Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 23)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

آپ کون؟باہر کا دروازہ نوک ہونے پر سوہان باہر آئی تو فل بلیک ڈریس میں ملبوس آدمی کو دیکھ کر تعجب سے پوچھا

“یہ دونوں چیز سر نے آپ کے لیے بِھجوائیں ہیں۔۔۔۔۔۔اُس آدمی نے ایک فائل اور خوبصورت پُھولوں کا بُکا اُس کی طرف بڑھائے بتایا

سر؟سوہان نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“زوریز دُرانی۔۔۔اُس نے بتایا

“ایک منٹ یہی رہنا۔۔۔۔۔سوہان اُس کو وہی رُکنے کا کہتی اندر آکر زوریز کا نمبر ملانے لگی جو دوسری بیل پر ریسیو ہوا تھا

السلام علیکم خیریت؟زوریز جو میٹنگ سے ابھی فارغ ہوا تھا اُس نے جب اپنے سیل فون پر سوہان کی کال کو آتا دیکھا تو حیرت سے پوچھنے لگا

وعلیکم السلام یہ کیا ہے؟سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا

“یہ سے مُراد؟زوریز کی نظروں میں اُلجھن در آئی

“آپ کو میں نے فائل کا کہا تھا بس اور آپ نے یہ پھولوں کا گُلدستہ بھیجا ہے؟”اِس کا میں کیا مطلب اخذ کروں؟سوہان نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں کہا اُس کے لہجے میں ناگواری زوریز پل بھر میں بھانپ گیا تھا

“پُھولوں کا کیا مطلب ہوتا ہے؟زوریز اب ساری بات سمجھتا اُس سے بولا

“یہی کے آدمی کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔۔سوہان نے دانت پیس کر کہا تھا

“کافی الگ اور یونیک مطلب نکالا ہے آپ نے خیر میں نے آپ کو گُڈ وشز دینے کے لیے پھول بھیجے تھے آپ نے جانے کیوں اِتنا ری ایکٹ کرلیا ہلانکہ اِس میں کوئی بڑی بات نہیں آپ چاہے تو آپ بھی مجھے ریٹرن میں پُھول بھیج سکتیں ہیں۔۔۔۔زوریز جواباً کافی رلیکس انداز میں بولا تو فون کان سے ہٹائے سوہان نے اسکرین کو گھورا جیسے سامنے زوریز کا چہرہ ہو

“مجھے ایسی چیز پسند نہیں اور میں اُمید کروں گی آپ دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرینگے اور نہ کبھی لال پھول بھیجے گے۔۔۔۔سوہان نے دو ٹوک لہجے میں کہا

“کیا آپ کو لال پھولوں کے علاوہ کسی اور رنگ کے کلر پسند ہیں؟زوریز نے پوچھا

“مجھے کیا پسند ہے یا کیا نہیں اُس سے آپ کو مطلب نہیں ہونا چاہیے میں بس چاہتی ہوں آپ بس کام کی حد تک مجھ سے رابطہ کریں اُس سے زیادہ نہیں۔۔۔۔سوہان نے کہا

“ہاں تو میں نے غیرضروری کوئی بات یا حرکت بھی نہیں کی بس آپ نے میرا اِتنا بڑا کیس لیا ہے تو بیسٹ وشز کے لیے میں نے آپ کو پھول بھیجے اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید میں یہی کرتا خیر آئیندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا

“آپ کا بہت شکریہ اور میں یہ پھول واپس بھیج رہی ہوں۔۔۔۔سوہان نے کہا

“اپنے گھر کے کسی ڈسٹ بن میں پھینک دے یا پاؤں کے نیچے کُچل دے مجھے کوئی شکوہ نہیں ہوگا پر اگر آپ نے واپس بھیجے تو مجھے بہت افسوس ہوگا۔۔۔زوریز نے اپنی بات کہہ دینے کے بعد کال کاٹ دی تھی جس پر سوہان بس بند ہوتی اسکرین کو دیکھتی رہ گئ تھی۔.”پھر اُس نے اُن پھولوں کو دیکھ کر اپنے تھوڑے قریب کیا پھر ایک لمبا سانس اپنے اندر کھینچا عین اُسی وقت اُس کے فون پر میسج ٹیون بجی تھی۔۔”جو زوریز کی طرف سے تھی

“پھول خوشبوں بکھیرنے میں اہم کام سرانجام دیتے ہیں لہذا اُن کو دیکھ کر ناراض ہونے کے بجائے مسکرایا کریں 🙂

میسج پڑھ کر سوہان نے گھر کے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے آدمی اُس کو نظر نہیں آیا شاید وہ چلاگیا تھا۔۔۔۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

“عاشر نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کرکے کیفے میں بیٹھی لالی کو دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں موجود شاپر کو دیکھا اور اپنی اور فاحا کی باتیں یاد کرلینے لگا۔۔۔

❤

حجاب میں اُس کو دوں تو سہی پر وہ بُرا مان جائے تو؟عاشر فاحا کی بات پہ تھوڑا جِھجھک کر بولا

“وہ بُرا کیوں مانے گی؟”یہ تو ایک بہت اچھا تُحفہ ہے دوسرا لڑکی ہر چیز لینے سے انکار کرسکتی ہے پر حجاب لینے سے وہ کبھی انکار نہیں کرپائے گی۔۔۔ فاحا نے اُس کو تسلی کروائی تھی۔

“وہ آلریڈی بہت بڑی چادر اوڑھتی ہے۔۔۔۔عاشر لالی کو تصور میں سوچ کر اُس کو بولا

“اُس چادر کا کیا فائدہ جب بال ظاہر ہونے لگے تو آپ ایسا کریں حجاب اُس کو تحفے میں دے۔۔۔”اور باتوں ہی باتوں میں اُن سے اپنے دل کا حال بیان کرے فاحا کی بات لکھ لے آپ کوئی انکار نہیں ہوگا۔۔۔۔فاحا نے کہا تو عاشر نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی تھی۔

❤

السلام علیکم ۔۔۔۔سوچو کی دُنیا سے واپس آکر عاشر لالی کی طرف آیا تھا۔

وعلیکم السلام جی؟لالی نے نظریں اُٹھائے اُس کو دیکھا

یہ آپ کے لیے؟عاشر نے شاپر اُس کی طرف بڑھایا

“یہ کیا ہے؟لالی نے ہاتھ بڑھائے بنا ایک نظر شاپر پر ڈال کر اُس سے پوچھا

اِس میں

“لالی سجاد باہر آپ کے بھائی آپ سے ملنے آئے ہیں۔۔۔۔ابھی عاشر اُس کو بتانے والا تھا جب کیفیٹریا میں ایک اسٹوڈنٹ نے آکر لالی سے کہا تو عاشر کی بات درمیان میں ہی رہ گئ تھی۔۔۔

“ایکسکیوزمی۔۔۔لالی جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھتی باہر کی طرف بڑھی تھی اور عاشر اپنا ہاتھ پیچھے کرتا اُس کو جاتا دیکھنے لگا کچھ سوچ کر وہ اُس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔۔

“السلام علیکم بھائی کیسے ہیں آپ”اور حویلی میں باقی سب؟لالی نے مسکراکر اسیر ملک کو دیکھا جو آج کاٹن کے بلیک شلوار قمیض میں ملبوس کھڑا تھا اور کندھوں پر ہمیشہ کی طرح شال اُوڑھی ہوئی تھی”اُس کے پیچھے آدمیوں کی لائن لگی ہوئی تھی جو ہمیشہ اسیر کے ساتھ ہوا کرتیں تھی

“وعلیکم السلام ہم ٹھیک ہیں آپ تیاری کرلیں اماں آپ کو یاد کررہی تھی تو آپ کو حویلی چھوڑ آئے گے ہمیں شہر میں اور بھی بہت سے کام ہیں۔۔۔۔اسیر لالی کو سلام کا جواب دیتا سنجیدگی سے بولا”اور گیٹ پاس عاشر آیا تو اسیر ملک کا جائزہ لینے کے بعد اُس کی گاڑیوں کو دیکھنے لگا انجانے میں اُس کی گرفت شاپر پر مضبوط ہوئی تھی”اُس کو اندازہ نہیں تھا کہ لالی کا تعلق اِتنے بڑے خاندان سے ہوگا لالی کا سادہ انداز اور رُکھ رکھاؤ سے اُس کو یہی لگتا تھا کہ شاید وہ بھی میڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہوگی مگر آج اسیر کو دیکھ کر اُس کو اپنی خیالات غلط ثابت ہوتے محسوس ہوئے تھے” اگر اُس کو اندازہ ہوتا تو وہ کبھی لالی سے دل نہ لگاتا آج وہ سمجھ نہیں پایا اپنے غریب ہونے پر شکوہ کرے یا لالی کے بڑے خاندان سے ہونے پر افسوس کریں؟

“جی ضرور مجھے بھی سب کی بہت یاد آرہی ہے اور اب تو اقدس سے بھی مُلاقات ہوگی۔۔۔لالی پرجوش آواز میں بولی

“بلکل ابھی آپ کا اگر کوئی سامان اندر ہے تو لائیے ہم نے ویسے بھی یونی والوں سے بات کرلی ہے۔۔۔۔اسیر نے کہا تو لالی سر کو جنبش دیتی گیٹ کی طرف رُخ کیا تو نظر ایک جگہ ٹِک کر کھڑے ہوئے عاشر پر گئ جس کی نظروں میں جانے ایسا کیا تھا جو وہ بے ساختہ نظریں چُرانے پر مجبور ہوگئ تھی”اُس کے برعکس عاشر ایک آخری نظر اُس پہ ڈال کر اندر چلاگیا تو لالی بھی اپنا سرجھٹک کر یونی کے اندر داخل ہونے لگی۔۔۔

Rimsha Hussain Novels❤

“آپ کا منہ کیوں بنا ہوا ہے؟فاحا اسکوٹی پر میشا کے پیچھے بیٹھتی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔

دن خراب گُزرا ہے میرا۔۔۔۔میشا نے بتایا

“آپ کا دن؟فاحا کو یقین نہ آیا

“ہاں جی میرا دن کیفے سے نکال دی گئ ہوں۔۔۔۔میشا نے بتایا

“وہاں پر بھی آپ کے ہاتھوں کو چین نہ آیا؟فاحا کو گویا افسوس ہوا

“ہاں جی نہیں آیا اور اب تم چپ رہو خبردار جو سوہان سے کچھ بھی کہا تو۔۔۔میشا نے اُس کو خبردار کیا

“فاحا کیوں بتانے لگی آپو کو آپ خود بتانا ویسے بھی فاحا مصروف رہنے والی ہے کیونکہ اُس نے انویٹیشن کارڈ تیار کرنے کا سوچا ہے اور آپ کو پتا ہے کیا؟”گنے چُنے گیسٹ لیسٹ میں فاحا نے زوریز دُرانی کا نام بھی ایڈ کیا ہے۔۔۔۔فاحا نے پرجوش لہجے میں اُس کو بتایا تو میشا نے بے ساختہ اسکوٹی کو بریک گائی تھی

“کیا ہوا؟”فاحا کو ہسپتال پہنچانا تھا کیا،؟فاحا اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتی اُس کو گھورنے لگی۔۔

“زوریز دُرانی کہاں سے آگیا یاد تمہیں؟میشا نے اُس کی بات اگنور کی

فاحا اُس کو بھولی کب تھی؟”ہائے کیا لش پش پرسنائلٹی تھی اُس کی خیر فاحا نے سوچا آپو سوہان اور اُن کی مُلاقات ضرورت سے زیادہ سرسری ہوئی تھی تو کیوں نہ اِس بار گہری اور اچھی والی میٹنگ کروائی جائے۔۔۔فاحا نے جھٹ سے جواب دیا

“سوچ لو کہی لینے کے دینے نہ پڑجائے۔۔۔میشا کو ٹھیک نہیں لگا

“فاحا پُرامید ہے آپ بھی ٹینشن نہ لو۔۔۔۔فاحا نے مزے سے کہا

“وہ نہیں آئے گا وہ کوئی عام شخصیت نہیں ہے فاحا۔۔۔میشا نے اُس کو سمجھانا چاہا

“عام خاص کچھ نہیں ہوتا بس آپ دیکھ لینا وہ ضرور آئے گے۔۔۔۔فاحا نے پُریقین لہجے میں کہا تو میشا کندھے اُچکاتی اسکوٹی کو دوبارہ چلانا شروع کیا

❤Rimsha Hussain Novels❤

سجاد ملک اپنے کمرے میں غُصے سے یہاں سے وہاں ٹہل رہے تھے اُن کی پیشانی میں اِن گنت بلوں کا اضافہ تھا جبکہ پورا چہرہ غُصے کی بدولت تمتمارہا تھا”اُن کا بس نہیں رہا تھا کہ پوری دُنیا کو آگ لگادیتے۔۔”اُن کو اسیر کی زبانی جیسے ہی ساری حقیقت معلوم ہوئی تھی تب سے وہ بے چین سے تھے ایک لمحے کے لیے بھی اُن کو سکون میسر نہیں ہوا تھا”نوریز ملک ڈسچارج ہوکر حویلی آگئے تھے مگر اُنہوں نے ایک بار بھی اُن سے بات کرنا گوارا نہیں کیا تھا۔۔۔

“پرسکون ہوجائے آپ میری بات لکھ لے وہ منحوس کبھی ہماری حویلی میں اپنے یہ سبز قدم نہیں رکھیں گی۔۔۔فائقہ بیگم جو مسلسل اُن کو دیکھ رہی تھی آخرکار بولے بغیر نہ رہ پائی تھی۔۔۔”جواباً سجاد ملک ایک نظر اُن کو دیکھ کر دوبارہ اپنے کام میں لگ گئے۔

“میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔سجاد ملک کچھ توقع بعد بولے

“کیسا فیصلہ؟فائقہ بیگم چونک سی گئیں۔۔۔۔

“نوریز ملک ایک بار پھر بغاوت پر اُتر آیا ہے تو میں بھی اب وہ کام کروں گا جو سالوں پہلے کردینا چاہیے تھا۔۔۔سجاد ملک کی بات سن کر فائقہ بیگم کی آنکھوں میں اُلجھن در آئی تھی وہ ابھی تک سجاد ملک کی باتوں کو سمجھ نہیں پائیں تھیں۔

“آپ صاف صاف بات کیوں نہیں کرتے۔؟فائقہ بیگم اکتاکر بولیں

“وقت آگیا ہے کہ نوریز ملک کی بیٹیوں سے سانسیں چھین لی جائے” ویسے بھی اُنہوں نے کچھ زیادہ زندگی گُزار لی ہے مگر اب بس بہت ہوگیا اُن کو اِس بوجھ سے آزاد ہونا چاہیے۔ ۔۔۔سجاد ملک شیطانی مسکراہٹ سے بولیں تو اُن کی ساری بات سمجھ جانے کے بعد فائقہ بیگم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی تھی

“تو یہ نیک کام آپ کب کرنے والے ہیں؟ فائقہ بیگم نے پوچھا

“آدمی تلاش کررہا ہوں جو ایسے کاموں میں ماہر ہو میں اگلی بار کی طرح اِس بار کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔سجاد ملک نے کہا

“جیسا آپ کو بہتر لگے سچ پوچھیں تو نوریز کے اندر جاگی اچانک بیٹیوں کی محبت دیکھ کر میں خود کوفت زدہ ہوگئیں ہوں۔۔۔فائقہ بیگم بیزاری سے بولیں

“فکر نہیں کرو یہ کام بس ایک ماہ میں ہوجائے گا۔۔۔۔”سجاد ملک نے اُن کو تسلی دِلوائی تھی۔۔”کمرے کے دروازے کے پار کھڑی اسمارہ بیگم کے چہرے پر اُن کی بات سن کر زہریلی مسکراہٹ آئی تھی جو کسی اچھی بات کا پیش خیمہ ہرگز نہیں تھی۔۔۔۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں میں۔۔۔۔آریان نے کچن میں کھڑے زوریز کو کافی بناتا دیکھا تو کہا

“کہو؟زوریز نے مصروف لہجے میں اُس کو جواب دیا”آریان کا آپ کہہ کر اُس کو مُخاطب کرنا؟”زوریز کو سوچنے پر مجبور کرگیا تھا کہ ضرور دل میں کچھ کالا تھا۔۔۔۔

“آپ کی پھوپھو سے بات ہوئی تھی آج؟آریان نے پوچھا

“نہیں میں آج مصروف تھا بہت۔۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے بتایا تھا

“ایک تو آپ کی مصروفیت خیر پھوپھو نے بتایا وہ پاکستان آنے والیں ہیں۔۔۔۔آریان نے سرجھٹک کر اُس کو بتایا

“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔زوریز کافی کپ میں انڈیلتا جواباً بولا تھا۔

“اُنہوں نے بتایا اِس بار وہ ہم دونوں کی شادی کروا کر ہی جائیں گیں۔۔۔آریان کن آکھیوں سے اُس کو دیکھ کر بولا تھا

“یہ کہو نہ اِس بار مستقل پاکستان رہنے آنے والیں ہیں۔۔۔۔زوریز اپنی بات کہتا کچن سے باہر نکل کر ٹی وی لاؤنج میں آیا اور ریموٹ پکڑ کر نیوز چینل لگادیا تھا۔

“آپ کی اِس بات سے کیا مطلب ہوا؟آریان اُس کے پیچھء پیچھے آتا پوچھنے لگا

“مطلب صاف ہے میرا ابھی شادی کا کوئی موڈ نہیں۔۔۔۔زوریز سنجیدگی سے کہتا کافی کا گھونٹ بھرنے لگا

“تو ہماری وہ کونسی بہن ہے جس کو یہ تازہ ترین پھول بھیجے جاتے ہیں۔۔۔۔آریان تپ کر بولا تو کافی پیتے زوریز کو زبردست قسم کا اچھو لگا تھا۔۔۔”پل بھر میں اُس کی سفید رنگت میں سرخی مائل ہوگئ تھی جس کو دیکھ کر آریان تھوڑا پریشان ہوا

“آر یو آلرائٹ؟آریان اُس کے قریب ہوتا کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگا جس کی آنکھوں میں زیادہ کھانسنے کی وجہ سے اب پانی بھی آگیا تھا

“تم نے ابھی کیا بکواس کی؟زوریز کی حالت تھوڑی سُدھری تو اُس کو گھور کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“تمہاری نظروں میں تو ہمیشہ میں بکواس کرتا رہتا ہوں تو مجھے شیورلی کیا پتا اب تمہیں کونسی بکواس سُننی ہے۔۔۔آریان منہ کے زاویئے بنا کر بولا

“تمہیں اچھے سے پتا ہے آریان۔۔۔۔زوریز نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

“وہ م

آریان سے کچھ بولا نہیں گیا

“تم میری پروائیٹ چیزوں میں گُھس رہے ہو سیریسلی؟ “کیا آج تک میں کبھی تمہاری پروائیویسی میں انوالو ہوا ہوں؟ زوریز کے لہجے میں کوئی رائت نہیں تھی۔

“کیا ہوگیا ہے ہم دونوں میں بھلا کیسی پروائیویسی اور اتفاقً میں جان گیا اِس میں کونسی بڑی بات ہے یہ۔ ۔۔۔آریان کو زوریز کا اِتنا ری ایکٹ کرنا سمجھ نہیں آیا

“جیسا تمہیں لگ رہا ہے ویسے کچھ نہیں ہے۔۔۔۔زوریز نے سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“ایسا ویسا میں سوچ بھی نہیں رہا تھا وہ بس میں نے اِس لیے پوچھا کیونکہ آج سسٹر ڈے تھا نہ تو

“آریان اِتنا کہتا ایکدم چُپ ہوگیا تو زوریز کا دماغ بھک سے اُڑا تھا وہ بے یقین نظروں سے آریان کو دیکھنے لگا جو اب یہاں سے وہاں دیکھ رہا تھا اچانک پھر اُس کا چھت پھاڑ قہقہقہ گونجا تھا جس پر زوریز کو تاؤ آیا

“بند کرو اپنا یہ جناتی قہقہہ۔۔۔۔۔زوریز نے اُس کو وارن کیا مگر آریان مزید تیز آواز میں ہنسنے لگا اُس کو ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوتا دیکھ کر زوریز تپ کر اپنا سیل فون کھول کر اُس میں کچھ تلاش کرنے لگا جہاں آج واقعی ہر جگہ سسٹر ڈے نظر آرہا تھا یہ دیکھ کر زوریز اپنے جبڑے بھینجتا بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا تھا

“ہاہاہاہاہا

حد ہے یعنی زندگی میں پہلی بار آپ نے کسی کو پھول بھیجے بھی تو کس دن اُس دن جس دن لڑکیاں لڑکوں کو اپنا بھائی بناتی ہیں مگر یہاں تو آپ نے خود اپنے پاؤں پر کُلہاڑی ماردی ہے ویٹ کریں برادر ڈے بھی آرہا ہے جلد ایسے پھول آپ کو بھی ملینگے۔۔۔۔آریان کی باتوں نے جلے پر نمک کا کام کیا تھا

“بکواس نہیں کرو آریان ہر ایک کا دماغ اِن خُرافات چیزوں کے بارے میں نہیں سوچتا تم بھی نہ اب بڑے ہوجاؤ۔۔۔زوریز اُس تک پہنچ کر سخت لہجے میں بولا جس کا اثر آریان پر نہیں ہوا تھا

“اب رونے کا کیا فائدہ جب چڑیا چُگ گئ کھیت۔۔۔۔آریان کی بات پر زوریز کی بس ہوئی تھی تبھی ایک اچٹنی نظر وہ اُس پہ ڈالتا لاؤنج سے جانے لگا

“تھینکس فار دا کافی۔۔۔”خوش رہو اور سئنیاں کے بجائے بھیا بننے کی کوشش کرتے رہو۔۔۔۔ٹیبل پر زوریز کا رکھا ہوا کافی کا کپ اُٹھائے آریان نے اُس کو پیچھے سے ہانگ لگائی تھی جس کو زوریز نظرانداز کرگیا تھا۔۔۔۔”اُس کا اِرادہ اب باہر جانے کا تھا۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

مجھے یہاں بُلوانے کا مقصد؟سوہان نے سنجیدہ نظروں سے اپنے سامنے بیٹھے اسیر ملک کو دیکھا تھا وہ دونوں اِس وقت کیفے میں موجود تھے

“ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔جواباً اسیر نے بھی سنجیدگی سے کہا

“کہو میں سُن رہی ہوں۔۔۔سوہان نے کہا

“چچا جان چاہتے ہیں ہم تم سے بات کریں”تمہیں بتائے کہ وہ تم تینوں کو یاد کرتے ہیں تمہیں اپنے پاس دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔اسیر نے بتایا

“اچھا تو تم یہاں اُن کے سفارشی بن کر آئے ہو۔۔۔سوہان طنز مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ کر بولی

“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔اسیر نے ایک اچٹنی نظر اُس پر ڈال کر انکار کیا

پھر جو بات ہے وہ کرو۔۔۔سوہان نے کہا

“چچا جان چاہتے ہیں تم تینوں گاؤں میں رہو۔۔۔اسیر نے بتانا شروع کیا تو بے ساختہ سوہان نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا تھا

“اُن سے کہو ایسا کچھ سوچے بھی نہیں اور نہ ہماری ہنستی کھیلتی زندگی میں دخل اندازی کرے یہ میں قطعاً برداشت نہیں کروں گی۔۔۔سوہان اپنا ہاتھ زور سے ٹیبل پر مارتی اسیر سے بولی تو کچھ لوگوں کی توجہ اُن پر مبذول ہوئی تھی اور اسیر نے کافی ناپسندیدہ نظروں سے سوہان کو دیکھا تھا

“تمہیں اندازہ نہیں ہم کون ہیں”اِس لیے جو بھی بات کرو اچھے طریقے سے کرو۔۔۔اسیر نے سخت لہجے میں اُس سے کہا جس پر سوہان نے اپنا سرجھٹکا

“ہمارا حق نہیں بنتا کچھ بھی کہنے کا مگر معاف کرنے میں کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوجاتا۔۔۔اسیر نے کہا

“ہاں بلکل تم نے ٹھیک کہا مگر انٹرسٹنگ بات یہ ہے کہ لفظ”معافی”کہنے میں بہت چھوٹا ہے مگر اُس کے برعکس معاف کرنے میں وہ ایک بڑا لفظ ہوجاتا ہے اِتنا بڑا کہ اُس کو کرنے میں انسان کی کبھی کبھار پوری زندگی لگ جاتی ہے۔۔۔۔”ہمارے لیے اُن کو معاف کرنا ایک بڑا عمل ہے یہ ہمارے لیے آسان نہیں ہے اپنے چچا کو بتادے اُن کی معافی سے ہمارا بیتا ہوا کل واپس نہیں آئے گا اِس لیے ہمارے مندمل ہوئے زخموں کو اُڈھیرنے کی کوشش وہ نہ ہی کریں تو اچھا ہے ہمیں ہمارے حال پہ چھوڑے دے ٹھیک اُس طرح سے جیسے بہت سال پہلے چھوڑا تھا۔۔۔سوہان نے اپنے ایک ایک لفظ پر خاصا زور دیا تھا جس پر اسیر نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا وہ جانتا تھا سوہان کا ردعمل ایسا ہی ہوگا

“تمہاری بات سے ہم متفق ہیں۔”مگر

السلام علیکم ۔۔۔۔۔ابھی اسیر کچھ کہنے والا تھا جب کوئی اُن کی ٹیبل پر آکر کھڑا ہوا تھا

وعلیکم السلام آپ یہاں؟سوہان نے زوریز کو دیکھا تو ہمیشہ کی طرح اُس کے منہ سے وہی سوال نکلا تھا

“جی میں اور آپ نے کبھی بتایا نہیں کہ آپ کا ایک بڑا بھائی بھی ہے۔۔۔۔زوریز ایک اچٹنی نظر اسیر ملک پر ڈالے اُس سے بولا تھا اسیر نے اپنی آئبروز کو اُپر کیے سرتا پیر زوریز کا جائزہ لیا تھا”جبکہ لفظ “بھائی”پر سوہان کو کافی عجیب لگا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *