Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 18)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

کونسی دُشمنی تم لوگوں نے میرے بیٹے سے نکالی ہے؟اپنی جگہ سے اُٹھ کر نوریز ملک سپاٹ لہجے میں دونوں سے پوچھا

آج جو ہوا اُس کا ذمیدار آپ کا اپنا بیٹا اور آپ کی تربیت ہے”اور اِس بات کا الزام آپ کسی اور کو نہیں دے سکتے۔۔سوہان نے جتاتی نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا

بچہ تھا نادانی کرگیا دے دِلاکر ہم معاملہ حل کرسکتے تھے۔۔نوریز ملک نے کہا تو میشا نے تاسف سے اُن کو دیکھا

“ہر چیز بکاؤ نہیں ہوتی۔۔سوہان نے کہا

جو بھی تم لوگوں نے جو آج کیا اُس کی سزا تم دونوں کو ضرور ملے گی اور وہ میں دوں گا۔۔۔نوریز ملک پختہ لہجے میں کہا

آپ ہمیں بے گُناہ ہونے کے باوجود سزا دے چُکے ہیں اور آج سے نہیں بلکہ بیس سال پہلے ہی غور سے دیکھے مجھے اور سوہان کو۔۔۔۔میشا نے پہلی بار اُن کو مُخاطب کیا تو نوریز ملک چونک اُٹھے

کیا مطلب؟نوریز ملک ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگے

چلو یہاں سے۔۔۔سوہان نے میشا کو گھورا

“نہیں سوہان اِن کو پتا ہونا چاہیے کہ آج حق کے ساتھ کون کھڑا تھا”اور یہ بھی مجرم کون تھا؟سہی غلط کی پہچان کس نے رکھی تھی اِن کو سب پتا لگنا چاہیے کہ جس کی چاہ میں اِنہوں نے اللہ کی رحمت کو ٹھکرایا تھا آج اللہ نے اُن کو اعلیٰ مقام دیا ہے جبکہ جس پر اِن کو غرور تھا جس کو وہ اپنے باجوں میں کھڑا کرنے کی چاہ رکھتے تھے اُس نے تو آج اِن کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہے”جو اِن کے مطابق عقلمندانہ مشورہ دے سکتے تھے اُس نے تو اِن کی سُدھ بدھ ختم کرڈالی ہے۔۔۔”۔میشا بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ تھی اور نوریز ملک کو تو گویا جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔۔”وہ اب سہی معنوں میں کبھی سوہان کو دیکھنے لگے تو کبھی میشا کو جس کی آنکھوں میں اُن کے لیے بے تحاشا نفرت تھی۔۔۔”جبکہ اُس کے الفاظ نوریز ملک کو اپنے سینے پر کسی نشتر کی طرح چُھبے تھے۔

“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اِن دونوں کا میں نے کرنا بھی کیا ہے خوامخواہ میرے سر پہ ناچے گی یہ دونوں آپ ٹھیک کہتی ہیں یہ بیٹیاں کسی کام کی نہیں ہوتی۔۔””

“”یہ بیٹیاں مجھے دے ہی کیا سکتیں ہیں؟”نہ تو اِن کو لیکر میں کہی ساتھ لے جاسکتا ہوں اور نہ یہ مجھے کوئی عقلمندانہ مشورہ دے سکتی ہیں۔۔۔۔””

“میں نے تمہیں پہلے سے بتایا تھا مجھے بیٹا چاہیے اِن تینوں کا میں کیا کروں گا؟بھائی صاحب تو اول روز سے ہی مجھ سے خفا ہے اور اب جو تم نے یہ بچیاں میرے سر پر مسلط کی ہیں اِن کا میں کیا کروں گا؟

“دیکھو اسلحان مجھے جو کہنا تھا میں کہہ چُکا ہوں اب تم یہ بوجھ لیکر یہاں سے چلی جاؤ میں اپنے بھائیوں کو مزید خفا نہیں کرسکتا تمہاری بدولت”

سالوں پُرانے اپنے الفاظوں اُن کو یاد آئے تو وہ نیچے ڈھے سے گئے تھے۔۔۔”آنکھوں سے بے ساختہ ایک آنسوؤ اُن کے گال سے پھسلتا ڈارھی میں جذب ہوا تھا۔۔

“سسس سوہان ااور مم میشا ہو تم دونوں؟”ممم میری بب بچیاں۔۔۔۔۔نوریز ملک نے بڑی دیر بعد کچھ بولنے کی ہمت کی

“آپ کی بیٹیاں نہیں ہیں ہم”ہم وہ ہیں جن کو آپ کی تعلیم منحوس کہا کرتی ہے۔۔جس کو بوجھ کہتی ہے جس سے آپ کو اِتنی نفرت ہوتی ہے کہ لمحے کی دیر کیے بنا اُن کو چھوڑدیتے ہیں اور ایسا چھوڑتے ہیں کہ پھر واپس پلٹ کر دیکھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔۔۔سوہان نے سرد لہجے میں کہا تو نوریز ملک نے بے ساختہ اپنی آنکھوں کو میچا تھا۔۔

“آپ کو بہت غُصہ ہوگا نہ جس کے لیے لگتا تھا آپ کو کہ وہ کچھ نہیں دے سکتیں اور اُنہوں نے آپ کے لاڈلے پیارے بیٹے کو سزا دلوائی ہے۔۔دُکھ اور تکلیف تو ہوئی ہوگی۔۔۔۔،؟میشا اُن کے پاس بیٹھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔۔

“ہمیں ہوتی تھی جب ناہوئے بیٹے کے غم میں آپ دُنیا میں موجود اپنی بیٹیاں فراموش کردیا کرتے تھے۔۔۔سوہان بنا اُن کو دیکھ کر بولی”آج اُن کا دن تھا اور اُنہوں نے بولنا تھا سالوں سے موجود اپنے سینے میں پڑا غبار نکالنا تھا۔۔۔

“میں جان گیا تھا کہ میں غلط تھا۔۔۔۔نوریز ملک کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی”دل دُھلانے والی خبر کے بعد یہ کیسا انکشافات تھا جو اُن پر ہوا تھا۔۔۔”دل میں اپنی بیٹیوں کو سینے سے لگانے کی تمنا جاگی تھی مگر اُن کو اپنا آپ ناکارہ محسوس ہوا ہلنے جُلنے کی صلاحیت اُن کو خود میں نظر نہیں آئی تھی۔۔۔

“کیسے مان لے؟”اگر مان بھی لے تو بھی آپ نے بہت بڑی دیر کردی۔۔۔خیر ہمارا مقصد آپ کو گلٹ میں ڈالنے کا نہیں تھا ہم بس اِتنا ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اگر جتنی توجہ “جتنا اعتماد آپ لوگ بیٹے کو دیتے ہیں اگر ایسی توجہ ایسا اعتماد”ایسا مان بیٹیوں کو بھی بخش دے تو وہ آپ کو بتائے کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہوتی۔۔۔میشا اپنی جگہ سے اُٹھ کر بے تاثر لہجے میں اُن سے گویا ہوئی تھی

“بیٹے کی چاہ نے آپ کو لے ڈوبا جس بیٹے کی چاہ میں آپ نے ہمیں ٹھکرایا آج نہ وہ آپ کے پاس ہیں اور نہ منت مُرداوں سے ملا بیٹا یہی زندگی ہے”آج آپ چیزوں کو ٹھکرائے گے اور کل وہ چیزیں آپ کو ٹھکراتی ہیں مگر بات تو پھر بھی یہاں ہماری ہے۔۔سوہان نے بھی طنز لہجے میں کہا

“آپ نے امی سے پوچھا تھا نہ کہ یہ بیٹیاں مجھے کیا دیکھ سکتیں ہیں؟میشا نے اُن کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا تو نوریز ملک اپنا سر شرمندگی کے مارے اُٹھا نہ پایا

“ہم ایک دوسرے کی ڈھال بن سکتیں ہیں”اپنی حفاظت اکیلے کرسکتیں ہیں”ہم نے خود کو اِتنا مضبوط بنالیا ہے کہ اب قیامت بھی گُزرجائے تو پتا نہیں چلتا”اور رہی بات دینے کی تو ہمیں اللہ نے رحمت بناکر اِس دِنیا میں بھیجا ہے اگر کوئی چاہے تو اِس رحمت سے سکون پاسکتا ہے۔۔۔”ہم بیٹیوں سے کسی کو عزت جانے کا ڈر نہیں ہوتا اور نہ شادی کے بعد مرد کو یہ فکر ستاتی ہے کہ میری کسی غلطی کی بدولت میری بیوی مجھے طلاق نہ دے مرد کو اولاد کی ٹینشن نہیں ہوتی یہ ساری فکریں عورت کے لیے ہوتیں ہیں کہنا چاہیے تو نہیں مگر بول دیتی ہوں نہ برداشت تو سب کچھ عورت کو کرنا پڑتا ہے پر جانے کیوں اللہ نے ہم سے ستر درجہ اُونچا آپ مردوں کو کیوں دیا ہے ۔۔”خیر ہم چاہے آپ کو کچھ نہیں دے سکتیں کیونکہ آپ کو کچھ بھی دینے کے لیے ہمارے ہاتھ خالی ہیں”پر ہاں ہم دوسروں کے لیے بھلا ضرور کرسکتے ہیں مگر آپ نے ہمیں دُکھ اور تکلیفوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیا اِس لیے ہم سے کسی بھی چیز کی توقع کبھی بھی مت رکھیئے گا۔۔۔”اور واقع جو آپ کے بیٹے نے آپ کو دیا ہے وہ ہم کبھی نہ دے پاتیں آپ کے بیٹے نے ساری عمر کے لیے جو داغ آپ کے ماتھے پر لگایا ہے نہ وہ کبھی نہیں دُھلے گا۔۔۔”آپ سوچ رہے ہوگے فراز کو پچیس یا تیس سال کی سزا کیوں نہیں ہوئی ڈائریکٹ موت کیوں ملی؟”تو وہ اِس لیے کہ آپ امیر لوگ ہیں جیسے تیسے کرکے اپنے سپوت کو قید سے راہ کروالیتے جو کشف نہیں چاہتی تھی اور اُس نے سزائے موت چاہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اُس کا مجرم کہی بھی سانس لے۔۔”اور ایک بار مرنا بہت آسان ہوتا ہے آپ ٹینشن نہ لو ورنہ قرآن پاک میں بہت اچھا قانون رکھا ہے موت میں تو ایک بار درد سہنا پڑے گا مگر سؤ کوڑوں کی سزا موت سے بھی زیادہ بدتر ہوتی ہے۔۔۔۔میشا نے آج کوئی لحاظ نہیں کیا تھا اپنی محرومیوں کا حساب اُن کے اِس طرح سے لینا چاہا تھا وہ چاہتی تھی کہ نوریز ملک کو احساس ہو کہ جن بیٹیوں کو اُن کے باپ ٹھکرادیتے ہیں وہ پھر ساری عمر در در کی ٹھوکریں کھایا کرتیں ہیں”جن بیٹیوں پر باپ کے در کے دروازے بند ہوجایا کرتے ہیں تو انسان کے خول میں چُھپے جانور اُن کو بُری طرح سے نوچ لیتے ہیں۔۔۔”وہ اُن کو بتانا چاہتی تھی آپ نے تو اپنی ساری زندگی اور یہ سال بہت پرسکون طریقے سے گُزارے مگر اُنہوں نے بہت کچھ سہا تھا۔۔۔”ہر جگہ بھانپ بھانپ کر قدم رکھا تھا

“معاف کردو۔۔۔دونوں کی باتوں کو سن کر نوریز ملک نے اُن کے آگے ہاتھ جوڑے تو میشا اور سوہان ایک دوسرے کا منہ تکتی نوریز ملک کو دیکھنے لگیں جو اُن کا باپ تھا اور سالوں بعد جب وہ اُس سے حساب لینا چاہ رہی تھیں تو کیسے وہ معافی مانگ کر ہر چیز کو درگُزر کرنے کے چکروں میں تھا۔۔کیا اُن کا ایک معافی مانگنے سے اُن بہنوں کی زندگی میں بہاریں آجاتی؟”یا اُن کا بچپن لوٹ آتا؟”کیا اُن کی معافی سے وہ بیس سال پیچھے جاکر ہسپتال کے اُس کوریڈرز میں پہنچ جاتیں؟”جہاں اُن کا باپ تیسری بیٹی کا سُن کر اُن کو بے آسرا چھوڑ کر چلاگیا تھا”یا پھر وہ اُس گھڑی میں آجاتیں جہاں اُن کے باپ نے بڑے غرور اور سنگدلی سے اُن کو کہا تھا کہ اُن کی حویلی سے نکل جائے۔۔۔”کیا اُن کے ایک لفظ معافی سے سب کچھ ٹھیک ہوسکتا تھا؟

“کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکتا تھا جو گُزرگیا وہ اُن کا کل تھا جن کو وہ چاہنے کے باوجود نہ سنوار سکتیں تھیں اور نہ آج میں تبدیل کرسکتیں تھیں۔۔۔”معافی لفظ اُن کو خود پر ہنستا ہوا نظر آیا یعنی آپ لوگوں کے احساسات اور جذبات کا قتل کرڈالوں پھر دیدہ دلیری سے معافی کا بول کر سب کچھ بھول کر آگے بڑھ جاؤ کیا اِتنا سب آسان ہے جتنا اُن کے باپ نے سمجھا ہوا تھا یا آخر معافی وہ مانگ کس منہ سے رہے؟اُن کو تو سوچ کر بھی عجیب لگنے لگا۔۔۔

سوری کیا کہا آپ نے؟سوہان کو لگا شاید اُن سے سُننے میں غلطی ہوئی ہے

اگر میں غلط نہیں تو اِنہوں نے لفظ معافی کا استعمال کیا ہے۔۔۔۔میشا نے کہا تو سوہان کے چہرے استہزائیہ مسکراہٹ آئی

“ہمارے معافی سے کیا ہوگا؟اور سچی بتائیے گا آپ کو عجیب نہیں لگا بیس سال بعد ہماری اتفاقً ہوئی مُلاقات پر معافی مانگ کر آپ خود کو صاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔۔”آپ کو اپنی غلطیوں کا زرا احساس نہیں۔۔۔سوہان نے رنجیدگی سے پوچھا تھا جانے کتنے آنسوؤ اُس کی آنکھوں سے گِرکر بے مول ہوئے تھے

“ای ایسا نہیں ہے بس ہمت نہیں نظریں اُٹھانے کی۔۔۔نوریز ملک کی اپنی حالت قابلِ رحم تھی زندگی نے آج جس مقام پر اُن کو لاکر کھڑا کیا تھا اُس میں وہ جان نہیں پائے کہ کیسا ری ایکشن دے اور وہ خود پر حیرت زدہ تھے کہ وہ کیسے اپنی بیٹیوں کو جان نہیں پائے کیسے اُن کی خوشبو کو پہچان نہیں پائے؟”یہ خیال آتے ہی وہ چونک اور اپنی سوچ پر خود ہی شرمندہ سے ہوگئے

“خوشبو کو کیسے وہ پہچان لیتے؟”کیا اُنہوں نے اپنی بیٹیوں کی خوشبو کو اپنے سینے میں جذب کیا تھا یا کبھی اُن پر ایسی غور وفکر کی تھی جو وہ پل بھر میں پہچان بھی لیتے اُن کو احساس ہورہا تھا کہ ماضی میں جو کوتاہی اُنہوں نے کی تھیں جو کچھ اپنی پھول جیسی بیٹیوں کے لیے کیا تھا ایسا کوئی ظالم بادشاہ بھی اپنی بیٹیوں کے ساتھ نہیں کرتا تھا

“آپ کو سراُٹھانا چاہیے بھی نہیں میں عام بیٹی ہوتی تو دوسری بیٹیوں کی طرح آج میں بھی دعوے سے کہہ سکتی کہ میں اپنے بابا کا غرور ہوں”مگر آپ نے ہم میں سے کسی کو یہ حق نہیں دیا اور یہاں معاف ہم کر بھی دے تو اللہ آپ سے ہمارا پل پل کا حساب ضرور لے گا۔”ہماری چھوٹی بہن فاحا جو اسکول کی گیٹ پر اپنی عمر کی لڑکیوں کو ترسی نگاہوں سے دیکھا کرتی تھی کیونکہ اُن کو چھوڑنے اُن کے والد آیا کرتے تھے اُن کا پاؤں اپنے گُھٹنے پر رکھ کر شوزلیس باندھا کرتے تھے اُس نے کبھی شوز لیس باندھنا نہیں سیکھا کیونکہ بچپن میں اُس کو لگا تھا کہی سے اُس کا باپ آئے گا اور باقیوں کی طرح اُس کے شوزلیس باندھے گا ۔۔میشا نے پہلے تو طنز لہجے میں کہا تھا مگر آخر میں اُس کی آواز میں نمی گُھلنے لگی تھی

میشو بیٹا

پلیززززز مجھے بیٹا نہ کہو میں بیٹی نہیں ہوں آپ کی۔۔۔۔نوریز ملک نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر میشا نے چیخ کر اُن کی بات کو درمیان میں کاٹ لیا تھا۔۔

“ایسا مت کہو۔۔۔نوریز ملک تڑپ اُٹھے

آپ واقع ایسا بول رہے ہیں یعنی ہم نہ بولے مگر آپ جو چاہے ہمارے مطلق بول سکتے ہیں”آپ کو یاد ہے یہ وہ میشا ہے جو آخری بار آپ کی حویلی میں جب آئی تھی تو اِس کو چوٹ آئی تھی اور یہ بھاگ کر آپ کی ٹانگوں سے چمٹ گئ تھی مگر آپ نے چوٹ دیکھنا تو گوارا نہیں کیا تھا اُلٹا میشو کو کسی اچھو کی طرح خود سے پرے کرلیا تھا۔سوہان پُرانہ وقت یاد کیے اُن سے بولی

“میں بہک گیا تھا۔۔۔نوریز ملک نے بھیگی نظروں سے دونوں کو دیکھا

اور ہم رُل گئے تھے۔۔۔۔سوہان کا لہجہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا تھا۔

“مرد تو اپنے وجود کو حصے کو رُلنے کے نہیں چھوڑتا اور اگر کوئی مرد اپنی عورت کو طلاق دے بھی تو اُس کو حق مہر کے ساتھ روانہ کرتا ہے اور ساتھ میں اُن کے لیے گھر کا بندوبست بھی کرتا ہے یہی اصل مرد کی نشانی ہے مگر آپ نے ہم سب کو کندھوں سے بوجھ سمجھ کر اُتارا تھا۔۔۔حویلی سے نکلنے کے بعد امی ہمیں اپنی دوست کی طرف لے گئ اور پتا ہے آپ کو وہاں کیا ہونے لگا تھا؟میشا نے بات کرتے کرتے آخر میں اُن سے پوچھا تو شرمندگی کے مارے اُن سے اپنا سر نفی میں ہلایا تک نہیں گیا

سوری آپ کو کیسے پتا ہوگا آپ کونسا ہماری خبرگیری رکھتے تھے خیر تب سوہان آٹھ سال کی تھی اور وہاں ایک آٹھ سال کی بچی کو محض ہراس نہیں کیا گیا بلکہ ایک چالیس سالہ مرد نے اُس سے اپنی ہوس کو مٹانا چاہا تھا آپ کے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے آٹھ سالہ بچی سے پہلا قتل ہوا تھا”اُس سے اُس کی معصومیت چِھن گئ تھی۔۔۔میشا نے اِس بار جو کہا اُس پر نوریز ملک کا ہاتھ بے ساختہ اپنے سینے پر پڑا تھا شاید اُن میں اب مزید کچھ سُننے کی سکت نہیں بچی تھی ۔وہ بس پھٹی پھٹی نظروں سے سوہان کو دیکھنے لگے جس کا چہرہ آنسوؤ سے تر تھا۔۔

سس سوہان۔۔۔۔نوریز ملک سے کچھ بولا نہیں گیا تھا اور وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے نیچے گِر پڑے تھے۔۔۔”جس پر اُن دونوں کے ہاتھ پاؤں بُری طرح سے پُھول گئے تھے۔۔

“آپ کو کیا ہوا؟”سوہان پریشانی سے اُن کے پاس جُھکی تھی مگر جانے کیوں لفظ”بابا”کہنے کی ہمت اُس میں نہیں تھی

اُٹھو فاحا اکیلی ہے گھر پر ہمارا انتظار کررہی ہوگی۔۔۔میشا نے سنجیدگی سے اُس سے کہا

پاگل ہے نظر نہیں آیا یہ بیہوش ہوکر نیچے گِرچُکے ہیں۔۔۔سوہان نے افسوس سے اُس کو دیکھا

یہ سالوں پہلے ہماری نظروں سے گِرچُکے ہیں۔۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو سوہان نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیا تھا۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

گاڑی روکو۔۔۔۔اسیر جو گاؤں جانے لگا تھا اُس نے جب مین روڈ پر فاحا کو اکیلا کھڑا دیکھا تو ڈرائیور سے کہا تو اُس نے جلدی سے اسیر کے حکم کی پیروی کی۔۔۔

“گاڑی رُکنے پر اسیر ملک اُتر کر فاحا کے سامنے کھڑا ہوا

“ایک دن میں ملنے کا اتفاق نہیں ہوتا کہی آپ میرا پیچھا تو نہیں کررہے؟”دیکھے اگر ایسا ہے تو میں بتادوں میری بہن منہ توڑنے میں وقت نہیں لگاتی اور میں نہیں چاہتی آپ کا یہ وجیہہ چہرہ اُس کے ہاتھوں شہید ہو۔۔۔۔اسیر محض سامنے آنا تھا اور فاحا شروع ہوئی تھی

“آپ کو ایسی خوشفہمی کیوں لاحق ہوئی؟اسیر نے اپنے کندھوں پر اوڑھی چادر کو درست کیے اُس کو گھورا

“ایسا ہوسکتا ہے فاحا کو معصوم سمجھ کر لوگ اُس کو پھسانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔۔۔فاحا نے اپنا لہجہ مضبوط بنایا

یہاں کیوں کھڑی ہیں؟اسیر نے اُس کی بات کو نظرانداز کیا

ٹانگوں میں پانی زیادہ ہے اِس لیے۔۔۔فاحا نے معصومیت سے جواب دیا

گاڑی میں بیٹھے ہم چھوڑ آئینگے آپ کو گھر آج آپ کو ویسے بھی کوئی سواری نہیں ملنے والی۔۔۔اُس کے جواب پر اسیر نے گھور کر کہا

سواری ملے گی کیوں نہیں ملے گی اور میں کیوں آپ پر بھروسہ کرکے گاڑی میں بیٹھ جاؤں میں ٹیکسی کرواکر گھر جاؤں گی۔۔۔۔فاحا اپنی جگہ بضد ہوئی

پہلی بار نہیں بیٹھنے والی ہماری شکل کیا کسی ٹیکسی والے سے بھی گئ گُزری ہے جو آپ یوں نخرے دیکھا رہی ہیں۔۔۔۔اسیر کو اُس پر تاؤ آیا

سواری لوگ ڈرائیور کی شکل سے متاثر ہوکر تھورئی لفٹ لیتے ہیں۔۔۔فاحا نے اپنی طرف سے پتے کی بات بتائی مگر اسیر کچھ اور ہی سمجھ بیٹھا تھا

“محترمہ ہم تمہیں کہاں سے ڈرائیور لگتے ہیں؟اسیر نے کڑے چتونوں نے اُس کو گھورا جیسے اگر فاحا نے اُس کو سہی جواب نہیں دیا تو وہ اُس کو کچا چبا جائے گا۔

“اللہ اللہ آپ تو بال کی خال اُتارنے لگ جاتے ہیں میں نے کب آپ کو ڈرائیور کہا؟”میں نے بس یونہی مثال دی خیر آپ دل پہ نہ لے میں بیٹھتی ہوں مگر اُس سے پہلے فاحا گاڑی کا نمبر میسج پر اپنی بہنوں کو سینڈ کرے گی۔۔۔فاحا کانوں کو ہاتھ لگائے کہتی گاڑی کا کی پک لینے لگی اور اُس کا نمبر نوٹ کرنے لگی تو اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسیر نے ضبط سے اُس کو دیکھا جو مگن انداز میں اپنا کام کررہی تھی

اِس حرکت کی وجہ؟اسیر نے دانت پیس کر اُس کو دیکھا

آپ میرے چچا کے بیٹے تو نہیں جو میں منہ اُٹھا کر گاڑی میں بیٹھ جاؤں اور آپ پر بھروسہ کرلوں۔۔۔”میں نے یہ نمبر اور تصویر اپنی بہنوں کو بھیج دی ہیں اگر آپ نے مجھے اغوا کرنے کا سوچا تو پولیس آپ کو پکڑ لے گی۔۔فاحا نے پرجوش انداز میں اُس کو بتایا

گذشتہ وقت میں یہی منہ تھا آپ کا جس کو لیکر آپ بیٹھیں تھیں۔ ۔۔۔اسیر کو لگا شاید وہ بھول گئ ہے تبھی یاد کروایا۔ ۔۔۔

“تب کی بات اور تھی میں مومو کے غم میں تھی مگر اب تو ہوش وحواسوں میں ہوں نہ۔ ۔۔فاحا نے اہم وجہ بتائی

آپ کا پروسیس ختم ہوگیا ہو تو گاڑی میں بیٹھ کر اُس کو شرف بخشے۔ ۔۔۔اسیر سرجھٹک کر کہتا خود گاڑی میں بیٹھ گیا۔

اچھا ایک بات بتائے آپ کو اسکول میں کلاس کے دوران یادہ کھڑے ہونے پر کبھی ٹیچر نے آپ کو یہ کہا کے”کیا تمہاری ٹانگوں میں پانی زیادہ ہے؟یقین کرے میری ٹیوشن کی والی باجی نے بہت بار مجھ سے یہ بات پوچھی۔۔۔۔گاڑی میں بیٹھ کر فاحا نے چہک کر اُس سے پوچھا تو اسیر نے ضبط سے اُس کو دیکھا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *