیں تھا۔
“آپ کی گاڑی کونسی ہے؟سوہان نے پوچھا
“وہ والی۔۔۔زوریز نے ایک جانب اِشارہ کیا
“آپ کب سے ایکسپورٹ کار چلانے لگے؟گاڑی کو دیکھ کر سوہان نے حیرت سے پوچھا
“یہ آریان کی ہے۔۔۔زوریز نے کہا
“اچھا۔۔سوہان نے مختصر کہا
“چلیں پھر؟زوریز نے پوچھا تو سوہان سراثبات میں ہلاتی اُس کی گاڑی کی طرف آئی
“کوئی گانا سُننے پسند کریں گی؟گاڑی میں بیٹھ کر زوریز نے اُس سے پوچھا
“نہیں۔۔۔سوہان نے صاف چٹے انداز میں انکار کیا
“میں کروں گا۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی زوریز نے میوزک سسٹم آن کیا تو کانوں کے پردے پھاڑنے والی آواز کار میں گونجنے لگی
“آج پھر تم پر پیار آیا ہے
آج پھر تم پر پیار آیا ہے
“بیحد اور بے شُمار آیا ہے
آج پھر تم پر پیار آیا ہے”
“گانے کے بولے جیسے ہی دونوں کے کانوں میں پڑے دونوں کی حالت بُری ہوئی تھی” زوریز کا پورا چہرہ خُجلت کے مارے سُرخ ہوگیا تھا جبھی اُس نے جلدی سے سٹپٹاکر گانا چینج کیا تو دوسرا گانا آن ہوا
“تیرے سامنے آجا نے سے یہ دل
میرا دھڑکا ہے
یہ غلطی نہیں ہے تیری
“یہ قصور نظر کا ہے
تیرے سامنے آجا نے سے یہ دل
میرا دھڑکا ہے
یہ غلطی نہیں ہے تیری
“یہ قصور نظر کا ہے
جس بات کا تُجھ کو
ڈر ہے وہ کرکے دیکھاؤں گا
آ آ
ایسے نہ مجھے تم دیکھو
سینے سے لگالوں گا
“تمکو میں چُرالوں گا تم سے
دل میں بسالوں گا
“دل میں ہزار صلوتیں زوریز آریان کو سُناتا پھر سے گانا بدلنے لگا تھا مگر ستم یہ تھا کہ گانا بند ہونے کو نہیں آرہا تھا جس پر سوہان نے اپنا سر پکڑلیا تھا۔مگر زوریز اپنی کوششوں میں کامیاب ہوگیا تھا جبھی تو تیسرا گانا شروع ہوا تھا۔۔
وہ میرے آنے پہ کھل جانا تیرا
وہ میرے جانے پہ چڑ جانا تیرا
وہ تیرے چھونے سے چھل جانا میرا
یاد ہے نا ،،،،، یاد ہے نا ،،،، یاد ہے نا
ہو پاس آنے پہ پگھل جانا تیرا
بوند بوند مجھ پہ برس جانا تیرا
وہ تل تل تجھ کو ترسانا میرا
یاد ہے نا ،،،، یاد ہے نا ،،،، یاد ہے نا
اِس بار زوریز کی بس ہوئی تھی اُس نے اُس لمحے کو کوسا جب اُس کے دل میں سوہان کے ساتھ بیٹھ کر گانا سُننے کی خُواہش کی تھی۔۔۔”اور اِس بار سوہان گردن موڑ کر زوریز کو دیکھنے لگی جس کے ہاتھ تیزی سے گانے کو بدلنے میں لگے ہوئے تھے مگر ہڑبڑاہٹ میں وہ جس بٹن کو پُش کرگیا تھا اُس سے گانا بند ہونے کے بجائے گانے کی آواز مزید تیز ہوگئ تھی۔۔۔”جس پر وہ لب بھینچتا سہی بٹن دبانے کی کوشش کرنے لگا۔۔
ہونٹوں سے پلکوں کو کھولنا
پلکوں پہ دردوں ،،،، کو تولنا
دردوں کو چادر میں چھوڑنا
ان دونوں کے درمیان گزرے حسین پل ۔۔۔
جو تیرے تکیوں پہ نیندیں تھیں پڑیں
جو تیری نیندوں میں راتیں تھیں ڈھلی
جو تیری راتوں میں سانسیں تھیں چلی
یاد ہے نا ،،،،، یاد ہے نا ،،،، یاد ہے نا
“سوہان جو خاموش سی مسلسل بس زوریز کی کاروائی ملاحظہ فرما رہی تھی اُس سے کچھ بھی ہوتا نہ دیکھ کر آگے بڑھ کر میوزک سسٹم آف کیا تو زوریز کی جان میں جان آئی تھی اور بے ساختہ اُس نے اپنا سر اسٹیئرنگ پر ٹِکایا تھا وہ یہ سوچ کر شرمندہ ہورہا تھا کہ اُس کا ایمپریشن سوہان پر آج بہت غلط پڑا تھا مگر دوسری طرف سوہان نے پہلی بار زوریز دُرانی کی ایسی پتلی ہوتی حالت اور چہرے کی اُڑی ہوئی رنگت دیکھی تھی جو جانے کیوں اُس کو مزہ دے گئ تھی ہڑبڑا کر گانے بدلتا ہوا زوریز آج اُس کو کوئی بچہ لگا تھا”اور کچھ ہی منٹس میں گاڑی میں سوہان کی ہنسی کے جلترنگ پوری گاڑی میں گونج اُٹھے تھے”زوریز کے کانوں میں سوہان کی ہنسی کی آواز پڑی تو وہ اپنا سر اسٹیئرنگ سے اُٹھاتا بے یقین نظروں سے سوہان کو دیکھنے لگا جس کے چہرے کی رنگت زیادہ ہنسنے کی وجہ سے سرخ ہوگئ تھی اور آنکھوں میں پانی جمع ہوگیا تھا۔۔”یہ منظر زوریز کو پہلی بار دیکھنے کو ملا تھا اور دل میں بے ساختہ یہ خُواہش جاگی تھی کہ کاش وقت یہی ٹھیر جاتا اور وہ یک ٹک بس سوہان کو ایسے ہنستا ہوا دیکھتا کیونکہ آج زوریز کو پتا لگا تھا کہ اپنی پوری زندگی میں اُس نے ایسا دلکش نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور جب خوشقسمتی سے دیکھنے کو ملا تھا تو دل میں عجیب خواہشات بیدار ہوئیں تھیں دیکھتے ہی دیکھتے کچھ قبل ہوئی اپنی حالت کا سوچ کر زوریز کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔
