Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 12)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 12)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
آپ یہاں؟سوہان نے اُس کو دیکھ کر حیرانگی کا اِظہار کیا
آپ کو شاید پتا نہ ہو مگر ہم یہاں شفٹ ہوچُکے ہیں ایک سال ہوگیا ہے”خیر آپ بتائے”کیسی ہیں آپ؟زوریز نے بتانے کے بعد پوچھا انداز اُس کا ہنوز سنجیدہ تھا
پوچھ ایسے رہا ہے حال چال جیسے احسان کررہا ہے۔۔۔۔میشا کی زبان میں کُھجلی ہوئی
میری آپو کی زبان سے کونسے پُھول جڑرہے ہیں چہرے دیکھے کیسا سپاٹ ہے ہلانکہ مجھے پتا ہے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوگے۔۔۔۔فاحا نے جواباً کہا تو میشا نے گردن موڑ کر اُس کو گھورا
آپ کون ہیں؟اور سوہان کو کیسے جانتے؟سوہان کے کچھ بھی کہنے سے پہلے میشا نے بڑی سنجیدگی سے زوریز سے پوچھا
آپ غالباً میشا ہیں؟زوریز میشا کو دیکھتا بولا تو میشا کا پورا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔
فاحا میں گِرنے لگیں ہوں مجھے بچانا۔۔۔۔۔میشا ڈرامائی انداز میں فاحا سے بولی
گِرجائے آپ پھر فاحا کیا پوری پبلک آپ کو اُٹھائے گی۔۔۔فاحا نے جواباً جو کہا اُس کو سُن کر میشا سخت بدمزہ ہوئی
ہاں میں میشا ہوں۔۔۔۔میشا سنبھل کر بولی
اور آپ فاحا۔۔۔۔زوریز نے اب کی فاحا کو دیکھ کر کہا تو اُس کا سر خودبخود اثبات میں ہلا
آپ کیسے جانتے ہو؟میشا نے بے چینی سے پوچھا
سوہان نے بتایا اور ہماری مُلاقات آسٹریلیا میں ہوئی تھی۔۔۔۔”زوریز نے بتایا
سرسری سی۔۔۔خاموش کھڑی سوہان نے لُقمہ دیا
سرسری سی مُلاقات میں آپ کو ہمارا نام پتا چل گیا اگر ملاقاتیں گہری ہوتیں تو یہ بھی پتا چلتا کہ ہم کیا اور کب کھاتے پیتے ہیں۔۔۔فاحا نے مسکراہٹ ضبط کیے معصوم لہجے میں کہا تو سوہان نے مصنوعی گھوری سے اُس کو نوازا تھا مگر میشا مُتفق انداز میں اپنا سرہلانے لگی تھی۔۔۔۔۔
آپ شاید کہی جانے والے تھے۔۔۔۔سوہان نے بلیک ڈریس میں ملبوس دو آدمیوں کو اُس کے پیچھے کھڑا ہوتا دیکھا تو سنجیدگی سے کہا
آپ تفصیل سے بتائے نہ کیا آپ سوہان کے کلاس میٹ تھے؟میشا نے سوہان کی بات پر جھٹ سے اپنا سوال بھی آگے کیا
نہیں میں اِن کا سینئر تھا۔۔۔۔زوریز نے جواب دیا
لگتا ہے اِن کو مُسکرانا نہیں آتا۔۔۔۔۔فاحا نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی زوریز کو مسکراتا نہیں دیکھا تو میشا کے کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں بولی
آتا ہوگا مگر ایز آ یونی فیلو ہونے کے باعث سوہان کی شکل دیکھ کر بیچارا مسکرانا بھول گیا ہوگا۔۔۔۔میشا نے بھی اُس کے انداز میں جواب دیا تو زوریز اُن کو آپس میں کُھسر پھسر کرتا دیکھ کر اُن سے نظریں ہٹائے سوہان کو دیکھنے لگا جو یہاں وہاں دیکھنے میں خود کو مصروف ظاہر کررہی تھی۔
آپ میں سے بڑ
یہ بڑی ہے اور میں چھوٹی ہوں اور آپ پلیز یہ مت کہیے گا کہ ایج ڈفرنس فیل نہیں ہورہا کیونکہ پھر یہ میرے ساتھ ناانصافی ہوگی۔۔۔زوریز سوہان سے نظریں ہٹائے اُن سے کچھ کہنے والا تھا جب فاحا جلدی سے اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی
ایج ڈفرنس واضع ہے میں تو یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ
بڑی بہن کا رشتہ احترام کا ہوتا ہے مگر اِس نے میرا احترام کرنا سیکھا ہی نہیں ہے۔۔۔۔اِس بار دوبارہ میشا نے اُس کی بات کاٹ کر فاحا کے سر پہ چپت لگائے کہا
بلکل چھوٹی بہن کا رشتہ پیار بھرا ہوتا ہے مگر اِنہوں نے کبھی چھوٹی بہن سے پیار کرنا سیکھا ہی نہیں۔۔۔فاحا بھی اُسی کے انداز میں سر پہ چپت لگائے بولی تو سوہان کا بس نہیں چلا وہ اُن دونوں کو غائب کردیتی
“تم دونوں جاؤ میں آتی ہوں۔۔۔۔سوہان کے لہجے میں تنبیہہ تھی
کوئی پرائیوٹ ڈسکشن کرنی ہے تو ہم اپنے کان بند کرلیتے ہیں یو گائیز کیری آن نو پروبلم۔۔۔میشا اپنے کانوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر بولی
میشو۔۔۔۔۔سوہان نے اِس بار کھینچ کر اُس کا نام لیا
جاتی ہوں۔۔۔۔میشا نے منہ بسور کر کہا
میں تو چھوٹی ہوں اور فاحا کو زیادہ تر باتوں کا پتا نہیں ہوتا اور نہ سمجھ تو آپ میری موجودگی میں بلاجھجھک بات کرسکتے ہیں۔۔۔۔فاحا نے دانتوں کی نُمائش کیے کہا
میشا کے پاس جاؤ۔۔۔سوہان نے اُس کو بھی جانے کا کہا تو فاحا کا منہ بن گیا
اوکے۔۔۔۔۔۔فاحا منہ بسور کر کہتی ریسٹورنٹ کے اندر جانے لگی۔۔۔۔
آپ کہاں غائب ہوگئیں تھیں اچانک؟زوریز اُن دونوں کے جانے کے بعد سوہان سے مُخاطب ہوا
میں نے یونی چینج کرلی تھی۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا
کیوں؟زوریز نے پوچھا
ایسے ہی۔۔۔۔۔سوہان نے ٹالنا چاہا
بہت وقت بعد آپ سے مل کر اچھا لگا خیر اب میں چلوں گا۔۔۔۔زوریز نے اُس کے چہرے پر اکتاہٹ بھرے تاثرات دیکھے تو سنجیدگی سے کہہ کر اُس کے برابر سے گُزر گیا جس پر سوہان بھی سرجھٹک کر ریسٹورنٹ میں داخل ہوئی جہاں اُن دونوں کا منہ غبارے کی طرح پُھولا ہوا تھا
“تم دونوں نے ابھی تک کچھ آرڈر کیوں نہیں کیا؟سوہان اپنے لیے کُرسی گھسیٹ کر بیٹھتی اُن سے پوچھنے لگی۔
ہمیں لگا وہ بھی ہمیں جوائن کرینگے پر آپ تو خاصی بے مروت ثابت ہوئیں ہیں۔۔۔فاحا نے کہا تو سوہان نے گہری سانس لی
فاحا میں اُس کو ہمارے درمیان کیوں بیٹھاتی؟”اور تمہیں ایسا کیوں لگا کہ میرے کہنے پر وہ بیٹھ بھی جاتا”وہ زوریز دُرانی ہے جس کی زندگی کا ایک سیکنڈ بھی قیمتی ہوتا ہے۔۔۔”اور اب تم دونوں اپنا چہرہ سیٹ کرو میں تب تک مینیو ڈیسائیڈ کرتیں ہوں۔۔۔سوہان اُن دونوں کو دیکھ کر تحمل سے بولی
کتنا خوبرو تھا نہ وہ۔۔۔۔فاحا کی زبان میں کُھجلی ہوئی
ہاں بہت میں تو ابھی تک اُس کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔۔۔۔میشا چور نگاہوں سے سوہان کو دیکھ کر کہا جس کا دھیان اُن کی طرف نہیں تھا
ویسے دونوں نے ایک دوسرے کو مُخاطب کتنے یونیک انداز میں کیا تھا۔۔۔فاحا پرجوش انداز میں بولی
سوہان
زوریز دُرانی
ہاہاہاہا۔۔۔وہ دونوں اُن دونوں کی نقل اُتارے آخر میں قہقہقہ لگانے لگیں
تم دونوں کے دماغ میں جو چل رہا ہے اُس کو یہی روک دو کیونکہ ایسا ویسا کچھ نہیں ہماری مُلاقات واقعی میں سرسری تھی۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا
میرے دماغ میں تو کچھ بھی نہیں چل رہا۔۔۔فاحا نے ہاتھ کھڑے کیے
دماغ میں اگر کچھ رہا ہوتا تو اِس وقت ہم پاگل خانے ہوتے ہیں۔۔۔۔میشا نے بھی بڑی سنجیدگی کا مُظاہرہ کیا تو سوہان نے ویٹر کو اِشارے سے اپنی طرف آنے کا کہا
“ویسے میشو آپو میں سوچ رہی تھی ہماری یاداشت اِتنی خراب کیوں ہے؟”دن میں ہم کتنے لوگوں سے سرسری سا ملتے ہیں پر اگلے دن ہمیں یاد نہیں ہوتا اور سوہان آپو کی یاداشت کو دیکھے کیسے سالوں پُرانہ شخص اُن کو برملا یاد آگیا۔۔۔۔فاحا نے افسوس سے کہا تو میشا نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی
تم شیف ہو اور میں ایک ویٹریس ہماری یاداشت کسی بریسٹر جیسی کہاں ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔میشا نے اُس کے غم میں برابر ساتھ دیا
ڈنر نہیں کرنا فائن میں جاتی ہوں کیونکہ مجھے بہت چیزوں کو وقت دینا ہے فضول وقت نہیں میرے پاس۔۔۔۔سوہان زچ ہوئی
ارے نہیں نہ ہم تو مذاق کررہے تھے آپ تو سیریس ہوگئ۔۔۔فاحا نے جھٹ سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا تو سوہان واپس بیٹھ گئ۔
تم نے گریجویشن کے بعد ماسٹر کرلیا ہے تو کوئی اچھی جاب تلاش کرو نہ کہ ویٹریس کی۔۔۔۔سوہان نے سلاد کھاتی میشا سے کہا
ماسٹرز کمپلیٹ نہیں ہوا میرا۔۔۔۔میشا نے دانتوں کی نُمائش کی
لگتا ہے وہ تو کبھی نہیں ہوگا۔۔۔سوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا تو میشا ڈھیٹائی سے مسکرائی






عاشر بھائی مجھے آپ سے بات کرنی ہے ضروری۔۔۔۔وہ لوگ ڈنر سے واپس آئے تو فاحا نے گھر جاتے عاشر کو دیکھا تو کہا
ہاں آجاؤ مجھے بھی ضروری بات کرنی ہے.۔۔۔عاشر نے بھی اُس کو دیکھ کر کہا
آپ دونوں گھر جائے میں عاشر بھائی کے ساتھ جانے لگی ہوں۔۔۔فاحا نے سوہان اور میشا کو دیکھ کر کہا
ٹھیک ہے مگر بُوا کو تنگ مت کرنا۔۔۔۔سوہان نے کہا
فاحا بچی نہیں۔۔۔۔فاحا نے منہ کے زاویئے بگاڑے کہا تو سوہان مسکراتی میشا کے ساتھ اپنے گھر کی گلی کی طرف چلی گئ
کل آپ کہاں تھے مجھے بہت ضروری بات کرنی تھی۔۔۔فاحا نے عاشر کو دیکھ کر پوچھا
کل دوستوں کے ساتھ تھا تم بتاؤ کیا باتیں کرنی ہیں۔۔۔گھر پہنچ کر عاشر اُس کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کر بولا
آپ بتائے پہلے آپ کو کیا ضروری بتانا تھا۔۔۔فاحا نے اُلٹا اُس سے پوچھا
میں اگر بتانے لگ پڑوں گا تو پوری رات گُزر جائے گی اِس لیے پہلے تم بتاؤ۔۔۔۔عاشر نے کشن گود میں رکھ کر کہا
نہیں نہ فاحا جس کے بارے میں بتانے والی ہے اُس کو سن کر آپ کو وقت کا پتا نہیں لگے گا۔۔۔ فاحا نے کہا
کیا اِتنا اسپیشل ہے؟عاشر نے پوچھا
اسپیشل نہیں کھڑوس ہے وہ۔۔۔۔فاحا نے منہ کے زاویئے بگاڑے
پر میں جس کے بارے میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں وہ حددرجہ معصوم ہے لگتا ہی نہیں کہ اِس دُنیا کی ہے۔۔۔۔عاشر لالی کو یاد کرتا اُس کو بتانے لگا
اور میں جس کے بارے میں بتانے والوں ہو وہ خود کو کسی سلطنت کا راجہ مہاراجہ سمجھتا ہے۔۔۔فاحا نے سرجھٹک کر بتایا
تمہیں پتا ہے اُس کی آواز بہت پیاری ہے اور لہجے کے بارے میں کیا بتاؤں غُصے سے بات کرتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے پیار سے مُخاطب ہے۔۔۔۔عاشر کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولا
ہونہہ وہ ایسے بات کرتا ہے جیسے اُس کی والدہ محترمہ نے دودہ میں چینی کم اور کالی مرچیں زیادہ ملاکر دی ہیں جس کا غُصہ وہ دوسروں پر نکالتا ہے لہجے اور آواز کے بارے میں فاحا اب کیا کہے وہ تو جیسے ہر ایک پر حُکمرانی کرنا چاہتا ہے پر ہر کوئی اُس کا غُلام تو نہیں ہوتا نہ۔۔۔۔۔فاحا ناک سیکڑ کر بولی آج تو موقع ملا تھا اُسے اپنی بھڑاس نکالنے کا
وہ عاجز پسند ہے بہت پیاری ہے مگر غرور تو اُس میں کسی چیز کا نہیں ہے۔۔۔۔عاشر اپنی دُنیا میں ہی گُم تھا
حُسن کا ہی تو سب کیا دھرا ہے اللہ نے پیاری شکل اچھا لباس اور بڑی بڑی گاڑیاں کیا دے دی ہیں اُن کو “کہ بس لہجے میں غرور ہی جھلکتا ہے۔۔۔۔فاحا بھی اپنی گود میں کشن رکھے اُس سے بولی
وہ سب سے الگ ہے۔۔
وہ بہت عجیب ہے اللہ ایسا عجیب کبھی دوسرے کو نہ بنائے۔۔۔۔فاحا دُعائیہ انداز میں بولی
اُس جیسا تو کوئی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔عاشر پُریقین لہجے میں بولا
وہ خود کو شھنشاہ جلال الدین سمجھتا ہے پر مجھے تو اُس سے بڑی کوئی پہنچی ہوئی چیز لگتے ہیں جب”ہم”کہتے مخاطب ہوتے۔۔۔۔فاحا جھرجھری سی بولی
میرا دل چاہتا ہے میں اُس کو اپنے سامنے بیٹھائے دیکھتا رہوں۔۔
اور میرا دل چاہتا ہے میرا سامنا کبھی اُس ہم ہم سے نہ ہو۔۔۔۔فاحا منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی
وہ بہت کیوٹ ہے۔۔۔
مگر وہ بہت ایروگینٹ ہے انسان کو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔فاحا ناپسندیدہ لہجے میں بولی
مجھے لگتا ہے ایک لڑکی کو ایسے ہی ہونا چاہیے محتاط سا جیسے وہ رہتی ہے۔۔۔۔عاشر نے اپنی رائے دی
کسی لڑکے کو اِتنا کھڑوس نہیں ہونا چاہیے اگر وہ ویل ڈریسڈ رہتا ہے تو اِس میں اُس کا کوئی کمال نہیں کیونکہ کپڑے درزی سِلتا ہے وہ خود نہیں۔۔۔فاحا کے گال اسیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے پُھول سے گئے تھے
“میں چاہتا ہوں اُس سے باتیں کروں”ہر وقت ہر گھڑی ہر لمحہ۔۔۔۔۔عاشر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملایا
میں چاہ
فاحا کچھ کہتے رُک گئ۔۔
فاحا اُس اجنبی کے بارے میں باتیں کے بارے میں بات کرکے اُس کو اِتنی امپورٹنس کیوں دے رہی ہے؟فاحا چونک کر بولی اُس کو اب احساس ہوا تھا کہ وہ مسلسل اسیر کے بارے میں بات کرنے میں مصروف ہے
“تم نے مجھ سے کچھ کہا؟عاشر بھی اپنی جگہ چونک سا گیا
جی میں نے کہا صبح ہوگئ ہے ناشتے میں کیا نوش فرمانا چاہے گے آپ؟فاحا نے طنز پوچھا
اُبلا ہوا انڈا اور
عاشر کہتے رُک کر اپنے چاروں اِطراف دیکھتا فاحا کو گھورنے لگا
گھر جاؤ دماغ کھالیا ہے میرا میں تو اب سوؤں گا۔۔۔۔اپنی خجلت مٹانے کے غرض سے عاشر انگرائی لیکر بولا
میں نے دماغ کھالیا ہے یا آپ نے میرا۔۔۔۔گود میں پڑا کشن فاحا نے اُس کے چہرے پر مارا
تم نے میرا باتوں کا رکارڈ تو تم نے قائم کیا ہوتا ہے”خود رکارڈ بناتی اور اپنا بنایا ہوا رکارڈ توڑ بھی دیتی ہو۔۔۔۔عاشر زچ کرنے والے انداز میں اُس سے بولا
بہت بدتمیز ہو آپ۔۔۔۔فاحا نے منہ پُھلائے کہا تو عاشر کو بے ساختہ لالی کا خیال آیا تھا وہ بھی تو اُس کو بار بار یہی کہا کرتی تھی۔۔۔








فاحا کیا ابھی تک تم سوئی پڑی ہو یار مجھے بھوک لگی ہے ناشتہ تیار کرو۔۔۔۔صبح کے وقت میشا کی آنکھ کُھلی تو وہ ہال میں آتی فاحا کو آوازدیں دینے لگی۔۔
فاحا
افففف اللہ ایک تو آئے دن میرے ہاتھوں کو کُھجلی ہوتی ہے۔۔۔۔میشا فاحا کو مسلسل آوازیں دیتی اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھنے لگی تبھی باہر گیٹ پر بیل ہوئی تو فاحا یا سوہان میں سے کسی کو ناپاکر وہ خود ہی باہر آتی گیٹ کُھولنے لگی
فرماؤ کون ہو تم دونوں۔۔۔باہر دو لڑکوں کو دیکھ کر میشا نے پوچھا
ہم مُحلے میں نیو آئے ہیں۔۔۔۔ایک سرتا پیر اُس کو دیکھ کر بولا
تو میں کیا کروں ہمارے یہاں ایسا رواج نہیں ہوتا کہ مُحلے میں نئے آئے لوگوں کو صبح کا ناشتہ یا دن کا کھانا دے اپنا گُزارا ہی بڑی مشکل سے ہوتا ہے اِس لیے کسی اور کے گھر کی بیل بجاؤ۔۔۔میشا نان سٹاپ بولتی دروازہ بند کرنے والی تھی جب ایک نے اپنا پاؤ گیٹ کے درمیان رکھ لیا تو میشا نے تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھا جس کے چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ تھی
ہمیں پتا لگا ہے یہاں ایک بوڑھی عورت کے ساتھ تم تین جوان بہنیں اکیلے رہتی ہو۔۔۔۔دوسرے لڑکے نے مصنوعی افسردگی سے کہا
سہی سُنا ہے اور کیا سُنا ہے ذرا روشنی ڈالنا صبح نہیں ہوئی نہ تو سورج ابھی نہیں نکلا۔۔۔میشا نے دانت پہ دانت جمائے کہہ کر دونوں کو گھورا
آپ تین کمزور سی لڑکیاں کیسے سارا کچھ سنبھالتی ہوگی بڑا مشکل ہوتا ہوگا نہ بغیر کسی مرد کے سہارے رہنا۔۔۔۔ایک نے پوچھا
جی بہت مشکل ہوتا ہے کل پورا راشن ختم ہوگیا ہے اب کچن میں خالی برتن ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپوں میں مصروف ہیں۔۔۔۔”اور ہم خالی پیٹ۔۔۔۔میشا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
ہمارے لائق کوئی خدمت ہو تو ہم حاضر ہیں۔۔۔ایک آدمی جلدی سے آگے آتا بولا تو دوسرا اُس کو پیچھے کرتا خود آگے ہونے کی کوشش کرنے لگا
آپ دونوں۔۔۔میشا نے باری باری دونوں کو دیکھا
جی بلکل بھلا ہم کافر تھوڑئی ہے جو آپ کے چہرے پر پریشانی بھرے تاثرات دیکھ کر اگنور کرے۔۔۔۔وہ بولا تو میشا کے ہاتھ میں کُھجلی بڑھنے لگی
اِتنے نیک اِتنے پارسا”اِتنے ہونہار قدردان دو خوبصورت لڑکے اِس محلے میں کیسے آگئے؟میشا نے حیرانگی کا مصنوعی اِظہار کیا تو دونوں کا دل بلیوں کا طرح اُچھلنے کودنے لگا
بس اللہ کا کرم ہے اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔۔۔دوسرے نے بھی چاپلوسی کرنا ضروری سمجھا
تھوڑا ہمیں بھی دے دو۔۔۔میشا نے اُن کے لیے گیٹ کھولا
آپ ہمیں اندر آنے کا بول رہی ہیں۔۔۔وہ خوشی اور بے یقینی سے بولے
نہیں تو کیا میں مذاق کروں گی۔۔۔بس میں چاہتی ہوں آپ ایک بار کچن دیکھ لے تاکہ یہ نہ لگے کہ میں نے کچھ جھوٹ کہا۔۔۔۔میشا کے اِتنا کہنے کی دیر تھی اور وہ دونوں اندر گُھس آئے تو اپنی مسکراہٹ ضبط کیے میشا نے پلٹ کر اُن کو دیکھا
آپ دونوں ہی ہو نہ کوئی اور تو نہیں ہے؟گیٹ کے پاس پڑا ڈنڈا دیکھ کر میشا نے معنی ہے انداز میں اُن سے پوچھا تھا۔
