Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 37)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

ایمبولینس کو کال کردی ہے آپ اُٹھے۔ ۔کسی نے سوہان سے کہا تو وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اور اُس کو اچانک سے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو وہ سیدھی ہوتی زوریز کو دیکھنے لگی جس کی آنکھیں اِس وقت بند تھیں۔۔”جنہیں دیکھ کر سوہان کا دل کٹ کے رہ گیا تھا” اسلحان کی موت کے بعد اگر اُس کو کوئی اور تکلیف بھرا دن لگ رہا تھا تو وہ آج کا تھا۔”باہر میڈیا کا ہجوم الگ سے اکھٹا تھا کیونکہ زوریز کوئی معمولی ہستی تو نہیں تھا اور جیسا اُس پر کیس چل رہا تھا نیوز والوں کے لیے یہ ایک چٹ پٹی خبر تھی” اور اُن کے کانوں میں جیسے ہی زوریز پر ہوئے حملے کی خبر پڑی تو ہر طرف جیسے آگ کے شعلے بھڑک اُٹھے ہر جگہ اگر کسی کا نام تھا تو وہ بس زوریز دُرانی کا تھا۔ ۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“جی تو ناظرین ہم اِس وقت کورٹ کے باہر کھڑے ہیں جہاں زوریز دُرانی جی ہاں دا بزنس ٹائیکون زوریز دُرانی کے کیس کی پہلی سُنوائی تھی۔ ۔”اور ابھی ہمیں ایک اِطلاع ملی ہے کہ اُن پر کسی نے قاتلانہ حملا کردیا ہے۔”اور اُن کی حالت کافی تشویشناک ہے۔۔”حملا کرنے والا کون تھا؟

“زوریز دُرانی کی آخر ایسی سنگین دُشمنی کس کے ساتھ ہوسکتی ہے؟”جاننے کے لیے ہمارے چینل کے ساتھ جُڑے رہے۔۔

“یہ کوئی خبر نہیں بم تھا جو آریان کو خود پر گِرتا محسوس ہوا تھا وہ بغیر آنکھیں جھپکائیں ٹی وی اسکرین کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں نیوز اینکر گلا پھاڑ پھاڑ کر خبر کو مرچ مصالحہ لگا کر پیش کررہی تھی۔”آریان کے ہاتھ میں موجود بیگ چھوٹ کر نیچے گِرا تھا وہ جہاں تھا وہی کا وہی رہ گیا تھا۔”اُس کو یہ یاد نہیں رہا تھا کہ وہ زوریز کے کہنے پر آج پاکستان سے باہر جارہا تھا” ٹِکٹ بھی کنفرم ہوچکی تھی ہر چیز تیار تھی۔

“تمہیں پتا ہے آریان میری سب سے پہلی priority تم ہو میری زندگی سے زیادہ مجھے میری سانس سے بھی زیادہ اگر کوئی چیز عزیز ہے تو وہ تم اور تمہارے ذات ہے اِس لیے ایسی چپقلش والی باتیں مت کیا کرو”

“کانوں میں محبت سے چور لہجے میں کہا گیا زوریز کا جُملا اُس کے کانوں میں گونجا تھا تو آریان بھاگنے والے انداز میں ہال سے نکلتا پورچ کی طرف آیا تھا اور ڈرائیور کو دور کرتا خود ایک گاڑی میں بیٹھتا فل اسپیڈ سے گاڑی چلانا اسٹارٹ کردی تھی اُس کو اپنا دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہوا تھا اعصاب جیسے کام کرنا بند کرگئے تھے”اِس وقت اُس کو گُھٹن کا احساس شدت سے ہوا تھا”مگر خود کو مضبوط کرتا اُس نے ڈیش بورڈ سے اپنا سیل فون اُٹھایا اور زوریز کے پی اے کو کال کی جو پہلی بیل میں ہی ریسیو ہوگئ تھی۔ ۔

السلام علیکم اریان سر۔ ۔دوسری طرف کسی کی آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی

“وعلیکم السلام زوریز کس ہوسپٹل میں ہے؟آریان نے سنجیدگی سے پوچھا تھا ہلانکہ یہ سب ٹی وی نیوز میں بتایا جاچُکا تھا پر آریان کا دماغ تب اِتنا شل تھا کہ وہ دھیان دے ہی نہیں پایا تھا۔

“میں لوکیشن آپ کو سینڈ کرتا ہوں۔ ۔اُس نے کہا تو آریان نے بنا کچھ اور کہے کال کاٹ دی اور اپنا دھیان ڈرائیونگ پر لگایا کچھ سیکنڈ میں اُس کے فون پر میسج ٹون بجی تھی تو گاڑی کی اسپیڈ ایک بار پھر تیز ہوگئ تھی۔

Rimsha Hussain Novels❤

یہ نیوز فاحا اور میشا نے بھی دیکھ لی تھی اور وہ دونوں اپنی جگہ پریشان ہوگئ تھیں۔۔”اُن کو یقین نہیں آیا تھا کہ کوئی اپنی دُشمنی کی آگ میں اِتنا بھی جل سکتا تھا کہ کسی کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرسکتا تھا۔۔

“ہمیں ہوسپٹل جانا چاہیے۔ فاحا نے میشا کو دیکھ کر کہا

“افکورس جانا چاہیے” تم سوہان کو کال کرو اور ساری صورتحال اُس سے جانے کی کوشش کرو۔ میشا نے سنجیدگی سے کہا

“آپو کا فون مسلسل آف جارہا ہے ساری صورتحال ہمیں اب ہوسپٹل پہنچنے کے بعد ملے گی۔۔”فاحا نے بتایا

“چادر اور حجاب لگاؤ میں بھی آتی ہوں تب تک۔میشا نے کہا

“آپ کو کیا لگتا ہے اِس نے کیا ہوگا وہ بھی کورٹ کے باہر؟فاحا نے تھوڑا جِھجِھک کر اُس سے پوچھا

“اِیسی جُرئت کون کرسکتا سِوائے اُس ملک خاندان والوں کے؟ میشا نے طنز سے بھرپور آواز میں بتایا

“اُن کو نہ تو خُدا کا خوف ہے اور نہ دُنیاوی قانون کا۔ ۔فاحا اُس سے بولی

“ایسے لوگ اپنی آخرت اور دُنیا دونوں بگاڑ دیتے ہیں۔ ۔میشا سرجھٹک کر بولی تو فاحا خاموش ہوگئ

” تم پریشان نہ ہو گاؤں ہم نے ویسے بھی جانا ہے اِرادہ باندھ لیا ہے تو پیچھے نہیں ہٹنے والے۔ اُس کی خاموشی کا الگ مطلب لیتی میشا نے کہا

“غلط مطلب اخذ کیا ہے فاحا یہ نہیں سوچ رہی تھی۔ فاحا نے جیسے وضاحت دی

“تیاری پکڑو پھر ہم نے ہوسپٹل جانا ہے” کیا پتا سوہان کو ہماری ضرورت ہو۔میشا نے بات کو بدل کر کہا تو فاحا اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

Rimsha hussain novels❤

بابا سائیں اب کیا ہوگا گولی تو زوریز کو لگی وہ بھی غلط وقت پر ایسے میں ہر ایک کا شک ہم پر ہی جائے گا کیونکہ ہمارے درمیان لڑائی جھگڑا چل رہا ہے۔۔نذیر نے پریشان کن لہجے میں سجاد ملک سے کہا

“سوہان کو لگتی تو بھی الزام ہم پر آنا تھا سمجھ نہیں آرہا اُس بدبخت کو کورٹ کے باہر گولی چلانے کا مشورہ دیا کس نے ایسے تو ہر ایک کے ہاتھ ہمارے گریبان میں ہوگے۔ ۔۔سجاد ملک ناگواری سے بولے آج ہوئے واقعے سے وہ خود پریشان تھے

“تو کیا آج آپ نے سوہان پر حملا نہیں چاہا تھا؟نزیر کو یہی بات سمجھ آئی

“میں صرف سوہان کو نہیں بلکہ اُن تینوں کو مروانا چاہتا ہوں پر آج وقت سہی نہیں تھا” نہیں تھا سہی وقت۔ ۔۔سجاد ملک نے دانت پر دانت جمائے کہا تھا۔

“تو اب کیا ہوگا؟ نذیر نے پوچھا

“تم نے جو زوریز پر کیس کیا ہے وہ واپس لو۔ ۔۔”کیونکہ ہم مصیبت میں پڑسکتے ہیں” وہ زوریز دُرانی ہے کوئی عام ہستی نہیں جو اگر مر بھی جائے گا تو پولیس اُس کیس پر انویسٹی گیشن نہیں کرے گی۔ ۔۔سجاد ملک نے اُس کو اپنا حُکم سُنایا

“یہ کیا بول رہے ہیں آپ؟ “کورٹ میں کیس شروع ہوچُکا ہے ایسے میں اب پیچھے ہٹنا بیوقوفی ہے۔ ۔”ہم کیس جیت سکتے ہیں۔ نذیر کو اُن کی بات پسند نہیں آئی

“دیکھو نذیر ابھی جو میں بول رہا ہوں وہ بس کرو۔ ۔”پولیس رجسٹر میں وہ رپورٹ پھاڑ آنا جو تم نے اُس کے خلاف کی ہے۔ ۔ویسے بھی ایسا کرنا ہمارے لیے فائدیمند ہوسکتا ہے۔”اور نہ کرنے کی صورت میں ہمیں نُقصان اُٹھانا پڑسکتا ہے۔ ۔سجاد ملک کی سوچ بہت دور تک تھی۔

“ٹھیک ہے جیسا آپ کہو میں کرتا ہوں وہ سب۔ ۔۔۔نذیر بے دلی سے بولا

“ہاں زوریز کے پیچھے بڑے ہاتھ ہیں” دوسرا وہ بیریسٹر سوہان بھی کسی سے کم نہیں۔ ۔۔سجاد ملک نے غُصے سے اپنے ہاتھوں کی مُٹھیوں کو بھینچا تھا۔

❤Rimsha hussain Novels❤

“میرا بھائی کیسا ہے؟”سوہان جو بینچ پر بیٹھی بے تاثر نظروں سے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی” آریان کی آواز پر بے ساختہ اُس نے اپنا سراُٹھائے اُس کو دیکھا جس کی حالت قابلِ رحم تھی اُس کے چہرے سے وہ اُس کے اندر کی کیفیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتی تھی۔

“ابھی کچھ بتایا نہیں ڈاکٹر نے۔سوہان نے سنجیدگی سے بتایا تو آریان سیدھا ڈاکٹر کے کیبن کی طرف بڑھا تھا” تب تک وہاں میشا اور فاحا بھی آگئیں تھیں اور سوہان کی سوجھی آنکھیں اور ایسی بِکھری حالت نے اُن کو حیرت کے ساتھ پریشانی میں بھی مبتلا کردیا تھا” ایسا نہیں تھا کہ اُن کو زوریز کی پرواہ نہیں تھی اُن کو پریشانی تھی وہ بھی سوہان کی وجہ سے پریشان تھے زوریز کے لیے پر سوہان اِس حد تک اُس کے لیے پریشان ہوگی اِس بات کا اندازہ اُن کو نہیں تھا۔ “سوہان تو وہ تھی جو اپنے دل کا حال کسی کو بھی بتانا پسند نہیں کیا کرتی تھی پھر اچانک ایسا بھی کیا ہوگیا تھا جو وہ خود کو سنبھال تک نہیں پائی تھی۔

“سوہان آر یو اوکے؟ زوریز کے پوچھنے کے بجائے میشا نے اُس سے اُس کا حال دریافت کیا کیونکہ اُن کو سوہان ٹھیک نہیں لگی تھی۔

“مجھے کیا ہونا ہے؟”میں ٹھیک ہوں اور تم دونوں یہاں کیوں آئیں ہوں؟سوہان خود کو کمپوز کرتی اُن سے سوال کرنے لگی

“ہمیں پتا چلا زوریز کا تو سوچا آجائے تم بھی اُن کے ساتھ تھی نہ ہر چینلز میں یہ بتایا جارہا تھا۔ ۔میشا اُس کے دونوں ہاتھ تھامتی بتانے لگی۔

“ہاں میں اُس کے ساتھ تھی۔۔سوہان بس اِتنا بولی وہ جیسے وہاں ہوکر بھی نہیں تھی۔ “فاحا کو اُس کی دماغی حالت پر جیسے شک گُزرا تھا۔

“کون ہوسکتا ہے جس نے اِتنی ہمت کی۔ میشا نے جانتے ہوئے بھی اُس سے سوال کیا

“گولی اُس نے میرے حصے کی کھائی تھی۔۔”وہ جو کوئی بھی تھا اُس کا ٹارگٹ میں تھی زوریز نہیں تھا” وہ تو مجھے بچانے کے چکر میں خود ہسپتال کے بیڈ پر پڑا ہے۔ ۔سوہان نے انکشاف کیا تو وہ بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگیں جیسے اُن کو سوہان کی بات پر یقین نہ آیا ہوں

“تمہ

“میشا کچھ کہنے والی تھی مگر نظر آریان پر پڑی تو وہ خاموش ہوگئ تھی۔”مگر آج آریان نے اُس کی موجودگی کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا اُس نے خود کو ایسے ظاہر کیا تھا جیسے اُس نے میشا کو دیکھا ہی نہ ہو اور یہ کچھ غلط بھی نہیں تھا۔ ۔”اِس وقت آریان کو بس اگر کسی کی فکر تھی تو وہ زوریز کی تھی اور کسی کی بھی نہیں تھی”اور اُس کا ایسا انداز میشا کے لیے بلکل نیا تھا۔

“کیا کہا ڈاکٹر نے؟سوہان نے آریان کو دیکھ کر بے چینی سے پوچھا

“گولی نکال دی ہے۔ “ہوش کب تک آئے گا یہ ابھی پتا نہیں لگا۔ ۔آریان اِتنا کہتا بینچ پر ڈھے سا گیا تھا۔ میشا کو آج کہی سے بھی وہ آریان نہیں لگا جس کی آنکھوں میں شرارت اور چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ کا احاطہ رہتا تھا وہ تو آج کوئی اور ہی لگ رہا تھا ایک سنجیدہ سا اِنسان جس کو میشا جانتی تک نہ تھی۔۔

“آپ پریشان نہ ہو اللہ سب بہتر کرے گا۔ فاحا نے سوہان کو دیکھ کر تسلی کروانی چاہی جو گہری سوچو میں ڈوب گئ تھی اِس وقت اُس کی سوچو کا مرکز صرف زوریز کی ذات تھا۔

❤

“ماضی

السلام علیکم۔۔سوہان اِس وقت لائبریری میں اکیلی بیٹھی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی” جب اُس کو اپنے بیحد پاس کوئی مردانہ آواز سُنائی دی تو اُس نے چونکتے ہوئے اپنا سر اُٹھایا جہاں زوریز اپنے ہاتھ ہاتھ جینز کی پاکٹ میں ڈالے کھڑا تھا اُس کو دیکھ کر سوہان پہچان گئ تھی کہ وہ کون ہے” کیونکہ پہلی مُلاقات وہ بھولی نہیں تھی۔

وعلیکم السلام جی؟سلام کا جواب دینے کے بعد سوہان نے اُس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے جاننا چاہ رہی ہو کہ اُس نے آج کیسے مُخاطب کرنے کی زحمت کردی تھی اُس پارٹی میں ہوئی مُلاقات کے بعد سوہان کا یونی میں زوریز کے ساتھ سامنا کئ بار ہوا تھا مگر دونوں ایک دوسرے کو ایسے دیکھتے جیسے کبھی سامنا ہوا ہی نہیں تھا دونوں۔

“مجھے پتا چلا تھا ریسٹورنٹ کے آنر نے آپ کو جاب سے نکال دیا ہے؟ زوریز اُس کے پاس والی چیئر پر بیٹھ کر پوچھنے لگا

“کیا آپ مجھ سے اِس بات کی تصدیق کرنے آئے ہیں؟سوہان نے جواب دینے کے بجائے اُلٹا اُس سے سوال کیا جس سے زوریز ایمپریس ہوتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا”اُس کو سوہان کی اسی بات کی اُمید تھی کہ وہ کبھی اُس کو سیدھا جواب نہیں دے گی اور ہوا بھی یہی تھا۔

“نہیں میں یہاں آپ سے ایک سوال کرنے آیا تھا۔۔زوریز نے بتایا

“کیسا سوال؟سوہان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔

“میں نے آپ کو اپنا وِزیٹنگ کارڈ دیا تھا آپ نے رابطہ نہیں کیا کوئی پھر؟ زوریز نے پوچھا تو سوہان چُپ ہوگئ تھی۔

“آپ کا وہ کارڈ مجھ سے گُم ہوگیا تھا۔ ۔سوہان نے کچھ توقع بعد بتایا

“گُم ہوگیا یا آپ میرے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتی تھی؟زوریز نے بغور اُس کے تاثرات جانچے

“اگر میں کہوں ہاں تو؟سوہان کے چہرے پر کوئی بھی تاثر نہیں تھا

“تو میں کہوں گا آپ کی صاف گوئی کا مُظاہرہ کرنا مجھے اچھا لگا۔ ۔زوریز نے شانے اُچکاکر کہنے کے ساتھ کُرسی سے ٹیک لگالی تھی

“آپ شاید مجھے غلط لڑکی تصور کررہے ہیں۔ ۔سوہان کو اُس کا اپنے لیے ایسا کمنٹ دینا پسند نہیں آیا تھا

“آپ کو ایسا کیوں لگا کہ میں آپ کو غلط تصور کررہا ہوں؟ زوریز کو سمجھ نہیں آیا کہ اُس نے ایسا بھی کیا بول دیا اُس نے جو سوہان نے یہ کہا

“آپ کون ہوتے ہیں میری کسی بھی چیز کو پسند کرنے والے یا جج کرنے والے؟سوہان نے کہا تو زوریز عجیب نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا جیسے وہ سوہان سے ایسی کسی بات کی توقع نہیں کررہا تھا۔

“کیا کسی کو پسند کرنے میں یا اُس کی کسی بات کو پسند کرنے پر پابندی ہے؟زوریز نے سنجیدگی سے پوچھا

“مجھے نہیں پسند کہ کوئی میرے بارے میں سوچے یا کسی کو میری ایسی کوئی بات پسند آئے جو آپ کو آئی ہے۔ سوہان کا انداز بے لچک سا تھا

“اِس کا مطلب آپ مجھ سے فاصلہ اختیار کرنا چاہتی ہیں؟”ویسے اِس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے آپ نے بچوں والی بات کی ہے ورنہ جیسی آپ کی پرسنائلٹی ہے اُس سے کوئی بھی آپ کو پسند کیے بنا نہیں رہ پائے گا۔ ۔زوریز نے بہت جلدی صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا تھا اُن دونوں کی آواز بہت مدھم تھی جو بس وہ دونوں ہی سُن پارہے تھے۔

“فاصلہ تب آئے گا جب ہمارے درمیان کچھ ہوگا۔سوہان نے سنجیدگی سے کہتے اپنی کتابیں سمیٹنے لگی۔

“آپ کسی کو خود کو پسند کرنے کے لیے نہیں روک سکتی۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان جو لائبریری سے باہر جانے والی تھی پلٹ کر اُس کو دیکھنے لگی جس کی شخصیت سحرانگیز تھی۔”اُس کا ایسے دلجموئی سے بات کرنا کسی بھی لڑکی کو پاگل بنا سکتا تھا مگر وہ سوہان تھی جس کو خود پر اختیار تھا

“آپ نے سہی کہا۔سوہان نے جیسے باتوں کا سلسلہ ختم کرنا چاہا

“آپ کو پتا ہے آپ کا اندازِ گُفتگو کافی لیا دیا سا ہے جبکہ میرے ساتھ آپ کو بہت اچھے سے پیش آنا چاہیے تھا۔۔۔زوریز اُٹھ کر اُس کے روبرو کھڑا ہوتا بولا جو وائٹ گُھٹنوں تک آتی شرٹ اور پاجامے میں ملبوس ساتھ میں لونگ کوٹ پہنا ہوا تھا جبکہ بال اُس کے بلیک رنگ کے حجاب میں چُھپے ہوئے تھے وہ سادگی کا پیکر تھی اِس کا بات کا اندازہ زوریز کو کم وقت میں اچھے سے ہوگیا تھا ورنہ لندن جیسے مُلک میں کونسی لڑکی پابندی سے حجاب لیتی تھی”فارین لوگوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کے لیے بھی کانفڈنس کی ضرورت چاہیے ہوتی ہے۔”ورنہ اِنسان اُن کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔

“آپ نے اُس دن میری مدد کی میں اُس کے لیے آپ کی بہت شُکر گُزار ہوں اور ہمیشہ رہوں گی اور اگر وقت آیا تو آپ کا احسان بھی چُکا دوں گی مگر اُس سے زیادہ کی توقع آپ مجھ سے نہ رکھے کیونکہ آپ کا یہ عاجزی والا روپ مجھے ایک کہاوت یاد دِلاتا ہے۔ ۔سوہان کے انداز میں کوئی لچک نہیں تھی وہ بنا کوئی لحاظ کیے صاف الفاظوں میں اُس کو اپنی باتوں کا مطلب سمجھاچُکی تھی جو زوریز کو سمجھ آ بھی گیا تھا

“کونسی کہاوت؟زوریز نے سنجیدگی سے محض اِتنا پوچھا

“عاجزی کے دور میں دلوں کے فرعون لوگ ہیں”مجھے بس یہ بات یاد آجاتی ہے۔”کیونکہ بغیر کسی مطلب کے آجکل کوئی بھی کام نہیں آتا۔ سوہان نے کہا تو زوریز نے گہری سانس ہوا سُپرد کیے اُس کو دیکھا

“آپ نے جو بھی کہا وہ ٹھیک ہے اِس میں کوئی شک نہیں مگر مخلص انسان کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنا ایک طرح سے گُناہ ہوتا ہے”اور میں نے آپ پر کوئی احسان نہیں کیا تھا اُس دن اگر کوئی اور بھی آپ کی جگہ ہوتا تو میں یہی کرتا ویسے بھی زندگی میں کب کیا ہوجائے کچھ پتا نہیں چلتا ہوسکتا ہے” آپ میری نوازشات کی حقدار اِتنی بن جائے کہ وہ نوازشات واپس لُٹانے کا آپ سوچ بھی نہ پائے۔۔زوریز اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر اپنی بات کہتا اُس کے برابر سے گُزرگیا تھا”پیچھے سوہان نے جانے کتنا اُس کی بات کا مطلب نکالنے کا سوچا مگر اُس کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا تھا جس پر اُس نے اپنا سرجھٹکا تھا۔۔”اِس درمیان اُس کو اپنے پھیکے رویے کا احساس بھی ہوا تھا پر اب کیا ہوسکتا تھا یہی سوچ کر اُس نے اپنا دھیان واپس کتابوں میں لگایا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

“حال۔

“کچھ کھایا ہے تم نے؟میشا نے سوہان کو دیکھ کر پوچھا جو اُس کی بات سن کر حقیقت کی دُنیا میں واپس لوٹی تھی۔

“مجھے بھوک نہیں اور وقت بہت ہوگیا ہے تم دونوں گھر چلی جاؤ میں آج رات یہی رُکنے والی ہوں۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر کہا

“سوہان اُس کا بھائی ہے یہاں پھر تم کس حق سے یہاں رکوں گی؟”پاگلوں جیسی باتیں مت کرو اور ہمارے ساتھ آؤ۔۔میشا کو اُس کی بات پسند نہیں آئی تھی تبھی کہا

“دیکھو میشو میری بات کو سمجھو یہ وقت اِن باتوں کا نہیں ہے تم سے بس جو میں نے کہا ہے تم وہ کرو۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا اور اِس کا انداز ایسا تھا کہ میشا نے پھر کچھ اور نہیں کہا بس اُس کے پاس سے اُٹھنے لگی تو نظر آریان پر گئ جو گم سم سا بیٹھا تھا۔کچھ سوچ کر میشا نے اپنے قدم اُس کی طرف بڑھائے تھے جو اُن سے بہت دور الگ تھلگ سا بیٹھا تھا

“تمہارا بھائی ٹھیک ہوجائے گا”اِس لیے ایسی روندو شکل مت بناؤ آفریکی بندر لگ رہے ہو۔میشا اُس کے کچھ فاصلے پر آکر بیٹھی تو آریان نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھا

“میری زندگی میں اگر کوئی قیمتی چیز ہے تو وہ زوریز ہے۔۔”ہمارا ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔۔آریان اُس کی بات کو اگنور کیے سنجیدگی سے بتانے لگا

“ہاں تو ہر بھائی کو اپنے بڑے بھائی سے اِتنا پیار ہوتا ہے”اور حادثات ہونا زندگی کا حصہ ہے اِس میں پریشان مت ہو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔میشا نے اپنی طرف سے اُس کو دلاسہ دیا

“کیا میرا پریشان ہونا تمہیں پسند نہیں آرہا؟”مجھے ایسے دیکھ کر تمہارے اندر میرے لیے موجود جذبات اُبھر رہے ہیں؟آریان نے سنجیدگی سے چور لہجے میں بیحد غیرسنجیدہ بات کی تو میشا نے تاسف سے اُس کو دیکھا جو دوبارہ اپنی ٹون میں واپس آیا تھا

“بھائی ہسپتال کے بیڈ پر لیٹا ہوا ہے اور یہاں تمہیں مسخراپن سوجھ رہا ہے؟میشا کو جیسے افسوس ہوا

“ابھی تو تم نے کہا حادثات زندگی کا حصہ ہوتے ہیں اِس لیے پریشان مت ہو تو میں بس چِل کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ ۔آریان اُس کی بات کے جواب میں ایسے بولا جیسے وہ بہت مانتا ہوں اُس کا کہا

“میرا دماغ خراب تھا جو تم سے ہمدردی کرنے چلی آئی” خیر مجھے اب جانا ہے ورنہ تمہارا کیا بھروسہ تم تو قبر میں بھی یہی باتیں کروگے۔ میشا سرجھٹک کر کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی

“کرلوں جتنی بھی ایسی باتیں کرنی ہے کرلوں” اور جتنی بھی بے نیازی برتنی ہے برت لو کبھی نہ کبھی تو ہوگا نہ۔ ۔آریان کی بات پر میشا نے رُک کر اُس کو دیکھا

“کیا ہوگا؟ میشا نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

“کبھی تو ہوگا میرا عشق تم پر مہرباں۔۔آریان فسوں خیز لہجے میں بولا

“بڑا آگے کا جمپ مار لیا” محبت سے عشق واہ۔۔میشا نے طنز لہجے میں کہا

“محبت تو تم لڑکیاں کرتی ہو ہم لڑکے تو عشق کرتے ہیں وہ بھی ڈنکے کی چوٹ پر۔ ۔آریان نے اُس کی بات پر پرسکون لہجے میں کہا

“تمہیں تمہارا عشق مُبارک ہو کیونکہ مجھ پر عشق مہرباں نہیں ہونے والا۔ ۔میشا صاف لفظوں میں اُس کو باور کرواتی رُکی نہیں تھی” اور اُس کے جانے کے بعد آریان کے چہرے پر ایک بار پھر سنجیدگی رقم ہوگئ تھی۔ ۔

“آپو سوہان کا فیوچر سولمیٹ ہسپتال کے بیڈ پر پڑا ہے” اور میشو آپو کا ہسپتال کے کوریڈور میں اُن سے زلیل ہورہا ہے” اور ایک میرا فیوچر سولیمٹ ہے جو دور رہ کر مجھے زلیل کروا رہا ہے” جانے کیسا ہوگا؟”اور کہاں ہوگا؟کاش دُرانی برادرز کی طرح وجاہت سے بھرپور ہو۔ ۔آج فاحا کو اپنے سنگل ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا تبھی اپنی بہنوں کو دیکھتی دل ہی دل میں سوچنے لگی تھی۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

آپ کہی جارہے ہیں؟صنم بیگم نے نوریز ملک کو تیار ہوتا دیکھا تو پوچھا

“ہاں میں شہر جارہا ہوں”اور اِن شاءاللہ آؤں گا تو میرے ساتھ میری بیٹیاں شانابشانہ چلتی ہوئیں آئے گیں۔نوریز ملک نے خوشی سے اُن کو بتایا

“اِن شاءاللہ۔۔صنم بیگم جواباً مسکراکر بولیں

“تم اُن تینوں کا کمرہ اچھے سے تیار کروالینا میں نہیں چاہتا کل جب وہ آئے تو اُن کو کسی چیز کی کمی محسوس ہو۔۔نوریز ملک نے اُن کو ہدایت دی۔

“آپ یہاں سے بے فکر ہوکر ہوجائے میں سب کچھ سنبھالوں گی۔۔صنم بیگم نے کہا تو اُنہوں نے سر کو خم دیا۔”اور باہر کی طرف چل دیئے تھے۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

#جاری_ ہے

“جی تو کیسی لگی آج کی قسط؟

“حیرت ہے مجھے اُن لوگوں پر جو میرے کچھ دیر پہلے قسط یوٹیوب پر دینے پر بول رہے ہیں کہ مغرور ہوگئ ہیں یہ وہ پہلے پیج پر دے تو سہی کہتے ہیں اِنسان کبھی کسی دوسرے کے کام نہیں آتے۔

“سال سے زیادہ وقت میں نے مفت میں اپنے ناولز دیئے جو بھی ناول شروع کیا ڈیلی بیس پر دیا اور آج اگر اپنے ناولز سے میں کچھ صلہ چاہتی ہوں تو جو لوگ تعریفوں کے پُل باندھتے تھے اب وہ جانے کیا کچھ بولنے لگے ہیں”

بھئ میں نے کب کہا کہ آپ منت کرو مجھے؟ “بتایا تو سہی ہے میں پیج پر بھی دوں گی پھر آپ لوگ انتظار کرنے کے بچائے غلط بیانی کیوں کررہے ہیں؟ “کل قسط دی تھی نہ؟ “اب کیا مہینوں کا وقت ہوگیا ہے اور میں نے اگلی قسط نہیں دی؟

اگر آپ کسی رائٹر کو سپورٹ نہیں کرسکتے تو اچھا ہے آپ لوگ میرا ناول نہ پڑھے کیونکہ مجھے ایسے دوغلے ریڈرز کی ضرورت نہیں ہے وہ چلے جائے گے تو اِن شاءاللہ دوسرے آئے گے وہ بھی مخلص ہوگے” آپ لوگوں کی طرح یوں بہانے سے نہیں ہوگے کہ تھوڑی دیر پر جانے کیا کچھ اُٹھ کر کمنٹس سیکشن میں کچھ بھی نہیں بولے گے جن کو نہیں پڑھنا وہ شوق سے نہ پڑھے مجھے اسپیشلی بتانے کی ضرورت نہیں آپ لوگوں کا بہت شکریہ۔

“اور اچھا ہوا جو میں نے چینل بنایا ایسے کچھ لوگوں کو اصل چہرے بھی سامنے آئے۔

“میں نے تو بہت سو سے کہا چینل سبسکرائب کرو اور کہنے کو ماشااللہ سے میرے بہت ریڈر ہیں مگر کسی نے نہیں کیا تین سؤ تک ہیں ماشااللہ بہت ہیں۔

اور میرا بس ایک سوال کہ تین سے چار ہزار لوگوں کا پکیج نہیں ہوتا؟وہ یوٹیوب یوز نہیں کرتے جان کر بہت حیرت ہوئی مجھے۔

اور میں اب بس اِتنا کہوں گی جن کو میرا یوٹیوب چینل بنانا بُرا لگا حلانکہ میں نے کہا ہوا ہے پیج میرے لیے ایک فیملی کی طرح ہے اُس کو بنانے میں نے بہت محنت کی ہے اُس کو میں نہیں چھوڑوں گی اور میری یہ بات کسی کو سمجھ میں تو آتی نہیں اچھا ہے منت کرنے سے اچھا ہے آپ ناول پڑھنا چھوڑدے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *