Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 47)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

تم یہاں؟اسیر جو ڈیرے کے بجائے زمینوں کا چکر لگانے نکلا تھا” نظر جب زوریز کے ساتھ آریان پر پڑی تو حیرت سے اُن دونوں کو دیکھا

“السلام علیکم ۔۔۔زوریز نے اُس کو دیکھ کر پہلے سلام کیا

وعلیکم السلام کیسے آنا ہوا تمہارا یہاں؟اسیر نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا

“یہ کون ہے؟آریان بلیک شلوار قمیض میں ملبوس اسیر اور اُس کے کندھوں پر شال اُوڑھے دیکھ کر اُس کا مکمل جائزہ لینے کے زوریز سے سوال کیا

“ہمارا سالا ہے۔ ۔۔زوریز کے منہ سے بے اختیار پھسلا تو آریان نے چونک کر ایک بار پھر ایکسرے کرتی نظروں سے اسیر کو دیکھا جو آنکھیں چھوٹی کیے زوریز کو دیکھ رہا تھا

“آپ نے کیا کہا ہم نے سہی سے سُنا نہیں؟اسیر نے زوریز کو دیکھ کر پوچھا

“میں کہہ رہا تھا کہ آپ سے مل کر خوشی ہوئی”اور کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ سوہان ہمیں کہاں ملے گی؟زوریز نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا

“اور میں کہہ رہا تھا کہ آپ سے مل کر جو خوشی ہوئی وہ الگ بات ہے” لیکن آپ کیا بتاسکتے ہیں کہ”میشا مجھے کہاں ملے گی؟اسیر نے ابھی زوریز تک کو جواب نہیں دیا تھا جب آریان نے بے قراری سے پوچھا تو اسیر نے باری باری دونوں کو جانچتی نظروں سے اُن دنوں کو دیکھا

“وہ

“تم گدھے یہاں بھی آگئے۔ ۔۔اسیر جواب دینے والا تھا جب میشا اور فاحا اچانک جانے کہاں سے آ دھمکی تو میشا کو دیکھ کر آریان کی پوری بتیسی کُھل چکی تھی” لیکن زوریز اُن کے پیچھے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہاں اُس کو سوہان نظر آجائے گی۔ ۔

“گدھا یہاں کیوں نہ آتا تم اُس کی ساری گھاس یہاں اُٹھا کر جو لائی تھی” گدھی نہ ہو تو۔ ۔آریان نے بُرا مانے بغیر کہا تو خود کے لیے” لفظ “گدھی” سُن کر میشا کی آنکھیں حیرت کے مارے پوری کُھلی کی کُھلی رہ گئ تھی

یہ تم نے گدھی کس کو کہا؟میشا نے کڑے چتونوں نے اُس کو گھورا

“تمہیں کہا اور کوئی تمہیں گدھی نظر آتی ہے کیا یہاں؟”میں گدھا ہوں اور تم گدھی ہو اور ہم دونوں کا پرفیکٹ میچ ہے۔ ۔میشا کو گدھی بنانے کے لیے آریان خود گدھا بنانے کو تیار تھا۔”اُن کی لڑائی فاحا بڑے پرشوق نظروں سے دیکھ رہی تھی البتہ زوریز اور اسیر نے خاصی بیزار کن نظروں سے اُس کو دیکھ رہے تھے جنہوں نے لڑنے میں بچوں کو بھی پیچھے چھوڑدیا تھا۔ ۔

“تمہیں تو میں ابھی گھاس کِھیلاتی ہوں۔ ۔میشا یہاں وہاں دیکھتی اُس کو دیکھ کر بولی

“پہلے تم کھاکر بتانا کہ ٹیسٹ کیسا ہے؟آریان نے اشتیاق سے کہا

“اگر آپ گدھی گدھوں کا ہوگیا ہو تو ہم یہاں سے چلے؟اسیر نے طنز کیا

“ہاں جاؤ۔۔میشا نے شانِ بے نیازی سے کہا

“ہم نے آپ دونوں کو بھی کہا ہے۔۔اسیر نے اُس کو گھورا

“اب ہمیں کیا پتا کہ آپ کے”ہم”کتنی آبادی کا شُمار ہوتا ہے کیونکہ آپ خود کو بھی”ہم” بولتے ہیں۔ ۔فاحا نے بھی جانے کونسا غُصہ اُس پر نکالا

“اچھا تو جو اِنہوں نے گدھوں کہا اُس ” گدھوں” میں یہ خود بھی شامل تھے؟آریان نے کہا تو ہر ایک نے اُس کو گھورا تھا اور اسیر نے جانے کیا سوچ کر اپنا غُصہ دبایا تھا

“تمیز سے بات کریں ورنہ جو مقصد آپ لیکر یہاں آئے ہیں نہ وہ حسرت بن کر آپ کے ساتھ قبر میں دفن ہوگا’ہاں اِن کا غُصہ بڑا تیز ہے یہ جب غُصے سے بات کرتے ہیں تو بجلی کڑکنے لگتی ہے۔ ۔فاحا نے کہا تو آریان بھنوئیں اُپر کرتا اسیر کو دیکھنے لگا جو اب فاحا کو گھور رہا تھا۔

“سوہان کہاں ہے؟ زوریز کو بس”سوہان کی پڑی تھی

“دُنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے لیکن تم نے پھر بھی یہ پوچھنا ہے”سوہان کہاں ہے؟آریان زوریز کو گھور کر بولا

“اگر تم واقعی میں چاہتے ہو تمہارا مقصد حسرت بن کر قبر میں دفن نہ ہو تو چُپ کرکے کھڑے رہو۔ ۔زوریز نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

“کیا ہوگیا ہے یار اب بندہ اپنے بھائی سے مذاق بھی نہ کرے؟ آریان نے جلدی سے پنترا بدلا تھا۔

“سوہان حویلی میں ہے اور آپ لوگ وہان آئے مُلاقات ہوجائے گی۔ ۔فاحا نے زوریز کی بے چینی کو دیکھ کر کہا

“یہ دونوں حویلی نہیں آئے گے سوہان سے کہو وہ یہاں آئے” حویلی میں غیرمرد کو آنے کی اِجازت نہیں ہوتی۔ ۔۔فاحا کی بات پر جہاں زوریز خوش ہوا تھا وہی اسیر نے رنگ میں بھنگ ڈالنا ضروری سمجھا

“یہ کوئی غیر نہیں حویلی کا داماد ہے تو اِس کے آنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی” اور وقت آگیا ہے کہ ہر کوئی انٹرڈیوس ہو۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو زوریز نے چونکتے ہوئے میشا کو دیکھا کیونکہ اِتنے سالوں بعد اُس کو احساس ہوا تھا کہ وہ نکاح شدہ ہے۔ ۔۔”دوسری طرف آریان خوشفہمی کی انتہاؤ کو چھاتا دلکش انداز میں اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا

“کون داماد”اور کس کا شوہر؟اسیر تعجب سے زوریز اور آریان کو دیکھنے کے بعد پوچھنے لگا

“میں

میں۔۔

زوریز اور آریان ایک ساتھ بولے تھے

“یہ تو بکریوں کی طرح” میں میں کرنے لگے ہیں۔ ۔۔فاحا کی زبان میں کُھجلی ہوئی

“دراصل میں شوہر ہوں سوہان کا اور یہ میرا بھائی ہے آریان میشا کا فیوچر ہسبنڈ۔ ۔۔زوریز نے اپنے ساتھ ساتھ آریان کی بھی نیا پار لگادی تو آریان اُس کے واری صدقے ہوا”اِتنا کہ وہ یہ تک غور نہیں کرپایا کہ اُس نے ابھی سے خود کو سوہان کا شوہر کے نام سے انٹرڈیوس کروایا ہے”لیکن میشا ہونک بنی زوریز کو تکنے لگی جس نے مفت میں اُس کو آریان کے پلے باندھا تھا۔

“آپ کا بھی اگر کوئی چاہنے والا ہے تو ابھی سے بتادے۔ ۔۔اسیر سرجھٹکتا فاحا سے بولا

“آپ کی طرح میرا نا تو کسی سے خوفیہ زبردستی نکاح ہوا ہے اور نہ کوئی بچہ میں نے چُھپا کر رکھا ہے۔ ۔فاحا نے بنا لگی لپیٹی کے ساتھ اُس کو سُناتے ہوئے کہا تو اسیر نے بے اختیار اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر دانت کچکچاکر اُس کو دیکھنے لگا جو ایک بار اُس کا صبر آزما رہی تھی۔

“ہیں کون ہے پھر تمہاری بشیرا ہے؟”حد ہے ہمیں مِلوایا ہی نہیں۔ ۔۔میشا نے گویا شکوہ کیا

“بشیرا کافی آنٹی ٹائیپ نام نہیں؟”آریان نام دوہراتا اپنی داڑھی کو کِھجاکر میشا سے بولا

“یہ گاؤں ہے یہاں بشیرا شبیرا تمہیں آرام سے مل جائے گی”کیونکہ یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔میشا نے رازدرانہ انداز میں آریان کو بتایا

“ہماری پرائیویسی میں دخل نہ دے آپ”میشا اور آریان اس اگنور کیے”اسیر نے سنجیدگی سے فاحا کو کہا

“آپ کو بھی میں یہ کہوں گی۔۔۔”فاحا کے چاہنے والے جتنے بھی ہو وہ اُن کا بتانے کی پابند آپ کی نہیں ہے۔ ۔۔فاحا ترکی پر ترکی بولی

“آج کیا لڑائی کا دن ہے۔۔زوریز تنگ ہوکر بولا”آخر کیوں نہیں ہوتا کب سے وہ دیکھ رہا تھا اُن چاروں میں سے باری باری کوئی نہ کوئی لڑ ضرور رہا تھا اور ایک وہ تھا جس سے لڑنے والی یہاں موجود نہ تھی۔

“اِن کو لیکر چلے سوہان کہتے کہتے دل کا دورا نہ پڑجائے میرے بھائی کو۔ ۔۔آریان کو زوریز پر ترس سا آگیا

“آئے۔ ۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا

“تم آؤ میری گاڑی میں۔۔۔زوریز نے اپنی گاڑی کی طرف اِشارہ کیا

“ہماری گاڑی تھوڑا دور کھڑی ہے اُس میں آجائے گے ہم۔ ۔۔”اور آپ لوگ خیال سے آئیے گا موسم خراب ہے بارش کبھی بھی ہوسکتی ہے اکثر یہاں بے وقت موسلادھار بارش ہوتی رہتی ہے۔۔۔اسیر ایک نظر اُس کی گاڑی کو دیکھ کر بولا

“فاحا میں نے بھی سُنا ہے یعنی یہ گاؤں والے کہتے ہیں کہ یہاں جب بجلی گرجتی ہے تو جو کالے لباس میں ہوتا ہے وہ بجلی اُس پر گِرتی ہے۔ ۔۔میشا نے فاحا کو دیکھ کر بڑے سنجیدہ انداز میں کہا تو وہ چونک کر خود کو دیکھنے لگی کیونکہ آج اُس نے بلیک پرینٹڈ سوٹ زیب تن کیا تھا خود کے بعد اُس کی نظر بے ساختہ اسیر پر پڑی تھی جو بلیک شلوار قمیض میں تھا یہ دیکھ کر فاحا کو عجیب گدگدی سے ہونے لگی۔ “میشا نے کیا کہا تھا اِس بات پر وہ غور ہی نہیں کرپائی تھی” دوسرا میشا نے یہ طنز کیا بھی اسیر پر تھا ناکہ فاحا پر۔ ۔

“افففف یہ تو بڑا گھمبیر مسئلہ ہوگیا۔ ۔۔آریان نے بھی افسوس کا اِظہار کیا تھا

“آپ یہ پہن لے۔ ۔۔اسیر کو جانے کیوں سوجھی جو اپنی براؤن شال اُوڑھی کندھوں سے اُٹھا کر فاحا کو اُوڑھائی تو وہ پلکیں جِھپکائیں بنا یک ٹک اسیر کو دیکھنے لگی اور وہ فاحا کو”میشا نے آریان کو دیکھا تھا تو آریان نے اُس کو اور ایک زوریز تھا جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خود بھاگ کر سوہان کے پاس چلا جاتا”خیر سوہان کہ نا ہونے کی وجہ سے زوریز نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھا تھا” وقت جس طرح گُزر رہا تھا ٹھیک ویسے آسمان پر بادلوں کا گھیرا بڑھتا جارہا تھا۔

“شکریہ۔ ۔فاحا نظریں جُھکا کر بولی تو اسیر کے وجیہہ چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کرلیا تھا جس کو چُھپاکر وہ سائیڈ پہ ہوا

“آپ میری گاڑی میں بیٹھ جائے۔ ۔۔۔اسیر نے فاحا کو دیکھ کر کہا تو فاحا سے پہلے میشا فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ گئ جس پر فاحا نے دانت پیس کر اُس کو گھورا تھا جواب میں میشا نے معصومیت سے آنکھیں پِٹپِٹائیں تھیں

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“یہ دو لڑکے کون ہے؟حویلی میں ابھی دو گاڑیاں داخل ہوئیں تھیں” جب مالی بابا کے ساتھ کھڑی ہوئیں عروج بیگم نے ایک گاڑی سے زوریز اور آریان کو اُترتا دیکھا تو اسیر سے سوال کیا

“شہر سے آئے ہیں ہمارے مہمان ہیں”موسم اچھا نہیں تھا تو ہم یہی لے آئے ہیں۔ ۔۔اسیر نے بتایا تو اب عروج بیگم کی نظر فاحا پر پڑی جس نے اپنے گرد اسیر کی شال لپیٹی ہوئی تھی۔

“آپ کی شال؟عروج بیگم نے اسیر سے سوال کیا جس کو وہ آج پہلی بار شال کے بغیر دیکھ رہیں تھیں۔ ۔

“فاحا کے پاس ہے۔ ۔جواب اسیر سے پہلے فاحا نے دیا تھا۔

ہمارے گاؤں کی روایت ہے جو مرد عورت کو اپنی شال اُوڑھاتا ہے وہ لڑکی پھر اُس کی بن جاتی ہے اور اُن کا نکاح ہوجاتا ہے۔ ۔۔عروج بیگم کے دماغ میں جانے کیا خیال آیا جو اُنہوں نے یہ کہا تو ہر کوئی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگا جبکہ اسیر یہ سوچ رہا تھا کہ یہ روایت کب بنی؟”جو وہ گاؤں کا سردار ہونے کے باوجود جان نہیں پایا تھا۔”دوسرا میشا اور فاحا کی تلاش میں سوہان بھی حویلی کے باہر آتی لان میں اپنے قدم رکھے تو عروج بیگم کی بات پر فاحا کو دیکھنے لگی جو حیرانگی کا مُجسمہ بنی ہوئی تھی۔

“ہمارے خاندان کی بھی ایک روایت ہے اگر لڑکا لڑکی کو اپنی جیکٹ پہناتا ہے تو وہ دونوں ایک دوسرے کے ہوجاتے ہیں پھر دھوم دھام پٹاخوں کے ساتھ اُن کی شادی کروائی جاتی ہے۔”کیوں میشو تمہیں یاد ہے نہ؟”ہاں یاد کیوں نہیں ہوگا جب جب میں تمہیں اپنی جیکٹ پہناتا تھا تو بتاتا تھا تو دسو اپنی دادی نوں تاکہ ہمارے وہاہ دا بندوبست کریں۔۔۔آریان کہاں پیچھے رہنے والا تھا وہ بھی جھٹ سے بولا تو زوریز نے کن آکھیوں سے ہر ایک کو دیکھ کر آخر میں پریشان کھڑی سوہان کو دیکھا تھا جس کی نظریں ابھی تک اُن پر نہیں پڑیں تھیں۔ “اُن سے بے نیاز میشا کڑے تیور لیے آریان کو دیکھ کر اپنے دماغ پر زور دیتی یہ سوچنے میں تھی” آریان نے کب اُس کو اپنی جیکٹ دی تھی۔

“دادی یہ کیا بول رہی ہیں آپ اندر چلیں۔ ۔اسیر سرجھٹک کر عروج بیگم سے بولا

“ہماری

“اندر بات ہوگی۔ ۔۔عروج بیگم کچھ کہنا چاہتیں تھیں جب اسیر اُن کی بات کاٹ کر بولا

“السلام علیکم سوہان۔ ۔۔زوریز سے زیادہ دیر تک سوہان کی لاتعلقی برداشت نہیں ہوئی تو اُس نے سوہان کا دھیان اپنی طرف کروانے کی کوشش کی جس پر سوہان حیرت سے زوریز کو دیکھنے لگی اُس کو یقین نہیں آیا کہ زوریز گاؤں بھی آسکتا تھا۔

“اب آپ کیا کہنے والوں ہیں کہ سالوں پہلے آپ کی نظر سوہان پر پڑی تھی”تو وہ اب آپ کی ہے؟آریان سرگوشی نما آواز میں زوریز کے کان کے پاس آکر جُھک کر بولا تو اُس نے آریان کو تنبیہہ کرتی نظروں سے دیکھا پھر آریان نے سوہان کو آتا دیکھا تو وہ وہاں سے کھسک گیا

“آپ یہاں؟سوہان چلتی ہوئی اُس کے روبرو کھڑی ہوئی

“کیسی ہیں آپ؟زوریز نے جیسے اُس کی بات سُنی ہی نہیں

“میں تو ٹھیک ہوں لیکن آپ یہاں کیسے؟”اور کیوں آئے ہیں؟سوہان بتانے کے بعد بولی زوریز کو دیکھ کر وہ حقیقتاً پریشان ہوئی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ حویلی کا کوئی اور مرد یہاں زوریز کو دیکھتا یا اُس سے کوئی بات کرتا

“کیا آپ کو میرا یہاں آنا پسند نہیں آیا؟زوریز نے سوال کیا

“آپ کو کیا لگا تھا یہاں میں آپ کو دیکھ کر خوش ہوجاؤں گی؟سوہان نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

“میں اب خود کو اِتنا بھی خوش قسمت نہیں سمجھتا۔ ۔زوریز نے شانے اُچکاکر کہا

“آپ اپنے بھائی کو لیکر یہاں سے جائے” ویسے بھی کچھ وقت بعد ہم شہر واپس لوٹ آئینگے۔ ۔سوہان اُس کی بات نظرانداز کرکے بولی

“میں یہاں اسپیشلی آپ کو لینے آیا ہوں۔ ۔۔زوریز نے بتایا تو سوہان نے چونک کر اُس کو دیکھا

“مطلب؟سوہان نے ناسمجھی کی کیفیت میں اُس کو دیکھ کر پوچھا

“مطلب میں آج آپ کا کلائنٹ بن کر نہیں شوہر بن کر آپ کو لینے آیا ہوں۔ ۔زوریز نے بتایا اور یہ سن کر سوہان کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا کہ یہ کہنے والا واقعی میں زوریز تھا”جو اِتنے سال بعد اُس کو اِن کے رشتے کا حوالہ دے رہا تھا اور کتنا مان”اور کتنے غرور سے اُس نے یہ کہا جیسے اُس کو پورا یقین تھا کہ سوہان اُس کی بات سے انحراف نہیں کرے گی۔

“کسی نے کہا تھا کہ وہ مجھ پر زور زبردستی نہیں کرے گا۔ ۔سوہان نے جیسے اُس کو یاد کروایا

“جس نے بھی جس کسی کو بھی یہ کہا تھا اُس کو اندازہ ہونا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے”اور ہمیں کسی کی حدود کی لِمٹس کو زیادہ طویل نہیں کرنا چاہیے۔ ۔زوریز دوبدو بولا

“زوریز میری بات سُنیں آپ

“ہمیشہ آپ کی باتیں سُنتا آیا ہوں لیکن آپ کو آج میری بات سُننا ہوگی’میری پھوپھو کل پاکستان آنے والی ہیں”وہ بات کرے گیں آپ کے فادر سے۔ ۔زوریز اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر کہا

“یہ پاسبیل نہیں زوریز ایسا نہیں ہوسکتا آپ کیسے اپنی بات سے مکر سکتے ہیں؟سوہان حیران تھی

“سیریسلی؟

آپ کو لگتا ہے کہ میں یعنی زوریز دُرانی اپنی کسی بات سے مکر رہا ہے جس نے اِتنے سال خاموشی کا قفل صرف اور صرف آپ کی خوشی کی خاطر لگایا تھا اور آج جب وہ آپ سے کچھ چاہتا ہے” آپ کے در پر سوالی بن کر آیا ہے تو آپ اُس کو یوں خالی ہاتھ لُٹانے لگیں ہیں تو خود بتائے کیا یہ سہی ہے میرے ساتھ؟ زوریز نے سوال اُٹھایا تو سوہان اُس کو دیکھتی رہ گئ جو آج اپنی پر آیا تھا تو اُس کی کچھ سُن ہی نہیں رہا تھا۔

“میں ابھی رخصتی نہیں چاہتی مجھے وقت چاہیے۔ ۔سوہان نے بس اِتنا کہا

“آپ کو وقت دینے کے چکر میں میرے بالوں میں سفیدی”ہاتھوں میں اسٹک اور چہرے پر جہڑیاں آجائے گیں۔ ۔زوریز نے جلے دل کے ساتھ کہا تو سوہان آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو دیکھنے لگی

“سیکھو اپنی بڑی بہن سے کتنے پیار سے زوریز کو دیکھ رہی ہے”اور باتیں کرنے میں لگی ہوئی ہے۔آریان جو زوریز کے قدرے فاصلے پر کھڑا تھا اُس نے میشا سے کہا

“میری تم بات سُنو زیادہ ہواؤں میں اُڑنے کی قطعیً کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں کیونکہ میں میشا عرف میشو ہوں جو کسی کے دباؤ میں نہیں آتی اِس لیے یہ خیال دماغ سے نکال دو کہ میں تم سے شادی کروں گی۔۔اُس کی بات کو اگنور کرتی میشا دانت پیس کر بولی

“یہ تو اب ناممکن سا ہے۔۔آریان نے آنکھ کا کونا دبائے اُس سے کہا

“آپو آجائے بات کرنی ہے آپ سے۔۔فاحا نے میشا کو دیکھ کر کہا

“جاؤ اب تو میں یہی ہوں پھر مُلاقات ہوتی رہے گی۔۔آریان نے شرارت سے کہا تو اُس کو دیکھتی میشا فاحا کے ساتھ حویلی میں داخل ہوئی

“وہ دونوں اپنے کمرے میں جانے کا اِرادہ کیئے ہوئے تھیں”جب عروج بیگم کے کمرے کے پاس گُزرتے ایک آواز نے اُن دونوں کا دھیان اپنی طرف کھینچا

“دادی ہم ہرگز فاحا سے شادی نہیں کرسکتے”کیا ہوگیا ہے آپ کو جو ایسی باتیں لیکر بیٹھ گئیں ہیں آپ”وہ بہت چھوٹی ہے ہم سے اور اُس سے شادی کرنے سے اچھا ہم کوئی بچہ ایڈاپٹ کردے۔۔اسیر کی غُصیلی آواز فاحا واضع سُن چُکی تھی جس پر اُس کے چہرے کی رنگت متغیر ہوئی تھی۔۔”اور میشا نے حیرت سے فاحا کو دیکھنے لگی۔

“یہ اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے؟”تمہیں کیا کوئی علم تھا اِس بات کا؟ میشا نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا

“فاحا کو نہیں پتا اور اِس اسیر بشیر سے کہہ دے کہ فاحا ملک اپنے پورے ہوش وحواس میں اُن کو ریجکیٹ کرتی ہے”ریجیکٹ کرتی ہے اور ریجیکٹ کرتی ہے۔۔فاحا دانت پیس کر جذباتی انداز میں کہتی واک آؤٹ کرگئ تو میشا ہونک بنی اُس کی پشت کو تکنے لگی۔”وہ جان نہیں پائی کہ فاحا کو اچانک کس کیڑے نے کاٹ لیا؟”لیکن پھر سرجھٹک کر دروازے سے کان لگائے اندر ہوتی گفتگو کو سُننے لگی۔ ۔

“اسیر کیا آپ کو یاد ہے آج سے کچھ سال قبل آپ اِسی لہجے میں ہم سے مُخاطب تھے اور تب آپ کو اِس بات کا شکوہ تھا کہ ہم آپ کی شادی دیبا سے کیوں کروا رہے ہیں وہ عمر میں آپ سے بڑی ہے اور آج بھی آپ کا شکوہ کچھ ایسا ہے کہ فاحا سے شادی کروانے کا ہم نے کیوں سوچا وہ آپ سے عمر میں چھوٹی ہے۔ ۔عروج بیگم اسیر کا چہرہ تکتی مسکراکر اُس کو پُرانہ وقت یاد کروانے لگی جس کو یاد اسیر تو بلکل بھی کرنا نہیں چاہتا تھا۔

“حیرت ہے اِس اسیر بشیر کی بیوی آنٹی دیبا ہے؟”اور میں نے ایویں بشیرا کو خُوار کیا۔ ۔میشا نے یہ سُنا تو اُس کو کافی تعجب ہوا

“تو کیا لازمی ہے پہلے جس طرح ہم نے خود سے سات سال بڑی لڑکی سے شادی کی اور اب آٹھ سال چھوٹی لڑکی سے شادی کریں لڑکی بھی وہ جس کا دماغ ہماری اقدس کے دماغ کی طرح ہے پچکانہ۔ ۔اسیر سرجھٹک کر بولا تو اُس کی آخری بات پر میشا کو تاؤ آیا بھلا وہ کیسے برداشت کرتی کہ کوئی اُس کی بہن کے خلاف کچھ بھی بولے”تبھی دروازہ کھول کر وہ دھڑام سے اندر داخل ہوئی تو اسیر نے ناگواری سے اُس کو دیکھا

“تم کیا میری بہن کو انکار کرو گے؟”ارے وہ تو خود تین بار تمہیں ریجکیٹ کرچُکی ہے۔۔میشا نے کہا تو اسیر کے ماتھے پر لاتعداد بلوں کا جال بِچھ گیا تھا یہ بات سُن کر جیسے اُس کی انا کو ٹھیس پہنچی تھی۔”یعنی وہ خود چاہے اُس کو انکار کرتا لیکن فاحا کے پاس انکار کا کوئی حق وہ نہیں سمجھتا تھا۔

“یہ بات اُس نے خود کہی؟اسیر نے ضبط سے پوچھا

“بلکل چاہے تو پوچھ سکتے ہو اور ہاں خود کو شکل سے شہزادہ گُلفام اور غُصے میں چنگیز خان سمجھنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اگر تمہارا ہائے اسٹینڈر ہے تو میری بہن کا بھی ایک الگ لیول ہے جس پر تم پورے نہیں آتے۔ ۔میشا نے سارے حساب پل بھر میں بے باک کیے تو اسیر لمبے لمبے ڈُگ بھرتا وہاں سے باہر نکل گیا اُس کا اِرادہ اب فاحا کی خبر لینے کا تھا۔ ۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

“اسیر سب سے پہلے اپنے کمرے میں آیا تھا اُس نے سوچا بھلا وہ کیوں فاحا سے بات کرے؟”کونسا وہ اُس پر مرمٹا ہے اگر اُس کا انکار ہے تو انکار سہی ویسے بھی خود بھی تو وہ شادی کے حق میں نہیں تھا” اور اگر فاحا انکار کررہی تھی تو یہ اُس کے لیے بھی اچھا تھا” پر جب وہ نہاکر فریش ہوکر آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی شال اُوڑھنے لگا تو دماغ میں بس ایک خیال اُس کو ستانے لگا کہ اُس میں ایسی کیا خامی تھی جو فاحا نے اُس کو ریجیکٹ کیا”ہلانکہ وہ اُس کی آنکھوں میں اپنا عکس بہت پہلے سے دیکھ چُکا تھا پر اُس کی عمر کو دیکھ کر اسیر نے کبھی اُس کی حوصلہ افزائی کرنے کا نہ سوچا تھا اور جتنا اُس کے لیے ممکن ہوتا تھا وہ فاحا سے فاصلہ اختیار کیا کرتا تھا پر آج میشا کے منہ سے فاحا کا انکار اُس کے لیے ایسے تھا جیسے کوئی کاری ضرب تبھی خود سے اکیلے لڑائی لڑنے سے اچھا وہ فاحا سے بات کرنے کی نیت سے اپنے کمرے سے باہر نکل کر اُس کے کمرے کے دروازے کے پاس آیا جو کُھلا ہوا تھا اور سامنے اُس کو فاحا یہاں سے وہاں ٹہلتی نظر آئی جس پر جانے کیوں اسیر کو غُصہ آیا

“بات کرنی ہے آپ سے۔ ۔اسیر نے اُس کو اچانک سے مُخاطب کیا تو فاحا کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا وہ بس اپنی دھڑکنوں کو سنبھالتی دروازے کے پاس کھڑے اسیر کو دیکھنے لگی جس کا چہرہ ہر تاثر سے پاک تھا

“یہ کیا طریقہ ہے فاحا کے کمرے میں آنے کا اور یوں جن کی طرح مخاطب ہونے کا۔ ۔فاحا نے کہا تو اسیر بغیر اُس کی بات کا جواب دیتا پورا کمرے میں داخل ہوا جس پر فاحا کو جانے کیوں گھبراہٹ ہونے لگی۔”کیونکہ پہلی بار اُن کے علاوہ اُن کے کمرے میں کوئی آیا تھا

آپ نے ہم سے شادی کرنے سے انکار کیا؟اسیر فاحا کے روبرو کھڑا ہوتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا

ہاں۔ ۔۔قدم پیچھے کی جانب لیکر فاحا نے مختصر جواب دیا۔ ۔

کیوں؟ سنجیدگی سے بھرپور اگلا سوال

کیونکہ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی تھی۔ ۔۔اپنے ڈوپٹے کے کونے کو مضبوطی سے تھامے فاحا نے جواب دیا

کوئی ایک وجہ ہم سے شادی نہ کرنے کی؟ اسیر نے اپنا ایک قدم آگے بڑھایا تو وہ دو قدم پیچھے ہوئی

کوئی ایک وجہ نہیں جو میں بتاؤں۔۔۔فاحا پزل ہوئی اُس کے سوالوں سے

ٹھیک ہے اگر وجوہات بہت ہیں تو باری بار سب بتاؤ۔۔۔اپنے کندھوں پر شال ٹھیک کیے بازوں سینے پر باندھے وہ کسی چٹان کی طرح اُس کے جانے کے سارے راستے مسدود کرتا پوچھنے لگا تو فاحا لب کُچلنے لگی۔۔۔”وہ سمجھ نہیں پائی اب اِس انسان نُما جن سے چُھٹکارا کیسے حاصل کرے

ہم سُن رہے ہیں۔ ۔۔اسیر بولا تو فاحا نے نظریں اُٹھاکر سامنے کھڑے وجاہت سے بھرپور اسیر کو دیکھا جو بے تاثر نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا۔ ۔

آپ مجھ سے عمر میں بڑے ہیں۔ ۔پہلی وجہ بتائی گئ

محض آٹھ سال”اور یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔۔وجہ رد کی گئ۔۔۔

آپ شادی شُدہ بھی ہیں”مگر میں غیر شادی شُدہ ہوں۔ ۔۔آہستگی سے اپنے اُور اُس کے درمیان حائل فرق بیان کیا گیا

آپ وقت پر آجاتی تو آج دونوں شادی شُدہ ہوتے۔۔۔اُس کے جواب پر فاحا سُرخ ہوئی مگر نظریں اُٹھاکر اسیر کو دیکھنے کی ہمت نہ کرپائی

آپ ایک بچے کے باپ ہیں۔ ۔فاحا کو لگا شاید سامنے والا اب پیچھے ہٹ جائے اور اُس کو جانے دے

ہم سے شادی کے بعد وہ آپ کا بچہ بھی ہوسکتا ہے اگر آپ چاہو تو۔ ۔۔۔۔پیش کش کی گئ

اِن کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں جن کی وجہ سے میں شادی کے حق میں نہیں تو آپ پلیز مجھے فورس نہ کرے۔ ۔۔فاحا تنگ ہوئی

ہمارے کان کُھلے ہوئے ہیں اب آپ اپنا منہ کھول کر اور باتیں بھی بتائیں۔۔۔اسیر نے اصرار کیا

آپ بات ایسے کرتے ہیں جیسے کوئی احسان کرتے ہو”جیسے سامنے والا آپ کا غلام ہو اور آپ اُس کے مالک۔۔۔خفگی بھرے لہجے میں اگلی وجہ بتائی گئ۔

ہم نارمل لہجے میں بات کرنے کی کوشش کرینگے آپ آگے بولو۔۔۔۔اُس نے جیسے بات ختم کرنی چاہی

میری ایک چیز سے سؤ نقص نکالتے ہیں۔۔۔اب کی شکوہ کیا گیا

اب کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرینگے”بس یا کچھ اور بھی؟اسیر غور سے اُس کے چہرے کے اُتاؤ چڑھاؤ کو دیکھ کر بولا

مجھے کبھی پیار سے نہیں دیکھا جب بھی دیکھا غُصے سے دیکھا ہے۔۔۔آخر میں اُس کے منہ سے وہ پھسلا جو نہیں پھسلنا چاہیے تھا مگر جو بھی تھا سامنے والا اُس کی بات سے محفوظ ہوا تھا تبھی اب کی مبہم مسکراہٹ سے اُس کو دیکھنے لگا جس کی حالت غیر ہوگئ تھی۔۔۔

“تو آپ چاہتی ہیں” ہم آپ کو پیار سے محبت لُٹاتی نظروں سے دیکھے؟ اسیر پہلی بار اپنے ڈمپلز کی نُمائش کرتا اُس سے پوچھنے لگا تو فاحا کا دل چاہا بھاگ کر کہی چُھپ جائے لیکن اسیر سے وہ کیسے بھاگ سکتی تھی؟”جو اُس کو پاتال سے بھی ڈھونڈ لاتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *