Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 46)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 46)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
“میں جب خود چاہتا ہوں تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟زوریز نے سنجیدگی سے پوچھا
“اعتراض مجھے نکاح سے ہے جو میں آپ کے ساتھ نہیں کرسکتی۔ ۔۔سوہان بغیر ہچکچاہٹ سے بولی اور زندگی میں پہلی بار زوریز دُرانی کو ریجیکٹ کیا گیا تھا اور وہ بھی کرنے والی اُس کی محبوب ہستی تھی”وہ لفظ” ریجیکٹ” سے انجان تھا وہ نہیں تھا جانتا کہ کسی کو ٹُھکڑایا جاتا ہے تو اُس پر کیا گُزرتی ہے”لیکن جب آج اُس کا سامنا ہوا تو اُس کو ایسے لگا جیسے اُس کے پاس قیامت گُزرگئ تھی اور وہ پھر بھی کھڑا تھا نا تو اُس کو فرق پڑا تھا اور نہ قدم لڑکھڑائے تھے” بس دل کے کسی کونے میں کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی تھی اور زوریز نے اُس آواز پر غور کیا تو معلوم پڑا کہ چِھن کی آواز سے ٹوٹنے والا اُس کا دل تھا اور یہ جان کر اُس کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا تھا”بے ساختہ اُس نے سوہان سے فاصلہ اختیار کیا تھا اور یہ فاصلہ سوہان کو میلو دور لگا تھا” انکار تو اُس نے آرام سے کرلیا تھا لیکن اُس کو پھر زوریز کا یوں دور جانا پسند نہیں آیا تھا۔
“آپ کو پتا ہے ریجیکشن انسان کا اعتماد چِھین لیتی ہے” چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا اگر آپ کو کوئی کسی بھی چیز پر نااہل قرار کردیتا ہے تو ہمیں سب سے پہلے غُصہ آتا ہے اور جذباتی لوگ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں” مختصر یہ کہ کہنے کو ہم آسان طریقے سے لوگوں کو کسی چیز پر انکار کردیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اُس کے دل پر کیا گُزری ہوگی؟”ہم رلیکس ہوجاتے ہیں”خیر اگر میں آپ کو پسند نہیں یا مجھ سے نکاح کرنے میں آپ کو حرج ہے”آپ کو مجھ پر ٹرسٹ نہیں تو اِٹس اوکے فائن میں آپ پر زور زبردستی کرکے اپنا تسلط قائم نہیں کروں گا” یہ آپ کی زندگی ہے”اور اپنی زندگی کا ہر فیصلہ کرنے کا اختیار آپ کے پاس موجود ہے میں کسی شرط کے بدولت یا کچھ اور کرکے آپ کو خود سے باندھنے کی کوشش نہیں کروں گا”لیکن آپ کی مدد ضرور کروں گا میں جانتا ہوں آپ اِنوسینٹ ہے اور میں یہ پوری یونی میں بتاؤں گا”اور ثابت بھی کروں گا” آپ کے خلاف جس نے بھی کیا ہے اُس کو میں سز دلوا کر رہوں گا کیونکہ وہ سزا کا مستحق ہے۔۔۔”آپ کو جیل نہیں ہوگی اور نہ یونی کا انتظامیہ آپ کو اسپیل کرسکتا ہے”وقتی رسٹریکشن الگ بات ہے پر کچھ دِنوں کے اندر اندر میں آپ کو اِس الزام سے رہا کروا کے رہوں گا یہ میرا آپ سے واعدہ ہے”ویسے بھی محبت وہ ہے جس میں “محبوب”عبادتوں میں مانگا جائے ناکہ منتوں سے” ۔زوریز نے خود کو کمپوز کرکے بے لچک انداز میں اُس سے کہا تو سوہان خاموش کھڑی اُس کو دیکھنے لگی جس کو سہی سے وہ جانتی نہیں تھی اور نہ دونوں کے درمیان ایسا کوئی رشتہ تھا جس کی بدولت سامنے کھڑا زوریز اُس کا ساتھ دیتا اُس کو سپورٹ کرتا” لیکن اُس کے باوجود جب سے وہ اُس کی زندگی میں آیا تھا کسی نہ کسی طریقے سے اُس کو مشکل سے بچایا گیا تھا اور زوریز کی اِس بات پر وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئ کہ وہ اگر غیر بن کر اُس کو اِتنا سپورٹ کرسکتا ہے اُس کی ڈھال بن سکتا ہے تو اگر وہ اُس کا اپنا بن گیا تو پھر کیا کرے گا؟بغیر کسی ظاہری رشتے کے وہ اُس کے اُپر اُٹھی اُنگلی کو نیچے کرسکتا تھا تو یقیناً بعد میں وہ انگلی جڑے سے اُکھیڑ دیتا تاکہ پھر کوئی ایسا کرنے کی کوشش تک نہ کرے”کیونکہ وہ جان کر یا انجانے میں ہی محبت تک کا اعتراف کرچُکا تھا۔
مم مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ۔۔زوریز اپنی بات کہہ کر جانے لگا تھا” جب اچانک سوہان کے دل میں جانے کیا سمائی جو اُس نے کہا اور اُس کے الفاظوں نے جیسے زوریز کے قدموں نے زنجیر ڈال دی تھی وہ حیرت سے پلٹ کر اُس کو دیکھنے لگا تو سوہان نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل دیا تھا۔ ۔”جس طرح سوہان نے اعتراض اپنا رد کیا تھا وہ وجہ زوریز جان نہیں پایا وہ نہ تو اُس سے دستبردار ہوسکتا تھا نہ ہی سوہان کے بغیر دِلی رضامندی کے اُس سے نکاح کرنا چاہتا تھا” آج عجیب دوہرائے پر وہ کھڑا ہوگیا تھا جس پر فیصلہ لینا اور نہ لینا اب اُس کے اختیار میں تھا۔
“آپ دل سے بول رہی ہیں؟زوریز دوبارہ اُس کے روبرو کھڑا ہوا
“کیا اِس سے فرق پڑتا ہے؟سوہان نے سوال کیا
“بلکل فرق پڑتا ہے”آپ مطمئن نہیں تو یہ نکاح نہیں ہوگا اور اگر آپ دماغی طور پر تیار ہیں تو ہم ابھی کورٹ جائینگے کیونکہ
“محبت کے بغیر ہر موسیقی شور ہے
“ہر رقص پاگل پن ہے اور ہر عبادت بوجھ ہے
اور میں چاہتا ہوں آپ صدق دل سے راضی ہوجائے۔
۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا
“مجھے آپ یہ بتائے کہ نکاح سے کیا ہوگا؟ سوہان نے اُلجھ کر پوچھا”کیونکہ زوریز کی باتیں اُس کو حیران کررہی تھیں۔ ۔
“نکاح سے یہ ہوگا کہ میں آپ سے آرام سے پروٹیکٹ کرسکوں گا”اگر بغیر کسی رشتے کے آپ کو سپورٹ کیا” آپ کا دفاع کیا تو لوگ طرح طرح کی باتیں کرنے کے ساتھ الزامات بھی لگاسکتے ہیں”اور مجھے لوگوں کی پرواہ نہیں ہے چار دن چسکا لیکر وہ چُپ ہوجائے گے مگر میں جانتا ہوں آپ کے وقار کو ٹھیس پہنچے گی۔ ۔۔زوریز نے ساری بات بتائی تو سوہان نے گہری سانس ہوا کے سُپرد کی
“ٹھیک ہے پھر میں پوری طرح سے ہر لحاظ سے تیار ہوں اِس اُمید کے ساتھ کہ آپ اپنے شوہر ہونے کا تسلط مجھ پر نہیں جمائے گے” اور نہ مجھ سے کوئی اُمیدیں وابستہ رکھے گے ہمارا نکاح کاغذ کی حدتک ہوگا۔ ۔سوہان نے پہلے سے ہی سب کچھ کلیئر کردیا تھا۔
“نکاح کے بعد کوئی حد نہیں ہوتی لیکن پھر بھی” ٹھیک ہے میں آپ کی یہ بات مان لوں گا۔ ۔۔زوریز نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا تو سوہان اپنے آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگی” وقت سے اچھائی کی اُمیدیں لگانا اُس نے کب کا چھوڑدیا تھا اب یہ دیکھنا تھا کہ آگے جاکر اُس کو اور کیا کچھ جھیلنا پڑتا تھا۔ ۔
“میں بہت بدقسمت ہوں۔ ۔سوہان کے چہرے پر طنز سے بھرپور مسکراہٹ تھی جیسے وہ خود کا مذاق اُڑنے سے کافی لطف اندروز ہوئی تھی۔
Problems are part of life,but facing them with a smile,is an art of life.
“یہ تو سُنا ہوگا آپ نے؟”زندگی میں مشکلات ہر انسان کی زندگی میں آتی ہے پر ہمیں اپنی قسمت کو قصوروار نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ ہماری قسمت کی ڈور جس کے ہاتھ میں ہے”وہ پوری دُنیا کا نظام چلا رہا ہے۔ ۔۔زوریز اُس کی بات پر سمجھانے والے لہجے میں بولا
“جانتی ہوں پر ساری بات تو قسمت کی ہوتی ہے” اگر اللہ ہماری قسمت میں یہ سب نہ لکھے تو ہم پر کبھی کوئی مشکل نہ آئے۔۔سوہان حددرجہ مایوسی کا شکار ہوئی تھی
“اگر زندگی میں بس سکون ہو تو کیا کوئی رب کو یاد کرے گا؟اُس کی بات پر جو زوریز نے سوال کیا اُس کا جواب تو سوہان کے پاس ہرگز نہ تھا۔
“بندہ جب بے سکون ہوتا ہے تو وہ اپنا سکون اللہ کی یاد میں تلاش کرتا ہے اور آپ مایوس نہ ہو اللہ سب ٹھیک کردے گا۔۔زوریز نے اُس کو خاموش دیکھ کر کہا
“میری قسمت نہیں بدلے گی جو لکھی جاچُکی ہے۔۔سوہان سرجھٹک کر بولی
“میں نے کہی پڑھا تھا کہ انسان کہتا ہے ہوتا تو وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے لیکن اللہ قُرآن میں کہتا ہے۔
“تم مجھے ایک بار پُکار کر تو دیکھو میں نصیب بدلنے پر بھی قادر ہوں۔ ۔”اللہ کی شان بہت بڑی ہے سوہان جس کو میں یا آپ کبھی سمجھ نہیں سکتے وہ ہر کام کرسکتا ہے۔ ۔”آپ اطمینان رکھے۔۔۔زوریز نے کہا تو اِس بار سوہان خاموش ہوگئ تھی اُس کے پاس کچھ بولنا کے لیے بچا جو نہیں تھا
“چلیں پھر؟کچھ توقع بعد زوریز نے پوچھا تو سوہان نے سراثبات میں ہلایا تھا وہ جانتی تھی” زوریز اُس کو کہاں لیکر جانے والا تھا”اور اُس کا دماغ اِس وقت اِس قدر ماؤف اور خالی تھا کہ میشا یا فاحا میں سے کسی کا بھی خیال اُس کو نہیں تھا آیا”تب بھی نہیں جب نکاح کے ایگریمنٹ پر اُس نے اپنے سائن دے کر اپنے پر زوریز کو ہر اختیار دے ڈالا تھا”اور دوسری طرف زوریز نے سائن کرتے ہوئے سوہان کے سارے جائز حقوق اپنے پاس محفوظ کرلیے تھے۔۔”اِس وقت اگر سوہان کے اندر کوئی احساس نہیں جاگا تھا تو دوسری طرف زوریز کافی مسورکن کیفیت میں تھا”چاہے وہ یہ سب ایسے نہیں چاہتا تھا مگر سوہان سے نکاح کے بعد ایک چیز کا ڈر اُس کے اندر ختم ہوگیا تھا اور وہ تھا”جدائی”کا وہ جانتا تھا اب سوہان لاکھ چاہنے کے باوجود کبھی اُس سے دور نہیں جا پائے گی اور یہ بھی تھا کہ زوریز کبھی اُس پر کسی چیز کا زور نہیں تھا ڈالنے والا






“حال!
کچھ عرصے بعد!
“کیا آپ آپو سوہان سے ناراض ہیں؟فاحا نے عروج بیگم کو غور سے دیکھ کر سوال کیا
“ہم بھلا اُس سے کیوں ناراض ہوگے؟ عروج بیگم اُس کے سوال پر بے ساختہ مسکرائی
“اُنہوں نے آپ کا فیصلہ جو نہیں تھا مانا۔ ۔فاحا نے جیسے یاد کروایا
“اُس بات کو تو اب خیر سے دو ماہ ہو چلے ہیں” ہمیں تو اب یاد بھی نہیں ہے اور اچھا ہوا تھا جو اُس نے انکار کیا اگر وہ انکار نہ کرتی تو ہماری نظر آپ پر نہ پڑتی۔ ۔۔عروج بیگم محبت سے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی ہوئی بولی تو فاحا ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگی۔
“فاحا کو آپ کی بات سمجھ میں نہیں آئی؟ “آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟فاحا نے اُلجھ کر اُن سے سوال کیا جبکہ عروج بیگم کے کمرے میں آتی دیبا بھی دروازے کے پاس رُک گئ تھی۔
“تمہیں ہمارا اسیر کیسا لگتا ہے؟عروج بیگم نے اُس کی رائے چاہی
“مغرور” بدتمیز” غُصیلے” ڈریگولہ ٹائپ” چنگیز خان”ہر وقت ناک کی نتھے پُھلا کر چلنے والا آپ کا پوتا فاحا کو کسی عزرائیل سے کم نہیں لگتا جو کبھی بھی کسی کی جان نکالنے میں وقت نہ لگائے۔ ۔۔عروج بیگم کے پوچھنے کی دیر تھی اور فاحا کو جیسے اُن کے پوچھنے کا انتظار تھا تبھی فورن سے بولتی گئ تھی” لیکن دروازے کے پاس کان لگائے کھڑی ہوئی دیبا کو عروج بیگم کے اِرادے سہی نہیں لگے تھے۔ “خطرے کی گھنٹیاں اُس کو اپنے آس پاس صاف سُنائی دی تھیں۔ ۔
“ہمارا اسیر ایسا تو نہیں؟عروج بیگم حیرت سے اُس کا منہ تکتی ہوئیں بولی”وہ جان نہیں پائی کہ اسیر نے ایسا بھی کیا کردیا جو فاحا اُس کی شان میں اِتنا کچھ بول چُکی تھی
“ہر ایک کا اپنا نظریہ ہے۔ ۔فاحا کو احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ بول گئ ہے اُس کے باوجود وہ محض اِتنا بولی
“تم نے اُس کو دیبا سے خراب لہجے میں بات کرتا سُن لیا ہوگا تبھی ایسا کہہ رہی ورنہ ہمارا اسیر ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔ ۔۔عروج بیگم اندازہ لگاتی ہوئی بولی
“صرف دیبا باجی سے بات نہیں وہ بات ہی ہر ایک سے ایسی کرتا ہے۔ ۔۔فاحا نے سرجھٹک کر کہا
“دیبا اُس کو پسند نہیں تھی اور جب ہم نے زور زبردستی اُس کی شادی کروائی تبھی تو وہ ہم سے نالاں رہنے لگا تھا۔ ۔عروج بیگم کی بات پر جہاں دیبا نے زور سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا تھا وہی فاحا پورا منہ کُھولے حیرت سے گنگ عروج بیگم کو دیکھنے لگی تھی۔ ۔
“شادی؟فاحا کو یقین نہیں آیا وہ سمجھی شاید اُس کو سُننے میں کوئی غلطی ہوگئ تھی
“تم لوگوں کو نہیں ہوگا پتا لیکن ہمارے اسیر کی ایک بیٹی بھی ہے۔ ۔۔عروج بیگم نے ایک ساتھ دوسرا دھماکا بھی کیا اور فاحا کی حالت غیر ہونے لگی تھی وہ اپنی خراب ہوتی حالت کی وجہ سمجھ نہیں پائی تھی وہ تو بس عروج بیگم کو دیکھنے لگی تھی۔
“ایک بیٹی کا باپ ہے وہ اور اُس کے باوجود آپ کا کہنا ہے کہ شادی سے خوش نہ تھا۔ ۔۔فاحا کے چہرے کے تاثرات عجیب ہوگئے تھے”کمرے میں حبس کا احساس اُس کو شدت سے ہونے لگا تھا۔
“آپ کو شاید ہماری بات پر یقین نہ آئے لیکن اسیر کبھی شادی سے خوش نہ تھا اُس نے کبھی اپنے دل میں دیبا کو جگہ نہ دی اور جب وہ اپنی ایک دن کی بیٹی کو چھوڑے اپنے چاہنے والے کے پاس چلی گئ تو اسیر ملک کو اُس سے اور بھی نفرت ہوگئ تھی۔ ۔عروج بیگم نے مزید بتایا تو اِس سے زیادہ فاحا سے سُنا نہیں گیا تبھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ۔
“فاحا کو ضروری کام ہے۔ ۔۔فاحا اِتنا کہتی اُن کے کمرے سے جیسے باہر نکلی اُس کا سامنا دیبا سے ہوا جو اُس کا راستہ روکے ہوئے تھی۔
“سامنے سے ہٹے۔ ۔۔فاحا جو سائیڈ سے گُزرنے لگی تھی اور دیبا اُس کے راستے میں پھر سے آگئ تو فاحا نے سنجیدگی سے کہا
“تمہارا رنگ کیوں پھیکا پڑگیا ہے؟ “کیا تم نے اسیر کے خواب تو نہیں تھے دیکھ لیے؟دیبا نے تمسخرانہ لہجے میں اُس سے کہا
“تمیز سے بات کریں ورنہ میری بہنیں آپ کا منہ نوچ لے گی۔ ۔۔فاحا کو اُس کی بات پر غُصہ آگیا
“بہنوں کو چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ کیسا لگا جان کر کہ جس کو تم اپنا بنانا چاہتی تھی وہ تو میرا ہے۔۔۔دیبا کو جیسے موقع مل گیا تھا اُس کو باتیں سُنانے لگا
“آپ کا؟فاحا کو اُس کی بات پر ہنسی آئی
اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں اسیر کے دل سے اُترگئ ہوں تو یہ تمہاری خوشفہمی ہے”اسیر کل بھی میرا تھا اور آج بھی میرا ہے”اِس لیے دادی کی باتوں کو زیادہ سیریس مت لینے لگ جانا۔۔۔دیبا تیکھی نظروں سے فاحا کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں بولی
“فاحا کو ایسی کوئی خوشفہمی نہیں ہے۔۔۔فاحا نے بھی سنجیدگی سے جواباً کہا
“تمہارے لیے اچھا ہے۔۔۔۔دیبا کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ آئی
“جی اور ایک بات یہ کہ دل سے اُترنے کے لیے پہلے دل میں ہونا ضروری ہوتا ہے اور اسیر ملک نے آپ کو کبھی اپنے دل میں جگہ دینے کے قابل ہی نہیں سمجھا تھا۔۔۔فاحا ایک قدم آگے بڑھ کر اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پختگی سے بولی تو دیبا کے مسکراتے لب پل بھر میں سکڑ گئے تھے جبکہ فاحا کے چہرے پر اِس بار دلفریب مسکراہٹ کا احاطہ تھا وہ ایسی ہی تو تھی اپنی باتوں سے دوسروں کو لاجواب کرنے والی
“تم ہوتی کون ہو مجھے یہ بولنے والی؟”تمہاری اوقات کیا ہے؟دیبا کا بس نہیں چلا کہ وہ فاحا کا گلا دبادیتی
“ہٹے اب۔ ۔۔فاحا اُس کو راستے سے ہٹاتی جیسے ہی سامنے دیکھا تو اُس کی نظر اسیر پر پڑی جو چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے اُن کو دیکھ رہا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ فاحا کو انجانا سا خوف ستانے لگا
“یہی کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے لیے ایک باجی اور دوسری کاکی آپس میں لڑ بھی سکتے ہیں۔ ۔اسیر نے کہا تو اُس کی ایسی بات پر جہاں فاحا نے اپنی آنکھوں کو چھوٹا کیے اُس کو گھورا تھا وہی”باجی” لفظ پر دیبا جل کر خاک ہونے کے در پر تھی
“کاکے ہوگے آپ خود۔ ۔۔فاحا اُس کو گھور کر کہتی وہاں سے واک آؤٹ کرگئ تھی اور اُس کے جانے کے بعد اسیر نے سرد نظروں سے دیبا کو دیکھا تھا
“تمہیں کس نے حق دیا کہ تم فاحا سے ایسے بات کرو؟اسیر سخت نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگا جب سے دیبا حویلی آئی تھی یہ اُن کی پہلی گفتگو تھی۔۔”دیبا نے تو بہت مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسیر نے کبھی اُس پر دھیان نہیں دیا تھا اور آج جانے کیسے وہ اُس پر مہربان ہوگیا جو خود سے بات کررہا تھا۔
“تمہیں بڑا بُرا لگ رہا ہے جبکہ وہ چھٹانگ بھر کی ہوکر میرے منہ پر آرہی ہے۔ ۔۔دیبا کا دماغ گُھوم گیا تھا
“عزت دینے اور لینے کی چیز ہوتی ہے اِس لیے پہلے سامنے والے کو عزت دینا سیکھو اُس کے بعد لینے کی خواہش کرنا۔ ۔اسیر نے طنز نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
“اقدس کہاں ہے؟دیبا نے اُس کی بات کو اگنور کرکے پوچھا
“آج ہماری بیٹی کا نام منہ سے نکالا ہے لیکن ہم دوبارہ نہ سُنے ایسا کچھ۔ ۔اسیر نے وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“وہ میری بھی بیٹی ہے صرف تمہاری نہیں۔ ۔دیبا اُس پر چلائی
“چلاؤ نہیں اور آج بڑا یاد آگیا ہے تمہیں کہ اقدس تمہاری بیٹی ہے یہ خیال تب کیوں نہیں آیا تھا جب اُس کو چھوڑ کر اپنے یار کے ساتھ بھاگ نکلی تھی۔۔اسیر بغیر لحاظ کیے اُس سے بولا
“اوو تو تمہیں اُس بات کا افسوس ہے۔۔دیبا طنز سے بھرپور مسکرائی تھی
“ہمیں کسی بات کا افسوس نہیں اور ہاں تمہارا سایہ بھی ہم اپنی بیٹی پر پڑتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔۔اسیر نے بے لچک لہجے میں کہہ کر وہاں سے چلاگیا”اُس کا اِرادہ اب اپنے ڈیرے پر جانے کا کہا تھا” اور پیچھے دیبا نئے منصوبے بنانے میں مصروف ہوگئ تھی۔








یہ ہم کہاں آئے ہیں؟آریان گاڑی سے اُترتا حیرت سے آس پاس کا جائزہ لیتا ہوا زوریز سے بولا جو اب قدرے بہتر تھا
“چل جائے گا پتا صبر کرو۔۔زوریز گہری سانس بھر کر گاؤں کی مٹی کو محسوس کرتا جواباً اُس سے بولا
“تم کسی سے ملنے آئے ہو یہاں؟آریان نے تُکہ لگایا
“میں نہیں ہم۔ ۔۔زوریز نے بتایا
“مجھے تو کسی سے نہیں ملنا۔ ۔۔آریان نے متعجب ہوکر جواباً کہا
“میشا کو میسج کرو اور اُس کو بتاؤ کہ تم گاؤں آئے ہوئے ہو۔۔۔زوریز پہلی بار اُس کو دیکھ کر بولا تو آریان کو خوشگوار حیرت ہوئی
“سیریسلی؟”مطلب میشا مجھے یہاں ملے گی؟آریان کو یقین نہیں آیا لیکن خوشی اُس کو بہت ہوئی آج پورے تین ماہ بعد وہ اُس سے ملنے والا تھا
“ہاں اب میسج کرو اُس کو۔۔۔زوریز نے کہا
“کرتا ہوں لیکن جواب نہیں دیتی وہ۔۔۔آریان نے منہ بناکر کہا
“آج کوئی ایسا میسج کرو جس پر وہ تمہیں جواب دینے پر مجبور ہوجائے۔۔زوریز نے کہا تو آریان کا شیطانی دماغ پوری قوت سے جاگ اُٹھا تبھی جیب سے موبائل نکالے میشا کے نمبر پر مسیج چھوڑنے لگا۔
جو ہنسے اُس کا گھر بسے اِس لیے میشو رانی ہنستی رہا کرو تاکہ ہمارا گھر بسے ۔”مسیج بھیجنے کے بعد وہ اُس کے جواب کا انتظار کرنے لگا”تو دوسری طرف میشا جو اپنے آس پاس بکھری پڑی فائلز کو بے یقینی سے اور حیرت سے دیکھ رہی تھی مسیج ٹیون پر وہ اُس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ “اور اپنے نمبر پر آریان کا مسیج دیکھ کر اُس کا منہ بن گیا تھا جس کو اُس نے پوری طرح سے اگنور موڈ پر ڈالا ہوا تھا” لیکن آج اُس کے دماغ میں جانے کیا آیا جو جواب لکھنے لگی۔
“جس کا گھر بسے اُس سے پوچھو
“پھر کیا کبھی ہنسے؟
“اِس لیے مسٹر لفنٹر اپنی بتیسی منہ کے اندر رکھا کرو۔۔مسیج بھیجنے کے بعد اپنا موبائل رکھ کر سرجھٹک کر وہ فائل کی طرف دوبارہ متوجہ ہوئی تبھی کمرے میں فاحا آئی
“یہ سب کیا ہے؟بیڈ پر ہر جگہ فائلز کو دیکھ کر فاحا نے پوچھا
“میری دو ماہ کی محنت۔ ۔میشا پرجوش ہوکر بتانے لگی تو فاحا فورن سے اُس کے پاس آتی وہ فائلز کو دیکھنے لگی۔ ۔”لیکن ایک فائلز پر نظر پڑتے ہی اُس کی آنکھیں اُبل کر باہر آنے کو تھیں۔ ۔
آپو
ایک منٹ۔ ۔۔
“فاحا میشا سے کچھ کہنے سے والی تھی جب موبائل پر ایک مسیج پڑھ کر اُس کو تاؤ آیا
“بدتمیز یہاں کیسے آگیا؟میشا حیرت سے غوطہ زن ہوتی بولی
“بدتمیز سے مُراد؟فاحا سرجھٹک کر اُس سے بولی
“آریان نے جگہ کی تصویر بھیجی ہے جو گاؤں کے نہر کے پاس ہے یعنی وہ یہاں ہے اُٹھو جلدی ہمیں وہاں جانا ہے اُس سے پہلے وہ حویلی میں آجائے۔۔میشا فورن سے بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تو اُس کی دیکھا دیکھی میں فاحا بھی اپنی جگہ سے اُٹھی
“اُن کے آنے سے آپ پریشان کیوں ہیں؟آتے ہیں تو آنے دے”ظاہر سی بات ہے پیاسا خود کنویں کے پاس آتا ہے کنواں اُس کے پاس نہیں جاتا۔۔۔فاحا نے کہا تو میشا دانت پیس کر اُس کو دیکھنے لگی جس پر وہ دانتوں کی نُمائش کیے یہاں وہاں دیکھنے لگی۔”جیسے ابھی اُس نے کچھ ہی نہ تھا۔
